Laaltain

نعمت خانہ: اکتیسویں قسط (خالد جاوید)

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔ اور اِسی شور میں، میری کھوپڑی میں، وہ زہریلا سانپ موجود تھا جس نے ایک طرح سے، کچھ معاملوں میں میرے اوپر چودہ طبق روشن کر رکھے تھے۔ یہ سانپ سر میں کلبلاتا، دل میں گھبراہٹ ہوتی اور پیر کانپنے لگتے۔ میری بدقسمتی کے اس […]

ایک خود روپھول کے مشاہدے کا قصہ (تصنیف حیدر)

میں بارہ بنکی پہنچا تو رات ہو چکی تھی، اپنے کمرے تک جاتے اور بستر پر دراز ہوتے ہوتے قریب ساڑھے بارہ بج چکے تھے۔میں بے حد تھک گیا تھا، پچھلے سات گھنٹوں کا سفر، گاڑی بھی خود ہی ڈرائیو کی تھی۔یہاں مجھے اپنے ایک دوست کوشل سے ملنا تھا۔بہت زیادہ تھک جانے کے باعث […]

باجے والی گلی — قسط 5 (راج کمار کیسوانی)

[block­quote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں […]

خالدہ حسین کے افسانے“ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

حکایات ِجدید ومابعد جدید

ناصر عباس نیر:
اس تختی پر جو کچھ لکھا ہوا ہے،وہ سچ ہورہا ہے۔اس تختی کی پانچویں سطر میں لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا،جب لوگ روٹی، عورت، روپے کی خاطر نہیں، اپنی بات منوانے کی خاطر قتل کیا کریں گے،اور بات منوانے والوں کے کئی فرقے بن جائیں گے۔