خالصہ سرکار؛ تاریخی حقائق اور حکومتی تعبیر-مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

خالصہ سرکار کی تشریح ہمارے خطے میں ایک قومی مسئلہ ہے لیکن اس اہم مسئلے کی طرف آج تک کسی سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیم نے توجہ نہیں دی۔ ہمارے ہاں خالصہ سرکار سے مراد وہ اراضی ہے جو بنجر ہے یا قابل کاشت، کسی کے زیر استعمال ہے یا خالی پڑی ہے لیکن کسی فرد واحدکی ملکیت میں نہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام سے قدیم بندوبستی کاغذات میں رجسٹر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صرف ہمارے خطے میں ایسی زمین کو سرکاری ملکیت تصور کیا جاتا ہے اور ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔ ہمارے عوام کے ذہنوں میں شروع دن سے ایک ہی بات ڈالی گئی ہے کہ خالصہ سرکار سے مراد سرکاری زمین ہے جس پر صرف سرکار کو حق ملکیت حاصل ہے یوں اس جھوٹی اور من گھڑت تعریف اور تشریح کی وجہ سے ہمارے عوام کو اکثر اوقات اپنے زیر استعمال زمینوں سے بغیر کسی معاوضے کے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ عوام نے کچھ نہ بولنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اس وجہ سے ہم آج بھی بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔

 

ضرورت پڑنے پر عوامی ملکیتی اراضیوں کو بغیر کسی معاوضے کے حکومت اپنی تحویل میں لے کر ضرورت کے لئے استعمال کرتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ تقسیم ہند کے وقت گلگت بلتستان سابق ریاست جموں و کشمیر کا حصہ تھا اور تقسیم برصغیر کے وقت ہم مہاراجہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھے۔ اس حوالے سے مزید بحث کرنے سے پہلے یہ بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ اگر ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹیں توپتا چلتا ہے کہ ڈوگروں سے پہلے سکھ سلطنت برصغیر میں ایک اہم طاقت تھی جو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی قیادت میں ابھری۔ سکھوں نے 1799ء میں لاہور پر قبضہ کر لیا اور پنجاب کے ارد گرد کے علاقوں پر سلطنت قائم کی اور یہ سلطنت 1799ء سے 1849ء تک قائم رہی۔ اس وقت ہندوستان میں کئی سکھ سیاسی تنظیمیں خالصہ ریاست کی بحالی کے لئے باقاعدہ سیاسی جدوجہد کر رہی ہیں۔ اس ریاست کا نام خالصہ سرکاریا سکھ پنجابی بادشاہت تھا جو امرتسر اور لاہور سے ابھر کر پنجاب و گرد و نواح پر قابض ہوئی۔ یہ ریاست ایک وقت میں برصغیر ہند وپاک کی ایک اہم طاقت تھی، جس کے اثرات اس وقت گلگت بلتستان اور گردو نواح تک بھی پہنچے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ خالصہ سرکار حکومت 1799 سے 1849 تک رہی اور اس کے بعد پنجاب میں لڑی جانے والی انگریز سکھ جنگوں میں یہ سلطنت تباہ و برباد ہو گئی۔

 

رنجیت سنگھ نے پنجاب میں پھیلی نیم خود مختار سکھ مسلوں یا راجدھانیوں کو منظم کر کے خالصہ سرکار یا سکھا شاہی حکومت کی بنیاد ڈالی۔ اپنے عروج پر یہ سلطنت خیبر پاس سے لے کر تبت کے وسط تک اور مٹھی کوٹ کشمیر تک پھیل چکی تھی۔ زور آور سنگھ کشمیر میں سکھوں کے گورنر جموں، گلاب سنگھ کا وزیر تھا جو وہاں سے آگے سکھا شاہی کے قیام کے لئے بڑھا۔ اس نے لداخ کو 1840 میں فتح کیا۔ وزیر سنگھ نے اسی سال سکردو کو بھی فتح کیا۔ فتح کے بعد اس نے بلتی سپاہ کو اپنی فوج میں شامل کیا اور پھر تبت پر بھی حملہ آور ہوا۔ دوسری طرف سکھ فوج کا ہی کرنل نتھو شاہ، گلگت پر حملہ آور ہوا اور پہلی مرتبہ راجہ گوہر امان کو شکست دے کر اس نے گلگت میں قدم جما لئے۔ وہ 1848 میں، نو مل کے قریب جنگ میں ہلاک ہوا۔

 

تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے
خالصہ سرکار کے وقت میں ان کے چار صوبے تھے۔ لاہور، ملتان، پشاور اور کشمیر۔ کرنل زور آور سنگھ گلگلت پر سرینگر کی جانب سے حملہ آور ہوا تھا اور سرینگر کے حکمران کو ہی جواب دہ تھا۔ 16 مارچ 1840 کو معاہدہ امرتسر کے تحت انگریزوں نے گلگت اور لداخ بشمول بلتستان کی وزارتیں، جموں کے ڈوگرہ راجے کے حوالے کیں۔ کرنل نتھو شاہ، حکمران تبدیل ہونے پر پریشان ہو کر سرینگر گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ اسے اب تنخواہ اور مراعات کون دے گا۔ ڈوگرہ نے اسے اپنی گلگت عملداری جاری رکھنے کو کہا۔ بالآخر 1860 میں کرنل نرائن سنگھ گلگت پر پوری طرح سے قابض ہو گیا۔

 

سیاسی حوالے سے بھی یہ تاریخ اہم ہے۔ سکھ دور سے لے کر ڈوگرہ دور تک کا موازنہ سامنے رکھتے ہوئے اگر چھبیس اکتوبر1947 کو مہاراجہ کی طرف سے ہندوستان سے الحاق کی داستان دیکھی جائے تو مقامی لوگوں کے حقوق غصب کیے جانے کا ایک نیا دور شروع ہوتا نظر آتا ہے۔ ڈوگرہ دور سے نکل کر ہندوستان کا حصہ بننے اور یکم نومبر کو مقامی جدوجہد کے ذریعے ہندوستان سے آزادی کے بعد جس طرح سے مقامی آبادی کو پاکستان میں شامل کیا گیا اس کا جائزہ بھی اہم ہے۔ اس تمام تر تاریخی تناظر میں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی یہاں کے باشندے آئینی اور قانونی طور پر مملکت پاکستان کے شہری قرار نہیں دیے جا سکے لیکن جب ہمارے وسائل کی بات آتی ہے تو یہی کہا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ پاکستان کا اثاثہ اور پہچان ہیں۔ عوامی حقوق کے لئے جب کبھی گلگت بلتستان کے عوام نے آواز بلند کرنے کی کوشش کی تو اس خطے میں مذہبی منافرت کو ہوا دی گئی یوں لوگ اصل مسائل سے ہٹ کر آپس میں الجھتے رہے۔ لہٰذا ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ انقلاب گلگت کی ناکامی کے بعد جب پاکستان اور آزاد کشمیر کے رہنماوں نے مل کر اس خطے کو دوبارہ کشمیر کی رسی سے باندھ لیا ہے تو جو حقوق سابق ریاست کے باقی خطوں کو حاصل ہیں وہی حقوق گلگت بلتستان کو بھی ملنے چاہیئں لیکن ہمارے مقامی سیاست دانوں کی مجبوری یہ رہی کہ وہ پاکستان سے ایسا کچھ بھی منوانے میں ناکام رہے۔

 

ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔
ہمارے علاقے ہمارے وسائل کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں مگر یہاں قانون کی عملداری اسلام آباد کے مزجپر منحصر ہے۔ یہاں تب بھی احتجاج نہیں ہوا جب 1927 کا سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کیا گیا۔ آج کشمیرکے رہنما کس منہ سے ہماری دھرتی کے دعوے دار ہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔ موجودہ حالات اور تاریخی حقائق کی روشنی میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کے خلاف ورزیوں کو روکنا یہاں کے بیس لاکھ عوام کا قانونی حق ہے۔ تاریخ کے آئینے میں اگر دیکھیں تو اس وقت گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے حوالے سے جو حکومتی اصطلاحی تعریف ہے وہ پانچویں صوبے کے نعرے سے مماثل ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ الحاق بھارت سے بغاوت کرکے ڈوگروں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد سے لے کر اب تک یہ خطہ آئینی اور قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں لہٰذا جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی یہاں کی تمام زمینیں قانونی طور پر عوامی ملیکت ہیں اور غیر ریاستی عناصر یا اداروں کو اس خطے کی زمینوں کو الاٹ کرنے کا مقامی حکومت کو کوئی اختیار نہیں۔ اس حوالے کچھ مہینے پہلے قانون ساز اسمبلی میں حزبِ اختلاف نے ایک بل بھی جمع کرایا تھا لیکن تادم تحریر اس حوالے سے بحث کی کوئی اطلاع نہیں۔

 

وفاق پاکستان کو چاہیئے کہ اس خطے کے عوام کی حُب الوطنی کا مزید امتحان نہ لیا جائے اور یہاں وسائل اور زمینوں پر اس خطے کے عوام کو جو قانونی حق حاصل ہے اسے تسلیم کر کے عوام کو حق ملکیت دیا جائے۔ اس وقت اگر کوئی مقامی باشندہ اپنے زیرِ استعمال اراضی کے اپنے نام انتقال ملکیت کی درخواست دے تو سرکاری اہلکار یہ کہتے ہیں کہ اُنیس سو بیانوے سے قانون انتقال معطل ہے لیکن حکومت کی مرضی سے کئی سو کنال اراضی پچھلے دنوں ریاستی اداروں کے نام نجانے کس قانون کے تحت منتقل کی گئی ہے۔ عوام اتنا جانتے ہیں کہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والا معاملہ ہے لیکن یہ روش اب ختم ہونی چاہیئے کیوں کہ دنیا بدلتی جارہی ہے، نئی نسل باشعور ہے جو شدت سے اس بات کو محسوس کرتی ہے کہ انہیں پاکستان کی جانب سے دھوکہ دیا جا رہا ہے۔



ﺳﺎﺩﮬﻮ

ﺳﺎﺩﮬﻮ
شاعر: سعید اللہ ریشی

 

ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﻏﯿﺐ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺧﺒﺮ ﻣﺠﮫ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻠﮏ ﻏﯿﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﭘﺮ
ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ
ﺍﮎ ﺧﺪﺍﺋﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﺠﮭ ﮑﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻨﺲ ﺗﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ... ﻣﺴﮑﺮﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺫﺍﺋﻘﮧ ﺭﻧﮓ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺘﺎﺭﻭﮞ ﺑﮭﺮﮮ ﯾﮧ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ
ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺍﺏ ﺭﺳﺎﺋﯽ ﻣﺮﯼ ﺑﯿﭻ ﮐﮯﺩﺍﺋﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﺩﮐﮫ
ﮨﯽ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ
ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺩﺍﺋﺮﮮ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺗﻮﮌﺗﮯ ﺧﻮﺩ ﺩﮐﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﺍﺏ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﯾﮧ ﻏﯿﺐ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ .... ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﻦ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ
ﺑﺠﺎ ﮨﮯ ﺑﺠﺎ ﮨﮯ
ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﮕﺮ ...
ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺩﮐﮫ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺁﺧﺮ ﺧﺪﺍ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ

 

لالٹین پر یہ سلسلہ 'نظم نماء' کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔

Image: Nik Helbig




پسپائی اور محبت کی آخری نظم

[blockquote style="3"]

نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل 'ہم سب' پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ نصیر احمد ناصر صاحب کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پسپائی اور محبت کی آخری نظم
جب کشتیاں دریاؤں سے
اور کنارے پانیوں سے اوب جائیں
اور راستے بستیوں کے نواح سے گزرتے ہوئے
اچانک کسی ہائی وے کی زد میں آ کر کچلے جائیں
تو سمجھ لینا
زمین پر میرے اور محبت کے دن پورے ہو چکے ہیں
اور میں آخری معرکہ بھی ہار چکا ہوں
اور تمہاری بھیجی ہوئی دعاؤں کی کمک
اور محافظ تعویزوں سمیت مارے جانے سے پہلے
کسی تنگ نشیبی راستے میں
زخموں کی تاب لانے
اور تاب کار شعاعوں سے آکسیجن کشید کرنے کی
بے سود کوشش کر رہا ہوں
اور عین جنگاہ میں
تمہارے لیے لکھی ہوئی نظمیں
اور امن خوابوں سے بھری ہوئی ڈائریاں
ان درختوں کے ساتھ ہی کوئلہ بن چکی ہیں
جو شعاعی حملے سے پہلے
پھولوں سے لدے ہوئے تھے
اور جن کے نیچے میں آخری بار بیٹھا تھا
اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بمشکل حلق سے اتارے تھے
اور پانی کے بچے کھچے چند قطروں سے ہونٹ تر کیے تھے

 

اور جب تم دیکھو
کہ وقت اچانک رک گیا ہے
اور شام کی اذانیں بلند ہونے سے پہلے دن طویل ہو گیا ہے
اور کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے
تمہیں ہر چیز بدلی ہوئی لگے
تو بے چین ہو کر مجھے یاد نہ کرنا
ورنہ وہ آسانی سے
تمہارے دل کے راستے سے مجھ تک پہنچ جائیں گے
اور میری موت کو
فتح کی نشانی کے طور پر حنوط کر لیں گے

 

اور جب میرے بجائے
قنطور یا جانور نما کوئی مخلوق
تمہارے فارم ہاؤس پر پہنچے
تو حیران مت ہونا
اور چپکے سے دروازہ کھول دینا
اور وہ استقبالی بوسے
جو تم نے میرے لیے پس انداز کررکھے ہیں
کسی خلائی بھیڑیے کے برقی ہونٹوں سے مَس کرتے ہوئے
رو مت پڑنا
ورنہ زمین پر ہمیشہ کے لیے دھوئیں کے بادل چھا جائیں گے

 

اور جب ہوا کا آخری جھونکا
پورٹیکو میں سے گزرتے ہوئے
سرگوشیوں میں میرا پیغام ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کرے
تو اُس طرف مڑ کر مت دیکھنا
ورنہ وہ تمہاری روح کے کمزور ترین حصے سے واقف ہو جائیں گے
اور وہیں اپنے مشینی دانت گاڑ دیں گے
اور سنو!
مکمل سپردگی سے پہلے
کسی اور نشانی کا انتظار مت کرنا
انسانی ادوار میں
محبت کا مرنا آخری نشانی ہے!!

Image: postalmuseum.si.edu




جہنم

وہ اُن کو آتے ہوئے دیکھ رہا تھا سب ایک ایک کر کے آ رہے تھے اور اُس کے گرد دائراہ بنا کر بیٹھنا شروع ہو گئے۔ ان کی تعداد شمار میں نہ آتی تھی۔ سب کے چہروں پر تھکن واضح تھی۔ وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔

 

وہ اتنے عجیب تھے کہ برہنگی سے بچنے کے لئے انہوں نے اپنی ہی چمڑیاں اورڑھ رکھی تھیں جو جگہ جگہ سے اُدھڑ چکی تھیں۔
ان میں کچھ بادشاہ بھی تھے جو اپنی سلطنت کی وسعت ماپنے نکلے تو انہیں اندازہ ہوا کہ ان کی سلطنت کتنی چھوٹی ہے۔ پھر وہ اس طرف چل پڑے۔ انہیں یہاں آنے کی اتنی جلدی تھی کہ یہ اپنا ولی عہد بھی مقرر نہ کر سکے۔

 

کچھ ایسے سپہ سالار بھی آئے تھے جو عین لڑائی میں اپنی فوج کو تنہا چھوڑ کر اس راستے کےمسافر ہوئے۔ اور فوج ان کی عدم موجودگی سے بے خبر صدیوں سے جنگ کرتی آ رہی ہے اورنہیں جانتی کہ یہ لڑائی کبھی ختم نہ ہو گی۔

 

وہ شوہر بھی ان پہنچنے والوں میں شامل تھے جو شبِ زفاف حُجلہءِ عروسی میں اپنی دلہنوں کی جگہ کسی اجنبی کو دیکھ کر ایسے بدکے کہ اس راہ کہ ہو لئے۔

 

کچھ ایسی عورتیں بھی اُس تک پہنچی تھیں جن کے پستانوں کو حیوانوں نے چھو لیا تھا اور اُن کی چھاتیوں سے زہر رسنا شروع ہو گیا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے لئے دودھ کی تلاش میں گھر سے نکلیں تھی کہ کسی انجان آواز کہ تعاقب میں مبتلا ہو کر اپنے بچوں کو بلکتا چھوڑ کر نامعلوم کی پگڈنڈی پر چلنے لگیں۔

 

کچھ نیم خوابیدہ وہ لوگ تھے جو آدھی رات کو پیاس کی شدت سے اُٹھ بیٹھے تھے پھر انہیں یکایک خیال آیا کہ اُن کا خواب تو ادھوراہ رہ گیا ہے۔ وہ کسی مبہم خواب کی ڈور تھامنے اسی سمت چلتے آئے۔

 

کچھ آئینہ ساز بھی تھے جو غلطی سے ایسے آئینے بنانے لگ گئے تھے جس میں ہو بہو شکل نظر آتی تھی۔ یہ سب پتھروں سے بچتے بچاتے اس راہ پہ آ گئے تھے۔

 

آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔
کچھ لوگ پھانسی گھاٹ سے سیدھے یہاں کے راہی ہوئے۔ کچھ ویٹنگ لاونج میں ٹہلتے ٹہلتے اس راہ کے مسافر ٹھہرےاور بار بار اپنا نام پکارے جانے پر بھی واپس نہ پلٹے۔

 

یہاں آنے والوں میں کچھ بچے بھی تھے جو تتلیوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے شام ہونے پر کسی جگنو کی رہنمائی کی خواہش دل میں دبائے چلتے آئے تھے۔ اس میں وہ بچہ بھی تھا جو میلے میں اپنی ماں کے ساتھ آیا تھا جب اُس کی ماں مداری کے کسی نہ ختم ہونے والے کرتب کا حصہ بن گئی تو وہ اکتا کر چاٹ کی پلیٹ ہاتھ میں تھامے ادھر آ نکلا۔ اس میں گلابی ربن والی وہ بچی بھی تھی جو اپنی گڑیا ڈھونڈنے نکلی تھی جس کی شادی کا جوڑا بھی اُس نے تیار کر رکھا تھا۔ جب اُس کو گڑیا نہ ملی اور شادی کے جوڑے کا رنگ انتظار کی دھوپ سے سفید ہو گیا تو وہ روتی ہوئی چل پڑی۔

 

کچھ نوعمر لڑکیاں بھی تھیں جہنوں نے اپنے ہی بھائیوں کی آنکھوں میں ایسی وحشت دیکھی تھی کہ بھاگتی ہوئی یہاں تک آئیں تھیں۔ اُن کا سانس ابھی بھی پھولا ہوا تھا۔

 

ایک مقرر بھی آنے والوں میں تھا جو تقریر کرتے ہوئے کسی خیال کی گرہ میں ایسا الجھا کہ تقریر ادھوری چھوڑ کر یہاں آنے کا قصد کر بیٹھا۔ حالانکہ مجمع ابھی منتشر نہ ہوا تھا۔

 

ایک نوجوان لڑکا بھی تھا جو اپنی محبوبہ کی بے وفائی کا شکار ہو کر ٹرین کہ آگے خودکشی کرنے لیٹا تھا۔ پھر اپنا خیال ملتوی کر کے پٹریاں بدلتے ہوئے یہاں تک پہنچا تھا۔

 

ایک ایسی عورت بھی یہاں کی مسافر تھی جس کی بیوگی کے ٹھیک اٹھارہ سال بعد اُس کا بیٹا ملک کی خاطر شہید ہوا تھا اور وہ اُسی ملک کو تلاش کرتے ہوئے ان راہوں پر چل نکلی تھی۔ وہ بوڑھا بھی تو آیا تھا جس کے پاس اپنے جوان بیٹے کا کریاکرم کرنے کے لئے لکڑیاں خریدینے کے پیسے نہیں تھے اور لکڑیاں ڈھونڈتے اس طرف چل پڑا باوجود یہ کہ اُس کے اپنے ہاٹھ میں ایک لاٹھی تھی۔

 

کچھ لوگوں کے آنے کی وجہ تاحال نا معلوم تھی۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔
رات کا آخری ستارہ غروب ہونے سے ذرا پہلے آخری شخص بھی آن پہنچا یہ اتنا دُبلا تھا کہ ہوا کہ دوش پر اُڑتا ہوا پہنچا۔
جب اُس نے دیکھا کہ دائرہ مکمل ہو گیا ہے اور سب سے پہلے آنے والے کا کندھا آخر میں آنے والے کے کندھے سے جڑ گیا ہے تو اُس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور بولنے لگا۔

 

"میں تم سب کہ چہروں پر وہ تھکن پڑھ سکتا ہوں جو اس مسافت کی طوالت، سمتوں کی بے رُخی اور سنگِ میل کی عدم دستیابی کے باعث ہوئی۔ آہ کہ وہ سفر کتنا طولانی تھا جس نے تمہارے بچوں کو بوڑھا کر دیا، جس نے تمہاری یاداشتوں کو محو کر دیا، جس نے تمہاری کمروں کو خمیدہ کر دیا اور تمہارے گالوں کے گوشت کو تمہارے سینوں تک کھسکا دیا۔ بھلا تم میں سے کون ایسا ہے جس کے پیروں کے آبلوں نے خون کی لکیر نہ کھنچی ہوں۔ میں نے اس سفر کے دوران تمہاری دعاوں کو خودکشیاں کرتے دیکھا ہے۔ تم جو امید بھری نظروں سے میری سمت دیکھتے ہو۔ میں تمہیں تمہارے پہلے اور بعد کا حال سناوں، تو سنو۔ تم میں جو اپنی بیویوں کو بستر پر چھوڑ ائے تھے، یقین جانو کہ سپیدہ سحر سے پہلے تمہارے بھائیوں کی ہوس نے تمہاری بیویوں کو سیراب کر دیا تھا۔ جو مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو ویران گھروں میں چھوڑ ائیں تھیں ان بچوں کے اندر آسیب نے بسیرا کر لیا ہے اور وہ روشنی سے یوں ڈرتے ہیں جیسے تم کبھی اندھیرے سے ڈرتی تھیں۔ سپہ سالار کی فوج کا آخری جوان ابھی مقتل میں پڑا تڑپتا ہے۔ خون نے اس کی داڑھی اور لباس کو رنگ دیا ہے اور وہ جنگ کے ختم ہونے کہ واہمے کا شکار ہو گیا ہے۔ بادشاہوں کی سلطنتوں پر چوہوں نے قبضہ کر لیا ہے اور وہ اُسے مسلسل کُتر رہے ہیں۔ کس کس کا حال سناوں کہ میں تمہارے ہونٹوں کی بڑبڑاہٹ اور سینوں کا گریہ سُن رہا ہوں۔

 

بالآخر تم ان میں سے نکلے تو سب سے پہلے وحشیتوں کے جنگل نے تمہارے قدم جکڑ لئے اور تم پر ایسی دیوانگی طاری ہوئی کہ تم ناخنوں سے اپنا چہرہ نوچتے تھے۔ مجھے خوف ہوا کہ تم سب ان جنگلوں میں خود کشی کر لو گے کہ جس سے نکلنے کا کوئی راستہ تمہیں نہیں بتایا گیا۔ لیکن تم نے اپنی دیوانگی سے اُن جنگلوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔

 

اورتم اُس شاہراہ پر جا نکلے جہاں قدم قدم پر سُرخ سگنل تھے اور یہاں کا سفر تمہیں کہنیوں کہ بل رینگ رینگ کر کرنا پڑا دیکھو کہ تمہاری کہنیوں سے ابھی بھی خون ٹپک رہا ہے۔

 

پھر تم اُن سنگلاخ پہاڑوں پر پہنچے جن کی چوٹیاں ابد کو چھوتی تھیں۔ تم لاکھوں سال اُس میں سرپٹکتے رہے۔ تم نے ان پتھروں پر اپنے خون سے نشان ثبت کر دئیے اور جہدسے وہ چراغاں کیا کہ آسمان کو ان پہاڑوں پر اترنا پڑا۔ ممکن تھا کہ تم خدا کی کُرسی کو چھو لیتے۔ لیکں تم ان پہاڑوں کی دوسری سمت اُتر گئے۔

 

وہاں ریشم کے رنگ برنگے ملائم دھاگوں سے بنا ایک پُل تھا جس میں ہر تار دوسرے سے یوں الجھا تھا کہ تم صدیوں تک ان کی گرہوں میں ایک دوسرے کو تھامے لُڑھکتے رہے۔ یہاں اجتماع نے تمہارے حوصلوں کو مُردہ نہ ہونے دیا۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔
پھر تم اس گھاٹی میں اُترے۔ آہ کہ وہ کیا گھاٹی تھی کہ جس کے تمام سرے نامعلوم تھے۔ یہاں آ کر تم جن شریں چشموں سے سیراب ہوئے وہ شب زندہ دار کے آنسووں اور شہیدوں کے خون سے رنگین تھے۔ یہ گھاٹی تمہارے دلوں کو مطمئن اور تمہارے سفر کو کھوٹا کرتی تھی مگر تم نے شک کا چراغ جلائے رکھا اور بے چینی کا ایندھن ڈالتے رہے۔ بالآخر تمہیں یہاں سے نکلنا پڑا۔

 

اور پھر وہ وادی آئی جس نے تمہاری یادداشتوں کو ایسا محو کر دیا جیسا تم لوگوں کہ ذہنوں سے ہوئے تھے۔ قریب تھا کہ تم اُسے آخری منزل سمجھتے اور خیمے گاڑ دیتے۔ تمہاری حُریت کی قسم اگر تم ایسا کرتے تو کبھی اس گھاٹ تک نہ پہنچ پاتے۔

 

ذرا سوچو وہ کیا شے تھی جو تمہیں یہاں لے کر آئی ورنہ تم یہاں تک پہنچنے کی اہلیت ہرگز نہ رکھتے تھے۔ یہ وہ راز ہے جو تم نے اپنے جسموں سے پرے بویا تھا۔ ابد ایک جہنم ہے جسے تم اپنی آرزووں سے سینچتے آئے ہو۔ آو کہ میں تمہیں اس سے ایسا سیراب کر دوں جیسا میں نے اپنی روح کو کیا ہے۔ آو کہ ابد میں تا ابد جلتے ہیں۔"

 

اُس نے پیالہ بھرا اور سب کے سامنے رکھ دیا۔ سب ایک دوسرے کےچہروں کو دیکھ رہے تھے۔ ابد کا چشمہ نیلا پڑ چکا تھا۔ سب نے اپنا پنا ہاتھ آگے بڑھایا پھر ٹھٹھک گئے۔ پھر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ سورج اُن کے اندرطلوع ہو رہا تھا۔

Image: Slobodan Radosavljevic




جوتے بہت کاٹتے ہیں

جوتے بہت کاٹتے ہیں
شاعر: ابرار احمد

 

رات بھر کون تھا ساتھ میرے
جسے میں بتاتا رہا
اس جگہ شہر تھا
اور سیٹی بجاتے ہوئے نو جواں
اس پہ اتری ہوئی
رات سے یوں گزرتے
کہ جیسے یہی ہو گزرگاہِ ہستی
اسی میں کہیں ہو سراغ تمنا ---
یہاں موڑ تھا
جس پہ بس ٹھہرتی
اور مسافر ، اندھیرے میں تحلیل ہوتے
تو ہم چاپ سن کر
انہیں زندگی سے گزرتے ہوئے دیکھتے
اپنی نیندوں کی چادر ہٹا کر --
کہیں چاندنی میں نہاتے ہوئے
اجلے تکیوں کے نیچے
کسی گیت کے بول تہہ کر کے رکھتے
کہیں -- خواب کے راستوں میں ٹہلتے ہوئے
دن کی وادی میں پھر جا نکلتے --
کہ آنکھیں تھیں چاہت بھری
نیم وا --
چک سے لگ کر ہمیں دیکھتیں --
ہر طرف سے امڈتی ہوئی شام کی اوٹ سے
کوئی ہم کو بلاتا
کہ گھر لوٹ آؤ
کہاں پر بھٹکتے ہو
کیوں در بہ در ہو
تو ہم اپنے ہاتھوں کا کیچڑ چھپاۓ ہوئے
گھر میں پرچھائیوں کی طرح سے اترتے
کہیں اونچی نیچی ، اکھڑتی ادھڑتی ہوئی
شاہ راہوں پہ
کھائی ہوئی ٹھوکروں کے تسلسل میں
ہم نے پکارا بہت
ان سویروں کی مہکار کو
جن کی شبنم
ہمارے دلوں میں ہمیشہ سے گرتی رہی --
پھول پھل بھی ملے
خوش بوئیں بھی ملیں
اور تم بھی ملے --
یہیں پر کہیں اک گزرگاہ صد رنگ تھی
جس پہ چلتے ہوئے
اس کی دہلیز کو جا نکلتے
اسی شور میں تھا، وہ ہوٹل
جہاں خامشی تھی
اداسی تھی
گیتوں کی تانیں تھیں
سگرٹ کی، چائے کی مہکار میں
" دوستوفسکیوں" سے ملاقات ہوتی
کہ وارفتگی تھی یا دیوانگی
گھومتے ہی رہے ہیں
بگولے کی صورت کہیں
رات دن کے علاقوں میں
جن میں کہیں بھی ٹھکانا نہ تھا --
کہ ہم ہوش میں بھی رہے
ٹھیک سوئے نہیں
پورے جاگے نہیں
اس قدر چل کے آۓ
تو پیروں میں جوتے بہت کاٹتے ہیں ---
رات بھر کون تھا ساتھ میرے
وہ تم تو نہیں تھے
وہ تم تو نہ تھے
پھر کسے میں بتاتا رہا
رات بھر
اس جگہ شہر تھا ...!!!

 

لالٹین پر یہ سلسلہ 'نظم نماء' کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے۔
نظم نماء اردو شاعری کے فروغ کے لیے کوشاں ایک آن لائن فورم ہے۔



اسد کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے

[blockquote style="3"]

Virtual Textual Practical Criticism "قاری اساس تنقید" کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ "خامہ بدست غالب" غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے 'خامہ بدست غالب' میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ 'یا رب' ہا

 

نظم

 

قوافی ’رب‘ و ’تب‘، 'مطلب'، ردیف اک صوت، یعنی 'ہا'
عجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسمِ واحد ۔۔۔ اور 'ہا' اس پر
(برائے 'جمع' کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی)
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا "ربّ ہا" غلط العام ہو گا یا کہ "یا ربّ ہا"؟
کہ دونوں ہی غلط ہوں گے؟

 

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی
دونوں جانب 'واؤ' کے دو حرف یا "واوَین" لکھ کر
لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی!
چلیں چھوڑیں کہ 'یا ربّ' کو
فقط 'یک صوت' ہی سمجھا گیا ہے، یک نعرہ
کلمہِ تشہد!
تو "یا ربّ ہا" کو بالّسان ہی سمجھیں!

 

چلیں پیچھے؟

 

"اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے"
یقیناً ہے!
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو۔۔۔۔
یقیناً مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ 'درد' کا؟
'درد آشنائی'؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغِ نا روا کیا ہے!

 

"غرض" کو بھی ذرا دیکھیں
"غرض" ۔۔۔۔ تخفیف ۔۔۔۔ "غرضیکہ" کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب، بے معنی و مطلب!
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
کہ 'غرضیکہ' کے لیے شاعر کو تکیے کی ضرورت ہو!
"غرض" کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو!

 

غلط ہے "نالہ ناقوس" ۔۔۔۔۔۔شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک ’شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
لانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے۔۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر!
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرضِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں۔۔۔۔
نمازِ با جماعت کا بلاوا، یااذاں آہنگِ شیریں میں!
تو گویا ‘نالۂ ناقوس’ میں ‘نالہ’
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے !

 

نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ 'یا ربّ ہا'
چلیں، 'یا ربّ' سے 'ہا' کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں!

 

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ، بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے!

 

"نہاں ہیں نالہِ ناقوس میں در پردہ۔۔۔۔۔۔" کیا؟ دیکھیں، ذرا سمجھیں
وہی آواز، لا اللہ ال اللہ۔۔۔ یقیناً جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
وہی آواز "اللہ ایک ہے"،(دُوجا نہیں کوئی!)

 

تو یہ ناقوس ہو۔۔۔۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نمازِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو۔۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا، لوگو!

 

(غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ)



گوتم نے خود کشی کر لی ہے

گوتم نے خود کشی کر لی ہے
روش ندیم! تمھارے لیے آسانی سے ایک نظم لکھی جا سکتی ہے
اور تمہیں دیکھنے کے لیے محدب عدسے کی ضرورت نہیں
تم سے پہلے تمہاری عینک کے شیشے نظر آ جاتے ہیں
اور تمہاری آنکھیں
ہونٹوں سے زیادہ مسکراتی ہیں
تمہاری ما بعد جدیدی محبت قابلِ رشک ہے
تم کسی کو گھر نہیں بلاتے
اور منیلا کے بغیر کہیں نہیں جاتے
اور تربوز کا شیک پیتے ہوئے یوں شرماتے اور گبھراتے ہو
جیسے کوئی " ترقی شدہ " پینڈو پہلی بار رام رنگی پی رہا ہو

 

تمہاری نظمیں پڑھتے ہوئے
ٹشو پیپر بھیگ جانے کے ڈر سے
رویا نہیں جا سکتا
ہنسا بھی نہیں جا سکتا
کہیں دھیان کی گمبھیرتا نہ ٹوٹ جائے
جانے کیسے تم سدھارتھ کے ساتھ اونچی آواز میں باتیں کرتے
بلکہ ٹھٹھے لگاتے ہو
اور دہشت کے موسم میں نظمیں لکھتے ہو
اس موسم میں تو نظمیں نہیں لاشیں لکھی جاتی ہیں
اور نوحے پڑھے جاتے ہیں

 

منٹو کی عورتیں
تمہارے اتہاس کی سطریں ہیں
اور تمہارے دکھ کی انامیکا
گوتم کے قدموں سے بڑی ہے
آج گوتم کو اعلی ترین ڈگری
اور بہترین تجربے کے باوجود
نوکری کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی
تو اسے معلوم ہوتا کہ دکھ کیا ہے

 

روش ندیم!
تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی
بے چارہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ۔۔۔۔۔۔
نروان پا چکا تھا ۔۔۔۔۔
خیر چھوڑو
ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے
کہیں اسے تجریدی مکھیاں اور تنقیدی ڈائنو سار نہ کھا جائیں
بھوکے پیٹ تو لیکچر بھی نہیں دیا جا سکتا!!

 

(روش ندیم کے لیے)



پھیکے خربوزے؛ اللہ کا عذاب

روایت ہے کہ دجلہ اور فرات کے بیچ ایک وادی جو زرخیز اور شاداب تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبائل میں سے ایک قبیلے کی ایک چھوٹی سی شاخ بنو غلیق وہاں بستی تھی۔ اللہ کی نا فرمانی میں حد سے بڑھ گئی، ناپ تول میں کمی، زنا اور بیکش (جسے آج خربوزہ کہا جاتا ہے) کی شراب پینے والے ہو گئے۔ (بیکش حد درجہ شیریں اور جنت کے پھلوں میں سے ایک پھل ہے)۔ بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا (تاریخ زربیلیہ جلد دوئم، صفحہ 298 ازعلامہ زربیلی زربفتی)۔ روایت ہے کہ اس شراب کا ذکر سن کر فراعین مصر نے اس کی ترکیب حاصل کرنے کے لیے پندرہ برس تک اس وادی کا محاصرہ کیے رکھا مگر دجلہ اور فرات کے بیچ واقع اس وادی کو تسخیر نہ کر سکے کہ چہار جانب دلدلی علاقے تھے۔ بنو غلیق کے لیے بیکش اہم ترین فصل تھی، سالن بنانے، ادویات تیار کرنے اور شراب بنانے کے لیے اسی کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اور یہی ان کی آمدن کا واحد ذریعہ تھا۔

 

بیکش کی شراب تاثیر میں دنیا کی تمام شرابوں سے بڑھ کر تھی، کہ جو پیے جھوم اٹھے اور شیطان کی راہ پر چل پڑے۔ بزرگ بتاتے ہیں کہ اس پھل کی شراب کا ایک قطرہ انسان کو ستر ہزار برس تک مدہوش کر سکتا تھا
ملا خمریاز دجلاوی نے اپنی کتاب الذائقتہ الممتنعہ میں اس شراب کی تیاری کا عمل لکھا ہے۔ اس شراب کی تیاری کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کو چھیل کر اس کے بیج نکال کر اسے پیس لیا جاتا اور جب یہ ملائم لیس دار لعاب کی سی شکل اختیار کر لیتا تب اس میں خمیر، شہد اور کالی مرچ ڈال کر اسے مٹی کے مٹکوں میں بھر کر تین روز کے لیے زمین میں دبا دیا جاتا۔ تین روز کے بعد ان مٹکوں کے منہ کھول کر ان میں کشمش، عرق گلاب، مصری کی ڈلیاں اور کیوڑہ شامل کیا جاتا۔ مٹکون کے منہ دوبارہ بند کر کے انہیں بھٹیوں میں برادہ سلگا کر تین روز کے لیے دبا دیا جاتا۔ تین روز بعد ان مٹکوں کو نکال کر ان میں طرح طرح کے پھل، میوے اور عرق شامل کیے جاتے اور پھر اسے تین ماہ کے لیے ایک ایسے غار میں رکھا جاتا جہاں سانپوں کا بسیرا تھا۔ روایت ہے کہ ان سانپوں کی پھنکاروں سے اس شراب میں ایسی تاثیر پیدا ہوتی تھی جو مرد کو سدا جوان اور عورت کو سدا حسین رکھتی تھی۔ تین ماہ بعد گدھے کے تہوار سے قبل اس شراب کو نکالا جاتا تھا اور شیشے کی صراحیوں میں تین روز تک ابال کر بھاپ میں تبدیل کیا جاتا اور اس بھاپ کو پھر ٹھنڈا کیا جاتا اور شیشے کی بوتلوں میں بھر کر رکھ لیا جاتا تھا۔ (صفحہ 373)

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔ اس قوم کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گدھا ان کے نزدیک مقدس جانور تھا اور یہ گھوڑے پر گدھے کو افضل گردانتے تھے۔ ان کے ہاں گدھوں کی مورتیاں بھی بنائی جاتی تھیں۔ ان کے نزدیک گدھا عقل و شعور میں انسان سے افضل ہے اور انسان عنقریب گدھا بن کر چار ٹانگوں پر بھاگنے دوڑنے لگے گا۔ گدھے کی عبادت کا تہوار اس زمانے میں سب سے بڑی مذہبی تقریب خیال کیا جاتا تھا۔ یہ تقریب رات کے وقت منعقد کی جاتی جس میں تمام قوم چار ٹانگوں پر بیکش کھاتی اور اس کی شراب پیتی، ایک ہفتے تک تمام افراد چار ٹانگوں پر ہی چلتے پھرتے تھے۔

 

شراب کی تیاری کے بعد ان ملعونوں کا طریقہ یہ تھا کہ بیکش کی شراب پی کر چار ٹانگوں پر اچھل کود کرتے، عورتوں سے عشق لڑاتے، بے لباس ہوجاتے اور رینکنے کے سے انداز میں فحش گانے گاتے۔
ایک برگزیدہ ہستی "مقیت بن رواح" جو اللہ کے نیک اور فرمانبردار بزرگ تھے نے ان کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ کئی سو برس کی تبلیغ کے بعد دس ہزار کی آبادی میں سے صرف ایک راہ راست پر آیا۔ باقی سبھی نے ان دونوں نیکو کار برگزیدہ ہستیوں کا مذاق اڑایا اور عذاب کی وعید کو فریب اور دھوکا قرار دیا مگر مقیت بن رواح نے اپنی تبلیغ جاری رکھی۔ ایک رات جب تمام قوم بنو غلیق بیکش کی شراب پی کر بد مست ہو کر ناچتی پھرتی تھی تو مقیت وہاں تشریف لائے۔ ان بد بختوں نے ان پر بیکش کے چھلکے پھینکے اور انہیں چارٹانگوں پر چلنے، رینکنے اور اچھل کود کرنے پر مجبور کیا۔ اسی وقت بزرگ نے بددعا کی اور ایک زور دار غرغراہٹ کے ساتھ بیکش کی شراب تمام بنو غلیق والوں کے حلق میں پھنس گئی، وہ دو ٹانگوں پر کھڑے ہونا چاہتے مگر نہ ہوپاتے تھے، چلانا اور توبہ کرنا چاہتے تھے مگر گلے سے رینکنے کی آواز آتی۔

 

وہ شراب کو نہ نگل پاتے تھے نہ اگل پاتے تھے۔ اسی حالت میں تمام رات گزر گئی اور صبح تک وادی کے سبھی نافرمان گدھوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ آج کے بہت سے گدھے اسی زمانے کے گدھوں کی اولاد سے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن بیکش کو خربوزہ کہا جاتا ہے اور یہ اتنا پھیکا ہوتا ہے کہ اب اس سے شراب نہیں بن پاتی۔ امریکہ کی ایک سیاسی جماعت ڈیمو کریٹ پارٹی نے اسی نافرمان قوم کی یاد میں اپنا انتخابی نشان گدھا رکھا ہے۔ اللہ کے عذاب کے باعث بیکش اب قیامت تک خربوزہ کے نام سے جانا جائے گا۔ اللہ نے اب بیکش یعنی خربوزہ کو اسی لئے پھیکا کردیا ہے تاکہ اس سے شراب نہ بنائی جا سکے، اور خلق خدا گمراہ نہ ہو۔ واللہ عالم بالصواب۔



کراچی سرکلر ریلوے؛ چند سنہری یادیں

تقریباً دو کروڑ آبادی والا پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی اب تک مناسب پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہے۔ کراچی کی تیزی سے بڑھتی اپنی آبادی اور پاکستان کے مختلف شہروں سے روزگار کے لئے آنے والے لوگوں میں روز بروز اضافے کے باوجود اس شہر میں رہنے والے شہریوں کو وہ سفری سہولیات میسر نہیں ہیں جو ہونی چاہیئں۔ یوں تو ہر آنے والی حکومتوں نے اس شہر کے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے کئی اعلانات کیے جن میں گرین بس اور میٹرو بس وغیرہ شامل ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کسی بھی اعلان کردہ منصوبے پر عمل نہیں ہوا یا پھر اگر کسی پر ہوا بھی تو اسے کچھ ہی عرصے بعد ختم کردیا گیا۔ ماضی میں اس شہر میں بہت سی سرکاری بسیں (کے ٹی سی) کے تحت چلتی تھیں جن میں طلبہ کو بھی رعایتی کرائے پر سفری سہولت حاصل تھی لیکن رفتہ رفتہ یہ بسیں بند کر دی گئیں ان بسوں کے ٹرمینلز جنہیں ڈپو کہا جاتا ہے وہ شہر کے کئی مقامات پر اب بھی موجود ہیں۔

 

کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی سٹی اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی
اسی طرح ماضی میں کراچی میں ریلوے کا مربوط نظام سرکلر ریلوے موجود تھا جس سے اس شہر کو صاف ستھری بہترین سفری سہولت میسر تھی۔ سرکلر ریلوے کا منصوبہ 1969 میں پاکستان ریلوے کی جانب سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت ڈرگ روڈ سے سٹی اسٹیشن تک خصوصی ٹرینیں چلائی گئیں جو نہایت کامیاب رہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس سہولت سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد کو فائدہ پہنچتا تھا۔ عوام میں بے پناہ پذیرائی اور ریلوے نظام کو کافی فائدہ ہونے کی بنا پر اس سروس کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید بہتر بنایا گیا۔ 1970 سے 1980 کے درمیان کراچی سرکلر ریلوے کے تحت روزانہ کی بنیاد پر 104 ٹرینیں چلائی جانے لگیں جن میں سے 24 ٹرینیں لوکل لوپ ٹریک اور 80 مرکزی ٹریک پر چلائی گئیں۔ کراچی سرکلر ریلوے لائن ڈرگ روڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر لیاقت آباد سے ہوتی ہوئی کراچی سٹی اسٹیشن پر ختم ہوتی تھی جب کہ پاکستان ریلوے کی مرکزی ریلوے لائن پر بھی کراچی سٹی اسٹیشن سے لانڈھی اور کراچی سٹی اسٹیشن سے ملیر چھاونی تک ٹرینیں چلا کرتی تھیں جن سے سینکڑوں لوگ روز مستفید ہوتے تھے۔

 

لیکن بدقسمتی سے 1992 میں کئی ٹرینیں ریلوے خسارے کی بنیادپر بند کردی گئیں۔ اگر چہ ٹرینیں بند کرنے کی وجہ خسارہ بتائی جاتی ہے لیکن اس وقت کے اخبارات میں چھپنے والی خبروں کے مطابق ایسے افراد کو ریلوے کی وزارتیں سونپ دی گئیں جن کا کاروبار ٹرانسپورٹ سے منسلک تھا۔ کراچی کے پرائیویٹ ٹرانسپورٹ مافیا اور رشوت کے زہر آلود نظام کے اژدھے نے بلاآخر 1999 میں عوامی بھلائی کے اس منصوبے کو مکمل طور پر نگل کر ختم کر دیا۔ بعد میں ہر آنے والی حکومتوں نے اس شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس منصوبے کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کئی بار فزیبیلٹی رپورٹ تیار کی اور اس کی منظوری ہونے کے باوجود اس منصوبے کو شروع نہ کیا جا سکا۔

 

جاپان کی ایجنسی نے اس منصوبے کے لیے دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن نہ جانے کن وجوہات کی وجہ سے ایک بار پھر اس منصوبے کو فائلوں کی نذر کر دیاگیا۔
2005 کے اوائل میں اس وقت ایک امید کی کرن نظر آئی تھی جب جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی نے کراچی سرکلر ریلوے کے لیے آسان شرائط پر قرضہ دینے کی پیشکش کی اور اس پیشکش کی منظوری کی صورت میں اس ایجنسی کے اشتراک سے کراچی سرکلر ریلوے کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جاپان کی ایجنسی نے اس منصوبے کے لیئے دو ارب چالیس کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی تھی لیکن نہ جانے کن وجوہات کی وجہ سے ایک بار پھر اس منصوبے کو فائلوں کی نذر کر دیا گیا۔ اس کی بھی بنیادی وجہ جو سامنے آئی تھی وہ یہ کہ جاپان نے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے اپنی زیر نگرانی سخت مانیٹرنگ سے مشروط کیا تھا اور دوسری شرط یہ رکھی گئی تھی کے اس پچاس کلو میٹر طویل سرکلر ٹریک کے روٹ میں آنے والی ریلوے اراضی پر جو لوگ قابض ہیں انہیں حکومت قبضہ ختم کرنے کے عوض معاوضہ دے یا متبادل اراضی دے۔ جاپان کی طرف سے اس اعلان اور متوقع طور پر 2010 میں یہ منصوبہ شروع ہونے کے امکان کے تحت با اثر شخصیات نے نہ صرف ان ریلوے اراضی پر بڑی تعداد میں لوگوں کو بٹھا دیا بلکہ اندورن سندہ سے آئے ہوئے سیلاب زدگان کو بھی دانستہ طور پر ان زمینوں پر آباد کر دیا تھا۔ ساتھ ہی ٹرانسپورٹ مافیا جسے اس سرکلر ریلوے سروس شروع ہونے سے شہر میں اپنی گرفت کمزور اور اجارہ داری ختم ہوتی نظر آرہی تھی وہ بھی اس منصوبے کی راہ میں مشکلات پیدا کرنے میں متحرک ہو گیا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مزید آگے بڑھتی ہے یہ بات اس وقت کی ہے جب انڈیا کی وزارت ریلوے لالو پرشاد کے پاس تھی اور انہوں نے انڈیا کے ریلوے نظام میں ایک نئی جان ڈال کر دنیا کو حیران کر دیا تھا لیکن افسوس کے ہمارا ریلوے نظام اس عشرے میں بھی تنزلی کا شکار تھا بجائے اس کے کہ ریلوے نظام پر توجہ دی جاتی اور اسے بہتر کیا جاتا مزید دو اہم ٹرینیں اچانک بند کر دی گئیں۔ یہ ٹرینیں مہران ایکسپریس اور شاہ لطیف بھٹائی ایکسپریس تھیں جو کراچی سٹی اسٹیشن سے میرپورخاص تک دن میں مختلف اوقات میں چلا کرتی تھیں۔ ان ٹرینوں سے حیدرآباد، ٹنڈوجام، ٹنڈوالہیار اور میرپورخاص کے لوگوں کو بہت سہولت تھی۔ اس سہولت کا سب سے زیادہ فائدہ ان ملازمت پیشہ لوگو ں کو تھا جو روزانہ حیدرآباد سے کراچی یا کراچی سے حیدرآباد جایا کرتے تھے کیونکہ ایک ٹرین صبح میرپورخاص سے چلتی تھی کراچی کے لیے اور دوسری اسی وقت کراچی سے چلتی تھی میرپورخاص کے لیے۔

 

ان ٹرینوں کے بندش سے بھی دراصل فائدہ پہنچایا گیا ان ٹرانسپورٹروں کو جن کی کوچز کراچی سے میرپورخاص چلا کرتی ہیں اس بلاگ کو لکھنے کےحوالے سے جب میں نے محکمہ ریلوے کے ایک ریٹائرڈ افسر سے پوچھا کہ سرکلر ریلوےتو بہت عمدہ نظام تھا پھر اسے بند کرنے کی کیا وجہ تھی میرے اس سوال کا جواب انہوں نے کچھ یوں دیا کہ کوئی بھی منصوبہ اس وقت تک ناکام نہیں ہوتا جب تک اسے اس کے اندر سے نقصان نہ پہنچایا جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے سے لوگوں نے اس وقت منہ موڑنا شروع کر دیا تھا جب ان ٹرینوں کا تاخیر سے آنا جانا روز کا معمول بن گیا تھا ظاہر ہے ان ٹرینوں میں طالب علم، ملازمت پیشہ افراد اور تاجران کی کثیر تعداد سفر کرتی تھی لیکن جب وہ وقت پر اپنے اداروں میں نہیں پہنچ پاتے تھے تو ان کے لیے یہ سفری سہولت بے فائدہ تھی۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرینیں کیوں تاخیر کا شکار ہونے لگیں تو انھوں نے بتایا کہ انہیں دانستہ تاخیر سے لایا جاتا تھا جن میں ریلوے کے افسران اور ملازمین ملے ہوئے تھے جنہیں اس کے عوض معاوضہ دیا جاتا تھا۔ گویا یوں کہنا بجا ہو گا کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔

 

جب میں نے ان سے پوچھا کہ ٹرینیں کیوں تاخیر کا شکار ہونے لگیں تو انھوں نے بتایا کہ انہیں دانستہ تاخیر سے لایا جاتا تھا جن میں ریلوے کے افسران اور ملازمین ملے ہوئے تھے جنہیں اس کے عوض معاوضہ دیا جاتا تھا۔
جن لوگوں نے کراچی سرکلر ریلوے سے سفر کیا ہے وہ اس پر لطف سفر سے بخوبی آگاہ ہیں اس سرکلر ریلوے میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد سفر کرتے تھے یہاں تک دیکھا جاتا تھا کہ لوگ اپنی کاریں ریلوے اسٹیشن پر پارک کر کے اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے اس سرکلر ریلوے کے سفر کو ترجیح دیتے تھے۔ طالب علم، ملازمت پیشہ افراد، تاجر اور کارباری حضرات نہ صرف روزانہ ٹکٹ لے کر سفر کرتے تھے بلکہ ماہانہ پاس بھی بنوائے جاتے تھے اور ٹکٹ بھی بوگی میں ہی فراہم کر دیئے جاتے تھے۔ صبح کے اوقات میں ان بوگیوں میں وہ منظر دکھائی دیتے تھے کہ جیسے کہ کوئی پوری سوسائٹی ریلوے لائین پر دوڑ رہی ہو۔ خواتین کی بوگیوں میں اسکول و کالج کی بچیاں مطالعہ کرتے ہوئے سفر کرتی تھیں تو ایک بوگی میں لوگ قرآن کی تلاوت کرتے نظر آتے تھے کسی بوگی میں درس قرآن ہو رہا ہوتا تھا، کسی میں سیاسی حالات پر بحث مباحثہ ہورہا ہوتا تھا، کسی بوگی میں اخبارات کا مطالعہ ہو رہا ہوتا تھا تو کسی میں اخبار ات کے ہاکر اخبارات کو ترتیب دے رہے ہوتے تھے۔ اسی طرح شام میں جب لوگ اپنے گھروں کو لوٹتے تھے تو ان ٹرینوں کا منظر کچھ اور ہوتا تھا کسی بوگی میں لوڈو، کسی میں کیرم اور کسی میں تاش کھیلا جا رہا ہوتا تھا، کسی میں غزل کی محفل جمی ہوتی تھی آج کل کے شوشل میڈیا سے وہ شوشل ٹرینوں کے رابطے کہیں زیادہ مضبوط تعلقات کا ذریعہ سمجھے جاتے تھے لیکن افسوس یہ اب ماضی کا حصہ بن چکا۔

 

07 جون 2013 کو سندھ کے وزیراعلی سید قائم علی شاہ نے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے 2.6 ملین امریکی ڈالر کے منصوبے کی منظوری دی جس میں کئی نئے اسٹیشن اور ان اسٹیشنوں کے مطابق کئی نئے بس روٹس چلانے کا اعلان بھی کیا گیا لیکن ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ کھٹائی کا شکار ہو گیا اور اب کچھ معلوم نہیں کہ یہ سرکلر ریلوے منصوبہ کبھی بھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکے گا یا اس شہر کے لوگ ایک آہ بھر کر ماضی کی اس سنہری یاد کو ہمیشہ ماضی کا ایک خوبصورت باب جان کر ہی یاد کریں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں زرائع نقل و حمل کسی بھی ملک کی ترقی کا ایک اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور پوری دنیا میں ذرائع نقل و حمل میں ریلوے کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ دہائی کے دوران تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان ممالک نے ریلوے نظام اور خاص طور پر سرکلر ریلوے پر بہت زیادہ توجہ دی جن میں چین،بھارت، تھائی لینڈ،ملائیشیاء، انڈونیشیاء، امریکہ، جرمنی، جاپان اور سنگاپور شامل ہیں۔ ان تمام ممالک نے سرکلر ریلوے پر بھر پور توجہ دی جس کی وجہ سے ان ممالک کی ترقی میں اس نقل و حمل کے زرائع نے بہت کلیدی کردار اد کیا جب کہ پاکستان میں بدقسمتی سے اس نظام کو ایک سوچے سمجے منصوبے کے تحت کمزور کیا گیا جو نہ صرف کراچی کے عوام کے لیے تکلیف کا باعث بنا بلکہ وطن عزیز کی ترقی کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور یہ عمل تا حال جاری ہے۔



جبلت

پہلا منظر

 

گہری رات تھی۔ ہو کا عالم تھا۔ وہ دھیمے قدموں کھیتوں کی جانب چلا جا رہا تھا۔ گاؤں کی گلیاں جو ہر قدم کے ساتھ دور ہوتی جا رہیں تھیں، ان سے آوارہ کتوں کے بھونکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے آ رہیں تھیں۔ وہ سر جھکائے چادر کی بکل لیے کھیت کے نسبتاً دور اور اندھیرے کونے کی جانب چلا جا رہا تھا۔ آخر کار اپنی پسندیدہ جگہ پہنچ کر اس نے حاجت رفع کی اور واپسی کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ تقریباً پچاس فٹ کے فاصلے پر اسے ایک ہیولا نظر آیا۔ وہ کوئی عورت تھی۔ دفعتاً چادر والے شخص کے جسم کے روئیں روئیں سے اس عورت پر قابو پانے کی خواہش ابھرنے لگی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے جھکڑ چل رہے تھے، اسے وہ عورت اپنے پاس آتی نظر آ رہی تھی۔ جیسے وہ اسے بلا رہی تھی۔ یہ تیز تیز قدموں سے چلتا اس عورت کے سر پر جا پہنچا اور اسے دبوچ لیا۔ ناقابل برداشت اشتہا کی وجہ سے چادر والے شخص کی تمام تر حسیات اپنے شکار پر مرکوز تھیں۔ کسی ہفتے مہینے سے بھوکے انسان کی طرح اس نے عورت کو بھنبھوڑنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں اپنا قبیح فعل انجام دے دیا۔

 

دوسرا منظر

 

اس کی نگاہیں سامنے ٹکی تھیں۔ موٹاپے کے بدترین مرض کا شکار وہ شخص پرہیزی کھانے کھا کر زندہ تھا مگر آج مارکیٹ میں آ کر کباب اور تکوں کی دکان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ اس کا ارادہ ہرگز کھانے کا نہ تھا۔ اس کے فربہ بدن سے پسینہ دھاروں کی طرح بہہ رہا تھا۔ اچانک اس کے جسم میں بھوک نے شیطانی انگڑائی لی۔ اس کے معدے نے جیسے چیخنا شروع کر دیا۔ وہ جنونی انداز میں ہوٹل میں داخل ہوا اور کھانے کا آرڈر دے کر کھانے پر ٹوٹ پڑا۔ کچھ دیر بے دریغ پیٹ پوجا کے بعد اس کے دل کی دھڑکن گھڑی کی سوئیوں کی طرح بجنے لگی۔ اس کا دل کسی الارم کی طرح تیز سے تیز ہوتا جا رہا تھا۔ وہ چند سیکنڈ بعد کرسی پر مردہ پایا گیا۔

 

تیسرا منظر

 

سامنے ہی ایک احتجاج ہو رہا تھا۔ وہ اپنے اوزار لیے مزدوری کے لیے جا رہا تھا۔ اچانک ایک نعرے نے نجانے کون سا جادو کیا کہ کسی پگھلے سیسے کی طرح وہ احتجاج میں شامل ہوا اور اپنی کدال سے گاڑیوں کے شیشے توڑنا شروع کر دیے۔ خون اس کی آنکھوں سے ابل رہا تھا۔ رگیں اس کے بازوؤں سے باہر نکلنے کو بے تاب تھیں۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر وہ تسکین محسوس کر رہا تھا۔ چند گھنٹے بعد وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا۔

 

چوتھا منظر

 

پاکستان کے بھارت پر قبضے کے بعد بالی وڈ کی تمام ہیروئنز کو مجاہدین کے سامنے پیش کیا جا رہا تھا۔ اس کے سامنے بھی معروف ہیروئنز کھڑی ہوتی ہیں، وہ ان میں سے چند ایک کو پکڑ کر اپنی لونڈی بنا لیتا ہے۔ امریکہ کی تباہی کے بعد اب مسلمانوں کی ساری دنیا پر حکومت ہے اور اسے یورپ کا حکمران بنا دیا گیا ہے، امی کی آواز آتی ہے اور وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور دہی لینے چلا جاتا ہے۔

 

پانچواں منظر

 

لاہور کے مال روڈ پر اسکرٹ اور نیکر پہنے لڑکیاں گھوم رہی ہیں۔ لوگوں کے ہاتھوں میں شراب ہے۔ وہ سامنے بنے کلب میں داخل ہوتا ہے۔ اندر تیز موسیقی پر بے ہنگم رقص ہو رہا ہے۔ جسم تھرک رہے ہیں۔ وہ تھرکتے جسموں میں شامل ہوجاتا ہے۔ کچھ دیر پینے اور بہکنے کے بعد اسے لڑکے اور لڑکیاں اٹھا کر اوپر لے جاتے ہیں۔ وہ واپسی پر بہت تسکین محسوس کرتا ہے۔ اچانک ایک ہارن کی آواز اسے چونکا دیتی ہے۔ پچھلی گاڑی والا گالی دیتے ہوئے اسے سگنل کھل جانے کا بتا رہا ہے۔

 

چھٹا منظر

 

وہ دیکھتا ہے کہ اس کے دوست کو کچھ لوگ مار رہے ہیں۔ اس کی کنپٹیاں جلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ وہ آگ بگولا ہوجاتا ہے۔ اس کے بدن میں بجلی بھر جاتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھ میں بلا پکڑ کر ان لوگوں پر پل پڑتا ہے۔ ایک کے سر سے خون نکلتا دیکھ کر اس کے ہاتھوں میں مزید تیزی آ جاتی ہے۔ اس کا دوست اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ نہیں رکتا۔ کچھ دن بعد قتل کے الزام میں اسے پھانسی کی سزا سنا دی جاتی ہے۔

Image: Taha Malasi




کینوس پر لگتے اسٹروکس

کینوس پر لگتے اسٹروکس
یہاں کچھ پھول تھے
جنہیں بکریاں چر گئیں
یہاں کچھ تتلیاں تھیں
جنہیں بھڑوں نے لپک لیا
یہاں کچھ ہرن تھے
جنہیں بھیڑیے کھا گئے
یہاں کچھ گلہریاں تھیں
جنہیں راہی پکڑ کر لے گئے
یہاں کچھ پیڑ تھے
جنہیں کاٹ دیا گیا

 

ہر ستارے کے لیےیہاں
ایک بلیک ہول پہلے سے موجود تھا
جس کی دہشت نے ہرسورج کو گہنا دیا
اور دلوں کے رشتے ایسے ذہنی رشتوں میں بدل دیے
جنہیں نمی ملتے ہی زنگ لگ گیا

 

موم کی تجارت پر لوہے کی تجارت غالب آئی
وحشیوں نے انسانوں کو فتح کر لیا
پھر بھی آسمان کی آنکھیں پگھلتی رہیں
اُن سے خواب ٹپکتے
اور
کینوس پر
مسلسل ا سٹروک لگتے رہے!!!

Image: Gyurka




شک تشدد کی بنیاد ہے؟

وہ شکل سے بچے اغواء کرنے والا لگتا ہے، اس کے بیٹے کی شکل اس کی اپنی شکل سے نہیں ملتی سو یہ بچے اٹھانے والی ہے، اس کا بچہ مسلسل رو رہا ہے تو اس نے اس بچے کو زبردستی اٹھایا ہے، وہ شکل سے ہی دھندا کرنے والے لگتی ہے، یہ تو بولتا ہی کھسروں کی طرح ہے، اس کے چہرے پر داڑھی ہے، اس کی تلاشی لینا ضروری ہے، یہ جینز پہن کر پھر رہی ہے اس کا چال چلن مشکوک ہے۔۔۔۔۔۔ کیا ہماری شکلیں، حلیے، چال ڈھال اور بول چال کی بنیاد پر ہی یہ فیصلے کیے جائیں گے کہ ہمیں ایک ہجوم اکٹھا ہو کر مارنے پیٹنے لگے، یا پولیس والے ہمیں ناکے پر روک لیں، یا ہمارے ہم جماعت ہمارا مذاق اڑنا شروع کر دیں یا پورا دفتر ہمارے بارے میں مشکوک ہو جائے؟؟

 

یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔
یہ شک کرنے کی حس بھی کیا قدرت نے ہمارے ارتقاء کے دوران ہمیں سجھائی تھی کہ جس طرح ہم خوراک کو سونگھ کر، چکھ کر، دیکھ کر اس کے کھانے کا فیصلہ کرتے ہیں اسی طرح شکلیں دیکھ کر دوستیاں بڑھائیں یا دروازے بند کر لیں۔ کیا آوازوں سے بدکنا، داڑھیوں سے ڈرنا، جینز کی پتلونوں سے نفرت کرنا بھی ہمارے جینز کی کارستانی ہے؟ آخر کس طرح سے ایک شبہ ایک الزام کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر ایک ہجوم کو مشتعل کر دیتا ہے جو کسی بھی قسم کی تحقیق کے بغیر اپنے ہی جیسے انسانوں کو مارنے لگتے ہیں، جلا دیتے ہیں یا ان کی بستیوں پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ شامی مہاجروں، افغان مہاجروں، ہندوستان سے آنے والے مہاجروں سمیت ہر کسی کے بارے میں جس کے رسم و رواج، مذہبی رسوم اور ثقافتی اقدار ہم سے مختلف ہیں وہ ہمارے لیے مشتبہ ہے اور ہمارے طرزِ زندگی کا دشمن ہے۔

 

ہمارے بچے کب اور کہاں اور کیوں یہ سیکھتے ہیں کہ لوگوں کو ان کی شکل و شباہت کی بنیاد پر دیکھو اور فیصلے صادر کر دو۔ انہیں کون یہ بتاتا ہے کہ ہر وہ حلیہ یا شکل و شباہت جو تمہیں مشکوک محسوس ہو اس پر پتھر برساو، اسے لہو لہان کر دو اور اسے آگ لگا دو۔ یہ صرف پاکستان نہیں یہ ہر جگہ ہے۔ کہیں برقینی پہن کر نہانے سے مسئلے ہیں، کہیں جینز سے خار کھائی جاتی ہے، کسی کو عربی سن کر دہشت گردی کا خطرہ محسوس ہوتا ہے تو کسی کو ہر یہودی، ہندوستانی اور امریکی دشمن نظر آتا ہے۔ کوئی برقع اور داڑھی دیکھ کر انتہا پسند قرار دے رہا ہے اور کوئی لڑکے لڑکی کو ساتھ دیکھ کر ان کے جسمانی تعلق کی گواہی دینے کو تیار ہے۔

 

ہمیں مشکوک حلیے سے کیا مسئلہ ہے؟ یہ شک کہاں سے پیدا ہوتا ہے جو لوگوں کو لوگوں کو قتل کرنے، گرفتار کرنے پر اکساتا ہے یا مسکرا کر بات کرنے تک سے منع کر دیتا ہے۔ ہم نے کیوں یہ فرض کر لیا ہے کہ پشتون ہو گا تو نسوار کھاتا ہو گا، سکھ ہو گا تو بے وقوف ہو گا، شیخ ہو گا تو کنجوس ہو گا، یہودی ہو گا تو مسلمان دشمن ہو گا، مولوی ہو گا تو بنیاد پرست ہو گا، داڑھی والا ہو گا تو دہشت گرد ہو گا، جینز والی ہو گی تو فاحشہ ہو گی۔۔۔۔۔۔ کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟

 

کیا ہم انسانوں کو محض انسان نہیں سمجھ سکتے اور کیا ہم ان سے نفرت یا محبت کرنے، ان کے بارے میں فیصلہ کرنے یا ان کو قتل کرنے کے لیے مشتعل ہونے سے پہلے انہیں جاننے کی زحمت کر سکتے ہیں؟
شک کو الزام بننے اور الزام سے ایک مشتعل ہجوم بننے کے دوران کہیں کی بھی مرحلے پر سوچنے کا موقع کیوں نہیں ملتا؟ حکومتیں، مذہب، معاشرے اور خاندان بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ خوف کا مقابلہ کیسے کیا جائے، شک کو رفع کیسے کیا جائے، انسانوں پر بھروسہ کیسے کیا جائے بلکہ یہ سب کہ سب مل کر ہمیں لوگوں سے کہیں زیادہ ڈرنے، نفرت کرنے اور انہیں خود سے کم تر سمجھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ یہ سب مل کر ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے خوف کھائیں اور اس خوف کو شک، نفرت، غصے اور اشتعال کی شکل دے کر اس آگ میں سب کو جلا دیں۔ ہمیں بچپن سے ہی غیر مذہب والوں، غیر ملکیوں، دوسری برادری والوں، دوسری زبان والوں اور دوسری رنگت والوں سے نفرت کرنا سکھایا جاتا ہے۔ ہمارے ذہنوں میں نفرت کے تیزاب کتابوں کی صورت میں انڈیلے جاتے ہیں۔

 

اپنے آس پاس توہین مذہب کے الزامات کے تحت، اغواء کرنے والے کے شبے کے تحت یا دشمن کا ایجنٹ ہونے کے شک کی بناء پر ہجوم کو اکٹھا ہوتے دیکھ کر میں سمجھ گیا ہوں کہ کس طرح تقسیم کے وقت ساتھ ساتھ رہنے والے ایک اجتماعی اشتعال کے تحت لوٹ مار اور غارت گری کا حصہ بن گئے۔ تب بھی یونہی افواہیں پھیلتی ہوں گی کہ فلاں جگہ ہندووں نے اتنے مار دیے، فلاں جگہ مسلمانوں نے اتنے لوٹ لیے، وہاں سکھوں نے حملہ کر دیا، یہاں مسلمانوں نے عزتیں لوٹ لیں اور بس۔۔۔۔۔ یہ افواہ، شک اور اشتعال کا تعلق اتنا گہرا ہے کہ ہم سب اکٹھے ہو کر کسی کے بھی خلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں حتیٰ کہ وہ سب کچھ جو ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا کہ ہم کر سکتے ہیں، ہم کسی کا گھر جلا سکتے ہیں، کسی کو مار پیٹ کو معذور کر سکتے ہیں، کسی کو قتل کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اور آپ یہ سب کچھ کر سکتے ہیں اور کریں گے، کسی بھی افواہ کے تحت یا کسی بھی شبے میں۔

 

ہم نے ڈرتے ہیں، ہم شک کرتے ہیں، ہم الزام لگاتے ہیں، ہم ہجوم بناتے ہیں اور پھر کسی بھی شخص کو مارنے پر تُل جاتے ہیں۔ ہم افواہ سنتے ہیں، افواہ کو پھیلاتے ہیں اور پھر افواہ کو سر پر سوار کر کے پٹرول کے کنستر، ماچس کی تیلیاں، لاٹھیاں، ڈنڈے اور بندوقیں لے کر افواہ کا مقابلہ کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ہم الزام لگاتے ہیں، الزام پر ایمان لے آتے ہیں اور پھر کہیں نہ کہیں اس الزام کے تحت کسی نہ کسی جگہ توڑ پھوڑ کی راہ نکال لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ ہم کرتے ہیں یا ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں یا اپنے ساتھ ہوتا ہوا برداشت کرتے ہیں مگر ہم میں سے کوئی بھی نہیں جو چلا کر ایک افواہ، ایک شبے، ایک الزام اور ایک ہجوم کا راستہ روک سکے۔۔۔۔۔



بکھراؤ کا مرکز

بکھراؤ کا مرکز
آنکھیں ٹھنڈی پڑی ہیں
انگلیاں پکے پھلوں کی طرح
ایک بٹن سے گر کر
تمہاری دیوار پر اترتی ہیں
جیسے کوئی لال بیگ
سوچ کے بدن پر چلتا ہو
جیسے ایک آدمی، آخری بار
جلتا ہوا
میں کہتا ہوں خدا کے لیے!
اپنے لیے!
مجھے!
میرا منظر تو دیکھو!

 

محبت کی پری
سر کٹی
دیوار سے لگی
ہاتھ جوڑ کر روتی رہی
جیسے انکساری
سہیلیوں سے عاری
ہاتھ پیر پھینک کر پڑی ہوئی
اور غرور کی ڈھیری سے اس پر چھلانگ لگاتے
یہ میرے وقت کے فرعون، یہ موسیٰ
یہ خضر، یہ خدا کے سینے پر دلتے ہوئے
مونگ کی دال، یہ انگارے، ان کی ڈھیٹ ننھی سی آگ
یہ کانٹ کی ہڈیوں سے جادو کر دیں
یہ گوتم کو گھول کر پی کر الٹی کر دیں
سات ارب بکریوں کی میں میں
طوطوں کی ٹیں ٹیں
خدا کے لیے مجھ پر رحم کرو
سعد بھائی! میرا گلا گھونٹ دو
مجھ سے اور نہیں دیکھا جاتا
یہ توجہ کا بازار ،گرم، اس کا جسم، گرم
اور اس پر پھنکارتے لوگوں کا جھنڈ
اور ان لوگوں میں ٹھٹھے آدمی
گرم محبت کی پری کا گلا کاٹ رہے ہیں
اور تمہیں کیا؟
تمہارے لیے تو سب غیر اہم ہے
منگل کے دن کی طرح

 

مٹ گیا ہے مجھ پر سے
خدا کا دستخط
مٹی منہ بنا کر کھڑی ہے
بڑے افسوس کی بات ہے
میرے گوشت پر خدا نے جان لگا دی ہے
میں تو رگڑ رگڑ کر اس میں سے جن نکالتا ہوں
یہ سانس دھکّے سے بنی ہے
میں اپنی باتوں کا خون بیچ کر
اپنا دن خریدتا ہوں
یہ لاکھ کا لفظ
دو روپے کا ہے

 

چیخوں سے بنا آدمی
اپنی شرمگاہوں کی دیواروں سے لپٹا ہوا
اپنے مرکز میں بکھرا ہوا
کہتا ہے کہ
کائنات ایک سولہ سال کی لڑکی ہے

 

اور یہاں
اس درویش زنانیت میں چودہ طبق ہنہناتے ہوئے
روز ایک چاند ذبح کرتے ہیں
میرے غسل کے لیے لال چاندنی
رات کی لاش پر بہتی ہوئی
اور سورج، کتنے ہی
اپنی دھوپ چھڑکتے ہیں
مگر
جیسے وقت ٹوٹا تھا
پہلی دفعہ
زندگی کا یہ ریسر
سفید ربن
اپنے سینے پر توڑے گا



ماضی کے مسافر

ہمارے وہ قارئین جو بگ بینگ تھیوری سے واقفیت رکھتے ہیں، انہیں یہ مضمون کافی آسان اور معنی خیز معلوم ہوگا۔ لیکن اپنے نئے قارئین کو ہم پہلے بگ بینگ تھیوری سے مختصر سی واقف کروانا ضروری سمجھتے ہیں۔ 1915ء میں البرٹ آئن سٹائن نے کشش ثقل سے متعلق "عمومی نظریہ اضافیت" پیش کیا۔ اس نظریہ کے مطابق کائنات ایک مسقتل شئے نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ کائنات میں ہونے والے عوامل ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ اثرپذیر عمل کون و مکاں کی باہمی یکجائیت کا ہے۔ لہٰذا کائنات کی وہ تفسیر جو سر آئزک نیوٹن کے مستقل ریاضیاتی تصور زمان پر مبنی ہے، ایک نئی جہت اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ آئن سٹائن کے اس نظریہ کے فوراً بعد ہی اس نظریہ کے مضمرات پر بحث کا باب کھل گیا۔ فرائیڈمین نامی ایک ریاضی داں نے جلد ہی آئن سٹائن کی مساوات کو حل کیا اور اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ یہ کائنات ایک خاص وقت سے پہلے معدوم تھی اور پھر عدم سے وجود پذیر ہوئی ہے۔ جس لمحے یہ کائنات وجود پذیر ہوئی ہے اسے سائنسدان بگ بینگ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ یہ سوال اپنی جگہ ایک اہمیت کا حامل ہے۔ مگر سائنسدانوں کی اکثریت اس بارے میں یہ دلیل پیش کرتی ہے کہ بگ بینگ ازخود وقت یا زمانے کا نقطہ آغاز ہے۔ لہٰذا یہ سوال لایعنی ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

 

دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔
اس مرحلے پر کچھ باتوں کو ذہن نشین کر لینا ازحد ضروری ہے۔ وقت کی ساخت اور اس کے وجود سے متعلق کچھ نظریات ہمیشہ سے دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والی مختلف اقوام اور مذاہب میں موجود رہے ہیں۔کیا وقت ایک معروضی حقیقت ہے یا صرف ایک ذہنی کیفیت کا نام وقت ہے؟ اگر وقت ایک ذہنی کیفیت ہے تو کیا مختلف اشیاء اور انسانوں کے لئے وقت مختلف حیثیت رکھتا ہے؟ وقت کی یہ تفہییم انسانوں کے لئے دو طرح سے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ وہ اپنے روزمرہ کے کاموں کی ترتیب اور سماجی تہواروں اور ثقافتی سرگرمیوں کو بروقت سرانجام دینے کے لئے وقت کے مختلف پیمانے بناتا ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کے دیہاتوں میں آج بھی بڑے بزرگ وقت کی تقسیم لمحوں، گھڑیوں، پہروں، مہینوں اور سالوں میں کرتے ہیں۔ موسموں کے لحاظ سے تہوار منعقد ہوتے ہیں جن میں بیساکھی کا تہوار دنیا بھر میں مقبول ہے۔ دوسرا پہلو جو وقت کی تفہیم سے متعلق ہے وہ وقت کا ایک عمومی یا کونیاتی تصور ہے جو دنیا کی مختلف تہذیبوں، مکاتب فکر اور مذاہب عالم میں ایک بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ کائنات سے متعلق کوئی بھی نظریہ اور واقعات عالم کی کوئی بھی تشریح ایک عمومی تصور زمان سے خالی نہیں رہ سکتی۔

 

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یونانی فلاسفہ میں ہمیں ہر طرح کے نظریات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ فلاسفہ جیسے زینو اور پارمینڈیس حرکت کو فریب قرار دیتے تھے۔ اس کے برعکس دوسرے فلسفی جیسے ہیراقلیطس نے سکوت کو وہم اور حرکت کو اصل قرار دیا۔ اسی طرح مسلم مفکروں بالخصوص طوسی، ابن حزم اور عراقی و دیگر فلسفی تحریکیں یعنی اشاعرہ اور معتزلہ میں بھی زماں اور حرکت کے کچھ نظریات پائے جاتے تھے۔ اشاعرہ کے نزدیک وقت بھی مکاں کی طرح ناقابل تقسیم ایٹموں سے مل کر بنا ہے۔ جبکہ ابن حزم کے نزدیک زمان و مکاں مسلسل ہیں نہ کہ ایٹموں سے مرکب ہیں۔ مسلم فکر کے زوال کے بعد یورپ میں نشاۃ ثانیہ کا آغاز ہوا تو تصور زمان و مکاں نے بھی نئی توجیہ حاصل کر لی۔ جب نیوٹن نے حرکت کے قوانین وضع کئے تو ان کے پس پردہ بھی وقت کا ایک تصور موجود تھا۔ نیوٹن کے مطابق وقت ایک مطلق اور خارجی شے ہے۔ وہ اپنی کتاب "پرنسپیا" میں رقمطراز ہے: ـ

 

"مطلق، حقیقی اور ریاضیاتی وقت کسی خارجی شے کے لحاظ سے نہیں بلکہ فی نفسہ اور بذاتِ خود یکساں طور پر بہتا ہے۔ اضافی، ظاہری اور معمولی وقت حقیقی اور مطلق وقت کا ایک خارجی ناپ ہے جسے ہم روز مرہ کے کاروبار میں استعمال کرتے ہیں۔"

 

سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔
دنیا میں موجود تمام مکاتب فکر کی طرح سائنس نے بھی وقت کا ایک تصور قائم کر رکھا ہے۔ سائنس کا تصور زمان اگرچہ ازخود سائنس کی ایجاد نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار اور اقوام کے تصورات کی ایک جھلک دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اس تصور کی بنیاد جیومیٹری اور ریاضیاتی مفروضوں پر مبنی ہے۔ آئزک نیوٹن نے میکانیات سے متعلق اپنے مشہور قوانین کو جب ریاضیاتی بنیاد فراہم کی تو اس میں وقت کو جگہ یا مکاں سے الگ حیثیت عطا کی۔ اس کے مطابق وقت ایک مسلسل خط مستقیم کی طرح یک طرفہ مطلق حرکت کا نام ہے۔ اسی طرح مکاں اپنا ایک الگ وجود رکھتا ہے۔ مکاں اور زماں کا ایک دوسرے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شے مکاں میں حرکت کرے تو اس سے مطلق زماں کی رفتار پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ اس نظریے میں اہم بات یہ تھی کہ زماں میں حرکت صرف ایک سمت میں ہوگی۔ وقت کی ماضی سے مستقبل کی جانب ایک غیر متغیر رفتار سے حرکت کا نظریہ کلاسیکل تصور زماں کہلاتا ہے۔

 

کلاسیکل تصور زماں کو سائنسی بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے انٹروپی کے تصور سے واقفیت ضروری ہے۔انٹروپی دراصل اشیاء کی حرکت میں ایک فطری رجحان کا نام ہے۔ اشیاء کی حرکت اس طرح سے ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ نظم و ضبط کی کیفیت سے بدنظمی کی کیفیت میں ڈھل رہی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سیاہی کا ایک قطرہ جب پانی کے گلاس میں ڈالا جاتا ہے تو وہ لازمی طور پر ایک قطرے کی منظم شکل سے پانی میں موجود مختلف مالیکیولز کی بے ہنگم اشکال میں ڈھل جاتا ہے۔اور یوں کچھ دیر بعد سارا پانی سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح گلاس کا ٹوٹنا اور خوشبو کا پھیلنا بھی اسی حرکت کی مثالیں ہیں۔ اسی فطری رجحان کو انٹروپی کا نام دیا جاتا ہے۔ لہٰذا ہم اسے ایک قانون کی حیثیت دے دیتے ہیں کہ فطرت میں اشیاء کی انٹروپی بڑھے گی۔ یہاں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سیاہی کا قطرہ اس وقت تک بدنظمی کی کیفیت سے نہیں گرزتا جب تک پانی کے مالیکیولز اسے بدنظمی کی کیفیات کے ایک وسیع میدان سے متعارف نہیں کرواتے۔ اب اگر یہی اصول پوری کائنات پر منطبق کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ کائنات کی انٹروپی بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ کائنات پھیل ر ہی ہے اور اس پھیلاو کے نتیجے میں کائنات کی تمام اشیاء کو بدنظمی کی مزید کیفیات میسر ہو رہی ہیں۔ لہٰذا یہ سوال کہ ہم ہمیشہ ماضی سے مستقبل کی جانب کیسے حرکت کرتے ہیں، اب ایک معمہ نہیں رہا۔

 

روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔
اب تک ہم کلاسیکل تصور زماں کی سائنسی توجیہ پیش کر رہے تھے۔ جس میں وقت کی سمت ہمیشہ ماضی سے حال میں ہوتے ہوئے مستقبل کی جانب ہوتی ہے۔ اس تصور کے مطابق مستقبل ایک جامد اور ہمیشہ سے موجود شے ہے۔ یعنی اگر ہمیں ماضی اور حال کی حرکت کے تمام قوانین معلوم ہوجائیں تو ہم مستقبل کی بالکل صحیح پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ مستقبل ویسے ہی موجود اور ثابت ہے جیسے کہ ماضی۔ لہٰذا مستقبل لکھا جا چکا ہے اور یوں ساری کائنات ایک جبرمسلسل کے تحت مستقبل کی جانب رواں دواں ہے۔ ہمارا اگلا سوال قدرے عجیب ہے اور وہ یہ کہ کیا ہم وقت کی رفتار تیز کر کے جلد مستقبل میں جا سکتے ہیں؟ کیا انسان کسی طرح ماضی میں لوٹ سکتا ہے؟ کلاسیکل تصور زماں میں یہ سوال شاید مضحکہ خیز معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن جدید سائنس میں انکا جواب ہاں میں ہے۔

 

1915ء میں جرمنی کے مشہور سائنسدان آئن سٹائن نے ایک نظریہ عمومی اضافیت کے نام سے پیش کیا۔ اس نظریے کے مطابق نیوٹن کا تصور یعنی مطلق زمان و مکاں صرف اس صورت میں قابل قبول ہے جب مختلف مشاہدہ کرنے والے ایک ہی نظام میں موجود ہوں یا دو مختلف نظام ایک دوسرے کے لحاظ سے ایک خفیف اور مستقل رفتار سے چل رہے ہوں۔ ایسے نظام میں تمام مشاہدہ کرنے والے وقت کو ایک ہی شرح سے ماپ سکتے ہیں۔ لیکن نیوٹن کا یہ تصور اس وقت ناقابل قبول ہو جاتا ہے جب رفتار کی شرح بہت زیادہ ہو۔ کائنات میں روشنی کی رفتار سب سے زیادہ ہے۔ نیوٹن اور کلاسیکی طبیعات نے تو روشنی کو لامحدود رفتار عطا کر رکھی تھی لیکن آئن سٹائن کے مطابق روشنی بھی ایک محدود رفتار سے چلتی ہے۔ اس وقت تک کے تجربات کے مطابق یہ رفتار تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ ہے۔ زمین پر پائے جانے والی اشیاء یعنی ہوائی جہاز وغیرہ جو 500 میل فی سیکنڈ تک جا سکتے ہیں، روشنی کے مقابلے میں ان کی رفتار انتہائی کم ہے۔ لیکن تیز ترین ہونے کے باوجود روشنی ایک محدود رفتار کی حامل ہے۔ اور روشنی کی یہی محدود رفتار ہے جو طبعی کائنات میں قانون علیت کو برقرار رکھتی ہے۔ وگرنہ اگر روشنی بھی لامحدود رفتار رکھتی تو معلول اپنی علت سے قبل وجود پذیر ہو جاتا۔ بہرحال آئن سٹائن نے نیوٹن کے مطلق زمان و مکاں کے تصور کو رد کر دیا۔ اور اب زمان و مکاں کی حیثیت اضافی ہوگئی۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہوگا کہ مختلف مشاہدہ کرنے والوں کا وقت ایک ذاتی حیثیت اختیار کر جائے گا۔ ہر مشاہد کے لئے وقت ایک الگ شرح سے بدلے گا۔ کسی بھی دو واقعات کا درمیانی وقفہ مختلف افراد کے لئے ان کی رفتار کے لحاظ سے مختلف ہوگا۔اسی طرح مکاں بھی محض نقطوں پر مشتمل شے نہیں بلکہ واقعات کی ایک ترتیب کا نام ہے جو مقام کے ساتھ ساتھ ایک خاص وقت میں موجود ہوتے ہیں۔ زمان و مکاں ایک ہی شے کے مختلف اجزاء قرار دئے جائیں گے۔ زمانے کی اس نئی تشریح نے کلاسیکی طبیعات کے تصورات میں ایک انقلاب برپا کر دیا۔ نظریہ اضافیت کی بنیاد پر ایسے ایسے نتائج سامنے آئے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ انہی نتائج میں آغاز کائنات یعنی بگ بینگ کا نظریہ، سیاہ شگاف یا بلیک ہول کی دریافت، GPS کی ایجاد بھی شامل ہیں۔

 

زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔
طے زمانی یعنی Time Travel کی اصطلاح نے بھی سائنس میں پہلی دفعہ آئن سٹائن کے نظریات کی وجہ سے مستند حیثیت اختیار کی ہے۔اس سے پہلے سائنس فکشن میں ایسی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ یاد رہے مشرقی روایات بالخصوص متصوفانہ نظریات میں بھی ایسے تصورات پائے جاتے تھے کہ جن کے مطابق کوئی ذی روح کسی بھی زمانے یا مقام پر منتقل ہوسکتا تھا۔ لیکن اب یہ باتیں محض افسانہ نہیں بلکہ ایک حقیقت کا روپ دھار چکی ہیں۔ نظریہ اضافیت کے مطابق زمان و مکاں ایک اکائی ہیں۔ جس طرح ہم ایک مقام الف سے دوسرے مقام ب تک آگے جاسکتے ہیں اور پھر واپس ب سے الف تک لوٹ سکتے ہیں اسی طرح وقت میں بھی ایسی حرکت ممکن ہے۔ کیونکہ وقت بھی مقام ہی کی طرح ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک کا دورانیہ ہے اور اسے بھی واپس لایا جاسکتا ہے۔ زمان و مکاں ایک قسم کی لچکدار چادر کی طرح ہیں جس میں اگر کوئی بھاری جسم ڈال دیا جائے تو اس میں ایک جھول پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس چادر کو گول کر کے اس کے مختلف کناروں کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں۔ زمان و مکاں کی یہ چادر بھی لپیٹی جا سکتی ہے اور یوں ہم زمانے میں واپس اسی لمحے اور مقام پر لوٹ جائیں گے جہاں سے ہم چلنا شروع ہوئے تھے۔ لیکن اس طرح بہت سے تناقضات اور مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر زید ماضی میں چلا جائے اور اپنے دادا کو اس کی ہونے والی بیوی سے ملنے ہی نہ دے تو اس کے دادا اور دادی کی شادی ممکن نہیں رہے گی۔ اور اگر انہوں نے شادی نہیں کی تو پھر زید کیسے پیدا ہو گیا؟ اور اگر زید پیدا نہیں ہوا تو ماضی میں کیسے چلا گیا؟ یقینی طور پر آپ اس مثال سے الجھ گئے ہوں گے۔ ایسی اور بھی الجھنیں ہیں جو آئن سٹائن کے نظریات کا خاصہ ہیں۔ ان الجھنوں کو حل کرتے کرتے سائنسدانوں نے بہت سے دیگر نظریات کو جنم دیا ہے جن میں سے کثرت کائنات کا نظریہ قابل ذکر ہے جسے ہم لالٹین میگزین میں گزشتہ تحریر میں بتا چکے ہیں۔ یعنی زید ماضی میں جاتے ہوئے ایک الگ اور نئی کائنات میں جا نکلے گا۔ اسی طرح ایک اور نطریہ جو اس وقت بہت مقبول ہے یہ کہ ہم ماضی میں سفر کر تو سکتے ہیں لیکن ماضی کے واقعات پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہو پائے گا۔ اسی طرح مسقبل میں سفر بھی ممکن ہے۔

 

اس کا ایک طریقہ یہ کہ اپنی رفتار کو تیز کر دیں۔ زمانے کے بہاو کی شرح کا انحصار کسی بھی شے کی رفتار پر ہے۔ رفتار کی تیزی سے وقت آہستہ بہتا ہے۔ اور یوں ایک مسافر جو کسی خلائی سفر پر انتائی تیزرفتاری سے گامزن ہے وہ زمین پر موجود افراد کی نسبت زمانے میں آہستہ حرکت کرے گا۔ جب وہ زمین پر واپس آئے گا تو یہاں کئی صدیاں بیت چکی ہوں گی۔ گویا وہ مستقبل میں جا پہنچا ہے۔اسی طرح گریوٹی بھی وقت کے بہاو کو بدل سکتی ہے۔ 2014ء میں بننے والی ہالی ووڈ کی مشہور فلم Interstellar میں ایسے ہی کچھ مناظر دکھائے گئے تھے جب بلیک ہول کے قریب جانے والے خلائی طیارے کے لئے وقت انتہائی سست ہو گیا اور زمین پر موجود لوگ بوڑھے ہوگئے لیکن خلانودر ابھی جوان ہی رہے۔ اس کے علاوہ ایک ٹائم مشین جو وقت میں سفر کے کام آسکتی ہے ورم ہول Worm Hole کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ ایک قسم کا شگاف ہے جو کائنات کے ایک حصے کو کسی دوسرے حصے سے جوڑتا ہے۔ لیکن ایسے ورم ہول کو آسمانوں میں ڈھونڈنا اور اس قدر رفتار حاصل کرنا ابھی انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج کل سائنسدان دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری CERN جو کہ جنیوا میں بنائی گئی ہے، میں کچھ تجربات کر رہے ہیں جس میں شاید ایسے ورم ہول یا بلیک ہول تیار کر لئے جائیں جن میں ایٹمی ذروں کو ماضی میں بھیجا جا سکے۔ اس نوعیت کے کچھ تجربات اس وقت تک کئے جا چکے ہیں۔ لیکن کیا انسان کبھی ایسی مشین تیار کر سکے گا جو اسے ماضی یا مستقبل میں فوری طور پر پہنچا سکے؟ اور اگر ایسا کبھی ممکن ہو گیا تو ہمارا تخیل اس بارے میں کیا تصویر بنائے گا؟ اس بات کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا یا پھر شاید ہمیں اس کے لئے واپس ماضی کی طرف لوٹ کر جانا پڑے!



بچپن کی سماعتیں

بچپن کی سماعتیں
شکر دوپہروں میں
کوئلوں سے دیواروں پر
کھڑکیوں اور دروازوں کی شکلیں بناتے ہوئے
حملہ آور گالیوں کی طرح
اچانک امنڈ آنے والا
گلیوں کا سناٹا ہو
یا دالانوں میں گھسٹتی
ننگ دھڑنگ طفلانہ خاموشی ۔۔۔۔۔۔
نیم تاریک پساروں میں
دکھائی نہ دینے والے جسموں کی
دبی دبی ہنسی آلود باتیں ہوں
یا رسوئیوں اور برآمدوں میں چلتی پھرتی
نئی نئی سہاگنوں کی ذائقے دار سرگوشیاں ۔۔۔۔۔
اُڑتے ہوئے پرندوں کی
گھونسلوں میں رہ جانے والی پروازیں ہوں
یا آسمان کی گونجیلی نیلاہٹوں میں
بے آواز پروں کی
ہلکورے لیتی، لہریے بناتی
پھڑپھراہٹیں ۔۔۔۔۔
گِل خوروں کے رینگنے کی سرسراہٹ ہو
یا بارش میں نہاتے ہوئے
قدموں کی شپ شپ ۔۔۔۔۔۔
درختوں کی شاخیں کٹتے ہوئے
پتوں اور تتلیوں کی سسکیاں ہوں
یا جنگلوں، راستوں اور پہاڑی دروں سے گزرتی ہوئی
ہوا کی کلکاریاں ۔۔۔۔۔
سرحدوں کے آر پار بنے
اونچے بنکروں سے برستی تڑ تڑ گولیاں ہوں
یا نشیبی رات کا سینہ چیرتی
پہرے داروں کی سیٹیاں ۔۔۔۔۔۔۔
بچپن کی سنی ہوئی آوازیں
عمر بھر سنائی دیتی ہیں!

Image: Dilip Oinam