Laaltain

Manto

منٹو ۲۰۱۲ء

سال ۲۰۱۲ء بھی گزر گیا۔ پچھلی صدی کو اس کے وسط میں منٹو جیسا تیسا چھوڑ گیا تھا، ویسی ہی تاریک رہی، اور آنے والی صدی کا پہلا عشرہ ہی ہم نے اس سے بھی زیادہ سیاہ اور تاریک تر بنا لیا۔ حبس پہلے سے سوا ہوتا گیا اور کھڑکیاں ہوا بند ہی رہیں۔ منٹو […]

سید اسد فاطمی میں ابھی تک عمر کے اس حصے سے باہر نہیں آیا جب پیٹ میں آٹھ پہر بھوک کی جگہ خواہشیں بھڑکتی ہیں اور دسترخوانوں پر گرم کھاجوں کی بجائے خوابوں کی ہفت خواں سجا کر کھائی جاتی ہے۔ لیکن چار سال پہلے کی بات اور تھی، تب خواب پروری کے معاملے میں […]

فطرت کے قریب رہنے والے آدمی کی سرشت رہی ہے کہ وہ باہر کے موسم کی خوشگواری یا ناگواری سے سرخوشی یا غمی، سرمستی یا اداسی جیسے جذبے کشید کر کے اپنے اندر کے موسم کو بناتا بگاڑتا رہا ہے۔ موسموں میں بہار کا موسم معلوم تاریخ اور فنون میں اب تک خوشحالی، شادمانی، رقص […]

خیال و شعر کی دنیا میں جان تھی جن سے فضائے فکر و عمل ارغوان تھی جن سے وہ جن کے نور سے شاداب تھے مہ و انجم جنون عشق کی ہمت جوان تھی جن سے وہ آرزوئیں کہاں سو گئی ہیں میرے ندیم فیض جو برصغیر کے ترقی پسند ادب کا سب سے معتبر […]

زندہ دلوں کے شہر لاہور میں داخل ہونے سے پہلے، چلتن کے ویرانوں سے چل کر آئے ماما قدیر کو اتنا اندازہ تو ہونا ہی چاہیے تھا کہ بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی خبریں اتنی آسانی سے ذرائع پر بار نہیں پاتیں۔ ہم نے بھی کانوں کان سنا تھا اور اسے اہم خبر سمجھ […]

زشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے نظریاتی مباحثے کا سب سے اہم پہلو ملک میں تاریخ کی تعلیم، تشریح اور ترویج کا معاملہ رہا ہے۔ تاریخ کا ایک مکتب مذہبی قومی شناخت کی بنیاد پر جداگانہ تاریخ وضع کرنے کا حامی ہے، جبکہ کچھ مکاتب آزادانہ تحقیق کی بنیاد پر تاریخ کو ایک باقاعدہ سماجی […]

نام کتاب: سرخ میرا نام (My Name is Red) مصنف: اورحان پاموک (ترجمہ: ہما انور) صفحات: 456 قیمت: 780 ناشر: جمہوری پبلیکیشنز، 2 ایوان تجارت روڈ، لاہور پچھلے قرنوں کے جو احوال ہم تک پہنچتے ہیں، جسے ہم تاریخ کہتے ہیں، پہلی نظر میں ہمیں جنگاہوں میں مرنے مارنے والوں کے معرکوں کے ایک نقشے، […]

عراق و شام کا ہمارے تاریخی اور روحانی شعور پر بہت گہرا اثر ہے۔ صاحبانِ سلک و تصوف، صدیوں سے اپنے سینوں کو بغداد کیے ہوئے ہیں۔ رندوں کی محفل میں آبگینوں کی نازکی اور حلب کے میخانے لازم و ملزوم ہیں اور عزاخانوں میں کربلا اور نجف کی مٹی کو آنکھوں کا سرمہ کہا […]

ہاں مجھے اتنی خبر ہے مرے ہمدم مرے دوست زندگی اپنی جگہ مہمل و دشوار سہی کوئی دلجو ہو تو سو بار گزر سکتی ہے چاہِ نکبت میں بھی اس طور گزاری جائے بسترِ عیش پہ جیسے پسرِ شاہ کا خواب اک عصا ماریں تو یوں پھوٹ بہے جوئے شراب جنبشِ چشم پہ بجنے لگیں […]

گزشتہ ایک عشرے کی دستوری اصلاحات اور سیاسی گہماگہمیاں انفرادی آزادیوں کی تنزیل کی خواہش پر بندھے مرکزیت پسند سیلابی بند میں سوراخ پر سوراخ کرتی چلی جا رہی ہیں۔ اجتماعی سرگرمیوں کی یہ لہر اوپری سطحوں سے نیچے تک، مراکز سے مضافات تک اور ایک نسل سے دوسری نسل تک مسلسل پھیلتی نظر آ […]