تنہائی (رضوان علی)

شاید اس سیارے پر مَیں اکیلا ہی ہوں اور مجھے کوئی نوے برس کا سفر اکیلے ہی طے کرنا ہے باقی سب ہمسفر شاید ابھی سو رہے ہیں جب وہ جاگیں گے تب تک تو یہ سفر ختم ہو چکا ہو گا اس تنہائی کا کوئی سدِ باب ہے؟ کوئی ہمسفر، ہم نفس، ہم راز […]
میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے جب اس کا دم گھٹنے لگے تو کھڑکی پہ پردہ ڈال کر مدھم روشنی کو اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے ایک آخری کام رہ گیا ہے تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر زمانے […]
تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !
اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

سید کاشف رضا: اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے