عورتیں جنسی جرائم رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟

ملیحہ سرور: بہت سی خواتین راستے میں، بازار میں، دفتر میں، کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ ایسے واقعات رپورٹ کریں گی تو انہیں پہلے سے بھی زیادہ شدید نگرانی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنسی استحصال کا شکار مستقبل
یہ معاملہ محض پنجاب حکومت یا پنجاب پولیس کی نااہلی اور عدم تعاون کا نہیں، یہ معاملہ شہباز شریف، میاں محمود الرشید اور سراج الحق کے بیانات اور گنڈا سنگھ والا نامی گاوں پہنچنے والی اہم شخصیات کا بھی نہیں، یہ معاملہ چند روزہ خبری ابال کا بھی نہیں، یہ معاملہ صرف 234 بچوں کا بھی نہیں بلکہ یہ معاملہ پنجاب، پاکستان، جنوبی ایشیا اور اس پوری دنیا کے بچوں کا ہے جنہیں مختلف اوقات میں، مختلف طرح سے مختلف مقامات پر جنسی تشدد اور استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔