پس انداز خواب کی تلخی میں

اسد زمانوں میں برتی جانے والی متنوع زبانوں کو اپنے احوال کا حصہ بناتا ہے
گھاس کا خواب اور دیگر نظمیں

چاچا ! جب تم کنویں سے پانی نکالتے ہو
کیا اس سے خون کا ذائقہ نہیں آتا ؟
معنیٰ کے اثبات میں اور دیگر نظمیں

لکیر کے پار کچھ نہیں ہے
نہ تم کہیں ہو نہ میں کہیں ہوں
میں خوف زدہ رہتا ہوں اور دیگر نظمیں

ہم جن شہروں میں رہتے ہیں
ان کے طول و عرض میں ایک ان دیکھا جغرافیہ سانس لیتا ہے