
ہماری تاریخ فوجی آمریت، معاشی استحصال اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف جدوجہد کی تاریخ ہے اور عسکریت پسند مذہبی بنیاد پرستی، ریاستی اداروں کے ماورائے آئین اقدامات اور کمزور جمہوری نظام کے باوجود پاکستان میں انسانی حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی۔

توصیف احمد: میں رضا سے کبھی نہیں ملا بالکل اسی طرح جیسے میں اجتماعی قبروں، خفیہ حراستی مراکز اور نجی عقوبت خانوں کے سپرد کئے جانے والوں سے نہیں ملا۔۔۔میرے لئے 2 دسمبر رونے کا دن ہے، بلکہ ہم سب کے لئے دو دسمبر رونے کا دن ہے۔

حقوق نسواں کے لیے کوشش انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کا لازمی جز ہے اور خواتین کے خلاف امتیازی سلوک، جنسی تشدد اور استحصال کا خاتمہ مردوں کی بھی اسی قدر ذمہ داری ہے جس قدر خواتین کی۔
روس شام میں داعش کے خلاف محاذ کا حصہ بن چکا ہے۔ عالمی میڈیا پر روس کو لے کر دو طرح کی بحث دیکھنے کو ملتی ہے؛ایک تو یہ کہ روس داعش سے زیاد ہ بشارالاسد کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے مخالف باغیوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور چونکہ یہ باغی داعِش کے خلاف بھی برسرِ پیکار ہیں سو اِنہیں کمزور کرنے سے داعِش مضبوط ہوسکتی ہے اور اِس سے یہ تاثر بھی دیا جا رہا ہے کہ یوں اس طرح کے آپریشن سے لوگ زیادہ متنفر ہو سکتے ہیں اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
یکم ستمبر 2015ء کو وزیراعظم نوازشریف اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کے مابین ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ کراچی آپریشن سیاسی مصلحت کے بغیر جاری رکھا جائے گا۔
ماماقدیر کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بلائے جانے پر ملکی خفیہ اداروں کا دباو اور مذاکرے کی منسوخی پاکستانی تعلیمی اداروں میں آزادی اظہاررائے کے حوالے سے موجود دہرے معیار کی نشاندہی کے لیے کافی ہیں۔
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ اور پاکستان کاآئین ریاست کو تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
ہر انسان انصاف ،امن ،محبت اور خوشحالی کا طلب گار ہے اور ہر فرد نا انصافی ،بدامنی ،نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ کس آئینی مصلحت کو بنیاد بنا کر عدالت عالیہ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے۔ لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ آئین کے باب دوم میں دئیے تئیس میں سے کم از کم نو بنیادی انسانی حقوق، جو مجھے پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت میں حاصل ہیں، وہ ان کنٹینروں کی وجہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
شہزاد یوسف لغات کے مطابق انسانی حقوق سے مراد انسانوں کے وہ حقوق ہوتے ہیں جو ان کے محض انسان ہونے کی وجہ سے ملنا چاہیئں۔ جیسا کہ خوراک، صحت، تعلیم اور آزادیءاظہار وغیرہ۔اور پھر ان کے ثقافتی، سیاسی اور معاشی حقوق جو کہ جدید معاشروں کا لازمہ ہیں۔ انسانی حقوق کی جدوجہدکی ابتدا 1215ءمیں […]