Laaltain

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں — چوتھی قسط

عبدالمجید عابد: جماعت اسلامی نے بحیثیت جماعت یا اس کے اکابرین نے بحیثیت افراد اس پر کوئی عملی اقدام تو کجا زبان سے ایک حرف تک نہ نکالا، بلکہ ایک اصولی اسلامی جماعت کی حیثیت سے اپنے دور اول میں اس نے ایسی باتیں کہیں کہ جن سے قادیانیوں کی تکفیر کی براہ راست نہ سہی بالواسطہ ضرور ہمت شکنی ہوتی ہے۔

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-پہلی قسط

اکتوبر انیس سو پینتالیس میں مولانا مودودی نے اپنی جماعت کے ارکان کو انتخابات میں مسلم لیگ کو ووٹ ڈالنے سے منع کیا۔ حالانکہ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے ’اسلام خطرے میں ہے‘ کا نعرہ بلند کیا تھا اور پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں میں اسے مذہبی شخصیات کی آشیر واد حاصل تھی۔

شدت پسندی سےلبرل ازم تک

ایک بات طے ہے کہ نواز شریف کے لیے شدت پسندی سے لبرل ازم تک کا یہ سفر آسان نہ ہوگا۔ اگرنواز شریف نے محض 2018ء کے انتخابات جیتنے کےلیے لبرل ازم کا نعرہ بلند کیا ہے جیسے نوے کی دہائی میں انہوں نے نفاذِ شریعت کا نعرہ لگایا تھا تو یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہو گی جو اپنے رہنماوں کے جھوٹے وعدے سننے کی عادی ہو چکی ہے۔

انقلاب کے موسم میں

عمران خان یا طاہر القادری حکومت گرانے میں سنجیدہ ہوں یا نہ ہوں نواز لیگ کی حکومت کی گھر جانے سے متعلق سنجیدگی پر کسی کو چنداں شک نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ منتخب ہونے کے بعد سے اب تک نواز شریف حکومت نے کوئی ایسا موقع ہاتھ جانے ہی نہیں دیا۔