پی آئی اے، کرپشن اور نجکاری

ماہرین معاشیات موجودہ نجکاری کی پالیسی کو غلط قرار دے رہے ہیں ۔ اُن کے خیال میں موجودہ نجکاری کی پالیسی جس کے عوض قرضہ حاصل کیا جارہا ہے ریاست کے معاشی مفادات کے خلاف ہے۔
چالیس ارب کا سوال ہے بابا

جب ہم نے نیوز چینلز اور اخبارات میں منی بجٹ کی تفصیل پڑھی اور سُنی تو خود ہمارے ہاتھوں کے مینا، طوطے، سب اُڑ گئے اور پاپی پیٹ کے کُتے بھونکنے لگے کیونکہ ڈار صاحب نے سوائے جینے مرنے کے ہرشے پرٹیکس لگادیا تھا۔
اسحاق ڈار کامنی بجٹ اور عام آدمی

پورے پاکستان میں صرف دو جڑواں بھائی ہیں جو عیش کر رہے ہیں اور جنہیں آج تک ہمارے حکمرانوں کے سوا کسی نے دیکھا تک نہیں، ان میں سے پہلے کا نام ہے “نامعلوم” جبکہ دوسرے کا نام ہے “عام آدمی”۔
ضرورت ہے چار گدھوں کی

اب خوشی محمد کی بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ اگر ہر پاکستانی چار گدھے پال لے تو اپنے حصے کے ایک لاکھ کا قرض آسانی سے ادا کردے گا بلکہ کچھ نہ کچھ پس انداز بھی کر لے گا۔ تو جناب حکومت کو ضرورت ہے بس چار صحت مندگدھوں کی۔