سپاہی تنویر حسین کی ڈائری (ذکی نقوی)

میں نے اسلحہ پھینک کر ایک کمبل، یہ ڈائری اور پُنّوں کی بَیری ٹوپی اپنے پاس رکھ لی ہے۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 8 دسمبر 1971- پُنّوں کی سُپاری
فجر کی نماز کے بعد لنگر کمانڈر سے ملا۔اُس نے بتایا کہ ابھی جے کیوُ صاحب اور کیپٹن صاحب کی بات ہوئی ہے، آج تمام نفری کو ناشتہ ملے گا لیکن دوپہر کے کھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 6 دسمبر 1971- چھاپہ اور تعاقب
آج فجر کی نماز کیلئے جاگا۔ابھی نماز کیلئے ہاتھ باندھے ہی تھے کہ کیمپ ایک زوردار دھماکے سے گونج اُٹھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 5 دسمبر 1971- ماں کا خط
میں ابھی سویا ہی ہوا تھا کہ جی ۔تھری کے فائر کی آواز نے جگا دیا۔باہر نکل کے دیکھا تو میں گھبرا کے رہ گیا۔کیپٹن صاحب نے کل گرفتار ہونے والے سات بنگالیوں میں سے تین کو شُوٹ کرنے کا حُکم دےدیا تھا۔