اور خدا کرے وہ تمھیں کبھی معاف نہ کرے
برخوردار گولی تم اتنا چیختی کیوں ہو؟ کیا تمھیں شرم نہیں آتی کہ تمھیں چلانے والوں کے اندر کوئی چیخ نہیں ہے کوئی آواز نہیں ہے ایک سرسراہٹ ہے بس حیوانی سانسوں کی تم کیوں نہیں سرسراتی؟ بارود کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا آج جب ١٦ دسمبر کی صبح کا سوچتا ہوں اور ان […]