<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خصوصی Archives - Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/category/features/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/category/features/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 00:59:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>خصوصی Archives - Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk/category/features/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>پاکستانی ادب کے ستر سال</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حلقۂ اربابِ ذوق]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 31 Oct 2017 10:09:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22522</guid>

					<description><![CDATA[<p>زاہدہ حنا نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں،ہم زبانوں سے نفرت نہیں کرسکتے اور ان کو رد نہیں کرسکتے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ کے ساتھ کیا کیا؟اورہمیں اُ س کی بھاری قیمت اداکرنا پڑی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84/">پاکستانی ادب کے ستر سال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کی خصوصی ہفتہ وار نشست19ستمبر2017 کو کانفرس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز، پاکستان سیکریٹیریٹ میں منعقد ہوئی۔’’پاکستانی ادب کے ستر سال ‘‘ کے نام سے معنون اس تقریب کی صدارت معروف افسانہ نگار زاہدہ حنا صاحبہ نے کی۔ اجلاس کے آغاز میں انہوں نے ایک قراردا د پیش کی کہ آج کے اجلاس کو پنجابی کے مشہور ناول نگار افضل احسن رندھاوا کے نام کیا جاتا ہے،تمام حاضرین نے قرارداد کی تائید کی۔صدر محفل کی اجازت سے سید کاشف رضا نے اپنا مضمون ’’قومی زبانوں کا ادب ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے بتایا کہ اردو کی بنسبت پاکستان میں دیگر زبانوں کے ادیبوں کی عوام اور جمہوریت سے کمٹمنٹ زیادہ نظر آتی ہے۔اگر ہم صرف آج انتقال کرجانے والے معروف پنجابی ناول نگار افضل احسن رندھاوا کی مثال سامنے رکھیں تو انہوں نے ادب کی تخلیق کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیا۔کاشف رضا نے افضل احسن رندھاوا کی طرف سے مارکیز کے ایک ناول کے پنجابی ترجمے کا اقتباس پیش کیا اور ان کی پنجابی شاعری کے اشعار بھی سنائے۔کاشف رضا نے بات بڑھاتے ہوئے بتایا کہ پنجابی میں نجم حسین سید، منیر نیازی اور احمد راہی نے بھی بہترین تخلیقات پیش کیں۔ سندھی زبان کے ادیبوں نے عوام کے حقوق کیلئے بھرپور جدوجہد کی، شیخ ایاز نے مختلف اصناف میں نام پیدا کیا۔ پشتو ادب میں ولی خان، عبداللہ جان جمالدینی اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ انہوں بتایا کہ ہندکو اور بلتی زبان کا ادب ہمارے سامنے نہ آسکا جبکہ کتنی ہی ایسی زبانیں ملک میں موجود ہیں جن کے نام بھی ہمیں معلوم نہیں ہیں۔</p>
<p>سید کاشف رضا کے مضمون پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے فاطمہ حسن نے کہا کہ اردو کے ادیبوں نے بھی بہت قربانیاں دی ہیں،ضروری نہیں کہ اردو ادیب اسے ہی کہا جائے جس کے والدین اردو بولتے ہوں،مشتاق احمد یوسفی، فیض، اقبال اور ن م راشد اس کی بڑی مثالیں ہیں۔زاہدہ حنا نے کہا کہ پاکستان میں موجود تمام زبانیں قومی زبانیں ہیں،ہم زبانوں سے نفرت نہیں کرسکتے اور ان کو رد نہیں کرسکتے۔ ہم کیسے بھول سکتے ہیں کہ ہم نے بنگلہ کے ساتھ کیا کیا؟اورہمیں اُ س کی بھاری قیمت اداکرنا پڑی۔</p>
<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-22524" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/10/70-years-of-pakistani-literature-laaltain.jpg" alt width="890" height="395" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/10/70-years-of-pakistani-literature-laaltain.jpg 890w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/10/70-years-of-pakistani-literature-laaltain-300x133.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2017/10/70-years-of-pakistani-literature-laaltain-768x341.jpg 768w" sizes="(max-width: 890px) 100vw, 890px"></p>
<p>فاطمہ حسن نے اپنا مضمون ’’پاکستان کی ستر سالہ تاریخ اور خواتین قلمکار۔۔۔۔ایک جائزہ ‘‘ پیش کیا۔انہوں نے مضمون میں وضاحت کی کہ بیسویں صدی ادب کے حوالے سے خواتین کی شناخت کی صدی ہے، پاکستان بننے کے بعد خواتین کو لکھنے کے لئے بہت سازگار ماحول ملا،انہوں نے قرۃ العین حیدر، زاہدہ حنا، خالدہ حسین،ادا جعفری، زہرا نگار،فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، پروین شاکر،ممتاز شیریں اور دیگر متعدد قلمکاروں کے ادبی کا کارناموں کا مختصراً اور جامع طور پر ذکر کیا۔انہوں نے بتایا کہ خواتین نے ستر سالوں میں ادب کی مختلف اصناف افسانہ نگاری، ناول نگاری، شاعر ی اور سفرناموں تک میں اپنا ایک منفر د نام پید اکیا۔مضمون پر گفتگو کاآغاز کرتے ہوئے عقیل عباس جعفری نے ایک سوال اٹھایا کہ ہم پاپولر ادب لکھنے والی خواتین کو کس درجے میں رکھیں گے؟ فاطمہ حسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاپولر ادب دنیا بھر کے ادب میں موجود ہے، لکھنے والے پاپولر ادب سے بھی سیکھتے ہیں۔فاطمہ حسن نے کہا کہ وہ پاپولر ادب کو ادب عالیہ نہیں سمجھتی اس لئے انہوں ان خواتین ادیبوں کا ذکر اپنےمضمون میں نہیں کیا۔کاشف رضا نے کہا کہ کچھ ادیب خواتین کے ماہر بنے پھرتے ہیں،خواتین کو اپنے مسائل اٹھانے کےلئے خود آگے بڑھنا چاہئے۔فاطمہ حسن کا کہنا تھا کہ مرد ادیب بھی نسائی شعور کے ساتھ ادب تخلیق کررہے ہیں۔</p>
<p>محترم آصف فرخی نے اپنی گفتگو کا آغار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اردو ناول نگاری کی موجودہ اور پچھلی دودہائیوں کی صورتحال پر اظہار خیال کریں گے۔ انہوں نے افضل احسن رندھاوا کو ادبی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ افضل رندھاوا نے عالمی ادب کو مقامی ادب میں ٹرانسفارم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں ناول کم لکھے گئے اور ناول پر تنقید اُس سے بھی کم لکھی گئی۔اہم ناول نگار نثار عزیز بٹ کے تخلیقی عمل کا نہایت کم جائزہ لیا گیا،انتظار حسین کے ناول بستی پر اعتراض کیا گیا کہ یہ ناول ہی نہیں ہے۔حسن منظر نے افسانہ نگاری سے اپنے ادبی زندگی کا آغاز کیا، سویرا کے ایک شمارے میں منٹو کے ساتھ ان کا افسانہ بھی شائع ہوا۔العاصفہ، دھنی بخش کے بیٹے اور حال ہی میں شائع ہونے والا ناول حبس ان کے بہترین ناول کہے جاسکتے ہیں۔اکرام اللہ ایک منفرد ناول نگار ہیں ان کے ناول گرگ شب پر پابندی لگادی گئی۔ ’’آنکھ اوجھل ‘‘ میں پہلی مرتبہ بھرپور انداز میں نفر ت کے موضوع کو بیان کیا گیا۔مصطفیٰ کریم کا ناول ’’راستہ بند ہے‘‘ ملک کے تین بڑے اداروں کے آپسی گٹھ جوڑ اور اس کے ذریعے عوام کے استحصال کو بخوبی اجاگر کرتا ہے۔موجودہ دور کا ذکر کرتے ہوئے آصف فرخی نے کہا کہ رفاقت حیات نے اپنے ناول ’’میرواہ کی راتیں ‘‘ میں چھوٹے شہر کی اکتاہٹ کو عمدہ طریقے سے بیان کیا ہے۔ مرزا اطہر بیگ اپنے قارئین سے سخت مطالبہ کرتے ہیں۔اس کے بعد زاہدہ حنا نے خواتین افسانہ نگاروں کے متعلق اپنا مضمون پیش کیا۔ انہوں اپنے مضمون میں مختلف خواتین افسانہ نگاروں کے معروف افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے معاشرے اور عوام پر اس کے اثرات کاجائزہ لیا، انہوں نے بتایا کہ افسانہ نگاروں نے اپنی زبردست تخلیقی صلاحیتوں سے عوامی شعور کی آبیاری کی اور آمریت کے دور میں اہم کردار ادا کیا۔زاہد حنا نے اپنے مضمون کے بعد خصوصی اجلاس کے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نشست کے خاتمے کا اعلان کیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84/">پاکستانی ادب کے ستر سال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%af%d8%a8-%da%a9%db%92-%d8%b3%d8%aa%d8%b1-%d8%b3%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ad%d9%84%d9%82%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b0%d9%88%d9%82%d8%8c-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ad%d9%84%d9%82%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b0%d9%88%d9%82%d8%8c-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حلقۂ اربابِ ذوق]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 07 Sep 2017 16:26:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[باصر سلطان]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق]]></category>
		<category><![CDATA[رفاقت حیات]]></category>
		<category><![CDATA[سید کاشف رضا]]></category>
		<category><![CDATA[شبیر نازش]]></category>
		<category><![CDATA[غلام باغ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22098</guid>

					<description><![CDATA[<p>رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d9%84%d9%82%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b0%d9%88%d9%82%d8%8c-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4/">حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ وار اجلاس بعنوان ’’شام مطالعات‘‘،مورخہ29اگست،2017،بروز منگل شام ساڑھے سات بجے ،کانفرنس روم، ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈایا اینڈ پبلیکیشنز،پاکستان سیکریٹریٹ میں منعقد کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت مانچسٹر، برطانیہ سے تشریف لائے سینیئر شاعر جناب باصر سلطان کاظمی صاحب نے کی۔اجلاس کا آغاز حلقے کے سیکریٹری نے گزشتہ اجلاس کی رپورٹ سنا کر کیا۔حاضرین کی تائید کے بعد صاحبِ صدر نے اس رپورٹ کی توثیق کی۔اس کے بعد ظہیر عباس نے شبیر نازش کے پہلے شعری مجموعے ’’ آنکھ میں ٹھہرے ہوئے لوگ‘‘پر اپنا تحریری مطالعہ پڑھ کر سنایا۔ظہیر عباس نے شعری مجموعے کے فنی محاسن اور خوبیوں کے ذکر کے ساتھ ساتھ شبیر نازش کے اشعار کا موازنہ دیگر سینیئر شعرا کے اشعار سے بھی کیا۔</p>
<p>ذوالفقار عادل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ شبیر نے اپنے پہلے مجموعے میں شامل غزلیات اور اشعار کا عمدہ انتخاب کیا۔اسی لیے ان کے مجموعے کا مطالعہ پرلطف رہا۔اس مجموعے میں شاعر کی اپنی شاعری کے ساتھ کمٹ منٹ بھرپور انداز میںنظر آتی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ شبیر کی شاعری میں لسانی اختراع کے بجائے دوسری طرح کے تجربے ملتے ہیں۔ان کا ڈکشن سہل اور سادہ ہے۔مطالعے کو ایسے Exploitکیا جانا اچھا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ چراغ سے چراغ کیسے جلتا ہے۔اس کے بعد رفیع اللہ میاں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تقابلی اشعار سن کر لگتا ہے کہ شبیر ، میر وغالب کے ہم پلہ ہیں۔مجھے ان کی شاعری میں استعارہ سازی سے گریز اچھا نہیں لگا۔ رفاقت حیات نے شبیر نازش کی شاعری کے بارے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ شبیر کے مجموعے کے مطالعے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی غزلوں میں زیادہ تر اپنی ذاتی جذباتی اور محسوساتی واردات تک ہی محدود رہے۔ ان کے ہاں شعری نرگسیت اور تعلی زیادہ نظر آتی ہے۔ان کے پاس اچھے اشعار تو ہیں،مگر گہرے اور تہہ دار اشعار بہت کم ملتے ہیں، اس کی وجہ شاید ان کی مطالعے کی کمی ہے۔کاشف رضا نے اس بات پر اپنا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اظہارِ ذات والے شعرا کے ہاں سادگی کی طرف رجحان ہوتا ہے۔شبیر اسی قبیل کے شاعر ہیں۔رفیع اللہ میاں نے کہاکہ شاعری بنیادی طور پر اظہارِ ذات ہی ہوتی ہے۔مجھے اس مجموعے میں دو شعر بہت اچھے لگے۔جن میں سے ایک یہ ہے ع؛ پر نہ کھولے اسی تردد میں</p>
<pre><code>   کم نہ پڑ جائے کائنات مجھے
</code></pre>
<p>اس شعر کا مفہوم بظاہر منفی ہے مگر اس کا حسن بھی یہی ہے کہ آدمی اس شعر میںکھو جائے۔<br>
شبیر نازش کے شعری مجموعے پر گفتگو کو سمیٹتے ہوئے صاحبِ صدر باسر سلطان کاظمی نے کہا کہ پہلے مجموعے کی اشاعت پر مبار ک باد بجا طور پر دی گئی۔وہ اس کا مستحق ہے۔شبیر نے آتش بازی یا نمائش کی شعوری کوشش نہیں کی۔بلکہ ان کے شعر اس کم روشنی کی طرح ہوتے ہیں، جو آہستہ آہستہ محسوس ہوتی ہے۔ٹی ایس ایلیٹ نے شاعری کے لیے اظہارِ ذات سے آگے کی بات کی ہے۔شاعری تو ذات سے فرار کا نام ہے۔</p>
<p>اس کے بعد رفاقت حیات نے مرزا اطہر بیگ کے پہلے ناول’’ غلام باغ‘‘ پر تحریری مطالعہ پیش کیا۔اس بار بھی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے ذوالفقار عادل نے کہا کہ انہوں نے یہ ناول مکمل نہیں پڑھامگر جتنا بھی پڑھا۔ انہیں یہ اس عہد کا بڑا ناول محسوس ہوا۔اس میں کردار سازی خوب ہے۔زبان بہت اچھی ہے۔سید کاشف رضا نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ کے ناول بہت فاسٹ پیس ہوتے ہیں۔شاید یہ ان کی ڈرامہ نگاری کی ریاضت کا ثمر ہے کہ ان کے ناولوں میں کہانی بہت تیز چلتی ہے۔ان کے ناول پوسٹ کولونیل دور کے متعلق ہیں۔ اس حوالے سے ان کے ہاں مقامی اور بیرونی، دونوں نقطہ نطر ملتے ہیں۔ان کے سسپینس کا عنصر حاوی رہتا ہے۔ان کے ناولوں میں پاکستان جیتا جاگتا دکھائی دیتا ہے۔ایک ناول نگار کو ایک اچھا منصوبہ ساز ہونا چاہیے، اس معاملے میں مرزا اطہر بیگ بہت نمایاں ہیں۔رفاقت حیا ت اظہارں کیال کرتے ہوئے کہا کہ مرزا اطہر بیگ اپنے ناولوں میںکرداروں کی تشکیل مختلف طرح کے تصورات کی مدد سے کرتے ہیں۔اس لحاظ سے انہیں غلام باغ ایک میچور ناول محسوس ہوتا ہے۔صاحب صدر نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اس کے ناولوں کا اسٹرکچر بہت پختہ ہوتا ہے۔کاشف رضا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ہارڈی کے ناولوں کا اسٹرکچر Guess کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ ڈکنز کے ناولوں کا ڈیزائن گیس نہیں کیا جاسکتا۔ مرزا اطہر بیگ کے ہاں معاملہ بے حد مختلف ہے۔رفیع اللہ میاں نے کہا کہ انہیں مرزا صاحب کے ناولوں میں جو بات سب سے زیادہ کھلتی رہی ، وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہر ناول میں ایک ہی کردار کو بار بار دہرایا ہے۔کاشف رضا نے اس بات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فکشن میں بھی ایسا دیکھا گیا ہے کہ عام طور پرناولوں کا ہیرو ادیب کی اپنی ذات ہوتی ہے۔یہ بات قابلِ اعتراض بات نہیں ہے۔رفاقت حیات نے کہا کہ غلام باغ کے اکثر کردار فلسفی اور دانشور محسوس ہوتے ہیں۔ وہ موقع بے موقع فلسفہ بگھارتے دکھائی دیتے ہیں۔ نرس مختیار بھی ایک ایسا ہی کردار ہے۔رفیع اللہ میاں نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ناول کا پہلا دور ’’آگ کا دریا‘‘ اور ’’اداس نسلیں‘‘ کے ساتھ ختم ہوگیا۔ غلام باغ اردو ناول کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔لاہور سے تشریف لائے مہمان جاوید آفتاب نے گفتگو مین سریک ہوتے ہوئے کہا کہ ایک شاعر کے لیے دیگر علوم سے آگاہی ناگزیر ہے۔وسیع علم کے بغیر شاعری میں گہرائی اور وسعت پیدا نہیں کی جاسکتی۔جب کہ فکشن میں ریسرچ کے بغیر کردارون پر گرفت کرنا آسان نہیں ہوتا۔مرزا اطہر بیگ صاحب ایک وسیع المطامعہ شخص ہیں ، مگر ان کے ناولوں میں تکرار نہیں ہونی چاہیے۔</p>
<p>آخر میں اجلاس کے صدر باصر سلطان کاظمی صاحب نے ناول پر گفتگو کو انتہائی پر مغز قرار دیا۔حاضرین کے اصرار پر باصر سلطان کاظمی صاحب نے اپنا کلام سنایا۔ع؛</p>
<p>ملتا نہیں ہے دشت نوردی میں اب وہ لطف<br>
رہنے لگا ہے ذہن پہ گھر اس قدر سوار</p>
<p>اس کے ساتھ ہی صاحب ِ صدر نے اجلاس کے اختتام کا اعلان کیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d9%84%d9%82%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b0%d9%88%d9%82%d8%8c-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4/">حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کے زیرِ اہتمام شامِ مطالعات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ad%d9%84%d9%82%db%81-%d8%a7%d8%b1%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d9%90-%d8%b0%d9%88%d9%82%d8%8c-%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%b2%db%8c%d8%b1%d9%90-%d8%a7%db%81%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حلقۂ اربابِ ذوق]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 04 Aug 2017 16:41:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[آصف فرخی]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق]]></category>
		<category><![CDATA[نیر مسعود]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21772</guid>

					<description><![CDATA[<p>رفاقت حیات: نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1/">نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/category/literature/halqa-e-arbab-e-zauq/" target="_blank" rel="noopener">حلقہ اربابِ ذوق</a> کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>حلقہ ابابِ ذوق ،کراچی کا ہفتہ وار اجلاس ، یکم اگسست ، ۲۰۱۷ ، بروز منگل ، کانفرنس روم ڈیمپ میں منعقد ہوا۔نثری نظم کے ممتاز شاعرافضال احمد سید کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں مایہ ناز افسانہ نگار نیر مسعود اور ان کے کام کو یاد کیا گیا۔جمال مجیب قریشی نے ان کے افسانوی مجموعے ‘‘ عطرِ کافور’’ کا آخری افسانہ ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اپنے مخصوص لب و لہجے میں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد آصف فرخی صاحب کا انگریزی مضمون جس کا ترجمہ رفاقت حیات نے کیا تھا، ظہیر عباس نے پڑھ کر سنایا۔اس کے بعد گفتگو کا آغاز ہوا۔ سب سے پہلے عذرا عباس نےآضف فرخی کے مضمون کے ترجمے کے ایک جملے پر اعتراض کیاکہ ادبی سرگرمی زوال پذیر کیسے ہوسکتی ہے، جب کہ نیر مسعود اپنا سارا کام تو بہت پہلے ختم کرچکے تھے۔ افضال احمد سید نے ان کی تائید کی۔رفاقت حیات نے کہا کہ وہ اس جملے کو بدل دیں گے۔آصف فرخی نے وضاحت دی کہ نیر مسعود صاحب چاہتے تھے کہ تعبیرِ غالب نامی کتاب کی پروف ریڈنگ و ہ خود کریں لیکن خراب صحت کی بنا پر وہ ایسا نہیں کر سکے اورو ہ بچوں کے لیے کچھ اور کہانیاں لکھنا چاہتے تھے۔ اس کے بعد عذرا عباس نے افسانے ‘‘ ساسانِ پنجم’’ اور جمال مجیب قریشی کی قرات کو سراہا ۔ان کے خیال میں اس افسانے میں گم ہوجانے والی تہذیبوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ جب سے دنیا بنی ہے ان گنت تہذیبیں وجود میں آئیں اور فنا کے گھاٹ اتر گئیں۔کرن سنگھ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیر مسعود کی کہانیوں میں ان کا زرخیز تخئیل کارفرما دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کہانیوں میں لکھنو کی تہذیب بھی سانس لیتی محسوس ہوتی ہےاور کہیں کہیں ماورائی عنصر بھی موجود نظر آتا ہے۔ اسی بنا پر ان کی کہانیاں مختلف اور منفرد محسوس ہوتی ہیں۔ شجاعت علی نے کہا کہ نیر مسعود کے افسانوں کے بین السطور صرف لکھنو کی تہذیب نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی تہذیب کار فرما دکھائی دیتی ہے، جو بدقسمتی سے اب دم توڑ چکی ہے۔ نیر مسعود صاحب نے اس زمانے میں افسانے لکھنے شروع کیے ،جب اردو افسانے کے افق پر علامت اور تجرید کا غلبہ تھا۔ نیر مسعود صاحب نے اپنے افسانوں کے لیے الگ راہ نکالی۔</p>
<p>شعیب قریشی نے نیر مسعود صاحب کے سفر نامہِ ایران کو سراہا۔ آصف فرخی نے اس بات کو آگے بڑھایا کہ نیر مسعود صاحب صرف ایک مرتبہ سرکاری دورے پر ایران گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ ایک مرتبہ بنگلور، دہلی اور الہ آباد بھی گئے لیکن وہ سفر کرنے اور اپنے گھر سے نکلنے کو پسند نہیں کرتے تھے۔انہیں الہ آباد میں لیکچرار کی ملازمت ملی تو وہ وہاں گئے۔ پہلے دن انہوں نے جوائننگ دی اور اگلے روز استعفی دے کر واپس لکھنو آگئے۔وہ جس مکان میں پیدا ہوئے جو ان کے والد کا بنوایا ہوا تھا۔ اسی میں ان کا انتقال ہوا۔سعیدالدین صاحب نے کہا کہ نیر مسعود صاحب کی تحریروںمیں اتنی وسعت ہے کہ انہیں ایک نشست میں سمیٹنا آسان نہیں ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں انسانوں کو کرادار کے طور پر لینے کے ساتھ ساتھ دروازوں، کھڑکیوں اور عمارتوں سے بھی ایک کردار کی طرح انصاف کرتے اور انہیں بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کی فضا اتنی مسحورکن ہوتی ہے کہ لگتا ہے ان کے پاس کہنے کے لیےکہانی نہیں صرف یہی فضا ہے، لیکن ان کی سب کہانیوں میں ایسا نہیں ہے ۔ انہوں نے اپنی کہانیوں کے ذریعے دکھایا ہے کہ وقت کس طرح گلیوں، محلوں، عمارتوں پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔نیر مسعود نے اپنے افسانوں میں وقت کو قید کیا ہے۔ رفاقت حیات نے کہا کہ ان کا نیر مسعود صاحب کی تحریروں سے پہلا تعارف ان کے افسانے ‘‘اوجھل’’ کے ذریعے ہوا۔ اس کے بعد ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ پڑھا۔ یہ افسانے اپنی بھید بھری اور پراسرار فضا کے سبب آج بھی انہیں اپنے ذہن میں زندہ محسوس ہوتے ہیں۔رفاقت حیات نے مزید کہا کہ انہوں معرو ف فکشن نگار خالد جاوید صاحب کی ایک گفتگو سنی، جس میں وہ نیر مسعود صاحب کوصادق ہدایت ، کافکا اور ایڈگر ایلن پو کی قبیل کا فکشن نگار قرار دے رہے تھے، کیوں کہ نیر صاحب صاحب کے افسانوں میں بھی خوف اور دہشت سے مملو فضا غالب دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>اجمل کمال صاحب سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے رفاقت حیات نے کہا کہ ان کے خیال میں نیر مسعود صاحب نے زیادہ تر ہاتھ سے کام کرنے والوں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ آصف فرخی نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات مکمل طور پرنہیں صرف جزوی طور پر درست کہی جاسکتی ہے اور خالد جاوید صاحب کی توجیہہ سے قطع نظر ،نیر مسعود صاحب واقعیت یا حقیقت پر مبنی فکشن کے بہت قائل تھے۔وہ غلام عباس، محمد خالد اختر ، رتن ناتھ سرشارکو پسند کرتے تھے۔ انہوں نے ضمیر الدین احمد پر ایک مضمون لکھا۔عظیم بیگ چغتائی بھی انہیں پسند تھے۔نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ان کہ ہاں حقیقت تہہ دار اور واہمے کے بہت قریب ہے۔حقیقت تخئیلاتی بھی تو ہو سکتی ہے۔ان کے تمام افسانوں میں ایک دبا ہوا احساسِ زیاں، ایک ملال، ایک حُزن اور افسوس کی کیفیت پائی جاتی ہے۔انہوں نے لکھنو کی مخصوص زبان اور محاوروں سے یکسر اجتناب کیا ، جس کے باعث انکے افسانوں میں ایک نامانوس پن در آیا۔</p>
<p>آخر میں اجلاس کےصاحبِ صدر افضال احمد سید صاحب نےکہا کہ حلقے کو یہ نشست ضرور کرنی چاہیے تھی اور حلقے نے کی، کیوں کہ نیر مسعود اردو کے اہم تریب ادیب تھے۔ ہم انہیں جتنا یاد کر سکیں، کرنا چاہیے۔ میری کبھی نیر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسے میں آصف صاحب کےذریعے ہمیں نیر سعود صاحب کے فن اور شخصیت کے باے میں بہت اچھی گفتگو سننے اور انہیں سمجھنے کا موقع ملا۔ میں نیر مسعود صاحب کا صرف ایک قاری ہوں۔میں نے ان کی تنقیدیں نہیں پڑھیں۔ میں ان سے ان کے ترجمے کے ذریعے متعارف ہوا۔ وہ تھا ‘‘ شجر الموت’’۔وہ پیٹر پان کی کہانی تھی۔وہ کہانی اور اس کا ترجمہ دونوں بہت خوب صورت تھے۔میں وہ پڑھتے ہی نیر صاحب کا عاشق ہوگیا۔ا س کے بعد ان کی کہانیاں پڑھیں۔ ان کی کہانیوں میں ابہام کی ایک صورت ہوتی ہے۔ابہام کو شاعری اور ادب میں ایک وصف سمجھاجاتا تھا۔ابہام کی وجہ سے ان کہانیوں کو بارِ دگر پڑھنے اور ان کے متعلق سوچنے کا موقع ملتا ہے۔نیر صاحب اپنے افسانوں میں جو فضا بناتے ہیں وہ ابہام کے ساتھ بھی بناتے ہیں اور طائوس چمن کی مینا جیسی کہانیوں میں بھی بناتے ہیں۔اس کہانی میں انہیں واجد علی شاہ ہیرو نظر نہیں آتا۔اس کہانی کے آخر میں ایسا جملہ بھی آتا ہے کہ اسے(مالی کو) قید واجد علی شاہ نے کیا مگر اسے رہائی انگریزوں نے دلوائی۔نیرمسعود صاحب اپنے افسانوں میں بہت کچھ بین السطور بھی کہتے تھے، جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔<br>
افضال احمد سید کی گفتگو کے حلقے کے اجلاس کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1/">نیر مسعود خود کو حقیقت پسند افسانہ نگار سمجھتے تھے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%db%8c%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%d8%ae%d9%88%d8%af-%da%a9%d9%88-%d8%ad%d9%82%db%8c%d9%82%d8%aa-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af-%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%db%81-%d9%86%da%af%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Jan 2017 05:18:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[ادبی دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[خودنوشت]]></category>
		<category><![CDATA[دس برسوں کی دلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19801</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11-2/">دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے <a href="http://www.adbiduniya.com/2015" target="_blank" rel="noopener">ادبی دنیا</a> کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">دس برسوں کی دلی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/%D8%AF%D8%B3-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%84%DB%8C/" target="_blank" rel="noopener">گزشتہ اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب کبھی سردیوں کی اس تنگ و تاریک دنیا کو دیکھتا ہوں، جو شام ہوتے ہی معدے میں بچی کھرچن بھی صاف کرکے ایسی بھوک جگاتی ہے کہ معلوم ہوتا ہے کسی ننھے پیروں والے جانور نے اپنی زبان سے سارا پیندا چاٹ ڈالا ہے تو مجھے آج سے قریب نو سال پہلے کی ایک شام یاد آتی ہے۔ میں ان دنوں ماتھر سٹوڈیو جایا کرتا تھا۔ دوردرشن کا کام زوروں پر تھا اور ایک کشمیری پروڈیوسر نے جس کا نام عرفان تھا۔ مجھے پھانس لیا تھا۔ پھانس لینے کا محاورہ میں نے دونوں معنی میں استعمال کیا ہے، یعنی کہ اس نے جتنا کام کرایا اس کی آدھی اجرت بھی نہ دی، جبکہ اس کے قریب چھ سات پروگراموں کے دو سو ڈھائی سو ایپی سوڈ میں نے لکھے تھے۔ دوردرشن اردو کا ایک بڑا عہدے دار کشمیری تھا اور عرفان اور اس کے بھائی کے اس سے مراسم تھے، یہیں دلی کے گریٹر کیلاش میں وہ رہا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اپنے گھر بھی لے گیا تھا۔اس نے ماتھر سٹوڈیو کو ان دنوں اپنا اڈا بنا رکھا تھا، آئی آئی ٹی روڈ پر واقع یہ سٹوڈیو بہت سے پروڈیو سر کرایے پر لیا کرتے تھے۔اسے میرا پتا ایک اینکر نے دیا تھا، جس کا نام حنا موج تھا اور اس کے ساتھ میں پہلے بھی ایک پروجیکٹ میں کام کرچکا تھا۔بہرحال عرفان اور اس کے بھائی میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔دونوں چار چھ پائی کا بھی برابر حساب رکھتے تھے، رقم یہاں سے وہاں ہوئی، چھوٹے اور معمولی کریو کے کسی ممبر نے کہیں کچھ زیادہ خرچ کیا تو وہ گریبان پر ہاتھ ڈالنے میں دیر نہ کرتے تھے۔میرے ساتھ حالانکہ اس کا رویہ نہایت شریفانہ رہا، مگر میں اس کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر بہت اوبا کرتا تھا۔ اس کی گالیاں دلچسپ اس لحاظ سے تھیں کہ وہ ماں بہن کی گالیاں نہ دیتا تھا، بلکہ کسی شخص کو برسر شوٹنگ اگر کچھ کہنا ہو، اچانک بگڑ پڑنا ہو تو اس کے کیسے میں کچھ جانوروں کے نام ہوا کرتے تھے۔وہ ایسے خراب لہجے میں یہ نام لیا کرتا کہ سننے والوں کو وہ خطابات کریہہ ترین گالیوں سے بھی زیادہ برے معلوم ہوا کرتے۔اپنی بڑی سی کالی گاڑی میں بیٹھ کر اکثر وہ مجھے کبھی کسی، کبھی کسی سرکاری دفتر لے جایا کرتا، گاڑی میں اکثر کشمیر کے موضوع پر باتیں کیا کرتا تھا۔حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ خود کو دل سے ہندوستانی تسلیم نہیں کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہم تو اس ملک میں بس کمانے آیا کرتے ہیں۔مجھے انہی دنوں یہ معلوم ہوا کہ کشمیریوں کو بہت الگ قسم کی مراعات دی جاتی ہیں۔سرکاری رعایتیں الگ، وہ رشوت خوری، کنجوسی اور دوسرے کئی رویوں کے ساتھ سرکاری دفاتر سے رقم اینٹھا کرتے ہیں۔لیکن عجیب بات تھی کہ اس کھلم کھلا اعلان کے باوجود ماتھر سٹوڈیو کا مالک ان دونوں بھائیوں کا بہت اچھا دوست تھا۔ایک دفعہ جب اس نے مجھ سے کسی کشمیری مسئلے پر بات کی، تو میں نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا اور واقعی اس وقت تک مجھے کشمیر کے معاملے میں نہ کوئی دلچسپی تھی اور نہ میں اس کی دوغلی باتیں سننا چاہتا تھا۔اس سے مخالفت کا نتیجہ میں جانتا تھا کہ کام سے ہاتھ الگ دھونا پڑے گا اور ہوسکتا ہے کہ کچھ بدتمیزی بھی کرے۔بہرحال، میں نے اس سے دبے لہجے میں سوال کیا کہ جو حکومت آپ کو اس قدر روزگار دے رہی ہے، اس کے خلاف ایسی باتیں آپ کو زیب نہیں دیتیں۔میں نے کہا کہ شاید جتنی آسانی سے آپ نے یہ پروگرام حاصل کیے ہیں، ہر کسی کو نہیں ہواکرتے۔اس کے علاوہ ایک الگ سرکاری چینل جو کہ ڈی ڈی کاشمیر کے نام سے تھا، خود اس کے ذریعے میں دیکھتا تھا کہ بہت سے کشمیری پروڈیوسر، اداکار اور نہ جانے کتنے لوگ پیسہ کمارہے تھے۔اس نے میری بات کا جواب تو نہ دیا مگر اس کے منہ سے جتنی اول فول باتیں میں نے سنیں، اتنی تو گلمرگ نامی سیریل کی شوٹنگ کے دوران ‘جموں ’ میں بھی نہ سنائی پڑیں۔لیکن اس کا قصہ اتنا اہم نہیں تھا، وہ جلد ہی منظر نامے سے غائب ہو گیا کیونکہ دوردرشن اردو کا کام ہی دھیرے دھیرے ٹھپ پڑتا گیا۔<br>
میں ماتھر سٹوڈیو کا ذکر ایک خاص مقصد سے کر رہا تھا۔ وہاں کوئی ٹیکنیشین تھا، شاید کیمرہ مین یا کوئی اور، اب مجھے یاد نہیں۔ مگر کالا بھجنگ چہرہ، گھنی مونچھیں اور سیاہی مائل لال بھبھوکا آنکھیں۔وہ ہمیشہ غصے میں رہا کرتا تھا یا پتہ نہیں اس کا چہرہ ہی کچھ اس نوعیت کا ہوگیا تھا۔وہ عرفان اور اس کے بھائی سے بہت ناراض رہا کرتا تھا اور اس کی چپقلش خاصی مذہبی و قومی قسم کی تھی۔وہ شاید عرفان کی باتوں سے آشنا تھا، اس کے خیالات سے بھی، مجھے بھی شاید اس نے انہی خیالات کا شخص سمجھ رکھا تھا یا خدا جانے کیا بات تھی کہ سیدھے منہ بات ہی نہ کرتا۔ایک دفعہ شوٹنگ ختم ہوتے ہوتے دو یا ڈھائی بج گئے، اور مجھے ایک دوسرے کام کے سلسلے میں اسی وقت لکشمی نگر جانا تھا، ماتھر سٹوڈیو سے لکشمی نگر کا فاصلہ قریب پندرہ کلو میٹر ہے۔ رات سرد تھی، دسمبر کا زمانہ، سب نکل چکے تھے، عرفان اس دن پہلے ہی کسی کام سے جاچکا تھا،و رنہ وہ اتنا بااخلاق تو تھا ہی کہ مجھے کسی آٹو سٹینڈ تک اپنی گاڑی میں چھوڑ دیتا۔میرے لیے دلی شہراس وقت، بہت حد تک اجنبی تھا، چنانچہ میں نے صرف آٹو سٹینڈ کے بارے میں اس شخص سے پوچھنا چاہا تو وہ مجھے گھورتا ہوا نکل گیا۔بہت دیر تک میں گومگو کے عالم میں گیٹ پر کھڑا رہا اور پھر اندھیری گلیوں میں یہ سوچتے ہوئے اتر گیا کہ مین سڑک بہت دور نہیں ہے، اگر کوئی مسئلہ ہوا تو پلٹ آؤں گا۔ یہ الگ بات کہ فراٹے بھرتی ہوئی ہوا نے میری کانوں میں ابلتے ہوئے سیسے کی مانند شور مچایا اورہاتھوں، پیروں کی انگلیوں کے پورے کپو گئے، مگر میں ایک ڈیڑھ گھنٹے میں دوسرے دفتر تک پہنچ گیا۔اس کے دو تین روز کے بعد کا واقعہ ہے، سٹوڈیو میں وہی شخص مجھے شام کو اچانک گھورے چلا جارہا تھا، میں نے اس سے پہلے کبھی اس کو اپنی طرف اتنا متوجہ نہیں دیکھا تھا، پتہ نہیں کیا بات تھی کہ آج وہ مجھ پر سے نظر نہ ہٹاتا تھا، اس کی آنکھوں میں عجیب سی حقارت نظر آتی تھی، ایک سخت گیر قسم کی نفرت اور کراہت۔میں سمجھ ہی نہ پارہا تھا کہ آخر بات کیا ہے۔چائے بسکٹ لے کر جب ایک لڑکا میرے پاس آیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ ان صاحب کو کوئی دماغی پروبلم ہے کیا؟ مگر لڑکے نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔مجھے محسوس ہوا کہ شاید میری کوئی ایسی بات اس شخص نے سن لی ہے، جو اسے نہایت ناگوار گزری ہو، کوئی ایسا جملہ، کوئی ایسا لفظ، جو اس کی سماعت پر اس قدرگراں گزرا ہو کہ مجھے کوئی کمینہ فطرت شخص سمجھ رہا ہو۔ بہرحال میں نے اس کی طرف سے دھیان ہٹا کر پھر کام میں لگالیا، کچھ وقت بعد، جب دفتر میں تھوڑا سناٹا چھایا تو وہ میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس نے مجھ سے کہا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘تصنیف صاحب! کیسے ہیں؟’ میں نے علیک سلیک کرکے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی، مگر اس نے جھٹ سے کہا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘بے نجیرکو ماردیا ایک ٹریرسٹ نے۔’ میں نے تب تک پاکستانی سیاستدانوں میں سب سے زیادہ نام بے نظیر بھٹو کا ہی سنا تھا پھر بھی اس خبر کا میرے دل پر کوئی صدماتی اثر نہیں ہوا تھا۔میں نے کنفرم کرنے کے لیے اس سے پوچھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘بے نظیر بھٹو؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس نے کہا ‘ہاں، انہی کو۔کتنی نیک عورت تھیں۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کی باتوں سے احساس ہوتا تھا کہ اسے اس واقعے کا سخت افسوس تھا، وہ بے نظیر بھٹو کی اس اچانک موت اور بھیڑ میں ان پر ایک انجان سمت سے آنے والی گولی کو سخت برا محسوس کررہا تھا۔اس روز اس نے کھل کر باتیں کیں۔‘اس نے کہا کہ بھائی! یہ مسلمان اپنے اچھے لوگوں کو ہی کیوں ماررہے ہیں۔‘اب جب اس نے مجھ سے بات کی تو مجھے احساس ہوا کہ اس کا لہجہ اس کی شکل سے بالکل مطابقت نہ رکھتا تھا۔بس وہ ایک کم گو شخص تھا، جس سے میں بلا سبب خوف کھاتا آرہا تھا۔میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں اسلام وغیرہ کا کوئی دخل نہیں، یہ تو سیاست کی لڑائی ہے۔اور سیاست کی لڑائی تو دنیا بھر میں جاری ہے۔مگر مجھے حیرت اس بات پر تھی کہ اسے بے نظیر سے اس قدر ہمدردی کیوں تھی، بے نظیر نہ اس کی ہم مذہب تھی، نہ ہم رشتہ، نہ ہم زبان تھی نہ ہم قوم۔ مگر وہ ناراض تھا، اسے ایسے ڈرپوک، بزدلانہ قسم کے حملے پر غصہ تو آیا ہی تھا، ساتھ ہی ساتھ اس نے اس غم کی نکاسی کے لیے ایک مسلمان لڑکے سے گفتگو کرنے کو کیوں ترجیح دی تھی۔شاید وہ سمجھتا تھا کہ وہ مجھے انسانیت کے بارے میں درس دے کر مسلمانوں کو اس قتل و غارت گری کے گورکھ دھندے سے بچا لے جائے گا۔دلی اور اتر پردیش دو ایسی ریاستیں ہیں، جہاں لوگ غم و خوشی دونوں قسم کے ماحول میں اپنے مذہب کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔یہاں تک کہ کسی ایسے حادثے پر بات کرتے وقت بھی مذہب ان کے پیش نظر ہوتا ہے، جن میں اس کی گنجائش نہیں ہوا کرتی۔اس کا ایسا سوچنا شاید غلط نہ تھا کیونکہ نائن الیون کے حادثے کو زیادہ برس نہیں بیتے تھے اور پوری دنیا میں تشدد اور فساد کے تعلق سے مسلمانوں کی بدنامی دن بہ دن بے قابو سیاہی کی طرح پھیلتی جارہی تھی۔میں اس موقع پر نہ اس سے ہمدردی کرپایا نہ اس معاملے پر کوئی خاص روشنی ڈال سکا۔ مگر پھر بھی اس کا افسوس میرے لیے باعث حیرت تھا۔دنیا ادھر کی ادھر ہوگئی، تقسیم نے لوگوں کو بانٹ دیا، دھرم، مذہب کی لکیروں نے نہ جانے کتنا خون بہایا، کتنے لوگوں کو بے قصور پھانسیاں ہوئیں، کتنے ادیب، کتنے شاعر، کتنے فلسفی، کتنے سماجی خدمتگار اس صبح کا انتظار کرتے کرتے مٹی میں جاملے، جس میں لہو کی سرخی نہ ہو، تلوار کی تیزی نہ ہو، چیخ کی کڑواہٹ نہ ہو، درد کی آہٹ نہ ہو۔ بس ایک سکون ہو، جس میں لوگوں کو ناپنے یا تولنے کا عمل ان کے مذاہب و مسالک کی بنیاد پر ختم ہوجائے، مگر ایسا کچھ نہ ہوا، ستر سال کا عرصہ گزر گیا اور نفرت میں سر مو فرق نہ آیا۔ کتنے استقلال اور کتنی شدت سے ہم نے یہ رشتے نبھائے اور ہر تعمیر کے خواب کو تخریب کی دھار میں بہادیا۔پھر بھی کہیں کوئی دل، بے نام و بے ہنگام، ایک دوسرے بند ہوتے ہوئے دل کے لیے روتا ہے، یہ دیکھ کر مجھے بہت اچھا لگا تھا۔آج بھی اس شخص کو یاد کرکے مجھے خوشی ہوتی ہے۔بعد میں نہ میں کبھی اس سے ملا، نہ ملنے کی ضرورت محسوس کی، ہوسکتا ہے وہ آج بھی ماتھر سٹوڈیو میں ہی ہو یا کہیں اور کھو گیاہو، دس سال سو انقلابوں کے لیے کافی ہوتے ہیں اور کبھی کبھی سو سال ایک تبدیلی بھی پیدا نہیں کرپاتے۔پتہ نہیں کیوں، مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ جیسے میں بے نظیر کا قاتل ہوں اور وہ شخص مجھے سمجھا رہا ہے۔یہ اتنی سچی، ایسی دیانتدارانہ نفسیات ہے کہ اسے چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں۔مجھے لگا کہ میرے ہاتھ اس زنگ آلود طمنچے کو تھامے، بھیڑمیں اس مسکراتے ہوئے چہرے کو داغنے کے لیے تیار ہورہے ہوں، جو نعروں کو تتر بتر کردیں گے، لوگوں کو ادھر ادھر کردیں گے۔بس اس کے بعد ایک خاموشی، ایک نیا صدر اور ایک نیا سیاست داں۔میں اسے سمجھانا چاہتا تھا کہ میرا اس ملک کی تقدیر سے کوئی واسطہ نہیں، جس نے خود کو علیحدگی کی منزل پر سات دہائیوں قبل چیختے بلکتے چھوڑ دیا تھا۔مگر آج جب میں دیکھتا ہوں کہ کوئی مسلمان، کوئی سیکولر اپنی سوچ کو نمایاں کرتے ہوئے، اس ملک میں پاکستان جانے کے ایک ان دیکھے مشورے یا دھمکی کو موصول کرتا ہے تو مجھے یکبارگی بے نظیر کے لہو میں ڈوبے ہوئے وہ انجان ہاتھ یاد آجاتے ہیں۔سچ ہے کہ شناخت کے نام کی رکھوالی کرنے والی آوازوں کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">غالب جب دہلی سے کلکتہ گئے اور وہاں کے باشندوں سے دل برداشتہ ہوئے تو اپنی شناخت کو یاد کر کے یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برگ دنیا نہ ساز دینش بود<br>
ننگ دہلی و سرزمینش بود</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں سوچنے لگا کہ دہلی سے اکھڑنے والے پائوں، پاکستان کے مختلف شہروں پر جم گئے ہوں گے تو آخر انہوں نے کیا سوچا ہوگا اور ان روحوں کا ملال کیسا ہوگا، جو واقعی بے نظیر کو اپنا ہیرو مانتی رہی ہونگی اور جنہوں نے اس کی سیاسی زندگی میں بہت سے اتار چڑھائو کے بعد ایک سڈن موت کو بھیڑ کی پالکی پر رقص کرتے دیکھا ہوگا۔ماتھر سٹوڈیو کی بتیاں اس وقت بجھ گئی ہوں گی، میں بھی قلم تھامتا ہوں اور آپ کو دہلی کے دوسرے دروازوں کی طرف لیے چلتا ہوں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11-2/">دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 12</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%ac%d8%9b-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b4/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%ac%d8%9b-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b4/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[کولاج]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 08 Dec 2016 05:52:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[ادبی تنظیم]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[حارث بلال]]></category>
		<category><![CDATA[کولاج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19648</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حارث بلال: کولاج کا قیام عمل میں آنا ایک ادبی سنگ میل ہے جس نے یکسر فضا بدل دی ہے جس نے نوجوان پرندوں کی ادبی پرواز سے جُوا کھیلنے والے روایت پسند ٹھیکیدار “ماشٹروں“ کو انگشتِ شہادت کے ساتھ والی انگشت کھڑی کر کے دکھا دی</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%ac%d8%9b-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b4/">کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/category/literature/collage/" target="_blank" rel="noopener">کولاج</a> میں پڑھے جانے والے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<div class="urdutext">حارث بلال<br>
ریسرچ سکالر شعبہ کیمیا<br>
لمز یونیورسٹی لاہور</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">روایت ہے کہ روایتی روایات کے محافظ اس وقت تک بھنگ پی کر سوئے رہتے ہیں جب تک کوئی “آؤٹ آف دی باکس“ نہیں سوچتا۔ روایت ہے کہ کسی مشاعرے یا ادبی کانفرنس میں انتظامیہ کے دوستوں اور قریبی بزرگوں کے علاوہ کوئی دیکھنے کو مل جائے تو یہی سمجھا جائے کہ انتظامیہ سے کوئی بھول ہوگئی ہے ۔۔۔ روایت ہے کہ اتفاق سے یا پلان بنا کر اگر کہیں چار ادیب اکٹھے ہوجائیں تو لازما وہاں کسی پانچویں کی شان سے کیڑے نکالے جاتے ہیں! اور پھر اسی حبس زدہ تاریکی میں انہی روایتوں کی کوک سے کولاج نامی صد رنگی کرن پھوٹی اور مختلف نسل کی خوشبوئیں پھیلانے میں لگ گئی ۔۔۔ جیسے کسی گری اور تھکی ہوئی فوج کے اندر سے کوئی تازہ دم سالار اٹھے اور ممکنہ فتح کے نشے میں چور دشمن پر کاری وار کر کے اسے ‘بیک فُٹ“ پر لے آئے !</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کہنے کو ایک نومولود ادبی تنظیم اور اس کے کریڈٹ پہ (ابھی تک) صرف دو پروگرام ہیں لیکن اگر دیکھنے والوں کی نظر سے دیکھا جائے اور نیک نیتی سے کہا جائے تو کولاج کا قیام عمل میں آنا ایک ادبی سنگ میل ہے جس نے یکسر فضا بدل دی ہے جس نے نوجوان پرندوں کی ادبی پرواز سے جُوا کھیلنے والے روایت پسند ٹھیکیدار “ماشٹروں“ کو انگشتِ شہادت کے ساتھ والی انگشت کھڑی کر کے دکھا دی ۔۔۔۔ ایک قدم کہ جو ‘کیڑا‘ مار دوا ثابت ہوا ! ! ایک جھٹکا کہ جو ریکٹر سکیل پر نشان چھوڑ گیا، جس کی شدت ریکارڈ کی جاتی رہے گی۔۔۔۔ اور ہر بار سکیل کو جھنجھوڑنے سے بڑھ جائے گی !</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ کولاج کا مکہ میرا شہر سرگودھا اور مدینہ (تلہ گنگ) میرے آبائی گاؤں کے پڑوس میں ہے ۔۔ خیر باتوں سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے کہ ایسی کیا وجہ ہے کہ کولاج راولپنڈی ایکسپریس کی رفتار سے کامیابیاں سمیٹ رہی ہے تو کچھ منفرد چیزیں سامنے آتی ہیں ۔۔ سب سے پہلے تو یہ کہ اس سلسلے کا آغاز صاف ستھرے ہاتھوں میں، چھوٹے شہروں سے ہوا ۔۔ اس سے جو لوگ منظر پر تھے اور جو احساسِ کمتری کا شکار تھے دونوں متوجہ ہوئے ۔۔۔ دوسرے نمبر پر کولاج کے پروگرامز کا سکرپٹ ایسا منفرد اور پر کشش تیار کیا گیا کہ مجھ جیسے بے ذوق بھی سنجیدہ ادب کی طرف مائل ہوئے کہ جنہیں ادیب کے منہ سے شعر کے علاوہ کچھ سننا گوارہ نہ ہوتا تھا ۔۔۔ تیسری اور اہم ترین خصوصیت یہ کہ گروہ بندی سے بیزاری کے صرف دعوے نہیں کیے گئے اس ناسور سے گریز بھی کیا گیا ۔۔۔ آخرش کولاج کے پروگرامز کے دوران، پہلے اور بعد میں ہونے والی غیر رسمی گفتگو بھی سنجیدہ ادب پر سننے کو ملی !</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں حماد نیازی، فیضان ہاشمی اور عقیل ملک تینوں کا قریبی دوست اور جونئیر ہونے کے باوجود ان مجاہدین کی ہمت اور جرات کو غیر جانبدارانہ سلام پیش کرتا ہوں کہ جن کی بدولت ہمیں ان ہستیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جنہیں ہم بڑے بڑے پروگرامز میں سننے جاتے تھے اور ان کے ساتھ ایک تصویر اور ایک مختصر سی ملاقات کے لئے کئی قسم کی حدوں سے گزر جاتے تھے! ان درویشوں کے وسیلے سے ہمیں کولاج کو جنم لیتے ہی اپنے ہاتھوں میں اٹھانے کا اعزاز حاصل ہوا اور اپنے جونئیرز کو سنانے کے لیے ایک فخریہ کہانی بھی مل گئی ۔۔ !</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یقیناً یہ سلسلہ اب تھمنے والا نہیں ہے کولاج کی تیسری کانفرنس کی تیاریاں تقریبا مکمل ہیں بس دعا ہے کہ کولاج اسی رفتار سے دو سے تین برس گزار لے ۔۔۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پہلے پہرے میں گنائی جانے والی روایتوں کے جنازوں کے اعلان ہونا شروع ہو جائیں گے اور دلوں سے نیک نیتی کی اذانوں کی صدا بلند ہونے لگی گی انشااللہ !</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%ac%d8%9b-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b4/">کولاج؛ ادبی ریکٹر سکیل پر نیا ارتعاش</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%d9%84%d8%a7%d8%ac%d8%9b-%d8%a7%d8%af%d8%a8%db%8c-%d8%b1%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1-%d8%b3%da%a9%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%b1-%d9%86%db%8c%d8%a7-%d8%a7%d8%b1%d8%aa%d8%b9%d8%a7%d8%b4/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>“حال حوال” بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%93%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%93%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شبیر رخشانی]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 02 Nov 2016 09:45:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[Baloch journalism]]></category>
		<category><![CDATA[Balochistan]]></category>
		<category><![CDATA[Haal Hawal]]></category>
		<category><![CDATA[Online journalism]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان]]></category>
		<category><![CDATA[بلوچستان میں صحافت]]></category>
		<category><![CDATA[حال حوال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19174</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">شبیر رخشانی: بلوچستان سے متعلق بامعنی اور مہذب علمی مکالمے کا فروغ "حال حوال" کا بنیادی مطمع نظر ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%93%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81/">“حال حوال” بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">کہتے ہیں کہ خواب دیکھا کریں کبھی نہ کبھی خواب حقیقت میں بدل ہی جاتے ہیں، اچھے دوست مل جاتے ہیں ،راستے بن جاتے ہیں، جو سپنے دیکھے تھے وہ پورے ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح ایک خواب ہم نے دیکھا تھا جسے حقیقت کا روپ دھارنے میں کافی وقت لگا۔ چند دوستوں کا خواب، بلوچستان کی سطح پر ایک آن لائن جریدے کے آغاز کرنے کا خواب۔۔۔ ایک آن لائن جریدے کی ضرورت کا احساس تو تب ہی ہو گیا تھا جب پاکستانی مین اسٹریم میڈیا میں بلوچستان کے مسائل دانستہ طور پر نظر انداز کیے جانے لگے۔ بلوچستان کی بدحالی کو لکھتے اور مٹاتے بہت وقت لگتا تھا لیکن اس بدحالی کی خبر میڈیا سے کہیں باہر دکھائی اور سنائی دیتی پر وہ میڈیا کی زیب و زینت بننے سے قاصر تھی۔ جس طرح کا رویہ وفاق کا بلوچستان کے ساتھ رہا ہے، وہی طرز عمل پاکستانی مین اسٹریم میڈیا نے اپنایا۔ حالاں کہ میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا تھا مگر نہ کر سکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بلوچستان کے لیے آواز بلند کرنے والے صحافتی اداروں کو دیوار سے لگایا گیا۔ جس میں روزنامہ آساپ پھرروزنامہ توار بعد میں اولین آن لائن انگریزی اخبار ’دی بلوچ حال‘ بھی ایسی پابندیوں کی زد میں آیا تو دوستوں نے سوچا کیوں نہ ایک نئے باب کا آغاز “حال حوال” کے عنوان سے کیا جائے۔<br>
‘حال حوال’ بلوچستان کی ایک خاص اصطلاح ہے جو لگ بھگ بلوچستان کی تمام زبانوں میں یکساں مفہوم کے ساتھ رائج ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اردو میں ‘حال احوال’ کا ہے۔ جب ہم نے اس نام کا انتخاب کرکے آزادی صحافت کے عالمی دن3مئی 2016کو ویب سائٹ لانچ کی تو بعض دوستوں کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ اسے “حال حوال” کے بجائے “حال احوال” لکھا جائے تو با معنی لگے گا۔ چوں کہ ویب سائٹ بلوچستان سے متعلق تھی تو بلوچی نام دیتے ہوئے ہمیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی اور ویب سائٹ کا نام ‘حال حوال’ ہی رکھ دیا گیا۔ اردو میں اگر اس کا مختصر مفہوم بیان کریں تو وہ یوں ہو گا؛حال یعنی خبر، حوال یعنی تفصیل یاتبصرہ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><a href="http://haalhawal.com/" target="_blank" rel="noopener">حال حوال</a> کا آئیڈیا ہمارے دوست اور قلم کار جناب عابد میر کا تھا۔ عابد میر کئی کتابوں کے مصنف اور روزنامہ ایکسپریس سے بطور کالم نگار وابستہ رہے ہیں۔ سو، ادارت کی ذمہ داریاں بھی ان کے کندھوں پر ڈالی گئیں۔ راقم الحروف کے حصے میں خبروں حصہ آیا۔ باقی بچے دو دوست، تو ہیبتان دشتی کی ذمہ داری منیجنگ ایڈیٹر کی ہے اور ویب سائٹ کو بنانے اور سنوارنے کا کام ہمارے پیارے خالد میر نے انجام دیا۔ ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب کوئٹہ پریس کلب میں رکھی گئی۔ یوں 3مئی2016 (آزادی صحافت کے عالمی دن) ویب سائٹ کو اس کی ٹیم نے خود اپنے ہاتھوں سے لانچ کیا اوریوں ایک خواب حقیقت میں بدل گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19176" aria-describedby="caption-attachment-19176" style="width: 1021px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-19176" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/11/haal-Hawal-1021x580.jpg" alt="حال حوال کی افتتاحی تقریب" width="1021" height="580" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/11/haal-Hawal-1021x580.jpg 1021w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/11/haal-Hawal-1021x580-300x170.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/11/haal-Hawal-1021x580-768x436.jpg 768w" sizes="(max-width: 1021px) 100vw, 1021px"><figcaption id="caption-attachment-19176" class="wp-caption-text">حال حوال کی افتتاحی تقریب</figcaption></figure>
<div class="urdutext">حال حوال کا محور و مرکز بلوچستان ہے۔ حال حوال پر 90فیصد خبریں، تبصرے اور تجزیے بلوچستان اور بلوچوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ 3مئی کو چار دوستوں نے آن لائن جریدے کا آغاز کیا تھا، اب ایک ٹیم بن چکی ہے جس میں متعدد لکھار ی اور نامہ نگار شامل ہو چکے ہیں۔ شروع شروع میں خبروں تک رسائی، خبروں کی ایڈیٹنگ، بلوچستان کے نقطہ نظر کو دوسروں تک پہنچانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ حال حوال کو اب نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان اور بیرونِ ملک دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ویب سائٹ کے حوالے سے آراء اور مضامین نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں سے موصول ہوتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حال حوال ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حال حوال کی ٹیم اس ویب سائٹ کو رضاکارانہ طور پر چلا رہی ہے بلکہ نامہ نگاران اور مضمون نگار علاقائی خبریں اور تحریریں رضاکارانہ بنیادوں پر ارسال کرتے ہیں اور حال حوال کو فعال بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حال حوال کا میڈیم چوں کہ اردو ہے تو اس میں مواد کی اشاعت اردو میں ہی کی جاتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا مواد جو انگلش یا دیگر زبانوں میں ہو اور قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو تو اس کا ردو ترجمہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ حال حوال کی ویب سائٹ پر مختلف کیٹگریز بنی ہوئی ہیں۔ سیاسی حال میں سیاسی خبریں، سماجی حال میں سماجی خبریں، ادبی حال میں ادبی خبریں و مضامین، علمی حال میں علمی و تعلیمی خبریں، خصوصی حال میں اہم مضامین، منتخب حال میں دیگر اداروں میں بالخصوص بلوچستان سے متعلق چھپنے والے مضامین، تجزیے، بلاگ سیکشن میں نو آموز لکھاریوں کے مختصر تبصرے اور حال حوال میں انٹرویوز شائع کیے جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اپنے قیام کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران حال حوال بلوچستان کے سیاسی، سماجی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے، بالخصوص نئے نوجوان لکھاری اس جانب راغب ہوئے ہیں۔ حال حوال کے لیے مستقل لکھنے والوں کی تعداد اب 100سے زائد ہو چکی ہے۔ جن میں ڈاکٹر شاہ محمد مری، ذوالفقار علی زلفی، اسد بلوچ، برکت زیب سمالانی، کامریڈ فاروق بلوچ، فتح شاکر، عمران سمالانی، جلیلہ حیدر، محمد حان داؤد، منظور مینگل، قادر نصیب چھتروی، تہمینہ عباس، سلیمان ہاشم، برکت مری کا نمایاں ہیں۔ اسے عرصے میں مختلف موضوعات پر 20سے زائد اداریے شائع ہوئے۔ بلوچستان سے متعلق بامعنی اور باسلیقہ علمی مکالمے کا فروغ “حال حوال” کا بنیادی مطمع نظر ہے۔ ہم ایسے تمام خیالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو بلوچستان کو ایک پرامن، روشن خیال اور خوش حال خطہ دیکھنے کے خواب پر مبنی ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حال حوال میں اب تک شائع ہونے والی تحاریر کی تعداد 1600تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے والوں کی تعداد 1500سے 2000 کے درمیان ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حال حوال کے قارئین، لکھاریوں اور نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چھ مہینے پہلے جس ویب سائٹ کا آغاز کیا تھا، وہ اب بلوچستان کا نمائندہ پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ گو پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں حقیقی صحافت ایک خواب ہی لگتی ہے پھر بھی ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بلوچستان کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش جاری رہے۔ بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بلوچستان کے تمام حقیقی مسائل کو اب بھی اجاگر کرنہیں پا رہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حال حوال بلوچستان کے صحافتی شعبے میں بلوچستان کا واحد نمائندہ پلیٹ فارم ہے لیکن اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ بلوچ اور بلوچستان سے کسی پہلو سے دلچسپی رکھتے ہوں تو آپ بھی حال حوال کا حصہ بن سکتے ہیں کیوں کہ حال حوال آپ ہی کا ہے، تو آئیے حال حوال کرتے ہیں:<br>
حال حوال کو وزٹ کریں:<br>
www.haalhawal.com<br>
ای میل:<br>
haalhawal.com@gmail.com<br>
فیس بک:<br>
https://www.facebook.com/HaalHawal</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%93%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81/">“حال حوال” بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%a7%d9%84-%d8%ad%d9%88%d8%a7%d9%84-%d8%a8%d9%84%d9%88%da%86%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%93%d9%86-%d9%84%d8%a7%d8%a6%d9%86-%d8%b5%d8%ad%d8%a7%d9%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 24 Oct 2016 09:15:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[Tasneef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[ادبی دنیا]]></category>
		<category><![CDATA[اردو بازار]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[دس برسوں کی دلی]]></category>
		<category><![CDATA[قطب مینار]]></category>
		<category><![CDATA[لال قلعہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18950</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11/">دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے <a href="http://www.adbiduniya.com/2015" target="_blank" rel="noopener">ادبی دنیا</a> کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">دس برسوں کی دلی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/%D8%AF%D8%B3-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%84%DB%8C/" target="_blank" rel="noopener">گزشتہ اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دلی ایک شہرہے، اس ٹھکے ہوئے تصور سے بالکل جدا، جس نے اسے آج بھی بہت سے لوگوں کی نظر میں شاہجہاں آباد بنا رکھا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک انگریز نے جن کا نام ڈیوک کناٹ تھا، پرانے شہر کی تزئین کچھ اس طرح کی کہ وہ مغل حکمرانوں کے فصیل دہلی میں بھی ممکن نہ تھی، جو کہ مغلوں کے عہد میں نیا شہر کہلاتا تھا۔پرانی دلی اور نئی دلی کے درمیان قدیم و جدید کی ایک بالکل الگ دیوار کھڑی ہوئی ہے۔پرانی دلی آج بھی اپنے طرز، بود و باش، رہن سہن اور اطوار و رویے میں بالکل اتنی ہی شاہانہ، اکھڑ اور لاابالی ہے، جتنی کہ اقتدار کے دور میں رہی ہوگی۔ایک قدامت کی لہر اس شہر پر اس طرح چھائی ہوئی ہے کہ گولچہ سینما اور اردو بازار سب کچھ مغل عہد کی ہی یادگار معلوم ہوتے ہیں۔غالب نے اپنے خطوط میں لکھا تھا کہ دلی والے اجڑ گئے، اب جو آکر بسے ہیں، وہ دلی کے نہیں ہیں، کوئی کہیں سے آیا، کوئی کہیں سے۔کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑالے کر غدر کے بعد بسائی گئی دہلی میں میرا جانا کم ہوا ہے۔وہاں کے لوگوں میں مہمان نوازی بلا کی ہے، گاہکوں کے تعلق سے یہاں کے دکانداروں کا رویہ نئی دہلی کے لوگوں میں غیر اخلاقی تصور کیا جاتا ہے۔جن چچا کبابی کی داستان آپ اشرف صبوحی کی کتاب’دلی کی چند عجیب ہستیاں’ میں پڑھ چکے ہوں گے، اصولوں کی ایسی ہی بے تکی دکانداریاں آپ کو اس شہر میں دیکھنے کے لیے مل جائیں گی۔نئے زمانے کے اعتبار سے یہاں کسٹمر کیئر کا رجحان نہیں ہے اور اہم اور غیر اہم سبھی قسم کے گاہک ایک ہی طریقے سے ڈیل کیے جاتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے</div>
<div class="urdutext">اب میٹرو زمین کا سینہ پھاڑتے ہوئے ان گلیوں تک جاپہنچی ہے، یہاں پرانی طرز کی عمارتوں کے گراؤنڈ فلور زمینوں کی بھرائی کی وجہ سے تہہ خانوں میں تبدیل ہوچلے ہیں، کئی جھر جھر کرتی ہوئی پرانی حویلیاں ہیں، بہت سی توڑ کر نئی طرز کی بلڈنگیں بنائی گئی ہیں، بازو سے بازو چپکائے، رانوں سے رانیں، عمارتوں کی اوبڑ کھابڑ صفیں پرانی دلی کی نئی تہذیب کا اعلامیہ بن گئی ہیں مگر ان میں رہنے والے آج بھی دلی چھ کی پر رونق شاموں کے گواہ ہیں، فیس بک اور ٹوئٹر کے عہد میں فرصت کم ہوگئی ہے، سماجی تعلقات میسنجر اور واٹس ایپ تک چلے آئے ہیں، اس کے باوجود شام کو کسی پنکھا جھلاتے ہوئے سیخ کباب والے کی دوکان پر پڑی چھوٹی سی بینچ، ابھی بھی نوجوانوں کے ٹھلوں، ٹھٹھولیوں اور حقے بازی کا دور گرم رکھتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پرانی دلی ایک بہت بڑا برگد ہے، جس کے نیچے وقت کا قصہ گو بیٹھا پرانے وقتوں کی داستان سناتا جارہا ہے، مگر وقت تیزی سے بدل رہا ہے، اس کے چلم نے دھوئیں اور راکھ میں ڈھلتے ڈھلتے، خود کو سارا خرچ کردیا ہے، آنکھیں لال ہیں اور پلکیں بوجھل۔ صبح بھی بہت دور نہیں، مگر خمار تو فی الحال باقی ہی ہے۔میں اس پورے عرصے میں لال قلعہ شاید دو تین بار ہی گیا ہوں۔مجھے لال قلعے سے وحشت ہوتی ہے، وہاں سفید رنگ کی خوبصورت عمارتیں، بیواؤں کا سا لباس پہنے، قدموں سے گھانس کی زنجیر باندھے، کسی قیدی کی طرح سر جھکائے کھڑی رہتی ہیں۔ لمبی لال فصیل تاریخ کی قبر پر بیٹھے ہوئے مجاور کی طرح خلا میں گھورتی رہتی ہے۔وہ حوض، جن میں کبھی دودھ اور شفاف پانی کی لہریں تیرتی ہونگی، اپنے بطن میں جھاڑ جھنکاڑ لیے اداسیوں کی آماجگاہ بنی ہوئی ہیں، وہ بازار جن میں دن کو مرد اور رات کو عورتیں، خواجہ سرا، کنیزیں اور باہر سے آئے تاجر سامان زندگی کو الٹ پلٹ کردیکھتے ہونگے، خور ونوش کے اسباب فراہم کرنے والے، ساز و سنگیت کی دوکانیں لگانے والے، سجاوٹ و بناوٹ کے آلات بیچنے والے، یہ سب میرے کانوں میں سرگوشیاں کرنے لگتے ہیں، مگراب وہاں دو وردی والے سپاہی، ہاتھوں میں بندوق تھامے، کیپ لگائے، سر سے پیر تک ایک گھنے سبز لباس میں گشت لگاتے ہیں۔ان کے قدموں کی ٹاپیں، بھاری بوٹوں کے نیچے کچلتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔اس خاموش اور چیختے ہوئے منظر میں بس ایک خلا ہے، اور اس خلا میں وہ سارا شور، سارا تکبر، سارے نعرے لاشوں کی طرح پڑے ہوئے ہیں، جن میں اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کی دھن، دولت کو ذخیرہ کرنے کی لالچ، مذہب کو برتری دلانے کا احساس، وطن کو فخر سے پکارنے کی کوشش اور لوگوں کی آہ و پکار، چیخیں، جنگیں، یلغاریں، دھما چوکڑیاں، جشن، ہنگامے، عورتوں کے قیمتی لباس، جگمگاتے ہوئے فانوس اورحکم کا اشارہ پانے والے غلام سب ایک کے اوپر ایک وحشت سے آنکھیں پھیلائے، ہاتھوں کو متضاد سمتوں میں بکھرائے ہوئے، زبان باہر نکالے بس خاموش لیٹے ہیں، کبھی نہ اٹھنے کے لیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔</div>
<div class="urdutext">مجھے دلی کی جامع مسجد دیکھ کر بھی یہی احساس ہوتا ہے، سب سے پہلے میں اس سے سٹے ہوئے اردو بازار کا ذکر کرنا چاہوں گا، یہاں سے گزرنے والی مین سڑک، عام شہروں کی گلیوں جتنی پتلی ہے۔اس پر سائیکل رکشے، برقعہ پوش عورتیں، روتے بلکتے بچے، آٹو رکشے، کاریں، موٹر سائیکلز، سائیکل اور اسکوٹر، پیدل سوار سبھی گزرتے رہتے ہیں، راتوں کو بھی اس گھٹتی ہوئی نعش زدہ سڑک کو شایدہی سکون ملتا ہو۔ مختلف جگہوں پر کرنسی چینجر، مسافر خانے، چھوٹے موٹے ہوٹل، کتابوں کی کچھ دکانیں۔اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ان کتابوں کی دکانوں میں بیٹھے ہوئے بوڑھے، بالوں میں مہندی لگائے،ہاتھوں میں کتاب یا اخبار تھامے خاموش رہتے ہیں، گاہک آتے ہیں، اپنی پسند کی کتابیں چھانٹتے ہیں اور لے جاتے ہیں، کئی مسافر کتابوں کے پیکٹ شام تک کے لیے یہیں چھوڑ جاتے ہیں۔ہرحال میں یہ لوگ جو ان دوکانوں پر بیٹھے ہیں، ان گاہکوں کی آؤ بھگت کرنے سے زیادہ اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں ہانکنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ رعایت تقریباً سبھی دوکانوں پر دس فیصد سے زیادہ نہیں دی جاتی ہے۔لیکن ایک دکان بڑی دلچسپ ہے، جہاں جاکر آپ صرف کتابیں ہی نہیں خریدتے، دوکاندار کی گفتگو کا لطف بھی لیتے ہیں، یہ صاحب کتب خانہ انجمن کے ایک کتاب فروش ہیں، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ تمام اوپری اور ذیلی تصوف کے سلسلوں کو ایسے بیان کرتے ہیں، جیسے ایلیڈ کی نظم سنارہے ہوں، ادبی لطیفوں، قصوں اور واقعات کی ایک لمبی گٹھری ان کے پاس موجود ہے، جو کھلتی ہے تو ایسا مزہ دیتی ہے کہ آدمی بس سنتا چلا جائے،یہاں ہر قسم کے گاہک آتے ہیں۔نو سیکھیے بھی، مدرسہ والے بھی، ادب کے طالب علم بھی۔غیر ملکی سٹوڈنٹس جو اردو سیکھ رہے ہوتے ہیں، سب سے زیادہ انہی کی دکان پر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ بڑے میاں بھینگے ہیں، مگر نظر بالکل ٹھیک ہے۔پیسہ گننے، چھٹہ دینے کی ایسی مشق ہے کہ ہاتھ بڑی پھرتی سے چلنے کے باوجود ممکن نہیں کہ رتی برابر چوک جائے۔ میرے سامنے کئی گاہک ایسے آئے، جنہیں کتابوں کے نام معلوم نہ تھے، ادھر انہوں نے شاعر کا نام لیا اور ادھر وہ مجموعے گنوانے لگے۔سب لوگ ہنسی اور حیرت کے ملے جلے ماحول میں انہیں دیکھتے ہیں۔کرتاپاجامہ پہنے، لمبی ٹوپی لگائے، ہنستے بولتے سارے کام نمٹاتے رہتے ہیں۔کئی ایک کو ڈانٹتے بھی ہیں کہ یہ کتاب کیوں خریدنا چاہتے ہو، اس سے بہکنے کا اندیشہ ہے، کتاب ہی پڑھنی ہے تو فلاں فلاں پڑھو۔واقعی اب ایسے لوگ ندارد ہوتے جارہے ہیں، یہ بھی پرانے وقتوں کی آخری نشانی کی طرح یہاں بیٹھے ہیں اور ان کی اگلی نسل پرانی دلی میں موجود اس کتاب کو ایک قیمتی پراپرٹی کی نظر سے دیکھ کر بھاؤ لگانے کے لیے تیار ہورہی ہے۔ان موٹے سودوں میں علم کا سودا ماند پڑتا جارہا ہے، نزدیک ہی چمکتا دمکتا کناٹ پلیس ہے، اونچی زرق برق عمارتیں، چکنی سیمنٹی رنگ کی سڑکیں، مہنگی گاڑیاں، نرم لہجے اور تیکھی نظریں۔ایک بادل ہے جو دھیرے دھیرے اس خاکی اور پیلے رنگ کے ملے جلے منظر پر حاوی ہونے کے لیے بلی کے قدموں کی طرح آہستگی سے اس طرف بڑھ رہا ہے، بڑے میاں، ایک دن اچانک گرد بن جائیں گے، دوکانیں، کیفوں میں بدل جائیں گی، سڑک چوڑی ہوگی، موٹے موٹے شکم والے مکانات، پتلی پتلی لمبی عمارتوں کا روپ دھار لیں گے۔تیل کی دھار لٹانے والے باورچی، سفولا کی مہک میں ڈوبتے چلے جائیں گے، ہارٹ اٹیک والوں کی تعداد پھر بھی بڑھ جائے گی اور دل والے یکدم نگاہوں سے غائب ہوجائیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دلی کی عمارتوں میں مجھے سب سے زیادہ ہمایوں کا مقبرہ پسند ہے۔پرانا قلعہ میں خود صرف ایک ہی بار گیا ہوں اور وہ بھی تب جب ہمارے دوست علی اکبر ناطق یہاں آئے ہوئے تھے۔مجھے یہ قلعہ بہت زیادہ پسند نہیں ہے، کہیں سے کوئی دیوار اپنے آپ اگ آتی ہے، کہیں اوبڑ کھابڑ بڑے بڑے پتھروں پر مشتمل دیوار کا لوہا، دھوپ کو اپنی پیٹھ پر اٹھائے چھاؤں اگلتا رہتا ہے۔ایک طویل و عریض مسجد ہے، جس میں چھت والا حصہ بہت کم ہے۔بہرحال پرانے قلعے سے زیادہ عجیب و غریب مجھے قطب مینار معلوم ہوتا ہے، وہاں بھی میرا زیادہ جانا نہیں ہوا، بس دو یا تین بار گیا ہوں،ایک بہت بڑا مینار، قرآنی آیات کا لباس پہنے ہوئے کھڑا ہے، لال رنگ کے پتھروں سے تعمیر کیا گیا یہ مینار سلاطین کے عہد کی یادگار ہے۔قطب الدین ایبک سنا ہے کوئی مسجد قوت الاسلام بنانا چاہتے تھے، یہ وہ ارادہ تھا جسے خود خدا نے ہی شاید مسترد کردیا اور شمس الدین التمش کی محنتوں کے باوجود بھی صرف ایک ہی مینار وجود میں آسکا۔قطب مینار مجھے ذاتی طور پر اس لیے پسند نہیں ہے کیونکہ یہاں بہت سے بت آج بھی پتھروں کی سلوں پر سجے ہوئے، پیچھے کی جانب رکھے ہیں، میری ہمدردی ان تمام پتھروں سے زیادہ ہے، کیونکہ یہ میری روح کا حصہ ہیں، اسی مٹی سے اگنے والے دیوتا۔مجھے ہندوستان پر حکومت کرنے والے مسلمان بادشاہوں کی یہ حرکت بہت عجیب معلوم ہوتی ہے کہ مسجد بنانی ہو تو وہ مندروں کو مسمار کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔قطب مینار، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کی شناخت اپنے تعمیری شکوہ سے پوری دنیا میں کرانے کے لیے مشہور ہے، لیکن تاریخ پر اسے میں ایک لمبے، گہرے زخم سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔اس رویے پر مغل دور کے اواخر اور شان اودھ کے طلوع ہوتے ادوار میں بڑی سخت تنقیدکی گئی ہے، جو کہ اس دور کے آرٹ بالخصوص شعر و شاعری میں صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ہندوستان پر چڑھائی کرنے والے زیادہ تر بادشاہ ظالم، جنگجو، فتنہ پرور اور نہایت سنگ دل قسم کے لوگ تھے، جن کا مقصد یہاں کی دولت لوٹنا اور اسے ہتھیانا تھا۔وہ مذہب کی تبلیغ کے لیے یہاں بالکل نہ آئے تھے۔ان کو ہرحال میں یہاں اپنے تسلط کو بربریت اور تلوار کے زور پر قائم رکھنا تھا، جو کہ انہوں نے کیا۔اکبر اس پورے عہد میں وہ پہلا بادشاہ تھا، جس نے ہندوستان کو اپنا گھر سمجھا اور اسے لوٹنے کے بجائے، اس میں سکون سے رہنے کو ترجیح دی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اردو بازار تو غالب کے عہد میں ہی ختم ہوچکا تھا۔یہ کچھ اور ہے اور اس کچھ اور میں، ایک نقالی موجود ہے، جس کو دیکھنے اور محسوس کرنے کے لیے بس ایک ایسی آنکھ چاہیے، جو روز کے ان ہنگاموں میں مل کر یہیں کا ایک منظر بن کر نہ رہ جائے۔ا</div>
<div class="urdutext">سلاطین ہوں یا مغل، اپنے ساتھ کتابیں لے کر ہندوستان میں داخل نہیں ہوئے تھے اور حکومتوں کو وسعت دینے کے لیے کتابوں کی نہیں تیروں، تلواروں کی ضرورت ہی ہوا کرتی تھی، چنانچہ انہوں نے وہی کیا، جو کہ جنگجو قومیں کیا کرتی ہیں۔وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے،ہندوستان میں داخل ہوکر یہاں کی مقدس عمارتوں کو گرا کر وہاں اپنے دیوتاؤں کو سجادیتے، جیسا کہ انہوں نے مسجدوں کو تعمیر کرکے اس کا ثبوت دیا۔خون کی نہریں بہہ جائیں، لوگ جل جائیں، کٹ جائیں، مرجائیں لیکن اپنے پاؤں جہاں تک ہوسکیں پھیلا لیے جائیں۔یقینی طور پر پرانے زمانے میں لوگ اسی طرح حکومت کرتے تھے۔مسلمانوں، عیسائیوں ان دونوں قوموں نے یہی طریقہ کار اپنایا اور مذہب کو اپنی توسیع پسندی کا جواز ٹھہرایا، جس کی وجہ سے یہ قاتل اور لٹیرے، اگلی نسلوں کے ہیرو بنتے گئے۔ان تمام معاملات کا تعلق مذہب کی ان متضاد تعلیمات سے بھی ہے، جن میں ایک طرف زمین پر فساد پھیلائے جانے سے روکا جاتا ہے تو دوسری جانب خدا کے دین کو عام کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اس کی راہ میں لڑنے مرنے کو مستحسن سمجھا جاتا ہے۔یہی وہ ڈھال ہے، جس کا سہارا پہلے جاہل جنگجو قومیں لیا کرتی تھیں، اب دہشت گرد، مولوی ملا اور نام نہاد غازی و شہید لیا کرتے ہیں۔یہ سارے سوال قطب مینار سے گزرتے، وہاں کی زمین پر پھرتے ہوئے ذہن کی سطح پر کیچوے کی طرح رینگنے لگتے ہیں، اس کے برعکس ہمایوں کا مقبرہ مجھے اس لیے پسند ہے، کیونکہ وہ ان کی ایرانی بیگم نے بنوایا تھا۔مغل دور حکومت میں محبت کی یہ عظیم نشانی تاج محل سےپہلے ایک عورت کی جانب سے اپنے شوہر کو دیا جانے والا ایسا تحفہ تھا، جس میں چودہ سال بعد اس کی ہڈیاں نکال کر کہیں اور دفن کرنے کی تدبیر بھی نہیں کی گئی اور ایسی عالیشان عمارت قائم کی گئی، جس نے مغل آرکی ٹیکچر کو ایک نئی سمت اور نئی جہت عطا کی۔تاریخ کے دامن پر ایرانی بیگم کا یہ شاندار بوسہ ہمیشہ کے لیے ثبت ہوگیا ہے۔ہمایوں کا مقبرہ اسی لیے اب ایک مقبرے سے زیادہ عشاق کی ملاقاتوں اور سرگوشیوں سے گونجتا رہتا ہے۔یہاں قبروں کے نزدیک الجھتی ہوئی گرم سانسیں، دنیا کے اس شور و ہنگامے سے بہت دور، بدن کی دھوپ میں سائیں سائیں کرتی ہیں، جس نے عشق کے لیے دنیاداری، نفرت اور بھاگ دوڑ کے چکر میں خود کو بھی فراموش کررکھا ہے۔کہتے ہیں اسی طرز پر بعد میں اکبر کے نورتنوں میں سے ایک عبدالرحیم خان خاناں کا مقبرہ بھی تعمیر کیا گیا۔یہ مقبرہ بھوگل سے ذرا آگے اور حضرت نظام الدین سے کچھ پہلے آج بھی سڑک کنارے موجود ہے۔برابر میں میلی کچیلی جمنا بہہ رہی ہے، جو شاید ان دنوں آئینے کی طرح چمکتی ہوگی۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے رحیم خان خاناں اچانک دوہے سناتے سناتے یہاں سے دور نکل گئے ہیں، کیا کیجیے ٹریفک دلی میں بہت بڑھ گیا ہے اور ہارن کی چیں چاں، پیں پاں میں فضاؤں کو اتنی مہلت کہاں کہ لفظ کے رقص پر تھاپ دے سکیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11/">دس برسوں کی دلی ۔ قسط نمبر 11</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c-%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-11/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے</title>
		<link>https://laaltain.pk/18931-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/18931-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حلقۂ اربابِ ذوق]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 20 Oct 2016 11:36:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[افضال احمد سید]]></category>
		<category><![CDATA[افضال احمد سید شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق]]></category>
		<category><![CDATA[حلقہ ارباب ذوق کراچی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18931</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حلقہ ارباب ذوق: افضال صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یا داشتوں کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، جس میں سینتالیس میں ان کے خاندان کے یو پی سے ڈھاکہ منتقل ہونے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/18931-2/">افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urduexcerpt"><a href="https://laaltain.pk/category/literature/halqa-e-arbab-e-zauq/" target="_blank" rel="noopener">حلقہ اربابِ ذوق</a> کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ واراجلاس مورخہ 04 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزارتِ اطلاعات کے زیرِ انتظام ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشنز کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اس نشست کی صدارت محترمہ تنویرانجم نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس نام ور شاعرمحترم افضال احمد سید کی ستر ویں سال گرہ پر منعقد کیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اجلاس شروع ہونے سے پہلے افضال احمد سید صاحب نے اپنی سال گرہ کا کیک کاٹا۔ عذرا عباس نے اپنی اور انور سن رائے کی جانب سے افضال صاحب کو پھول پیش کیے اور باقی حاضرین نے با آواز بلند افضال صاحب کو سال گرہ کی مبارک باد دی۔ محترمہ نگت مجید صاحبہ نے تمام حاضرین کو کیک پیش کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کے بعد افضال صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یا داشتوں کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، جس میں 1947 میں ان کے خاندان کے یو پی سے ڈھاکہ منتقل ہونے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کی خود نوشت سوانح سنتے وقت حاضرین کی اکثریت پر گہرا تاثر غالب رہا۔ سوانح کی قرات کے بعد تقریباً سب نے اس پر اظہارِ رائے کیا۔ خود نوشت سوانح میں بھی افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا تھا۔ بچپن کے اکثر واقعات کا متن ان کی غزلیات کے مجموعے “خیمہء سیاہ” کے مصرعوں کی طرح اختصار اور ابہام لیے ہوئے تھا مگراس کا تاثر بہت بھر پور اور گہرا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے پڑھا۔ “ہم سے پہلے جو لوگ اس مکان میں رہتے تھے، ان میں سے کبھی کوئی لوٹ کر اس مکان کو دیکھنے نہیں آیا، کن حالا ت میں چھوڑا ہو گا اس مکان کو، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ، افراتفری میں قیمتی اشیاء سنبھال کر فرار ہوتے ہوئے، سب کچھ لٹ جانے کے بعد یا وہ کہیں نہیں گئے یہیں ان کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔ “اور یہ حصہ “ڈھاکہ میں جس گلی میں ہمارا مکان تھا اس میں با لکل عام سے لوگ رہتے تھے پتہ نہیں عام رہ جانا ان کی تقدیر تھی یا ترجیح “۔ ایک اور جگہ وہ رقم طراز تھے۔ “پرانے ڈھاکہ میں طوائفوں کے لئے مشہور بادام گلی سے میری آشنائی ان رکشہ چلانے والوں نے کرائی، جو متبادل راستوں کے ہوتے ہوئے بھی ادھر سے ہی گزر کر جاتے، کبھی کبھی گلی میں کھڑی کوئی طو ائف جسے عرفِ عام میں خانگی کہا جا تا تھا، اس سے کچھ چھیڑ چھاڑکر لیتی تھی، تو رکشے والے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ رہتا، اگر خانگی، شرارت سے اس کے عُضوء تناسل کو پکڑ لیتی تو یہ ایک محنت کش کے لئے ایک جسم فروش کا ایثار ہوتا جو دو ٹکے کی طوائف کے پاس بھی جا نے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-19033" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-2.jpg" alt="afzal-ahmed-syed-2" width="960" height="540" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-2.jpg 960w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-2-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-2-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 960px) 100vw, 960px"></p>
<div class="urdutext">خود نوشت سوانح کی قرأت کے اختتام پر اس کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نگہت مجید نے کہا کہ اس نسبتاً مختصر باب میں اس قدر تنوع اور گہرائی دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ واقعات کی کثرت اور تیز رفتاری قاری کو پریشان کن حد تک متجسس رکھتی ہے۔ کاشف رضا نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو تحریر ہم نے سنی اس کا بیانیہ بہت مختلف اور انوکھا ہے۔ جس میں افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا ہے۔ ایک مشکل جو اس حصے میں قاری کو محسوس ہوتی ہے، وہ بہت سے زمانوں کا ایک ساتھ چلنا ہے۔ یہ سوانح مکمل حالت میں سامنے آئے تو پتا چلے کہ انہوں نے زمان و مکان کو کس طرح تقسیم کیا ہے۔ بہر حال پوری تحریر پڑھ کر ہی تمام جزئیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خالد معین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ عمر کا تعین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور واقعات میں تفاصیل کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے لیکن یہ طے ہے کہ جزئیات نگاری اور تفاصیل کی حد کا تعین آپ نے کرنا ہے اور اسی طرح اسٹائل کے حولے سے بھی آپ کو پابند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خالق داد اُمید کے اس سوال پر کہ بہت سے سوانحی نکتے، جیسا کہ اپنے خاندان کے بارے میں تفصیل کو آپ نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور بچپن کے جن واقعات کو شامل کیا ہے ان کی بھی جائز تفاصیل موجود نہیں، بس اشارہ اور صرف دلچسپ اشارہ کرکے گز رنے کا تاثر کیوں مل رہا ہے؟ اس کے جواب میں افضال صاحب نے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوانح لکھنے کی وجہ اس باب کے بعد شروع ہونے والے قیامت خیز واقعات ہیں، جن کے بارے میں، میں تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ بچپن کا ذکر تو ان جھلکیوں پر مشتمل ہے جو میرے لاشعور میں رچ بس گئی ہیں اور جن کے ذکر کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ آج بھی میں خواب دیکھتا ہوں تو اکثر اپنا پچپن ہی خواب میں دیکھتا ہوں۔ افضال صاحب کے اس جواب پر سعدیہ بلوچ نے کہا، جیسا افضال صاحب نے بتایا کہ آگے چل کر وہ کچھ قیامت خیز واقعات پر لکھنا چاہ رہے ہیں لہٰذا یہ تعارف اس کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ عذرا عباس نے کہا کہ خود نوشت کے راوی کی عمر اور واقعات کا زمانہ جو کہ ایک ہی چیز ہے، اس کی عدم وضاحت بیانیہ کوسمجھنے کے &gt;لئے مشکل بنا رہی ہے، گر ایسا ہے تو راوی کی عمر اور واقعات کے زمان کے حوالے سے وضاحت پیدا کی جائے۔ عبدالصمد نے کہا کہ بہت سی کمینوٹیوں کے مذہبی اور لسانی حوالوں کا ذکر ہے اور اس مختصر باب میں واقعات کا کثیر الجہت مشاہدہ پیش کیا گیا ہے جس سے تحریر بظاہر گُنجلک لگنے لگی ہے مگر ایسا حقیقت میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز واضح ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رفاقت حیات نے کہا کہ ڈھاکہ کاجتنا ذکر اس باب میں سنا، اسے سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ کرچی کا ذکر چل رہا ہے۔ مقامی بنگالیوں، بہاریوں، یو پی، سی پی کے اُردو بولنے والوں کشمیریوں حتیٰ کہ پٹھانوں کا ذکر بھی ڈھاکہ کو کراچی بنا رہا ہے۔ علی ارقم نے بتایا کہ جس رقص کا ذکر پٹھانوں کے حوالے سے کیا گیا اور جسے گفتگو میں دوستوں نے اتنڑ کہا، در اصل خٹک ڈانس کی ایک خاص صورت ہے جس میں تلواروں کو لہراتے ہوئے رقص کیا جاتا ہے اور جو اب بہت کم دیکھنے میں آ تا ہے۔ محترمہ تنویر انجم نے اجلاس کے اس حصے کے اختتام پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میرا تاثر بھی اس تحریر کو سن کر یہی ہے کہ بہت سے واقعات کا بہت ہی کم ٹائم فریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ہر واقعے کی تفصیل سے بھی اجتناب برتا گیا ہے جس سے تحریر گنجلک ہو گئی ہے۔ اگر ہر واقعے کو اس کی مطلوبہ تفصیل دے دی جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی الگ الگ کہانیاں ہیں جو اس آپ بیتی کو بہت سپورٹ دے سکتی ہیں بہر حال یہ سب کچھ طے کر نا لکھنے والے پر منحصر ہے کہ کس چیز یا واقعے کو کتنی تفصیل اور وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ صدرِ نشست کی گفتگوکے بعد افضال صاحب نے اپنی کلیات “مٹی کی کان” کے بعد کی نثری نظمیں “جواہرات کی نمائش میں شاعرہ”، “مٹی میں تیرا رنگِ حنا اور بھی چمکے” سنائیں اور اس کے بعد خیمہء سیا ہ کے بعد تخلیق پانے والی غزلیں سنائیں۔ جن میں سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اک رنجِ من و تو کو ہمہ وقت اٹھائے<br>
پھرتا ہوں یہی مطلعِ دولخت اٹھائے<br>
آتش کدہ ءِ یزدِ محبت میں ملے تو<br>
اک شمع بنامِ دل و زرتشت اٹھائے<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
میری وحشت سے جو اس حسن پہ تشدید آئی<br>
دل یہ کہتا ہے کہ اب ساعتِ تمہید آئی<br>
روبرو اس کے جو اس دل سا خطاکار آیا<br>
اس کی آ نکھوں میں بھی اک شوخیِ تائید آئی<br>
ایک آئینہ میں ایسا بھی لیے پھرتا ہوں<br>
جس میں جب دیکھا نظر صورتِ امید آئی<br>
اس نے سن کر یہ غزل بوسہِ لب تک نہ دیا<br>
اس کی جانب سے بڑی سخت یہ تنقید آئی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
عکسِ معدوم سہی میں تیری آنکھوں میں مگر<br>
دل مرا تجھ پہ تو اے آئینہ رُو روشن ہی<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
دست برداری ہے اب تیغِ ستم سے تیری<br>
یا ہماری سرِ وحشت سے سبک دوشی ہے<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
گزر کے منزلِ ہر خوب و زشت سے اس کی<br>
ملیں گے جا کے بہارِ بہشت سے اس کی<br>
جہاں سے صورتِ تنویم میں گزرتا ہوں<br>
خیالِ چشمِ ستارہ سرشت سے اس کی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حاضرین کی اکثریت کے لیے جو کہ افضال صاحب کی غیر مطبوعہ غزلیں خاصے کی چیز تھیں۔ شرکائے اجلاس نے افضال کی غزلوں پر انہیں خوب خوب داد دی۔</div>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-19031" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed.jpg" alt="afzal-ahmed-syed" width="960" height="540" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed.jpg 960w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/Afzal-Ahmed-Syed-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 960px) 100vw, 960px"></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/18931-2/">افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/18931-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-10/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-10/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 15 Oct 2016 10:22:57 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[اردو سوانح]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[خود نوشت]]></category>
		<category><![CDATA[دلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18806</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں  کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-10/">دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے <a href="http://www.adbiduniya.com/2015" target="_blank" rel="noopener">ادبی دنیا</a> کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">دس برسوں کی دلی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/%D8%AF%D8%B3-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%84%DB%8C/" target="_blank" rel="noopener">گزشتہ اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">طلعت کی شخصیت دو لحاظ سے عجیب تھی، اول تو یہ کہ وہ بہت خوبصورت تھی، کھڑا ناک نقشہ، اونچا قد، پتلی دبلی مگر دلکش جسم کی مالک۔وہ زیادہ تر پاکستانی سوٹ پہنا کرتی تھی،ہلکا چمکتا ہوا لپ گلوز اس کے پتلے ہونٹوں کی رونق بڑھاتا تھا، کمر تک بال، موتی جیسے قطار اندر قطار دانت اور گالوں میں پڑنے والے گڑھے۔اور دوسرے اس کی زندگی اپنی شرطوں پر گزرتی تھی، بتاتی تھی کہ جب وہ بارہ برس کی تھی، تب کسی بات پر ناراض ہوکر اس کے گھروالوں نے اس سے بات کرنی چھوڑ دی تھی، اس کی دو چھوٹی بہنیں فرح اور زرناب ہی اس سے بات کیا کرتی تھیں، کل پانچ ، چھ بہنیں تھیں اور دو بھائی۔ والد کا شاید کوئی پریس تھا، اس کے ایک بھائی سے بعد میں میری دوستی بہت اچھی ہوگئی تھی، ان کو ہم لوگ وسیم بھائی کہا کرتے تھے۔گرافک ڈیزائننگ میں ماہر تھے۔بہرحال طلعت کا قصہ وہاں سے شروع ہواجب اس نے مجھ سے اپنی بہن کی سو غزلوں پر اصلاح کروائی۔میں نے ان غزلوں کی اصللاح کے ہزار روپے لیے اور کام کرکے دے دیا۔طلعت کا پورا نام طلعت انجم تھا اور اس کی سب سے بڑی بہن ، جن کے لیے اس نے یہ کام کروایا تھا، مسرت انجم کہلاتی تھیں۔بعد میں وہ میرے والد سے کسی طور مل گئیں اور ان کی ہی شاگرد بن گئیں۔طلعت پہلے کوچنگ میں پڑھتی رہی، لیکن کچھ وقت بعد اس نے میرے گھر آکر ہی مجھ سے ٹیوشن لینی شروع کردی، فیضان سے بہت کوششوں کے بعد اس کی کوئی بات نہ بن سکی۔میں نے بھی ان سے بات کی تھی، مگر وہ طلعت کے لیے راضی نہ ہوئے، پتہ نہیں کیا وجہ تھی۔۔۔مگر وقت گزرگیا اور طلعت ان کے بہانے سے میرے نزدیک ہوتی گئی۔ہمارے درمیان ایک بہت اچھا تعلق قائم ہوا، وہ دو ڈھائی سال جو اس کے گریجویشن کی تیاری میں گزرے، بہت یادگار رہے۔میں آج ہی کی طرح اس وقت بھی گھر سے کام کرنا زیادہ بہتر سمجھتا تھا، کبھی کبھار کسی پروڈکشن ہاؤس کی سیر کرلی، کچھ کام اٹھالیا، کچھ ٹوٹا پھوٹاترجمہ، کہیں کوئی سی گریڈ فلم یا ٹی وی ڈرامے کی سکرپٹ۔۔یہ سب چلتا رہا، حالانکہ مجھے طلعت اور روشن دونوں کا ذکر ایک ساتھ ہی کر دینا چاہیے، مگر میں الگ الگ ہی ان کو بیان کروں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">طلعت کی ہستی کسی نابغے سے کم نہ تھی۔اس سے گھر میں کوئی بات نہ کرتا، مگر وہ سب سے بات بھی کرتی، ہنسی مذاق بھی کرتی۔وہ اپنے والد سے بہت پیار کرتی تھی، مگر شاید کوئی ایسی وجہ تھی، جس کی وجہ سے سب اس سے ناراض تھے،میں جاننا چاہتا تھا کہ آخر بارہ برس کی عمر میں کسی لڑکی سے ایسا کون سا گناہ سرزد ہوسکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اس سے اتنے ناراض ہوجائیں، بہرحال بات کبھی سمجھ میں نہ آسکی۔یہ عقدہ اس لیے بھی نہ کھلا کیونکہ وہ بھی اس سوال کو ہنس کر ٹال جاتی تھی۔میں اگر خود اس کے گھر کا ماحول نہ دیکھتا تو مجھے اس کی بات پر یقین نہ آتا۔تین کمروں اور ایک بڑے سے آنگن پر مشتمل بلیوں اور ایک طوطے کی موجودگی سمیت اس کا گھر بہت خوبصورت تھا، وہ بھی ذاکر نگر میں ہی رہا کرتی تھی۔ایک چھوٹا سا بیگ کندھے سے لٹکائے روز شام چار بجے آجایا کرتی تھی۔اس وقت اس کے پاس فون نہیں تھا، میرے پاس موجود تھا مگر اس کے تعلق سے کسی کام کا نہ تھا۔بہرحال ، ہم زیادہ وقت چھت پر بیٹھے رہا کرتے تھے، سردی ہو یا گرمی، شام چار یا پانچ بجے سے سات آٹھ بج جایا کرتے، ہم بیٹھتے ، ٹہلتے، باتیں کرتے، پڑھتے اور ساتھ ہی اس سے میں عجیب و غریب قصے سنا کرتا تھا۔رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچا کہ اس کے اور میرے گھر کے تکلفات قریب قریب ختم ہونے لگے۔اسے پھلوں ولوں کا شوق نہ تھا، البتہ چقندر بہت شوق سے کھایا کرتی تھی۔ایک دفعہ جب اس کی سالگرہ کا موقع تھا تو ہم نے وہ سالگرہ فیضان کی اس چھوٹی سی کوچنگ میں منائی۔وہاں میں نے طلعت پر لکھی ہوئی ایک تحریر پڑھی، اسے تحفے میں ایک کلو چقندر دیے اور پھر کیک شیک کاٹا گیا۔چھوٹی دنیائیں بہت گہرے تعلقات پر منحصر ہوتی ہیں، ان میں ہر ایک فرد ایک ستون کی طرح ہوتا ہے، یہاں کوئی الگ ہوا، وہاں دھیرے دھیرے تعلقات کی یہ تکون یا چوکور عمارت دھیرے دھیرے ڈہنے لگتی ہے۔ میرا،فیضان کا اور اس کا تعلق کچھ ایسا ہی تھا، فیضان خود کو ذرا محتاط رکھتے تھے، مگر ہم اچھے دوست تھے۔ساتھ ہنستے، ساتھ وقت گزارتے اور ساتھ ہی سیر سپاٹا کیا کرتے۔جن شاموں کو وہ میرے ساتھ چھت پر ہوا کرتی، اکثر اس کے بھائی وسیم بھی آجایا کرتے تھے، وہ جب تک میرے ساتھ چوکی پر بیٹھے بات چیت کرتے، چائے پیتے۔طلعت کتاب کو یوں پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی ایکٹنگ کرتی ، جیسے سچ میں کتاب سے اس کا گہرا دلی لگاؤ ہو، جبکہ ایسا تھا نہیں۔ان کے آجانے سے اسے بوریت محسوس ہوتی تھی، بعض اوقات وہ ان کی موجودگی میں ہی مجھ سے رخصت بھی طلب کرلیتی تھی۔اس کے پاس دو بڑی بڑی آنکھوں کی ایسی زبان تھی کہ اکثر شام کو میں اسے کہا کرتا کہ یہ آنکھیں نہ دکھایا کرو، خوف آتا ہے۔وہ چھوٹی سی چھت، ہمارے لیے کسی بہت بڑے سر سبز میدان سے کم نہ تھی، وہاں ہم ٹپکتی اوس، دہکتی گرمی اور برستی بوندوں میں کئی بار گشت لگاتے اور باتیں کرتے۔باتیں کیا تھیں، اس کے روز مرہ کے تجربات تھے، کبھی کسی مہمان کا ذکر، کبھی کسی دوست کا قصہ۔ عام طور پر جس علاقے میں ہم لوگ رہتے ہیں، وہاں کی لڑکیوں کا دلچسپ موضوع بگڑیل لڑکے ہوا کرتے ہیں۔طلعت بھی اس موضوع پر بہت اچھی طرح باتیں کرنا جانتی تھی۔لیکن اس کے سبھاؤ سے مجھے کبھی ایسا نہیں لگا کہ اسے چھیڑے جانے سے کوئی خاص دکھ یا الرجی ہو۔جن دنوں وہ کالج جایا کرتی تھی، اس کو کسی افغان لڑکے سے محبت ہوگئی تھی۔بڑا عجیب سا ہی نام تھا اس کا جو اب یاد نہیں رہا ہے۔طلعت کہتی تھی کہ وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی اور اس کے ساتھ افغانستان جانے کا ارادہ باندھ رہی تھی۔میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ ایک لڑکا، جسے ابھی تم ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہو، اس کے ساتھ افغانستان چلی جاؤ گی، یہاں تمہارے گھر والے، رشتہ دار، پاس پڑوس والے، دوست احباب کیا سوچیں گے۔مگر وہ سوچنے وچارنے کے معاملے میں ذرا کنجوس تھی۔اس نے ٹھانا ہوا تھا کہ وہ اس لڑکے کے ساتھ ایک روز چلی جائے گی۔میں نے اسے مشورہ دیا کہ گھر پر بات کرلو، کہنے لگی کہ گھر پر بات نہیں کی جاسکتی، میں نے وجہ پوچھی تو اس نے پورا قصہ بتایا۔یہ افغانی لڑکا پہلے اس کی زندگی میں رہ چکا تھا، اتفاق سے گھروالوں کو اس تعلق کی خبر ہوئی اور ایک دن طلعت کے بھائیوں نے اس پر بڑی سختی کی۔لڑکا خطرہ بھانپ چکا تھا، اس لیے کچھ روز میں غائب ہوگیا۔ اب وہ دو تین سال بعد واپس آیا تھا اور طلعت کے ساتھ شادی کے وعدے کررہا تھا۔ایک روز طلعت میرے پاس آئی، اس نے بتایا کہ وہ اب اس افغانی لڑکے سے کبھی نہیں ملے گی، میں نے پوچھا بات کیا ہے، وہ اس روز فیروزی رنگ کی گھٹنوں تک پھیلی ہوئی قمیص اور چوڑی دار پاجامے میں تھی۔مگر کسی واقعے کے اثر سے اس کی آنکھیں بھی زہریلی دکھائی دیتی تھیں، اس نے بتایا کہ اس لڑکے نے آج اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے کی کوشش کی۔طلعت ، ان لڑکیوں میں تھی، جو بغاوت کو اپنا حق سمجھتی ہیں، محبت پر یقین کرتی ہیں اور کسی چھوٹے سے بچے کی طرح پوری دنیا کو ایک گھر اور ایک رشتہ میں بندھا ہوا محسوس کرتی ہیں۔مگر ان لڑکیوں کی نازک خیالیوں کو ٹھیس لگانے کے لیے بہت سے لڑکے کانٹا بچھائے بیٹھے رہتے ہیں،طلعت کی زندگی میں بھی ایسے لڑکے اس کے محلے سے لے کر افغانستان تک موجود تھے۔میں نے اسے کچھ سمجھایا نہیں، اچھا ہوا کہ اسے خود عقل آگئی تھی۔لیکن مجھے طلعت کی یہ بات پسند تھی کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند دونوں کو بہت صاف طور پر ظاہر کرتی تھی، اس کے اندر کوئی لاگ لپیٹ نہیں تھی۔فلموں، گانوں، رنگوں اور چڑیوں کی شوقین تھی۔اس کی خود کی بولی بہت میٹھی تھی، جب بات کرتی تو آنکھیں اور ہاتھ بھی ساتھ میں ناچا کرتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں</div>
<div class="urdutext">ایک دفعہ اس نے بتایا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ خریداری کرنے کے لیے جارہی تھی، شام کا وقت تھا، اچانک کوئی لڑکا راستے میں اس کی کمر سے باقاعدہ ہاتھ چھواتا ہوا گزر گیا۔وہ یہ بتاتے ہوئے ہنسنے لگی، اس دن وہ بے تحاشہ ہنسی۔ میں نے کہا کہ تمہیں اس واقعے پر ہنسی آرہی ہے، جبکہ یہ تو غصہ کا مقام ہے۔اس نے کوئی صراحت تو نہیں پیش کی، مگر ہنستی ضرور رہی۔پانی اس کا من پسند مشروب تھا۔ ایک دفعہ بوتل کو منہ لگاتی تو آدھے سے زیادہ پیے بغیر لبوں کے پرندوں کو آزاد نہ کرتی۔طبیعت ایسی آزاد کہ کسی دوست کی کار میں جابیٹھے، کسی کو طمانچہ لگادیا۔کسی سے گلے مل لیے اور کسی کو ایک نظر تک دیکھنا گوارا نہ کیا۔طلعت کے ساتھ گزرے ہوئے وقت میں ذاکر نگر کی بارہ نمبر گلی والی وہ چھت برابر کی حصہ دار رہی، جو ہمارے رشتے کے بننے، ارتقا پانے، روبہ زوال ہونے اور پھر قریب قریب ٹوٹنے کی گواہ تھی۔آج بھی وہ علاقوں کے لحاظ سے بہت دور نہیں، مگر اب میری زندگی کی چھت پر اس کی پرچھائی بھی موجود نہیں۔وہ ہمیشہ مجھ سے کہتی تھی کہ اسے بہت اچھا ڈانس آتا ہے، مگر کبھی اس نے مجھے وہ ڈانس نہیں دکھایا۔جذباتی لڑکی تھی،ہنستی تو ہنستی چلی جاتی، رونے پہ آتی تو پلکوں کے کونوں پر جمے ہوئے قطروں کو گھنٹوں انگلیوں سے چھیڑتی رہتی۔اسے سب سے زیادہ مزہ تب آتا تھا، جب میں اس سے اسلامی تاریخ ، سماجیات یا پھر سیاسیات کے حوالے سے سوالات کرتا۔وہ جواب دیتی، مسکراتی ، اپنی غلطی بھانپتی اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے، دوبارہ سوچنے لگتی۔پاس تو وہ گریجویشن میں ہوگئی تھی، مگر اس کی پڑھائی ، ایک طور پر صرف آزادی سے اس کا ایک اٹوٹ تعلق بنے رہنے کا بہانہ تھا۔گھر پر بہت سے لوگ تھے، مگر لوگ اسے جاننے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔جن ماں باپوں کی اولادیں زیادہ ہوں، وہ ویسے بھی بچوں کو بس بڑا کرنے ، ان کی شادیاں کرنے کی جلدی میں ہوتے ہیں۔انہیں طلعت جیسے بچوں سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے، جو زندگی کو کسی ریستوراں میں بیٹھے ہوئے کسٹمر کی طرح گزارنا چاہتے ہوں، یعنی ایک خاص وقت پر اس میں داخل ہوکر اپنی مرضی کا کھانا آرڈر کرو، مزے سے کھاؤ اور پھر بل چکا کر چلتے بنو۔طلعت پر میں نے اس زمانے میں کچھ نظمیں لکھی تھیں’ پھول چہرہ’، ‘گل اندام ’ وغیرہ وغیرہ ۔ اس نے وہ نظمیں مکمل یاد کرلی تھیں۔میں جب اس کے قریب تھا تو بہت سادگی پسند اور کچے جذبوں والا ایک نوجوان تھا، جسے فلرٹ کرنے کا ہنر بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا۔ڈھیلے ڈھالے شرٹ پہنا کرتا، فارمل پینٹس ۔میں پینٹ میں شرٹ کو کبھی اڑستا نہ تھا بلکہ ڈھیلا چھوڑ دیتا، کالے اوردبلے بدن پر یہ ڈھیلے کپڑے بہت عجیب نقش پیدا کرتے تھے، مگر طلعت کو ان سب سے سروکار نہیں تھا۔وہ مجھ سے پانچ روپے بھی اگر کبھی خود پر مجبوری میں خرچ کروالیتی تو مجھے واپس لوٹایا کرتی تھی۔ایک وقت پہ جاکر میں نے اس سے ٹیوشن فیس لینا بند کردی ،اس کی وجہ ہمارا گہرا تعلق تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سردی کی ایک شام ہم چھت پر بیٹھے تھے، میں کرسی پر تھا اور وہ پائری سے ٹیک لگائے، آگے نکلی ہوئی اینٹوں پر بیٹھی تھی۔ہم اکثر وہاں بیٹھتے تھے، شام کا دھندلکا تھا۔آس پاس کی چھتیں ویران تھیں،اس کا سینہ زیادہ بھرا ہوا نہ تھا، دو چھوٹی گولیاں تھیں اور وہ بھی اتنی اندر کہ بس اتنا حصہ سپاٹ معلوم ہوتا۔اس وجہ سے اس کی گردن کا حصہ نیچے اتر کر کسی دھوپ میں سوئے ہوئے صحرا کی مانند پھیل گیا تھا۔طلعت اس پر اپنی مخروطی انگلیاں پھیر رہی تھی۔میں اسے دیکھنے لگا، اس روز بس اس نے میرا ہاتھ بغیر کچھ کہے، اس شفاف حصے پر رکھ دیا، وہ حصہ بہت گرم تھا، میں اندر سے کچھ گھبرا گیا تھا، بات کچھ بھی نہ تھی، طلعت شاید اس روز یہی بتارہی تھی کہ اس کا بدن عام لوگوں سے زیادہ گرم رہا کرتا ہے۔مگر اس کے بعد ہم اکثر بات کرتے میں ایک دوسرے سے انگلیاں الجھا لیتے، پاؤں لڑاتے اور ایک دفعہ جب وہ کسی بات پر آبدیدہ ہوئی تو سرد اندھیرے کی گیلی چادر کے اندر میں نے بڑی خموشی سے اسے گلے لگالیا۔وہ بس ایک لڑکے اور لڑکی کے درمیان چمک چمک کر ماند ہوجانے والے جگنوؤں جیسے لمحے تھے، جو بہت اضطراری اور جلد باز تھے۔آئے، گزر گئے ۔نہ ان میں کچھ ہوسکتا تھا، نہ ہوا، ہم نے تو کبھی سانسوں کی ڈوریں بھی الجھانے کا خود کو موقع نہ دیا۔شاید میں اس وقت ان سب باتوں سے بہت خوفزدہ رہتا تھا۔اخلاقیات کا بھی بے حد قائل تھا اور ہمت کے لحاظ سے بھی بے حد کمزور۔ ورنہ وہ لمحے دھندلی گلابیوں میں اترے ہوئے پانیوں جتنے حسین تو تھے ہی، بس انہیں لبوں تک لانے کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن اچھا ہی ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو آج بھی اپنی تمام بے باکیوں کے باوجود مجھے اس بات پر افسوس ہی ہوتا۔وہ میری بہت اچھی دوست تھی اور مجھ پر اس کا بھروسہ بھی بلا کا تھا۔ہمارے درمیان کوئی ایسا جذبہ بھی نہ تھا، جو بعد میں اس وقتی یا فطری جذباتیت کوJustify کرنے کا بہانہ بن سکتا۔چنانچہ جو ہوا ، اچھا ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا</div>
<div class="urdutext">طلعت کی شادی، فیضان کے ہی ایک دوست ندیم سے ہوئی ہے۔اب ان دونوں کے دو بچے بھی ہیں۔ندیم کی اس سے پہلی ملاقات میرے ہی گھر پر ہوئی تھی۔وہ ندیم سے کیا ملی، دنیا سے بیگانہ ہوگئی،اس نے رفتہ رفتہ سب کو نظر انداز کردیا۔کہانی میں ایک موڑ بڑا دلچسپ تھا، طلعت جتنی عجیب و غریب تھی، ندیم بھی ویسا ہونق و اجبق آدمی نکلا۔ فیضان نے ایک روز مجھے بتایا کہ ندیم اور طلعت فلم اکیلے دیکھنے جانا چاہتے ہیں اور ندیم، طلعت کو سرپرائز دینا چاہتا ہے، اس کے لیے پہلی دفعہ اس نے دو ٹکٹ خریدے ہیں، لیکن بھری ہوئی قطار میں کارنر سیٹ طلب کرنے کی شرمندگی اس کے چہرے پر صاف دیکھی جاسکتی تھی، اس محنت کا فائدہ بھی کچھ خاص نہ ہوا کیونکہ طلعت دوسرے روز کسی وجہ سے اس کے ساتھ فلم کے لیے نہ جاسکی، اس روز ہم نے ندیم کا بہت مذاق اڑایا۔ اسی طرح ندیم کو معلوم تھا کہ طلعت اپنے گھر پر رات کو فون پر بات نہیں کرسکتی، پھر بھی اس نے طلعت کو ایک فون گفٹ کیا، سم دلوائی اور رات کو وہ اس طرح بات کرتے کہ طلعت اپنی بہنوں کے بیچ لیٹی، چادر میں دبکی کان پر فون لگائے رہتی اور ندیم اس طرف سے لگاتار بولے جاتا، دو طرفہ محبت میں ایک طرفہ کنورسیشن کی یہ سروس کئی دفعہ طلعت کے اچانک سوجانے سے متاثر ہوچکی تھی۔ندیم ہماراگہرا دوست بنا۔ اور آج بھی ہے۔ہم نے کئی فلمیں ساتھ میں دیکھیں، شامیں ساتھ میں گزاریں اور وقت کے سطح مرتفعی علاقوں کی سیر کرتے وقت ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رکھا۔اکثر یہ ہوتا کہ میں اور فیضان ، ندیم اور طلعت کو، ہمارے متوقع بہنوئی کی عدم موجودگی میں ، ان کے گھر پر چھوڑ کر باہر سے تالا لگا دیتے اور کہیں گھومنے چلے جاتے۔دو چار گھنٹے، ادھر ادھر گزارنے کے بعد واپس آتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محبت کے اس خوبصورت دورانیے میں سب کچھ ٹھیک تھا، ندیم بھی میری بہت عزت کرتا تھا، مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔مگر میرے ہی اندر رقابت کا جذبہ پیدا ہونے لگا، مجھے فکر ہونے لگی کہ اگر طلعت کی شادی ہوگئی تو اتنا اچھا وقت جو میں اس کے ساتھ گزارتا ہوں، ایک دم سے ختم ہوجائے گا اور کہانی رک جائے گی۔اس جلن میں میں نے ایک روز طلعت کی بڑی بہن مسرت انجم کو یہ بتادیا کہ طلعت جس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے وہ میرا دوست ہے، اور یہ دونوں شادی کے لیے کبھی بھی فرار ہوسکتے ہیں۔میں یہ بات وسیم بھائی تک کسی ذریعے سے پہنچانا چاہتا تھا ، مجھے یقین تھا کہ اگر بات وہاں تک پہنچ گئی تو ان دونوں کا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔۔وہ کوئی عشقیہ رقابت نہ تھی، بس میں وقت کو روکنا چاہتا تھا، جبکہ مجھے اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ میں جس وقت کو روکنا چاہ رہا ہوں، وہ واقعی گزر چکا ہے اور طلعت کی شامیں اب کسی اور کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں، وہ ٹیوشن کم آنے لگی تھی، اس بات پر ایک دو بار ہمارا جھگڑا بھی ہوا۔۔مجھے حیرت تب ہوئی، جب اس طرف شادی کے سارے انتظامات ہونے کے باجود طلعت کے گھرمیں کوئی ہلچل ہی نہ دکھائی دی۔طلعت نے ٹیوشن چھوڑ دی تھی، ہماری کبھی کبھار فون پر بات ہوجاتی۔پھر ایک دن جب میں ایک اداکارہ کے ساتھ کناٹ پلیس میں کہیں بیٹھا ہوا تھا تو طلعت کا فون آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ ندیم اور وہ دونوں دلی چھوڑ کر جارہے ہیں۔سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ میں کچھ نہ کرسکا۔ مگر اس رات مجھے وسیم بھائی کے ساتھ بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑی، ندیم کے گھروالوں اور ان کے گھروالوں کے درمیان میں کسی پسو کی طرح دبکا ہوا ساری باتیں سنتا رہا۔وہ دونوں کہاں تھے، اس کی کسی کو خبر نہیں تھی۔طلعت نے اپنے بندھے ہوئے لبوں کے پرندے کو بالآخر پوری طرح آزاد کردیا تھا، رات کے ڈھائی بجے وسیم بھائی نے مجھے میرے گھر ڈراپ کیا اور میں یہ سوچتا ہوا گھر کی سیڑھیاں چڑھنے لگا کہ آخر مسرت نے اپنے گھروالوں کو کچھ بتایا کیوں نہیں۔۔۔مگر اب اس پورے قصے پر سوائے ایک روکھی ہنسی ہنس دینے کے علاوہ میرے پاس اور کیا چارہ تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-10/">دس برسوں کی دلی۔ قسط نمبر 10</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%b3-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%af%d9%84%db%8c%db%94-%d9%82%d8%b3%d8%b7-%d9%86%d9%85%d8%a8%d8%b1-10/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دس برسوں کی دلی — قسط نمبر 9</title>
		<link>https://laaltain.pk/18207-2/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/18207-2/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[تصنیف حیدر]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 22 Sep 2016 09:32:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[خصوصی]]></category>
		<category><![CDATA[Tasneef Haider]]></category>
		<category><![CDATA[اردو سوانح]]></category>
		<category><![CDATA[تصنیف حیدر]]></category>
		<category><![CDATA[خود نوشت]]></category>
		<category><![CDATA[دس برسوں کی دلی]]></category>
		<category><![CDATA[دلی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18207</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تصنیف حیدر: سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/18207-2/">دس برسوں کی دلی — قسط نمبر 9</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے <a href="http://www.adbiduniya.com/2015" target="_blank" rel="noopener">ادبی دنیا</a> کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی “دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">دس برسوں کی دلی کی <a href="https://laaltain.pk/category/literature/%D8%AF%D8%B3-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AF%D9%84%DB%8C/" target="_blank" rel="noopener">گزشتہ اقساط</a> پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">بہت دنوں تک دوردرشن اردو کے لیے کام کرنے کے بعد مجھے جب فراغت ملی تو میں ایک روز جب دوپہری میں گھر پر آرام کررہا تھا، طلعت مجھ سے ملنے آئی۔طلعت دراصل انہی دو لڑکیوں میں سے ایک تھی، جن کو مجھے کوچنگ میں پڑھانا تھا۔لیکن اپنی مصروفیت کی وجہ سے نہ پڑھا سکا تھا۔دہلی ایجوکیشن پوائنٹ میں بہت زیادہ وقت میں نہ گزار سکا۔وہاں اصل میں مسئلہ یہ تھا کہ بہت کم پیسوں پر مجھے کام کرنا پڑتا تھا۔طلعت والی بات بھی بڑھاؤں گا، مگر اس سے پہلے دو واقعات سن لیجیے، جو کچھ مزے کے ہیں۔کوچنگ میں سردیوں میں پھٹے ہوئے ایک کوٹ کو پہن کر بیٹھے رہنے سے لے کر تین تین شفٹ کرنے کی بھی نوبت آئی تھی۔اس نوبت کے پہنچتے پہنچتے میں وہاں سے نکل آیا اور مجھے سکرپٹنگ کا چسکہ لگ گیا۔اس کام میں کوچنگ کی بہ نسبت پیسے کافی زیادہ تھے اور کام بھی میری پسند کا تھا۔کوچنگ کے دوران بتانے کے لیے ایسا کچھ خاص نہیں ،بس ان دنوں میں یہ تبدیلی ضرور ہوئی تھی کہ ہم شاہین باغ سے اب بٹلہ ہاؤس شفٹ ہوچکے تھے، وہاں ایک بہت چھوٹے کمرے میں کچھ بیس بائیس دن گزار کر، ہم نے ایک دو کمروں کا فلیٹ ایک پرانی سی بلڈنگ کے فرسٹ فلور پر ذاکر نگر کے علاقے میں لے لیا تھا۔تو پہلا واقعہ کچھ یوں ہے کہ میں کوچنگ میں کچھ کم عمر لڑکیوں کو بھی پڑھایا کرتا تھا، جو جوانی اور بچپن کے بالکل برابر کی لکیر پر کھڑی ہوا کرتی تھیں۔وہ مجھ سے مانوس اس لیے ہوجاتی تھیں کیونکہ میں پڑھاتا کم تھا اور ان سے باتیں زیادہ کرتا تھا۔مجھے کبھی سختی سمجھ ہی میں نہ آئی، کسی طالب علم پر آنکھیں نکالنا بھی میرے لیے کبھی ممکن نہ ہوسکا۔اس لیے کیا لڑکے ، کیا لڑکیاں سب سے ایک دوستانہ قسم کے ماحول میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ خوب باتیں ہوا کرتیں۔ایک روز میں اپنے گھر سے کوچنگ جارہا تھا، کوچنگ کوئی بہت دور تو تھی نہیں۔لیکن میں جب اپنے گھر سے نکل کر کچھ سیدھا چل کر ایک گلی میں مڑا تو سامنے سے ایک طالبہ اپنی والدہ کے ساتھ آرہی تھی، اس نے مجھے سلام کیا تو میں مسکرادیا۔میرا مسکرانا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بہت بھاری بھرکم قسم کی خاتون اپنے ڈگڈاتے بدن، تمتماتے چہرے اور چھلکتے ہوئے غصے کے ہمراہ میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئیں۔انہوں نے میری طرف نہایت جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے پوچھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“کس کو دیکھ کر ہنس رہا تھا تو؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں کچھ سمجھ نہ پایا کہ کیا کروں، مسئلہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی لڑکی کو چھیڑتا ہوگا تو ضرور اسے بچ نکلنے، بھاگنے یا پھر ایسی سچویشن میں مقابلہ کرنے کے سارے گر ضرور معلوم ہوں گے، لیکن میں اس معاملے بالکل اناڑی تھا اور پھر کسی عورت کو اس قسم کے روپ میں دیکھنا اس وقت میرے لیے بالکل ہی انوکھا تجربہ تھا، ان کی آنکھیں ابلی پڑرہی تھیں، بدن پر لال رنگ کا جمپر تیزی سے آگے کی جانب جھکا پڑرہا تھا، دوپٹہ گلے میں کسی اجگر کی طرح لپٹا ہوا، بال بندھے ہوئے اور ایک ہاتھ ہوا میں اس نیت سے لہراتا ہوا کہ میرے الفاظ سن کر میرے گالوں کے حق میں کوئی فیصلہ کرے گا۔مجھ سے بے وقوفی یہ ہوئی کہ میں نے ان سے یہ کہہ دیا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“آپ اپنی بیٹی سے معلوم کیجیے، میں کون ہوں!”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">اب وہ آئو دیکھیں نہ تاو، مجھ پر مزید برس پڑیں۔اور اس چھوٹی ، معصوم اور ننھی گلی کے آدھے دائرے میں ان کے غصے کا بگولہ ایسا رقص کرنے لگا کہ آس پاس کی کھڑکیوں نے اس نظارے کے لیے یکدم پٹاپٹ اپنی اپنی آنکھیں کھولنی شروع کردیں۔بات بڑھنے لگی، پتہ نہیں ، کیا مسئلہ تھا کہ وہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے چوک رہی تھیں۔مگر یقینی طور پر اگر اسی وقت ان کی بیٹی آگے بڑھ کر انہیں فوراً یہ نہ بتاتی کہ ‘ارے امی! کیا کررہی ہو، یہ تصنیف سر ہیں!‘تو ان ہاتھوں کی برق میں لپٹی لہروں کو ضرور ایک زناٹے کے ساتھ میرے رخساروں سے چپٹ جانا تھا۔اول تو انہوں نے بیٹی کے بیان پر گھور کر مجھے دیکھا، پھر ان کی خون آلود نگاہوں میں ابلتا ہوا دریا ،دھیرے دھیرے بیٹھنے لگا۔انہیں اصل میں اس بات پر یقین کرتے ہوئے بڑی شرم سی محسوس ہورہی تھی کہ یہ جو چھٹانک بھر کا لڑکا ان کی نگاہوں کے سامنے کھڑا ہے، ابھی ابھی ان کی بیٹی نے اسے اپنا استاد تسلیم کیا ہے۔ اس لیے انہوں نے زیادہ معافی تلافی تو نہ مانگی،البتہ یہ کہہ کر کام چلایا کہ ‘سر! پلیز سڑک پر آئندہ اس کی طرف دیکھ کر آپ مسکرائیے گا نہیں، اگر مجھے غلط فہمی ہوسکتی ہے تو کسی کو بھی ہوسکتی ہے۔آپ تو سمجھ دار ہیں نا۔۔۔‘اس وقت میرے پاس ان کی بات ماننے کے علاوہ کوئی اور چارہ تھا ہی نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں اس واقعے پر اتنا سٹپٹا گیا تھا کہ میں نے ان کی شکایت نسیم سر سے کی، مگر وہ بے چارے بھی کیا کرسکتے تھے۔اب میرا پتلا دبلا ڈھانچہ نما جسم، پکاکالا رنگ اور اس پر حلیہ بھی بالکل راہ چلتوں کا سا۔قدرت کے ساتھ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے کہ جو چیز اندر سے جیسی ہے، ویسی باہر سے بالکل نہیں ہے۔اور ہر چیز کا اندر و باہر جاننا ہر شخص کا مسئلہ نہیں ہے۔جیسے اس لڑکی کی والدہ کا یہ مسئلہ بالکل نہ تھا کہ میں کون ہوں یا کون ہوسکتا ہوں، ان کا بنیادی مسئلہ یہ تھا کہ میں ان کی لڑکی کو دیکھ کر مسکرایا کیوں۔بہرحال برا وقت تھا ٹل گیا۔لیکن اس روز مجھے اس بات کا ضرور احساس ہوا کہ اس سوسائٹی میں رہنا ہے تو غصے میں رہنا بہت ضروری ہے۔کسی لڑکی کو دیکھ کر توکیا کسی کبوتر کو دیکھ کر بھی مسکرادینے سے بے وقت کی آفت ٹپک پڑسکتی ہے۔مجھے یاد ہے کہ اس واقعے کا اثر بہت دنوں تک میرے ذہن و دل پر رہا اور میں سڑک پر اس قدر سنجیدہ ہوکر چلنے لگا جیسے وہاں بھی میں کوئی استاد ہوں، جبکہ سڑک پر ہر آدمی صر ف آدمی ہونا چاہیے، اس کا عہدہ، اس کا کردار، اس کی ذہانت، اس کی خوبصورتی یا بدصورتی سب کچھ ایک سیال میں ڈوبے ہوئے برادے کی طرح گھل مل جانا چاہیے لیکن ایسا یہاں نہیں چل سکتا تھا۔اس لیے بعد میں احساس ہوا کہ لوگ یہاں سڑک پر بھی اپنے ماتھوں پر اپنے عہدوں کی تختیاں لگائے کیوں گھومتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوسراواقعہ یہ ہے کہ طلعت اور روشن، یعنی کہ انہی دو لڑکیوں کو ساتھ میں پڑھانے کے دوران بہت سی ادھر ادھر کی باتیں ہوجایا کرتی تھیں، ایک دن طلعت نے بتایا کہ اسے اپنے ہی کسی استاد پر کرش ہے۔میں چونک گیا کیونکہ استاد تو میں بھی تھا لیکن اس زمانے میں مجھے اس کی امید کم تھی کہ میری طرف کوئی بہت خوبصورت لڑکی اس طور بھی دھیان دے سکتی ہے۔واقعہ یہ تھا کہ میرا ایک دانت ، جو کہ سامنے کی اوپری جانب کا تھا، ٹوٹ گیا تھا۔یہ تب ہی سے ٹوٹا ہوا تھا، جب میں ممبئی سے دہلی آیا تھا،جس حادثے میں میں نے اپنا یہ دندان شہید کروایا تھا، وہ خاص ایک کتے سے تعلق رکھتا ہے، اور اسی دن سے کتوں نے میرے دل میں ایک بڑا خوف سا پیدا کردیا تھا، ممبئی کے علاقے میرا روڈ میں جب میں کورئیر بانٹا کرتا تھا، جو کام میں نے ٹھیک سے شاید مہینہ دیڑھ مہینہ ہی کیا تھا۔ اس زمانے کی بات ہے کہ ایک بلڈنگ میں مجھے خط پہنچانے جانا تھا، میں ایک سائیکل پر خطوط لے کر نکلا کرتا تھا۔ آخری خط بچا تھا، بلڈنگ گھر سے بہت دور نہیں تھی، چنانچہ سوچا کہ اسے بھی پہنچا دیا جائے۔جب بلڈنگ کے پھاٹک سے اندر داخل ہوا اور بلڈنگ میں جانے کے لیے دائیں جانب کو مڑا تو دیکھتا کیا ہوں کہ ایک کافی بھاری بھرکم چاکلیٹی رنگ کا کتا، اپنی دم کو اپنی بانہوں میں دبائے آرام کررہا ہے، میری ہمت نہ ہوئی کہ اسے پار کرکے اوپر کی جانب نکل جاؤں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔</div>
<div class="urdutext">ایسا نہیں تھا کہ اس سے پہلے بلڈنگوں میں خطوط پہنچاتے وقت کتوں سے میرا سامنا نہ ہوتا ہو، لیکن وہ کتا کچھ دراز قامت تھا اور بھیانک شکل و صورت کی صفت بھی رکھتا تھا۔میں باہر آیا اور سائیکل پر بیٹھ کر اسے موڑنے لگا، اچانک ایک دوسرا کتا، جو کہ نہ جانے کہاں سے منظر کی سفید چادر پر نمودار ہوا اور اپنی گرجدار آواز سے اس میں چھید کرنے کی کوشش کرنے لگا۔اس کے چمکتے ہوئے دانت، ٹپکتی ہوئی رال اور بھوں بھاں اس قدر بھیانک تھے کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتا تھا کہ کروں تو کیا کروں، ہوتا یہ تھا کہ جہاں میں پیڈل پر پیر رکھ کر اسے آگے بڑھانا چاہوں ، وہاں وہ بھونک کر میری جانب بڑھ جاتا، ادھر میری حالت ایسی کہ پاؤں بھاری ہوئے جارہے تھے، جب میں پرسکون ہوجاتا اور حرکت نہ کرتا تو وہ بھی بیٹھ جاتا۔اس وقت اس کے بھرپور گدرائے ہوئے چکنے بدن میں جس پھرتی سی کسی ضدی بچے کی روح داخل ہوئی تھی، وہ میری عاقبت کے لیے کافی اندوہناک ثابت ہونے والی تھی۔میں نے دیکھا کہ گراؤنڈ فلور کی ایک گریل میں لٹکا ہوا چھوٹا سا ایک لڑکا بڑی ہی دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔میں اس کی دلچسپی کو سمجھ سکتا تھا۔ایسے وقت میں جب سڑک پر کوئی آدمی کسی جانور سے خوفزدہ ہوکر سہما ہوا کھڑا ہو، اسے ایک محفوظ گھر سے دیکھنے کی انسانی جبلت الگ ہی لطف دیتی ہے ۔بہرحال، رکنے کا کوئی فائدہ نظر نہ آتا تھا، میں نے تیزی سے اچانک پیڈل پر پیر رکھ کر اسے بھگانا شروع کر دیا، بائیں جانب مڑتے ہی پیچھے جو اک نظر کی تو بھاگتا اور ہانپتا ہوا وہی کتا، بالکل میرے پیروں سے لپٹا نظر آیا، ہوا کے اس تیز کینواس پر میری چیخ اور دہشت کا ایک بھرپور رنگ پھیلتا جارہا تھا۔سامنے کسی نے پھاٹک بند کردیا تھا اور سائیکل میں بریک نہ تھے۔میں نے پیڈل پر ابتدائی قدم دھرتے ہوئے یہی سوچا تھا کہ سائیکل کو بھگاتا ہوا پھاٹک سے باہر لے جائوں گا، لیکن میری امیدوں کا در بند تھا اور راستہ تنگ تھا، نہایت منطقی قسم کا سوال اس موقع پر یہ ہوسکتا ہے کہ اگر اس وقت سائیکل میں بریک ہوتے بھی تو کیا میں انہیں لگانے کی دلیری کا متحمل ہوسکتا تھا۔بہرحال دھاڑ سے جاکر سائیکل پھاٹک سے ٹکرائی ، اونگھتا ہوا پھاٹک اس بد ہنگم قسم کی اچانک بغل گیری پر ایسا بوکھلایا کہ اس کا ایک پٹ دور تک گھسٹتا چلا گیا، میں ایک ذرا ہوا میں اچھلا اور دھڑام سے زمین پر آرہا، بلڈنگ کے باہر موجود دکان پر سے کچھ لونڈے میری طرف دوڑے ، جب تک وہ میرے پاس آئے، کتا مجھے سونگھ سانگھ کر بھاگ چکا تھا۔اسی حادثے میں میرے مسوڑھوں کا خون ایک دانت کو کھوکھلا کرتا ہوا اس میں اتر گیا اور وہ دانت کالا پڑتا چلا گیا، کچھ عرصے بعد ایک دن جب میں انڈا بریڈ تناول فرمارہا تھا، کٹ کی سی ایک ہلکی آواز ہوئی اور وہ داغ نما دندان چھوٹے سے نوالے کی قالین میں لپٹا ہوا میری ہتھیلی پر اتر آیا۔کافی بعد میں جاکر میں نے اس مقام پر ایک مصنوعی دانت لگوایا تھا جو کہ بدستور اپنی جگہ پر قائم ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس سے پہلے دو دفعہ طلعت کا ذکر آچکا ہے، مگر درمیان میں کوئی نہ کوئی واقعہ نکل آتا ہے۔تو میں بتا یہ رہا تھا کہ اس نے مجھے بتایا کہ اسے اپنے ایک استاد سے محبت ہے، تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ جن صاحب کے بدن سے انہیں عشق کی بو آرہی ہے، وہ فیضان علی ہیں۔فیضان ایک بہت ہی ہینڈسم نوجوان تھے، وہ کوچنگ کی اس چھوٹی برانچ میں پڑھایا کرتے تھے، جس کے وہ مالک بھی تھے اور روح رواں بھی۔وہاں یہ لڑکیاں ان سے انگریزی وغیرہ پڑھنے جایا کرتی تھیں۔لیکن اس وقت تک میں نے انہیں نہ دیکھا تھا، پھر ایک روز جب وہ جوگابائی والی برانچ میں آئے تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔میرے دل پر ان کے نقوش کا گہرا اثر ہوا اور ہماری دوستی ہوگئی۔ یہ اتفاق ہی تھا ، مگر اتفاق ، فیضان جتنا ہی حسین نکلا۔میں ہمیشہ سے محبت کرنے والوں کی قدر کرتا ہوں، طلعت فیضان کو پسند کرتی تھی، یہی بات میری اور فیضان کی دوستی کا محرک ثابت ہوئی۔وقت گزرا، بہت سا وقت گزرا ، رفتہ رفتہ طلعت تو کہیں غائب ہوگئی، مگر فیضان سے میری دوستی بہت گہری ہوگئی۔آج وہ ایک شادی شدہ مرد ہیں ، اور ان کی یہ شادی شدگی، میری زندگی سے ان کی بہت حد تک گمشدگی کا باعث بھی ہوئی ہے۔ لیکن طلعت ان کی بیوی نہیں ہےبلکہ ان کے ہی ایک اور بہت گہرے دوست کی بیوی ہے۔ یہ ایک طویل قصہ ہے، ایسا طویل قصہ، جس میں بہت سے داؤ پیچ ہیں۔مگر میں انہیں کم لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کروں گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/18207-2/">دس برسوں کی دلی — قسط نمبر 9</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/18207-2/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
