دُہرا معیار

خضر حیات: ہم نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں، دوسرے عقیدے کے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہم پاکستان میں کر رہے ہیں کیا وہ ہمارا دُہرا معیار اور منافقت نہیں ہے؟
اپنے ہندوستانی ہمسائے کے نام تشویش کے ساتھ
معاف کرنا، تمہیں پچھلا خط محبت کے ساتھ لکھا تھا مگر یہ خط تشویش کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔
سیکولرازم کیوں ضروری ہے؟
برما کے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والے مظالم اور ان مظلوموں کے حق میں کیے جانے والے احتجاج کو مذہبی رنگ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مذہب سیاسی مقاصد کے لیے کس قدر آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اماں کیسی کہ موج خوں ابھی سر سے نہیں گزری
فرمایا؛ یہ کوئی تیسری قوت ہے جو پاکستان میں دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے ذریعے،قیامِ امن کی راہ میں رخنہ ڈالتی ہے۔ پھر مذمتی قراردادوں، بیانوں کا تانتا بندھ گیا۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ ‘راہ نماؤں’ نے دہشت گردی کے ایسے واقعات کی دل کھول کر مذمت کی۔ لیکن نہ جانے […]