پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

ثمینہ تبسم: صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو
“اب وقت آ گیا ہے ہم اس موضوع پر بات کریں”
“اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی کے واقعات میں اضافہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اس موضوع پر سنجیدگی سے بات کی جائے۔”
خوف، شرمندگی اور احساس جرم۔۔۔ تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی پر لالٹین کا خصوصی فیچر
تعلیمی اداروں میں جنسی ہراسانی کے تدارک کے لئے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2011 میں انسداد جنسی ہراسانی پالیسی کا اعلان کیا تھا ،تاہم ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 138ڈگری ایوارڈنگ اداروں میں سے 98 اداروں میں تاحال جنسی ہراسانی کے تدارک کی پالیسی نہیں اپنائی گئی۔
قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد؛ جنسی ہراسانی کا الزام، تحقیقات میں جنسی ہراسانی کے قوانین نظر انداز
یونیورسٹی انتظامیہ 2010 کے جنسی ہراسانی سے تحفظ کے ایکٹ کی بجائے نے 1973کےDiscipline rules Efficiency and کے تحت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔