Laaltain

نتیجہ وہی مگر شور نہیں

19 نومبرکو بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے پر نتیجہ پھر وہی۔ اِس مرحلے پرخاں صاحب کو اپنے آبائی حلقے عیسیٰ خیل میں بھی بدترین شکست کاسامنا کرنا پڑا اور تحریکِ انصاف 16 میں سے 15 نشستیں ہار گئی۔

کیا بلدیاتی انتخابات محض ڈھونگ تھے؟

پاکستان تحریکِ انصاف کے چیرمین جناب عمران خان صاحب مئی 2013ء کے عام انتخابات سے قبل باربار اس بات کا اعادہ کرتے رہےکہ جمہوریت کے استحکام میں مقامی حکومتوں کا قیام ناگزیر ہے۔

مقامی حکومتیں، سیاسی جماعتیں اور عوامی شکوک و شبہات

بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے ابھی بھی رائے عامہ واضح نہیں، لوگوں میں تاحال شکوک و شبہات ہیں اور کیوں نہ ہوں اس سےپہلے بھی دوبار پنجاب میں بلدیاتی انتخابات امیدواران کے کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد اس وقت ملتوی کر دیئے گئے جب انتخابی نشانات دیئے جانے تھے۔

بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کیوں؟

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کب ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ تو حکومتوں کے پاس ہے اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ کے پاس۔

خیبر پختونخواہ بلدیاتی انتخابات ؛ایک خوش آئند امر

کسی بھی معاشرے میں جمہوریت کی بقاء اور استحکام کا دارومداربلدیاتی نظام پر ہےلیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی جمہوری حکومتوں نے بلدیاتی انتخابات کرانے کے گناہ کبیرہ سے ہمیشہ خود کو بچائے رکھا، یہی وجہ ہے کہ ملک میں جمہوریت پھلنے پھولنے کی بجائے روزبروز تنزلی کا شکارہے۔