پستان ۔ نویں قسط

تصنیف حیدر: وہ کہا کرتی تھی کہ دنیا اس کمرے کی طرح ہے، جس میں ہمیں بند کرکے لاک کردیا گیا ہے، اس لیے رونے دھونے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی ضرورت اور پسند کی چیزیں حاصل کریں یا چھین لیں۔
پستان- چھٹی قسط

تصنیف حیدر: بارش رفتہ رفتہ کم ہونے لگی، صدر کو دوسری ہچکی آئی، پھر تیسری، اس نے آخری بار جو نظارہ دیکھا تھا، وہ کچ کی روشن اور بڑی بڑی آنکھوں سے جھانکتے ہوئے ایک دبیز قہقہے کی روشنی تھی، جس کی تپتی ہوئی زمین پر صدر کا وجود بے جان ہوکر دھاڑ سے گرپڑا۔