Laaltain

باب 20 شانتا راما: چکلہ بستی میں (ترجمہ: فروا شفقت)

نئی فلمیں بنانا ہی میرا کام ہے! یہ کام ہی جیون ہے! جیون جینے کے لیے ہے! اسے اصل میں جینا چاہیئے! میری سوچ اس طرح پختہ ہوتی جا رہی تھی۔ اور اُسی سمے یاس پسندی کو اجاگر کرنے والی ایک فلم ‘دیوداس’ لوگوں کو بہت متاثر کر رہی تھی۔ کلکتہ کی نیو تھئیٹرز فلم […]

شانتا راما باب 4: بنا اجازت کے اندر آنا منع ہے (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

شانتا راما باب 3: گھنگھریالے بالوں کی بغاوت (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

شانتا راما — باب 2: جوا (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

شانتا راما — باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

[block­quote style=“3”] ’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا […]

ہجوم سے بچھڑا ہواشخص۔۔۔اوم پوری

خرم سہیل: اوم پوری نہیں جانتے تھے، خواب دیکھے نہیں جاتے، خوبصورت شعور اور حساس مزاج رکھنے والوں کے ہاں خواب اُتراکرتے ہیں، تصور کے راستے سے، آنکھوں کے اندراورروح میں سرایت کرتے ہیں۔وہاں کوئی ضبط کام نہیں آتا

اے دل ہے مشکل

خرم سہیل: اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔

پِنک: ایک عُمدہ سوشل ڈرامہ

احمد حماد: سینماٹوگرافی بتا رہی تھی کہ فلم کا مقصد صرف اور صرف کہانی میں پنہاں سندیس کی ترسیل ہے۔ فلم بین کے جمالیاتی حَظ کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔