دو کیشیئرز

کیشیئر
جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی
لفظ مجھ سے اُلجھے ہیں
بات اُس نے کرنی تھی
سوچ میری بھٹکی ہے!

 

جب حدیں مقرر ہوں
زندگی کو جینے کی
ناتمام حسرت پر
بے شمار پہرے ہوں
وصلِ منتظر کے دکھ
ہجر سے بھی گہرے ہوں!

 

دھڑ دھڑاتے سینوں میں
تھر تھراتی سانسوں میں
کپکپاتی بانہوں میں
آرزو کے بستر پر
سلوٹیں تو پڑتی ہیں
خواہشوں کے پتلوں میں
سوئیاں تو گڑتی ہیں
شام کے ستارے نے
جب نظر کو ٹوکا ہو
جب کھلی حقیقت پر
اک فسوں کا دھوکا ہو!

 

بینک ایسے جسموں کی
روحیں کیشیئر نکلیں
جو مچلتے جذبوں سے
ہمکنار ہونے کی
لذّتِ روا تج کر
سنگِ ضبط کی زد پر
قہرِ شہر سے ڈر کر
کیف و لطف کے لمحے
دیکھتی ہوں گنتی ہوں
اور خود ترستی ہوں!



مزاح کی مابعد الطبعیات

ہمارے سماج میں حفظ مراتب کا بندوبست اتنا پیچیدہ ہے کہ آپ عمر میں اپنے سے بڑے کسی شخص کا مذاق نہیں اڑا سکتے، رنگ، نسل اور مذہب والی بات تو بہت دیر بعد آتی ہے۔
گزشتہ چند سال میں اگر آپ نے (ہماری طرح) شام کے بعد ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہونے والے پروگرام دیکھے ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے گویا ہم مزاح(یا کم ازکم سیاسی مزاح) کے 'سنہری دور' میں سانس لے رہے ہوں۔ نت نئے پروگراموں میں نت نئے چہرے ہر شام 'مزاح' کے جوہر بکھیر تے ہیں۔ ان حالات میں یہ بات بحث طلب ہے کہ مزاح اور پھکڑ پن میں کیا فرق ہے اور کیا ہمارا معاشرہ Satireیا ہجو برداشت بھی کر سکتا ہے یا ہم ہمیشہ سیاست دانوں کی نقالی کرنے والوں کو مزاح کا پیمانہ سمجھتے رہیں گے؟ قوموں کے سماجی ارتقاء میں وہ وقت بھی آتا ہے کہ جب معاشرے میں مزاح، طنز، ہجو، جگت، نقالی اور پھبتی کی درست جگہ مرتب ہو جاتی ہے۔ بالغ معاشروں میں اپنی حماقتوں پر ہنسنے کا ظرف پایا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ Satire کا بنیادی نظریہ ہی یہ ہے کہ کوئی چیز (یا شخصیت یا نظریہ) مزاح سے بالاتر نہیں اور اس میں رنگ نسل اور شہریت کی کوئی تفریق نہیں۔ ہمارے سماج میں حفظ مراتب کا بندوبست اتنا پیچیدہ ہے کہ آپ عمر میں اپنے سے بڑے کسی شخص کا مذاق نہیں اڑا سکتے، رنگ، نسل اور مذہب کی بات تو بہت دیر بعد آتی ہے۔ ہمارے ہاں مشہور عام لطیفوں میں ظرافت سے زیادہ پھکڑ پن جھلکتا ہے۔ لطیفہ اگر سوچنے پر مجبور نہ کرے، پہلے سے موجود نظریات پر چوٹ نہ کرے تو وہ لطیفہ نہیں، جگت ہے۔ لطائف کی ایک منفرد سماجی حیثیت ہوتی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لطائف بیویوں کے گرد، پٹھانوں کے گرد(یہ صیغہ ہر صوبے میں مختلف ہے)، مختلف ذاتوں کے متعلق اور جنسی نوعیت کے اعمال سے باہر نہیں نکل پاتے۔ ایک نیم قبائلی، پدرشاہی معاشرے میں دل کی بات نثر یا شعر کی زبان میں کہنا محال ہے، Satire کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود ہماری خاکستر میں بہت سی چنگاریاں رہی ہیں۔ اردو مزاح نگاری میں مشتاق یوسفی، پطرس بخاری، کرنل محمد خان، شفیق الرحمان، ابن انشاء، محمد خالد اختر نے اپنا نام روشن کیا۔

 

ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔
ہمارے معاشرے میں پدر شاہی نظام، فوج، ذات پات کے نظام اور ملا کی اجاری داری ہے۔ Satire یا عمدہ لطائف وہ ہوں گے جو ان برتر قوتوں پر چوٹ کریں، ان کی بے مائیگی پر طنز کے نشتر چلائیں، ان کے استبداد کی مخالفت کریں۔ مزاح کا بنیادی مقصد انگریزی محاورے والی ’مقدس گائیوں‘ کی اصلیت واضح کرنا ہے۔ پڑوسی ملک میں ویسے بھی گائے کی تقدیس بہت ہے لہٰذا وہاں مزاح کی حدود مزید تنگ ہیں۔ اس کے باوجود بھارت میں نوجوان ان زنجیروں کو توڑنے پر مصر ہیں اور ان میں سے کئی کا کام یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں Stand-up Comedy کی کوشش گزشتہ دو دہائیوں میں مختلف اصحاب کی جانب سے کی جا چکی ہے لیکن ان میں سے بیشتر انگریزی زبان اور ایک بیگانی ثقافت سے لطائف مستعار لے کر انہیں پاکستانی بنانے کی غلطی کرتے رہے۔ انگریزی زبان میں Stand-up کی جو روایت امریکہ یا برطانیہ میں ہے، اس کا چلن ہمارے ہاں عام نہیں۔ ٹی وی ڈراموں پر نظر دوڑائیں تو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ ففٹی ففٹی، سونا چاندی، گیسٹ ہاؤس،جنجال پورہ، فیملی فرنٹ، الف نون، آنگن ٹیڑھا اور سچ گپ جیسے کتنے ہی مزاحیہ ڈراموں کی جگہ اب بوکھلائے ہوئے اداکار اور پس پردہ چلنے والا Laughing Track لے چکا ہے۔ سیاسی تجزیے اور پھکڑ پن کے امتزاج کی روایت ڈاکٹر یونس بٹ نے شروع کی۔ رفتہ رفتہ سیاسی تجزیہ کم اور پھکڑ پن نمایاں ہونے لگا(اس ضمن میں آفتاب اقبال کی خدمات قابل غور ہیں)۔ اس فارمولے کی مختلف شکلیں اب بازار میں دستیاب ہیں۔ ہر چینل نے حسب استطاعت بھانڈ خرید رکھے ہیں جو رات ڈھلتے ہی سکرینوں پر براجمان ہو جاتے ہیں۔بھانڈ اور جگت بذات خود ایک سماجی حیثیت کے حامل ہیں اور ان کے موضوعات سطحی طور پر سماجی ضرورہیں، سیاسی بالکل نہیں۔ شادی بیاہ کے موقعوں پر حس ظرافت کا مظاہرہ کرنا اور سیاسی صورت حال کا تبصرہ کرنا بہرحال دو مختلف چیزیں ہیں۔ جگت بازی میں اکثر مخالف فریق کی ہتک کرنا مقصود ہوتا ہے اور اس مقصد کے لئے لفاظی کے جوہر استعمال کیے جاتے ہیں۔ جگت بنیادی طور پر ایک غیر سیاسی صنف ہے (اور ہونی بھی چاہئے)۔ سٹیج پر انور مقصود صاحب نے کچھ نیم مزاحیہ ڈرامے لکھے لیکن ان میں مروجہ اقدار جیسے پدر سری نظام کے متعلق قائم مفروضوں کو بعینہٰ برقرار رکھا۔

 

سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی تضحیک اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ کچھ مخصوص ’پس پردہ‘ سرکاری اداروں کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔
خشک سیاسی تجزیہ سننا ناظرین کے لئے بوریت کا باعث بنتا ہے لیکن سیاسی امور میں حد درجہ سنجیدگی کی ضرورت موجود رہتی ہے۔ امریکہ میں کئی ہفتہ وار پروگرام کئی دہائیوں سے مزاح اور سنجیدہ موضوعات پر بحث کرنے کے لئے مختص ہیں۔ کچھ پروگرام ایسے ہیں جو صرف مزاح کے لئے ہیں (جو سیاسی اور غیر سیاسی ہو سکتا ہے لیکن مروجہ اقدار پر چوٹ بہر صورت موجود ہوتی ہے) اور سنجیدہ امور کے لئے الگ پروگرام مختص ہیں۔ان کے برعکس ہمارے ہاں نام نہاد مزاحیہ پروگراموں میں نہ تو مزاح ہوتا ہے، نہ سنجیدہ گفتگو۔ اس طرح ہمارے ناظرین سیاست کو مزاح اور مزاح کو سیاست سمجھ بیٹھتے ہیں۔ میری ناقص رائے میں معاشرے کو 'غیر سیاسی' بنانے میں کچھ کردار میڈیا کا بھی ہے۔ سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کی تضحیک اور جمہوریت کا مذاق اڑانے کا سلسلہ کچھ مخصوص ’پس پردہ‘ سرکاری اداروں کی جانب سے کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس بیانیے کے باعث بالخصوص نوجوان نسل میں جمہوری نظام سے اکتاہٹ اور بیزاری پیدا ہوئی۔

 

سیاسی شخصیات کی تضحیک اور پیروڈی تو خیر چلتی ہی رہے گی، ہماری اجتماعی حس ظرافت پر اس نئے رواج نے برا اثر ڈالا ہے۔ نوجوان نسل کتب بینی سے دور ہو چکی اور ٹی وی پر معیاری پروگراموں کی عدم موجودگی کے باعث پھکڑ پن ہی مزاح کا معیار بنتا جا رہا ہے۔ڈان نیوز پر 'ذرا ہٹ کے' نے اس رواج کو تبدیل کرنے کی کوشش شروع کی ہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ کب تک وہ اس عمل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔



عورت اور لباس کے انتخاب کا حق

یہ عورت کے انتخااب اور آزادی کا معاملہ ہے، مغرب بمقابلہ مشرق یا مذہب بمقابلہ غیر مذہب کا نہیں۔ عورت کو کیا پہننا ہے کیا نہیں، اسے اپنا آپ کتنا چھپانا ہے کتنا نہیں یہ معاملہ عورت کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیئے اور یہ انتخاب کی آزادی کے بنیادی اصول کا تقاضا بھی ہے کہ ہر شخص کو اپنی نجی زندگی میں اپنی پسند کے مطابق اپنا طرزِ زندگی اختیار کرنے کا حق ہے۔ مغرب کا ثقافتی برتری کا احساس بھی اتنا ہی آزادی مخالف نظر آنے لگا ہے جتنا عرب، ایران یا پاکستان کا ہے۔ محض ثقافتی اقدار کی بنیاد پر ایک جانب عورت کو اپنا بدن چھپانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب اپنا بدن ظاہر کرنے پر اور یہ دونوں جبر کسی بھی طرح جائز نہیں۔ جس منطق کی بنیاد پر پردے اور برقع کے مسلط کیے جانے کو غلط کہا جاتا ہے اسی بنیاد پر اس معاملے پر پابندی کو بھی دیکھا جانا چاہیئے۔

 

عورت کو کیا پہننا ہے کیا نہیں، اسے اپنا آپ کتنا چھپانا ہے کتنا نہیں یہ معاملہ عورت کے فیصلے پر منحصر ہونا چاہیئے اور یہ انتخاب کی آزادی کے بنیادی اصول کا تقاضا بھی ہے
فرانس سمیت یورپ بھر میں جاری اس بحث کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے اور اس تناظر یں کوئی بھی فیصلہ کرنے یا رائے قائم کرنے سے پہلے حجاب یا برقع پر پابندی کے حق میں دیے جانے والے دلائل کو بھی سمجھنا چاہیئے۔ اس معاملے میں درج ذیل جواز مختلف حلقوں کی جانب سے دیے جا رہے ہیں:

 

1: برقع پردے کے اس تصور کی علامت ہے جس کے تحت ایک عورت کا جسم اس کی بجائے کسی اور (خدا، شوہر یا معاشرے)کی ملکیت تصور کیا جاتا تھایعنی عورت کے جسم پر اس کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، اس لیے پردے یا اس کی تمام علامتوں کو مسترد کیا جانا چاہیئے۔

 

2: پردہ ایک مذہبی حکم کے تحت مسلط کیا جاتا تھا، اور مذہب کو فرد کا ذاتی معاملہ قرار دیے جانے اور معاشرے اور ریاست کی مذہب سے علیحدگی کی بنیاد پر عوامی مقامات پر مذہبی علامتوں کا استعمال ممنوع قرار دیا جانا چاہیئے۔
3: پردہ مغربی معاشرے کے لیے اس لیے بھی ناقابل قبول ہے کیوں کہ یہ عورت کو ایک جنسی وجود قرار دینے کے مترادف ہے ، پردے کا مطلب یہ بھی ہے کہ عورت کو جنسی جرائم کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اس لیے اسے ترک کرنا ضروری ہے۔
4: پردہ عورت کے بنیادی انسانی حقوق جیسے جقل و حرکت کی آزادی، اپنے جسم پر اختیار، اپنے لیے فیصلہ کرنے کے اختیار اور مذہبی آزادی کی نفی کرتا ہے اس لیے اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیئے۔

 

5: پردے پر پابندی کے پیچھے ثقافتی برتری کا احساس بھی موجود ہے جس کی بنیاد پر مغرب کے سوا تمام معاشروں اور ان کی اقدار کو پسماندہ خیال کرنا بھی ہے۔ اس کے پیچھے مغرب کا اخلاقی برتری کا وہ احساس بھی موجود ہے جو نوآبادیاتی ادوار سے آج تک دنیا بھر کر آزاد کرانے کے نام پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ یہاں مغرب کے اس طرز عمل کو بھی مورد الزام ٹھہراناضروری ہے جو مشرق یا اسلام سے متعلق ایک مخصوص جامد تصور کے سوا کوئی اور طرز فہم اختیار کرنے کو تیار نہیں، یعنی اسلام اور مسلمان دقیانوسی، فرسودہ اور وحشیانہ اقدار کے نمائندے ہیں۔

 

6: مغرب کے ہاں رائج اچھے مسلمان کی تعریف بھی پردے اور برقعے سے متعلق رویوں کی بنیاد ہے جس کے تحت اچھا مسلمان وہی ہے جو مغربی اقدار ثقافت اور قانون کو تسلیم کرے اور س کے لیے روکاوٹ بنے بغیر زندگی گزارے۔

 

7: اشدت پسند اور عسکریت پسند مسلمانوں کے حالیہ حملے بھی س عدم برداشت کی وجہ ہیں۔ یورپ میں یہ خوف بڑھ رہا ہے اور دائیں بازو کی جماعتوں کو تقویت دے رہا ہے کہ مسلمانوں سے یورپ کی آزاد خیال، لبرل اور سیکولر اقدار کو خطرہ ہے۔

 

بلاشبہ پردے کا روایتی اور اسلامی تصور جبر، استحصال اور پدرسری اقدار کا نمائندہ ہے اور پردے کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود فرانس میں برقینی اتروانے یا اس پر پابندی کا عمل غلط ہے۔
بلاشبہ پردے کا روایتی اور اسلامی تصور جبر، استحصال اور پدرسری اقدار کا نمائندہ ہے اور پردے کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن اس کے باوجود فرانس میں برقینی اتروانے یا اس پر پابندی کا عمل غلط ہے۔ پردے پر پابندی کے لیے دیے جانے والے درج بالا دلائل اپنے اندر کئی نقائص لیے ہوئے ہیں۔

 

1: پہلا مسئلہ آزادانہ انتخاب اور عورت کے اپنے جسم پر اختیار کا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح عورت کو زبردستی مذہب یا ثقافت کے نام پر جسم کو چھپانے پر مجبور کیا جانا غلط ہے اسی طرح ایک عورت کو مذہب اور ریاست کی علیحدگی یا ثقافتی اقدار کی بنیاد پر جسم کو ڈھانپنے سے روکنا بھی غلط ہے۔ اگر ہم یہ جواز تسلیم کر لیں کہ برقینی یا برقع پرثقافتی اقدار اور ملکی قوانین کی بنیاد پر پابندی درست ہے تو پھر ہمیں برقعے یا پردے کو ریاستی قانون اور ثقافتی اقدار کی بنیادوں پر نافذ کرنے کو بھی درست تسلیم کرنا ہوگا۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ چہرے کے نقاب پر پابندی کا معاملہ مختلف ہے۔ سیکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر یہ پابندی قابل فہم ہے کیوں کہ چہرہ شناخت کی بنیادی اکائی ہے اس لیے حجاب پر پابندی کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

 

2: ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ کیا واقعی مغرب کی ثقافتی اقدار دنیا کے دیگر معاشروں کی اقدار سے برتر ہیں یا یہ کہ انفرادی اور شخصی آزادی کا جو نظم یورپ میں رائج ہے وہ بہترین ہے اور تمام دنیا کو اسے اختیار کر لینا چاہیئے؟ میرے نزدیک شخصی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے اصولوں کا اطلاق ہر ثقافتی اکائی کے ہاں مختلف طرز کا ہوگا۔ یہ لازمی نہیں کہ جس سفر سے عیسائیت یا مغرب گزرے وہی راستہ مسلمانوں کو بھی اختیار کرنا ہوگا۔ یورپی برتری کے حامی افراد اور ممالک کو یہ سوچنا ہو گا کہ شخصی آزادی کا کوئی ایک تصور یا شبیہہ ہی درست یا برتر نہیں۔ ایک مسلمان کو یورپ میں رہتے ہوئے اپنے مذہب کے انفرادی اعمال پر عمل کرنے کی اجازت نہ دینا اتنا ہی غلط ہے جتنا پاکستان میں سرکاری طور پر احمدیوں کو اپنے مذہب پر عملدرآمد سے روکنا ہے۔

 

3: یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پردہ ایک سماجی نظام ہے اور اس کا اظہار صرف لباس کے ذریعے نہیں ہوتا۔ پردے کا تصور بلاشبہ اپنے روایتی اور مذہبی معنوں میں غیر انسانی اور عورت مخالف ہے مگر صرف برقعے یا برقینی کو پردے کا اظہار سمجھ لینا غلط ہے۔ برقعے کا انتخاب ایک سے زائد وجوہ کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے اور بہت سی ایسی خواتین موجود ہیں جو یہ سمجھتی ہیں کہ وہ بغیر کسی دباو کے اپنی مرضی سے برقینی یا جسم کو ڈھانپنے والے لباس کا انتخاب کرتی ہیں۔ پردے کے تصور کے غلط ہونے کے باوجود لباس کے انتخاب کے حق کے تحت عورت کو برقینی یا برقع استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

 

فرانس میں ایک خاتون کو برقینی اتارنے پر مجبور کیا جانا کئی حوالے سے غلط ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اور مسلمانوں سے وابستہ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
4: یورپی ریاستیں سیکولر ضرور ہیں مگر ابھی بھی وہاں لوگ مذہب کو ایک سماجی قدر کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی معاملات کی سرکاری امور سے علیحدگی کے باوجود ان ریاستوں میں عیسائیت یا یہودیت پر عمل کے حوالے سے آسانیاں موجود ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسلام پر عمل کرنے کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کی جا سکتیں؟ سیکولر اقدار اور انفرادی آزادی کا محض یہ مطلب اخذ کر لینا کہ اس کے نتیجے میں ہر فرد مذہب کو غیر اہم سمجھ لے گا یہ ممکن نہیں۔ خصوصاً مسلمان مذہب کو دیگر معاملات سے برتر خیال کرتے ہیں اور کسی بھی ریاستی قانون سے مقدم سمجھتے ہیں۔ ایسے میں کیا مذہبی بنیادوں پر برقع یا پردے کی کسی بھی علامت کا استعمال ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ جو مسلمان اسلام کے سیاسی تصوریا دنیا بھر پر غالب ہونے کے لیے جدوجہد نہیں کر رہے کیا انہیں بھی اپنے مذہب پر عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی؟ ان سوالات پر مزید بحث کی جانی چاہیئے۔

 

5: فرانس میں ایک خاتون کو برقینی نما لباس اتارنے پر مجبور کیا جانا کئی حوالے سے غلط ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمام مسلمانوں کو اور مسلمانوں سے وابستہ ہر معاملے کو ایک ہی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بھی عدم برداشت بڑھی ہے۔ یہ معاملہ اسلاموفوبیا کے بڑھنے کا بھی ثبوت ہے۔ برقینی کسی بھی طرح اسلام کے روایتی پردے کے مترادف نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ ہے جس کی وجہ سے مسلمان عورتوں کے لیے ساحل سمندر پر جانا اور تیراکی کرنا آسان ہوا ہے۔ کیا انفرادی آزادی اور نسائیت کی تحریک کا مقصد یہی نہیں کہ ہر فرد کو سماجی معاملات اور عوامی مقامات پر یکساں رسائی کے مواقع فراہم کیے جائیں؟ یہ واقعہ اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہے کہ یہ مرد سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں رونما ہوا جس سے یہ تاثر پیدا ہوا گویا مرد ایک عورت کو یہ بتا رہے ہیں کہ اسے کیا پہننا چاہیئے۔

 

6: ثقافتی برتری کا یورپی تصور بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا کہ مسلمانوں کے ہاں پایا جانے والا برتر امت کا تصور۔ انسانی مساوات، حقوق اور آزادیوں کے سماجی مظاہر ایک سے زائد شکلوں میں رونما ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ مغرب میں دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت انسانی حقوق، آزادیوں اور مساوات دیگر معاشروں کی نسبت کہیں زیادہ ہیں لیکن اسی وجہ سے مغرب سے ایک زیادہ ذمہ دار ار منصفانہ طرزعمل کی توقع بھی کی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے برقینی کے معاملے میں فرانس کی طرف سے اختیار کیا گیا طرزعمل غلط ہے اور ان اصولوں کے خلاف ہے جن کی بنیاد پر انسانی مساوات، آزادیوں اور حقوق کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

 

محض برقینی پر پابندی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ مسلمان یا اسلام مخالف ہے لیکن یہ معاملہ یورپی ممالک کے لیے ایک امتحان ضرور ہے
7: یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یورپی معاشروں میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو جو آزادیاں حاصل ہیں وہ شاید مسلم اکثریت کے حامل ممالک میں بھی نہیں اور محض برقینی پر پابندی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ یورپ مسلمان یا اسلام مخالف ہے لیکن یہ معاملہ یورپی ممالک کے لیے ایک امتحان ضرور ہے، ان اب اس چیلنج کا سامنا کرنا ہو گا کہ وہ ماضی میں جس طرح نسل پرستی، فسطائیت، ہومو فوبیا اور غلامی جیسے معاملات پر اپنی تصیح کر چکے ہیں اس ضمن میں بھی اپنی اصلاح کریں گے اور دنیا کے سامنے ایک بہتر مثال پیش کریں گے۔

 

8: مسلمانوں کو بھی اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ جمہوریت اور آزادی کو محض اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال نہیں کر رہے بلکہ وہ بھی جمہوریت، سیکولرازم اور لبرل ازم کو درست خیال کرتے ہیں۔ انجم چوہدری کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض مسلمان لبرل اقدار کو استعمال کرتے ہوئے انہی لبرل اقدار اور آزادیوں کے خلاف کام کر رہے ہیں جن کی وجہ سے ان معاشروں کا جمہوری نظام کامیاب ہے



بلوچستان کی سچائی- مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی 'محب وطن' پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔ جس طرح کا نصاب یہاں رائج ہے اور جو اول فول نسیم حجازی جیسے مصنفین اور زید حامد جیسے تجزیہ کاروں نے پڑھ کر پلایا ہے اس کے تناظر میں یہ لا علمی کچھ بہت انہونی بات بھی نہیں ۔ بلوچستن کے بارے میں طاقتور اداروں کی جانب سے جو کچھ بتایا گیا ہے اس کی بنیاد پر کوئی بھی درست رائے کیسے قائم کی جا سکتی ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ نقطہ نظر غلط ہو تو مسئلے کو بحث و مباحثہ کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے مگر اگر حقائق غلط ہوں تو معاملہ بہت پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

 

یوں تو پاکستانی ریاست میں موجود ہر خطے سے ہی 'محب وطن' پاکستانی ناواقف ہیں مگر بلوچستان سے متعلق تو سنگین غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔
بلوچستان کی تاریخ اور موجودہ صورت حال کے حوالے سے اکثر مسخ شدہ حقائق طلبہ کو پڑھائے جاتے ہیں۔ یک عام غلط فہمی تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کا خیال ہے کہ دیگر صوبوں کی طرح بلوچستان کا ذکر بھی قراردادِ پاکستان میں موجود تھا اور 14 اگست 1947 کو ہی بوچستان پاکستان کا حصہ بن گیا۔ بلوچستان کے الحاق سے متعلق پائی جانے والی غلط فہمیوں کی بنیاد پر ہی موجودہ صورت حال کا درست ادراک ممکن نہیں رہا۔ عام پاکستانیوں کے نزدیک عام بلوچ محب وطن پاکستانی ہیں اوربلوچ سردار ہندوستان اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو اس کے سب سے بڑے صوبے سے جدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر بلوچ سردار ایسا کیوں چاہتے ہیں؟ عام پاکستانیوں کے خیال میں وہ اس لئے پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں کیونکہ پاکستان کی ریاست خاص کر فوج وہاں ترقی دیکھنا چاہتی ہے اور جس کے نتیجہ میں وہاں کے عوام باشعور ہوں گے اور سرداری نظام اور اس کے نتیجہ میں جاری استحصال کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔

 

یہ جام اور اس جیسے کئی جام صبح شام ہمارے عوام کو پلائے جاتے ہیں اوروہ بیچارے یہ بھول کر کہ ان کی اپنی حالت ان حکمرانوں نے کیا بنا رکھی ہے، حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر بلوچ سرداروں اور ہندوستان اور امریکہ کو کوستے رہتے ہیں۔ وہ تو اتنے معصوم ہیں کہ اقبال جس نے ہمیشہ pan-Islamism کی بات کی اس ہی کو پاکستان کے نظریاتی معاملات کا حرفِ کل مانتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت دو قومی نظریہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کے حوالے سے دیا گیا تھا اور جناح خود pan-Islamism کے مخالف تھے۔

 

اگر ہم دو قومی نظریہ کو ہی لے لیں جس کی اپنی ساخت بہت کمزور ہے تو بھی بلوچستان پاکستان کی جھولی میں نہیں آنا چاہیئے کیونکہ اس کے مطابق ہندوستان میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہیں جب کہ بلوچستان کا ایک بڑا حصۃ تو کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا۔ میرے بہت سارے دوستوں کا خیال ہے کہ کشمیر اور بلوچستان کا موازنہ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ کشمیر کا معاملہ متنازعہ ہے جبکہ بلوچستان پاکستانی وفاق کا حصہ ہے۔ یوگینا وینا کے ایک مضمون کے مطابق:

 

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

 

دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔
الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

 

کچھ ہی عرصہ میں بلوچستان کے حوالے سے پاکستان کے خیالات میں تبدیلی رونما ہوئی اور خان آف قلات کو مختلف انداز سے دباو میں لانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ خان نے اس دباو سے بچنے کے لئے معاملہ پارلیمان کے حوالے کر دیا۔ 21 فروری 1948 کو دارالعوام نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت میں فیصلہ کیا۔ مارچ میں ان افواہوں کو گرم کیا گیا کہ خاران، لسبیلہ اور مکران نے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا جبکہ 26 مارچ 1948 میں پسنی جیونی اور دیگر سمندری پٹی میں فوج داخل ہو گئی۔ 27 مارچ کو فوج قلات پہنچ گئی اور کراچی میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ خان نے پاکستان میں شامل ہونے کی رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جبکہ یہ معاہدہ بندوق کے زور پر کرایا گیا۔ اگر آپ اس معاہدہ کی صحت کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز بھی کر دیں تو دارالعوام کے فیصلہ کی روح سے بلوچستان نے پاکستان میں شامل ہونے کی مخالفت کر دی تھی اور برطانوی معاہدوں اور دستاویزات کی روح سے بھی بلوچستان کو ایک علیحدہ خودمختار ریاست کا درجہ دیا گیا تھا۔

 

اس کے برعکس اگر کشمیر کے معاملہ پر غور کیا جائے تو وہاں پہلے پاکستان کے قبائلی لشکروں نے چڑھائی کی اور اس ڈر سے کہ کشمیر پر پاکستان کا قبضہ نہ ہو جائے مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ ایک مہاراجہ کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ پورے کشمیر کی عوام کا فیصلہ کرے لیکن اگر اس وجہ سے ہم سب کشمیر کو مقبوضہ کشمیر گردانتے ہیں تو پھر بلوچستان کے حوالے سے ہماری حب الوطنی کیوں جاگ جاتی ہے اور ہم ان کے تاریخی اور قومی حق کو تسلیم کرنے سے کیوں قاصر ہیں؟

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ "ناراض بلوچوں" کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔
یہ ساری باتیں درست مگر ہماری فوج جس نے یہ طے کر لیا ہے کہ افغانستان ہو یا بلوچستان اس کے مسئلوں کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے وہ بھلا غریب بلوچوں کو ظالم و جابر سرداروں کے رحم و کرم پر کیسے چھوڑ سکتی ہے۔ لہٰذا ریاستِ پاکستان نے 90 فیصد سراداروں کو مراعات دے کر خرید لیا اور ان کے لشکروں کو اسلحہ سے لیس کر کے اپنی ہی قوم پر ظلم کرنے کی ذمہ داری پر لگا دیا۔ جو 10 فیصد پاکستان کی مخالفت کرتے ہیں وہ جان بچا کر پاکستان سے باہر بیٹھے ہیں۔

 

دوسری جانب خدائی خدمتگاروں کو بلوچستان کے لوگوں کی اسلام سے دوری بہت کھائی جا رہی تھی۔ بلوچستان کی اکثریت ہے تو مسلمان مگر اسے خودکش دھماکوں میں خاص دلچسپی نہ تھی اور نہ ہی وہ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں خاص دلچسپی لیتے تھے لہٰذا وہاں نہ صرف کوئٹہ شوریٰ کو رکھا گیا بلکہ لشکرِ جھنگوی اور جماعت الدعوۃ یا لشکرِ طیبہ جیسی تنظیموں کے مدرسوں کو متعارف کرایا گیا جن کے ذریعہ اب داعش وغیرہ بھی بلوچستان میں اسلام و جہاد پھیلانے کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔

 

یہ تنظیمیں پاکستان کے لئے دو مونہی والی تلوار کا کام کرتی ہیں کیونکہ ایک طرف تو ان کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ "ناراض بلوچوں" کو راہِ راست پر لا کر جہاد پر لگایا جائے تو دوسری جانب یہ ایران کے خلاف ایک حفاظتی تدبیر کا کام کرتی ہیں۔ آج کل ان ہی تنظیموں کے ذریعے ہزارگنج کو خالی کرانے کے منصوبہ پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو نہ جانے کیوں ہجرت کر کے ایسی سرزمین پر آ گئے جہاں وحشی درندوں نے قبضہ کرنا تھا اور اپنی strategic depth سے سب کا لہو پینا تھا۔

 

سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ آدھا بلوچستان چھاونی بنا ہوا ہے مگر سب سے زیادہ اسمگلنگ آخر اس سرحد سے کیوں ہو رہی ہے؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1952 سے سوئی سے گیس نکلنے کے باوجود ریاست بلوچوں کی حالت بہتر کیوں نہیں کر پائی؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ کوئٹہ جو مکمل چھاونی بنا ہوا ہے وہاں آئے دن اتنی آسانی سے ہزارہ کیوں بے دردی سے قتل ہو جاتے ہیں؟ سوال لیکن یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ کشمیر کو مقبوضہ سمجھتے ہیں تو بلوچستان کو کیوں نہیں؟
خدائی خدمتگار اور وردی والے تو اپنے مفادات کے غلام ہیں مگر آپ کس بنیاد پر حب الوطنی کے خمار میں ظالم کا ساتھ دے رہے ہیں؟



کہانی

کہانی
کہانی-1

 

بھرا شہر اس دن پریشان تھا
چوبداروں کی جاں پر بنی تھی
سپاہی ہراساں تھے
راجا کسی سوچ میں دم بخود تھا
رعایا کے چہروں پر آتے دنوں کی سیاہی کا سایا جما تھا
کہانی مکمل نہیں تھی
وزیروں کے اذہان عاجز تھے
کیسے مکمل کریں اور عنوان کیا دیں
ادھورے کو پورا بھی کرنا کوئی کار آساں نہیں
منادی کرا دی گئ
لفظ و عنواں کوئی ڈھونڈ لاۓ تو انعام پاۓ
مگر وہ کہانی نجانے کہاں کھو گئی ہے
جسے ڈھونڈنے میں بھی صدیوں سے نکلا ہوا ہوں

 

کہانی-2

 

کہانی تونے کتنی دیر کی

 

کہانی تونے کتنی دیر کی
کچھ دیر پہلے
بام و در روشن تھے
آنگن جگمگاتے تھے
سلامت جگنوؤں کی روشنی تھی
تتلیوں کے رنگ قائم تھے
پرندوں کی اڑانیں تک بہت محفوظ تھیں
پیڑوں کی ساری ٹہنیاں آباد تھیں
شہزادے بھی شہزادیاں بھی جاگتی تھیں
استعارے زندگی کے ضو فشاں تھے
اور صبحوں میں بھرا تھا نور سجدوں کا
اگر تو جلد آجاتی
ترا باطن منور
تجھے سیراب کرتے

 

مگر اب خاک میں سب کچھ دبا ہے



دکانداری اور دوسری کہانیاں

دکانداری

 

اس ملک میں ہڑتال کرا دینا معمولی سی بات تھی۔ چھوٹی چھوٹی بات پرہڑتال کرا دی جاتی تھی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں جبراً بندکرائی جاتی تھیں اور اخباروں میں شائع کرایاجاتاتھاکہ ہڑتال دکانداروں کی رضامندی سے ہوئی۔ ملک میں کبھی حکمران جماعت کی طرف سے تو کبھی حزبِ اختلاف کی طرف سے ہڑتال کرائی جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک ہڑتال کے دوران دکانیں زبردستی بندکرانے کے لیے آنے والے سیاسی کارکن سے ایک دکاندار اور وہیں کھڑے ہوئے کچھ مزدوروں نے پوچھا ”بھلا ہڑتال سے کیاحاصل ہوتا ہے۔ سوائے نقصان کے؟“ اس پر اس کارکن نے ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ کہا ”ہڑتال کے دوران ہماری دکانیں کھل جاتی ہیں۔“
"اب کیاکریں اپنی اپنی دکانداری ہے بھائی"۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

عابد

 

"اپنے باس کتنے شریف ہے نا؟ ہمیشہ بیٹابیٹاکہہ کر بات کرتے ہیں۔ بالکل ہی عابد رجحان کے ہیں۔“نوکری میں نئی نئی لگی ایک لڑکی نے اپنے ہی دفتر میں ساتھ میں کام کرنے والی ادھیڑعمر کی عورت سے کہا۔
"ارے تمہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔یہ بڑھؤ ایک نمبرکا ٹھرکی رہاہے۔ اپنی کھوئی ہوئی طاقت اور جوانی واپس پانے کے لیے اس نے کچھ دوائیاں لیں جن کے ری ایکشن سے یہ نامرد ہوگیا۔ تبھی سے یہ سبھی عورتوں کو بیٹابیٹا کہتا ہے۔ ارے اس پر تو چھیڑچھاڑکے کئی مقدمے درج ہیں۔ اس عورت نے عابد کی اصلیت سے اسے واقف کرایا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غیرمحفوظ

 

"کیوں میاں، کافروں کے ساتھ گنیش کے چندے کی رسیدیں کاٹتے گھوم رہے ہو۔ کیاتمہیں معلوم نہیں کہ اسلام میں بت پرستی کی مناہی ہے؟"
"جناب، میں تواس پر صرف اتناہی کہوں گا کہ جان ہے توجہان ہے۔"

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تماشائی
تیزقدموں سے آفس جاتے ہوئے میرے قدم ایک جگہ لگی بھیڑ کودیکھ کر رک گئے۔ میں نے دیکھا کہ دوآدمی ایک دوسرے کاکالر پکڑے آپس میں گالی گلوچ کرتے ہوئے لڑرہے تھے۔
اور لوگوں کی طرح میں بھی رک کر انہیں دیکھنے لگا، اور ان کے بیچ جھگڑابڑھنے کاانتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیربعد مجھے لگنے لگاکہ یقینی طور پر دونوں میں سے کوئی ایک چاقو نکالے گا، یا ہو سکتا ہے پستول ہی نکال لیں۔ اگر ایسے حالات بنے تومیں کیاکروں گا۔ کیاان میں صلح کرانے کی کوشش کروں گا، یاتیزی سے بھاگ لوں گا۔ میں یہ سب سوچ ہی رہاتھاکہ دونوں نے ایک دوسرے کا کالر چھوڑ دیا اور ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہوئے اپنے اپنے راستے چلے گئے۔ تماش بینوں کی بھیڑبھی چھٹ گئی۔ میں بھی بڑبڑاتے ہوئے نکلا: "سالے ہجڑوں کولڑنے کابھی شعورنہیں ہے۔ پھوکٹ میں ٹائم برباد کردیاجبکہ مجھے آج آفس جلدی پہنچنا تھا"۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بازار

 

"ابھی توبازارمیں ٹماٹر اتنے سستے ہیں کہ ایک روپے کلو، یاروپے میں دوکلو تک مل رہے ہیں اور تم یہ سو گرام ٹماٹر سوپ کے پاؤچ کاپیکٹ52روپے میں خرید لائے ہو۔ بیوقوف کہیں کے"
"اس میں بیوقوفی والی کیابات ہے؟ ہم اسے تب پئیں گے جب بازارمیں ٹماٹر کی قیمتیں آسمان چھونے لگے گی۔"



لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں
جب سب مرد و زن مار دیے گئے
اعضاء بکھرے ہوئے تھے
بے ترتیبی سے
ہاتھ بازوؤں سے الگ
اور پاؤں ٹانگوں سے
سر تن سے جدا
دل سینے سے
اور آنتیں پیٹ سے باہر
شرم گاہیں کُھلی ہوئی
اور ذکور کٹے ہوئے

 

جب سب مار دیے گئے
جسموں کے ٹکڑے اکٹھے کیے گئے
گنتی کے لیے
لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے!!

Image: Vann Nath




پی ٹی وی پر حملے سے اے آر وائی پر حملے تک

ذرا 2014 کے ان دنوں کو یاد کیجیے جب 'شرپسند' پی ٹی وی کی عمارت پر چڑھ دوڑے تھے اور ذرا اے آر وائی ٹی وی پر حملے کا بھی جائزہ لیجیے۔ یہ دونوں حملے قابلِ مذمت ہیں، صحافت اور سیاست کی حرمت کے خلاف ہیں مگر ذرائع ابلاغ ان دونوں حملوں پر ایک بالکل مختلف موقف اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹی وی اینکروں نے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کو انقلابی اور اے آر وائی پر حملہ کرنے والوں کو غدار قرار دیا ہے۔ یہ فرق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا فرق نہیں بلکہ یہ فرق ہے کہ کون خاکی وردی والوں کا محبوب ہے اور کون نہیں۔ کس کے پیچھے چار ستارہ جرنیل ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ یہ فرق ہے ریاست کے طاقتور عسکری اداروں کی جانب سے شرپسند کی تعریف کا۔ یہاں شرپسند وہ ہیں جن سے عسکری ادارے کام لے چکے ہیں اور اب انہیں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن کیا شرپسند صرف وہی ہیں جنہیں عسکری ادارے شرپسند قرار دیں کیا کوئی ہے جو یہ فیصلہ کر سکے کہ وہ جو منتخب حکومتوں کا تختہ الٹتے ہیں، اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، آئین کو ٹھوکر مار کر اپنے راستے صاف کرتے ہیں وہ بھی شرپسند ہیں یا نہیں؟

 

پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔
یہ دو حملے سول عملداری پر ایک اور عسکری فتح کی کہانی بھی ہیں۔ پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔ یہ دونوں حملے دو مختلف رحجانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک حملہ طاقتور اداروں کے چہیتوں نے کیا اور ایک حملہ عسکری اداروں کے زیرِ عتاب آنے والوں نے۔ عسکری ادارے ایم کیو ایم کو ایک عبرتنک مثال بنانا چاہتے ہیں حالانکہ ایم کیو ایم کی سرپرستی بھی انہی طقتور اداروں نے کی۔ سیسی جماعتوں کے لیے یہ یک اچھا سبق ہے کہ فوج کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی ان کے نزدیک سیاست دان اور سیاسی جماعتیں محض ٹش پیپر ہیں اور یہ بات نواز شریف صاحب کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے۔

 

ہمیں 12 مئی کو یاد رکھنا چاہیئے کیوں کہ فوجی آمر اپنے اقتدار کی خاطر قتل عام سے بھی درگزر کر سکتے ہیں۔ وہی جماعت جو ایک وقت میں ایک فوجی آمر کی اتحادی تھی تب مقدمات بھی ختم کر دیے گئے اور لوگ رہا بھی کر دیے گئے؟ ہمیں آج کی فوجی قیادت سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ اگر ایم کیو ایم کراچی میں تشدد کی ذمہ دار ہے تو کیا اس وقت کا وہ فوجی آمر ذمہ دار نہیں اس جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں کا؟ مگر کس میں ہمت ہے کہ وہ کہہ سکے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو ان کے سرپرست اور مربی سابق جرنیلوں کو بھی کٹہرے میں لائیے۔ کوئی ہے جو یہ مطالبہ کرے کہ بھائی تحریک طالبان کے سرپرست تو ہمارے خاکی بھائی تھے ان کا محاسبہ کون کرے گا؟ ہمارے خاکیوں کا جب جی چاہتا ہے جیسے جی چاہتا ہے یہ دہشت گرد اور شرپسند کی تعریف متعین کر کے کسی کے بھی خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔ کیا کسی نے زحمت کی کہ وہ کسی عدالت سے رجوع کرے، کوئی مقدمہ درج کرائے، کوئی قانونی کارروائی کر لے اور پھر متحدہ کے دفاتر پر چھاپے مارنے یا گرفتاریوں کا فیصلہ کیا جائے؟

 

ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں
یہ کیسا قاعدہ اور قانون ہے کہ اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، گرفتاریاں نہیں ہوتیں مگر متحدہ کے کارکنان کو بغیر کی عدالتی کارروائی کے حراست میں بھی لیا جاتا ہے اور دفاتر بھی بند کیے جاتے ہیں۔ سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور حکومت گرانے کی باتیں کرنے والوں کو فوجی سربراہ سے ملاقات کے لیے بلایا جاتا ہے مگر جو تین برس سے غیر قانونی حراستوں اور لاپتہ کارکنان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان کے دفاتر فتح کیے جا رہے ہیں۔

 

یہ ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے ہندوستان سے روابط ثابت ہو جائیں، تشدد میں ملوث کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے، الطاف حسین کے بینات کی مذمت بھی کی جانی چاہیئے مگر قانون کی کارروائی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیئے۔ خاکی وردی والوں کا بھی محاسبہ ضروری ہے جو قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، جو منتخب حکومتوں کے مینڈیٹ کی پرواہ کیے بغیر پارلیمان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور جن کی تحویل سے سیاسی کارکن مسخ شدہ لاشیں بن کر نکلتے ہیں، جو سیاسی جماعتوں کو ڈرا دھمکا کر توڑتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔



میرواہ کی راتیں- قسط نمبر 1

رفاقت حیات کے ناول 'میر واہ کی راتیں' کی دیگر اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
آج کی رات اس کی بے کارر زندگی کی گزشتہ تمام راتوں سے بے حد مختلف تھی، شاید اسی لیے نیند اس کی آنکھوں سے پھسل کر رات کے گھپ اندھیرے میں کہیں گم ہو گئی تھی، مگر وہ اسے تلاش کرنے کی بے سود کوشش کر رہا تھا کیونکہ وہ گہری نیند سو کر خود کو اگلی شب کے رت جگے کے لیے تیار کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دماغ میں چلنے والے خیالات کے تیز جھکّڑوں اور ان سے اٹھنے والے سرکش بگولوں کی وجہ سے آج رات اس کے لیے پلک جھپکنا دشوار تھا اور آنکھیں موند کر سونا بالکل ناممکن۔ وہ محرابوں والے برآمدے میں چھت کی سیڑھیوں کے قریب چارپائی پر رضائی اوڑھے لیٹا ہوا رات گزارنے کی ترکیب ڈھونڈ رہا تھا۔ کوئی ترکیب سجھائی نہ دینے پر وہ اٹھ بیٹھا اور اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنے تکیے کے نیچے سے ایک بوسیدہ اور مڑے تڑے صفحات والا رسالہ نکالا اور کئی مرتبہ کی پڑھی ہوئی کہانیوں پر نظرڈالنے لگا۔ اسے ’مومل رانا‘ کی کہانی بے حد پسند تھی مگر آج اپنی پسندیدہ کہانی پڑھتے ہوے نجانے کیوں اس کے سر میں درد ہونے لگا۔ باریک لفظوں کی سطریں جو کاغذ کی سطح پر قطار باندھے کھڑی تھیں، دھیرے دھیرے بکھرنے لگیں۔ باریک لفظ موقلم بن کر کاغذ کی سطح پر ایک خاکہ بنانے لگے۔ خاکہ مبہم اور غیرواضح تھا، مگر غور کرنے پرکسی عورت کی پشت معلوم ہوتا تھا۔ عورت کا خیال آتے ہی وہ خاکے پر اور زیادہ غور کرنے لگا، مگر یہ کیا؟ اچانک تمام لفظ کاغذ کی سطح سے یکسر غائب ہو گئے، اور ان کے ساتھ ہی لفظوں سے بنا وہ مبہم سا خاکہ بھی غائب ہو گیا۔ وہ حیرت سے رسالے کے اوراق پلٹنے لگا۔ رسالے کے تمام اوراق لفظوں سے یکسر خالی ہو چکے تھے۔ کسی بھی صفحے پر نہ تو کہانی کا عنوان لکھا نظر آ رہا تھا اور نہ ہی کہانی کی عبارت۔ سارے کے سارے کاغذ کورے نظر آ رہے تھے۔ اسے ایک لمحے کے لیے محسوس ہوا کہ وہ اس وقت مومل کے کاک محل میں موجود ہے۔ اس نے بلاتردد رسالے کو اس کی جگہ واپس رکھ دیا اور تکیے پر اپنا سر رکھ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور رضائی کو اپنے آدھے جسم پر اوڑھ لیا۔ اس نے کئی مرتبہ آنکھیں زور سے میچ کر نیند کے خمار کو اپنے ذہن پر طاری کرنے کی کوشش کی مگر ہر مرتبہ اس کے ذہن نے اس دھوکے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یکے بعد دیگرے کروٹیں لینے کے بعد وہ ایک بار پھر سیدھا ہو کرلیٹ گیا۔

 

تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔
اس کی آنکھیں خودبخود محرابوں والے برآمدے کی اونچی چھت پر بھٹکنے لگیں۔ بے ضرورت اور بے سبب وہ چھت کی کڑیاں گننے لگا۔ اس نے پہلے دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں چھت کی کڑیوں کو شمار کیا مگر دونوں مرتبہ ان کی تعداد اکیس ہی نکلی۔ اکیس بظاہر تو گنتی کا سیدھا سادہ عدد ہے مگر اس کا خودسری پر آمادہ ذہن اس عدد سے کوئی خاص مطلب برآمد کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے اس نے اکیس کے دو اور ایک کو آپس میں جمع کر دیا اور اس کے حاصل جمع تین پر خوامخواہ غور کرنے لگا۔ یہ سادہ سا عدد اس کے ذہن کو اقلیدس کے مسئلے کی طرح پیچیدہ معلوم ہو رہا تھا۔اُس کے لئے دو کا عدد اُس پیچیدگی کا حامل نہیں تھا جو پیچیدگی اسے تین کے عدد میں پنہاں محسوس ہو رہی تھی۔ تین یعنی تیسرا کئی شکوک کو جنم دیتا تھا، شاید اسی مشکوک تیسرے کو مومل کے پہلو میں سویا ہوا دیکھ کر رانا کاک محل چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا گیا تھا۔ وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ مومل نے محض اس کے حاسدانہ جذبے کو انگیخت کرنے اور اس سے تفریح لینے کے لیے اپنی چھوٹی بہن سومل کو رانا کا روپ دیا ہوا تھا۔

 

مگر نذیر رانا مہندر سنگھ سوڈو نہیں تھا۔ وہ بہت دیر سے محرابوں والے برآمدے سے ملحقہ کمرے سے سنائی دینے والی عورت اور مرد کی دھیمی دھیمی اور مبہم سرگوشیاں سن رہا تھا۔ ان سرگوشیوں کے مختلف اتارچڑھاؤ محسوس کرتے ہوئے، جن میں بعض اوقات دبی دبی ہنسی اورگھٹا گھٹا سا قہقہہ بھی شامل ہوتا تھا، وہ حاسدانہ مخاصمت محسوس کر رہا تھا۔ اس نے ان کی سرگوشیوں میں چھپی باتوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔ وہ جتنی زیادہ کوشش کرتا اتنا ہی زیادہ رقابت کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا۔ حسد اور رقابت کے جذبات نے اس کے رگ و پے میں عجیب سنسنی اور گرمی سی پیدا کر دی۔ وہ رضائی اتارنے پر مجبور ہو گیا۔ کچھ دیر بعد کمرے سے سرگوشیاں سنائی دینی بند ہو گئیں، شاید وہ دونوں اب سو گئے تھے۔
وہ کھاٹ سے اْتر کر صحن کے ٹھنڈے فرش پر ننگے پاؤں چلنے لگا۔ اس کے رگ وپے میں دوڑنے والی گرمی دھیرے دھیرے ختم ہو نے لگی مگر ایک عجیب سی سنسنی اب بھی باقی تھی۔ اس کی زندگی میں ایسی مضطرب اور اذیت بھری رات پہلے نہیں آئی تھی۔ اسے توقع تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت اور لذیذ واقعہ صرف ایک رات کی مسافت پر تھا مگر اس کے درمیان حائل آج کی رات کسی طور کٹنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ اس نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوے آسمان پر ٹمٹماتے ہوے ستاروں کی ماند پڑتی روشنی کو دیکھا۔ آج آسمان پر چاند کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ آئندہ شب پیش آنے والی مہم جوئی کے متعلق آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے خیال آیا کہ آئندہ شب وہ کوئی کارِخیر انجام دینے تھوڑا ہی جا رہا ہے کہ وہ آسمان سے مدد کی درخواست کرے۔ ایسی درخواست کرنے کی صورت میں آئندہ شب اسے کسی افتاد کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا تھا۔ اس نے فوراً یہ خیال ترک کر دیا۔

 

صحن میں ٹہلتے ہوے اسے کسی کونے سے دھیمی سی شونکار سنائی دی۔ اسے فوراً یاد آیا کہ اس پرانے مکان میں اکثر رات کی خنکی میں سانپ اور بچھو اپنے اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں۔ وہ فوراً کھاٹ پر جا لیٹا اور ایک بار پھر نیند کی پری کو گرفت میں لینے کی کوشش کرنے لگا۔ اسی کوشش کے دوران کروٹیں لیتے ہوئے اسے نیند آ گئی۔آخر کار نیند کی پری اس پر مہربان ہو گئی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

نذیر اس کے جانے کے بعد بھی اس کی خوشبو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہو گیا تھا۔
صبح وہ رضائی میں سمٹا ہوا سو رہا تھاکہ ایک گنگناتی ہوئی نسوانی آواز نے اس کا نام پکارا۔ اس کی جانب سے کوئی جواب نہ پا کر وہ اس کے قریب چلی آئی اور اس کے چہرے سے رضائی ہٹا کر چند ثانیوں کے لئے اس کے سوئے ہوے چہرے کو دیکھتی رہی، پھر اپنے ٹھنڈے ٹھنڈے نرم ہاتھ سے اس نے اس کی پیشانی کو چھوا تو وہ فوراً جاگ گیا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیرحیرت سے چاچی خیرالنسا کو غیر متوقع طور پر اپنے نزدیک دیکھنے لگا۔

 

"نذیر، اب اْٹھ جا۔" یہ کہہ کر اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔

 

اس کا حکم سننے کے باوجودوہ بستر سے نہیں اْٹھا اور اس نے اپنے ہونٹوں سے بھی کچھ نہیں کہا۔ وہ حیران تھا کہ آج صبح چاچی خیرالنسا اسے پہلے سے زیادہ حسین اور پرکشش کیوں محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے سوچا۔ شاید اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے نرم لمس کی وجہ سے وہ اس کے لیے یک دم پہلے سے زیادہ حسین ہو گئی تھی۔

 

چاچی ایک عجیب ندامت میں لپٹی ہوئی اس کی کھاٹ کے پاس کھڑی تھی۔ اس کا لباس شکن آلود تھا اور اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر نیند کی سوگواری تھی۔ یکایک اس نے اپنے سینے سے چادر ہٹائی اور اپنے دونوں ہاتھوں سے پھیلا کراسے دوبارہ اپنے جسم پر تانا اورغسل خانے کی طرف چلی گئی۔

 

نذیر اس کے جانے کے بعد بھی اس کی خوشبو محسوس کرتا رہا۔ اس کے ہاتھ کا نرم گرم لمس اس کی پیشانی میں جذب ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد اسے غسل خانے کے فرش پر پانی گرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ وہ کھاٹ پر لیٹے لیٹے پانی گرنے کی آواز سن کرکسمساتا رہا۔ اس کا جی چاہا کہ وہ اسی لمحے بھاگ کر غسل خانے میں جا گھسے اور ٹاٹ کا پردہ ہٹا کر چاچی کو بے لباس دیکھ لے، جسے وہ لباس میں کئی مرتبہ عریاں دیکھ چکا تھا۔ اس نے اپنے تصور میں ہینڈپمپ کے پانی کی دھار کے نیچے سمٹے اس کے جسم کو دیکھا اور ٹھنڈی سانس بھر کے رہ گیا۔ اس نے اپنے جسم سے رضائی ہٹا دی اور صحن کے ساتھ واقع خالی احاطے کی طرف دیکھنے لگا۔ وہاں ابھی تک شب کی تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔

 

جب وہ ٹھٹھرتی ہوئی غسل خانے سے باہر آئی تو نذیر اسے ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکا۔ اس نے اس کے بدن سے اٹھتی صابن کی مہک اور اس کے جسم کے گیلے پن کو محسوس کیا۔ وہ اپنے سامنے کھڑی بھرپور اور پرکشش عورت کو، اس کی نظروں کے سامنے، غور سے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ یہ اس کی فطری کم ہمتی تھی یا بزدلی۔ وہ ایسے موقعے کی تلاش میں تھا جب وہ اس کی جانب سے توجہ ہٹا کر کسی اور طرف دیکھنے لگے، مگر وہ اسی کی طرف دیکھتی ہوئی تولیے سے اپنے بال سکھانے لگی۔
"اندر نلکے کا پانی کوسا کوسا اے۔ اْٹھ، تْو بھی نہا لے۔ نماز تو ویسے بھی قضا ہو چکی ہے۔" وہ نذیر کو مکمل طور پر مایوس کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔

 

وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبہ کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔ اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکایک مرجھا گئی ہیں۔
نذیر نے جماہی لی اور چپلیں پہن کر غسل خانے کی طرف چلا گیا۔ اندر آ کر وہ گیلے فرش اور بھیگی ہوئی دیواروں کو دیکھنے لگا۔ معاً اس کی نظر کیل میں اٹکے ہوئے بلاؤز کی طرف اٹھی تو اس کی رگوں میں سنسنی پھیل گئی۔ اس نے پردہ ہٹا کر باہر دیکھا، کوئی اس طرف تو نہیں آ رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے کیل سے بلاؤزاْتار لیا اور اسے آنکھوں کے قریب لا کر دیکھنے لگا۔ وہ گلابی ریشمی کپڑے سے بنا ہوا اور ہاتھ سے سِلا ہوا بلاؤز تھا۔ وہ انگلیوں سے اسے ٹٹولنے لگا۔ بلاؤز کو دیکھنا اور چھونا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ اس کے کناروں پر ہلکی سی گرد جمی ہوئی تھی اور کہیں کہیں اکادکا بال بھی اٹکے ہوے تھے۔ ان جزئیات کودیکھتے ہوئے وہ خود کو کسی عورت کے قرب میں محسوس کرنے لگا۔ وصل کی سرشاری جیسی سرشاری اس پر طاری ہونے لگی۔ اس نے بلاؤز کو اپنی آنکھوں کے قریب سے ہٹایا اور دوبارہ وہیں کیل پر لٹکا دیا۔

 

اس نے کچھ دیر ہینڈپمپ چلایا۔ جب اس میں سے کوسا پانی نکلنے لگا تو اس نے اپنی قمیض اْتار کر اسی کیل پر لٹکا دی۔ اب وہ اپنے سینے اور اپنے بازوؤں کا معائنہ کرنے لگا۔ اسے ان کی سپیدی اور نرمی اچھی لگی۔ اپنی چھاتی پر ابھرے نوخیز بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اس کا ذہن ایک بار پھر چاچی خیرالنسا کے لذیذ تصورمیں گم ہو گیا۔ اس کے بارے میں سوچتے ہوئے اسے اپنی کم مایگی اور ناتجربہ کاری کا احساس ہونے لگا۔

 

جب وہ اپنی شلوار اتارنے لگا تو وہاں اسے ایک گدلاسا دھبا دکھائی دیا۔ دھبا دیکھتے ہی وہ اسے مسلتے ہوے اپنے دانت کچکچانے لگا۔

 

"آج یہ نہیں ہونا چاہیے تھا،" وہ جھلاہٹ سے بڑبڑایا۔

 

وہ خود کو کمزور و ناتواں محسوس کرنے لگا، جیسے وہ دھبہ کسی جان لیوا مرض کی علامت ہو۔ اسے لگا کہ اس کے بدن سے تمام قوت نکل گئی ہے اور اس کی تمام خواہشیں یکایک مرجھا گئی ہیں۔ آج کی رات، وہ جس کا انتظار شدید بیتابی کے ساتھ کرتا رہا تھا، اب زیادہ مسافت پر نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ ذرا دیر کے لیے اس کی آنکھ کیا لگی، نیند کی پری اس کی جان ہی نکال کر لے گئی۔ شاید اس نے کوئی خواب دیکھا تھا اور خواب میں کوئی عورت۔۔۔۔ مگر وہ عورت کون تھی؟ کیسی تھی؟ وہ اپنے ذہن کو ٹٹولتا رہا مگر اسے مطلق یاد نہیں آ سکا۔ خواب میں آنے والی عورت نہ تو چاچی خیرالنسا تھی اور نہ ہی رانا مہندر سنگھ سوڈو کی چہیتی مومل۔ سوچتے سوچتے وہ زچ ہو گیا۔ اِس نے افسردگی سے اپنی ٹانگوں کی طرف دیکھا تو وہ اسے سوکھی سڑی محسوس ہوئیں۔

 

بہ مشکل وہ اپنے ذہن سے تمام خیالات جھٹک کر ہینڈپمپ چلا کر غسل کرنے لگا۔ غسل کے بعد وہ اپنی شلوار پر چپکے ہوئے دھبے کوصابن سے رگڑ رگڑ کر دھونے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس نے دھبے کو شلوار سے مٹا ڈالا کیونکہ اسے نماز بھی تو پڑھنی تھی۔ نذیر نادانستہ سرزد ہونے والے عمل پر نادم تھا اس لیے وہ غسل خانے سے نکل کر بھی خود کو ملامت کرتا رہا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ نئے دن کا آغاز کسی بدشگونی سے ہو، مگر اس کی خواہش کے برخلاف بد شگونی رونما ہو چکی تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ آج رات اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا تھا۔ اس کی توقع کی تکمیل ہونی تھی یا اس کی امیدوں کو ملیامیٹ ہونا تھا۔

 

جب تک اس کی شلوار سوکھ نہیں گئی وہ بار بار اپنی شلوار کو دیکھتا رہا۔ اطمینان کر لینے کے بعد اس نے تکیے کے نیچے پڑا ہوا رومال اْٹھایا اور اسے اپنے سر پر باندھ لیا۔

 

اسے چاچی صحن اور برآمدے میں نظر نہیں آئی تو وہ دروازے سے اس کے کمرے کے نیم تاریک ماحول میں جھانکنے لگا۔ وہاں چاچی اسے نماز پڑھتی نظر آئی، جبکہ غفور چاچا اپنی چارپائی پرابھی تک گہری نیند سویا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کر وہ مڑا، اورپچھلے دروازے کی طرف چلا گیا جو پیچھے والی گلی کی طرف نکلتا تھا۔

 

گلی میں صبح کی دھندلی سی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مکانوں کے دروازوں اور کھمبوں پر جلتے بجلی کے بلب صبح کی پھیلتی روشنی کے سبب اپنی چمک کھوتے جا رہے تھے۔ وہ گلی کے پختہ اینٹوں سے بنے فرش پر چلتا رہا۔ اچٹتی ہوئی نیند کے دوران دکھائی دینے والا خواب تو اسے بھول چکا تھا، مگر اس خواب کے دوران ملنے والی لذت کی ہلکی سی رمق اس کے ذہن کے کسی گوشے میں اب بھی موجود تھی۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا سوچتا رک گیا۔ ایک بار پھر وہ اپنی شلوار کو ٹٹول کر دوبارہ چل پڑا۔

 

اب روشنی خاصی پھیل چکی تھی۔ ابھی وہ مسجد سے کافی فاصلے پر تھا کہ اسے نمازی مسجد سے باہر نکلتے دکھائی دیے۔ فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔ وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آ گیا تاکہ چاچی کے پوچھنے پر اْسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔

 

فجر کی نماز پڑھی جا چکی تھی۔ وہ قصبے کی دو چار گلیاں گھوم کر واپس آ گیا تاکہ چاچی کے پوچھنے پر اْسے بتا سکے کہ وہ نماز پڑھ کر آیا ہے۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو اسے باورچی خانے کی سمت سے آنکھوں میں چبھنے والا گاڑھا دھواں سارے گھر میں پھیلتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتا باورچی خانے میں چلا گیا۔ یہاں صرف دھواں ہی دھواں بھرا نظر آتا تھا۔ نذیر کی آنکھوں سے فوراً پانی بہنے لگا۔ بہت غور کرنے کے بعد اسے بہ مشکل چولھے کی آگ نظر آ سکی۔ وہ اپنے پیروں سے زمین ٹٹول کر چلتا ہوا چولھے کے پاس پہنچا تو اسے چاچی کی ناک اور آنکھوں سے بہتا ہوا پانی دکھائی دیا۔ وہ سمجھ گیا کہ ٹال والے نے ایک مرتبہ پھر گیلی لکڑیاں بھیج دی ہیں۔ اس نے دھونکنی اٹھائی اور اس کی مدد سے کچھ دیر تک پھونکیں مارتا رہا۔ اس عمل سے چولھے میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھونکنی ایک طرف رکھ کر وہ گیلی لکڑیوں کو چولھے سے نکالنے لگا، جس سے آہستہ آہستہ باورچی خانے میں بھرا ہوا دھواں باہر نکلنے لگا اور دھویں کی چبھن بھی دھیرے دھیرے ختم ہونے لگی۔ اس نے چاچی خیرالنسا کی طرف دیکھا۔ وہ ڈوپٹے سے اپنی ناک اور آنکھیں پونچھ رہی تھی اور اس کا سفید چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ چولھے میں جلتی آگ اس کے چہرے کی تابانی میں اضافہ کر رہی تھی۔ وہ کھنکار کر گلا صاف کرتی ہوئی کہنے لگی، "تیرے چاچے کی طبیعت آج خراب ہے۔"

 

اس نے تجسس سے پوچھا، "کیا ہوا؟"

 

"میرا خیال ہے اسے سردی لگ گئی ہے"۔ وہ اپنے ڈوپٹے کی مدد سے چائے کی دیگچی اْتارتے ہوے بولی۔

 

"چاچے کو سردی کیسے لگ گئی؟ وہ تو کل رات کہیں باہر گیا ہی نہیں تھا۔" وہ اپنے سوالوں میں چھپی حیرت کو چاچی سے پنہاں نہ رکھ سکا۔ اس کی حیرانی کو بھانپ کر چاچی نے جواب دینے کے بجائے اپنا سر جھکا لیا۔

 

اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ نذیر کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔ اس کے بعد اس نے اپنی چادر کو سینے پر پھیلا لیا۔ کچھ دیر بعد کھانستا ہوا چاچا غفور سر سے پاؤں تک کھیس میں لپٹا ہوا باورچی خانے کی کوٹھڑی میں داخل ہوا۔

 

اسے دیکھ کرنذیر فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے اپنی چوکی چاچے کو پیش کر دی اور خود زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔

 

اس سے پہلے کہ وہ اپنی کرید میں مزید کچھ پوچھتا، اسے چاچے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ کھانسی کی آواز سنتے ہی وہ نذیر کی موجودگی سے غافل ہو گئی اور اپنے لباس کی شکنیں درست کرنے لگی۔
"جیتے رہو،" چاچا نقاہت سے بولا۔ اس نے اپنے سر سے کھیس اْتار لیا۔ شیو نہ کرنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر سفید داڑھی نکل آئی تھی۔ گالوں کی ہڈیاں نمایاں تھیں اور آنکھیں اندر دھنس گئی تھیں۔ وہ ہانپ رہا تھا، جیسے اپنی سانسوں پر اسے کوئی اختیارنہ رہا ہو۔ چاچی نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا۔

 

" کمرے سے کیوں نکل آئے؟ میں چائے وہیں لے آتی۔ اگر ٹھنڈ لگ گئی تو؟" اس نے منھ بسورتے ہوئے شکایت کی۔
"میں نے سوچا آگ کے پاس بیٹھوں گا تو سردی کم لگے گی، اس لیے یہاں آ گیا،" وہ لفظوں پر زور دیتے ہوئے بہ دقت بولا اور دھیرے سے مسکرا کر اپنی بیوی کی طرف دیکھنے لگا۔

 

چاچی نے اس کی مسکراہٹ نظرانداز کرتے ہوے نظریں جھکا لیں اور دیگچی اْلٹا کر تام چینی کے پیالوں میں چائے انڈیلنے لگی۔

 

"پْٹر نذیر! آج میں دکان نہیں جاؤں گا۔ مجھے سردی لگ رہی ہے اور بدن میں کپکپاہٹ سی بھی ہے۔ تْو سویرے ہی دکان پر چلا جا اور دکان کھول لے۔ حاجی اللہ بخش کو بھریاروڈ جانا ہے۔ میں اس کے جوڑے کل ہی سی کر آیا تھا۔ تو اس سے پیسے لے لینا۔ اور ہاں، کل ماسٹر طفیل کے بیٹے کی شادی ہے۔ وہ بھی شام کو اپنے کپڑے لینے آئے گا۔ کوئی اگر میرا پوچھے تو کہنا کہ بخار چڑھا ہے۔ کل ضرور دکان آؤں گا۔" باتیں کرتے ہوے چاچے کی سانس پھول گئی اور وہ مزید بول نہیں سکا۔
نذیر چائے کی چسکیاں لیتے ہوے بے دھیانی سے سنتا، ہوں ہاں کرتا رہا۔

 

چاچی خیرالنسا پریشان لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھیں چولھے میں راکھ ہوتے اور بجھتے ہوے انگاروں پر جمی تھیں۔

 

کچھ دیر بعد چاچا غفور نذیر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا، "سلائی مشین پر تیرا ہاتھ صاف ہو گیا ہے۔ اب میری دکان تیرے حوالے۔" نذیر نے اثبات میں سر ہلایا۔ یہ بات سن کر چاچی زیرلب مسکرائی۔ اس نے تیکھی نظروں سے بھتیجے کو دیکھا اور اپنا نچلا ہونٹ کاٹنے لگی۔

 

چاچے غفور کی بات سن کر وہ نجانے کیوں ندامت محسوس کر رہا تھا۔ اپنے کندھے پر اس کا کمزور و ناتواں ہاتھ اسے بھاری بھرکم محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دل ہی دل میں خود کو چاچے کے اس اعتماد کا مستحق نہیں سمجھتا تھا۔ اپنے ناکردہ گناہوں کا بوجھ اٹھائے وہ چاچی کی طرف دیکھنا چاہتا تھا مگر نہیں دیکھ سکا۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ باورچی خانے سے باہر نکلا۔ معمول کے مطابق اس نے کمرے سے چارپائی نکال کر صحن کی دھوپ میں بچھائی، پھرچاچے کو سہارا دے کرباورچی خانے سے نکالا اور صحن میں چارپائی پر لٹا دیا۔ آنکھیں مچمچاتا، بہ دقت سانس لیتا چاچا غفور اس لمحے اسے بچے کی طرح معصوم دکھائی دیا۔

 

نہ جانے کیوں نذیر نے ارادہ باندھا کہ وہ آئندہ کبھی چاچی کو ایک نظر نہیں دیکھے گا۔

 

وہ چاچے کے پائینتی بیٹھ گیا اور اس کی ٹانگیں دبانے لگا۔

 

نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچ معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔ اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔ اس کی بھاری اور گونج دار آواز ہی اس کے لیے چاچے کے مکمل وجود کا درجہ رکھتی تھی، جو سننے والے کو محکوم بنا دیتی تھی۔ اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ پاٹ دار آواز رکھنے والا شخص درحقیقت اس قدر کمزور بھی ہو سکتا تھا۔

 

نذیر کو وہ ہڈیوں کا ڈھانچ معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے کبھی چاچے کی جسمانی حالت پر غور نہیں کیا تھا۔ اس نے کبھی اس کی آنکھوں میں بھی نہیں جھانکا تھا۔ اب تک وہ صرف اس کی آواز سنتا رہا تھا۔
چاچی خیرالنسا نذیر کے ناشتے کے لیے دیسی گھی سے بنے پراٹھے پر ساگ اور مکھن رکھ کر لے آئی۔ رکابی لیتے ہوے اس نے چاچی کی انگلیوں کے لمس کو اپنی ہتھیلی پر محسوس کیا۔ اس نے جھجکتے ہوئے چاچی کے چہرے کی طرف دیکھا تو کچھ پریشان ہو گیا۔ وہ اپنی آنکھوں میں پوشیدہ جذبے کی چمک لیے اب بھی زیرلب مسکرا رہی تھی۔ اس نے جلدی سے رکابی تھام لی اور فوراً اٹھ کر دوسری چارپائی پر جا بیٹھا۔ وہ چارپائی کی ادوائن کے سوراخوں سے سرخ اینٹوں کے فرش کو دیکھتے ہوے نوالے چباتا رہا۔ اس دوران وہ اپنے آپ کو جبراً چاچی کی طرف دیکھنے سے روکتا رہا۔ وہ اپنے شوہر سے دوچار باتیں کر کے اس کی چارپائی پر آ بیٹھی۔ نذیر نے اس کی آنکھوں کو خود پر گھومتے ہوئے محسوس کیا تو نوالے چباتے ہوئے اس کی زبان دانتوں کے نیچے آنے لگی، جس کی وجہ سے لذیذ ساگ اور پراٹھے کا مزہ خراب ہو گیا۔

 

اس نے نذیر سے کوئی بات نہیں کی، بس اپنی آنکھوں کے کونوں سے شریر انداز میں اسے دیکھتی رہی اور اسے دیکھتے ہوے اپنی چادر کے کونے کو شہادت کی انگلی پر لپیٹتی رہی۔ وہ بار بار اپنے دانتوں سے اپنے نچلے ہونٹ کو دبا رہی تھی۔ ایسے میں سانسوں کے زیروبم سے اس کا سینہ دھیرے دھیرے لرز رہا تھا۔

 

چاچا غفور اپنی چارپائی پر بیماری کے زیراثر غافل لیٹا ہوا تھا۔ وہ لاچاری سے ٹھنڈی سانس بھرتی ہوئی اٹھی اور تیز قدموں سے چلتی ہوئی باورچی خانے کی طرف چلی گئی۔ اس کے جاتے ہی نذیر نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ وہ خود کو اس کی پشت دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکا۔ چلتی ہوئی عورتوں کی پیٹھ دیکھنا اسے بہت اچھا لگتا تھا۔ ایسے میں وہ کہیں گم ہو جاتا۔ عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوے کسی صحرا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔ اس لمحے بھی اس کے دل میں ایسی ہی خواہش نے سر اٹھایا۔ خوابیدہ جذبے بیدار ہوے مگر وہ آہ بھرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکا۔ اس نے جلدی سے پراٹھے کا آخری نوالہ توڑ کر اپنے منھ میں ٹھونسا۔

 

اچانک چاچے غفور کے سینے سے خرخراتی ہوئی کچھ آوازیں سنائی دیں، جو اگلے لمحے کھانسی میں بدل گئیں۔ اس نے بہ دقت کروٹ لی اور زمین پر بلغم تھوکنے لگا۔

 

نذیر رکابی اٹھائے چاچے کے پاس آیا اور اس کا حال دریافت کیا۔ چاچے نے اس کی طرف دیکھے بغیر ہاتھ کا اشارہ کیا، جس کا مطلب تھا کہ میں ٹھیک ہوں، تم جاؤ۔ وہ باورچی خانے میں رکابی رکھنے گیا تو وہاں اس نے چاچی کو گھٹنوں میں اپنا سر دبائے ہوئے دیکھا۔ وہ اس کی آہٹ سن کر چونکی اور اپنا سر اٹھا کر اسے دیکھتی ہوئی خوامخواہ مسکرانے لگی۔ اس کی زرد آنکھیں اوراداس چہرہ دیکھ کر وہ اپنا دل مسوس کر رہ گیا۔

 

اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر وہ گویا ہوا۔ "چاچی، پریشان مت ہو، چاچا شام تک بھلا چنگا ہوجائے گا۔" اس کی یہ بات سن کر چاچی نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا سر ہلا دیا۔

 

وہ باورچی خانے میں کچھ دیر ٹھہرنے کے بجاے فوراً وہاں سے باہر چلا گیا۔ چاچے کو خداحافظ کہہ کر وہ گھر سے نکلا اور دکان کی راہ لی۔

 

عورت کی پشت کا نظارہ اسے چاند کی چودھویں شب اوس میں بھیگے ہوئے کسی صحرا کی یاد دلاتا تھا، جس کی بھیگی ہوئی نرم نرم ریت پر وہ کچھ دیر سستانا چاہتا تھا۔
گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے کہانیوں والا رسالہ بھی ساتھ لے لیا تھا۔ آج اس کی طبیعت دکان پر کوئی کام کرنے پر مائل نہیں تھی۔ اس نے سوچا کہ یعقوب کاریگر اکیلا ہی شادی والے کپڑوں کی سلائی کر دے گا اور اس کی تساہل پسندی کے بارے میں چاچے سے شکایت بھی نہیں کرے گا۔

 

راستوں پر تیز ی سے چلنا اس کا معمول تھا، مگر وہ آج گلی کی ڈھلان سے بہت آہستگی سے اْتر رہا تھا۔ وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے جلدازجلد سلجھانا چاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔

 

گلی کے درمیان چلتے چلتے بے دھیانی میں وہ داہنی طرف بدرو کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ گلی لوگوں سے یکسر خالی تھی اور اس وقت یہاں سے مویشیوں کے کسی ریوڑ کو بھی نہیں گزرنا تھا۔ رفیق حجام کا بیٹا شلوار اتارے نالی پر بیٹھا ٹٹی کر رہا تھا۔ نذیر کو دیکھ کر وہ شرمانے لگا اور بیٹھے بیٹھے اس نے اپنا چہرہ اپنی قمیض کے دامن میں چھپالیا۔
نذیر نے اسے دیکھا تک نہیں اور اپنی دھن میں اس کے قریب سے گزر گیا۔

 

وہ سوچتا جا رہا تھا کہ اسے چاچے کے پاس رہتے ہوئے چھ مہینے گزر گئے تھے۔ اس دوران اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی تھی کہ چاچی خیرالنسا اس کے بارے میں کسی بدگمانی میں مبتلا ہو جاتی۔ وہ اسے اچھی لگتی تھی۔۔۔ بالکل جس طرح بھابی خدیجہ اسے اچھی لگتی تھی۔ چاچی کا جسم پرکشش تھا اور اسے چوری چھپے دیکھ کر وہ لطف اندوز ہوتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بھی اسے اچھی لگتی تھیں مگر وہ انہیں حسین خیال نہیں کرتا تھا۔

 

آج اس نے پیشانی پر ہاتھ رکھ کر اسے نیند سے جگایا تھا۔ کیوں؟ اس سے پہلے وہ ہمیشہ اسے آواز دے کر اٹھاتی تھی یا اس کی رضائی کو جھنجھوڑ دیا کرتی تھی۔ رکابی تھماتے ہوئے اس کی انگلی کا لمس۔۔۔۔ اسے لگتا تھا کہ چاچی نے جان بوجھ کر اسے چھوا تھا۔

 

وہ زیادہ سوچنے کا عادی نہیں تھا مگر اس وقت اس کے ذہن میں خیالات کی ایک گتھی الجھی ہوئی تھی جسے سلجھانا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے جلدازجلد سلجھانا چاہتا تھا مگر درمیان میں کوئی چیز مزاحم تھی۔
جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیرالنسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اْتارا تھا۔ وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریز کرتی تھی۔ وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔ لیکن کچھ دنوں سے وہ ان چیزوں کے حوالے سے لاپرواہ ہوتی جا رہی تھی۔ اب وہ اس کے سامنے ڈوپٹے کے بغیر گھومتی اوربے نیاز ہو کر انگڑائیاں لیتی۔ اپنا لباس سرکنے سے بے خوف ہو کر وہ گھربھر میں جھاڑو لگاتی۔ اور تو اور، بعض اوقات وہ اس کے سامنے کھاٹ پر لیٹ جاتی اور قمیض کا دامن بھی درست نہ کرتی۔

 

چھ مہینوں سے نذیر کے ذہن میں اس خیال کی پھانس اٹکی ہوئی تھی کہ چاچا غفور ساٹھ برس کا تھا اور چاچی خیرالنسا اس سے پچیس سال چھوٹی تھی۔ وہ اکثر سوچتا رہتا تھا کہ وہ لاغراندام بوڑھے شخص کے ساتھ کس طرح نباہ کرتی رہی تھی۔

 

چلتے چلتے اسے چاچی کی انگڑائی یاد آئی اور پیشانی پر اس کے ہاتھ کا لمس۔ وہ مسکرانے لگا مگر جب اس نے آس پاس نظر ڈالی تو ٹھٹک کے رہ گیا۔ گلی سے نکل کر اسے بازار والی سڑک کی جانب مڑنا تھا لیکن وہ خیالوں میں چلتے چلتے قصبے کے آخری مکانات تک پہنچ گیا تھا۔ اسے اپنے سامنے گندم کے کھیت دکھائی دے رہے تھے۔

 

وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا، گارے اور لکڑی کے مکانوں کو دیکھتا، واپس لوٹنے لگا۔ ایک بار پھر وہ خود کوسمجھانے لگا کہ اس کی جانب سے کسی قسم کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ خطرناک ہو سکتا تھا کیونکہ آخرکار چاچا غفور اس کے والد کا سگا بھائی تھا۔

 

بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس نے محکمہ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہر لگے ہوئے بورڈ کو دیکھا جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوئے تھے۔ سڑک پر خاصی چہل پہل تھی۔ دکانیں کھلی ہوئی تھیں۔ دکانداروں کے چھڑکاؤ کی وجہ سے سڑک کیچڑآلود ہو گئی تھی۔ گردوپیش کے دیہات سے گدھاگاڑیوں، سوزوکیوں اور بسوں کے ذریعے قصبے میں لوگوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ چائے خانے بھرنے لگے تھے اور وہاں ٹیپ ریکارڈر پر مشہور گانے بجنے لگے تھے۔

 

چاچے غفور کی دکان سڑک کے آخری سرے پر چھوٹی سی گلی میں واقع تھی۔ اس گلی میں صرف درزیوں کی دکانیں تھیں۔ یعقوب کاریگرنذیر کو راستے میں ہی مل گیا۔ وہ دکان کی چابیاں لینے گھر جا رہا تھا۔ نذیر نے چاچا غفور کی صحت کے بارے میں اسے بتایا تو اسے تشویش ہونے لگی۔

 

جب وہ نیا نیا یہاں آیا تھا تو چاچی خیرالنسا نے کبھی اس کے سامنے اپنے سر سے ڈوپٹہ نہیں اْتارا تھا۔ وہ اس کے سامنے قہقہہ لگانے سے بھی گریز کرتی تھی۔ وہ اس کی موجودگی میں کبھی انگڑائی بھی نہیں لیتی تھی۔
یعقوب کاریگر نے دکان کا تالا کھولا تو نذیر نے شٹر اْٹھانے میں اس کی مدد کی۔ وہ یعقوب کا احترام کرتا تھا، اس لیے کہ ایک تو وہ ادھیڑعمر آدمی تھا اور پھر چاچے کا دوست بھی تھا۔ دکان کے بیشترمعاملات اسی کے ہاتھ میں تھے۔ لوگوں کی نظر میں دکان کا مالک چاچا غفور نہیں بلکہ یعقوب کاریگر تھا۔ کئی بہت پرانے گاہکوں کے ناپ اسے زبانی یاد تھے۔ جب انھیں ردوبدل کروانا ہوتا یا وہ نئے فیشن کا ڈیزائن بنواتے تو اپنی فرمائشیں اِسی کو بتاتے۔ وہ دھاگوں، بٹنوں اور بْکرم کی خریداری میں خودمختار تھا۔

 

اسے بہ یک وقت مردانہ اور زنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔ دوردراز گوٹھوں کی عورتوں تک بھی اس کی مہارت کی شہرت پھیل چکی تھی۔ کپڑے سِلوانے والی خواتین دیر تک اس کی فضول باتیں بھی سنتی رہتی تھیں۔

 

نذیر یعقوب کاریگر کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کچھ عورتوں سے اس کے گہرے تعلقات تھے۔ شاید اسی لیے اتنی عمر گزرنے کے باوجوداِس نے شادی نہیں کی تھی۔

 

نذیر کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی تھی کہ دکان کا تالا اور شٹر وہی کھولے اور فرش کی صفائی بھی وہی کرے، لیکن یعقوب ہمیشہ ہی اس کا ہاتھ تھام لیتا تھا۔

 

"بابو، تم مالک، میں نوکر، یہ کام تمھارے کرنے کا نہیں۔"

 

مگر آج نذیرنے اپنے دل میں کچھ اور ہی ٹھانی ہوئی تھی۔ اس نے دکان میں داخل ہوتے ہی جھاڑو اْٹھا لی اور صفائی کرنے لگا۔ یعقوب نے اس کے ہاتھوں سے جھاڑو لینے کی کوشش کی تو اس نے مصنوعی غصہ ظاہر کرتے ہوئے اسے دکان سے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ سفید بالوں والا کاریگر اپنے سیٹھ کے بھتیجے کا حکم سن کر ہنسی میں کندھے ہلاتا گلی میں جا کھڑا ہوا۔ اس نے قمیض کی جیب سے بیڑیوں کا بنڈل نکالا اور اسے اپنے ہاتھ سے نرمی سے دبانے لگا۔ پھر اس میں سے ایک بیڑی نکال کر اسے دانتوں میں چبا کر اس نے اسے سْلگایا۔

 

اس دوران نذیر نے کرسیوں، سلائی مشینوں اور میز کے نیچے سے کچرا صاف کیا۔ اس نے دھاگوں، لیروں اور بیڑی کے ٹکڑوں کو جمع کر کے اخبار میں سمیٹا اور اخبار کو دکان سے باہر پھینک دیا۔

 

بازار کی سڑک پر واقع پرائمری اسکول سے بچوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔ اس نے محکمہ بہبودِ آبادی کے دفتر کے باہر لگے ہوئے بورڈ کو دیکھا جس پر چہروں کے بغیر مرد، عورت اور ایک بچہ بنے ہوئے تھے۔
یعقوب کاریگر آستینیں چڑھاتا دکان میں داخل ہوا اور اپنی مخصوص نشست پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنی ٹانگیں کرسی پر سکیڑ لیں اور مزے سے بیڑی کے کش لیتا رہا۔ بیڑی ختم ہونے پر اس نے اسے چپل کے نیچے مَسل دیا۔ اس کے بعد میز کی دراز سے اگربتّی کا پیکٹ نکالا اور اس میں سے دو اگربتیاں نکال کر اس نے دیاسلائی کی مدد سے جلائیں، پھر زور سے پھونک مار کر اس نے اگربتیوں کے شعلے کو بجھایا اور ان کے خوشبودار دھویں میں لمبے سانس بھرنے لگا۔ یعقوب کے لیے صبح دکان کھولتے ہی اگربتی جلانا ایک مقدس رسم کی طرح تھا۔ اس کا خیال تھا کہ اگربتی کی خوشبو سے دکان پر پڑنے والا ہر قسم کے شر کا سایہ چھٹ جاتا ہے۔ اس نے سلگتی ہوئی ایک اگربتی کو میز کے کاؤنٹرمیں اٹکایا جبکہ دوسری کو دیوار کے رخنے میں لگا دیا۔

 

نذیر اپنی سلائی مشین صاف کر رہا تھا کہ اسے چاچے کی بات یاد آ گئی۔ سلائی مشین صاف کرتے ہوے اس نے اپنا ہاتھ روک لیا اور کاریگر سے مخاطب ہوا۔ "وہ، ماسٹر طفیل شام کو کپڑے لینے آئے گا۔ اس کے پانچ جوڑے ہیں شاید،" وہ ہچکچا کر بولا۔ بڑی عمر کے لوگوں سے بات کرتے ہوئے وہ اعتماد کھو بیٹھتا تھا؛ اس کی نگاہ جھک جاتی تھی اور زبان میں گرہ پڑنے لگتی تھی۔

 

یعقوب نے اس کی بات سنی اور مسکراتے ہوے بولا، "معلوم ہے۔ دو لیڈیز کے ہیں اور تین مردانہ جوڑے۔"

 

نذیر نے مطلوبہ دھاگے کی نلکی کو سلائی مشین پر چڑھایا اور دھاگے کو مختلف جگہوں سے گزار کر سوئی کے ناکے میں ڈال دیا۔ بے کار کپڑے کو سوئی کے نیچے رکھا اور مشین چلا کر ٹانکوں کا جائزہ لیتا رہا۔

 

گزشتہ صبح ہی ا نھوں نے ماسٹر طفیل کے کپڑوں کی کٹائی کر لی تھی اور شام تک آدھے جوڑوں کی سلائی بھی ہو چکی تھی۔ اب نذیر کا ہاتھ سلائی مشین پر رواں ہو گیا تھا۔ وہ اکیلا ہی شام تک بیٹھ کر پانچ جوڑوں کی سلائی کر سکتا تھا۔ مگر اس کا مزاج سیمابی تھا اس لیے اس کے لیے ایک جگہ دیر تک بیٹھنا مشکل تھا۔ یکسوئی سے کام کرتے کرتے اچانک اس پر بے قراری کا دورہ پڑتا اور وہ فوراً دکان سے باہر نکل جاتا؛کچھ دیر سڑک پر ٹہل کر اِدھراْدھر کی چیزوں کو دیکھتا اور پھر واپس آ کر اپنا کام کرنے لگتا۔

 

درزیوں کی اس گلی کی ہر دکان پر ٹیپ ریکارڈر اونچے سْروں میں بجتا تھا۔ ہر درزی اپنی پسند کے گانے سنتا تھا۔ نذیر بھی فلمی گانے سننے کا شوقین تھا۔ کئی مرتبہ وہ یعقوب کاریگر سے اپنی خواہش کا اظہار کر چکا تھا۔ اسے بھی موسیقی سننا پسند تھا مگر چاچے غفور کو موسیقی سے نفرت تھی۔ گلی میں کوئی درزی جب اونچی آواز میں گانے بجاتا تو چاچا غفور اسے گالیاں دینے لگتا اور ٹیپ بند کروا کے دم لیتا۔ مگر وہ درزی کچھ دیر بعد دوبارہ ٹیپ ریکارڈر بجانا شروع کر دیتا۔ چاچا غفور اس مرتبہ اٹھ کر جانے کے بجائے بیٹھا بڑبڑاتا رہتا۔

 

یعقوب کاریگر نے ایک اور شوق بھی پال رکھا تھا۔ اس نے کچھ ہٹ دھرمی اور کچھ بے شرمی سے اپنے اس عجیب شوق کی تکمیل کر لی تھی۔ اسے چاچا غفور کے طعنوں کی بھی پروا نہیں تھی۔ اس نے اخباروں، رسالوں، کتابوں اور پوسٹروں سے رنگین تصویریں کاٹ کاٹ کر دکان کی دیواروں پر چپکا دی تھیں۔ چھت سے فرش تک کوئی جگہ خالی نہیں چھوڑی تھی۔ تمام کی تمام تصاویر فلمی اداکاراؤں اور ٹی وی کی ماڈل لڑکیوں کی تھیں۔ وہ سب کی سب جوان اور پرْکشش دکھائی دیتی تھیں۔ یعقوب کا یہ مشغلہ بہت پرانا تھا اور اس میں کبھی کمی نہیں آتی تھی۔ وہ ہر دوسرے دن ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی نئی نویلی تصویر لے آتا اور اسے کسی پرانی تصویر کی جگہ لگا دیتا۔ گلی میں ایک اور درزی نے بھی اس کی دیکھادیکھی یہی شغل اختیار کر لیا تھا۔ وہ گاہے گاہے یعقوب کاریگر کو اپنی تصویروں کے معائنے کے لیے بلاتا رہتا اور اس کی رائے بھی معلوم کرتا۔

 

نذیر نے بے دلی سے کٹا ہوا کپڑا اْٹھایا اور سلائی کرنے لگا۔

 

گلی میں گاہکوں کی آمدورفت شروع ہو چکی تھی۔ یہ مختصر بند گلی شام تک لوگوں سے بھری رہتی تھی۔ دکان داروں نے دکانوں پر کپڑوں کے سائبان لگا رکھے تھے، جس کی وجہ سے گلی صبح سے شام تک سایہ دار رہتی تھی۔

 

چاچے غفور کی بیماری کی خبر پوری گلی میں پھیل گئی۔ تمام دکان دار نذیر سے اس کی خیریت دریافت کرنے آئے اور اپنی دکانوں پر واپس جا کر انھوں نے ٹیپ ریکارڈر اونچی آواز میں بجانا شروع کر دیے۔ ہر دکان پر مختلف گانا چل رہا تھا۔ ملی جلی آوازوں کے ہنگامے کے بیچ کسی گانے کے بول سمجھ نہیں آتے تھے۔

 

اسے بہ یک وقت مردانہ اور زنانہ کپڑوں کی سلائی پر دَسترس تھی۔ مگر نہ جانے کیوں قصبے کی عورتوں میں وہ ایک مثالی درزی کی حیثیت سے مقبول تھا۔
جب دکان کے آگے سے گزرنے والے کسی شخص کا سایہ اندر پڑتا تو نذیر بے اختیار ہو کر باہر دیکھنے لگتا۔ وہ احتیاط سے کیے جانے والے کام میں جلدبازی برتنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کا ایک ہاتھ تیزرفتاری سے سلائی مشین کے ہینڈل پر گھوم رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ کپڑے کو تیزی سے آگے سرکاتا جا رہا تھا۔ سوئی چشم زدن میں کپڑے پر ٹانکے پر ٹانکا لگاتی جا رہی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے سلائی مشین روک دی۔

 

یعقوب کاریگرنے شلوار مکمل کر لی تھی۔ کچھ دیر سستانے کے لیے اس نے نئی بیڑی سلگائی۔ نذیر اپنی نشست سے اْٹھا اور دکان کے سرے پر کھڑا ہو گیا۔ ہوٹل کا باہروالا کیتلی اور پیالیاں اٹھائے اس کے سامنے سے گزرا تو اس نے اسے دو چائے کے لیے کہہ دیا۔ پھر وہ دکان کے اندر آ کر یعقوب کاریگر کے پاس جا کھڑا ہوا۔ وہ بیڑی کے کش پر کش لگاتا اپنی گدلی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے نوجوان لڑکے کو دیکھتے ہوے مسکرایا۔

 

"آج کام میں دل نہیں لگ رہا،" نذیرجھجکتے ہوے بولا۔

 

"تمہاری جو عمر ہے نا چھوٹے سائیں، اس میں یہ دل بڑا تنگ کرتا ہے، جب کہ کپڑوں کی سلائی کاکام کرنے کے لیے پِتہّ مار کر بیٹھنا پڑتا ہے،" وہ اپنی سفید اور سیاہ داڑھی کھجاتے ہوے بولا۔ "پروا مت کروچھوٹے سائیں اور میرے ہوتے ہوے کوئی غم نہ کرو۔"

 

"چاچے کو کچھ نہ بتانا۔۔۔۔" نذیر نے اس سے درخواست کی۔ کاریگر نے یہ سن کرقہقہہ لگایا۔ اس کا قہقہہ سن کر نذیر بھی مسکرایا۔ وہ اسٹول کھینچ کر خوش مزاج کاریگر کے پاس بیٹھ گیا اور اس نے یونہی موسم کی شدت کا ذکر چھیڑ دیا۔

 

"اس مہینے سردی اور بڑھ جائے گی۔ سنا ہے کوئٹہ میں برف باری ہو رہی ہے!"

 

یعقوب کاریگرکندھے جھٹک کر ہنستے ہوے بولا، "تمہارے چاچے کو اسی لیے ٹھنڈ لگ گئی... مگر یار، اس کے پاس تو بہترین ہیٹر ہے۔ اسے ٹھنڈ نہیں لگنی چاہیے تھی۔"

 

اس کی یہ بات سن کر نذیر نے شرما کر سر جھکا لیا۔

 

یعقوب اس کے گھٹنے پر ہاتھ مار کر قہقہے میں لوٹنے لگا۔ "تم اب بچّے نہیں رہے۔ ماشا اللہ سمجھ دار ہو۔"

 

باتوں کے دوران چائے والا آ گیا۔ نذیر نے پیالیوں میں چائے ڈالی۔

 

کاریگر چائے پی کر اْٹھا اور انگڑائی لیتے ہوئے اس نے اپنی کمر کا پٹاخہ نکالا۔

 

نذیر نے اسے انگڑائی لیتے ہوئے دیکھا تو آج کی رات جو واقعہ پیش آنے والا تھا اس کے تصوّر سے ہی اس کے خون میں سنسنی سی پھیلنے لگی تھی۔ اس کا ذہن یعقوب کے فحش مذاق سے نکل کر یکایک کہیں اور پہنچ گیا۔ اسے چاچی خیرالنسا کا بھی خیال تک نہ آیا کیونکہ اس کا ذہن خیالات کے ایک اور بگولے کی زد میں آ کر اِدھراْدھر بھٹکنے لگا تھا۔ وہ واقعہ جو پینتالیس روز قبل پیش آیا تھا، آج اسے اس کا پھل ملنے والا تھا۔ وہ بالکل نہیں جانتا تھا کہ آج کی شب اس کی امیدوں کو بر آنا تھا یا انھیں ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہونا تھا۔ اس کے علاوہ آج شب جو واقعہ رونما ہونے والا تھا اس سے اس کی زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔ اگر وہ اس سے کامیاب گزر گیا تو ٹھیک؛ ناکامی کی صورت میں اس کی موت بھی واقع ہو سکتی تھی۔

 

(جاری ہے)



کروں کیا

کروں کیا
میں اس خامشی کا کروں کیا
جو مجھ سے سدا بات کرتی ہے، کرتی ہی رہتی ہے
اور آنسوؤں کا
جو ہنستے ہوئے بھی
مری آنکھ میں تیرتے ہیں

 

چکا چوند کا،
جو اندھیرے کی صورت
رگوں میں بھری ہے

 

میں مصروفیت کا کروں کیا
کہ جس میں
فراغت کی نا مختتم بے دلی ہے

 

کروں کیا میں اس بے گھری کا۔۔۔۔۔۔
جو میرے تعاقب میں ۔۔۔۔۔۔۔روز ازل سے چلی آ رہی ہے

 

 

میں اس خالی پن کا۔۔۔۔۔
جو کھانے کو آتا ہے۔۔۔۔۔
اس شور کا۔۔۔۔۔
جس کے باطن میں
گہری خموشی کی ہیبت چھپی ہے

 

تمہارا کروں کیا؟
ادھیڑے چلے جا رہے ہو مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کروں کیا میں اس بے نہایت محبت کا۔۔۔۔۔۔
۔وارفتگی سے جو بڑھتی ہے، مجھ سے لپٹنے کی خاطر

 

تو مونھ موڑ کر ۔۔۔۔
.میں کہیں جا نکلتا ہوں
ویران ٹیلوں کے پیچھے۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹرپتی ہوئی ریت میں
چیخنے کے لیے

Image: Naikos




بیماری کا شجرہ

بیماری کا شجرہ
ارے یہ کچھ نہیں بس وہم ہے میرا
یہ سب کچھ وہم ہے
لیکن
مرے اس ہاتھ کو کیا ہو گیا ہے
جو دیکھو پھر وہیں پہنچا
وہیں گردن کے پیچھے
ٹٹولو تو جہاں لگتا ہے کوئی گومڑا سا
میں آئینہ اٹھا کر دیکھنے لگتا ہوں پھر اس گومڑے کو
مگر یہ بھی تو ممکن ہے
یہ پچپن سے یہیں ہو
جسے پہلے کبھی میں نے نہیں دیکھا
اور اچھی بات تو یہ ہے
دبانے سے ذرا سا درد بھی اس میں نہیں ہوتا
وہ پاگل ڈاکٹر شاید بہت فرصت سے ہو گا
جو ہنس کر پوچھتا تھا مجھ سے بیماری کا شجرہ
مرے دادا کا پردادا کا اور اس سے بھی پیچھے کا
بھلا دادا کی بیماری سے کیا مطلب
مرے اس گومڑے کا

Image: Nathalie Kantaris Diaz




فقہ اور آمریت

youth-yell

مسلم معاشروں میں فقہ اور فقہا کے اثرات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیوں کہ یہ اس وقت کی ریاست کا قانونی چہرہ تھے، اسی فقہ کو قبول عام حاصل ہوا جسے حاکمِ وقت نے قبولیت بخشی۔ بلکہ یہ کلیہ تو مذہب میں بھی عام ہے۔ عیسائیت کی مثال سب کے سامنے ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت بادشاہ کا مذہب ہی عموماً قوم کا مذہب ہوتا تھا۔ فقہا کی عظیم خدمات ناقابل فراموش ہیں اور اصول فقہ کے نام سے بنائی جانے والی علم کی شاخ بجا طور پر مسلمانوں کے لیے قابل فخر اور دنیا کے لیے قابل تقلید ہے مگر اس کے کچھ منفی پہلو بھی ہیں جن کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کمزور پہلو دراصل فقہ نہیں بلکہ حاملین فقہ کی کمزوریوں کا مظہر ہیں۔

 

مسلم معاشروں میں علم کے زوال کے بعد جب فقہ محض متقدمین کے فیصلوں کے دفاع اور کتابوں کے شروح کا نام رہ گئی تو لازمی نتیجے کے طور پر مسلم معاشرہ بھی جمود کا شکار ہوا
تدوین قانون کی عدم موجودگی میں قاضی عدالتی و قانونی معاملات میں مطلق العنان ہوتے تھے اور بادشاہ قاضی کو مقرر کرنے میں بالکل آزاد تھا۔ قاضی کا اجتہاد اور رائے قوت نافذہ رکھتے تھے لہٰذا جتنی وسعت ان کےفیصلے میں ہوتی تھی وہ اس وقت کے معاشرے کا عکس تھی۔ جہاں تک فقہا اور آمریت کے باہمی تعلق کا نظریہ ہے تو یہ یاد رہے کہ آمریت آزادی فکر اور عمل کی مخالفت کا نام ہے۔ مسلم معاشروں میں علم کے زوال کے بعد جب فقہ محض متقدمین کے فیصلوں کے دفاع اور کتابوں کے شروح کا نام رہ گئی تو لازمی نتیجے کے طور پر مسلم معاشرہ بھی جمود کا شکار ہوا اور ریاست کا قانونی و انتظامی چہرہ ہونے کے بدولت بادشاہ وقت جو دراصل اس وقت ریاست کی واحد علامت ہوتا تھا کے مزاج پر بھی لازماً اس کا اثرہوا- یاد رہے ہمیشہ سیاسیت و ریاست علم کے تابع رہی ہے، جب جب علم کا زوال و جمود اندھی تقلید کی شکل میں وارد ہوا تب تب معاشرے میں شدت پسندی بڑھی ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نہیں کہ فقہ نے مسلم حکمرانوں کی آمریت کو منطقی بنیادیں فراہم کیں کیوں کہ اس وقت بادشاہت کی صورت میں جو سیاسی نظام تھا اس میں حکمران کے آمرانہ یا جمہوری طرزعمل کا تعق بادشاہ کے مزاج سے تھا اس کے طریقہ انتخاب سے نہیں۔

 

سیاسی آمریت علمی آمریت کا براہ راست نتیجہ ہوتی ہے۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے اور ایسا صرف مسلم معاشروں کے ساتھ خاص نہیں دیگر مذہبی حکومتوں میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ جب اس طرف توجہ دلائی جائے تو لوگ ابتدائی صدیوں میں تشکیل فقہ کے آزادانہ بحث کے مراحل کو دلیل کے طور پر اس کے خلاف پیش کرتے ہیں مگر یہ دلیل دینے والے تشکیلِ فقہ کے بعد کی صدیوں میں اصولوں کی پیروی کے نام پر بدترین علمی آمریت کے چلن کو بھول جاتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت پاکستان میں آمریت کی تاریخ ہے جس کو ہمیشہ کندھا وقت کے علما و فقہا نے پیش کیا جو بدقسمتی سے اب سیاسی جماعتیں بھی رکھتے تھے۔ ایوب کے دور میں علما کی سب سے بڑی جماعت جمیعت علمائے اسلام کے مفتی محمود اور مشرف دور میں فضل الرحمان اسی گٹھ جوڑ کی علامت ہیں اور ضیاء الحق کے زمانے میں تو حکومت اور طبقہ علماء کے مابین یہ فرق تقریباً ختم ہو گیا۔ یہ تعلق اس لیے بھی موجود رہا ہے کیوں کہ دونوں فریق آزادی اظہار کے مخالف رہے ہیں؛ ایک دینی امور میں دوسرا سیاسی امور میں۔ اقبال نے اسی بات کو اپنے لافانی اسلوب میں امر کر دیا:
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

 

یہ بات درست ہے کہ حنفی مکتبہ فکر زیادہ مربوط اور اجتہادی شان والا تھا مگر اس کا مطلب یہ نہیں باقی مکاتب فکر کمزور بنیادوں پر استوار تھے۔
لہذا دونوں طرف کی انتہاوں سے بچتے ہوئے اس امر کی ضرورت ہے کہ اصولوں کی اہمیت کے باوجود سوچ کی آزادی کی حوصلہ افزائی کی جائے اور فقہ کی اصل روح جو تدبر کا بیاں ہے کی نشاۃ ثانیہ کی کوشش کی جائے۔ فقہ حالات پر شریعت کے انطباق کا نام ہے اور یہ وسعت فکر کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسے فقہ کے ابتدائی دور میں ہوا ویسے ہی اب کرنا پرے گا۔

 

اسلامی فقہ نے کسی حکمران کی اعانت کے بغیر قبولیت کے مراحل طے کئے۔ ایسا نہیں کہ فقہ کی تشکیل حکومت کے مرہون منت رہی، ہاں البتہ کسی بھی فقہ کا عروج سیاسی سرپرستی کا مرہون منت رہا۔ تشکیلِ فقہ کے ابتدائی دور میں بہت سے دوسرے عظیم فقیہہ بھی تھے جن کے اپنے مکاتب فکر تھے۔ تاہم وہ مقبول نہ ہو سکے۔ یہاں یہ جاننا اہم ہے کہ ان فقہاء کا کیا ہوا؟ کہاں گئی ان کی فقہ؟ محض اس لیے معدوم ہو گئے کیوں کہ عوام میں فقہ حنفی مشہور ہو گئی تھی یا پھر حکومتی سرپرستی کا معاملہ تھا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں وجوہ تھیں۔ سیاست، حکومت اور قانون کا تعلق اتنا سادہ نہیں ہوتا جتناعموماً خیال کیا جاتا ہے، ہمیشہ سے حکومت اور عدلیہ کا ایک دوسرے کے استحکام میں گہرا کردار رہا ہے۔

 

یہ بات درست ہے کہ حنفی مکتبہ فکر زیادہ مربوط اور اجتہادی شان والا تھا مگر اس کا مطلب یہ نہیں باقی مکاتب فکر کمزور بنیادوں پر استوار تھے۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ حنفی مکتبہ فکر حکومت کی ایسی مجبوری بن چکا تھا جس کے بعد اور کسی کی گنجائش نہیں نکل سکتی تھی۔ ایک وجہ جو ان کے حق میں جاتی ہے وہ ان کا قاضی القضاۃ کے منصب کو قبول کرنا تھا۔ قدرتی طور پر اس کے بعد ان کی فقہ کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی اور اس میں عباسی اور عثمانی خلفا کے کردار کو نظرانداز کرنا معاشرے اور قانون کے باہمی تعلق اور تاریخ کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ ابو یوسف کے اس منصب پر فائز ہونے کے بعد ہر وہ قاضی جو حنفی مکتبہ سے متعلق نہیں تھا فارغ کر دیا گیا۔ اس کے بعد عثمانی سلطنت کے عروج کے دور میں بھی حنفی مکتبہ فکر کے قضاء غالب تھے اور ایسے علاقوں میں بھی بھیجے جاتے تھے جہاں دوسرے مسلک کے لوگ ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں حنفی مکتب فکر ایک غالب انتظامی مکتبہ فکر کی صورت ابھر کر آیا اور اکثریت کا مذہب ٹھرا جب کہ مالکی، جعفریہ، شافعی اور حنبلی مکاتب فکر اپنے محدود علاوں سے باہر نہ نکل سکے۔ حنفی مکتبہ فکر کے ماننے والوں کی اکثریت آج عباسی اور عثمانی خلافت کے علاقوں میں موجود ہے۔

 

ال دہلوی کہتے ہیں
" وہی مکتبہ فکر زیادہ مشہور ہوئے جن کے پاس قضا اور افتاء کی طاقت تھی۔ باقی معدوم ہوتے چلے گئے۔ "
اسی بات کو مشہور فقیہ ابن حزم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے

 

" ترویج اور پھیلاو میں دو مکاتب فکر کو ریاست اور حکومت کی مدد حاصل رہی: حنفی جب کہ ابو یوسف قاضی القضاۃ بنا اور اس نے صرف اپنے مذہب کے لوگوں کو عدالتی امور کے لیے منصف مقرر کیا۔ اور مالکی مکتبہ فکر کو۔ " (وفیات الاعیان)

 

ال دہلوی کہتے ہیں
" وہی مکتبہ فکر زیادہ مشہور ہوئے جن کے پاس قضا اور افتاء کی طاقت تھی۔ باقی معدوم ہوتے چلے گئے۔ "

 

ریاست اور سیاست ہمیشہ علم کے تابع رہتی ہے مگر اس سے یہ کہاں اخذ ہوتا ہے کہ حکومت کا علم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بادشاہ وقت کے احساسات کو زبان عدالت ہی دیتی ہے۔

 

سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں میں معدومیت اور فکری انتشار کے اسی نفسیاتی خوف کی بدولت اصولوں کی پیروی کے نام پر اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف مطلق العنانی کی نفی کی جاتی ہے اور دوسری طرف خود اس کی مثال بیان کی جاتی ہے مثلا اکبر کے دور میں قاضی کا بادشاہ کی ناخوشی کے باوجود اپنے فیصلے پر اصرار۔ قاضی بالعموم بادشاہ وقت کے مقرر کردہ ہوتے تھے اور ان پر اس کا اثر نہ ہونا ناممکنات میں سے ہے۔

 

اوپر خود ابویوسف کی مطلق العنانی کی ایک جھلک پیش کر چکا ہوں۔ تدوین قانون کی عدم موجودگی میں قاضی کی مطلق العنانی پر قدغن محض ایک روایتی تصور بن کر رہ جاتا ہے جس کی نافرمانی پر اس کی کوئی گرفت کرنا ممکن نہیں۔ مغرب نے سماجی علوم کو جس طرح مدون کیا ہے اس کے بعد ایسی کسی روایت کو جاری رکھنا اتنا آسان نہیں رہا۔

 

اصولوں کی پیروی پر یہی بنیادی نقطہ اختلاف ہے کہ تقلید و جمود کو اصولوں کی پیروی کا نام دیا جاتا ہے جو ایک حد تک قانونی مجبوری بھی ہے۔ اصولوں کی پیروی اور جمود میں بہت باریک فرق ہوتا ہے جس کو اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔ اسی ناسمجھی کی بدولت ایک خاص وقت کے بعد اصولوں کی پیروی کے نام پر جمود اور اندھی تقلید نے جنم لیا اور اس بات کو خود اقبال نے اپنے خظبات میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ سقوط بغداد کے بعد مسلمانوں میں معدومیت اور فکری انتشار کے اسی نفسیاتی خوف کی بدولت اصولوں کی پیروی کے نام پر اجتہاد کا دروازہ بند کر دیا گیا۔ اس کے بعد عملاً تو تبدیلی کا عمل جاری رہا کیوں کہ بدلتے حالات میں اسے بند کرنا ممکن نہ تھا مگر نظریاتی طور پر اس کی ترویج ناپسندیدہ قرار پائی۔ یہی وجہ ہے کہ جب مسلمانوں کو مغربی علمی برتری کا سامنا کرنا پڑا تو ان کے پاس دفاع کے لیے وہ اذہان ہی نہ تھے جو فکری بلندی اور وسعت کے اس مقام پر فائز ہوں۔ فقہ اپنے وجود میں ہی وسعت اور اجتہاد کی محتاج ہے اور جب سے اس کو ان ناگزیر عناصر سے محروم کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کی گئی ہے نقصان مسلمانوں کا ہی ہوا ہے۔



ریحانے جباری

ریحانے جباری
میں نے قتل کیا ہے
ایک مرد کو
جو میرے جسم میں چھید کرنا چاہتا تھا
نہیں، ایک مرد کی پرچھائیں کو
میں نے قتل کیا ہے
ہاں میں نے قتل کیا ہے
تیز دھار چاقو سے
تا کہ خون بہے
اور بہتا رہے
چوتھی منزل سے
تفتیش گاہ کے تہہ خانے تک
جہاں مجھے کئی بار زندہ مار ڈالا گیا
اور میں نے لکھ دیا
بیانِ حلفی میں
جو انہوں نے کہا
تا کہ بادوک زندہ رہے
اور کسی اور ٹین ایجر کو چیرا توڑا نہ جا سکے
جیل میں اور عدالت میں
موجود ہونے کے باوجود
خدا مجھے نہیں بچا سکا
خدا انسانوں کے لیے بنائے ہوئے قانون کے ہاتھوں مجبور ہے
آنکھ کے بدلے آنکھ
کان کے بدلے کان
جسم کے بدلے جسم
لیکن پرچھائیں کے بدلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری، بادلوں کی چھاؤں جیسی،
کم سِن روح کو پھانسی دے دی گئی
دیکھو تو، شب ختم ہونے سے قبل
میری صبح دار پر طلوع ہو چکی ہے
میرا بے سایہ جسم اب دھوپ چھاں کا محتاج نہیں رہا
ماں! مجھے دفن مت کرنا
قبروں کے شہر میں
ہوا کو دفن مت کرنا
اور ماتمی لباس پہن کر
رونا مت!
میں بے نشان رہنا
اور بے اشک بہنا چاہتی ہوں
اس زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں
جہاں ہوا، ابر اور آنسوؤں کی قبر بنائی جا سکے
مٹی میرا جوف، میرا اُطاق نہیں
ماں! دروازہ کھول
میرا راستہ ختم ہو گیا ہے!!

Image: Orkideh




جدید، جدیدیت اور مابعد جدیدیت

ادب اور جدیدیت

 

چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے
گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامینِ نظم و نثر کی ورق گردانی کریں تو اس خیال کا دل میں جاگزیں ہونا ضروری ہے کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم ترقی پسند تحریک سے قدرے مختلف سمجھ کر ’نیا ادب‘ کا نام دیتے تھے اور جس میں راشدؔ اور میرا جیؔ دو معتبر نام تھے اور جس میں قدرے دیر سے مجید امجدؔ اور اختر الایمانؔ بھی شامل کیے جاسکتے تھے، اب ایک نئے دھارے میں بدل چکا ہے (اس بات کا اطلاق ہندوستان پاکستان دونوں ملکوں پر یکساں دکھائی دیتا ہے) اور اس دھارے کو ایک خود کار واٹر پمپ سے چلانے والوں نے ’جدیدیت‘ کا نام دیا ہے۔ اس کا نعم البدل انگریزی میں کیا ہو سکتا ہے، کم از کم میرے پاس تو اس کا جواب نہیں ہے۔ یقیناً یہ تحریک وہ نہیں ہے، جسے فرانس میں، انیسویں صدی کے اختتام پذیر ہونے کی مناسبت سے fin-de-sie'cle فانت سیئکل کہا گیا تھا، یا انگریزی میں modernism یا modernityکا نام دیا گیا تھا۔ ہم جس ’جدید ادب‘ کو مغرب کی یونیورسٹیوں میں پڑھاتے ہیں، اس کی ابتدا کا لیکھا جوکھا ہم انگریزی میں امیجسٹ پوئٹری کے پہلے دور (اؑایذرا پاؤنڈ اور اس کے ساتھیوں) سے شروع کرتے ہوئے دوسرے دور (ایلیٹ اور اس کے پیچھے آنے والے شعرا) تک جاتے ہیں اور پھر وہاں سے ہوتے ہوئے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے درمیانی وقفے تک پہنچ کر اسے ختم کر دیتے ہیں۔ "ختم" شاید ایک غلط لفظ ہے، کیونکہ ’امیجزم‘ کی جس شرطِ اول سے یہ تحاریک شروع ہوئی تھیں، اس دورانیے میں کسی نہ کسی صورت جاری و ساری تو رہیں لیکن اسلوب سے قطع نظر۔۔۔ (ایک) موضوع اور مضمون کی سطح پر تشکیک،(دو) بے سمتی،فرار، فرد کی تنہائی کا احساس، (تین) فرد کی داخلی "لا فردیت"، اور (چار) زمانہءِ حال سے بے زاری۔۔۔ ایسے در آئے کہ امیج خارجی منظر نامے کو ترک کرنے کے بعد، موضوع اور مضمون کی مناسبت سے ایک سے زیادہ جہتیں قبول کرتا ہوا ذہنی ہوا خوری کو نکل گیا۔

 

دوسری جنگِ عظیم کا دورانیہ چھہ برسوں کا تھا اور ان برسوں میں جو ادب تخلیق ہوا، وہ کوئی الگ حیثیت نہیں رکھتا لیکن جنگ کے فوراً بعد بے زمینی، غریب الوطنی، (جنگ کے سیاق میں) دہشت، بے حوصلگی، اضطرار، غیر محفوظیت، لا یعنیت اور مہملیت کا دور دورہ رہا۔

 

کوئی بھی ادبی مورخ یہ سطریں لکھتے ہوئے یقیناً یہ محسوس کرے گا کہ اردو میں وارد "جدیدیت" ایک حد تک تویورپ کے اس دور سے تعلق رکھتی تھی جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد معرضِ وجود میں آیا اور دوسری حد تک یہ اس بے سمتی کی غماز تھی جو Theatre of the Absurd یا Beat Generation یا پھر Magical Realism کے گروہوں میں دکھائی دیتی تھی۔ "لا معنویت کا تھیئٹر"absurd کا یہی معنی اب تسلیم کیا جا چکا ہے) البیئر کامو Albert Camus کے حوالے سے یا یوجِین آئیونیسکو کے حوالے سے ایک اصطلاح کے طور پر مارٹن ایسلِن Martin Esslin نے پہلی بار استعمال کی۔ اس سلسلے کی معتبر ترین ہستی سییموئل بیکٹ Samuel Beckett ہے جس کے ہاں Modern, Postmodern & Absurd تینوں تحاریک قطار اند ا قطار دکھائی دیتی ہیں۔

 

اردو ادب میں جدیدیت

 

اردو میں 'جدیدیت' اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔
اردو میں 'جدیدیت' اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر انڈیا میں وارد ہوئی۔ اسے تاریخی استدلال کی سطح پر، 'قبولِ عام' کی بجائے ’قبولِ خاص' کے طور پر شناخت دینے میں شمس الرحمن فاروقی نہ صرف پیش پیش رہے، بلکہ اس کی سرپرستی اور رہنمائی کا بیڑا بھی انہوں نے اٹھایا۔ ایک قائد اور قانون گو کی طرح انہوں نے تحریک کو اس کے تاریخی کردار سے آگاہ کیا۔ ان کی ادارت میں چھپنے والا جریدہ "شب خون" تحریک سے وابستہ اہلِ قلم کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے میں پیش پیش رہا۔ یہ کریڈٹ فاروقی صاحب کو ہی جاتا ہے کہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ چند ایک پرانے اہل قلم کو چھوڑ کر ہر نئے لکھنے والے نے ’جدید‘ کہلوانے میں فخر محسوس کیا۔۔۔۔۔۔ لیکن تحریک اور تنظیم میں بہت فرق ہے۔ ترقی پسند تحریک ایک تنظیم کی زیرِ قیادت کام کر رہی تھی۔ یہاں تک کہ منٹو کو "ذات باہر" کرنے میں بھی ایک قرارداد کی ضرورت پیش آئی تھی۔ کئی چھُٹ بھَیّے ("شاہراہ" کے پرکاش پنڈت کی مثال اظہر مِن الشمّس ہے، جو خود کو اردو کا چیخوفؔ لکھا کرتے تھے!) آرگنائزیشن کے کندھوں پر بیٹھ کر خود کو "نو گزا فقیر" سمجھنے لگے تھے۔ جدیدیت کی تحریک بنیادی طور پر قلم کی آزادی کی محرک تھی اور Organisational control کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن ہوا یہ کہ چند برسوں میں ہی انارکی اور انتشارنے اندرونی خلفشار کے طور پر اس تحریک کو گھُن کی طرح چاٹنا شروع کر دیا۔ زبان کی شکست و ریخت شروع کی گئی تو لسّانیات کے سب اصول بالائے طاق رکھ دیے گئے۔ افسانوں میں کردار تحلیل ہوا، وقت کی یک سمتی رفتار کو شعوری رو کے زیر اثر Forward to the Past یا پھر Back to the Future کر دیا گیا۔ امیج پیٹرن، جس میں سب سے زیادہ Organic Unity کی ضرورت تھی، ایک لا یعنی "کولاج" کی صورت میں بدل دیا گیا۔ فاروقی صاحب کو دوش دینا غلط ہے۔ وہ ایک نقّاد تھے، رہنما تھے، منتظم نہیں تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان 'زیادتیوں' کا جو ادب کی مختلف اصناف کے ساتھ اور زبان کی سلیقہ مندی کے ساتھ روا رکھی گئی تھیں، نوٹس لینے پر بھی وہ کچھ نہ کر سکے اور پھر، بوجوہ دیگر بھی، یہ تحریک ایک شوریدہ سر دریا سے کم ہوتے ہوتے ایک مضمحل نالے کی طرح بہنے لگی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مابعد جدیدیت

 

بیکٹؔ نے موضوع سے زیادہ ’فارم‘ اور اسلوب کی طرف توجہ مبذول کی۔ جب 1969میں اسے نوبل پرائز سے نوازا گیا تو وہ Meta-literary تجربات کے لیے تیار تھا۔ انہی تجربات سے مملو اس کی زندگی کی آخری تحریر Stirrings Still تھی۔ اس میں بیکٹ نے ڈرامہ، فکشن اور شاعری کے درمیان حدودِ فاصل کو ملیا میٹ کرتے ہوئے (اپنی دانست میں) ایک نئی صنفِ ادب ایجاد کرنے کی سعی کی۔ لیکن نتیجہ جو برآمد ہوا وہ خاطر خواہ نہیں تھا۔ یہ تحریر اس کی پرانی تحریروں کی صدائے باز گشت بن کر رہ گئی اور نقادوں نے اسے substance کی جگہ پر shadow کہا۔ پھر بھی یہ بات مسلّم ہے کہ بیکٹ "پوسٹ ماڈرنزم" کا جنم داتا ہے۔ فکشن کے بارے میں Jean-Francois Lyotard یاں فرنسائے لیوتارد کی دو نئی اصطلاحیں معرض وجود میں آئیں۔ انہیں Meta-narrative اور Little Narrative کہا گیا۔

 

Beat Generation ایک امریکی اصطلاح ہے اور اسے جیک کیروایک Jack Kerouacنے رواج دیا۔ یہ اس دور کی امریکی جوان نسل کے لا سمت سفرِ زندگی کو موسیقی کی اصطلاح beat یعنی رقص کی 'دما دم دم' سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی لا یعنی صوتی تکرار کا استعارہ ہے۔ میں جب بھی اس کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے یہ شعر یا د آ جاتا ہے۔

 

بیا جاناں، تماشہ کن، کہ در انبوہِ جانبازاں
بصد سامانِ رسوائی، سرِ بازار می رقصم

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، ا س کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے
جن شخصیات یا واقعات نے تاریخ وار اس منظر نامے کو ترتیب دیا، اس میں 1953ء کے دوران Waiting for Godot کی اسٹیج پر پروڈکشن ہے، 1956 میں Howl کی اشاعت، 1959ء میں Naked Lunch کی اشاعت، اور 1969میں دریداؔ Jacques Derrida کا تاریخ ساز لیکچر ہے، جو اس وقت کی تنقیدی تھیوریوں کو چیلنج کرتا ہے۔ اس لیکچر کا عنوان ہی اپنے آپ میں معنی خیز تھا۔ Structure, Sign and Play کے عنوان سے اس لیکچر کے سینکڑوں ڈرافٹ تیار ہوئے اور اس پر رائے زنی میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور اخباروں کے مبصروں نے حصہ لیا۔

 

اردو ادب میں مابعد جدیدیت

 

اردو میں پوسٹ ماڈرنزم کا صحیح متبادل کب منصہ شہود پر آتا ہے، اس کے لیے شاید سالہا سال تک انتظار کرنے کی ضرورت نہ پڑے، کیوں کہ جدیدیت کی تحریک میں وہ عناصر بھی شرکت فرما چکے ہیں، جو غزل جیسی سکّہ بند صنف میں بھی اس قسم کے مصارع یا اشعار کہتے ہیں اور اپنی دانست میں "جدید" سے ایک قدم آگے "جدید تر" ہونے کا ثبوت دیتے ہیں!۔ (درج ذیل اشعار میں شعرا کے اسمائے گرامی بوجوہ حذف کر دیے گئے ہیں۔)

 

ع۔۔۔ سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا
؂ بکرا مَیں مَیں کرتا ہے
بکری منمناتی ہے
؂ کچھوی کے پیٹ میں تھا بہت دردِ زہ، جناب
مرغے کی بانگ سنتے ہی انڈے نکل پڑے
؂ اے دردِ بے لباس، چلو اسپتال میں
شاید کہ کوئی نرس ہی تجھ پر پھسل پڑے
؂ ایڑی اٹھی تو چوٹی تک اٹھتی چلی گئی
ہم سر پہ پاؤں رکھ کے جو بھاگے تو دم لیا
؂ میری بھّدی ناک پر نقشہ تو ہے، مکھّی نہیں ہے
خود اُڑوں؟ نقشہ بناؤں، کیا کروں میں؟ تم بتاؤ
؂ بند ہی رہتا تو خوشبو کا کوئی امکاں نہ تھا
گانٹھ سا غنچہ تھا، چاقو سے جو کاٹا، کھِل گیا

 

باقر مہدی کی ایک نظم جو انہی دنوں شائع ہوئی تھی، اس طرح شروع ہوتی ہے۔

 

اب موصوف رحلت فرما چکے ہیں
بلب جلا کر انگلی کاٹی
نیلے خون سے نظمیں لکھیں

 

میرا جی کی کتاب "اس نظم میں" بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔
بمبئی کی ایک ادبی نشست میں موصوف نے ایک استفسار کے جواب میں کہا، (رپورٹ ایک روزانہ اخبار کے ادبی کالم میں چھپی)، کہ بلب جلانے کا مطلب یہ ہے کہ رات کا وقت تھا اور بلب بجھانے کے وقت کمرے میں اندھیرا تھا اور یہ کہ شاعر کو اگر نیند نہ آئے تو وہ کیا کرے گا؟ نظمیں ہی تو لکھے گا۔ انگلی کاٹنے کا استعارہ ہمہ جہت ہے۔ سیاہی نہ ہو تو خون سے ہی لکھا جا سکتا ہے۔ اگر ایک ترقی پسند شاعر یہ کہہ سکتا ہے، "کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے!" تو ایک "جدیدیت پسند" شاعر یہ کیوں نہیں کہہ سکتا، کہ نیلی روشنائی میسّر نہیں تھی، اس لیے اپنی انگلی کاٹی اور نیلا خون وافر مقدا میں اکٹھا کر لیا جس سے کہ نظم لکھی جا سکے۔ یعنی دوات سوکھی پڑی تھی، اسے نیلے خون سے بھر لیا۔ یہ بھی استعارے کا ایک پہلو ہے کہ فاؤٹین پَین خریدنے کی مالی پوزیشن میں شاعر نہیں تھا۔ انگلی کاٹنے کی جہت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ترقی پسند شاعروں کے پاس (اگر ان کی متاعِ لوح و قلم چھِن گئی تو) انگلیاں تو بہر حال تھیں۔ ہمارے پاس تو ما سوا انگلی کاٹنے کے لکھنے کا اور کوئی وسیلہ بھی نہیں ہے۔

 

پڑھ کر کچھ ہنسی بھی آئی اور کچھ افسوس بھی ہوا۔ ادبی نامہ نگار کی اپنی رگِ ظرافت پھڑکی تھی یا اسے موصوف سے کوئی بدلہ چکانا تھا کیوں کہ اس نے مزے لے لے کر، دم دے دے کر، ایک ایک مصرعے پر رائے زنی کی تھی۔۔۔۔

 

پاکستانی ادب، آمریت اور جدیدیت

 

اوپر جو کچھ بھی لکھا گیا ہے، وہ انڈیا کے حوالے سے تو امرِ واقع ہے، صد فی صد درست ہے، لیکن پڑوسی ملک پاکستان پر اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔ 1965ء کی جنگ کے بعد چونکہ دونوں ملکوں کے مابین ڈاک کے ٹکٹوں کی پرانی دروں پر رسالوں اور کتابوں کا آناجانا بند ہو گیا تھا اور لفافہ بند خطوط کو بھی اب سینسر کی چھلنیوں سے گذارا جانے لگا تھا، (فون ویسے ہی دستیاب نہیں تھا!) اس لیے گذشتہ نصف صدی میں اردو ادب پر جو کچھ وہاں بیتی، عسکری آمرانہ دورانِ حکومت کے دو یا تین دورانیوں میں جو کچھ اہلِ قلم پر گذرا، کون کون کال کوٹھری میں بند ہوئے، کن کن کے خلاف مقدمے چلائے گئے، کون کون کھُلی منڈی میں آمروں کے ہاتھوں بِک گئے اور سرکاری عہدوں، انعاموں اور ایوارڈوں کو اپنے سینوں پر سجا کر بیٹھ گئے، اس کا پتہ پاکستان میں تو سب کو چلتا رہا، لیکن انڈیا کے اردو ادیبوں، شاعروں اور قارئین کی اکثریت اس سے بے بہرہ ہی رہی۔بہر حال اس صورت حال کو سمجھنے کے لیے کچھ پیچھے جانا ہو گا۔

 

میرا جی کی کتاب "اس نظم میں" بہت پہلے چھپ گئی تھی اور عملی تنقید کے کچھ معمولی نمونوں پر مشتمل تھی لیکن اس نے بہر حال ایک نئی راہ دریافت کی اور اپنے پیچھے آنے والوں کی رہنمائی کی۔ وزیر آغا بھی فعال تھے اور 'اوراق' کے علاوہ ہر برس ان کی کوئی نہ کوئی نئی کتاب چھپ جاتی تھی۔ ان کی "نظم جدید کی کروٹیں" چھپ چکی تھی۔ یہ نظم جدید کے تنقیدی ادب میں ایک اچھا اضافہ تھا۔ انڈیا میں ڈاکٹر حامدی کاشمیری نے اپنی کی کتاب "جدید اردو نظم اور یورپی اثرات" 1968 میں شائع کی تھی۔ یہ تینوں کتابیں جس طرح جدید نظم کے کچھ گنتی کے شعرا کا جائزہ لیتی ہیں، ان سے معاصر پاکستانی اردو ادب پر انڈیا کی زیر بحث "جدیدیت" کی تحریک کے مثبت یا منفی اثرات کا کچھ پتہ نہیں چلتا۔
لیکن ایک بات ظاہر ہے کہ پاکستانی ادب پر اس کے اثرات سرے سے مرتب ہی نہیں ہوئے۔ انڈیا کی اپنی حدود میں ہی مقید ہو کر رہ گئے۔ اگر bits & pieces کی شکل میں(انیس سو ساٹھ سے آج تک، یعنی نصف صدی میں "زمان" کی سطح پر) اور (کراچی، لاہور، پنڈی۔اسلام آباد، یعنی تینmetropoltan ادبی مرکزوں کی "مکان" کی سطح پر)یہ اثرات وارد بھی ہوئے تو دب کر رہ گئے۔ قصہ کوتاہ یہ کہ by and large پاکستان اس بدعت سے بچ گیا جو انڈیا میں بوجوہ (گروپ بندی ایک وجہ تھی، لیکن کچھ اور بھی تھیں) در آئی تھی۔

 

جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔
پاکستان کی صورت حال کے بارے میں یہ لکھ کر ادبی مورخ عہدہ برا تو ہو سکتا ہے لیکن اس کے پاس اس وقت اس امر کے ثبوت کے لیے کوئی بھی سند نہیں ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ بہر حال historical hindsight کے طفیل کسی بھی محقق کو یہ علم ہو سکتا ہے کہ اس کی دو یا تین وجوہ صریحاً دیکھی جا سکتی ہیں۔ایک تو عسکری (یا سِویلین بھی!) آمرانہ ادوار میں شاعر کی تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز رہی کہ ترسیل کی سطح پر اگر صاف صاف نہ بھی لکھا جا سکے تو غزل کے پرانے، بارہا آزمودہ، استعاروں سے کام چلا کر جبر و تحدید و اکراہ کی مذمت کی جائے۔ جیل کی اسیری تو صرف چند اہلِ قلم کو ہی میسّر ہوئی لیکن ایک یا دو پوری نسلیں زنداں، محبس، قفس، زنجیر، ہتھکڑی، بیڑی، قدغن، وغیرہ کے باصری استعاروں سے کام چلا کر غزلیہ یا نظمیہ ادب تخلیق کرتی رہیں۔ انہیں وقت ہی نہیں ملا کہ وہ اس ذہنی عیاشی کو، اور نہ سہی، تو ’وقت کٹی‘ کا مشغلہ سمجھ کر ہی انڈیا کی جدیدیت کی تقلید کریں۔ پاکستان میں اسProtest Literature کو کئی نام دیے گئے۔ لیکن سب سے زیادہ موزوں نام شاید "مزاحمتی ادب" تھا۔ پرانے ترقی پسندوں میں جن لوگوں نے بڑھ چڑھ کر لکھا ان میں فیض تو تھے ہی، احمد ندیم قاسمی، احمد فراز، جوش، جون ایلیا، جوہر میر، خاطر غزنوی، تاج سعید، ظہیر کاشمیری (بہت سے نام بھول گیا ہوں) وغیرہ بھی شامل تھے۔ ساقی فاروقی جیسے غیر سیاسی شاعر نے بھی ایک مختصر، مگر بھرپور نظم "سوگ نگر " کے عنوان سے لکھی۔ یہ نظم راقم الحروف کو لندن میں ساقی نے سنائی بھی تھی اور آج تک اس کا اثر تازہ ہے

 

"چوک چوک خامشی کھڑی ہوئی
جس کے بند کان میں
ایک سبز خوف کے
سرخ زہر میں بجھی
زرد زرد بالیاں پڑی ہوئیں
خون پوش راستے
راستوں میں سولیاں گڑی ہوئیں
رات کے طلسم سے
لوگ اداس بھی نہ تھے
روشنی خیال کے آس پاس بھی نہ تھی۔۔۔۔

Image: Vassily Kandinsky




زندگی کبھی سر اٹھائے گی؟

زندگی کبھی سر اٹھائے گی؟
جانتے ہو تاریکی کا تسلسل کب ٹوٹے گا
جب ہم جینا سیکھ جائیں گے
ابھی تو ہم جینے کی کوشش میں ہیں
ابھی ہم نے زندگی کو دیکھا نہیں
ہمارے ارد گرد سنپولیے ہیں
جو سر اٹھاتے ہی
زندگی میں زہر بھر دیتے ہیں
سنا ہے پچھلے وقتوں میں
زندگی روشن تھی
بھینسوں کا دودھ سفید تھا
ہم نے اپنے وقتوں میں گدلا دیکھا
ہمارے بچے ہماری عمر کو پہنچ کر کالا دیکھیں گے
ہم نے پھلوں اور سبزیوں کو
رنگ ساز کے ہاتھوں سے رنگا اور تیزاب میں ڈبو کر کھایا
بچے رنگ میں اگتا دیکھیں گے
تیزاب تو ان کی رگوں میں دوڑے گا
سوچا تھا خواہشات کےسمندر کا بہاؤ موڑ لیں گے تو جینا سیکھ جائیں گے
زمین کو جنگیں کھا جائیں گی
سمندر بہاؤ کیسے بدلے گا
وہ تو پھیل جائے گا
نیک خواہشوں کے اگنے کو
کوئی خطہءِ زمین نہیں بچے گا
تو جینا کیسے سیکھیں گے؟
تاریکی کا تسلسل کیسے ٹوٹے گا؟
شاید زندگی اب فنا کے دور میں داخل ہونے کو ہے
اور روحیں اپنے ابدی ٹھکانے کی طرف پرواز کرنے کو ۔۔۔۔۔۔

Image: Aziz-Anzabi