A Story Retold

His tears watered the little sapling
their love had grown
after she had gone
and manured it with
ashes of memories
remains of rotten feelings
and loam of broken desires
He oxiginated it with mournful sighs
till it grew too high
and you know what?
Tough covered with Evening Pride
its branches never bore fruit
But its roots
spread to the infiniteness
and sucked life
from the burrows of his soul.




بچپن میں تصورِ خدا کی تشکیل اور نفاذ دین پر اس کے اثرات

[blockquote style="3"]

ادارتی وضاحت: اس مضمون کے مندرجات مصنف کے ذاتی مشاہدے، مطالعے اور سوچ بچار کا نتیجہ ہیں اور ان سے کسی بھی قومیت کے حامل افراد کی دل آزاری مقصود نہیں۔ یہ مصنف کی رائے ہے قطعی یا حتمی فیصلہ نہیں۔ مضمون نگار کی رائے سے اختلاف کی صورت میں لالٹین کے صفحات جوابی نقطہ نظر کی اشاعت کے لیے حاضر ہیں۔

[/blockquote]

کسی نے کہا تھا کہ انسان کا بچپن ساری عمر اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔ افراد ہوں یا اقوام ان کے مزاج اور نفسیات کی تشکیل میں ان کے بچپن کے تصورات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ افراد یا اقوام کے مزاج اور نفسیات کا درست مطالعہ کرنا ہو تو ان کے ایام طفولیت (بچپن) اور ان کے ماضی کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح کسی فرد یا قوم کے دینی مزاج کا اندازہ بھی ان کے بچپن میں لا شعوری طور پر تشکیل پانے والے تصورِ خدا کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔
میرا پہلا تصورِ خدا میرے سیپارے کی پہلی استاد ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون تھیں۔ ہم انہیں بوا جی کہا کرتے تھے۔ وہ بڑے جثے کی رعب دار خاتون تھیں۔ وہ اپنے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ہمیں سبق بھی پڑھاتی جاتی تھیں۔ وہ دل کی نرم اور زبان کی سخت تھیں۔ ان سے کبھی ایک بار بھی مجھے مار نہیں پڑی تھی، نہ ہی کبھی کسی اور کو میرے سامنے انہوں نے مارا۔ پھر بھی میں ان سے بہت ڈرتا تھا، لیکن اپنے لیے ان کی دبی دبی سی شفقت بھی محسوس کرتا تھا۔ دراصل میں ان سے بہت حیا کرتا تھا۔ چھٹی کر لیتا تو ان کے سامنے جانے میں مجھے ڈر سے زیادہ شرمندگی محسوس ہوتی تھی اور یہ احساس ڈر سے زیادہ سخت ہوتا تھا۔ بچپن میں مجھے جب بھی خدا کا خیال آتا تو مجھے ایک عظیم الجثہ خاتون نما ہستی نظر آتی، جو گویا برتن دھوتے دھوتے کائنات کا انتظام بھی دیکھتی جاتی تھی۔ باوجود یہ کہ خدا کے لیے مذکر کا صیغہ بولا جاتا ہے، لیکن میرا تصورِ خدا ایک عظیم الجثہ خاتون کو دیکھتا تھا۔ بعد میں علم و آگہی نے اس تصور کو بہت بدلا۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچہ پہلے پہل اپنی ماں کے تاثر سے خدا کا تصور تشکیل دیتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد اس تصور خدا میں ماں کی جگہ باپ آ جاتا ہے جو زیادہ مضبوط اور محافظ محسوس ہوتا ہے۔ باقی کی ساری عمر اپنے باپ جیسے خدا کا تصور انسان کے ذہن میں موجود رہتا ہے۔ میں اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ بچہ اپنا تصور خدا ماں باپ کے علاوہ اپنے پہلے استاد یا اساتذہ سے بھی اخذ کرتا ہے، جیسا کہ میرا تجربہ تھا اور اس کی تائید دیگر لوگوں کے تجربات سے بھی ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنے بچپنے میں اس تجربے سے گزرتا ہے اور اس کو سمجھ سکتا ہے۔ بہت سے بچے اپنے مذھبی پیشوا سے خدا کا تصور لیتے ہیں۔

 

ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔
ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔ مسیحیت میں تو خدا کے لیے باپ کا لفظ ہی اختیار کر لیا گیا، ہندو مت میں دیوتا باپ جیسے تصور کی حامل ہستیاں ہیں اور دیویاں ماتا یعنی ماں جیسے ہستیاں۔ اسلام جیسے توحید پرست مذھب، جس میں تجسیمِ خداوندی اور انسان جیسے تصورِ خدا کا کوئی تصور ہی نہیں، اس میں بھی مختلف مادری اور پدری اصطلاحات کے ذریعے خدا کی رحمت اور غضب کے تصور کو سمجھایا گیا ہے۔ مثلًا حدیث میں آیا ہے کہ، "مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔"، اور "خدا ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔" خد اکے لیے ربّ کا لفظ مستعمل ہے جو ایک لحاظ سے باپ یا سرپرست کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ ہم اپنے لیے فرزندانِ توحید کی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔
پھر جیسے والدین ہوں گے، خاص طور باپ جس طرح کا ہو گا، اور جس طرح کے پہلے اساتذہ ہوں گے، ویسا ہی تصورِ خدا ایک بچے کے ذہن میں بیٹھے گا اور پھر وہ ساری عمر اسی تصور کے تاثر میں گزار دے گا۔ والدین اور بچپن میں ملنے والے پہلے اساتذہ اگر مہربان ہوں گے تو ایک مہربان خدا کا تصور ابھرے گا اور اگر سخت گیر، خود غرض یا غیر ذمہ دار وغیرہ ہوں گے تو ویسا ہی تصور خدا بچے کے ذہن میں ہمشہ کے لیے بیٹھ جائے گا۔

 

ہمارے معاشرے میں مذھب ایک غالب عنصر کے طور پر پایا جاتا ہے۔ مذھب میں خدا کا تصور بدیہی طور پر مرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ جیسا تصور خدا کا ہوگا ویسا ہی دینی مزاج اس کے ماننے والوں کا ہوگا۔ مثلًا ہمارے ہاں خدا کی بے نیازی کا یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اس کو دوسروں کے احساسات یا احتیاجات کی کوئی پروا نہیں۔ فوتگی کے موقعوں پر اس قسم کے جملے سن کر آپ خدا کے بارے میں اس تصور کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ یہ تصور خدا کی رحمت کے تصور سے مخالف تصور ہے۔

 

ہمارے معاشرے کا تصورِ خدا کیا ہے اور وہ کن تاثرات سے تشکیل پایا ہے یہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری ہے تا کہ ہم اپنے لوگوں کے تصورِ خدا اور پھر تصورِ مذھب اور اس سے پیدا ہونے والے دینی مزاج کو درست طور پر سمجھ سکیں۔
میری رائے میں ہمارے ہاں علاقائی اعتبار سے دو بڑی دینی روایات پائی جاتی ہیں: ایک پختون علاقے کی دینی روایت اور دوسری ہندوستانی علاقوں سے آنے والی دینی روایت۔

 

ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مذھب پر پختون علماء اور خطباء کا بڑا غلبہ ہے۔ پختون سماج میں روایتی طور پر باپ ایک سخت گیر شخصیت ہوتا ہے۔ اولاد سے اس کا تعلق ڈر، احترام اور اطاعت کا ہوتا ہے۔ محبت فطری طور پر ہوتی تو ہے، لیکن یہ جذباتی حدوں تک عمومًا نہیں پہنچ پاتی۔ نیز یہ محبت دائرہ اظہار میں بھی کم ہی آ پاتی ہے۔ دوسری طرف پختون بچوں کی ایک بڑی تعداد کو بہت کم عمری میں مدارس میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔

 

مدارس میں داخل کرا دیئے جانے والے پختون بچوں کی اتنی کم عمری میں والدین سے دوری، والدین سے ان کے جذباتی تعلق کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کا اثر خدا کے ساتھ ان کے تعلق پر بھی پڑتا ہے اور پھر یہی اثر ان کا دینی مزاج بھی تشکیل دیتا ہے، جہاں جذبات، محبت اور رحمت کی جگہ خدا سے وابستگی کے ساتھ ایک گونا دوری کا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح وہ والدین کی شفقت اور محبت اور ان کی دیکھ بھال کے بغیر جانا سیکھ لیتے ہیں، اسی طرح وہ خدا کی محبت اور رحمت اور اس کے محتاج ہونے کے تصور سے بھی بڑی حد تک آزاد ہوتے ہیں۔

 

عمومًا ناظرہ اور حفظ قرآن کے درجے کے پختون اساتذہ، درج بالا بیان کی روشنی میں، سخت گیر ہوتے ہیں اور بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے انفرادی توجہ دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔ ان میں کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو بد اخلاقی کا شکار ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بھی بناتے رہتے ہیں۔ جسمانی تشدد تو عام سی بات ہے جسے مدارس میں پوری طرح 'قانونی' اور 'اخلاقی' جواز دیا گیا ہے۔ بچے کی ابتدائی عمر کے ان اساتذہ سے بچے کے کوئی دلی تعلق نہیں بن پاتا۔ استاد شاگرد کا تعلق ادب، احترام، اطاعت، خوف، خدشے اور بعض صورتوں میں ظلم اور مظلوم کا ہوتا ہے۔ اب یہی تاثر خدا کا تصور تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

 

ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا
یہ ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے روایتی دینی طبقے میں دین پر عمل کے میدان میں خدا سے محبت، اس کی رحمت کے احساس سے عاری، ایسا قانونی اور فقہی مزاج پاتے ہیں جو خشک قسم کی اطاعت کو کُل دین کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو اسلامائز کرنے کی برسوں کی کوششوں کا محور کیا ہے؟ محض چند اسلامی شقوں کو آئین اور قانون میں شامل کروانا ہی ان کا مطمح نظر ہے۔ اسلام کے نفاذ کا منتہا اسلامی سزاؤں کے اجراء کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا، یعنی خواتین کا پردہ، ان کے سکول جانے پر پابندی، مردوں کو داڑھی رکھوانا، انگریزی لباس کی حوصلہ شکنی، بتوں کو توڑنا، وغیرہ۔ ان کے اس سارے عمل میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اطاعت، قانون، جبر، خوف اور تشدد کے عناصر شامل ہیں۔ کہیں بھی رحمت، ہمدردی، بھائی چارہ، انسانی مسائل اور مشکلات کے حل اور ازالے کی کوئی منظم اور با مقصد کوششوں کا عمل دخل نہیں۔ خدا کی بے نیازی کا مندرجہ بالا مخصوص تصور بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ یعنی جیسا تصورِ خدا ان کو ملا، ویسا تصورِ دین ان کے ذہنوں میں بیٹھا، ویسا ہی دینی مزاج تشکیل پایا اور اختیار ملنے پر نتائج بھی اس کے مطابق ہی برآمد ہوئے۔

 

مدارس میں پائی جانے والی دوسری دینی روایت ہندوستانی علاقوں سے پاکستان میں آئی ہے۔ ہندوستانی والدین عمومًا سخت گیر نہیں ہوتے۔ اسی کا اثر ہے کہ ہندوستانی (اب پاکستانی) اساتذہ بھی زیادہ سخت گیر نہیں ہوتے۔ دین کا فقہی اور قانونی پہلو اگرچہ وہاں بھی غالب ہے، اور نفاذِ اسلام اور غیر ریاستی جہاد کے تصورات میں یہ لوگ بھی پختون دینی روایت کے ساتھ نظریاتی اشتراک رکھتے ہیں لیکن ان کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ایسی کارروائیوں میں حصہ لیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کی طرف سے ان کی صوفی روایت کے تحت خدا کی رحمت اور محبت کا پرچار بھی کیا جاتا ہے۔ اس سب کی نفسیاتی وجہ والدین اور اساتذہ کی نرم مزاجی ہے جو تصور خدا ور پھر تصورِ دین میں ڈھل کر ان کے اس دینی مزاج کی تشکیل کا سبب بنی۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچپن کے تصور خدا میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ بچپن کا تصورِ خدا شعور کی عمر میں علم اور فہم کی زیادتی سے تبدیل بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کے باجود بچپنے کا تصورِ خدا مکمل طور پر غائب نہیں ہو پاتا۔ کہیں نہ کہیں اس کا اثر جھلکتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو اپنے بچپن کے تصورِ خدا کو علم و فہم کی کے ذریعے بدلنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں یا علم و فہم کی راہ سے تصورِ خدا میں آنے والی تبدیلی کو قبو ل کرتے ہیں۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔ ایسا مطالعہ جس میں اپنے پہلے کے تصورِ خدا کو معطل کر دیا جائے اور بلا حجاب قرآن کو اپنے دل کو مخاطب کرنے دیا جائے۔ اس سے جو تصورِ خدا پیدا ہوتا ہے وہی حقیقی تصورِ خدا ہے۔ اس مطالعہ میں حتی الوسع اپنے تعصبات اور پہلے کے تصورات کو پورے شعور کے ساتھ الگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کہیں اپنے کی خیالات کی بازگشت قرآن کی تلاوت میں بھی سنائی دے رہی ہو۔ ایسا مطالعہ ہی آپ کو خدا کے حقیقی تصور سے روشناس کروا سکتا ہے جو آپ کے دینی مزاج کو بھی درست کر سکتا ہے۔



پھیری والا چڑیا گھر

بیساکھ کی تپتی دوپہر، ہر طرف گرمی اور بھوسے کا غبار پھیلا ہوا تھا۔ لوگ گندم کاٹ رہے تھے۔ سمیٹ رہے تھے۔ بابے چپ شاہ کے مزار پہ میلا لگ گیا تھا۔
بیساکھ کی تپتی دوپہر، ہر طرف گرمی اور بھوسے کا غبار پھیلا ہوا تھا۔ لوگ گندم کاٹ رہے تھے۔ سمیٹ رہے تھے۔ بابے چپ شاہ کے مزار پہ میلا لگ گیا تھا۔ بیساکھ کی آخری جمعرات سے لے کر اتوار تک بابے چپ شاہ کے مزار پر میلا لگتا تھا۔ لوگ دور دور سے موضع غوث پور میں آتے۔ بابے کے مزار پہ حاضر دیتے۔ چڑھاوے چڑھاتے۔ دیگیں پکتیں۔ نیاز تقسیم کی جاتی۔ ڈھول کی تھاپ پہ دھمالیں ڈالی جاتیں، دودھ جلیبی کی دکانیں سجتیں، پکوان پکتے، برف کے رنگ برنگے گولے ریڑھیوں پر بنتے اور بکتے تھے۔ موت کے کنویں میں اسکوٹر چلتا۔ دودو روپے میں بارہ سنگھے، ببر شیر اور کالے ریچھ کے درشن ہو جاتے۔ گشتی چڑیا گھر میں پنجروں کے اندر یہ جانور سہمے سہمے بیٹھے رہتے۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر دیکھتے، گھورتے اور اشارے کرتے باہر نکل جاتے۔ نوجوانوں کی ٹولیاں کبڈی کھیلتیں۔ اس کے دل میں بار بار ایک خواہش کروٹ لے رہی تھی، پاسے مار رہی تھی کہ چپ شاہ کا میلہ دیکھنا ہے۔ جیب خالم خالی تھی۔ جیسے مائی پھاتاں کا منہ خالی ہے۔ بالکل خالی اور بغیر دانتوں کے منہ میں دیر تک روٹی پپولتی رہتی ہے جیسے انور ماشکی کو بخار ہوا تھا، اس کی مشک خالی پڑی تھی۔ میلہ بھی ضرور دیکھنا تھا۔ جیب بھی خالی تھی۔ چیلیاں والہ سے غوث پور دس میل کے فاصلے پر تھا۔ پورے دس میل۔ تانگے والا پانچ روپے کرایہ لیتا تھا۔ پانچ آنے کے پانچ جانے کے کل ملا کے دس روپے ہوگئے۔ میلے کی بہاریں بندہ خالی جیب کے ساتھ تو لوٹ نہیں سکتا تھا۔ پرانے کیکر کے نیچے بیٹھا کب تک اسی سوچ میں گم تھا کہ روپوں کا بندوبست کیسے کیا جائے۔ آخر کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا۔ سر اٹھا کے دیکھا تو سامنے نوری تھا۔ اَنو ترکھان کا شرارتی لڑکا۔

 

"کیوں بھئی شریفے کن سوچوں میں گم ہو؟" نوری نے کندھے پہ ہاتھ رکھے رکھے کہا۔

 

"یار غوث پور میں بابے چپ شاہ کا میلہ شرع ہوگیا ہے۔" اس نے نوری کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

 

"اوئے یہ ایسا کون سا حساب کا سوال ہے کہ تو سوچوں میں گم بیٹھا ہے۔ سارے پنڈ بلکہ سارے علاقے کو پتہ ہے کہ میلہ شروع ہوگیا ہے" نوری آلتی پالتی مار کر اس کے ساتھ کیکر کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ گیا۔

 

"یار پتے کو چھوڑ یہ بتا میلہ دیکھا کیسے جائے" شریفے نے نوری کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کا۔

 

"بھئی یہ بھی کوئی حکیم لقمان سے پوچھنے کی بات ہے؟ ان دو آنکھوں سے میلہ دیکھا جائے گا اور کیسے!" نوری نے اپنی بات پہ خود ہی قہقہہ لگایا۔

 

پھر یہ کہ ہم ایک من گندم چوری کریں گے بابو تیلی کی دکان پر بیچیں گے اور میلے میں جا کر عیاشی کریں گے
"دوآنکھیں تو رب سوہنے نے ہر ایک کو دی ہیں اور پیدا کرتے ہی دے دی ہیں۔ پر عقل مَت کسی کسی کو ہی دی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ بے وقوفا میلہ دیکھنے کے لیے دو آنکھوں کے ساتھ ساتھ روپے بھی چاہیئں۔ جیب خالی ہے جیسے تیرا یہ مٹکے جیسا سر بھیجے سے خالی ہے۔" اس نے طنزیہ انداز میں نور ی کا تمسخر اڑایا۔

 

"پیسوں کا انتظام کیسے ہو گا؟ سوچنا پڑے گا" نوری یہ کہہ کر گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

 

"جلدی سے کوئی طریقہ سوچ یار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیسوں کا بندوبست کر کہیں سے !!!"شریفے نے کہا۔

 

"اتنی سی بات تو تجھے سمجھ آہی جانی چاہیے کہ روپے نہ تو درختوں پر لگے ہیں کہ اتار لیں اور نہ کہیں زمین میں دبا رکھے ہیں کہ وہاں سے نکال لاؤں۔۔۔۔۔۔ کوئی ترکیب لڑانی پڑے گی پیسوں کا انتظام کرنے کے لیے۔۔۔۔۔۔۔" نوری نے تنکے سے زمین پر آڑھی ترچھی لکیریں کھینچتے ہوئے کہا۔

 

"لڑا پھر تو جنتر منتر"

 

نوری کافی دیر تک لکیریں کھینچتا رہا۔ سوچتا رہا۔ وہ کیکر کے نیچے بیٹھ کر اُسے دیکھتا رہا۔ کافی دیر سوچ بچار کرنے کے بعد وہ اٹھا اور اسے اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا۔ نوری آگے آگے تھا اور وہ اس کے پیچھے پیچھے۔ اس کا رخ پنڈ سے باہر کی طرف تھا۔ ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گاؤں سے باہر آ گئے۔ ہر طرف کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ کھیت جن کے کناروں پر شیشم کے درخت سینہ تانے کھڑے تھے۔ لمبے تنوں اور چھوٹے پتوں والے شیشم کے درخت۔ کھیتوں کے اندر ہر طرف گندم کے چھوٹے چھوٹے ٹنڈ تنے بکھرے ہوئے تھے۔ گندم کی فصل اٹھا لینے کے بعد کھیت ہل کے منتظر تھے۔ چلتے چلتے وہ چوہدری نذیر کے ڈیرے کے قریب پہنچ گئے۔ دوپہر کی تپتی دھوپ ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ وہ دونوں چپ چاپ چل رہے تھے۔

 

"یار یہ چوہدری نذیر کے ڈیرے پر کیا کرنا ہے ؟" بالآخر شریفے نے چپ کا روزہ توڑا۔

 

"چوہدری نے آج ہی گندم سمیٹی ہے کھیتوں سے اور لا کر ڈیرے کے صحن میں ڈھیر کر دی ہے۔ کل تک وہ گندم بوریوں میں بھر کر منڈی میں پہنچا آئے گا"

 

"تو پھر؟" وہ بات کی تہہ تک ابھی تک نہیں پہنچ سکا تھا کہ یہ لوگ چوہدرے کے ڈیرے پرکیوں جا رہے ہیں؟

 

"تو پھر یہ کہ ہم ایک من گندم چوری کریں گے۔۔۔۔۔۔۔ بابو تیلی کی دکان پر بیچیں گے اور میلے میں جا کر عیاشی کریں گے" نوری نے منصوبہ کھول کر رکھ دیا۔ اُس کے اعصاب پر خوف طاری ہو گیا۔

 

"یار کہیں پکڑے نہ جائیں؟" بالآخر یہ خوف لفظوں کی صورت اس کی زبان پر اتر آیا۔

 

"تو فکر نہ کر، کام نہایت صفائی سے ہو گا، پکڑے جانے کا کوئی خطرہ نہیں حوصلہ کر"

 

"دیکھ لے چوہدری کو پتا چل گیا تو لم لیٹ کرکے جوتے مارے گا" شریفے کا خوف بدستور قائم تھا۔

 

"تجھے کہا ہے ناں کہ اس کے فرشتوں کو بھی خبر نہ ہوگی" نوری نے انتہائی پراعتماد لہجے میں کہا۔

 

بابو نے کنڈے پر بوری تولی، من سے پانچ سیر کم تھے۔ بابو نے یقینا ڈنڈی ماری تھی۔ بوری میں من بھر سے پانچ سات سیر زیادہ ہی دانے تھے۔
ڈیرے پر پہنچ کے وہ دونوں ح جامن کے گھنے پیڑ کے نیچے کھڑے ہوگئے۔ شِکر دوپہر میں ڈیرہ سنسنان پڑا تھا۔ کسی ذی روح کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ لوگ کام کاج ختم کرکے گھرو گھری پہنچ چکے تھے۔ جامن کے درخت کے نیچے لگے نلکے سے انہوں نے اپنی پیا۔ قمیض کی آستین سے منہ پونچھا۔

 

"تو ادھر کھڑا رہ، آس پاس نظر رکھ، میں اندر سے مال لے کر آتا ہوں۔ اگر کوئی گڑ بڑ ہو تو سیٹی بجا دینا۔"
نوری ڈیرے کی طرف بڑھا، اچک کر وہ کچی دیوار پر چڑ ھ گیا۔ کچھ دیر تک وہ دیوار پر بیٹھا اندر جھانکتا رہا اور پھر چھلانگ لگا کر اندر اتر گیا۔ شریفا جامن کے درخت کے نیچے کھڑا ہو کر ادھر ادھر دیکھا رہا تھا۔ جامن کی چھاؤں کے نیچے پتہ نہیں کیوں اسے ٹھنڈے پسینے آ رہے تھے جیسے تاپ چڑھ گیا ہو۔ دل دھک دھک کر رہا تھا۔ دل کے دھڑکنے کی آواز کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کوئی آنہ جائے۔ پکڑے نہ جائیں۔ پکڑے گئے تو وہ چھترول ہوگی کہ نانی یاد آ جائے گی۔

 

کچھ دیر بعد پٹ سن کی آدھی بھری ہوئی بوری کچی دیوار پر نمودار ہوئی۔ اس کے بعد نوری دیوار پر آبیٹھا۔

 

"او ئے شریفے ادھر آ" اُس نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ وہ لرزتے کانپتے ہاتھوں اور پیروں کے ساتھ اس کی طرف بڑھا۔

 

"اوئے مرد بن مرد ! یہ کیا تجھے ملیریا ہوگیا ہے کچھ نہیں ہوتا۔ یہ لے بوری پکڑ" نوری نے طنزیہ انداز میں کہا اوربوری نیچے سرکادی۔ من بھر دانوں کا بوجھ کندھوں پر اٹھا کے وہ کھڑا ہو گیا۔ نوری نیچے اترا۔ اب کیا کرنا ہے؟ شریفے نے کندھوں پر بوری کا توازن درست کرتے ہوئے کہا۔

 

"بابے گامے کے کھیتوں کی منڈیر پر جو سرکنڈے ہیں ناں ان میں بوری چھپا دیتے ہیں۔ میں بابو تیلی سے ابھی جا کر بات کرلوں گا۔ اندھیرا پڑنے پہ بوری اٹھا کر اسے دے آئیں گے" بابو تیلی پنڈ میں غلہ کا بیوپار کرتا تھا۔ نوری آگے آگے شریفا بوری اٹھا کے اس کے پیچھے پیچھے۔ نوری تو چوکنا ہو کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ شریفا پسینوں پسینی گردن گھما کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ بس ڈرتا ڈرتا اس کے پیچھے چلتا رہا۔ بابے گامے کے کھیتوں کے پاس سرکنڈوں میں بوری چھپا کے وہ دونوں گاؤں کی طرف چل پڑے۔

 

صبح سات بجے وہ بڑی نہر کے پل پر پہنچ گئے۔ پل کے ساتھ ٹانگوں کا اڈا تھا۔ مندی مصلی کا ٹانگہ غوث پور جانے کے لیے تیار تھا۔
گھر جا کر پتلی لسی کے گلاس چڑھائے، اچار کے ساتھ روٹی کھائی، پھر پرانے کیکر کی چھاؤں میں پہنچ گئے۔ شام تک نوری اور وہ کیکرکی چھاؤں میں گڈی چرا کھیلتے رہے۔ شام کے سائے گہرے ہوئے تو نوری اٹھ کر بابو تیلی کی دکان پر چلا گیا جبکہ اس نے گھر کا رخ کیا۔ اماں ہانڈی پکانے کے بعد تندوری پر روٹیاں لگا رہی تھی۔ وہ چپ چاپ چارپائی پر بیٹھ گیا۔

 

"شریفے آج توُ چپ چپ ہے" اماں نے آٹے کا پیڑا گھڑتے ہوئے پوچھا۔

 

"کچھ نہیں اماں" دراصل وہ اس وقت اضطراب اور خوشی کی درمیانی حالت میں تھا۔ اماں نے روٹیاں لگائیں۔ چبوترے پر پیڑے رکھے۔ ہانڈی رکھی۔ کندروی میں لپیٹ کر چنگیر کے اندر روٹیاں رکھیں۔

 

"آجا پُتر روٹی کھالے "

 

"اماں دل نہیں کر رہا"

 

"دو چار نوالے ہی کھالے۔ خالی پیٹ بندے کو بد دعائیں دیتا ہے"اماں نے کولی میں سالن ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ اٹھ کر چبوترے پر پہنچ گیا۔

 

پیڑھی پر بیٹھا تو اماں نے سالن کی کولی سامنے رکھ دی۔ اس نے دو چار لقمے زہر مار کیے۔ کھانا حلق سے نیچے نہیں اتر رہا تھا۔ پیتل کے گلاس سے دو گھونٹ پانی پیا تو روٹی نیچے ہوئی۔ اس نے ہاتھ کھینچ لیا اور چپ چپیتا چارپائی پہ جا کے بیٹھ گیا۔ نوری نے گلی میں آکر تین بار جھینگر کی آواز نکالی۔ وہ باہر نکلا۔ نوری گلی کی نکڑ پہ کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ اس کی طرف چل پڑا۔ وہ دونوں بابے گامے کے کھیت کی طرف چل پڑے۔ سرکنڈوں میں سے انہوں نے بوری اٹھائی۔ چھپتے چھپاتے بابو تیلی کی دکان پر پہنچے۔ بابو نے کنڈے پر بوری تولی، من سے پانچ سیر کم تھے۔ بابو نے یقینا ڈنڈی ماری تھی۔ بوری میں من بھر سے پانچ سات سیر زیادہ ہی دانے تھے۔ بابو ہاتھ دِکھا گیا تھا، وہ احتجاج بھی نہیں کرسکتے تھے۔ اس نے بوری تول کر ایک طرف رکھی۔ جیب میں سے سو سو کے آٹھ سرخ نوٹ نکالے اور نوری کو تھما دیے۔ بابو نے تولا بھی کم تھا اور اب قیمت بھی کم ادا کر رہا تھا۔ مگر وہ کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔ نوری نے چپ چاپ نوٹ پکڑ کے جیب میں ڈال لیے۔

 

"صبح سات بجے تانگوں کے اڈے پر پہنچ جانا"

 

"ٹھیک ہے، میں پہنچ جاؤں گا"یہ کہہ کر نوری نے اپنے گھر کا رخ کیا اور شریفے نے اپنے گھر کا۔

 

صبح سات بجے وہ بڑی نہر کے پل پر پہنچ گئے۔ پل کے ساتھ ٹانگوں کا اڈا تھا۔ مندی مصلی کا ٹانگہ غوث پور جانے کے لیے تیار تھا۔ شریفا اور نوری پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ تانگہ سواریوں سے بھر گیا تھا۔ مندی نے لاغر اور کمزور گھوڑے کو چھانٹا رسید کیا۔ ٹانگہ کچی سڑک پر ہچکوتے کھاتا چل پڑا۔ کوئی دو گھنٹے راستے کی دھول مٹی پھانکنے کے بعد وہ غوث پور پہنچ گئے۔ گاؤں کے باہر بابے چپ شاہ کا مزار تھا۔ میلہ زوروں پر تھا۔ مندی نے مزار کے قریب اتار دیا۔ کرایہ دے کر ان دونوں نے میلے کا رخ کیا۔ میلہ جوبن پر تھا۔ لوگوں کا جم غفیر تھا۔ نوجوانوں کی ٹولی ایک طرف کبڈی کھیل رہی تھی۔ وہ کچھ دیر کبڈی دیکھتے رہے۔ ایک جگہ درویش ڈھول کی تھاپ پر دھمال ڈال رہے تھے، وہاں کھڑے رہے۔ لوگوں کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہے۔ بے پناہ بھیڑ تھی۔ دونوں پسینے سے بھیگ گئے۔ پھیری والے چڑیا گھر کے دروازے سے انہوں نے دس دس روپے کے ٹکٹ لیے اور اندر داخل ہوگئے۔ پنجرے میں شیر ببر تھا، بھالو تھا، کوڈیوں والا سانپ بین پر رقص کررہا تھا۔ ایک پنجرے میں دو سہمے ہوئے بن مانس بیٹھے تھے۔ وہ چڑیا گھر دیکھ کر باہر نکلے۔ موت کے کنویں کا نظارہ کیا۔ بہت شدید بھوک لگ رہی تھی۔ وہ بھیڑ میں کہنیاں مار کے راستہ بناتے اچھے پہلوان کی دو دھ دہی کی ہٹی پر پہنچے۔ دودھ جلیبیوں کا آرڈر دیا۔ وہ کھائیں، بھوک باقی تھی۔ میٹھی سفید دودھ رس ملائیاں کھائیں۔ پیتل کے دو لمبے لمبے گلاس الائچی والے دودھ کے چڑھائے ۔ مزہ آگیا۔ سرورسا چھا گیا۔ نوری نے پیسے پوچھے۔

 

گلے میں چھتروں کا ہار اور منہ پر کالک مل کر پورے میلے میں پھیرایا گیا۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پھیری والے چڑیا گھر کے بندر ہوں۔
"بادشاہو ! ڈیڑھ سو روپیہ بل ہے" اچھے پہلوان نے دودھ کا گلاس ایک گاہک کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ نوری نے جیب میں ہاتھ ڈالا، ہاتھ ایسے نیچے اتر گیا جیسے گہرے کنویں میں ڈول اترتا ہے۔ اس نے ہاتھ باہر نکال کے پھر جیب میں ڈالا۔ ہاتھ پھر نیچے اتر گیا۔ جیسے کھائی میں کسی نے پتھر پھینک دیا ہو۔ نوری کے چہرے پر پریشانی چھا گئی۔ اس کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ اس کی پریشانی کا اثر شریفے تک پہنچ چکا تھا۔ نوری کی جیب کٹ گئی تھی۔ چوروں کو مور پڑ چکے تھے۔
"پیسے نکالو! رک کیوں گئے ہو" پہلوان نے ذرا غصیلے لہجے میں کہا۔

 

"وہ پہلوان جی بھیڑ میں کسی نے جیب صاف کردی ہے" نوری نے مرے مرے لہجے میں کہا۔

 

"اوئے تم تو مجھے شکل سے ہی عادی مفت خورے لگتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوئے کاکے ! اوئے بلوا! اوئے پکڑلو انہیں، مزہ چکھاؤ ذرا مفت خوری کا" اچھے پہلوان کے لہجے میں زہر تھا۔ اچھے کے ملازموں نے پکڑ کر خوب درگت بنائی۔ چھترول کی۔ کڑاہی کے تھلے سے کالک لے کر منہ کالے کیے۔ بلو اندر سے ٹوٹے لتروں کے دو ہار لے کر آگیا۔ وہ شاید انہوں نے ایسے ہی لوگوں کے لیے ریڈی میڈ رکھے ہوئے تھے۔گلے میں چھتروں کا ہار اور منہ پر کالک مل کر پورے میلے میں پھیرایا گیا۔ لوگ انہیں مڑ مڑ کر ایسے دیکھ رہے تھے جیسے وہ پھیری والے چڑیا گھر کے بندر ہوں۔ یہ تماشہ تو انہیں دس روپے کے ٹکٹ کے بغیر ہی میسر آگیا تھا۔



آنکھ بھر اندھیرا

آنکھ بھر اندھیرا
چمکتی ہیں آنکھیں
بہت خوب صورت ہے بچہ
وہ جن بازوؤں میں
مچلتا ہے، لو دے رہے ہیں
چہکنے لگے ہیں پرندے
درختوں میں پتے بھی ہلنے لگے ہیں
کہ لہراتے رنگوں میں
عورت کے اندر سے بہتی ہوئی روشنی میں
دمکنے لگی ہے یہ دنیا۔۔۔۔
وہ بچہ۔۔۔۔۔ اسے دیکھے جاتا ہے
ہنستے، ہمکتے ہوئے
اس کی جانب لپکنے کو تیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت بھی کچھ
زیر لب گنگنانے لگی ہے
لجاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کسی سر خوشی میں
بڑھاتا ہے وہ ہاتھ اپنے
تو بچہ۔۔۔۔۔۔ اچانک پلٹتا ہے
اور ماں کے سینے میں چھپتا ہے
عورت سڑک پار کرتی ہے
تیزی سے، گھبرا کے
چلتی چلی جا رہی ہے

 

ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں !



یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

گلگت بلتستان کی قدرتی خوبصورتی اور منفرد جغرافیہ کی وجہ سے دنیا میں اپنی ایک پہچان ہے تاہم اس جنتِ نظیر خطے میں جاری استحصال اور عوام پر مسلط ریاستی جبرکی شکل میں ایک نئی پہچان بھی بن رہی ہے۔

 

گلگت بلتستان میں دہشت گردی اور غداری سے متعلق قوانین کا دہشت گردوں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔
یہاں دہشت گردی اور غداری سے متعلق قوانین کا دہشت گردوں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔ ہمالہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ان علاقوں میں سیاسی صورت حال نوآبادیاتی دور کے جبر سے مماثل ہے۔ سماجی انصاف اور بنیادی حقوق کے لئے اُٹھنے والی ہر آواز کو ریاست مخالف قرار دے کر کچلا جارہا ہے۔ آج کل پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سازش کے نام پر مقامی سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات کا اندراج اس تاثر کو تقویت دینے کا بعث بن رہا ہے۔

 

گلگتـت بلتستان کے وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال احمد کا دیا ہوا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شاہراہ قراقرم پر احتجاج کرنے والوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا مستقبل میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کی طرف ایک اشارہ ہے۔

 

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ مختلف مقدمات کے تحت گرفتار کئے جانے والے قومی،عوامی اور ترقی پسند تحریکوں سےوابستہ کارکنان کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح تحریکی کارکنان کو اپنے جائز سیاسی و معاشی حقوق کےلئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں لمبے عرصے کےلئےسلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا عمل بھی جاری ہے۔

 

گلگت بلتستان کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری میں نظرانداز کرنے، زمینوں پر حکومتی قبضے، جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
یہاں کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری میں نظرانداز کرنے، زمینوں پر حکومتی قبضے، جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا گناہ یہ ہے کہ وہ بد ترین لوڈ شیڈنگ، علاقے میں جاری کرپشن، غیرمعیاری ترقیاتی کام کے خلاف اور قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہونے والی آبادیوں کی امداد و بحالی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔

 

گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے کی بناء پر ایک متنازعہ علاقہ ہونے کے ساتھ خطے میں بڑی طاقتوں کے مفاداتی ٹکراؤ کا مرکز بھی بن رہ ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس علاقے کا شمار دنیا کے حساس ترین علاقوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے خطےمیں حکومت کا مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک ذمہ دارانہ اور محتاط ہونا چاہیے۔عوامی حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو جبر سے خاموش کرانے کی بجائے ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ لیکن ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے ظلم و جبر اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کے خلاف لوگوں میں مزاحمت کے جذبات فروغ پا رہے ہیں۔

 

انقلابی نوجوان رہنما بابا جان، طاہر علی طاہر اور کامریڈ افتخار سمیت درجنوں دیگر سیاسی، قوم پرست اور ترقی پسند کارکنان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا جہاں ریاستی جبر کی عکاسی کرتا ہے وہاں یہ علاقے میں جبر و استبداد کے خلاف پائی جانے والی مزاحمت کی علامت بھی ہے۔

 

عوامی جدوجہد بزورطاقت کچلنے سے نہ صرف لوگوں میں بغاوت کے جذبات ابھررہے ہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی حقوق کی پامالی کے نام پر ہرزہ سرائی اور شورش زدہ علاقوں میں مداخلت کرنےکا موقع مل رہا ہے۔
عوامی جدوجہد بزورطاقت کچلنے سے نہ صرف لوگوں میں بغاوت کے جذبات ابھررہے ہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی حقوق کی پامالی کے نام پر ہرزہ سرائی اور شورش زدہ علاقوں میں مداخلت کرنےکا موقع مل رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور اب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات اس کی واضح مثالیں ہیں۔

 

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں ریاست عوام کو صحت، تعلیم، روزگار، تفریح اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ بے پناہ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود اکثریتی آبادی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ بیوروکریسی، سیاست دان اور ان کے حواری علماء، ٹھیکیدار سمیت سرکاری وظیفہ خور اور مراعات یافتہ طبقات عوام کے وسائل پر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔

 

ایسی صورِت حال میں عوامی سطح پر نظام کے خلاف مزاحمت تو ہوگی۔ استحصال کا شکار اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات آخر کب تک خاموش رہیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں کی محرومی کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے تو اُسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔

 

حکومتی سطح پر ہونا تو یہ چاہیے کہ عوامی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ لیکن جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ مسائل کو حل کرنے کی بجائے حق کے لئے بلند کی جانے والی ہرآواز کو دبایا جاتا ہے۔

 

قوم پرست اور ترقی پسند تحریکوں اور ان کے کارکنان کو بزور طاقت خاموش کرانے کی بجائے ریاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیتی تو صورت حال قدرے بہتر ہوتی۔
قوم پرست اور ترقی پسند تحریکوں اور ان کے کارکنان کو بزور طاقت خاموش کرانے کی بجائے ریاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیتی تو صورت حال قدرے بہتر ہوتی۔ اس سے لوگوں میں نہ ریاست مخالف جذبات فروغ پاتے اور نہ ہی دیگر ممالک کو دخل اندازی کا موقع ملتا۔ لیکن ریاست اور حکمرانوں نے شاید تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔

 

حبیب جالب نے 1971ء میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں ریاستی جبرکے نتیجے میں ابھرنے والے عوامی وبال کو کچلنے کے لیے کیے گئے فوجی آپریشن کے موقع پر کہا تھا:

 

محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

Image: Tribune.com.pk




تاریخ، فرد اور تاریخی مادیت

تاریخ کون بناتا ہے؟ تاریخ کیسے اور کیوں کر آگے بڑھتی ہے؟ تاریخ کے واقعات کیسے رونما ہوتے ہیں؟ یہ سوالات اہم ہیں، کیونکہ اِنہی سوالات کے جواب مرد و زن کے تحرک کے لیے اسباب و بنیادیں فراہم کریں گے۔ فرد کا تاریخ کے صفحات پہ کیا کردار ہے؟ فرد کے اختیار میں کیا ہے؟ فرد کا شعور تاریخ کے دھارے پہ کیونکر اثرانداز ہوتا ہے اور آخر اِن اثرات کی حدود کیا ہیں؟ اِن سوالات کے جوابات فرد کی نظریہ سازی اور حیات کے مصرف کا تعین کرتے ہیں۔

 

تاریخ کون بناتا ہے؟ تاریخ کیسے اور کیوں کر آگے بڑھتی ہے؟ تاریخ کے واقعات کیسے رونما ہوتے ہیں؟ یہ سوالات اہم ہیں، کیونکہ اِنہی سوالات کے جواب مرد و زن کے تحرک کے لیے اسباب و بنیادیں فراہم کریں گے۔
کیا ہم محض اداکار ہیں؟ ایک بہت بلند و بالا اور بہت طاقتور ہستی نے یہ سٹیج بنایا ہے؟ اُس طاقت نے اِس تماشے کا اسکرپٹ لکھ ڈالا ہے؟ کیونکہ وہ ہستی انسانی فہم و شعور و ادراک کی حدود سے ماوراء ہے، لہذا ہم بےاختیار بندے اُس خداوند کی طرف سے لوحِ ازل کے لکھے کے مطابق سٹیج پہ ایک بنا بنایا کردار ادا کرکے گم ہو جاتے ہیں۔ یہ شروع سے ہو رہا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ مخصوص وقت اور مدت اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے؟

 

کیا تاریخ کچھ عظیم افراد کی باندی ہے جو بےپناہ طاقت کا محور ہوتے ہیں؟ یہ لوگ اپنے فیصلے لیتے ہیں۔ یہ بادشاہ ہوتے ہیں، بادشاہ گر ہوتے ہیں، یا فوجی سالار ہوتے ہیں، بہت بڑے جنگجو ہوتے ہیں؟ یہ انقلابی ہوتے ہیں، اِن کے پاس تبدیلی کے پروگرام ہوتے ہیں؟ یہ بہت بڑے عالم فلسفی اور سائنس دان ہوتے ہیں؟ یہ بڑے بڑے کاروباری اداروں کے مالک اور کثیرالملکی سرمائے کی بدولت تاریخ بدلنے کا کام سرانجام دیتے ہیں؟

 

کیا تاریخ کا دھارا خودبخود اپنے اندر موجود واقعات اور حالات کے طاقتور تھپیڑوں کی رَو میں بہتا رہتا ہے؟ یعنی جو واقعہ ہوتا ہے وہ گذشتہ اور سابقہ واقعات کا تسلسل ہوتا ہے۔ یعنی ایک تاریخی عمل کا جواز اپنے سے پہلے والے عمل کے اندر ہوتا ہے اور افراد ناگزیر نہیں ہوتے؟ تاریخ کا دھارا افراد کے اعمال و شعور کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دیتا ہے، تاریخ کا ایک قدم اپنے سے پہلے والے تاریخی قدم میں پیوست ہوتا ہے، اور اپنے سے آگے آنے والے قدم کا سبب بھی بنتا ہے۔ اِس دوران جو افراد جو کچھ اعمال کر رہے ہوتے ہیں اُن اعمال کا تعین وہی تاریخی واقعات کر رہے ہوتے ہیں؟

 

تاریخ، تاریخی واقعات، انقلابات اور تغیر کے حوالے سے متعدد توجیہات رائج ہیں لیکن میری ذاتی رائے میں افراد اور تاریخ کے عمل کو تحریک دینے والی عظیم قوتوں کے باہمی تعلق کا جدلیاتی تجزیہ کیا جانا چاہیئے۔ میں اُس سوچ کے خلاف ہوں کہ عوام خواص یعنی بادشاہ، ملکہ، سیاست دان، سرمایہ دار وغیرہ کی نسبت تاریخ کی تشکیل میں بہت معمولی کردار یا بالکل ہی کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔

 

میں افراد کے تاریخی کردار کو رد نہیں کرتا، مگر افراد کے کردار کو تاریخ کے سیاق و سباق اور تناظر میں پرکھتا ہوں۔
میں افراد کے تاریخی کردار کو رد نہیں کرتا، مگر افراد کے کردار کو تاریخ کے سیاق و سباق اور تناظر میں پرکھتا ہوں۔ عموماً ایک فرد چاہے کتنا ہی باصلاحیت (TALENTED) کیوں نہ ہوں تاریخ کی بڑھوتری میں معروضی محرکات کو پچھاڑ نہیں سکتا، لیکن کبھی کبھار نازک حالات میں افراد کا کردار بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

 

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تاریخ میں افراد نے ضروری کردار ادا کیا تھا مگر ایسا مخصوص سماجی حالات کے تحت ہی ممکن ہوا، روس کے بالشویک انقلاب میں لینن کا کردار اہم ترین اور فیصلہ کن ضرور تھا مگر مخصوص سماجی حالات کا کردار بھی اہم تھا، ایسے ہی فرانسیسی انقلاب میں سماجی حالات کا کردار فیصلہ کن تھا مگر معروف افراد نے بھی کردار ادا کیا۔

 

افراد اپنی فطرت کی قطعی خصلتوں اور اپنی پراثر صلاحیتوں کی وجہ سے معاشرے کی قسمت پر اثر انداز کر ہوتے ہیں۔ اُن کا اثر بعض اوقات بہت شدید بھی ہوتا ہے لیکن اِس بات کے امکان بہرحال موجود ہیں کہ معاشرے کی تنظیم اور اُس کا ڈھانچہ پھر بھی اُن افراد کے کردار پہ اثرانداز ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک فرد کا کردار سماجی بڑھوتری اور ارتقاء میں اہم عنصر ہوتا ہے، مگر جب، جہاں اور جس حد تک معروض اجازت دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، افراد کا کردار ہوتا تو ہے مگر حدود میں مقید کردار ہوتا ہے۔

 

کوئی عظیم یا ارفع انسان تاریخ پہ مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ معروضی اسباب تاریخ کے ارتقاء میں اصل قوت ہوتے ہیں۔
کوئی عظیم یا ارفع انسان تاریخ پہ مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ معروضی اسباب تاریخ کے ارتقاء میں اصل قوت ہوتے ہیں۔ تاریخ میں معروضی اسباب اور افراد کے کردار کے مابین فرق کو مطلق بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آخری تجزیے میں کسی بھی تاریخی عہد کا معاشی ڈھانچہ اُس عہد کے افراد کے شعور کا تعین کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تبدیلی کی خواہاں طاقتیں افراد کی ذہن سازی کریں تو عوام خواص کے شعوری قید خانے کی سلاخیں توڑنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن یہاں بھی معروضی اسباب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

 

اگر یہ کہا جائے کہ ہٹلر، سٹالن، ماؤ، مسولینی، کینیڈی، گورباچوف اور تھیچر نہ ہوتے تو گزشتہ صدی کی شکل ایسی نہ ہوتی لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اِن رہنماؤں کے فیصلے اور اعمال اپنے عہد کے معروضی اسباب سے بالا اور علیحدہ تھے؟ کیا اُن کے افعال سماجی اور معروضی پابندیوں سے آذاد تھے؟ یقیناً نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی شخصیات اپنا وہ کردار صرف اس لیے ادا کر پائیں کیوں کہ معروضی حالات نے ہی وہ عوامل مہیا کیے جو انہیں تاریخ کے ایک نازک موڑ پر فیصلہ کن کرادار ادا کرنے کے قابل بنانے کا باعث بنے۔

Image: David Alfaro Siqueiros




کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
زیادہ تر مار دیے گئے
تشدد کے بعد
کچھ بھون دیے گئے
آتشیں ہتھیاروں کے ساتھ
اور پھینک دیے گئے اجتماعی قبروں میں
کچھ کی آنکھوں پر
سیاہ پٹیاں بندھی ہوئی تھیں
وہ مرتے ہوئے خود کو بھی نہ دیکھ سکے
کچھ سرحدیں پار کرتے ہوئے
محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے
کچھ کھلے سمندروں میں
ڈوب گئے
اُن میں بچے بھی تھے
بوڑھے اور جوان مرد بھی
لڑکیاں اور عورتیں بھی
کسی کے ہاتھوں پہ لمس تھا
کسی کے ہونٹوں پہ پھول
کسی کی آنکھوں میں خواب
کسی کے سینے میں امید
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی!



نامکمل

نامکمل
میں رات رات بھر
پوری آنکھیں کھولے
اپنا آدھا دھڑ کہنیوں پر بلند رکھتا ہوں
تاکہ
دانت پر دانت جمائے
ہتھیلیوں میں ناخن گاڑ کر
ایک نظم جن سکوں
میرے ماتھے کا نمک آنکھوں کے پانی سے
لفظ بناتا ہے
جو بھنچے ہوئے جبڑوں کے بیچ سے تھوکے جاتے ہیں
میرے عضلات کا تشنج سطروں کی لمبائی کا فیصلہ کرتا ہے
نظمیں روتی ہوئی پیدا ہوتی ہیں
اور میں ان کے استقبال میں مسکراتا ہوں
یہ نظم مجھے ایک اذیت زدہ انتظار میں رکھے
پیروں کے بل پیدا ہو رہی ہے
میں اس کا چہرہ دیکھ سکوں
تو اسے ایک نام دوں
اسی اذیت میں پیدا ہونے والی نظموں سے مختلف
ایک نام
میں اس سے پہلے ایسی نظمیں جن چکا ہوں جن کا چہرہ نہیں تھا
میں نے ان نظموں کو ان کی آنول کے ساتھ کاغذوں میں دفنا دیا

Image: Bobby Becker




جبری گمشدگان اور پاکستان

30اگست دنیا بھر میں ’جبری گمشدگان کا عالمی دن‘کے طور پر منایا جاتا ہے ۔2011سے اس دن کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک مناتے ہیں تا کہ جبری گمشدگی کے واقعات کو کم کرنےاور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے موثراقدامات کیے جا سکیں ۔

 

بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے ۔لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہاہے
اعداد و شماربتاتے ہیں کہ پاکستان میں جبری گمشدگیوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے واقعات میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ بی بی سی اردو پر شائع ہونے والے نصر اللہ بلوچ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے صوبے بلوچستان میں 20,000 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ ان کی بازیابی کے لیے کام کرنے والی دو تنظیمیں ہیں،ایک Voice for Bloch missing persons اور دوسری بلوچ ہیومن رائٹس آرگنائزیشن ۔دونوں تنظیموں کا الزام ہے کہ جبری گمشدگیوں میں حکومتی ادارے ملوث ہیں۔ دوسری طرف حکومتِ پاکستان جبری گمشدگیوں کے خلاف قانون اور پالیسی بنانے میں بھی تساہلی سے کام لیتی رہی ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ جبری گمشدگی کی وارادات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقداامات کرے۔ لیکن پاکستان ایسا نہیں کر رہا ہے جس کا واضح مطلب یہی نکلتا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے مقررہ اصول و ضوابط سے انحراف کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اعلامیہ کی رو سے بھی یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔کیوں کہ منظم طور پر کی جانے والی جبری گمشدگی انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی 2013 میں جبری گمشدگی کو پاکستانی آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان سب کے باوجود جبری گمشدگیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کرنے میں حکومتی مشینری اور سیاسی قائدین کا رویہ نا قابل اعتبار نظر آتا ہے۔

 

پاکستان ہی میں تیار شدہ ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی اصول و ضوابط کی پاسداری میں بہت پیچھے ہے۔2011 میں پاکستانی پارلیمنٹ نے جبری گمشدگان کی بازیابی کے لیےایک کمیشن قائم کیا تھا۔ اس کمیشن کو مو صول ہونے والی جبری گمشدگی کی شکایات میں ہر مہینے اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔مثلاً اس سال جنوری سے جولائی تک کمیشن کو ہر مہینے اوسطاً 72 شکایات موصول ہوئی ہیں ۔جن میں جنوری میں 56 ،ٍٍفروری میں 66،مارچ میں 44،اپریل میں 99،مئی میں 91، جون میں 60، اور جولائی میں 94، شکایات موصول ہوئی ہیں۔مجموعی طور پر اس سال اب تک 510 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کا قیام مارچ 2011 میں ہوا اور 31جولائی 2016 تک کمیشن کو3552 شکایات موصول ہو چکی ہیں۔ کمیشن کی کارروائی سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید بھی نہیں نظر آتی ۔کمیشن کے ایک آفیسر نے ایک فریادی سے پوچھا کہ آپ نے استخارہ کرایا؟ فریادی نے کہا کہ ہاں استخارہ کرایا۔ وہ زندہ ہیں۔پھر آفیسر جواب دیتے ہیں دعا کریں۔ میں بھی دعا ہی کر سلتا ہوں۔ جس کمیشن کا اعلیٰ عہدے دار تک مایوسی کااظہار کرے، تسلی دے اور دعا کی تلقین کرے اس کمیشن سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ایسے کمیشن سے لاپتہ افراد کی بازیابی کی امید رکھنا لاحاصل ہے ۔سینکڑوں بیویاں اپنے شوہروں کی گمشدگی کی وجہ سے معلق ہیں۔ نہ تو وہ طلاق یافتہ ہیں نہ ہی مکمل طور سے ایک بیوی ہیں۔ان کے بچوں کی پرورش اور کفالت کا مسئلہ الگ درپیش ہے ۔برسوں سے کتنی مائیں اپنے بیٹوں کی آس لگائے بیٹھی ہیں۔ ان سب کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی در پیش ہے کہ ایسے خانوادے کو سماج میں بھی ذلت و رسوائی کا بھی سامنا ہے۔ ایک تو ان کا عزیز یا سرپرست لاپتہ ہو گیا دوسرے سماجی طعنے بھی انہیں برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔

 

متعد د لاپتہ افراد کے لواحقین کہتے ہیں کہ جب کسی کو مجرم ثابت کرنے کے لیے ملک میں عدالتیں موجود ہیں تو پھر سماج کے کسی شخص کو کیوں کر یہ حق حاصل ہو کہ وہ گمشدہ شخص کے بارے میں بدگمانی سے کام لے بلکہ بغیر کسی تحقیق کے ان کو دہشت گرد قرار دے۔
درجنوں لاپتہ افرادکے اہل خانہ اور رشتے دار برسوں سے کمیشن کے چکرّ کاٹ رہے ہیں۔ لیکن تا حال انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ عدالتین، کمیشن اور منتخب نمائندے۔۔۔ کوئی بھی لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کرا سکا۔ جبری گمشدگی کی ایک خبر پچھلے دنوں کافی سرخیوں میں رہی ۔ایک پاکستانی خاتون صحافی زینت شہزادی اور ایک ہندوستانی نوجوان حامد انصاری بہت دنوں سے گم تھے ۔حامد انصاری ایک انجینیر تھا جو سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک کے ذریعے بنے ایک دوست سے ملنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان کی سرحد میں داخل ہو گیا۔ 2012 میں ہی اسے گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن متعلقہ افسران ایک عرصے سے انجنیئر انصاری کے سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کرتے رہے۔ معاملہ جب پشاور ہائی کورٹ میں پہنچا تو انکشاف ہوا کہ اسے ملٹری نے حراست میں لے رکھا تھا اور اب اسے ملٹری کورٹ کے ذریعے ہی سزا سنائی گئی ہے۔ اور زینت شہزادی جو ایک غریب گھرانے کی پر جوش خاتون تھی۔ 2013 ہی سے انصاری کے کیس کو کمیشن اور دیگرمتعدد پلیٹ فارم پر اٹھاتی رہی تھی۔ لیکن 2015 میں زینت شہزادی بھی لا پتہ ہو گئی۔ اس کا کیس بھی کمیشن کے پاس زیر التو اہے۔ لاہور میں زینت کے سلسلے میں سال بھر، متعدد سماعتیں ہوئی ہیں لیکن ہر بار قانون کے رکھوالے یہی بہانہ دہراتے ہیں کہ زینت کا کوئی سراغ نہیں مل رہا ہے۔

 

ایسی کئی کہانیاں پاکستان کے مختلف علاقوں سے سننے کو مل رہی ہیں اگر پاکستان واقعی مہذب ممالک کی فہرست میں شامل ہو نا چاہتا ہے تو اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت جبری گمشدگان کے لیے موثر لائحہ عمل تیار کرے۔ ساتھ ہی لا پتہ افراد کی بازیابی اور ان کے متعلقین کو درپیش نقصانات کی تلافی و تدارک کا بھی نظم کرے۔



عبادت کا سچ

عبادت کا سچ
عبادت جان کر
بہت چکر لگائے اسپتالوں کے
بہت خدمت گزاری کی ہے بیماروں کی لیکن
جنوں اب بجھ رہا ہے
میں اب تھکنے لگا ہوں
تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے کے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر کے
یہ کام اب دوسروں پر چھوڑ دوں
وسیلہ بن کے خود
ثواب ان کو بھی تھوڑا لوٹنے دوں
جنہیں جنت میں میرے ساتھ ہونا چاہیے
سہارا دے کے مجھ کو لائیں گے جو اسپتالوں میں
میری جانب سے بولیں گے
میرا پرچہ لگائیں گے
تسلّی دے کے مجھ کو چین سے سگریٹ جلائیں گے
اور اگر قسمت ہوئی اچھی تو ممکن ہے
وہ نازک سانولی سی نرس
جس کو دیکھ کر میں اِس عبادت کی طرف راغب ہوا تھا
ان کے ہاتھ آ جائے شاید



خط اُس باپ کے نام جو “لاپتہ“ ہو گیا

[blockquote style="3"]

ہانی، کامریڈ واحد بلوچ کی بڑی صاحبزادی ہیں۔ واحد بلوچ کو 26 جولائی کو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔ ہانی نے اپنے والد کے نام ایک تصوراتی خط لکھا ہے۔ یہ خط کراچی کی نوجوان صحافی وینگس کے توسط سے خصوصی طور پر 'حال حوال' کو بھجوایا گیا ہے۔ لالٹین قارئین کے لیے یہ خط 'حال احوال' ویب سائٹ کے منتظمین کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے، بلاشبہ ہم سب اس درد کے مشترکہ شراکت دار ہیں۔

[/blockquote]

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
میں سویرے جاگی کہ آج اتوار ہے اور ہم ریگل چوک جائیں گے۔میں انتظار کرتی رہی اس صبح کہ آپ ہمیشہ کی طرح پہلے بیدار ہوں۔ میں نے گھر میں کسی کو جاگتے ہوئے نہیں دیکھا کیوں کہ اتوار چھٹی کا دن ہوتا ہے۔

 

اگلے اتوار جب میں آپ کو جگانے کے لیے گئی تو میں نے آپ کو اپنے کمرے میں نہیں پایا۔

 

بابا جان، یاد ہے اتوار کو آپ ہمیشہ مجھ سے وعدہ کرتے کہ مجھے لے کر ریگل چوک پہ کتابیں خریدنے جائیں گے۔
پیارے بابا جان! یہ ختم نہ ہونے والے اتوار میں نے یہ فرض کرکے گزارے کہ آپ حراستی اداروں کے پاس ہیں۔ لیکن میں ابھی تک یہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں کہ آپ جا چکے ہیں۔ میں آپ کو ہمیشہ یاد کرتی ہوں۔ آپ کچھ ایک میں سے صرف ایک ہی بہت کچھ ہو، بابا۔ میں آپ کو بری طرح سے یاد کر رہی ہوں کہ جیسے آپ نہیں ہیں۔ اگر آپ نہیں رہے تو یہ میرے لیے دنیا کی تاریخ کا خاتمہ ہے۔ باباجان میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اب میں جسمانی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ چکی ہوں۔ میں آپ کے بغیر جی نہیں سکتی۔

 

باباجان آپ نہیں جانتے، آپ فرشتہ ہیں ــ آپ کے بغیر ایک ساعت بھی کس قدر سخت ہے۔ ہمیں آپ کی کس قدر ضرورت ہے۔ ہمارا نگہبان اور ہمارا پشت پناہ آج لا پتہ کردیا گیا ہے۔ ہماری پشت پناہی اب کون کرے گا۔ ہماری حفا ظت کون کرے گا۔ جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟ میری طا قت و قوت کو لا پتہ کردیا گیا ہے۔

 

بابا جان مجھے معاف کردیں۔ آپ نے ہما رے لیے سب کچھ کیا؛ بطور بہتر ین استاد، بہتر ین نگران، بہترین دوست ومددگار اور بہت کچھ۔ میں سوچتی ہوں میں بہترین بیٹی نہیں ہوں لیکن آ پ مثالی باپ ہیں۔ لیکن اب جب آ پ کو کچھ ضرورت ہے تو میں ناامید ہوں. میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر پارہی ہوں۔

 

بابا جان، جب میں چھوٹی تھی اور دمہ کے مرض کا شکار ہوگئی تھی تو آ پ نے میرے علاج کے لیے بے پناہ اخراجات کیے۔ اب میں صحت مند ہوں لیکن اس قابل نہیں کہ آپ کو صحیح سلامت بازیاب کرا سکوں۔ ہو سکتا ہے کہ آپ انتہائی غیر انسانی اذیت کا سامنا کر رہے ہوں۔ در حقیقت میں نہیں جا نتی کہ آپ کہا ں ہیں۔ جب میں روتی تھی اور آپ موجود ہوتے تھے تو میری آنکھوں سے آنسو پو نچھ لیتے تھے۔ اب میں رو رہی ہوں بابا جان، آپ کہا ں ہیں؟؟

 

جب آپ کے مہربان اور پر شفقت بھرے ہاتھ میرے کند ھوں پر تھے تو میں بھر پور توانائی محسوس کرتی تھی میری طاقت اب کہاں ہے؟
بابا جان آپ جا نتے ہیں، اب میں ہر وقت صرف رونے کی آواز سن رہی ہوں۔ امی جان کیسے رورہی ہیں آپ کے لیے۔ اور آپ کی ما ہکان نے بھی اسکول چھوڑ دیا ہے۔ بابا جان ان خاموش رستوں میں جب آنکھیں بند کرتی ہوں تو صرف آپ سے بات کرتی ہوں۔ مجھے لگتا تھا محض دنیا میں آپ واحدانسان ہیں جو مجھے کبھی دکھ نہیں دیں گے۔ اور میں نے کچھ پایا تو وہ آپ کی محبت کی بدولت ہے۔

 

جب میں کچھ نہ ہونے کے برابر تھی تو آپ نے مجھے قبول کیا تھا۔ آپ اس بھری دنیا میں بہترین باپ ہیں۔ مگر میں آپ کی بے کار بیٹی ہوں۔ بابا جان میں جانتی ہوں کہ آپ بڑے دل کے مالک ہیں اور آپ فوراً ان لوگوں کو بھی معاف کر دیتے تھے جو لوگ پیٹھ پیچھے آپ کی برائیاں کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے بارے میں بری گفتگو کرتے تھے لیکن باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔ میں آپ کے بارے میں سوچ رہی ہوں۔ حالاں کہ یہ نہایت درد بھرا اور تکلیف دہ وقت ہے، میں آپ کی سلامتی کے ساتھ باز یابی کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ اگر مجھے خو ش قسمت موقع مل جائے، جب آپ واپس آ جا ئیں تو پھر کبھی بھی آپ کو دو بارہ جانے نہیں دو ں گی۔ میں آپ کے بغیر زندگی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ میں آپ کے بنا تنہا ہوں۔ میں اب بھی آپ کی مدد کا انتظار کر رہی ہوں۔

 

ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر
ہانی بلوچ کی والد کے ہمراہ یادگار تصویر

بابا جان آپ بہتر جانتے ہیں کہ میرے پاس مشورہ کرنے کا کوئی اور راستہ ہے ہی نہیں، سوائے اس کے کہ آپ سے بات کروں۔ اور اب کوئی نہیں جو مجھے مشورہ دے۔ یہ سچ ہے باباکہ یہاں ہر کوئی آپ کو یاد کر تا ہے اور یادکرنا آسان ہے، اور یہ آسان کام وہ ہر دن کررہتے ہیں۔ مگر میں مجھے تو آپ ایک درد کے ساتھ یاد آتے ہو اور یہ وہ درد ہے جو کبھی جاتا ہی نہیں۔کوئی بھی یاد کرنے سے نہیں تھکتا، ہاں انتظار کرنے سے سب تھک جاتے ہیں۔ اور مجھے ابھی تک یہ یقین ہی نہیں آ رہا کہ آپ یہاں نہیں ہیں۔ کیوں کہ آپ نے مجھے ہر چیز سکھا ئی سوائے اس کے کہ آپ کے بغیر زندہ کیسے رہا جائے۔

 

باباجان آج میں آپ سے معذرت کرتی ہوں کہ میں آپ کے لیے کچھ نہیں کر پا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں آپ مجھے بھی معا ف کردیں گے۔
بابا، جب مجھے ہلکی سی خراش بھی آتی یا معمولی سا سردرد ہوتا تھا تو آپ فکر سے ساری رات میرے لیے جاگتے تھے۔ خوشی کے لحمات بھی ساتھ آئے مگر اب بہت مشکل ہے آپ کو تلاش کرنا! جب میں کسی چیز سے ڈرتی تھی تو مجھے کسی اور کو پکارنے کی کبھی بھی ضرورت نہیں پیش نہیں آئی کیوں کہ آپ میرے ساتھ ہوتے تھے مگر اب آپ کیسے ہیں نہ جانے کسں تکلیف میں اور میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔ میں آپ کی ناکارہ بیٹی ہوں۔مجھے معاف کر دیں۔

 

آپ نے ہمیشہ مجھے اپنی بہادر بیٹی کہا، مگر میں بالکل بھی بہادر نہیں ہوں۔ آپ مجھے ہمیشہ بہادر شہزادی کہتے تھے، آج میں وہ سب کچھ ہوں جو آپ نے مجھے بنایا۔۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی بہادر نہیں کہ آپ کے بنا رہ سکوں، بابا جان مجھے معاف کردیں میں آپ کی بہادر شہزادی نہیں بن سکی!!



اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں-تیسری قسط

[blockquote style="3"]

جماعت اسلامی کی سیاسی تاریخ اور ارتقاء پر ڈاکٹر عبدلمجید عابد کا یہ مضمون اس سے قبل معروف سہ ماہی ادبی جریدے 'آج' میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ لالٹین پر اسے بعض اضافوں کے ساتھ قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

اس سلسلے کی بقیہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے ادبی میدان میں ایک سہ جہتی مکالمہ اور مقابلہ جاری تھا۔ ایک جانب ادب برائے زندگی کے پیروکار کھڑے تھے تو دوسری جانب ادب برائے ادب کا علم بلند تھا۔ ایک تیسر ی صنف ادب برائے پاکستان کے نام سے بھی موجود تھی اور محمد حسن عسکری، ایم ڈی تاثیر وغیرہ اس تحریک کے روح دواں تھے۔ ادب برائے زندگی کے داعی ترقی پسند، انجمن ترقی پسند مصنفین کے پرچم تلے جمع تھے جب کہ ادب برائے ادب کی پکار حلقہء ارباب ذوق سے نمودار ہوتی تھی۔ پاکستانی ادب اور معاشرے کی جہت کے متعلق اس بحث میں جماعت نے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا۔

 

تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔
جولائی 1948ء کے ’ترجمان القرآن‘ میں مودودی صاحب نے لکھا: ’اسی حل کو مسلمانوں نے قبول کیا (یعنی پاکستان کو) اور اپنی ساری قومی طاقت، اپنے تمام ذرائع اور اپنے جملہ معاملات اس قیادت کے حوالے کر دیئے جو ان کے قومی مسئلہ کو اس طرح حل کرنا چاہتی تھی۔ دس برس کے بعد آج اس کا پورا کارنامہ ہمارے سامنے ہے اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ اس نے کس طرح، کس صورت میں ہمارے مسئلے کو حل کیا۔ جو کچھ ہو چکا، وہ تو انمٹ ہے اور اب اسے بدلا نہیں جا سکتا، اس پر بحث بیکار ہے کہ یہ کیا جاتا تو کیا ہوتا۔ البتہ اس حیثیت سے اس پر بحث کرنا ضروری ہے کہ جو مسائل ہمیں اب درپیش ہیں، کیا ان کے حل کے لیے بھی وہی قیادت موزوں ہے جو اس سے پہلے ہمارے قومی مسئلے کو اسی طرح حل کر چکی ہے؟ کیا اس کا اب تک کا کارنامہ یہی سفارش کرتا ہے کہ اب جو بڑے بڑے اور نازک مسائل ہمارے سر آن پڑے ہیں جن کا بیشتر حصہ خود اسی قیادت کی کارفرمائیوں کا نتیجہ ہے، انہیں حل کرنے کے لیے ہم اس پر اعتماد کریں؟ تحریک پاکستان کے اجزائے ترکیبی میں مومن اور کھلے کھلے ملحد سب شامل تھے بلکہ دین میں جو جو جتنا ہلکا تھا، وہ اتنا ہی اوپر آیا۔ اس میں اخلاق کی سرے سے کوئی پوچھ نہیں تھی۔ عام کارکنوں سے لے کر بڑے بڑے ذمہ داروں تک میں انتہائی ناقابل اعتماد سیرت کے لوگ موجود تھے۔ بلکہ تحریک کا قدم جتنا آگے بڑھا اس قسم کے عناصر کا تناسب بڑھتا ہی چلا گیا۔ اسلام کو اتباع کے لیے نہیں بلکہ عوام میں مذہبی جوش پیدا کرنے کے لیے فریق جنگ بنایا گیا تھا۔ کبھی ایک دن کے لیے بھی اس کو یہ حیثیت نہیں دی گئی کہ وہ حکم دے اور یہ اسے مانیں اور کوئی قدم اٹھاتے وقت یہ اس سے استصواب کریں‘۔
نوائے وقت نے تبصرہ کیا: ’حضرت مولانا نے 10 سال کے عرصے میں پہلی مرتبہ دل کھول کر بات کہی اور صاف لفظوں میں مسلمانوں سے کہا کہ محمد علی جناح کی جگہ مجھے قائداعظم مانو۔ اب صرف اتنا کرم فرمائیں کہ مسلمانوں کو یہ بتا دیں کہ آپ کا ٹھوس سیاسی پروگرام کیا ہے؟ اپنا پروگرام نہ بتانا اور محض نعروں ہی سے مسلمانوں کا دل بہلانا یا قائد اعظم کو ’احمق‘، ’غلط کار‘ اور ’دین میں ہلکا‘ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ہرگز آپ کے شایان شان نہیں‘۔

 

جناح صاحب کی وفات پر مولانا نے فرمایا: ’بے وقت موت ایک ملحدانہ اصطلاح ہے۔ مسلمان کے نزدیک ہر موت اپنے ٹھیک وقت پر آتی ہے اور خدا اس کا وقت کسی مشورے سے نہیں بلکہ اپنی حکمت اور مصلحت کے اعتبار سے مقرر کرتا ہے۔‘ اگست 1948ء میں انہوں نے ایک سوال کے جواب میں پاک فوج میں بھرتی ہونے سے منع فرمایا کیونکہ ان کے مطابق وہ ایک ’غیر اسلامی فوج‘ تھی (ساٹھ سال بعد ان کی جماعت کے سربراہ نے طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے فوجیوں کو ’شہید ‘ کہنے سے انکار کیا۔ جواب میں فوج کے نمائندے نے منور حسن پر چڑھائی تو کی لیکن اسی سانس میں مودودی صاحب کی تعریف بھی کر ڈالی۔ تاریخ سے ناآشنائی کا یہی نتیجہ نکلتا ہے)۔ اکتوبر 1948ء میں حکومت پاکستان نے غداری کے الزام میں جماعت پر پابندی عائد کر دی اور اس کے زیر تحت تمام اخبارات اور رسائل کے اجازت نامے منسوخ کر دیے۔ اس کے علاوہ جماعت کے سربراہان کو جیل بھیج دیا گیا، افسر شاہی میں جماعت سے ہمدردی رکھنے والے افسران کو برطرف کر دیا گیا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان نے سرکاری ملازمین کو جماعت کا لٹریچر پڑھنے سے منع کر دیا۔ اس دور میں پبلک سیفٹی آرڈیننس اور دیگر سامراجی قوانین کا اطلاق مخالف نقطہ نگاہ رکھنے والی جماعتوں پر کیا جاتا تھا۔ ایک موقعہ پر تو جماعت اسلامی اور کمیونسٹ پارٹی نے مل کر ان قوانین کے خلاف ملک بھر احتجاج منعقد کیا۔

 

جیل کی سلاخوں کے عقب سے مولانا نے اپنے ساتھیوں عبدالجبار غازی (قائم مقام امیر جماعت) اور عبدالغفار حسن کے ذریعے قانون ساز ااسمبلی کے رکن شبیر احمد عثمانی تک اپنا پیغام پہنچایا۔ بعدازاں شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
اس صورت حال کے باوجود مولانا نے قرارداد کی منظوری کے بعد یہ بیان دیا:

 

شبیر عثمانی نے قرارداد مقاصد کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور اس قرارداد کے الفاظ میں جماعت اسلامی اور اس کے مطالبات کی گونج واضح ہے۔
"ان حضرات کے قرارداد مقاصد پاس کرنے کی حیثیت بالکل ایسی ہے جیسی کوئی میم صاحبہ کسی مسلمان نواب یا رئیس زادے سے نکاح کرانا چاہے اور وہ اپنے اوراپنی اولاد کے لیے وراثت کے حقوق اور مسلمان سوسائٹی میں برابری کے حقوق حاصل کرنے کے لیے کلمہء اسلام پڑھ لے۔ لیکن نہ اس کلمے سے پہلے اس کی زندگی میں کوئی تغیر آئے اور نہ اس کے بعد کوئی تبدیلی رونما ہو۔ جیسی میم صاحبہ وہ پہلے تھیں، ویسی ہی میم صاحبہ وہ بعد میں رہیں۔"

 

مودودی صاحب کے اس بیان پر یہ محاورہ راس آتا ہے کہ بکری نے دودھ دیا، وہ بھی مینگنیوں بھرا۔

 

مارچ 1949ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد زیر بحث تھی تو جماعت اسلامی کے ایک وفد نے کراچی جا کر حزب اختلاف کے قائد سریش چندر چٹو پاڈھیا کو مودودی کی ایک کتاب دی جس میں لکھا تھا کہ 'اسلام میں جمہوریت کی گنجائش نہیں ہے'۔ اس پر چٹو پاڈھیا نے اگلے روز ایوان میں مودودی کے اس 'اسلامی نظریے' کے خلاف بہت واویلا کیا تو سردار عبدالرب نشتر نے اس موقعہ پر مداخلت کر کے کہا، 'یہ شخص آج کل جیل کی ہوا کھا رہا ہے' اور لیاقت علی خان نے کہا، 'لاہور کے جن علماء نے یہ اسلامی لٹریچر مہیا کیا ہے، وہ شرپسند ہیں اور پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے یہاں آئے تھے۔ خدا کے لیے ان کے شرانگیز پروپیگنڈا پر کان نہ دھریں۔ میں ایسے عناصر کو، جو پاکستان میں انتشار پھیلاتے ہیں، متنبہ کرتا ہوں کہ ہم ان کی سرگرمیوں کو مزید برداشت نہیں کریں گے'۔

 

ستمبر 1949ء میں جماعت کے قائم مقام امیر عبدالجبار غازی نے بیان جاری کیا، ’قرارداد مقاصد کی منظوری کے بعد جماعت اسلامی کو آئینی اصطلاح میں ایک سیاسی جماعت قرار دینا لغویت ہے۔ اس اصطلاح کی بنیاد اس غلط تصور پر ہے کہ مذہب اور سیاست الگ الگ ہیں۔ یہ تصور سراسر غیر اسلامی ہے۔ جماعت اسلامی کو، جس کا نصب العین اسلام کو اس کی مکمل صورت میں نافذ کرنا ہے، محض ایک سیاسی جماعت قرار دینا اور سرکاری ملازمین کے لیے اس کی رکنیت کی مخالفت کرنا بے ہودگی ہے‘۔ غازی صاحب نے اس امر پر روشنی ڈالنے سے گریز کیا کہ کچھ سال قبل ان کی جماعت کے امیر نے کارکنان کو سرکاری ملازمت سے منع کیا تھا تو اب اس مسئلے پر شور وغوغا منافقت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

 

ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔
مئی 1950ء میں عدالتی احکامات کے ذریعے جیل سے رہائی حاصل کرنے کے بعد مولانا نے ایک نیا پینترہ بدلا۔ زبان کے مسئلے پر بنگالیوں نے حکومت پاکستان کے موقف سے اختلاف کیا تو جناب نے حکومت کی حمایت کی اور جون 1950ء کے ترجمان القرآن میں اسلام اور اردو کو اسلامی مملکت کی وحدت کے لیے ضروری قرار دیا۔ ہندوستان سے پاکستان کا رخ کرنے والے ’اردو مافیا‘ کے لئے مذہب اور اردو پاکستان کی بقائے دوام کے لئے ضروری تھے اور اس طبقے کی قدامت پرستی ملکی انتظامیہ میں سرایت کر چکی تھی۔ سنہ 1951ء کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں صرف سات فیصد افراد کی مادری زبان اردو تھی۔ مولانا حالی کا کہنا تھا کہ اردو اس کی مستند ہے جو دہلی کے آس پاس کا رہنے والا ہو اور مسلمان ہو۔ پاکستان میں مذہب اور زبان کے اس امتزاج کو پروان چڑھایا گیا اور 'ہندووانہ' بنگالی زبان کے مقابلے میں اردو کا ہوّا (bogeyman) کھڑا کیا۔ اجمل کمال لکھتے ہیں کہ 'اردو ہندوستان میں مسلمان اقلیت اور پاکستان میں حکمران اکثریت کی سیاست سے ناقابل تلافی طور پر وابستہ ہو چکی ہے‘۔ مولوی عبدالحق کے الفاظ تھے: ’پاکستان کونہ جناح نے بنایا نہ اقبال نے بلکہ اردو نے پاکستان کو بنایا۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اختلاف کی اصلی وجہ اردو زبان تھی۔ سارا دو قومی نظریہ اور سارے ایسے اختلاف صرف اردو کی وجہ سے تھے، اس لیے پاکستان پر اردو کا بڑا احسان ہے'۔

 

جمہوریت کو کفریہ نظام قرار دینے والی جماعت نے مارچ سن 1951ء میں پنجاب کے صوبائی انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ مودودی صاحب نے اس موضوع پر فرمایا، ’دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کے پاس ہو جانے کے بعد ریاست پاکستان ایک اسلامی ریاست بن چکی ہے اور اب ہمارے لئے دوسرا اہم مرحلہ یہ ہے کہ حکومت پاکستان کو بھی ایک اسلامی حکومت میں تبدیل کیا جائے۔ اس تبدیلی کی سعی کا ایک ضروری جزو یہ ہے کہ جہاں جہاں انتخاب کا موقع پیدا ہو، وہاں ہم ایسے صالح لوگوں کو منتخب کرانے کی کوشش کریں جو اپنی ذہنیت اور سیرت کے اعتبار سے سچے مسلمان ہوں، جن پر یہ بھروسہ کیا جا سکے کہ اقتدار کی امانت پا کر وہ خدا اور اس کے دین اور ملت پاکستان کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے اور جن سے یہ امید کی جا سکے کہ وہ حکومت کے نظام کو خلافت راشدہ کے طریق پر ڈال سکیں گے‘۔

 

انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔
انتخابات میں جماعت اسلامی نے ایک انوکھا تجربہ کیا۔ جماعت نے امیدواری اور پارٹی ٹکٹ سسٹم کو امہات الخبائث قرار دے کر ترک کر دیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ 'جماعت نہ اپنے پارٹی ٹکٹ پر آدمی کھڑے کرے گی، نہ اپنے ارکان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہونے کی اجازت دے گی، نہ کسی ایسے شخص کی تائید کرے گی جو خود امیدوار ہو اور اپنے لیے آپ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔'

 

طریق انتخاب یہ تھا کہ جماعت ان علاقوں کو جدوجہد کے لیے منتخب کرے گی جہاں پہلے ہی اس کا اثر ونفوذ موجود ہے، ان حلقوں کے ووٹروں سے رابطہ قائم کیا جائے گا اور ان کے سامنے جماعت اپنے مقاصد واضح کرے گی، پھر جو ووٹر جماعت کے مقاصد سے اتفاق کریں گے ان پر مشتمل انتخابی پنچایتیں بنائی جائیں گی۔ وہ ووٹر جو جماعت کا مرتب کردہ ایک عہد نامہ پورا کر لیں، ان کو ابتدائی اور ثانوی پنچایتوں کی شکل میں منظم کیا جائے گا اور پھر یہ پنچایتیں اپنے حلقے میں ایک ’صالح نمائندہ‘ منتخب کریں گی، جس کی شرائط بھی جماعت نے مقرر کیں۔

 

اس طریقے سے جو شخص بھی چھانٹا جائے گا اسے حلقہ انتخاب کے عوام کی طرف سے کھڑا کیا جائے گا۔ وہ شخص خواہ جماعت اسلامی کا رکن ہو یا نہ ہو، یہ جماعت اسی کی تائید کرے گی۔ وہ انتخاب کی مہم میں ایک پیسہ بھی اپنی جیب سے خرچ نہ کرے گا، سارا خرچ حلقہ کے لوگ کریں گے، وہ اپنی تعریف کے گن نہ گاتا پھرے گا اور نہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اپنے ایجنٹ چھوڑے گا۔ اس کو یہ حق تو ضرور ہو گا کہ کسی دوسرے حلقے میں، کسی دوسرے مرد صالح کی تائید کے لیے جا کر انتخابی جدوجہد کرے، مگر خود اپنے حلقے میں اپنے لیے وہ کوئی جدوجہد کرنے کا حقدار نہ ہو گا۔

 

اس کاٹ چھانٹ کے بعد جماعت نے پنجاب کے سینتیس (37) حلقوں میں 1390 پنچایتیں تشکیل دیں اور باون (52) امیدواروں کی حمایت کی۔ ان انتخابات میں مولانا مودودی کم وبیش تیس نشستوں پر کامیابی کا 'یقین' رکھتے تھے جب کہ جماعت کے اکابرین کے اندازے اس سے بھی بڑھے ہوئے تھے۔ جماعت کی تمام تر کوششوں کے باوجود صرف ایک ’صالح امیدوار‘ انتخابات میں کامیاب ہو سکا اور پینتالیس لاکھ ووٹوں میں سے جماعت کے امیدوار صرف ڈھائی لاکھ ووٹ حاصل کر سکے۔ اس سال صوبہ سرحد (موجودہ خیبرپختونخوا) کے صوبائی انتخابات میں جماعت نے پانچ صالحین کو منتخب کیا جن میں سے تین کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے گئے اور جماعت نے ان انتخابات سے دستبرداری کا فیصلہ کیا۔

 

(جاری ہے)

 

کتابیات
تعبیر کی غلطی، مولانا وحیدالدین خان
تحریک آزادیء ہند اور مسلمان(حصہ اول و دوم)
مولانا مودودی اور میں، اسرار احمد
’قائد اعظم، نظریہ پاکستان اور اسلامی نظام: ابوالاعلی مودودی کی نظر میں‘، مولانا محمد اشفاق
روداد جماعت اسلامی
تحریک جماعت اسلامی : ایک تحقیقی مطالعہ، اسرار احمد
پاکستان کی سیاسی تاریخ: ترقی اور جمہوریت کو روکنے کے لئے اسلامی نظام کے نعرے، زاہد چوہدری
جماعت اسلامی کی انتخابی جدوجہد
منیر رپورٹ، ترجمہ بشکریہ ماہنامہ ’نیا زمانہ'
مودودی حقائق، محمد صادق قادری
پردہ، ابوالاعلی مودودی
محاصرے کا روزنامچہ، وجاہت مسعود
طلبہ تحریکیں، جلد اول، سلیم منصور خالد
میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا، صدیق سالک
مشاہدات، میاں طفیل محمد
پاکستان میں طلباء تحریک، پروفیسر عزیزالدین
جماعت اسلامی پر ایک نظر، شیخ محمد اقبال

Sayyid Abul A'ala Maududi & his thought,Masud ul Hasan
The Vanguard of Islamic Revolution, Vali Nasr
Mawdudi and Making of Islamic Revivalism, Vali Nasr
Magnificient Delusions, Husain Haqqani
Islam and the secular State. Abdulllah An'naim
The 1974ouster of the heretics: What really happened?
NADEEM F. PARACHA

Image: Khuda Bux Abro for Dawn.com




پاکستان کشمیریوں کو کس طرح مایوس کر رہا ہے

[blockquote style="3"]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون اس سے قبل مسلم ورلڈ ٹوڈے پر بھی شائع ہو چکا ہے، لالٹین قارئین کے لیے یہ مضمون ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی 41 نشستوں کے انتخابات 21 جولائی 2016 کو منعقد ہوئے۔ ان انتخابات سے ایک رات پہلے تک ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہندوستانی افواج کے ہاتھوں 41 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ منقسم جموں و کشمیر کے دونوں حصے باہم اس طرح ایک دوسرے سے پیوست ہیں کہ ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہونے والے مظالم سے پاکستانی سیاست دانوں کو ایک سفاکانہ خوشی محسوس ہوئی ہو گی، بھلا کشمیریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا اس سے بہتر موقع کیا ہو گا کہ جب لائن آف کنٹرول کے اُس جانب ہندوستانی افواج کشمیریوں پر اس بڑے پیمانے پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہو۔

 

یہ وقت سیاسی اعتبار سے سونے کی کان ثابت ہوا، لیکن 2018 کے انتخابات کے لیے۔

 

بلاشبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منعقد کرائے جانے والے انتخابات بھی محض ڈھونگ ہیں۔ یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے اس خطے کے معاملات وفاقی حکومت ہی چلاتی ہے۔
بلاشبہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں منعقد کرائے جانے والے انتخابات بھی محض ڈھونگ ہیں۔ یہاں کوئی بھی حکومت آ جائے اس خطے کے معاملات وفاقی حکومت ہی چلاتی ہے۔ لیکن چونکہ پاکستانی رائے دہندگان کے دلوں میں کشمیر کے لیے ایک جذباتی وابستگی موجود ہے اسی لیے جہاں ایک جانب کشمیر جل رہا تھا، تو اسی آگ کی چنگاریوں سے پاکستانی سیاستدان اپنے مفادات کی انگیٹھیاں سلگاتے رہے۔

 

دیگر وفاقی اکائیوں کے برعکس پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اپنےانتظامی امور کے لیے مکمل طور پر وفاقی حکومت کا محتاج ہے، اس کے باوجود اس خطے کے نام کے ساتھ' آزاد' کا دم چھلا لگایا گیا ہے۔ 'آزاد' کا یہ سابقہ، پاکستانی حکام کی کشمیر کی آزادی سے متعلق سوچ کا بہترین عکاس ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہادی جماعت حزب المجاہدین کو کشمیری جدوجہد کی نمائندہ جماعت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جب کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور یونائیٹڈ کشمیر پیپلز پارٹی کو منظر نامے سے دور رکھا جاتا ہے۔ کشمیر کی آزدی اور خودمختاری کی حامی جماعتوں کو دبانے کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ آزاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر، دونوں جگہ پر طاقت کا استعمال کرتی ہے۔

 

جھوٹ کے ان تمام پلندوں کے باوجود جو پاکستان اقوام متحدہ میں بار بار پیش کرتا ہے، پاکستان بالخصوص پنڈی والوں کے لیے کشمیر کی آزادی کا مطلب پاکستان سے الحاق کے سوا کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہادی گروہ یا جنوبی ایشیاء کے دہشت گرد گروہوں کو آزادی کی جدوجہد کرنے والوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ عسکریت پسدنی ترک کر کے سیاسی جدوجہد شروع کرنے والی جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ جیسی جماعتوں کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مکمل طور پر دبا دیا گیا ہے۔

 

جیسے جیسے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نعرے "کشمیر بنے گا خود مختار" کی جگہ حزب المجاہدین کے نعرے "کشمیر بنے گا پاکستان" نے لی ہے ، کشمیریوں کی ہلاکتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔
جیسے جیسے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نعرے "کشمیر بنے گا خود مختار" کی جگہ حزب المجاہدین کے نعرے "کشمیر بنے گا پاکستان" نے لی ہے ، کشمیریوں کی ہلاکتوں میں بھی اسی تناسب سے اضافہ ہوا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ جتنے زیادہ کشمیری "کشمیر بنے گا پاکستان" کے نعرے لگاتے ہلاک ہوئے، اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ اتنا ہی مضبوط ہوتا گیا۔

 

بلاشبہ ایک ایسی حقیقی دنیا جو کسی جہادی یوٹوپیا کے زیر تسلط نہیں، وہاں پاکستان کے لیے اپنا مقدمہ پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا کہ وہ 'آزاد' کشمیر کی آزادی کا ڈھنڈورا پیٹے۔ اس آزادی کو جانچنے کا ایک بہتر طریقہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آزادی کی حامی جماعتوں کی انتخابی عمل میں شرکت کا جائزہ لیا جائے۔ آزاد کشمیر کے آئین کے باب دوئم کے یکشن سات کے مطابق: " کسی بھی فرد یا جماعت کو (کشمیر کے) الحاق پاکستان کے ریاستی نظریے کے منافی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں"۔ 'آزاد جموں و کشمیر' اسمبلی کے جاری کردہ الیکشن آرڈیننس کے سیکشن 5 (2) (vii) کے مطابق "ریاست کے پالستان سے الحاق کے نظریے سے متصادم کسی بھی سرگرمی میں شامل ہونے والے یا ایسا بیان دینے والے فرد کو نااہل قرار دے دیا جائے گا۔" ان قوانین کا واضح مطلب یہی ہے کہ کوئی بھی شخص جو کشمیر کو پاکستان کا لازمی حصہ قرار دینے اور پاکستان سے کشمیر کے الحاق کا حلف اٹھانے کو تیار نہیں وہ پاکستان کے ازیرِ انتظام کشمیر کے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں۔ سرکاری ملازمین کے لیے بھی اسی ریاستی نقطہ نگاہ سے اتفاق کرنا ضروری ہے۔

 

اس متنازعہ علاقے میں اس بڑے پیمانے پر پاکستانی فوج کی موجودگی قابل فہم ہے، تاہم اس علاقے میں جہادیوں کی تربیت و تعلیم کے 22 کیمپوں کی موجودگی ناقابل فہم ہے۔ ریاست کے 'کشمیر بنے گا پاکستان' کے بیانیے سے انحراف کرنے والے غیر جانبدار صحافیوں اور کتابوں پر پابندیاں بھی سمجھ سے بالاتر ہیں۔

 

سعید اسد کی کتاب "شعورِ فردا" جیسی کتابیں محض اس لیے پابندی کی زد میں ہیں کہ ان میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما مقبول بٹ کا خط موجود ہے۔
سعید اسد کی کتاب "شعورِ فردا" جیسی کتابیں محض اس لیے پابندی کی زد میں ہیں کہ ان میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی رہنما مقبول بٹ کا خط موجود ہے۔ خبررساں ادارے رائٹرز کے نامہ نگار وحید کیانی کو 2003 کی کشمیر اتحاد کانفرنس کی کوریج کرنے پر اٹھا لیا گیا۔ اس کانفرنس کے 300 مندوبین میں سے محض چار نے الحاق(دو پاکستان اور دو ہندوستان سے الحاق) کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ بقیہ تمام رائے دہندگان نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا۔ وحید کیانی کی رہائی کے بعد آزاد کشمیر کے اس وقت کے صدر سردار محمد انور خان نے مظفر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ان سے کہا، "شکر کریں کہ آپ زندہ بچ گئے ہیں، شکرانے کے نفل ادا کیجیے"۔

 

پٹھان کوٹ واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند روزبعد، اسی برس جنوری میں حزب المجاہدین کے روحانی کمانڈر اور متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے بھی مظفر آباد میں ایک پریس کانفرنس کی۔ یہ پریس کنفرنس انہی دنوں کی گئی جب پاکستانی سیکیورٹی ادارے بہاولپور میں 'پٹھان کوٹ حملے کے ذمہ داران کی تلاش میں" چھاپے مار رہے تھے۔
ایک جانب جہاں پٹھانکوٹ حملے کے بعد پاکستان کی کشمیری مجاہدین سے متعلق دوغلی پالیسی زور و شور سے نافذ العمل تھی، وہیں دوسری جانب وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اس ضمن میں 'آزاد کشمیر' اور گلگت بلتستان کے حکام اور مقامی سیاسی قیادت کے احتجاج کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ جموں و کشمیر کی علاقائی وحدت اور کشمیریوں کی جانب سے خودمختاری اور آزادی کے مطالبے کو پس پشت ڈالتے ہوئے، گلگت بلتستان کے پاکستان میں انضمام کا فیصلہ چینی حکام کی خواہشات کے پیش نظر کیا گیا۔ چینی حکام سی پیک کے کسی متنازع خطے سے گزرنے کے حامی نہیں۔

 

وفاقی حکومت کی جانب سے گلگت بلتستان کے پاکستان میں انضمام کی تجویز، اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کشمیری مجاہدین کی سرپرستی، آزاد کشمیر آئین کے تحت الحاق پاکستان کی تائید کا جبری تقاضا، مذہبی علماء کی جانب سے اپنے اسلام پسند ایجنڈے کے فروغ کے لیے لوگوں کے مسائل کا ڈھنڈورا پیٹا جانا اور ذرائع ابلاغ پر ہندوستانی حکام کے زیرِاختیار امور پر نشرواشاعت؛ یہی وہ تمام امور ہیں جو کشمیر پر پاکستان کی ناکامیوں کے سزاوار ہیں۔ انہی عوامل کے باعث پاکستانی اداروں نے اپنے اپنے مفادات کے تحت کشمیریوں کو مایوس کیا ہے۔

 

لشکرِ طیبہ، حرکتہ المجاہدین، جیش محمد اور حرکتہ الجہاد اسلامی کے ہاتھ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
کشمیر میں ہندوستانی مظالم کی نشاندہی کرتے ہوئے پاکستان اپنے زیرِانتظام کشمیر میں روا رکھے جانے والے جبر کو چھپانا چاہتا ہے۔ اس دوہرے طرزعمل سے پاکستان کشمیریوں کے مصائب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کی مشکلات میں اضافے کا بھی باعث بن رہا ہے۔ حزب المجاہدین اور برہان وانی جن کی پذیرائی قدامت پسند اور لبرل ہر دو طرح کے حلقوں کی جانب سے کی جا رہی ہے، ایسے دہشت گرد گروہوں سے منسلک ہیں جو ہندوستانی کشمیر کے ساتھ ساتھ 'آزاد کشمیر' میں بھی کشمیریوں کے اغواء اور قتل و غارت میں ملوث ہیں۔ لشکرِ طیبہ، حرکتہ المجاہدین، جیش محمد اور حرکتہ الجہاد اسلامی کے ہاتھ لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب بسنے والے کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

 

کشمیر میں ہمارے ریاستی اداروں کی مشترکہ ناکامی انسداد دہشت گردی کی پاکستانی حکمت عملی اور نیشنل ایکشن پلان کو ایک ڈھکوسلہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ کیوں کہ اگر ہم نے کشمیری جہادیوں سے لاتعلقی اختیار کی تو ہمیں کشمیریوں کی خواہشات کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔ گزشتہ تین دہائیوں سے جاری اسلام پسند پروپیگنڈے کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ 'کشمیر بنے گا پاکستان' تمام کشمیریوں کی خواہش نہیں۔

Image: Drew Martin




میٹرو نہیں بنیادی ضروریات

youth-yell

گرمی کی شدت کسی بھی ذی روح کو تڑپا نے کے لئے کافی تھی کچھ اس سے پناہ لینے اور دوسرا وقت بھی کھانے کا تھا سو ہم نے ایک اچھے ریستوران کا رخ کیا۔ چند لمحوں میں ہی باوردی بیرا آرڈر لینے کو آ موجود تھا ۔ اسے کھانے کی بابت تفصیل بتاتے ہی تاکیداً کہا کہ فوراً سے پہلے ٹھنڈا پانی لے کر پہنچے۔ وہ 'جی بہتر' کہتے ہی غائب ہوا اور ہم بیٹھ کر انتظار کرنے لگے۔ چند منٹ بعد وہ آیا اور میز پر پلیٹیں اور گلاس رکھ گیا، پانی کی تاکید بھی ہم نے دوبارہ کی اور انتظار کرنے لگے۔ چند لمحے بعد وہ ہمارے سامنے سلاد اور رائتے کی پلیٹ رکھنے آن پہنچا، ہم جو پیاس کی شدت سے جاں بلب تھے شدید تلملائے اور چیخے چلائے بھی مگر اس پر ہماری کسی بات کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی مرضی سے یہ تعین کرنے میں لگا رہا کہ ہمارے لیے کیا اہم ہے۔ غرض بیرے کے کئی چکروں کے بعد تمام کھانا میز پرلگ چکا تو بھی پانی ندارد۔۔۔

 

پاکستان جیسا ملک جہاں کی نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں صحت و صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں لوگ معمولی قابلِ علاج بیماریوں سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں
میں جب اس واقعے اور اپنی موجودہ حکومت اور عوام الناس کی حالت زار کا جائزہ لیتا ہوں تو کسی طور بھی صورتحال اس مندرجہ بالا واقعہ سے مختلف نظر نہیں آتی۔ پاکستان جیسا ملک جہاں کی نصف سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جہاں صحت و صفائی کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں لوگ معمولی قابلِ علاج بیماریوں سے لڑتے ہوئے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، جن بیماریوں کے نام تک سے اب دنیا کے بیشتر ممالک آشنا نہیں رہے وہ یہاں اب بھی موجود ہیں، جہاں پینے کا پانی تک میسر نہیں اور عوام کی اکثریت گندا پانی پینے پرمجبور ہے، جہاں تعلیم کی سہولیات کا یہ حال ہے کہ آدھی آبادی نے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا اور کئی بچے جو سکول جانے کی عمر کے ہیں وہ ہوٹلوں پر برتن دھونے اور ورکشاپس پر ٹائروں کو پنکچر لگانے پر اس لیے مجبور ہیں کہ اس کے بناء گھر کا چولہا جلنا ناممکن ہے وہاں ہمارے خادمان اعلیٰ ہمارے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کی بجائے پرشکوہ سڑکوں اور میٹرو لائنوں کی تعمیر میں مصروف ہیں۔

 

ان بچوں میں سے اگر کوئی زندگی اور حالات سے لڑ کر کسی نہ کسی طور سکول اور کالج کی سطح سے آگے نکل بھی جائے تو یونیورسٹی کے بھاری اخراجات ادا کرنے کی سکت نہ ہونے کہ باعث ذرا بہتر انداز میں برتن دھونے اور پنکچر لگانے کا کام کرنے لگتا ہے، مگر اس سب پر ہماری حکومت کا رویہ کسی طور بھی اس ہوٹل کے ویٹر سے مختلف نہیں جو اپنے تئیں ہمارے لیے تعیش کا سامان تو فراہم کر رہا ہے مگر کسی طور بھی وہ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کو تیار نہیں جن کی فوری اور اشد ضرورت ہے۔

 

میرے نزدیک ایک جاں بلب قوم کے لیے ان منصوبوں کی حثیت ایسے ہی ہے جیسے کسی پیاس سے مرتے ہوئے انسان کے گرد من و سلویٰ اور انواع و اقسام کے کھانے چن دیئے جائیں مگر پانی نہ دیا جائے۔
ہماری حکومت بھی اپنی توانائیاں اور وسائل میٹرو جیسے منصوبوں، سڑکوں اور ایسے دیگر معاملات میں صرف کر رہی ہے لیکن وہ یہ ادراک کرنے سے قاصر ہے کہ بھوک سے مرتے، پیاس سے بلبلاتے اور تعلیم کے لیے ترستے عوام کو بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ حکمران یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ کسی بھی وبا کے لیے سازگار ماحول میں رہنے والی قوم صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث موت کو ہر وقت گلے لگانے کو تیار ہے، اس قوم کو اس نوع کے منصوبوں سے زیادہ خوراک، گھر، علاج اور پانی جیسی ضروریاتِ زندگی درکار ہیں۔ حکومت جن منصوبوں پر اپنے وسائل اور توانائی صرف کر رہی ہے ان کی بجائے تعلیم و صحت کے محاز پر جنگی بنیادوں پر انقلابی نوعیت کے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میں میٹرو یا دیگر ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت نہیں کر رہا مگر میں ان کی وکالت بھی نہیں کر رہا کہ میرے نزدیک ایک جاں بلب قوم کے لیے ان منصوبوں کی حثیت ایسے ہی ہے جیسے کسی پیاس سے مرتے ہوئے انسان کے گرد من و سلویٰ اور انواع و اقسام کے کھانے تو چن دیئے جائیں اور اس ساری مشقت میں اسے پانی کے دوگھونٹ سے محروم رکھتے ہوئے ایڑیاں رگڑرگڑ کر جان دینے پر مجبور کر دیا جائے، سو صاحبان اقتدار خدارا اپنی ترجیہات کو درست سمت دیتے ہوئے اپنی توانائیاں استعمال کریں تاکہ اس مرتی، تڑپتی اور روتی قوم کا کچھ بھلابھی ہو سکے۔

Image: Lahore, Metro aur Aap




گڈ بائے مسٹر شفیق

گورنمنٹ ہائی سکول میں بطور کلرک کام کرنے والے شفیق احمد آج بہت جلد جاگ گئے تھے۔ رات بھر وہ اس تذبذب کا شکار رہے کہ انہیں سو جانا چاہیے یا جاگتے رہناچاہیے۔ ہر بار جب وہ سونے کی کوشش کرتے تو انہیں محسوس ہوتا کہ وہ insomnia میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ انہیں اپنے محلے کا نصر نائی یاد آتا رہا جس نے ایک دفعہ ان کے سامنے اپنی حالت بیان کی تھی کہ وہ گزشتہ دس سال سے نہیں سویا۔ بالآخر اسی بارے میں سوچتے ہوئے کب انکی آنکھ لگ گئی انہیں پتہ ہی نہ چلا۔ محض دو یا تین گھنٹے سونے کے باوجود ان کے چہرے پر تھکن کے آثارتک نہ تھے اور نہ ہی ان کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں۔ پرجوش اور مجبوری کے جگراتے میں جو فرق ہوتا ہے شفیق کھرل کو دیکھ کر محسوس کیا جا سکتا تھا۔

 

گورنمنٹ ہائی سکول میں بطور کلرک کام کرنے والے شفیق احمد آج بہت جلد جاگ گئے تھے۔ رات بھر وہ اس تذبذب کا شکار رہے کہ انہیں سو جانا چاہیے یا جاگتے رہناچاہیے۔
اٹھ کر جناب نے ایک دو الٹے سیدھے ہاتھ مارے جس کو وہ ورزش کہتے تھے، داڑھی بنانے کا سامان لیا اور غسل خانے میں گھس گئے۔ یہ ان کا معمول تھا۔ آدھ گھنٹے یا شاید پینتالیس منٹ بعد جسم کے گرد تولیہ لپیٹے ہوئے وہ باہر نکلے اور شیشے کے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ الماری سے عطر نکالا جو ان کے ایک محلےدار خاص سعودی عرب سے لے کر آئے تھے۔ اس کو ہتھیلی پہ ملا اور ماؤزے تنگ کی طرز کے سلے ہوئے لباس پہ لگا دیا جو وہ پہننے والے تھے۔ اس سارے عرصہ میں وہ یہ سوچتے رہے کہ وہ پیدل سکول جائیں گے یا رکشہ لے لینا چاہیے۔

 

شفیق احمد کہاں سے آئے تھا کسی کو معلوم نہ تھا۔ پینتیس برس پہلے وہ اس سکول میں بطور جونئیر کلرک آئے تھے اور دوبارہ واپس نہیں گئے تھے۔ ان کے بارے میں افواہیں تھیں کہ ان کے ماں باپ بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اور محلے کے امام مسجد نے ان کی پرورش کی تھی۔ پرورش کیا تھی کہ ہر شام انہیں بھگایا جاتا کہ ان کے لئے کھانا لایا جائے اور اس میں سے انہیں بھی ایک آدھ روٹی مل جاتی۔ اسی طرح رو دھو کر انہوں نے سکول میں داخلہ لے لیا اور آٹھویں پاس کر کے جونئیر کلرک بھرتی ہو گئے۔ انہوں نے جان بوجھ کر دوردراز کے علاقے کا انتخاب کیا کہ اس کربناک ماضی کے بھوت سے خود کو بچا سکیں۔ ایک افواہ یہ بھی تھی کہ ان کی شادی ہوئی تھی اور پہلی رات ہی ان کی بیوی انہیں چھوڑ کر بھاگ گئی تھی کہ ان کے سر میں بالچر تھا۔

 

یہ افواہیں سچ تھیں یا جھوٹ لیکن کسی نے کبھی ان سے ماضی کے بارے میں دریافت نہیں کیا اور کبھی بات چھڑتی تو وہ خوبصورتی سے ٹال دیتے۔

 

بالآخر انہوں نے پیدل جانے کا فیصلہ کیا اور سکول کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستہ بھر وہ اسی تصور میں گم رہے کہ آج جب وہ سکول میں داخل ہوں گے تو کس طرح ان کا استقبال کیا جائے گا. پرنسپل انہیں اپنے دفتر میں لے کر جائے گا اور کہے گا کہ شفیق صاحب آج آپ ہمارے مہمان ہیں، آپ نے جو کچھ ہم سب کے لئے کیا ہے ہم سب اس کے لئے آپ کے شکرگزار ہیں اور اسی طرح کے خیالات جو ایک عام شخص اپنے بارے میں سوچتا ہے کہ دوسرے اس کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آج وہ ریٹائر ہو رہے تھے اور وہ جو کچھ سوچ رہے تھے وہ ساری تیاریاں کبھی انہوں نے دوسروں کے لئے کی تھیں۔ کبھی کسی استاد کی ریٹائرمنٹ کا موقع ہو یا میٹرک کے لڑکوں کی الوداعی پارٹی، ایسے مواقع پر ان کا مقصد ان تقریبات کو یادگار بنانا ہوتا تھا۔ وہ اکیلے ہی اس طرح کے مواقع کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے۔ ان کے ماضی میں اس کے علاوہ کچھ بھی یاد کرنے کے قابل نہ تھا۔

 

راستے میں انہیں اپنا آپ بوجھ محسوس ہو رہا تھا اور ہر وہ ذمہ داری اور سرگرمی انہیں ندامت اور پچھتاوے کا پہاڑ لگ رہی تھی جو وہ پچھلے کئی برسوں سے سرانجام دیتے آئے تھے۔
وہ ابھی ایسا ہی سوچ رہے تھے کہ سکول آ گیا۔ چوکیدار کو دیکھتے ہی ان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی، رات کو انہوں نے چند ایک مخصوص الفاِظ یاد کر لیے تھے جو آج وہ وقتاًفوقتاً کہنے والے تھے۔ مثلاً آپ بہت مہربان ہیں۔ میں ہمیشہ آپ کو یاد رکھوں گا اور چند ایک اور اسی قسم کے جملے۔ سکول میں داخل ہوتے ہی انہیں جھٹکا لگا جب عین ان کے داخل ہوتے وقت چوکیدار نے اپنا منہ دوسری طرف موڑ لیا۔ اس عمل کو انہوں نے چوکیدار اور عموماً درجہ اول کے ملازمین کی فطری جہالت سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا۔ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے محسوس کیا کہ سب کچھ باقی دنوں جیسا تھا، اساتذہ اپنی اپنی کلاسوں میں جا چکے تھے اور پرنسپل آفس بھی خالی پڑا تھا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کسی ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر گئے ہیں۔ اس سے ضروری کیا ہو سکتا تھا۔ انہوں نے سوچا اور دفتر کی طرف چلے گئے اور کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔ فراز نامی کلرک نے انہیں اداس بیٹھا دیکھ کر پانی کا گلاس دیا جسے انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیا۔ میز پہ بکھری فائلیں اور رجسٹر انہیں قبر کی مٹی محسوس ہو رہے تھے جو ان کی آدھی سے زیادہ زندگی کھا گئے تھے۔ انہوں نے کوشش کی کہ وہ اس کمرے سے باہر نکل جائیں مگر وہ کہاں جا سکتے تھے۔ اگر وہ نکل گئے اور پیچھے کسی کو یاد آگیا کہ آج تو ان کا آخری دن ہے اور آج ہی وہ کہیں چلے گئے ہیں تو یہ کتنی اداس کر دینے والی کیفیت ہو گی اور یہی کیفیت تو وہ ان لوگوں کے چہروں پر دیکھنا چاہتے تھے۔

 

اسی دوران چپڑاسی نے ہاف ٹائم کی گھنٹی بجا دی، وہ باہر نکلے اور سٹاف روم میں چلے گئے۔

 

سٹاف روم میں کوئی خاطر خواہ سرگرمی نہیں تھی۔ انہیں لگا کہ وہ منٹو کے افسانے والا منگو کوچوان ہیں اور سارے سٹاف نے ان کے ساتھ کوئی ہاتھ کر دیا ہے۔ ایک دو اطراف سے آواز بلند ہوئی کہ شفیق صاحب آج ہمیں چھوڑ جائیں گے اور یہ کہ ملنے آتے رہیے گا لیکن یہ سب سطحی تھا۔ اسی دوران میٹرک کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا اور یہ جاننے کے بعد کہ کلرک کا اسکول میں آخری دن ہے ان سے ملا اور باہر نکل گیا۔

 

وقت گزرتا گیا اور چھٹی ہو گئی۔ شفیق صاحب نے بھی اب وہاں رکنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے مکان کی طرف چل دیے۔ راستے میں انہیں اپنا آپ بوجھ محسوس ہو رہا تھا اور ہر وہ ذمہ داری اور سرگرمی انہیں ندامت اور پچھتاوے کا پہاڑ لگ رہی تھی جو وہ پچھلے کئی برسوں سے سرانجام دیتے آئے تھے۔

 

کمرے میں پہنچ کر جناب نے شرٹ اتاری جیسے دل پہ پڑے بوجھ کو لباس کے بوجھ سے ہلکا کر رہے ہوں، سگریٹ جلائی اور بستر پر اوندھے لیٹ گئے۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ سب ایک قریبی سستے ہوٹل میں بیٹھے کڑاہی گوشت اڑا رہے تھے۔ اور وہ مسٹر چپس کی طرح ان کے بیچ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ سب کتنا شاندار ہے اور اس لمحے کے عوض پوری زندگی قربان کی جا سکتی ہے۔
ان کا دماغ آندھی کے بگولے کی مانند گھوم رہا تھا کہ دروازے پہ ہونے والی دستک نے ساری توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔ "اب کون ہو سکتا ہے اور اب کسی کے آنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟"

 

انہوں نے سوچا کہ کوئی ہمسایہ ہو گا اور دستک دے کر چلا جائے گا مگر جب دستک ہوتے دیر ہو گئی تو چاروناچار اٹھے اور دروازہ کھولنے کے لئے آگے بڑھے۔ دروازہ کھولا اور سامنے نویں اور دسویں جماعت کے لڑکے سینوں پر ہاتھ باندھے ان کے منتظر کھڑے تھے۔

 

"تم سب یہاں؟" کلرک نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

 

آپ جلدی سے کپڑے پہنیں اور ہمارے ساتھ چلیں۔ لڑکوں نے ایک ساتھ کہا۔

 

"مگر کہاں؟" انہوں نے پھر پوچھا۔

 

"آپ چلتے ہیں یا آپ کو اٹھا کر لے جائیں؟" چند لڑکوں نے شرارت سے کہا۔

 

وہ اندر گئے اور شرٹ پہن کر باہر آ گئے۔

 

تھوڑی دیر بعد وہ سب ایک قریبی سستے ہوٹل میں بیٹھے کڑاہی گوشت اڑا رہے تھے۔ اور وہ مسٹر چپس کی طرح ان کے بیچ بیٹھے سوچ رہے تھے کہ یہ سب کتنا شاندار ہے اور اس لمحے کے عوض پوری زندگی قربان کی جا سکتی ہے۔ رائیگانی کا جو احساس ان پر سکول سے واپسی پر طاری تھا جلد ہی ان شرارتی لڑکوں کے قہقہوں میں تحلیل ہونے لگا۔