Laaltain

طویل افسانے کی نظری اساس

صنف کی شناخت،ادبی صنف کاتعین،ادبی صنف کے امتیازی نشانات،ہیئت ومواد کی سطح پر صنف کے فاصلاتی وشناختی خصائص کی نشاندہی،یہ صنفیاتی مطالعے کے اہم موضوعات ہیں جو کسی صنف کی وجودیات پرمکالمہ قائم کرتے وقت زیر بحث آتے ہیں۔جدیدفکشن کی تاریخ میں ناول،ناولٹ،طویل افسانہ اور مختصر افسانے کی مختلف شکلیں ہم رشتہ تصور کی جاتی […]

“اماں ھو مونکھے کاری کرے ماریندا” کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: یہ کہانی صرف پسماندہ علاقے کی نہیں۔ تھر کی ہے جسی کی اپنی ثقافت ہے جس کی اپنی اقدار ہیں جس کی اپنی حدود ہیں تھر جہاں بیویاں شادی کے بعد تیس سال گزار دیتی ہیں لیکن اپنے خاوند کی موجودگی میں آنکھ اونچی نہیں کرتیں

خالدہ حسین کے افسانے“ابنِ آدم” کا تاثراتی جائزہ

شین زاد: “ابنِ آدم ” امریکہ عراق جنگ کے تناظر میں لکھی گئی کہانی لگتی ہے لیکن مصنفہ نے اپنے کمالِ فن سے اسے ایسی آفاقیت عطا کر دی ہے کہ یہ کسی ایک فرد، کسی ایک خطے،کسی ایک ملک،یا کسی ایک براعظم کی کہانی نہیں رہی بلکہ یہ کل انسانیت اورکلی دنیا کی کہانی بن گئی ہے۔

منشایاد کا افسانہ اور سماجی معنویت

محمد حمید شاہد:منشایاد کی مٹھی میں جو مٹی تھی وہ جگنو بن کر چمکتی تھی۔ ان سورجوں کی طرح جن کے مقابل آکر نئے عہد کی صارفیت زدہ مجہول حسیت کے چراغ منہ چھپانے لگتے ہیں۔

تکنیکی تنقید کے اصول اور میری گستاخیاں

اردو ادب پر مزید ایک صدی گزر جانے سے شاید یہ بات ثابت ہوجائے کہ اس میں بیسویں صدی کے اواخر میں دو باتوں نے ہولوکوسٹ (مرگ انبوہ) کا سا ماحول پیدا کیا۔ایک شمس الرحمٰن فاروقی کی شعر فہمی اور دوسرے ظفر اقبال کی تنقید نگاری۔مرگ انبوہ میں نے اس لیے کہا کیونکہ ان دونوں […]