Categories
شاعری

مجھے نہیں معلوم

مصطفیٰ ارباب: ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

مجھے نہیں معلوم
اس نظم کو
کس نے تحریر کیا ہے
میں
اس نظم کا حصہ نہیں ہوں
مجھے زندگی کی تلاش تھی
زندگی
نظم سے باہر رہتی ہے
زندگی
مل کر بھی
مجھے نہیں ملی
اس نے حسبِ معمول
مجھے کھو دیا ہے
میرا نام
گُم گشتہ افراد کی فہرست میں
شامل ہو چکا ہے
پتا نہیں
یہ فہرست کس نے ترتیب دی ہے
ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

By مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب 1967 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنا ادبی کیریئر 1984 میں ایک افسانہ نگار کے طور پر شروع کیا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "خواب اور آدمی" 1999 میں شائع ہوا۔ سندھی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ سندھی اور اردو ادب کے مترجم بھی ہیں۔ ان کے ادبی کام برصغیر پاک و ہند کے مؤقر ادبی مجلات میں چھپ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *