ایڈورڈسعید (۱۹۳۵ء—۲۰۰۳ء) اس نظریے کا موجد نہیں تھا کہ علم، طاقت سے ملوث ہوتا ہے، مگر ہمارے عہد میں سعید سے زیادہ کسی دوسرے نقاد نے واضح نہیں کیا کہ طاقت کس طور علم کی تخلیق، علم کے مقصد اور علم کے اثر میں شامل ہو جایا کرتی ہے۔ طاقت، علم کو خالص نہیں رہنے دیتی؛ علم کو انسان کی بے ریا جستجو کے مدار سے باہر لے جاتی ہے اور دنیا کا نقشہ بنانے والوں کو مدد فراہم کرتی ہے۔ اس ضمن میں بیکن، نطشے، میثل فوکو اس کے پیش رو تھے۔ بیکن کامقولہ تھا کہ علم، طاقت ہے۔ بیکن نے علم میں طاقت کو دریافت نہیں کیا تھا، ایسے علم کی تجویز پیش کی تھی جس کا مقصود انسان کی فطرت کے مقابلے میں بے چارگی کو دور کرنا ہو۔ نطشے نے دنیا کو شر اور خیر کی طاقتوں کی آماج گاہ سمجھا۔ اس کے مطابق، طاقت ہی اخلاقیات طے کرتی اور رائج کرتی ہے۔ سعید ہی کے زمانے میں میشل فوکو نے نے طاقت کا تصور ہی بدل دیا۔ اس نے کہا کہ طاقت اسم نہیں فعل ہے۔ یعنی وہ ایک ہی مقام پر پڑی جامد چیز نہیں ہے،بلکہ وہ ہر جگہ ہے، ہر وقت ہے اور مسلسل حرکت میں رہتی ہے۔ سعید نے انتونیو گرامشی اور میثل فوکو کا خصوصی ذکر کیا ہے۔ گرامشی سے ثقافتی اجارہ داری کا تصور لیا، جب کہ فوکو سے ڈسکورس کا۔ اجارہ داری اور ڈسکورس دونوں، طاقت کی صورتیں ہیں۔ اجارہ داری کی بنیاد رضامندی ہے؛ لوگ اپنی خوشی اور رضاسے اپنے زمانے کے حاوی خیالات، غیر تنقیدی انداز میں قبول کر لیتے ہیں۔ ڈسکورس وضع کیا جاتا ہے اور حکمت عملی کے تحت سماج میں پھیلایا جاتا ہے۔
سعید بڑا نظریہ ساز نہیں تھا۔ اس کا تعقل نظری مسائل کے سلسلے میں اپنے سینئر معاصرین دریدا اور میشل فوکو کی ہمسری نہیں کرتا مگر کسی نظریے کو اس کے اپنے سیاق میں سمجھ کر، اس کی تعبیر نو کرکے، اسے اپنے مقصد کے لیے کام میں لانے کی وہ غیر معمولی فکری استعداد رکھتا تھا۔ سعید اصولی طور پر اس کا قائل تھا کہ کوئی نظریہ محض اپنے موجد، تک محدود نہیں رہ سکتا۔ نظریہ ہو یا کوئی بھی انسانی تخلیق، وہ منظر عام پر آنے کے بعد عازم سفر ہوجاتی ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ، ایک شخص سے دوسرے شخص، ایک عہد سے دوسرے عہد، ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف۔صرف وہی نظریہ یا وہی تخلیق سفر نہیں کرتی، جس میں سفر کی سکت نہیں ہوتی۔مائیں ہی نہیں، بعض مفکر اور تخلیق کار بھی مردہ چیزیں پیدا کرتے ہیں۔ سفر زندگی ہے، آدمی ہی کے لیے نہیں، اس کی جملہ تخلیقات کے لیے بھی!
نظریے یا کسی بھی انسانی تخلیق کا سفر کسی سوال کا جواب دینے، کسی الجھن کو دور کرنے، کسی تاریکی کو مٹانے، کہیں رکی منجمد زندگی کو بحال کرنے، یا محض انسانی تجسس کی تسکین کی خاطر ہوتا ہے۔ چوں کہ یہ سفر انسانی اذہان میں ہوتا ہے، اس لیے اس بات کی بے حد اہمیت ہوتی ہے کہ کسی نظریے کو کون، کس طور، کس زمانے،کس سیاق و سباق میں پڑھ رہا ہے۔ وہ شخصی سطح پر انسانی علم کے سلسلے میں کیا رائے رکھتا ہے؟ انسانی علوم اور فنون دونوں کی نوعیت کے بارے میں کس قسم کا فہم رکھتا ہے۔ وہ انسانی علم کے انسانی نفسیات، ثقافت، تاریخ کے تعلق کےبارے میں حساسیت رکھتا ہے یا نہیں؟
ایک اور بات بھی توجہ طلب ہے۔ چیزیں ہوں یا بڑے نظریات یا عظیم تخلیقات، ان کے ضمن میں ایک گہرے شخصی ولولے کے بغیر کچھ کہنا خود کو خواہ مخواہ زیر بار کرنا اور دنیا میں پہلے سے موجود شور میں اضافہ کرنا ہے۔ دنیا میں وہ علم اکثر رائیگاں جاتا ہے، جسے کسی گہرے شخصی ولولے کے بغیر پیش کیا گیا ہو۔ بہترین ابلاغ، خالی تجرید کا نہیں، شخصی ولولے کی پیدا کردہ سرشاری کا ہے۔ شخصی ولولہ، عام طور پر آدمی کی ہستی کو لاحق کسی بحران سے پیدا ہوتا ہے۔ شخصی ولولہ اتنا ہی عمیق اور دیر پا ہوگا، جتنی عمیق سطح پر کسی بحران کو محسوس کیا جائے گا ۔ کوئی بحران ہمیں خود اپنی ہستی کے معارف سے بھی آگاہ کرتا ہے۔ بحران ہمیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ ہم گریز پسند ہیں یا خطر پسند، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہم بحران سے گریز کی کون سی صورت اختیار کرتے ہیں، آنکھیں بند کر لیتے ہیں یا اس کا کوئی عقلی جواز گھڑ لیتے ہیں، اور بحران کے خطرے کو اپنی ہستی کی کتنی گہرائیوں تک محسوس کر سکتے ہیں۔ ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ ہم جس بحران کو شدت سے محسوس کرتے ہیں، صرف اسی کو حل کرنے کی مساعی بھی کرتے ہیں اور یہ مساعی دوسرں سے نظری و حقیقی مددسے لے کر خود کوئی راستہ تلاش کرنے سے عبارت ہوتی ہیں۔چوں کہ کسی بحران کو محسوس کرنا آسان نہیں ہوتا، اسی لیے ایک زمانے کے واقعی بحران کو محسوس کرنے والے خال خال ہوتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ صرف انہی کی تحریریں پڑھے جانے کے قابل ہوتی ہیں۔
سعید کے لیے بحران، محض اس کی فلسطینی عرب شناخت پر مغربی طاقتوں کی اجارہ داری نہیں تھا، اس سے بڑھ کر تھا۔اس کے بحران کا کچھ قصہ تقدیر نے بھی لکھا۔ سعید نے اپنی آپ بیتی کا عنوانOut of Place رکھا ہے۔ یہ عنوان اس کے بحران کی مکمل وضاحت کرتا ہے۔ آ پ بیتی، ایک قسم کا سفرنامہ ہے؛ خود اپنے ماضی، وراثت، اپنی ذات، اپنے زمانے کے اوبڑ کھابڑ راستوں پر کیے گئے سفر کا احوال ہے۔ سعید کو یہ پورا سفر’آؤٹ آف پلیس ‘ محسوس ہوا۔ اسے لگا کہ وہ اپنے مقام، اپنی جگہ، اپنے گھر، اپنے وطن سے ’باہر‘ رہا ہے۔ دنیا میں اس کی موجودگی، ایک بڑے تناقض کا شکار رہی۔ وہ دنیا میں، اپنی جگہ، اپنے گھر کے حقیقی احساس کے بغیر موجود رہا۔ اس کے والد ودیع ابراہیم فلسطینی تھے، جب کہ والدہ ہلدیٰ لبنانی تھیں۔ وہ اپنے والدین اور آگے آباؤ اجداد کے یہاں بھی ایک قسم کی خانہ بدوشی دریافت کرتا ہے۔ وہ اپنی اکثر الجھنوں کا سبب اپنی والدہ کے یہاں تلاش کرتا ہے۔ پہلی بڑی الجھن، اس کے نام کے ساتھ ایڈورڈ کا اضافہ ہے، جس کی ذمہ دار اس کی والدہ تھیں۔ سعید لکھتا ہے کہ جس سال اس کی پیدائش (۱۹۳۵ء) ہوئی، ان دنوں پرنس آف ویلز ایڈورڈ ہشتم کی وجاہت کا شہرہ تھا۔ (بعد میں اس کی شہرت، محبت کی خاطر تاج وتخت ٹھکرا دینے کے سبب ہوئی)، ان کی والدہ نے اس شہزادے کے حسن وجمال کی تحسین چاہی، اور اپنے بیٹے کو اس کا نام دے دیا۔ سعید اپنے بحران کی ایک جڑ، اپنی والدہ کے اس فیصلے میں دیکھتا ہے۔ اسے اپنی عرب شناخت پر انگریزی شناخت کا پیوند قبول کرنے میں پچاس برس لگے۔ وہ ودیع سعید ہی رہنا چاہتا تھا، اپنی دیرینہ عرب شناخت کے ساتھ۔ اسی طرح اس کی والدہ اس سے عربی سے زیادہ انگریزی میں بات کرتیں۔ سعید کو بائبل سے لے کر انگریزی ادب اور یونانی اساطیر سناتیں، اور کبھی کبھی الف لیلہ ولیلہ۔ یوں والدہ ہی نے اسے دہری شناخت دی۔ بعد میں اس کی تعلیم بھی انگریزی سکولوں میں ہوئی، اور انگریزی ادبیات ہی میں اس نے اختصاص حاصل کیا۔ یہ دہری شناخت، سعید کے لیے مسئلہ نہ بنتی، اگر انگریزی اس استعمار سے وابستہ نہ ہوتی، اس کا آلہ کار نہ ہوتی، جسے سعید نے مصر میں دیکھا اور ۱۹۴۷ء میں، جب وہ ابھی بارہ برس کا تھا، فلسطین میں اسرائیلی ریاست کے قیام میں معاون کے طور پر دیکھا۔ اسرائیلی ریاست کے قیام کے فوری بعد، سعید کا خاندان امریکا منتقل ہوگیا۔ اس کے والد کے پاس دوسری عالمی جنگ میں شرکت کے باعث امریکی شہریت تھی۔ سعید، شہریت کو اپنی شناخت کا ایک جز ضرور خیال کرتا تھا مگر یہ جز قانونی تھا، ثقافتی نہیں تھا۔ اس نے بارہا تجربہ کیا کہ امریکا نے اسے شہریت دی ہے مگر اس کی شناخت کو مسلسل شبہات کی زد میں رکھا ہے ۔ وہ “شرق شناسی” میں لکھتا ہے کہ “یہاں[امریکا میں] یہ اتقاق پایا جاتا ہے کہ سیاسی طور پر عرب فلسطینی کہیں وجود نہیں رکھتا۔ اجازت دی جاتی ہے تو وہ وجود رکھتا ہے۔” یہ اجازت، اسے شہریت دینے کی حد تک ہے۔ مگر کیا وہ شہریت حاصل کرکے عرب فلسطینی، امریکا میں واقعی وجود بھی رکھتا تھا؟ سعید کا جواب نفی میں ہے۔ یہیں اسے شہری شناخت اور ثقافتی شناخت کے بیچ گہرے خلا کا احساس ہوتا ہے۔ شہریت کسی جگہ قیام کا قانونی جواز دیتی ہے اور بعض آئینی تحفظات بھی، مگر یہ ثقافتی شناخت کا متبادل نہیں بنتی۔ سعید کا والد اپنے امریکی شہری ہونے پر قانع تھا یا کم از کم اس کا اظہار کیا کرتا تھا مگر سعید اپنی عرب فلسطینی شناخت کے لیے بے حد حساس تھا۔حالاں کہ سعیدکی عمر کا کم حصہ فلسطین میں گزرا۔ اس کے بچپن کی کچھ یادیں یروشلم کے علاقے طلبیہ میں اپنے گھر کی ضرور ہیں، مگر وہ خاصی مبہم ہیں، اور فلسطین کے مسئلے پر بعد میں مسلسل لکھنے کے لیے بہ ظاہر ناکافی بھی ہیں۔ اس کا بچپن مصر اور یروشلم کے درمیان مسلسل سفر میں گزرا تھا۔ تاہم اسے یروشلم کو چھوڑنے، اپنی زمین کے چھن جانے، اقلیت میں بدل جانے کا صدمہ تھا، جسے وہ عمر بھر محسوس کرتا رہا، اور اس نے تاریخ کو کٹہرے میں کھڑا کیا، جس نے یہ صدمہ تمام عرب فلسطینیوں کو پہنچایا تھا۔ جس امریکا میں وہ عرب فلسطینی حقیقت میں وجود نہیں رکھتا تھا، سعید نے اپنی تحریروں سے، اپنے موجود ہونے کو یقینی بنایا۔
امریکی شہریت کے باوجود سعید کو اپنے جلاوطن ہونے کا احساس رہا۔اس کے لیے دہری شناخت ایک عجب پیراڈکس کی حامل تھی۔ یہ اسے دنیا کو دیکھنے کا دہرا تناظر تو مہیا کرتی تھی، ساتھ اسے اپنے اندر ایک تقسیم (split) کا احساس بھی دلاتی تھی۔ سعید کے لیے لکھنا، اس تقسیم کو سمجھنا اور اس تقسم کی ذمہ دار تاریخی قوتوں کو معرض سوال میں لانا تھا۔
یہ کہ شناخت، دنیا میں جینے کا لازمی اصول ہے، اور یہ کہ جگہ، زبان، قوم، قومیت، مذہب، نسل ۔۔۔۔ یہ سب شناخت کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں، جدید دنیا کے پیدا کردہ تصورات تھے، اور اس جدید دنیا کے خدو خال مغرب نے وضع کیے تھے۔ سعید نے پہچان لیا کہ مغرب کو جدید دنیا کا نقشہ وضع کرنے کی طاقت اور پوزیشن حاصل تھی۔ سعید نے مغرب کی اس طاقت اور پوزیشن کو سمجھا اور اس پر سوالات قائم کیے۔ سعید نے اس طور پہچانا کہ اس کا بحران کس قدر بڑا ہے، اور وہ مسلسل بے گھری وجلاوطنی کا شکار ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ سعید نے شناخت کی سیاست کو تو اچھی طرح سمجھا، اورا س کے سب کرداروں کو پہچانا اور بے نقاب کیا، خود شناخت کی مابعد الطبیعیات کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اس کا مسئلہ دنیا میں اپنے موجود ہونے، ادب کے موجود ہونے کو سمجھنا تھا، خود موجودگی کیا ہے، یہ اس کا مسئلہ نہیں بن سکا۔ یوں سمجھیے، اس کا مسئلہ تاریخ میں آدمی کی موجودگی ہے، عالم میں ہستی کی موجودگی نہیں۔ اگر یہ دوسری صورت ہوتی تو وہ شناخت کی مابعد الطبیعیات کی طرف ضرور توجہ کرتا، اور دیکھتا کہ کسی انسانی شناخت کو اس شے سے تعلق نہیں ہے، جس کے بارے میں اقبال کہتا ہے:
اس پیکر خاکی میں اک شے ہے، سو وہ تیری
میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی
اور یہی شے، جس کے لیے ہائیڈگر Dasein کی اصطلاح استعمال کرتا ہے، آدمی کو شناخت کے پیدا کردہ سب المیوں سے محفوظ کرسکتی ہے یا انہیں المیہ بننے سے روک سکتی ہے۔ یہ ’شے‘ جگہ، مقام، گھر، وطن، نسل، مذہب، قوم، اور ہمہ قسم مقتدرہ کی دسترس سے بعید ہے، یہاں تک کہ وقت سے بھی۔ یہ الگ بات کہ اس کی اپنی تنہائی ہے، اپنی ابدیت، اپنی وحشت اور اپنی دہشت ہے۔ جنہیں شخصی نجات کی فکر ہوتی ہے، وہ اس ’شے‘ کی طرف رخ کرتے ہیں اور جنہیں دنیا میں چیزوں کے ہونے سے پیدا ہونے والے بحران کی پروا ہوتی ہے، وہ تاریخ کی طرف جاتے ہیں۔ سعید کا قبلہ تاریخ ہے۔ وہ اگر ایک مفکر ہے بھی تو حقیقت پسند اور عملیت پسند۔ اس کا راست اثر خود سعید کے ادبی مطالعات پر بھی پڑا۔ ادب سے زیادہ ’پیکر خاکی میں مضمر شے‘ کو کوئی نہیں لکھتا، اور جہاں اسے لکھا جاتا ہے، وہاں ادب جگہ، مقام، گھر، نسل، مذہب، قوم اور طاقت کی کشمکش سے ماورا ہوجاتا ہے، وہ ایک تاریخی نہیں، انسانی شے بن جاتا ہے۔ سعید اپنی تمام تر وسعت مطالعہ کے باوجود، ادب میں تاریخ و طاقت کی موجودگی کو قطعیت کے ساتھ نشان زد کرنے کے باوصف، ادب میں ’انسانی شے‘ کو پہچاننے اور سراہنے سے قاصر رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ موسیقی اس کمی کی تلافی کرتی تھی۔ اس نے سکول کے زمانے سے پیانو بجانا سیکھا، مصر میں آپرا میں پرفارم بھی کیا مگر موسیقی اس کے لیے ایک ایسا منطقہ تھا جسے وہ ایک فطری ترنگ میں دریافت کیا کرتا اور اس میں سیاحت کیا کرتا تھا۔ اپنی آ پ بیتی میں کہتا ہے: “یہ موسیقی ہے جو مجھے بہ طور خاص بہا لے جاتی ہے اور جس کے تجربے کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا”۔ گویا موسیقی میں وہ اس ’شے‘ کو محسوس کیا کرتا تھا، جسے اپنے ادبی مطالعات میں اس نے جگہ نہیں دی۔
اپنے بحران کو پہچاننے اور لکھنے کے لیے، سعید نے جوزف کونریڈ کو منتخب کیا۔ یہ ایک طرح سے اپنی نجی تاریخ کو خود ایجاد کرنے کا عمل تھا، جس میں مزاحمت ایک اہم عنصر تھا۔ سعید کے زمانہ طالب علمی میں امریکی جامعات (بہ شمول ہارورڈ) پر ادب کے ہیئتی مطالعات کی حکمرانی تھی۔ جو کچھ ہے، بس ادب کی لسانی ہیئت میں ہے، اور ادب میں زبان کی اس درجہ قلب ماہیت ہو جاتی ہے کہ وہ باہر سے، تاریخ سے نہایت مبہم سا رشتہ رکھتی ہے۔ سعید کہتا ہے کہ میں نے جو بھی دانشورانہ دریافت کی وہ امریکی یونیورسٹیوں کے طے شدہ نصاب سے باہر کی۔ یہ بلاشبہ مزاحمت تھی اور اپنی تحریروں کی بنیادخود اپنے تجربے اور اپنے منتخب کردہ مصنفوں کے مطالعات پر رکھنے کی کوشش تھی۔سعید کا عربی ادب کا مطالعہ براے نام تھا، وگرنہ شاید وہ کسی عرب مصنف کو منتخب کرتا۔ چناں چہ وہ خو د یورپ ہی کے ’غیر ہیئتی مفکروں اور مصنفوں ‘کی طرف متوجہ ہوا۔ اس نے کونریڈپر اپنے کام کے لیے ویکو (New Science)، جارج لوکاش (History and Class Consciousness)، سارتر، ہائیڈگر، مرلیو پونٹی کی تحریروں سے بالخصوص مدد لی۔ ایک دل چسپ بات سعید نے یہ لکھی ہے کہ وہ آئی اے رچرڈز سے استفادہ کرنا چاہتا تھا،جو ان دنوں ہاروڈ میں تھا مگر بوجوہ ممکن نہ ہوا۔ یہ سعید کے حق میں اچھا ہوا۔ رچرڈز گرچہ برطانوی تھا مگر ہیئتی مطالعات کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنے والوں میں شامل تھا۔
اگرچہ کونریڈ سعید کی پیدائش سے گیارہ برس پہلے انتقال کر چکا تھا، تاہم دونوں میں کئی باتیں مشترک تھیں۔سعید امریکی فلسطینی تھا تو کونریڈ ’پولش برٹش‘ تھا۔ کونریڈ نے بھی جلاوطنی کی زندگی بسر کی اور اسے لکھا۔ وہ بیس برس کی عمر تک ٹھیک طرح سے انگریزی نہیں بول سکتا تھا مگر بعد میں انگریزی کا صاحب اسلوب مصنف بنا۔ اس نے انگریزی میں خود کو، اپنے تجربات کو لکھا۔سعید نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ کونریڈ نے کیسے اپنے شخصی تجربے کو اپنے فکشن میں جگہ دی۔ سعید نے کونریڈ کے فکشن کی جڑیں، اس کے خطوط اور سوانحی مواد میں تلاش کیں۔ کونریڈ سے سعید کی جذباتی وابستگی تھی،ا سی لیے اس نے کونریڈ پر چنو ااچیبے کی تنقید کا جواب لکھا۔اچیبے نے کونریڈ کو اس کے ناول قلب ظلمات کی بنیاد پر یورپی نسل پرستی میں شریک قرار دیا۔نیز ناول میں ظاہر ہونےوالا افریقہ زبان، تہذیب سے محروم، اجڈ، وحشیوں کی آماج گاہ ہے۔ سعید نے کونریڈ کے دفاع میں لکھا کہ وہ یورپی امپیریلزم کو پیش کرتا ہے، جیسا کہ وہ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں تھا۔ کونریڈ کے کردار(مارلو، کرٹز) اپنی تاریخی صورتِ حال سے باہر نہیں جاسکتے۔ سعید کا کونریڈ کا یہ دفاع کمزور ہی نہیں، خود اس کے اپنے تنقیدی تصورات کے بھی خلاف ہے۔ سعید کی تمام شرق شناسوں پر تنقید ہی یہ ہے کہ وہ امپیریلز م کی طے کردہ علمیاتی و دانش ورانہ حدود کے جبر کا شکار ہوئے؛ وہ علم اور طاقت کے رشتے کی اس حد سے باہر نہ جھانک سکے، جسے جدید یورپ نے قائم کیا تھا۔ اسی لیے سعید دانش ور اور مصنف کے لیے لازم قرار دیتا ہے کہ وہ تاریخ کی قائم کردہ حدوں کو پہچانے اور پھر توڑے۔ یعنی خود کو تاریخ کے رحم وکرم پر نہ چھوڑے۔ خود کو تاریخی حدو ں میں مقید رکھنے سے،کسی مزاحمت کا امکان باقی نہیں رہتا۔
سعید اور بالخصوص اس کی شرق شناسی کو سمجھنے میں اس کی دوسری کتاب Beginnings: Methods and Intention اہمیت کی حامل ہے۔اس میں سعید نے ایک بنیادی سوال کو سمجھنے کی کوشش کی کہ آغاز کیا ہے؟ کسی بحران کا آغاز، شناخت کے سوال کا آغاز، ادب کا آغاز، علم کا آغاز، علم اور طاقت کے رشتے کا آغاز، ناول کا آغاز۔ یہ سوال اس نے خود اپنی شخصی صورتِ حال کے ضمن میں اٹھایا۔ اس میں وہ شخصی ولولہ موجود ہے جس کا ذکر پیچھے آیا ہے۔
سعید نے آغاز کے مسئلےکو نظریانے کی کوشش کی ہے، اور اس کوشش کا گہرا تعلق، اس کی شرق شناسی سے ہے۔ وہ آغاز کے بارے میں تین نکتے پیش کرتا ہے۔ ایک یہ کہ “آغاز ایک ایسی سرگرمی ہے،جس میں لازمی طور پر واپسی اور تکرار ہے، بجائے سادہ حصول کمال(simple linear accomplishments) کے”۔ سعید صرف یہ نہیں کہہ رہا کہ اشیا اپنی اصل کی طرف بار بار پلٹتی ہیں؛ بے وطن گھروں کو یاد کرتے اوران کی جانب واپسی کو اپنی حیات کا مقصد بنا لیتے ہیں؛ ہم ایک لذت بھرے یا زخم آلود تجربےکو بار بار یادکرتے اور اپنی مسرت یا اذیت کو بار بار جینے کی سعی کرتے ہیں، ایک نفسیاتی مریض بار بار ابتدائی ناخوشگوار تجربے کی طرف پلٹتا ہے،کوئی ادبی صنف، تجربات کے لیے چشم براہ ہونے کے باوصف، بار بار اپنی اصل یعنی اوّلین شعریات کی طرف پلٹتی ہے، بلکہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ کسی چیز کےآغاز کا مطلب، لازمی طور پر آگے کی جانب، ترقی و ارتقا کی طرف بڑھنا نہیں ہے؛ یعنی تاریخی حرکت کا مطلب ترقی نہیں ہے۔ایک تجربے، ایک مسئلے، ایک صنف، ایک عہد کا آغاز اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ حصول کمال کی طرف بھی بڑھیں گے۔ میشل فوکو نے بھی تاریخ کا یہی تصور پیش کیا تھا۔ اس کے مطابق تاریخ لازمی طور پر آگے، بلندی کی طرف مسلسل نہیں بڑھتی، اس کی سیدھی لکیر جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی ہے، اور اس میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔ ادب کے ایک روشن عہد کا یہ مطلب نہیں کہ بعد کے ادوار روشن تر ہوں گے، یا اگر کوئی ادیب اپنا آغاز ایک بہترین تصنیف سے کرتا ہے تو لازم نہیں کہ بعد میں اس کاسفر کمال کے حصول کا ہو۔ ابتدائی کامیابی، ناکامی کا سر آغاز بھی ہوسکتی ہے۔
سعید آغاز(beginning) اور ماخذ (origin) میں فرق کرتا ہے۔ یہی سعید کا دوسرا نکتہ ہے۔ وہ آغاز کو تاریخی، جب کہ ماخذ کو الوہی کہتا ہے۔ یہ کافی باریک فرق ہے۔آغاز اور ماخذ دنیا کو سمجھنے کے دو جدا طریقے ہیں۔ یہ کہ دنیا میں ہونےو الے واقعات کو ان کے تاریخی آغاز سے سمجھا جائے، یا ان واقعات کو الوہی منشا قرار دیا جائے۔ سیاست، استعمار، ادب،علوم، اخلاقیات، نفسیاتی امراض سب کو ان کے ’’تاریخی آغاز ‘‘ سے سمجھا جائے یا یہ خیال کیا جائے کہ یہ سب انسانی عقل سے ورا ایک قوت مطلقہ کی منشا سے واقع ہو رہا ہے۔ سعید اس بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے زیادہ وقت صرف نہیں کرتا۔ وہ دنیا، سیاست اور ادب کی تفہیم کے لیے ’’الوہی ماخذ‘‘ کے بجائے، ’’تاریخی آغاز ‘‘ کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’آغاز‘‘ نئی چیزوں کی بنیاد رکھتا ہے، اس کا ایک طریق کار ہے، اور اس کے پیچھے منشا موجود ہے۔ یہی سعید کا تیسرا نکتہ ہے۔ خود سعید کی فکر میں بے حد بنیادی۔ اگر وہ ’’الوہی ماخذ‘‘ کا ساتھ دیتا تو شرق شناسی پر تنقید نہ لکھ سکتا۔ وہ شرق شناسی کو مغربی امپریل قوتوں کی منشا اور طاقت کا مخصوص طریق کار قرار دیتا ہے۔ انسانی منشا اور طریق کار نہ صرف انسانی فہم میں آسکتے ہیں، بلکہ ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، ان کے بیّن اور پس پردہ مقاصد کو سمجھا جاسکتا ہے، اور متعلقہ افراد کو جواب دہ بنایا جاسکتا، اورذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے۔
سعید کے آغاز وماخذ کے نظریے کا محرک، اس کی اپنی صورتِ حال اور اس کی تفہیم کی حقیقی خواہش ضرور ہے مگر اس نظریے کی بنیاد سترہویں و اٹھارویں صدی کے اطالوی مفکر گمبتستا ویکو (Giambattista Vico)کی کتاب The New Scienceمیں موجود ہے، جسے سعید متعدد مواقع پر یاد کرنا نہیں بھولتا۔ ویکو کے مطابق انسانی سماج، انسانی ذہن کی تشکیل ہے۔ اس نے انسانی تاریخ کے ارتقا کی تین کڑیاں بیان کی ہیں : خداؤں کا عہد، ہیروؤں کا عہد اور انسانوں کا عہد۔ خداؤں کے عہد میں مذہب اور مافوق الفطرت کے خوف کا غلبہ تھا۔ہیروؤں کے زمانے میں دنیا اشراف و اجلاف میں تقسیم تھی، جب کہ انسانوں کا عہد، جدید عہد ہے جس میں سیاسی مساوات کا تصور ہے۔تاہم ویکو کے مطابق یہ تینوں عہد اپنی اصل میں انسانی ہیں۔ ویکو نے اپنی کتاب میں verum/factum کا اصول پیش کیا: یہ کہ انسانی سماج یقینی طور پر انسانوں کا بنایا ہوا ہے، اور یہ کہ اس کے اصولوں کو خود ہمیں اپنے انسانی ذہن کے تبدل میں تلاش کرنا چاہیے۔چناں چہ سعید ’آغاز ‘ اور ’ماخذ‘ کا قصہ اس لیے چھیڑتا ہے کہ وہ سماج کی تفہیم، انسانی تاریخی اصولوں کے تحت کرنا چاہتا ہے۔ سعید کے ’آغاز ‘ کے تصور کے ضمن میں بس ایک بات کہنے کی ضرورت ہے کہ ہر ’آغاز ‘ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ وہ بلاشبہ تاریخی ہے، انسان کی انفرادی، سماجی یا ادارہ جاتی منشا کے تحت بھی ہے، مگر لازم نہیں کہ اس میں تکرار ہو۔ اگر ہم تمام طرح کے ’آغاز ‘ کو یکساں، ایک جیسا خیال کریں، ان کی انفرادیت و خصوصیت کو نہ پہچانیں تو وہ ’ماخذ‘ بن جائے گا۔ ہر چیز، ہر تجربے، ہر عہد کا آغاز صرف اسی سے، بڑی حد تک مخصوص ہو گا۔اسی صورت میں وہ تاریخی قرار پائے گا۔
سعید شرق شناسی کو مغرب کی تاریخ اور مغرب و مشرق کے تعلقات میں ایک نیا ’’آغاز‘‘ ہی سمجھتا ہے، جس میں خود اپنی طرف پلٹنے اور اپنی تکرار کی روش موجود ہے۔ شرق شناسی کی تاریخ کا آغاز ۱۳۱۲ء میں ہوا،جب کونسل آف چرچ ویانا نے پیرس، اوکسفرڈ، بولوگنا(اٹلی)،ایوگنون(فرانس) اور سلماناکا (سپین) میں عربی، یونانی اور عبرانی کی چئیرز قائم کیں۔ ان چئیرز کے قیام کا مقصد سنجیدہ، اکیڈمک انداز میں مشرق کو سمجھنا تھا۔ خاص منشا اور خاص طریق کار کے تحت۔ جاننے کو طاقت میں تبدیل کرنا، ان مطالعات کا منشا تھا اور تصور کو حقیقت پر ترجیح دینا، خاص طریق کار تھا۔سعید کی شرق شناسی پر تنقید میں، جس بات کو واقعی ایک ’دریافت ‘ کا درجہ دیا جاسکتا ہے، وہ یہ ہے کہ سب مسشترقین کے یہاں ’مشرق‘ ایک خیال (idea) ہے۔ ایسا خیال جو مشرق کی حقیقت کا عکس ہے نہ ترجمان۔ وہ مشرق کی زمینی، تاریخی، ذہنی و تخیلی سب سچائیوں سے خود کو الگ اور فاصلے پر رکھتا ہے، اسے خود اپنے سماج میں اور خود مشرق میں ایک باطل شعور (false consciousness) کی مانند پھیلاتا ہے۔ مستشرقین چوں کہ ایک دوسرے کی کتابوں کے وسیلے سے باہم وابستہ ہوتے ہیں، اس لیے وہ مشرق کے مخصوص خیال کو برقرار بھی رکھتے ہیں اور آگے بھی بڑھاتے ہیں۔ ایک باطل خیال کیسے فروغ پاتا ہے اور کس طور وہ حقیقت سے کٹا ہونے کے باوجود، سماج میں رائج بھی ہو جاتا ہے، اسے واضح کرنے کے لیے سعید ویکو کے بعد ایک دوسرے اطالوی انتونیو گرامشی سے مدد لیتا ہے۔ گرامشی نے سول اور پولیٹیکل سوسائٹی میں فرق کیا ہے۔ سول سوسائٹی، خاندان، مدرسے، چرچ، انجمنوں سے عبارت ہے، جب کہ پولیٹیکل سوسائٹی میں عدلیہ، پولیس، فوج شامل ہے۔ سول سوسائٹی باہمی رضامندی کے اصول پر کام کرتی ہے، جب کہ پولیٹیکل سوسائٹی قانون، چھڑی اور بارود کی طاقت استعمال کرتی ہے۔ سول سوسائٹی جو کچھ کرتی ہے، اسی سے کلچر بھی وجود میں آتا ہے۔ کچھ خیالات اس تیزی اور فروانی سے سول سوسائٹی میں پھیلتے، زیر بحث آتے ہیں کہ لوگ انھیں اپنی منشا سے قبول کرنے لگتے ہیں۔ اپنی منشا اور بہ ظاہر عقلی طریقے سے قبول کیے گئے خیالات، ثقافتی اجارہ داری کو جنم دیتے ہیں۔ مشرق کا مخصوص خیال مغربی سماج میں، اسی طریق کار کے تحت پھیلا۔ مغرب، نے مشرق کے ’خیال‘ کو مشرق ہی سمجھا۔ سعید مغرب میں مشرق کے ’خیال ‘ کے رائج ہونے یا اجارہ حاصل کرنے کو ایک دوسرے زاویے سے بھی واضح کرتے ہیں۔ وہ ہے میشل فوکو کا ڈسکورس کا نظریہ۔ ڈسکورس کیا ہے؟ ایک ایسا علم، جس کا مقصود ومنشا طاقت ہو۔ سعید خالص علم کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔ ایک ایساعلم، جو ہمارے حقیقی انسانی تجسس سے تحریک پاتا، وجود میں آتا ہے اور پھر انسانی ذہن میں موجود دنیا، ذات اور کائنات سے متعلق پہیلیوں کا جواب دیتا ہے، وہ پہیلیاں جن سے ہمارا کوئی فوری مفاد وابستہ نہیں ہوتا مگر جن کے سبب ہمارے اندر گرہیں پڑتی جاتی ہیں، دنیا، ذات، کائنات کے سلسلے میں ایک عجب اضطراب ہمیں لاحق رہتا ہے، اور جب ان کا جواب ملتا ہے تو ہم شعور کے ارتفاع کا تجربہ کرتے ہیں؛ کسی گم شدہ معنی کی بازیافت کا تجربہ۔ شرق شناسی اس نوع کا خالص علم نہیں تھا۔ اس کے نقطہء آغاز ہی میں، طاقت کی آرزو موجود تھی۔ جہا ں یہ علم سائنسی ہونے کا تاثر دیتا ہے، وہاں بھی مشرق کے ایک مخصوص خیال کو باور کرانا مقصود ہوتا ہے۔
مشرق کا یہ’ خیال ‘ نہ تو خود مشرق کی اصل زمینی حقیقت پر منحصر ہے، نہ یہ ’خیال‘ تنہا، اپنے آ پ میں قائم ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کی اصل کا راز جلد کھل جاتا۔ یہ خیال، فنتاسی اور اسطورہ کی مانند ہے، ایک مکمل ذہنی کرشمہ، مگر اس میں بہ قول سعید نہ تو انسانی تجربہ شامل ہے یا نہ مشاہداتی علم ۔ فنتاسی اور اسطور ہ اپنی اصل میں وضع کی گئی کہانیاں ہیں۔ مستشرقین کا ’مشرق‘ بھی اس لیے اسطورہ ہے کہ اس کی بھی ایک کہانی وضع کی گئی ہے۔ اس کہانی میں دو کردار ہیں۔دونوں میں روایتی کہانیوں کے کرداروں کی خصوصیات ہیں۔ایک خیر کامل اور دوسرا مجسم شر ہے۔ جو کچھ بہترین،ارفع اور انسانی آرزو کا محور سمجھاجاسکتا ہے، وہ سب مغرب میں ہے، اور جو کچھ بدترین، اسفل اور انسانی تمنا کے لیے باعث عار سمجھا جاسکتا ہے، وہ مشرق میں ہے۔ ظاہر ہے، اس نوع کا کرداری تضاد، حقیقی انسانوں اور حقیقی معاشروں میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ یہ ایک مکمل فنتاسی ہے۔ مشرق کے مقابل ظاہر ہونےو الا مغرب بھی محض ایک ’خیال ‘ ہے۔
مشرق کا مذکورہ ’خیال‘، مغرب کے ’خیال ‘کے مقابل اور ضد کی صورت ظاہر ہوتا ہے۔ یوں شرق شناسی دراصل دو دنیاؤں۔۔۔۔ ہم اور وہ ۔۔۔۔۔۔ کا لامتناہی تقابل اور محاربہ ہے۔
ہم چیزوں کو ضد سے پہچانتے ہیں۔زبان میں بھی چیزیں، فرق و ضد کی صورت اپنی شناخت قائم کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ فرق اور ضد، خود چیزوں میں نہیں، انسانی ذہن وزبان کی ایجاد ہیں۔ ہم نے دنیا پر خود اپنی وضع کردہ ذہنی دنیا کو مسلط کیا ہوا ہے۔رات، دن کی حریف ہے، نہ اس کی ضد۔ دونوں بس الگ ہیں۔ ہم نے محض ان دو کے فرق سے ایک پوری مابعد الطبیعیات وضع کر لی ہے۔ رات کی تاریکی کو شر، بدی، جھوٹ، خوف کی علامت بنادیا ہے اور دن کی روشنی کو خیر، نیکی، سچائی، بے خوفی کا استعارہ۔ آگے ہر جگہ تاریکی اور روشنی اپنے تمام ذیلی وضمنی شیڈز کے ساتھ، خیر وشر کی ضمنی حالتوں کی علامتیں بنتے جاتے ہیں۔ یہ سراسر انسانی ایجاد ہے، اور محض اس لیے کہ انسانی ذہن صرف اسی کو پوری طرح سمجھ سکتا ہے، جسے وہ خود ایجاد کرتا ہے۔ رات اور دن کی یہ مابعد الطبیعیات، رات اور دن کی اپنی حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ دریدا نے اس میں ایک نئی بات دریافت کی۔ یہ کہ ہم صرف فرق نہیں کرتے، درجہ بندی بھی کرتے ہیں۔ رات، دن سے مختلف ہی نہیں، دن رات سے، روشنی ظلمت سے، خیر شر سے، سچ جھوٹ سے افضل بھی ہے۔ یہ درجہ بندی، ان تمام تصورات کی تہ میں موجود ہے، جن کی بنیاد میں تضاد وتقابل ہے۔ جیسے سائنس ومذہب، عورت ومرد، سفید وسیاہ، زمین وآسمان، عقل وعشق۔ اس میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ان تمام میں بنیادی فرق اور ان میں قائم ہوجانے والا نظام مراتب، واقعی علم کی بنیاد پر قائم نہیں ہوتے، بلکہ ہمارے ذہنی ساخت اور ثقافتی ترجیحات کو ظاہر کرتے ہیں۔
سعید اس کی روشنی میں شرق شناسی کا جائزہ لیتا ہے۔ جو فرق گویا رات اور دن میں ہے، وہ مغرب نے مشرق سے قائم کیا۔ مشرق ہر جگہ مغرب کے مقابل ظاہر ہوتا ہے۔ دونوں میں فرق ہے اور فرقِ مراتب ہے۔ مغرب ہر اعتبار مشرق سے مختلف اور برتر ہے۔ مغرب اگر ’ہم ‘ ہے تو مشرق ’وہ ‘ ہے۔ ’ہم ‘ ہر جگہ ’وہ‘ کا غیر ہے۔ بہ قول سعید مشرق ہر جگہ ’غیر عقلی، انحطاط پذیر، طفل ہے، جب کہ مغرب عقلی، خیر،بالغ اور نارمل ہے۔ ’ہر جگہ ‘سے مراد مستشرقین کے تصنیف کیے گئے جملہ متون ہیں، خواہ ان کا موضوع زبان ہے، ادب ہے، مذہب، تاریخ، بشریات، آثاریات ہے۔ سعید نے مشرق وسطیٰ اور اسلام سے متعلق برطانوی، فرانسیسی اور امریکی مصنفوں کی متعدد کتب کا مطالعہ کیا ہے،اور حیرت انگیز طور پر ان میں مشرق کے ایک ہی ’ خیال ‘ کو موجود وکارفرما پایا ہے۔ ان کتب اور ذرائع ابلاغ میں مغرب کو مشرق پر دانش ورانہ،ثقافتی، اخلاقی اور positional برتری حاصل رہتی ہے۔ سعید کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ خود مغرب کے سماج مشرق کا یہ مخصوص خیال اس قدر دہرایا جاتا ہے کہ اسے مغربی سماج میں اجارہ حاصل ہوجاتا ہے۔ یوں مغربی سماج، اصل مشرق سے ناواقف رہتا ہے۔
صاف لفظوں میں مشرق کو سمجھنے کا مطلب، مشرق پر اجارہ تھا۔علمی، علمیاتی، منہاجیاتی، دانشورانہ، اخلاقی، سیاسی اجارہ۔ شرق شناسی کی روایت، خود اپنے آغاز کی جانب بار بار پلٹتی رہی ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی شرق شناسی میں اپنے آغاز کی جانب باربار پلٹنے کا عمل تیز ہو گیا تھا۔ مشرق سے متعلق علم کی ہر صورت، مشرق پر غلبے کا مقصد لیے ہوئے تھی۔ لسانی، بشریاتی، آثاریاتی، مذہبی، ادبی سب مطالعات، مشرق کو جاننے اور اس پر غالب آنے کی غرض رکھتے تھے۔ سعید کا موقف یہ ہے کہ مغرب نے کسی الوہی منشا کے تحت مشرق کا علم حاصل کیا، نہ آسمانی طاقتوں کے کسی معاہدے کی پاس داری کرتے ہوئے استعماریت قائم کی۔
یہ سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا مغرب کی سول سوسائٹی میں ان اجارہ حاصل کرنے والے خیالات کا تجزیہ اور محاکمہ کرنے والا کوئی نہیں ہوتا ؟ اسی سوال کے جواب میں سعید دانش ور کا تصور سامنے لاتا ہے۔ بلاشبہ وہ مغرب میں دانش وروں کے وجود کو تسلیم کرتا ہے۔سعید کے مطابق اٹھارویں صدی میں ویکو، انیسویں صدی میں مارکس اور بیسویں صدی میں گرامشی دانش ور ہی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں مارکس جیسے فلسفی نے بھی مشرق کے مذکورہ ’خیال ‘ کو قبول کر لیا تھا اور اس نے ہندوستان میں برطانوی استعماریت کو ہندوستانی سماج کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا تھا۔سعید کے نزدیک، دانش ور ہی سول سوسائٹی کو اجارہ دارنہ خیالات سے آگاہ کرسکتا ہے ۔کئی بار سول سوسائٹی ہر اُس خیال، مباحثے، کتاب کو اہمیت دینے لگتی ہے جو مقبول ہو جائے اور اس سے کوئی ثقافتی قدر وابستہ ہو۔ سعید کے مطابق ایسے میں دانش ور کی ذمہ دار ی بڑھ جاتی ہے۔ اس کی نظر میں ثقافت، اجارہ دارانہ خیالات کے فروغ کا سب سے بڑا سبب بنتی ہے۔ ایسے میں دانش ور کو ہر رائج، مقبول رائے، کتاب کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ تنقیدی شعور کی مسلسل کارفرمائی ہی سماج وثقافت کو ہر نوع کی اجارہ داری سے بچا سکتی ہے۔ خودسعید کے مطابق : “میں تنقید کو اس درجہ سنجیدہ لیتا ہوں کہ میں یقین رکھتا ہوں اگر کوئی عین جنگ میں تیقن کے ساتھ ایک طرف کھڑا ہے،تب بھی تنقید ہونی چاہیے،کیوں کہ اس وقت تنقیدی شعور لازماً ہونا چاہیے،جب مسائل، سوالات، اقدار اور خود انسانی زندگی کے لیے لڑا جارہا ہو”۔تاہم سعید اس خطرے سے بھی آگاہ تھا کہ کچھ دانش ور سماج میں رائج ہونے و الے ہر خیال، مباحثے، آرا کو جائزہ اس طور لے سکتے ہیں کہ ان کا جائزہ اس قوت کا ساتھ دے سکتا ہے، جسے دراصل معرض سوال میں لانا تھا۔ یعنی کسی دانش ور کے محض سیاسی ہونے کا لازمی مطلب، اجارے کو چیلنج کرنا نہیں، مستحکم کرنا بھی ہوسکتا ہے۔
دوسرا سوال یہ اٹھایا جانا چاہیے کہ کیا خود سعید اسی طریق کار کا تو شکار نہیں ہوا، جس کی روشنی میں وہ شرق شناسی کا جائزہ لیتا ہے؟ اس کے نزدیک مغرب نے اصل مشرق کو نہیں لکھا،ایک خود ساختہ مشرق کو اپنے علم میں شامل کیا۔کہیں سعید نے بھی تو ایک خود ساختہ مغرب کی روشنی میں اس کی شرق شناسی کی روایت کا محاکمہ تو نہیں کیا؟ اصل مغرب کچھ ہو، سعید کا مغرب کچھ اور، محض ایک خیال اور فنتاسی؟ اس سوال کا جواب سعید کی کتابوں، Culture and Imperialism،Orientalism اور Covering Islam کے مطالعے سے مل سکتا ہے۔ ان میں سعید اپنے دعووں کے ثبوت میں کتابوں سے اقتباسات پیش کرتا ہے۔ مثلاً آخر کیا وجہ ہے کہ دانتے نے اپنی شہرہ آفاق کتاب طربیہ خداوندی میں پیغمبر اسلام کو جہنم کے دس درجوں میں سے نویں درجے میں ناقابلِ بیان حالت میں دکھایا ہے؟ جنت وجہنم کے ایک تخیلی نقشے میں اسلام کی مرکزی شخصیت کو اس طور پیش کرنے میں دانتے اکیلا نہیں ہے۔
ہمارے یہاں ایڈورڈ سعید کو دائیں بازو کے لوگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ وجہ سادہ ہے۔ وہ مغرب کی اس استعماری اور متعصبانہ روش کا کٹر نقاد ہے،جسے اسلام کے سلسلے میں روا رکھا گیا ہے۔وہ انگریزی وفرانسیسی آرکائیوز اور معاصر امریکی تاریخ کے مطالعے سے مغرب کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے،اور اس کے خلاف علمی اخلاقیات کی بنیاد پر ایک تفصیلی استغاثہ دائر کرتا ہے۔ یہ بات سعید کو ان سب لوگوں کا ممدوح بناتی ہے جو مذہب کو اپنی اوّلین وحتمی شناخت سمجھتے ہیں۔ انھیں سعید مغرب میں اپنا نمائندہ نظر آتا ہے۔ نائن الیون کے بعد جب سعید نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کی مغربی رٹ پر صاد نہیں کیا تو اسے یہودی میڈیا نے دہشت کا پروفیسر (Professor of Terror) قرار دیا۔ اس سے پہلے اسے نازی بھی قرار دیا گیا، ناراض عرب فلسطینی کہا گیااور اس کے یونیورسٹی کے دفتر کو جلادیا گیا تھا۔ وہ ایسا دانش ور تھا،جس نے جمہوری، سیکولر مغرب کے غصے کا باقاعدہ سامنا کیا۔ اہم بات یہ ہے کہ وہ خود اسی جمہوری، سیکولر مغربی روایت کا پرودردہ ہے اور اسی کو اپنی ڈھال بناتا ہے۔
سعید نے اسلام کا دفاع مذہبی بنیاد پر نہیں، ’جمہوری سیکولر بنیاد‘ پر کیا ہے۔ اس نے ۲۰۰۰ء میں کولمبیا یونیورسٹی میں ہیومنزم پر لیکچر دیے، جو اس کے انتقال کے بعد Humanism and Democratic Criticismکے عنوان سے شائع ہوئے۔ ان میں وہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ گزشتہ چالیس برس سے ایک ہیومنسٹ، استاد، نقاد کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اگرچہ وہ امریکی ہیومنزم کو یورپی ہیومنزم سے الگ کرتا ہے، اسے فرانسیسی ساختیات و پس ساختیات کے ’اینٹی ہیومنسٹ‘ پہلوؤں سے جد ا کرتا ہے، (حالاں کہ سعید ان اوّلین لوگوں میں شامل ہے جنھوں نے امریکی جامعات میں فرانسیسی نظریات متعارف کروائے)، نیز وہ ہیومنزم کی غیر مغربی روایت کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے، مگر وہ قطعیت کے ساتھ کہتا ہے کہ “میری رائے میں،ہیومنزم کی اصل (core) یہ سیکولر تصور ہے کہ تاریخی دنیا مردوں اور عورتوں کی بنائی ہوئی ہے، خدا کی نہیں اور یہ کہ اسے عقلی طور پر ہی سمجھا جا سکتا ہے، ان اصولوں کے تحت جنہیں ویکو نے New Scienceمیں پیش کیا ہے، نیز یہ کہ ہم حقیقی طور پر صرف اسی کو سمجھ سکتے ہیں جسے خود ہم نے بنایا ہو، یا دوسرے لفظوں میں ہم چیزوں کو انھی طریقوں سے سمجھ سکتے ہیں، جن طریقوں سے وہ بنائی گئی ہیں”۔ اسی کتاب میں وہ ایک بار پھر جارج لوکاش کی یہ رائے بھی دہراتا ہے کہ ہم ایک شکستہ دنیا کے باسی ہیں، جسے خدا نے ترک کر دیا ہے مگر اس کے ’ شرارتی معاونین‘ (acolytes) نے نہیں۔ اس نے ۱۹۸۴ء میں شائع ہونے والی اپنی کتاب The World, Text and the Critic کا ابتدائیہ سیکو لر تنقید کے عنوان سے اور اختتامیہ مذہبی تنقید کے عنوان سے لکھا ہے۔ وہ قطعیت کے ساتھ سیکولر تنقید کے حق میں ہے۔ اختتامیے میں اس نے مذہب کے تعلق سے چند باتیں لکھی ہیں۔ انھیں پڑھے بغیر، سعید کے اسلام کی دفاع کی نوعیت کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ وہ لکھتا ہے :“کلچر کی مانند مذہب ہمیں اتھارٹی کا نظام اور نظم وضبط کے معیارات فراہم کرتا ہے، جس کا باقاعدہ اثر اطاعت پر مجبور کرنا ہے یا اپنے مقلدین پیدا کرنا ہے۔ نتیجے میں ایسے منظم اجتماعی جذبات پیدا ہوتے ہیں جن کے سماجی اور دانش ورانہ اثرات تباہ کن ہوتے ہیں”۔ سعید تسلیم کرتا ہے کہ مذہب کے پیدا کردہ اجتماعی جذبات کبھی مفید بھی ہوسکتے ہیں، مگر ان کے نتیجے میں تاریخ کااحساس، تاریخ کے انسانی پیداوار ہونے کا شعور اور اس صحت مند تشکیک کا خاتمہ ہوجاتا ہے جس کا رخ مقتدر باطل معبودوں کی طرف ہوتا ہے، جنہیں کلچر اور نظام مقدس بنا کر پیش کرتے ہیں۔ وہ ایک بار پھر ویکو کا حوالہ لاتا ہے، اور انسانوں کی وضع کی ہوئی دنیا اور خداؤں سے عبارت دنیا میں فرق کرتا ہے۔ خداؤں کی مقدس دنیا کو انسانی عقل نہیں سمجھ سکتی، کیوں کہ ’’جاننا بناناہے‘‘(Knowing is making)۔ آپ اسی کو سمجھ سکتے ہیں، جسے آپ نے بنایا ہو۔ گویا جس سماجی دنیا کے بارے میں یہ یقین ہو کہ اسے انسانوں نے نہیں بنایا، وہ انسانی ذہن کے لیے ناقابلِ فہم ہوگی۔ لیکن کیا واقعی؟ سائنس، فطرت کے قوانین کا علم حاصل کرلیتی ہے، حالاں کہ اسے سائنس نے پیدا نہیں کیا۔
سعید معاصر تنقید کی اس روش پر سخت تنقید کرتا ہے جو سری، مذہبی اصطلاحات وتلازمات کی حامل ہے۔ یہ تنقید، دنیا کو قابل فہم انداز میں پیش نہیں کرتی۔ سعید نے اپنی کتاب Representations of Intellectualsمیں بھی اس سوال پر اظہار خیال کیا ہے۔ وہ مقدس دنیا اور الوہی صداقت رکھنے والوں کے اظہار رائے کی آزادی تسلیم کرتا ہے، مگر وہ رائے ظاہر کرنے اور رائے مسلط کرنے میں فرق کرتا ہے۔ وہ ہر اس مرد وعورت اور اس مقتدر ہستی پر تنقید کرتا ہے جو اظہار پر تسلط اور اجارے کو فوقیت دیتی ہے۔ سعید نے مغربی بالخصوص ذرائع ابلاغ میں اسلام کی ترجمانی پر اس لیے تنقید کی کہ وہ اسلام کو بہ ظاہر“ایک سادہ چیز سمجھتے ہیں مگر حقیقت میں وہ کچھ فکشن ہے، کچھ آئیڈیالوجیائی لیبل ہے اور کچھ مہین سا اسم ہے،جسے مذہب اسلام کہتے ہیں۔” اس “اسلام” کا حقیقی مسلم دنیا سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ “اسلام” اسی طرح کی ایک تشکیل ہے، جس کی تاریخ انیسویں صدی کے مستشرقین کے یہاں ملتی ہے۔ یعنی اپنے مفاد کے لیے کوئی تصور ایجاد کرنا، اور پھیلانا۔ سعید اسے خود مغرب کے عوام پر ان کے حکمرانوں کی اجارہ داری کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔