گوشہ نشینی — ثروت زہرہ

ثروت زہرہ: میں مری نہیں ہوں
مگر سانس روک کر دیکھنا چاہتی ہوں
چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر

ثروت زہرہ: چپ کی تعمیر سے پہلے کا سفر
کون لکھے گا؟
کسے یاد ہے اب؟
کون لکھے گا؟
کسے یاد ہے اب؟
عجائب خانہ

ثروت زہرہ: مراد جود
دیکھتے ہی دیکھتے
ایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہے
دیکھتے ہی دیکھتے
ایک عجائب خانے میں ڈھل رہا ہے