<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>وقار عظیم, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/waqar-azeem/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:24:32 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>وقار عظیم, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گمنام شہید اور زندہ لاشیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d9%84%d8%a7%d8%b4%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d9%84%d8%a7%d8%b4%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 16 Sep 2015 13:02:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[شہید]]></category>
		<category><![CDATA[لاش]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12629</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ٹھیک پچاس سال پہلے، آج ہی کی تاریخ تھی، 16 ستمبر۔۔۔۔لاہور کی بی آر بی نہر میں ایک لاش بہہ رہی تھی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d9%84%d8%a7%d8%b4%db%8c%da%ba/">گمنام شہید اور زندہ لاشیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">ٹھیک پچاس سال پہلے، آج ہی کی تاریخ تھی، 16 ستمبر۔۔۔۔لاہور کی بی آر بی نہر میں ایک لاش بہہ رہی تھی۔<br>
65 کی جنگ چل رہی تھی، اور بی آر بی نہر پر پاکستانی فوج تعینات تھی۔ سول آبادی کو محفوظ جگہ منتقل کیا جا چکا تھا۔<br>
نہر پر تعینات برکی بریگیڈ کے توپچیوں نے اُس کے جسم کو خشکی پر منتقل کیا۔ جسم پر پاکستانی فوج کی وردی تھی اور رینک سے اندازہ ہواکہ جونئیر رینک کا کوئی فوجی افسر تھا۔ کسی قسم کا کوئی اور نشان ایسا نہ تھاکہ اُس کی یونٹ اور نام کا بھی علم ہو سکے۔</div>
<div class="leftpullquote">جب کسی طرح سے شناخت کا علم نہ ہو سکا تو توپ خانے کے کمانڈر کرنل محمد نواز سیال نے اپنی نگرانی میں اسی نہر کے کنارے تدفین کر دی، جس نہر کی حفاظت کرتے اس نے اپنی جان دی تھی</div>
<div class="urdutext">جب کسی طرح سے شناخت کا علم نہ ہو سکا تو توپ خانے کے کمانڈر کرنل محمد نواز سیال نے اپنی نگرانی میں اسی نہر کے کنارے تدفین کر دی، جس نہر کی حفاظت کرتے اس نے اپنی جان دی تھی۔<br>
نام تو معلوم نہ ہو سکا، لیکن اُسے گمنام شہید کا خطاب دِیا گیا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
ریڈیو پر پروگرام کرتے ایک بار ایک کالر نے فون کر کے مجھے گمنام شہید کے بارے میں بتایا تھا۔ میرے ذہن پہ یہ بات نقش ہو گئی۔ لیکن کوتاہی اور سستی کی وجہ سے کبھی کھوجنے کی کوشِش نہ کی۔ شاید بے حسی کا عنصر زیادہ تھا۔ اس سال 6 ستمبر کو کچھ بت توڑے اور ارادہ باندھا کہ گمنام شہید کی قبر ضرور ڈھونڈوں گا۔ اس راہ نوردی میں میرے دونوں بچے بھی میرے ہم راہ تھ۔محفوظ گیریژن سے سیدھی سڑک پہ چلتے پہلے میجرعزیزبھٹی شہید کی جائے شہادت پر پہنچ کر ہر ایک سے پوچھا کہ کیا گمنام شہید کے بارے میں کچھ معلوم ہے، لیکن کسی کو کچھ پتہ نہ تھا۔<br>
بس اتنا معلوم تھاکہ بی آر بی نہر کے کنارے موجود ہے۔بہرحال گاڑی دوبارہ سڑک پر ڈال کر نہر کی جانب رخ کیا۔<br>
ایک چوکی نظر آئی، رینجرز اہلکار وہاں موجود تھے۔پوچھنے پر بتایا کہ قبر چوکی کے اندر موجود ہے۔ اجازت لے کر، بچوں کو لے کر اندر گیا۔ قبر کے ارد گرد چھوٹی سی دیوار ہے اور اوپر سائبان بھی موجود ہے۔ایک اطمینان تو یہ تھا کہ منزل مل گئی، پھر خوش نصیبی پر بھی دل مطمئن تھا کہ شہید کے پاس آئے ہیں۔ایک جوان نے خوش ہو کر ہمیں درخت سے تازہ امرود توڑ کر دیے۔ خوشی کا اظہار بھی کیا کہ میں بچوں کو لے کر آیا ہوں۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
ارفع اپنے سوال سے کبھی کبھی مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ اب کے بار اس کے سوال بہت پیچیدہ تھے۔ ان کے گھر والوں، بیوی بچوں کے بارے میں سوال پوچھ رہی تھی۔<br>
میرا ذہن حسب معمول ایک تصوراتی دنیا کی بھول بھلیوں میں گم ہونے لگا۔<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
اس کا کوئی نہ کوئی گھر ہوگا۔ آنگن میں شاید اس کے دادا نے توت کا ایک درخت لگایا ہوگا، جس کی چھاوں ٹھنڈی ہوتی ہوگی۔ جب توت سے بھر جاتا تھا تو ایک چھوٹا سا پرندہ آتا تھا اور شور مچاتا تھا۔ دادی کہتی تھی کہ یہ توتی ہے۔ گھر کے آنگن میں ایک جانب کنواں تھا۔ گرمیوں میں اس سے ڈول بھر بھر کر پانی نکالا جاتا تھا اور قمیص اتار کر نہانا معمول تھا۔ کمروں کی کھڑکیاں آنگن میں کھلتی تھیں۔ صبح سویرے کیسی دھوپ آتی تھی۔ دیواروں پر بیٹھے کوے اور چڑیاں اس انتظار میں ہوتے تھے کہ کچھ چگنے کو ملے۔</div>
<div class="leftpullquote">بچپن کے کھیل، گنے توڑ کر کھانا، برسات میں بھیگنا، مولوی صاحب سے ایک ساتھ درس لینے جانا، پھر شرارتیں، لڑکپن، بھاگ دوڑ، پتنگیں اڑانا، چھوٹی موٹی لڑائیاں اور پھر دوستی۔۔۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ ہوں گے۔</div>
<div class="urdutext">اس گمنام شہید کے ماں باپ بھی ہوں گے۔ میں ایک بار رات ریڈیو سے دیر سے گھر آیا تھا تو والد کتنے پریشان ہوئے تھے۔ کبھی دیر ہو تو امی گھبرا جاتی ہیں۔ ماں باپ کا دل تو ویسے بھی اولاد کے لیے چڑیا جیسا ہو جاتا ہے۔ اس کے ماں باپ بھی تو ڈھونڈتے ہوں گے۔ جائے نماز پر سجدے میں پیشانی ہوتی ہوگی اور لمبی عمر کی دعائیں۔۔۔۔۔ ایک دعا تو قبول ہو گئی ہے ان کی، ان کا بیٹا زندہ ہے۔ شہید مرتے نہیں ہیں۔ کاش انہیں کوئی بتا دے۔ اب تک شاید ہی حیات ہوں، لیکن زندہ بھی ہیں تو کس طرح جی رہے ہوں گے۔<br>
اس کی شاید بیوی بھی ہو گی۔ سرتاج مورچے پر ہیں دعائیں کرتی ہوگی۔ رات کو نیند بھی سکون نہیں دیتی ہوگی۔ کبھی کبھی اپنے پہ غصہ بھی آتا ہوگا ایک بارشوہر کی فرمائش پوری نہیں کی تھی اور کھانے میں کچھ اوربنا دیا تھا۔ یہ سوچ کر کبھی ہلکے ہلکے مسکراتی بھی ہوگی کہ سرتاج نے تحفے میں سرمہ دانی دی تھی اور کہا تھا کہ آنکھیں کتنی روشن لگتی ہیں سرمہ کی کالک میں۔ ایک بار خواہ مخواہ ناراض ہو گئی تھی تو کیسے خود روٹھ کر بیٹھ گئےتھے، الٹا منانا پڑ گیا۔<br>
بستر کی سلوٹیں رت جگے کی ساتھی ہوں گی۔ لیکن کیا اسے معلوم ہے کہ اس کا شوہر اتنا عظیم انسان تھا کہ خود کو مٹا کر کئی سہاگنوں کی مانگ بھری رہنے دی۔<br>
ہو سکتا ہے اس کی کوئی بیٹی بھی ہو۔ بابا کے گلے لگ کر سوتی ہوگی۔ بابا سے ناز لاڈ اٹھواتی ہوگی۔ ماں شکایت کرتی ہوگی کہ ضدیں پوری کر کے بگاڑ رہے ہیں۔ جب چلنا سیکھا ہوگا تو گرتے وقت دیکھتی ہوگی کہ بابا اٹھائیں گے۔ اب بابا تو نہیں ہیں تو گرتی ہوگی تو کیا سوچتی ہوگی؟<br>
اگر اس کا بیٹا ہوگا تو باپ کے کھردرے سینے میں چھپی محبت کا اظہار بھی ہوتا ہوگا۔ ڈانٹ بھی ہوتی ہوگی لیکن پھر افسوس کہ کیوں ڈانٹ دیا۔ پہلی سالگرہ پر ایک گاڑی دی تھی تحفے میں، دوسرے دن ہی اس کے پرزے الگ ہو گئے تھے تو بیوی کو کہا تھا “دیکھنا بڑے ہوکر انجینئر بنے گا؟“ جب بھی بیٹے کو دیکھتا ہوگا تو اپنا بڑھاپا ایک لمحے کو نظر آتا ہوگا۔ بیٹا سہارا ہے۔ شاید بیٹا بھی باپ پر گیا ہوگا۔ بیٹے کو معلوم نہیں کہ لاہور کے کتنے بیٹوں کو محفوظ کر گیا اس کا باپ۔<br>
کیا پاکستان کی موجودہ نسل جو ہر وقت انگریز بننے کی کوشش میں لگی رہتی ہے، سوشل میڈیا اور موبایل ایپلیکیشن کی دنیا سے الگ ہو کر ایک باپ کی قربانیوں کو جان سکتے ہیں؟<br>
اس کے دوست بھی ہوں گے، یقیناً۔ بچپن کے کھیل، گنے توڑ کر کھانا، برسات میں بھیگنا، مولوی صاحب سے ایک ساتھ درس لینے جانا، پھر شرارتیں، لڑکپن، بھاگ دوڑ، پتنگیں اڑانا، چھوٹی موٹی لڑائیاں اور پھر دوستی۔۔۔ یہ سب اس کی زندگی کا حصہ ہوں گے۔ بچپن کا پرانا دوست، یاد تو کرتا ہوگا۔<br>
بہن بھائی بھی ہوں گے شاید۔ گھر میں سالن کی بوٹیوں پر لڑائی، بہنوں کو تنگ کرنا، بھائی پر رعب جمانا، بھائی کے ساتھ کپڑے ادل بدل کرنا، بہنوں کو سہیلیوں کے گھر لے کر جانا، بے وقت چائے کی فرمائش پر بہن کا ماں سے شکایت کرنا، ان سب لمحات کو بھلا کر اس نے ہم وطن بہن بھائیوں کے لیے جان قربان کر دی۔<br>
کیا اس کے ہم وطن بہن بھائیوں کو اس کا احساس ہے؟<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
ارفع کے سوالوں کے جواب دینا مشکل تھا میرے لیے۔<br>
ہم گمنام شہید کی قبر سے واپس آرہے تھے۔ ایک ٹولی لڑکوں کی موٹر سائیکلوں پر گزری۔ بے ہنگم انداز سے کرتب دکھا کر یوم دفاع کی پچاس سالہ تقریبات منانے کا انوکھا انداز تھا۔ بے وقوفوں کو کوئی بتائے جا کر کہ جس لاہور کی سڑکوں پر تم آوارہ گردی کر رہے ہو وہ ایک گمنام شہید اور اس جیسے کئی گمنام شہیدوں کی مرہوں منت ہے۔<br>
ایک دوست دہشت گردوں کے سرغنہ کو سوشل میڈیا پر شہید کہہ رہے تھے۔ یہ وہ سرغنہ تھے جو اعتراف جرم کر تے تھے کہ ہزاروں پاکستانیوں کے قتل میں اور وہ بھی مذہب کے نام پر قتل میں ملوث ان کی سدھائی ہوئی زندہ لاشیں سیدھی جنت سدھاریں گی جہاں بہتی ہوئی نہریں اور حور و غلمان ان کے منتظر ہوں گے۔<br>
میں سوچ رہا تھا کہ گمنام شہید نے کیوں اپنی جان دی؟ اس قسم کے پاکستانیوں کے لیے؟ کیا شرم کی تھوڑی سی بھی رمق ہم میں باقی ہے؟ ایک بار میری طرح تصور کی دنیا میں گمنام شہید کے گھر اور گھر والوں اور زندگی کا تصور کیجیے۔ کیا آپ ایسی قربانی دے سکتے ہیں؟ کبھی موقع ملے تو ضروراس چوکی پر جائیے گا۔ گمنام شہید وہاں آپ کو ملے گا۔ خوش باش، اطمینان سے بھرپور اور زندہ۔ جب وہ آپ سے ملے گا تو آپ ایک بار ہل کر ضرور رہ جائیں گے۔ اس کو شہید کی برکت سمجھ لیجیئے گا۔<br>
شہید زندہ ہوتے ہیں۔ زندہ احساس بھی رکھتے ہیں اور ہم لوگ زندہ لاشیں ہیں، زومبیز (Zombies)ہیں، احساس سے عاری۔ ہمارے لیےہلڑ بازی اور سوشل میڈیا پر طوفان ہی زندگی کا حاصل ہے۔آج گمنام شہید کی برسی ہے؟ اگر گمنام شہید نے کوئی سوال پوچھا اپنی برسی پر، تو کیا آپ کے پاس جواب ہوں گے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d9%84%d8%a7%d8%b4%db%8c%da%ba/">گمنام شہید اور زندہ لاشیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%85%d9%86%d8%a7%d9%85-%d8%b4%db%81%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d9%84%d8%a7%d8%b4%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جہاں تاریخ آپ کا استقبال کرتی ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%a7%d9%93%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%a7%d9%93%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 09 Jul 2015 10:42:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[لاہور شہر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11786</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">راہ نوردپر ایک الزام ماضی پرستی کا بھی ہے۔ یہ ماضی میں رہنے کا عادی ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%a7%d9%93%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92/">جہاں تاریخ آپ کا استقبال کرتی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">کہاں ڈھونڈوں ناصر کاظمی، فراز، منیر، مجروح، انشا، ساحر، فیض، جالب، اقبال اور میر کو ،کہ جن کے ہاں الفاظ ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل میں کھڑے رہا کرتے تھے</div>
<div class="urdutext">راہ نوردپر ایک الزام ماضی پرستی کا بھی ہے۔ یہ ماضی میں رہنے کا عادی ہے۔ پرانے گانے، پرانے زمانے، پرانے لوگ، پرانی یادیں، پرانی کتابیں، پرانی تصویریں، پرانی تحریریں، پرانی داستانیں، کیا یہ ماضی میں رہنا نہیں؟آج میں جینا نہیں آتا۔لیکن آخر ایسا کیوں ہے ؟ پرانے گیت جیسا رچاو اب کہاں ملتا ہے۔ کہاں ہیں نور جہاں، رفیع ، لتا، مہدی حسن، نیرہ نور، سلیم رضا جیسی آوازیں۔ کہاں سے لاوں او پی نیر، نوشاد، خورشید انور، غلام محمد، اقبال قریشی، مدن موہن، روشن، سہیل رعنا اور عطرے صاحب جیسے موسیقار جن کی ایک ایک دھن لازوال ہے۔ کہاں ڈھونڈوں ناصر کاظمی، فراز، منیر، مجروح، انشا، ساحر، فیض، جالب، اقبال اور میر کو ،کہ جن کے ہاں الفاظ ہاتھ باندھے حکم کی تعمیل میں کھڑے رہا کرتے تھے۔ کیا ایسے لوگ ملتے ہیں اب کہ جن کی محبت اور خلوص ان کے جانے کے بعد بھی کئی سال تک تر و تازہ ہے۔ با برکت لوگ وہی تھے، آج بھی ان کا ہالہ موجود ہے۔ حال میں کیا ہے ؟ اور مستقبل ۔۔۔ اس کا کیا کہوں؟ نظر نے وہیں جانا ہے صاحب جہاں منظر مل جائے۔ حال میں کچھ ملتا ہے تو غنیمت سمجھ لیتا ہے، اور راہ نورد کیا کرے؟<br>
سنا تھا کہ لاہور کے بھاٹی گیٹ کے اندر ایک خاندان آباد ہے کہ جس کی چوکھٹ پر تاریخ بال پھیلائے نظر آتی ہے۔ صحن کی کھڑکیوں سے گئے دنوں کی باتیں شرارتیں کرتی جھانک کر آنے والے کو دیکھتی ہیں، جیسے برسوں سے انتظار میں تھیں کہ کوئی آئے اور ان کو دیکھے۔ سنا تھا کہ اس حویلی کی چار دیواری میں سب سے بڑا ذاتی عجائب گھر ہے ۔ سنا تھا کہ ماضی اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ وہاں جلوہ گر ہے اور مہمان کے آنے پر ایسے خوش ہوتا ہے جیسے کوئی بوڑھا برسوں بعد اپنی اولاد کو دیکھے۔</div>
<div class="leftpullquote">سید سیف الدین فقیر کے بزرگ رنجیت سنگھ کے دربار میں اہم عہدوں پہ فائز رہے اور مسلمانوں کی مجموعی طور پر حکومت میں نمائندگی کی</div>
<div class="urdutext">یہ خاندان، فقیر خاندان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سید فقیر الدین کے خاندان کی روایت ہے کہ وہ اپنے ریتی رواج سے جڑے رہے ہیں اور یہی روایت ہمارے سامنے ایک ایسے معجزے کی صورت موجود تھی جس نے تاریخ کے کئی بند دریچوں کو کھولا۔ بس ان دریچوں سے کوئی جھانکنے والا چاہیئے۔<br>
بھاٹی گیٹ سے کوئی آدھ کلومیٹر گلیوں میں گھومتے آپ اس گھر کے سامنے آجاتے ہیں جہاں تاریخ اور فنون کا ایک نادر امتزاج آپ کو گھیر لیتا ہے۔ سید سیف الدین فقیر ہمارے میزبان تھے۔ اس بات پر خائف اور افسردہ کہ موجودہ پاکستانی نسل اپنی روایات، فنون، تہذیب اور زبان سے دور ہوچکی ہے۔وہ اس آدھی تیتر آدھی بٹیر نسل کے مستقبل سے بھی پریشان دھائی دیے۔ حاضرین کو دیے لیکچر میں تاریخ اور فن کے ساتھ ساتھ اس بات پر زور تھا کہ اپنے آپ کو پہچانو۔<br>
ہمارے میزبان اپنے خاندان کا شجرہ اُچ شریف کے ولی کامل جناب جہانیاں جہاں گشت سے بتاتے ہیں۔ سید سیف الدین فقیر کے بزرگ رنجیت سنگھ کے دربار میں اہم عہدوں پہ فائز رہے اور مسلمانوں کی مجموعی طور پر حکومت میں نمائندگی کی۔ بہت سے تحائف اور نوادرات اسی دور سے خاندان میں چلے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ مغل اور انگریز دور کے بھی کئی نوادرات موجود ہیں۔ لاہور شہر کے قدیم مسلمان خاندانوں میں سے ایک ان کا خاندان بھی ہے۔<br>
سیڑھیاں چڑھ کر ایک ہال نما کمرہ ہے۔ کمرہ میں داخل ہوں تو سامنے ایک عورت کا مجسمہ آپ کی توجہ حاصل کرتا ہے۔ عورت انگریزی کوٹ پہنے بائیں جانب اوپر دیکھ رہی ہے، جیسے سورج کے ڈھلنے کا منظر اور گھر کو لوٹتے پنچھی دیکھ کر سوچ میں ڈوبی ہو۔ ایسا کیا ہے اس منظر میں، ہر کوئی لوٹتے پرندوں کو دیکھ کر محو حیرت کیوں ہو جاتا ہے ؟ جب سوچوں تو کئی جواب ملتے ہیں، نہ معلوم کون سا درست ہے ؟
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-2.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11790" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-2.jpg" alt="picture 2" width="319" height="479"></a></p>
<p>تصاویر اور منی ایچرز سے مزین دیواریں نظروں کو جکڑ لیتی ہیں۔<br>
ایک تصویر جو پندرہ سال میں مکمل ہوئی، سب کی توجہ کا مرکز تھی۔ ایک نواب صاحب تشریف رکھتے ہیں اور مصور نے ایسی تصویر کشی کی ہے، کہ اصل کا گماں ہوتا ہے۔ اس قدر مفصل تصویر کشی پرمصور کے پاتھ چوم لینے کو دل چاہتا ہے۔ منہ میں پان کی پیک، لباس کی خراش تراش، پاوں میں کھسہ اور جرابیں جیسے ابھی اتاری ہوں اوران کا نقش جیسے اپنی چھاپ پاوں پہ چھوڑ گیا تھا۔</p></div>
<div class="leftpullquote">روپ متی جب گاتی تھی تو جنگل کے چرند پرند اس کی مدھر تان سننے آ پہنچتے۔ روایت ہے اکبر تک شہرت پہنچی تو اس نےسوچا کہ ایسی باکمال مغنیہ اس کے دربار میں کیوں نہیں؟</div>
<div class="urdutext">ایک جانب ابراہیم ادھم کی شبیہ موجود ہے۔ تین فرشتے پر پھیلائے انعام و اکرام لیے کھڑے ہیں، ایک مصروف پرواز ہے۔ اور ولی کامل فقیری اختیار کیے ایک درخت کے نیچے موجود ہیں۔ یہ فقیری بھی کیا شے ہے، امیری چھوڑ کر فقیری میں نام پیدا کرنے کا تو علامہ بھی کہہ گئے تھے، کہ درویش کو تاج سر دارا پہناتی ہے۔ تصویر دیکھی، لگا علامہ اقبال کے شعر کو مصوری میں ڈھالا گیا ہے۔ سچ کہا ہے کسی نے ایک تصویر کئی الفاظ سے زیادہ قوت گفتار رکھتی ہے۔<br>
ایک جانب باز بہادر اور روپ متی سواریوں پر مصروف سفر دکھائی دیے۔ روپ متی جب گاتی تھی تو جنگل کے چرند پرند اس کی مدھر تان سننے آ پہنچتے۔ روایت ہے اکبر تک شہرت پہنچی تو اس نےسوچا کہ ایسی باکمال مغنیہ اس کے دربار میں کیوں نہیں؟ نہیں معلوم تھا کہ روپ متی تو اپنے سر اپنی تانیں تو باز بہادر کے نام کر چکی تھی۔ سازشیں ہوئیں اور روپ متی کو پانے کی کوشش جنگ میں تبدیل ہوئی۔ کہتے ہیں اکبر کا دیرینہ سالار آدم خان روپ متی کہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ روپ متی نے زہر کھا کر اس کے ارادے ناکام کر دیے۔ خود مر گئی لیکن محبت امر ہو گئی۔ یہ دکھ بھری داستان نہ جانے اور کتنے موڑ لیے ہو گی مگر میں یہی سوچتا رہا، ہر لوک داستان آخر ناکام کیوں ہوتی ہے؟<br>
‘کس نے کہا محبت ناکام ہوتی ہےـ’ ایک جانب سے آواز آئی۔ مڑ کر دیکھا، ایک عورت کا سفیر مجسمہ، مجھے جواب دے رہا تھا۔ عورت کی کہنی ایک مٹکے پر ٹکی ہوئی تھی، ساری توجہ کلائی پر موجود موتیوں کی مالا پر تھی۔ عورت کی آنکھیں مسکرا رہی تھیں۔ دیوانے سے سرگوشی کی، جیسے کوئی اور سن نہ لے۔ ‘لوگ مار تے صرف محبت کے اسیروں کو ہیں، لیکن محبت کہاں ختم ہوتی ہے۔ یہ تو پانی ہے اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ لاوا ہے یہ، پھوٹ ہی پڑتا ہے۔ لوک داستان اگر ناکام ہوتی تو کوئی ان کو نہ دہرا رہا ہوتا۔ ان کا مقبول ہونا ہی ان کی کامرانی ہے۔’ میں حیران تھا، دیکھنے کا یہ رخ ایک پتھر کی مورت کو ہے اور جیتے جاگتے انسانوں کو نہیں۔</div>
<div class="urdutext">میں پلٹا، ایک اور بت میرے سامنے تھا۔ یہ بھی ایک عورت کا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں جیسے کسی کے انتظار میں پتھرا گئی ہوں۔ آنکھوں میں دید کی امید جیسے مایوسی اور حسرت کی صورت بن گئی ہو۔ میں دیر تک آنکھوں کو دیکھتا رہا۔ ایسا انتظار۔ مجھے محسوس ہوا، شاید ایک قطرہ آنکھ سے نکلا اور گالوں پر اپنے نشان چھوڑ گیا۔ ایسا لگا لب تو خاموش رہے مگر اداسی سب کہہ گئی ان نگاہوں سے۔ شاید یہ راز بہت کم لوگوں کو پتہ چلا ہوگا۔ میں کچھ سننا نہیں چاہتا تھا، وہ داستان جو تھوڑی تھوڑی سمجھ آرہی تھی مجھے۔ میں پلٹ گیا۔
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-3-Mobile.jpg"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11791" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-3-Mobile.jpg" alt="picture 3 (Mobile)" width="320" height="480"></a></p>
<p>بدھا، کرشن، شیو جی اور پاروتی اور دیویوں کے بت میرے سامنے موجود تھے۔ بدھا حسب معمول مراقبہ کے آسن میں موجود، انگلیاں اور انگوٹھے ایک مندرہ بناتے ہوئے۔ انسانوں کے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے صنم خدا بنائے گئے۔ یہ قسمت بھی کسی خاص پتھر ہی کی تھی کہ اس کا تراشا گیا اور عبادت کے قابل ٹھہرایا گیا، کہیں وہ قدموں میں آیا ہوتا تو ٹھوکر ہی لگتی اس کو۔<br>
میں نے بدھا کے ایک مجسمے کو اپنے کیمرے کے ویو فائنڈر سے فوکس کیا۔ سوال دل میں آیا کہ پوچھوں سرکار آپ نے تو ساری زندگی امن و آشتی کا پیغام دیا یہ آپ کے پیروکاروں کو کیا ہو گیا؟ مجھے محسوس ہوا بت تڑپ کر رہ گیا میرے طنز پر، کہنے لگا ‘تم جس عظیم ترین شخصیت کے ماننے والے ہو ان کے ماننے والے کیا ان کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں؟’ میں اس حاضر جوابی پر چکرا کر رہ گیا۔</p>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-1.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11792" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/07/picture-1.jpg" alt="picture 1" width="718" height="479"></a></p>
<p>بدھا کا بت میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ‘گھبراو نہیں ہر مذہب امن کا ہی درس دیتا رہا ہے، لیکن اس مذہب کے پیروکار خود ٹھیکیدار بن جاتے ہیں اور اپنی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں۔’ میں سوچ میں پڑ گیا۔ واقعی بنی اسرائیل کی یہ تعلیمات تو نہ تھیں جس پر ان کے نام لیوا اور آل ہونے کے دعویدار عمل پیرا ہیں۔ کیا عیسیٰ ؑ کی یہ تعلیمات تھیں کہ صلیبی جنگوں کا نام لے کر ملکوں کو تہہ تیغ کر دیا جائے؟ ہر گز نہیں۔ کیا مذہب کے نام پر قتل اس مذہب کی تعلیمات کو بد نام نہیں کرتا۔ یہ مذہب کے ٹھیکیدار اپنی دکانداری کے لیے مذہب کا نام استعمال کرتے تو ہیں، لیکن مذہب کی روح کتنی گھائل ہوتی ہے، کوئی نہیں سوچتا۔</p></div>
<div class="leftpullquote">بدھا کا بت میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ‘گھبراو نہیں ہر مذہب امن کا ہی درس دیتا رہا ہے، لیکن اس مذہب کے پیروکار خود ٹھیکیدار بن جاتے ہیں اور اپنی تعلیمات کو بھول جاتے ہیں</div>
<div class="urdutext">میں اسی کشمکش میں مبتلا دوسرے حصے میں پہنچا، جہاں نت نئے رنگ اور نقش کے سکے موجود تھے۔ برتن جن میں بادشاہ تناول کیا کرتے تھے، خاص بنے ہوئے کہ ذرا سی زہر کی آمیزش ان کو توڑ کر رکھ دیتی۔ کون لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ پہلے زمانے کے لوگ جاہل تھے۔ خلعت فاخرہ دیکھی، اصل جامہ وار کا بنا ہوا۔ لباس بتا رہا تھا کہ میں تو موجود ہوں لیکن مجھے پہننے والے کہا ں ہیں، نہیں معلوم۔ بس میں ہوں، اس غرور کی یادگار جو میرے زیب تن کرتے بادشاہ کا طرہ امتیاز تھا۔ یقیناً یہ سرگوشی ان خواتین نے بھی سنی ہوگی جو اپنے ڈیزاینر ویئر کا ڈھنڈورا پیٹنے کا کوئی موقع جانے نہیں دے رہی تھیں۔<br>
فقیر خانہ کے ان کمروں میں تاریخ اور فنون کا وہ حسین امتزاج ملتا ہے، جو صاحبان ذوق کی پیاس کو بجھانے کی کوشش میں اور بھڑکا دیتا ہے۔ راو نورد کے نزدیک ایک منی ایچر اور تصویر کو سر سری دیکھنا اس کے شایان شان نہیں، تسلی سے دیکھنا اور پھر اس کے خالق کو داد دینا شاید کسی حد تک خراج تحسین بنتا ہے لیکن حق ادا نہیں ہوتا۔<br>
دنیا سے متاثر ہونے والی نسل کو میرا چیلنج ہے کہ اپنے تخلیق کاروں کی محنت اور فن کو کم از کم جاننے کی کوشش تو کرے۔ ہمارا ماضی اس قدر زوال پذیر نہیں کہ اسے کھوجا ہی نہ جائے البتہ یہ فتویٰ ضرور لگا دیا جاتا ہے کہ ہمارے ماضی اور ہمارے پلے ہے کیا؟ واقعی جب اس طرح کے احساس کمتری اور محرومی کے شکا رلوگ ہمارے ہاں دانشور کہلائیں گے تو ہماری اجتماعی دانش کے پلے واقعی کچھ نہیں رہے گا۔ افسوس ہنس کی چال چلنے میں ہم لوگ اپنی چال بھول گئے اور ایک ابہام کا شکار ہجوم بن گئے ہیں۔ وقت ملے تو اس ابہام اور اس ہجوم سے نکل کرفقیر خانہ جائیے وہاں تاریخ آپ کا استقبال کرے گی اور ہمارے فن کاروں کی نر مندی آپ کو بھی ماضی کا اسیر بنا لے گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%a7%d9%93%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92/">جہاں تاریخ آپ کا استقبال کرتی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%db%81%d8%a7%da%ba-%d8%aa%d8%a7%d8%b1%db%8c%d8%ae-%d8%a7%d9%93%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%da%be%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%da%be%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%da%be%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%da%be%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 19 May 2015 11:43:10 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11240</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اندرون لاہور کی گلیوں میں راہ نوردی کرتے، لوگوں کے چہروں کے علاوہ قدیم حویلیوں اور مکانوں کے جھروکے اور کھڑکیاں کسی بھی عکاس کی نگاہ کو اپنی جانب ملتزم کرسکتے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%da%be%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%da%be%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اندرون لاہور کی گلیوں میں راہ نوردی کرتے، لوگوں کے چہروں کے علاوہ قدیم حویلیوں اور مکانوں کے جھروکے اور کھڑکیاں کسی بھی عکاس کی نگاہ کو اپنی جانب ملتزم کرسکتے ہیں۔ میرا دوست کہتا ہے، لوگوں کے چہرےبہت کچھ کہتے ہیں، چہرے اپنے اندر ایک کہانی چھپائے ہوتے ہیں۔ میں اتنا قابل تو نہیں کہ ایک ماہر فوٹو گرافر کی بات سے اختلاف کروں لیکن کہانی تو جھروکے بھی بہت سناتے ہیں،کم از کم میں جب اپنے ویو فائنڈر سے کسی جھروکے یا کھڑکی کو فوکس کرتا ہوں، تو ہر جھروکا مجھ سے ایک آدھ سرگوشی کرتا ہےاور میں کوئی نہ کوئی تانا بانا اپنے خیال میں بننا شروع کردیتا ہوں۔</div>
<div class="leftpullquote">کہانی تو جھروکے بھی بہت سناتے ہیں،کم از کم میں جب اپنے ویو فائنڈر سے کسی جھروکے یا کھڑکی کو فوکس کرتا ہوں، تو ہر جھروکا مجھ سے ایک آدھ سرگوشی کرتا ہےاور میں کوئی نہ کوئی تانا بانا اپنے خیال میں بننا شروع کردیتا ہوں</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">جھروکے نے دیوانے کو پہچان لیا</div>
<div class="urdutext">میرا دوست کہتا ہے میں فریب نظر کا شکار ہوں، سوچتا بہت ہوں لیکن جو سرگوشیاں میں سنتا ہوں، ان میں حقیقت ہے۔ دہلی دروازے سے گزرتے ایک جھروکا میری نظر میں سمایا۔ اجاڑ سا یہ جھروکا اداس تھا، اپنے مکیں ڈھونڈتا تھا۔ کبھی کسی نے اس جھروکے سے شہر لاہور کو دیکھا ہوگا۔ میں نے اس جھروکے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ میرا شکریہ ادا ہوا، کسی نے اس مکان کے اندھیرے جھروکے کو دنیا کو دکھانے کا ارادہ کیا ہے۔<br>
فوٹو واک میں بہت لوگ تھے لیکن ایک راہ نورد جھروکوں کی کہانی کی تلاش کر رہا ہے۔ ایک تنگ گلی میں راہ نورد حیران تھا، ایک کھڑکی کھلی تھی جب کہ کوئی مکیں نہیں تھا اس گھر میں۔ کبھی کسی کی روشن آنکھوں نے اس کھڑکی میں دیا جلایا ہوگا، کہ کوئی راہ گیر، مسافر ٹھوکر نہ کھائے، دیا تو بجھ گیا، مگر روشنی ابھی بھی باقی تھی صدقہِ جاریہ اسی کو کہتے ہیں شاید۔</div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/12.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11247" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/12.jpg" alt="1" width="800" height="1200"></a></p>
<div class="urdutext">ایک اور جھروکا میرا راستہ روکے کھڑا تھا، شریر جھروکا۔ کہنے لگا، اس کے کمرے میں کوئی شریر مکین رہتا تھا۔ کوئی آوارہ گرد ادھر سے گزرا۔ مکین نے تو شرارت کی تھی، مگر آوارہ گرد بہت خوش فہم تھا۔ مکین کسی اور دیس سدھار گیا، آوارہ گرد اسی دیس میں پردیسی ہوا اور لوگ اسے دیوانہ کہنے لگے۔<br>
سچ کہہ گئے مرزا غالب،<br>
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی۔<br>
دل چاہا کہ جھروکے سے پوچھوں ، تو کیوں اتنا شوخ بنا پھرتا ہے، کسی کا خرد کو خیر باد کہنا تیری نزدیک شرارت ہے؟</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">روشن دانوں سے ہدایت کی صدا آتی ہے</div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/21.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11248" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/21.jpg" alt="2" width="800" height="533"></a></p>
<div class="urdutext">جہاں ان دنوں کشمیری بازار شروع ہوتا ہے وہیں ایک بوڑھا نیک روشن دان میرے پاس لاٹھی ٹیکتاآیا بتانے لگا کہ کس طرح اس نے مسجد وزیر خان سے آنے والی ازان کی صداوں کو ایک گمراہ تک رسائی دی، کیسے صبر سے دن رات وہ یہ فریضہ ادا کرتا رہا اور ایک دن وہ گم راہ بدل گیا۔ کتنا مطمئن تھا وہ روشن دان،اس کے لال نیلے شیشے گرد آلود ہونے کے باوجود کتنے روشن تھے۔ اس سے زیادہ وہ بتانے پہ تیار نہیں ہوا، شاید ریاکاری کا خوف تھا کہ کہیں ساری محنت اکارت نہ ہو جائے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">مغرور جھروکے کی توبہ</div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/41.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11250" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/41.jpg" alt="4" width="800" height="1200"></a></p>
<div class="urdutext">بادشَاہی مسجد کے پیچھے ایک تھڑے پہ تھوڑی دیر رکا، ایک کمزور، قدیم جھروکا میرے ساتھ آ بیٹھا۔ میں نے پانی کی پیشکش کی۔ بہت پیاسا تھا۔ وہ ایک امیر اور مغرور راجہ کی حویلی کا حصہ تھا جواپنی دولت کے نشے میں دھت رہتا تھا۔صحبت کا اثر جھروکے پر بھی ٹھہرا اوروہ بھی اپنی خوبصورتی پہ نازاں رہنے لگا۔ ایک دن امیرمشروبِ ممنوع کے نشے میں دھت تھاکہ کسی فقیر نے صدا دی۔ راجہ نے دولت کے نشے میں اس غریب کو برا بھلا کہا اور اسی جھروکے سے اوندھے منہ فقیر کے سامنے گر گیا۔جھروکے نے جھر جھری لی اور کہنے لگا اس دن معلوم ہوا سب سے برا نشہ تکبر کا ہے۔اس کے بیٹوں نے وہ جھروکا بھی بند کرا دیا۔<br>
اسی دوران ایک بچہ ایک سیلفی لیتی خاتون سے ٹکرایا، محترمہ نے زاویہ بگڑنے پر بچے کو جھاڑ دیا۔ میں نے چاہا یہ کہانی وہ بھی سنتی لیکن تب تک پیاسا جھروکا پیاس بجھانے کہیں اور جا چکا تھا۔</div>
<div class="leftpullquote">ایک بوڑھا نیک روشن دان میرے پاس لاٹھی ٹیکتاآیا بتانے لگا کہ کس طرح اس نے مسجد وزیر خان سے آنے والی ازان کی صداوں کو ایک گمراہ تک رسائی دی، کیسے صبر سے دن رات وہ یہ فریضہ ادا کرتا رہا اور ایک دن وہ گم راہ بدل گیا</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">جو رنگ رنگیا گوڑھا رنگیا</div>
<div class="urdutext">لوہاری دروازے میں ایک باوقار بزرگ کھڑکی میرے پاس آئی اس کے پاس سنانے کوایک با وقار عورت کی کہانی تھی جوکسی دور پار کے شہر سے بیاہ کے لاہور آئی تھی۔ اس کے لباس کی مناسبت سے کھڑکی پر لال رنگ کا پردہ ڈالا گیا تھا۔ جب پی سے پہلی ملاقات تھی تو رازدان کھڑکی نے لال پردہ سے منہ ڈھانپ لیا تھا۔ راز و نیاز کی باتیں وہ عورت اس کھڑکی سے کرتی تھی۔ دونوں سہیلیاں تھیں۔ پھر جب وہ عورت سارے جگ کے پی سے ملنے اپنے پیا کا گھر چھوڑ گئی تو اسی کھڑکی پر کالا پردہ ڈالا گیا۔ اس وفا شعار عورت کے جانے پر اس کا ہم سفر اکیلا کھڑکی سے دکھ درد بانٹتا۔ پھر وہ بھی چلا گیا۔ محبت جہاں مکمل کرتی ہے وہاں ادھورا پن بھی چھوڑ جاتی ہے۔
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/51.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11251" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/51.jpg" alt="5" width="800" height="1200"></a></p>
<p>دل کی حویلی پر مدت سے<br>
خاموشی کا قفل پڑا ہے<br>
چیخ رہے ہیں خالی کمرے<br>
شام سے کتنی تیز ہوا ہے<br>
دروازے سر پھوڑ رہے ہیں<br>
کون اس گھر کو چھوڑ گیا ہے</p></div>
<div class="urdutext">بزرگ کھڑکی کی لکڑی بوڑھی ہونے کے باوجود کتنی دلنشیں لگ رہی تھی۔<br>
اندرون لاہور کی گلیوں میں راہ نوردی کرتے کرتے میں کئی کہانیاں میں سن چکا تھا۔ میرا کیمرہ کلک کرتا رہا۔ میں دیکھتا رہا اور سنتا رہا۔ وہ لوگ چلے گئے تھے، جو کبھی ان جھروکوں سے جھانکتے تھے۔ وہ لوگ کھو چکے تھے، جو ان کھڑکھیوں کے پٹ کھولتے تھے۔ان جھروکوں کی کہانیاں بھی تو ان مکینوں کی کہانیاں ہی تھیں، جو ان میں قیام کر چکے تھے، ہر کسی کی اپنی کہانی تھی۔ میرا دوست صحیح کہتا تھا، ہر چہرہ کوئی نہ کوئی کہانی کہتا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">راز و نیاز کی باتیں وہ عورت اس کھڑکی سے کرتی تھی۔ دونوں سہیلیاں تھیں۔ پھر جب وہ عورت سارے جگ کے پی سے ملنے اپنے پیا کا گھر چھوڑ گئی تو اسی کھڑکی پر کالا پردہ ڈالا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">رفتگاں کی یاد</div>
<div class="urdutext">آپ جب بھی ان گلیوں سے گزریں، تو ان جھروکوں سے حال چال ضرورپوچھیے گا۔ یہ روشندان، کھڑکیاں، جھروکے آپ کے پاس آئیں گے۔ آپ ان سے دوستی کر یں، ان کی باتیں سنیں۔ یہ ہم سے کچھ کہنا چاہتے ہیں،ان کی سنیے۔</div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/61.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-11252" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/05/61.jpg" alt="6" width="800" height="533"></a></p>
<div class="urdutext">میں گیا تھا اس گلی میں<br>
کئی خواہشیں پہن کر<br>
وہ جو تھیں بہت شناسا<br>
اُنہی کھڑکیوں سے اب کے<br>
کسی رخ کی روشنی سے<br>
نہ چراغ کوئی لرزا<br>
نہ کوئی ستارا چمکا<br>
نہ ہی پھول کوئی آیا<br>
دل منتظر کی جانب<br>
نہ اٹھائی کوئی چلمن<br>
کسی دستِ پرُ حنا نے<br>
نہ صبا کی دستکوں سے<br>
کوئی پردہ سرسرایا<br>
کسی خواب سے الجھ کر<br>
نہ تو چوڑیاں ہی کھنکیں<br>
کسی آنکھ میں سمٹ کر<br>
نہ ہی چاند مسکرایا۔۔!<br>
میں گیا تھا اس گلی میں<br>
کئی خواہشیں پہن کر!!</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%da%be%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%da%be%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/">جھروکوں سے جھانکتی کہانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%da%be%d8%b1%d9%88%da%a9%d9%88%da%ba-%d8%b3%db%92-%d8%ac%da%be%d8%a7%d9%86%da%a9%d8%aa%db%8c-%da%a9%db%81%d8%a7%d9%86%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اللہ نے ہماری بات سن لی ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%86%db%92-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%86-%d9%84%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%86%db%92-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%86-%d9%84%db%8c-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 24 Jan 2015 12:25:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اللہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9104</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اتنی حسین جگہ میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دیکھنا تو دور کی بات، میں نے تو کبھی اپنے خواب و خیال میں بھی ایسی جگہ نہیں سوچی تھی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%86%db%92-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%86-%d9%84%db%8c-%db%81%db%92/">اللہ نے ہماری بات سن لی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اتنی حسین جگہ میں نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دیکھنا تو دور کی بات، میں نے تو کبھی اپنے خواب و خیال میں بھی ایسی جگہ نہیں سوچی تھی۔ قدموں کے نیچے ایسا مخمل جیسا سبزہ تھا کہ گمان ہوتا تھا کہ پاوں زمین پر نہیں، ہوا میں ہیں۔ ایسی دلکش وادی اور بہتے ہوئے دودھیا چشمے اور مہکی فضا کہ دل جھوم جھوم اٹھتا تھا،ہوا جیسے مُشک اور عنبر کو چھو کر آرہی تھی،موسم ایسا حسین کہ کیا بیان کیا جائے۔<br>
اچانک خیال آیا کہ دل و دماغ کتنے پر سکوں ہیں، کسی قسم کی کوئی پریشانی تو دور کی بات، کسی دکھ کسی رنج اور کسی مصیبت کاشائبہ تک نہ تھا۔ایسا سکون، ایسا منظر، ایسی دلکشی۔<br>
یا ﷲ یہ کوئی جنت تو نہیں۔ دنیا تو ایسی ہو نہیں سکتی۔ میں کیا واقعی جنت ؟؟؟<br>
پر میں ؟ جنت؟ دل میں خیال آیا اگر جنت میں ہوں تو سوالوں کی بے چینی کیوں؟ جنت میں توکوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔<br>
“تم جنت میں ہی ہو، مگر مکین نہیں ہو” آواز، وہ جادو جگاتی ہوئی آواز، میرا جواب دے گئی۔<br>
میں نے دیکھا ایک انتہائی حسین شخص میرے سامنے موجود ہے، خوبصورت لباس، ہلکا سنہری، روشن وجود ۔<br>
“تمہاری دعا قبول ہوئی ہے، جنت دیکھنے کی، کسی قبولیت کی گھڑی میں” ایسی سریلی آواز جیسے مدھ بھری گھنٹیاں بج رہی ہوں۔<br>
“پہلے کسی قابل ہو تو یہاں کے مکین بنو گے” وہ بندہ نہیں کوئی فرشتہ تھا شاید، یا شاید فرشتوں جیسا۔<br>
“کیا آپ فرشتے ہیں؟” پوچھ ہی لیا میں نے۔<br>
“جنت میں انسان ہی آتے ہیں، فرشتوں کا کوئی امتحان نہیں ہوتا، جنت تو امتحان سے گزرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ ”<br>
“میں غلمان ہوں، خادم ہوں جنتیوں کا”<br>
“کس کے خادم ہو، کس جنتی کے؟”<br>
“تمہارے ہی ملک کے ہیں، بچے ہیں، ابھی چند دن ہی پہلے آئے ہیں، کچھ ان کی استانیاں ہیں، کچھ اور لوگ بھی ہیں۔جنت میں بڑا استقبال ہوا ہے ان کا، آگے پیچھے ہی آئے ہیں، کل کوئی 145 شہید ہیں ،سب کے سب رشک آور مقام والے۔”<br>
میں چونکا، ایک سو بیالیس، شہید، آگے پیچھے، میرے ملک سے۔<br>
“پشاور سے آئے ہیں، ہیں نا؟” میں نے پوچھا۔ “میری ملاقات کروا دو خدا کے لیے، کسی ایک سے تو کرا دو۔”<br>
میں بے قرار ہو گیا اور اس بے قراری نے مجھے یقین دلا دیا کہ میں جنت کا مکین نہیں ہوں۔<br>
“کون ہو تم؟” ایک اور جھنکار جیسی آواز آئی۔<br>
میں نے مڑ کے دیکھا، ایک نوجوان، باریک سی داڑھی، روشن وجود، بے حد حسین فیروزی سا لباس، بال جیسے موتی ٹپک رہے ہوں، چہرہ ایسا روشن کہ چاند بھی شرماجائے۔اسے چھو کر آنے والی ہوا عطر سے بوجھل تھی ۔<br>
“تم میرے ملک کے ہو، اس لیے ملنے چلا آیا۔ ہماری کوئی چاہت رد نہیں ہوتی یہاں۔”<br>
میں ہکا بکا رہ گیا، جنت کے بعد جنتی دیکھ لیا۔ لگا میری زبان گنگ ہو گئی ہے۔<br>
“میں شہید ہوں، پشاور سکول کا،میں کرسی کے پیچھے چھپا تھا جب قاتل نے پوچھا تھا کون کون فوجی کا بیٹا ہے؟ میں کھڑا ہو گیا، اس نے میرے سینے پہ گولی چلائی اور جس وقت میری جان نکلی، ایسی لطافت ملی مجھے نہ پوچھو۔ میں نے وہ مقام پا لیا جس کی لوگ تمنا کرتے تھے۔ معلوم ہے ہم سب یہاں موجود ہیں، میرے دوست، استاد سب۔ بس گھر والے نہیں ہیں، ماں باپ دنیا ہی میں ہیں ہمارےاور کچھ دوست بھی۔”</div>
<div class="leftpullquote">اور وہ جو جنت کی آرزو میں اسلام کے نام پر خون بہاتے تھے، ان میں سے کوئی ایک بھی یہاں نہیں، سنا ہے وہ سب جہنم کے کتے قرار پائے ہیں۔”</div>
<div class="urdutext">“ہمارا اتنا وسیع محل ہے، جواہر جڑے ہوئے ہیں، جو مانگو ملتا ہے۔ اتنی عیش، اتنا آرام، نہ کوئی پیاس، نہ بھوک، نہ درد نہ خوف۔” وہ بولتا گیااور میں تو جیسے اپنا آپ ہی بھول گیا تھا۔<br>
“ہمیں کوئی فکر نہیں ہے، اور بھی معصوم لوگ ہیں یہاں جن کا دنیا میں استحصال ہوتا رہا، جنہیں دھتکارا جاتا رہا، ٹھکرائے ہوئےوہ سب لوگ جنہوں نے دنیا میں کسی کا حق نہیں مارا یہاں ہیں۔ پتہ ہے یہاں مینا بازار، پریڈ لین، ڈمہ ڈولہ، مون مارکیٹ اورہر دھماکے اور سانحے کی زد میں آنے والے بھی ہیں، وہ سب جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔ کچھ کی تو لاشیں بھی نہیں مل سکی تھیں، لیکن یہاں وہ عیش میں ہیں۔”<br>
“اور وہ جو جنت کی آرزو میں اسلام کے نام پر خون بہاتے تھے، ان میں سے کوئی ایک بھی یہاں نہیں، سنا ہے وہ سب جہنم کے کتے قرار پائے ہیں۔“میری ہوش اڑنے لگے۔ قدم کانپنے لگے۔<br>
غلمان بولا ‘جان لینے والے جہنم میں ہیں نچلے درجوں میں اور یہ معصوم جنت میں، بہت خاص مقام ہے ان کا یہاں، لیکن تم کیا جانو۔تم تو ان معصوموں کی گفتگو برداشت نہیں کر پا رہے۔ ان کا سامنا کرنا مشکل ہے نا؟“میں سوچنے لگا کہ جب وہ سب کچھ جانتا تھاتو پوچھ کیوں رہا تھا؟ شرمندہ کیوں کر رہا تھا۔<br>
“دیکھو، شرمندگی بری شے ہے۔ یہ لوگ تو جنت میں آگئے ہیں، نیّا پار لگ گئی ہے ان کی۔ اپنا سوچو۔ ابھی تو ان معصوموں نے گریبان نہیں پکڑا تمہارا۔ کیا حال ہو گا تمہارا اگر؟؟؟” غلمان بولا۔<br>
میں نے ایک نظر اٹھا کر نوجوان کو دیکھنا چاہا۔ جب کمینے گولیاں مار رہے تھے تو کلمے کس منہ سے پڑھ وارہا تھے ان بچوں کو؟ لیکن میں تو قاتل نہیں ہوں، نہ مدد کی کبھی قاتلوں کی، میرا یہ حال کیوں؟ ان کا کیا حال ہوگا جنہوں نے اسلام کے نام پر گلے کاٹے، سروں سے فٹ بال کھیلی اور اعلانیہ قبول کیا، مبارکبادیں دیں اوراور کلمہ والےجھنڈے لہراتے ہوئےنہتے اور معصوم مارڈالے، کیا یہ گستاخی نہیں ہے؟ میں کیوں ملزم محسوس کر رہا ہوں اپنے آپ کو؟<br>
“تم نے کیا کیا ہمارے لیے؟” نوجوان نے پوچھا۔<br>
“میں ۔۔ میں۔۔ وہ میں رویا تھا، میں نے لبرٹی گول چکر پر شمع جلائی تھی، نعرے لگوائے تھے“طالبان کے حامی سب حرامی” کب آواز اٹھأو گے، جب گھر سے لاش اٹھاو گے” میں نےلوگوں کو کہا تھا کہ اب گھروں سے نکلو۔ میں نے فیس بک پر اپنی ڈی پی تبدیل کی تھی، ٹویٹر پر ٹرینڈ بنایا” ہمت جمع کر کے میں نے اپنے احسانات گنوا ہی دیے۔</div>
<div class="leftpullquote">ان کا کیا حال ہوگا جنہوں نے اسلام کے نام پر گلے کاٹے، سروں سے فٹ بال کھیلی اور اعلانیہ قبول کیا، مبارکبادیں دیں اوراور کلمہ والےجھنڈے لہراتے ہوئےنہتے اور معصوم مارڈالے، کیا یہ گستاخی نہیں ہے؟</div>
<div class="urdutext">“میں نے فیس بک پر بچوں کی لاشوں کی تصاویر شیئر کی تھیں اپنے دوستوں کے ساتھ، بہت لائیکس(Likes) ملے تھے انہیں۔ میں نے سب کو بتایا تھا کہ میں کس قدر افسردہ تھااس واقعے پر، کمنٹس بھی کیے تھے دوستوں نے۔” میں نے اور ہمت پکڑلی، آخر یہ بھی بہت تھا۔<br>
“اور تم خوش ہوئے کہ اتنے لائیکس ملے تمہاری کسی پوسٹ کو، نعرے لگائے تاکہ لوگوں کو بتا سکو کہ تم ایک سوشل ایکٹیوسٹ ہو، اور جب کوئی اور نعرے مارتا تھا تو منہ بنا لیتے تھے کہ آیا بڑالیڈر، تمہاری سوچ میں خود نمائی تھی اور محنت اکارت۔” نوجوان نے مجھےلا جواب کر دیا۔ پہلے پہل تو سب کو افسوس تھا، پھر سب اپنی اپنی غرض کا شکار ہوتے گئے۔”<br>
“ان جنتیوں کو یہ سب کیسے پتہ ہے؟” میں نے دل میں سوچا۔<br>
اﷲ ہم تک خبر پہنچا دیتا ہے۔” میں سوچتا تھا اور جواب حاضر تھا۔<br>
“کتنے لوگ پشاور آئے تھے ہمارے گھر والوں کو پرسہ دینے؟ کتنے لوگوں نے ہمارے قاتلوں کے وکیلوں کوگریبانوں سے پکڑا؟ کتنے لوگوں نے ان پالیسی سازوں سے باز پرس کی جنہوں نے قاتلوں کو دفتر اور وزارتوں کی پیشکش کی تھی؟ کیا ان میں سے کسی نے معذرت کی؟ تم لاہور سے ہو ناں، بادشاہی مسجد میں ہماری غائبانہ نماز جنازہ میں آدھا صحن خالی کیوں تھا، وہاں تو پورا لاہور امڈ آنا نہیں چاہیے تھا ؟ ایک آدھ ملین مارچ تو دور کی بات ہے، تم لوگ تو اگلے دن کرکٹ میچ کے مزے لے رہے تھے ۔ کیا یہ کم سانحہ تھا جو تم نے دیکھا تھا؟ کیا بے حسی ختم نہیں ہونے چایئے تھی؟ ہمارے والدین کے آنسو کتنے ہم وطنوں نے پونچھنے کی کوشش کی؟”<br>
میں پھر سے سٹپٹا گیا۔<br>
“لیکن سارے سیاستدان اکھٹے ہوئے، اچھے اور برے طالبان کی بک بک ختم ہو ئی، دھرنا اٹھ گیا ، عام لوگ بھی نکلے تھے گھر سے۔ میں نے خود شاپنگ پہ آئے لوگوں کو نعرے لگوائے تھے، میرے دوست نے کہا اس کو پندرہ سال بعد پتا چلا کہ قاتل قاتل ہے مجاہد نہیں۔ دیکھو ہم اتنے برے نہیں ہیں۔ ”<br>
لیکن نوجوان کو یہ کارہائے نمایاں شاید کم لگے تھے۔ میں سوچنے لگا اور کیا کام گنواوں۔<br>
ہاں رانی مکھر جی اور انوپم کھیر کے ٹویٹس، میڈونا بھی تو افسردہ تھی۔ ہاں ہاں، یہ ٹھیک ہے۔ کتنی موم بتیاں جلی تھیں، اور اور وہ سیکیورٹی کے انتظامات، پھانسیاں، اورمذمتی بیانات۔<br>
” دیکھو تمہارے جانے کا وقت ہو گیا ہے، میں خادم ہوں جنتیوں کا، بس ایک بات واضح کر دوں، تمہاری ملک کے یہ شہید جنت کے اعلیٰ ترین مقامات پر ہیں۔ ان کے چند سوال تو برداشت کر نہیں پائے تم۔ ان کے اور ہزاروں پاکستانی شہیدوں کے ہاتھ گریبانوں پر کیسے برداشت کریں گے تمہارے ملک کے پالیسی ساز اور قاتلوں کے وکیل جو سیاست اور صحافت میں قوم کو الجھائے رکھے ہوئے تھے؟ جواب سوچ کے رکھنا۔” غلمان بولا۔</div>
<div class="leftpullquote">کتنے لوگ پشاور آئے تھے ہمارے گھر والوں کو پرسہ دینے؟ کتنے لوگوں نے ہمارے قاتلوں کے وکیلوں کوگریبانوں سے پکڑا؟ کتنے لوگوں نے ان پالیسی سازوں سے باز پرس کی جنہوں نے قاتلوں کو دفتر اور وزارتوں کی پیشکش کی تھی؟</div>
<div class="urdutext">میں ساری دلکشی بھول گیا تھا جنت کی، پانی پانی ہو رہا تھا، اپنے تئیں بڑے تیر چلا بیٹھا تھا پشاور سانحے کے لئے، لیکن سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں۔ شاید سچ کہہ رہا ہے جنتی، ہم نے کیا کیا ان کے لیے؟ پاکستانی کیا واقعی بے حس ہیں؟<br>
اوریہ کیا ہونے لگا اچانک؟یہ دھندلاپن کیسے چھانے لگا ہے، مجھ پر۔<br>
میں قلابازیاں سی کھانے لگا، قدم اکھڑنے لگے۔ میرا وجود لڑکھڑانے لگا۔<br>
اچانک کسی کا ہاتھ میری ہاتھ میں آیا۔ لگا جیسےکسی کٹی پتنگ کی ڈور تھام لی کسی نے،وہ ہاتھ اسی شہید نوجوان کا تھا۔ مجھ سے کہنے لگا؛<br>
“تم جانے والے ہو جنت سے، چند ہی لمحات میں، ایک بات بتاوں؟ جب میرے سینے پہ گولی چلائی تھی ظالم نے، تومعلوم ہے میرے آخری الفاظ کیا تھے مرنے سے پہلے؟’ میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔<br>
“میں نے کہا تھا میں یہ سب جا کر اپنے ﷲ کو بتائوں گا”<br>
‘اور میں سب کچھ بتا چکا ہوں۔ بتا دو میرے ملک کے لوگوں کوکہ اﷲ نے ہماری بات سن لی ہے۔”<br>
ایک جھپاکا سا ہوا۔ سب غائب ہو گیا، جنت، سبزہ، موسم اور اور جنتی بھی۔میں تھا، میرا بھیگا وجود اور میرا تر بتر بستر اور اندھیرا کمرہ۔میں بھاگا، ایک پاوں میں چپل، دوسرا خالی، میرے احساس کی طرح۔ سیڑھیاں اتر کر آیا، پانی پیا، پتہ نہیں کتنے گلاس پی ڈالے۔<br>
“خواب تھا شاید۔ رات کو بہت دیر سے سونے لگا ہوں آج کل، نیند خراب ہو تو ذہن خیالی دنیا بنا لیتا ہے۔ عجب دیوانہ پن ہے۔“یہ سوچتے سوچتے باہر گیراج میں گیا۔ اخبار میں خبر چھپی تھی ایک سیاستدان کی شادی، پٹرول کا بحران، لمبی لائنیں، ایک مذہبی جماعت کے مولانا کا حکومت سے الگ ہونے کا امکان، دھاندلی، باقی وہی آشنا کے ساتھ بھاگی ایک خاتون، ساس اور بہو کی لڑائی، دنیا کس قدرجلدمعمول پر آ چکی ہے ۔ پتہ نہیں میں بھی کیا کیا دیکھتا ریتا ہوں خواب میں۔ بیوی پہلے ہی نفسیاتی مریض سمجھتی ہے مجھے۔ توبہ ہے یار۔لیکن ایک خبر نے مجھے جکڑلیا۔</div>
<div class="leftpullquote">ایک جھپاکا سا ہوا۔ سب غائب ہو گیا، جنت، سبزہ، موسم اور اور جنتی بھی۔میں تھا، میرا بھیگا وجود اور میرا تر بتر بستر اور اندھیرا کمرہ۔میں بھاگا، ایک پاوں میں چپل، دوسرا خالی، میرے احساس کی طرح۔</div>
<div class="urdutext">” شہدا کے والدین کا بچوں کے چہلم پہ احتجاج، کئی واپس چلے گئے، ہمادی توہین کی گئی شہدا کے والدین کا بیان۔”<br>
میں پھر سے پریشان ہو گیا۔“تم نے کیا کیا ہمارے لیے؟’ یہ جملہ گھیرنے لگا میری سوچ کو۔ “تم نے کیا کیا ہمارے لیے؟”<br>
کیا وہ سچا خواب تھا؟ کیا واقعی بچوں نےاﷲکو شکایت لگا دی ہے، اور کس کس کی لگائی ہے؟میں کہیں پاگل تو نہیں ہو رہا۔<br>
“بابا ، آپ نے یہ خوشبو کون سی لگائی ہے؟ میری آنکھ کھل گئی ہے، اتنی اچھی خوشبو، سارے گھر میں ہے، چاچی، چاچا، دادی، ماما، بھائی، پنڈی سے آئے انکل بھی خوشبو سے جاگ گئے ہیں۔” میری بیٹی مجھ سے مخاطب تھی، اس نے تو شک کی ساری دیوار گرا دی۔<br>
خوشبو میرے ہاتھ سے آرہی تھی، یہی تو تھا جس کو تھاما تھا جنتی نے۔ میں نے سچ میں شہید طالب علم سے ملاقات کی تھی۔<br>
“ابھی سب کو خواب سناتا ہوں، سب کتنے متاثر ہوں گے، آخر پچھلے رمضان میں قرآن ختم کیا تھا، اچھا بھلا نیک ہوں میں، سارے خاندان میں مشہوری، واہ گریٹ۔“میں موڈ بدلنے میں مہارت لیتا جا رہا ہوں۔ اب پھر سے خوش۔<br>
میں نے ہاتھ سونگھا، یہ کیا ؟ خوشبو کہاں گئی۔ اپنے ہاتھ ٹٹولے۔ جنتی نے تھامے تھے، اور اس کے آخری الفاظ تھے۔ “اﷲنے ہماری بار سن لی ہے۔”<br>
یہ الفاظ ڈینگیں مارنے کے لیئے نہیں تھے، اسی لیے خوشبو روٹھ گئی تھی۔ میرا موڈ پھر بدل چکا تھا، اب کی بار خوف اور صرف خوف۔ شکایت لگ گئی ہے، کہیں میرا نام نہ ہو اس میں؟<br>
میری بیوی صحیح کہتی ہے، میں نفسیاتی مریض ہوتا جا رہا ہوں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%86%db%92-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%86-%d9%84%db%8c-%db%81%db%92/">اللہ نے ہماری بات سن لی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81-%d9%86%db%92-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%aa-%d8%b3%d9%86-%d9%84%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>چلو سوگ منائیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%86%d9%84%d9%88-%d8%b3%d9%88%da%af-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%86%d9%84%d9%88-%d8%b3%d9%88%da%af-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 30 Dec 2014 10:31:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[سوگ]]></category>
		<category><![CDATA[شعور]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8681</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پوری قوم کو کبھی اتنا ایک رنگ نہیں دیکھا، ہر بندہ رویا ضرور ہوگا، ہر نیند خراب ضرور ہوئی ہوگی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%86%d9%84%d9%88-%d8%b3%d9%88%da%af-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/">چلو سوگ منائیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پوری قوم کو کبھی اتنا ایک رنگ نہیں دیکھا، ہر بندہ رویا ضرور ہوگا، ہر نیند خراب ضرور ہوئی ہوگی۔ اپنے بچوں کو ہر ماں باپ نے ایک دفعہ یہ سوچ کے گلے لگایا ہوگا، کہ کہیں ہمارا بچہ ۔۔۔
<p>بچوں اور اساتذہ کا خون کیا بہا، انتشار کا شکار پاکستانی قوم، ایک ہو گئی۔ کیا خون میں اتنی طاقت ہوتی ہے، وہ بھی ناحق خون میں؟ خون تو پہلے بھی بہا تھا، نا حق کا بھی، لیکن۔۔۔</p>
<p>لیکن وہ خون اکٹھا ہوتا رہا، جام بھرتا رہا، اب کی بار چھلکا تو کیا ہوا، سب ہوش میں آگئے۔ افسوس کرنے سے پہلے اور سوگ منانے سے پہلے، کچھ اور بھی افسوس کے مقام ہیں، ان کا بھی سوگ بنتا ہے۔</p></div>
<div class="leftpullquote">بچوں اور اساتذہ کا خون کیا بہا، انتشار کا شکار پاکستانی قوم، ایک ہو گئی۔ کیا خون میں اتنی طاقت ہوتی ہے، وہ بھی ناحق خون میں؟</div>
<div class="urdutext">
سب سے پہلے اس بات کا سوگ، کہ ساٹھ ہزارسے زائد پاکستانیوں کے قربان ہونے کے بعد ہمیں اب سمجھ آئی کہ دشمن کون ہے۔
<p>آیئے سوگ مناتے ہیں، اپنے ایمان کا جو قرآن کریم پہ جھوٹی قسم کھاتے نہیں ڈگمگاتا، کتے اور گدھے کے گوشت کو حلال کہہ کر بیچتے سو جاتا ہے۔جو جھوٹی گواہی دیتے وقت کہیں گوشہ نشیں ہو جاتا ہے، اس ایمان کا سوگ منالیتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔</p>
<p>آئیے سوگ منائیں، اپنے قومی کردار کا جو سگنل پہ رکنے کو اکساتا نہیں ہے۔وہ اجتماعی قومی کردار جو ہمیں ایک ذمہ دار شہری نہ بنا سکا، جو آج دنیا کے ہر ایرپورٹ پرہماری قطاریں الگ کر چکا ہے۔</p>
<p>سوگ بچوں کا سوگ۔</p>
<p>سوگ منایئے اپنی منافقت کا، جو دین کے نام پر لوگوں کے قتل کا جواز بخوشی قبول کرلیتی ہے۔ ہر دودھ والا مکہ، مدینہ اورغوثیہ نام رکھ کران مکرم ناموں کو اپنا ملاوٹ شدہ اور گندا دودھ بیچنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ سوگ منائیے مذہب کے ناجائز استعمال پر کہ کسی کا پلاٹ ہتھیانا ہو، مسجد کی تعمیر کا بورڈ لگا دو اور کوئی شور مچائے تو اس سے زیادہ اونچی آواز میں چلاو ، شور مچاوکہ اسلام خطرے میں ہے پران مساجد میںکون کسی کو بتائےکہ نبیِ اکرم ﷺنے مسجد نبوی کی زمین کی قیمت پیشگی ادا کی تھی۔ سوگ منانا ہے تو پہلے اپنی تفہیمِ دین کا منانا کہ دین ان عناصر کے ہاتھ دے دیا ہے جنہیں فہم و فراست کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، جن کی روزی روٹی اختلافات پر چلتی ہے اور لاوڈ سپیکر پر لوگوں کی سماعتوں کا امتحان لینا ان کا نصب العین ٹھہرا ہے۔ سوگ مناتے ہیں کہ اتنے سانحے گزر گئےاور ہم کسی سے یہ نہ پوچھ سکے کہ سب کیسے ہوا؟<br>
سوگ مناتے ہیں اپنی سادگی کا کہ ہمیں جب بھی کہا گیا کہ ایسا دین کی سر بلندی کے لیے کیا جا رہا ہے تو ہم ہر کفن فروش کومردِ مومن قرار دے کر خوشیاں منانے لگے۔</p></div>
<div class="leftpullquote">کسی کا پلاٹ ہتھیانا ہو، مسجد کی تعمیر کا بورڈ لگا دو اور کوئی شور مچائے تو اس سے زیادہ اونچی آواز میں چلاو ، شور مچاوکہ اسلام خطرے میں ہے پران مساجد میںکون کسی کو بتائےکہ نبیِ اکرم ﷺنے مسجد نبوی کی زمین کی قیمت پیشگی ادا کی تھی۔</div>
<div class="urdutext">اور ہاں سوگ مناتے ہیں اس خوش فہمی کا کہ قوم کا شعور بیدار ہو گیا ہے۔ وہ “شعور “جو قاتل کو ہیرو بنادے، پھول پہنائے اور نت نئی تاویلیں گھڑے اس کے جرم کو جواز دینے کے لیے۔وہ ادراک جو بے چارے مظلوم کو بتائے کہ تیرے ساتھ ایسا ہے ہونا چاہیے تھا، تو تو ہے ہی ایجنٹ، کافر اور مردود۔ ماتم کرتے ہیں قوم کے اس” اجتماعی شعور” کا جو حملہ آور کو ہیرو اور گولی کاشکار ہونے والی چودہ سالہ بچی کو ڈرامہ کوئین، ایجنٹ اور نجانے کیا کیا کہتا ہو۔ بین کریں اس دانش پرجو باقاعدہ کالم لکھ کر امید کی واحد کرن کی کردار کشی کرے ۔ جہاں خلقت کج کلاہوں کو دستاریں پہناتی ہے، سیہ کاروں کے سب گناہ معاف کر دیتی ہےاور جسے ذلیل کرنا ہو چاہے وہ کتنا ہی قد آور اور معتبر ہو اس پر تہمت اور الزام کے سٹیکر چپکا کر بیچ چوراہے کھڑا کر دیتی ہے وہاں سوگ منانا ہی جینے کی واحد علامت قرار پائے گا۔<br>
سوگ منائیے اس شعور کا جو سازشی مفروضوں سے بہل جاتا ہے،جو ہر منجن بیچنے والے کو نجات دہندہ اور انقلابی سمجھتا ہے اور ضمیر فروشوں کو اپنی تجوریاں سونپ کر چین سے سوتا ہے۔ ایسی فہم و دانش پر سوگ کے ساتھ ساتھ سر پیٹنا بھی بنتا ہے کیوں ہم اس دیس کے باسی ہیں جہاں گنگا الٹی بہتی ہے،جہاں آمریت میں جمہوریت یادآتی ہے اور جمہوریت میں آمریت کا آسرا ڈھونڈا جاتا ہے۔<br>
یہ وہ جگہ ہے جہاں بانی قوم کو ایمبولنس نہ مل سکی، اس کی بہن کے خلاف ایک فرشتہ الیکشن لڑنے کو آگیا۔ ملک کے منتخب وزیرِاعظم یا تو لٹکا دیے جاتے ہیں یا جلاوطن کر دیے جاتے ہیں۔حب الوطنی کے نام پر ہر سیاسی حکومت کو دیوار سے لگانے کے لئے اسی کی برادری کو وعدہ معاف گواہ بنا کرذلیل کرنے کا چلن نیا نہیں۔ جہاں ملک کو خطرے میں قرار دے کر آئین توڑنا ضرورت کے تحت جائزٹھہرے اور گم شدگان کا جرم پوچھنا ملکی سالمیت کانقصان قرار پائے تو جان لیجیے کہ وہاںسیاسی ناخداوں مصلحت کا شکار ہیں اور محافظ اپنی ہی پارلیمان فتح کرنے کو ہتھیار بند ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">کافر کافر کے اس کھیل میں جلائی گئی بستیوں، بھٹی میں جھونک دی جانے والی جانوں اور چن چن کر مارے جانے والوں پر بھی اگر چند آنسو بہالیے جاتے تو شاید ستر ہزار میں سے چند ہزار پاکستانی ہم میں ابھی بھی ہوتے۔</div>
<div class="urdutext">یہاں سوگ مننا واجب ہے کیوں کہ یہاں فضل اللہ کے شریعت کے نام پردیے گئےاشتعال انگیز خطبے سننے والے تماشائی بنےرہے، ریاست کےخلاف اس کی کھلی بغاوت پر ریاستی اداروں کی خاموشی اور مساجد کے منبر و محراب سے جاری ہونے والے کفر کے فتووں پر سبھی چپ سادھے بیٹھے رہے۔ اس بےپرواہی کا سوگ منایا جانا بھی ضروری ہے، چند صدیاں یا چند دہائیاں قبل نہیں اگر چند برس پہلے ہی یہ یک رنگی دیکھ لینے کو مل جاتی تو کیا معلوم آج کتنے بچے زندہ ہوتے۔<br>
پہلے گھر کے آنگن میں سانپ پالے اور سب کو ڈرایا، اب جب گھر کے بچوں کو کاٹنے لگے تو ان سنپولیوں کو مارنے کا تہیہ کیا گیا ہے۔ سانپ پالنے کی اس بصیرت پر ماتم نہ کیا جائے تو کیا کیا جائے۔<br>
کافر کافر کے اس کھیل میں جلائی گئی بستیوں، بھٹی میں جھونک دی جانے والی جانوں اور چن چن کر مارے جانے والوں پر بھی اگر چند آنسو بہالیے جاتے تو شاید ستر ہزار میں سے چند ہزار پاکستانی ہم میں ابھی بھی ہوتے۔<br>
باتیں تو اور بھی ہیں ماتم اور سوگ کے لئے، لیکن کیا کیا جائے پشاور کے بچوں کے لیے فی الحال پشاور سانحے کا ہی سوگ کرتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%86%d9%84%d9%88-%d8%b3%d9%88%da%af-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/">چلو سوگ منائیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%86%d9%84%d9%88-%d8%b3%d9%88%da%af-%d9%85%d9%86%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نعرہِ مستانہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%81/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[وقار عظیم]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Apr 2014 10:47:46 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=4369</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">وسط افریقہ  کے دور دراز علاقے میں کوئی قبیلہ رہتا تھا۔ صحرائی علاقہ تھااور گزر بسر کے لیے پانی صرف چند جوہڑوں یا تالابوں کی شکل میں موجود تھا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%81/">نعرہِ مستانہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">وسط افریقہ کے دور دراز علاقے میں کوئی قبیلہ رہتا تھا۔ صحرائی علاقہ تھااور گزر بسر کے لیے پانی صرف چند جوہڑوں یا تالابوں کی شکل میں موجود تھا۔ چونکہ یہ جوہڑ اپنی کم عمری کے باعث چند دن کے ہی مہمان ہوتے تھے، تو مقامی لوگ اِن کے خشک ہوتے ہی پانی کی تلاش میں نکل پڑتے۔ اُن کی خانہ بدوشی کی زند گی اِن جوہڑوں کی تلاش میں ہی گزرتی۔<br>
قبیلے کی مقامی زبان میں ایسے نایاب ذخائر کو ”ایڈو” کہا جاتا تھا۔<br>
قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن کوئی شخص اِن ایڈو کی تلاش میں اپنے قبیلے سے بچھڑا۔ جس جگہ قبیلے نے ڈیرہ ڈالا تھا، وہاں کا ایڈو چند دنوں کا مہمان تھا۔ وہ لوگ ایک ایڈو کا خشک ہونے سے پہلے نئے ایڈو کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے تاکہ قبیلے کے لوگ بھٹکتے نہ پھریں، اور سیدھے نئے ذخیرے کی جانب کوچ کر جائیں۔<br>
بے چارے کی قسمت اچھی یا بری، آپ خود فیصلہ کیجیے گا، وہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہے، ایسا ایڈو جو اُس کا وہم ہ گمان میں بھی نہ تھا، جِس کی حدوں کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ خیال آیا، اِس ایڈ و سے اُس کی کیا، اُس کا قبیلے کی کئی نسلیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔<br>
” ابھی جا کر لوگوں کو بتاتا ہوں، اتنا پانی، کون سوچ سکتا ہے؟”<br>
بے چارے نے ساری زندگی ایسے ایڈو دیکھے تھے، جو بہت محدود، کم وقتی اور چند دنوں کے مہمان ھوتے تھے۔ سمندر کا پانی اُس کے گماں اور سوچ میں سما نہیں رہا تھا۔ حواس باختہ، بھاگا بھاگا اپنے لوگوں میں واپس آیا۔<br>
“ایڈو۔۔۔”<br>
“ایڈو۔۔۔”<br>
وہ چلا چلا کے بتا رہا تھا، ایسا ایڈو ہے، جو اتنا وسیع ہے کہ کوئی حد نہیں۔<br>
قبیلے والے بھی اُس جیسے ہی تھے۔ ساری زندگی چھوٹے سے جوھڑ دیکھے تھے۔ ایسا اُن کا تصور میں ہی نہ تھا، جیسا وہ شخص کہ رہا تھا۔<br>
اِدھر وہ شخص بضد کہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہی، دوسری طرف قبیلے والے، جِن کی عقل اُس کی بات تسلیم کرنے کو تیار ہی نہ تھی۔ پھر وہی ہوا، جو ہمیشہ سے ہوتا اُیا ہے، اور آج بھی ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔<br>
کوئی تصور جب خیال کے احاطے میں قید نہ ہو سکے، تو الزام لگتے ہیں۔<br>
“پاگل ہو گیا ہے۔” ایک آواز آئی۔<br>
“اِس کا دماغ خراب ہو گیا ہے”<br>
“اِس پہ خبیث روحوں کا سایہ ہے، جادو کر دیا ہے کسی نے” کوئی بڑی بی بولی ہوں گی۔<br>
“اپنے خداؤں کو جھٹلاتا ہے، مارو اِس کو”<br>
” یہ ہم سب کو تباہ کردے گا، باندھ دواِس کو” سزا تجویز ہوئی۔<br>
بے چارا دھتکارا گیا، سزا وار قرار پایا۔ قصور یہ تھا کہ اُس نے ایسی بات کہ دی، جِس کو لوگوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، جو لوگوں کی سوچ میں سما نہیں رہی تھی، اُن کی صلاحیت ہی نہ تھی کہ کوئی ایسی بات جذب کر سکیں جو غیرمعمولی ہو۔ اُس کا مشاہدہ جرم بن گیا۔<br>
لیکن وہ ایک ہی نعرہِ مستانہ لگاتا رہا ، “ایڈو، ایڈووو۔ ۔ ۔ ”<br>
وقت گزرا تو کچھ لوگوں نے محسوس کیا کہ نہ تو وہ پاگل ہے، نہ ہی مجنوں، نہ ہی سحر زدہ ہے۔ اب لوگوں میں ایک اور رویّہ نظر آنے لگا۔ اُس کےنا قابلِ فہم مشاہدے کو لوگوں نے مافوق الفطرت اشارہ سمجھنا شروع کر دیا۔ کچھ کا خیال تھا اُس پہ دیوتاؤں کا خاص کرم ہو گیا ہے یاشاید کوئی نیک روح حلول کر گیٔ ہے۔<br>
قبیلے کے اِس گروہ کے کچھ لوگوں نے ایک دن اُس شخص کو قید سے چھڑایا، ساتھ لیا اور اُس سمت میں نکل پڑے جہاں اُس ایڈو کا مشاہدہ ہوا تھا، جس کے دیدار نے ایک عام بندے کو متنازعہ مگر انفرادی حیثیت دی تھی۔ اب جب “ایڈو” پر نظر پڑی، تو سب حیرت ذدہ رہ گۓ۔<br>
اُس نے سچ کہا تھا۔۔۔</div>
<div class="leftpullquote">محمد علی کلے، لاکھوں لوگوں کا ہیرو بھی نعرہِ مستانہ بلند کر چکا ہے، جب صاف کہ دیا کہ“نہیں جاؤں گا ویت نام۔” کافی عرصہ اپنے اعزاز ات سے محروم رہا، پھر باکسنگ رنگ میں واپس آیا اور آج بھی کئی ویت نام میں کام آجانے سپاہیوں سے زیادہ مشہور ہے۔</div>
<div class="urdutext">تاریخ میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں، جنہیں ایسا ہی کوئی ایڈو ملا تھا یا کوئی انقلابی تصور پیش کیا تھا، ایسا تصور جو معاشرے کے لیے نا قابلِ قبول تھا۔ وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں، مگر معاشرے کی روایتی سوچ ایسے خیال کو قید نہ کر پائی۔<br>
ایسے لوگ مجنوں اور دیوانے کہلاتےہیں اور سولیوں پر چڑھتے ہیں۔<br>
ایسا ہی ایک شخص تھا، گلیلیو۔ ایسا کیا کہا تھا اُس نے کہ چرچ نے مہینوں قید رکھا، یہی نہ کہ زمین گول ہی۔ اور چاند بھی گول ہے، اوراس پہ ٹیلے بھی موجود ہیں۔ اور شاید یہ دعوٰی تو خدا کی شان میں گستاخی تھا کہ کائنات کا مرکز زمین نہیں بلکہ ہمارا نظامِ شمسی سورج کا گرد رقص کناں ہے۔<br>
ایسی جرات، توبہ توبہ۔<br>
یہ سب کچھ اشرافیہ اور مذہبی مافیا کے لیئے نا قابلِ برداشت تھا۔ کچھ مذہبی رہبروں کو اپنی ساکھ اور دکانداری خطرے میں نظر آرہی تھی۔ اسٹیٹس کو (status quo)برقرار رکھنے کے لیئے اب ضروری ہو گیا تھا کہ زبان بندی کی جائے۔ سو نظر بندی کی سزا ملی، لیکن 1642 میں اپنے مرنے تک گلیلیو “ایڈو” ڈھونڈتا رہا اور نعرہِ مستانہ لگاتا رہا۔ چند سال پہلے چرچ نے گلیلیو سے اپنے کیے پہ معافی مانگی ہے۔<br>
دیر لگی آنے میں تم کو، شکر ہے پھر بھی آئے تو۔<br>
اپنے ہاں تو آنے کی امّید ہی نہیں ہے، دیر کا شکوہ تو خیر بہت دور کی بات ہے۔ گلیلیو کےایڈو کو تسلیم کر لیا گیا۔<br>
محمد علی کلے، لاکھوں لوگوں کا ہیرو بھی نعرہِ مستانہ بلند کر چکا ہے، جب صاف کہ دیا کہ“نہیں جاؤں گا ویت نام۔” کافی عرصہ اپنے اعزاز ات سے محروم رہا، پھر باکسنگ رنگ میں واپس آیا اور آج بھی کئی ویت نام میں کام آجانے سپاہیوں سے زیادہ مشہور ہے۔<br>
ایک بادشاہ تھا ہندوستان میں، اشوکا کے نام سے۔ بڑا نام تھا، بڑا ہی دبدبہ۔ لیکن میدانِ جنگ میں لاشوں کے انبار دیکھ کر نہ جانے کیا سوچ میں اضطراب آیا۔ سب چھوڑ چھاڑ بن باس لیا اور سدھارتھ (بدھا) کے راستے ہو لیا۔ بادشاہ تھا تو لوگوں نے سزا تو نہ دی، لیکن درباری کھسر پھسر ضرور کرتے رہے ہوں گے۔ لیکن اشوکا اپنے ضمیر کے نعرہِ مستانہ پہ لبیک کہ چکا تھا۔ اس نے بھی ایک “ایڈو” ڈھونڈ لیا تھا۔<br>
ایک اور بھی بادشاہ تھا عرب میں، ابراہیم بن ادھم۔ بڑا رئیس بڑا زور آور۔ ایک رات سوتے ہوئے محل کی چھت پہ قدموں کی آواز آئی ۔<br>
“کون ہے، کیسی آواز ہے یہ؟”<br>
“اونٹ والا ہوں، اونٹ کے قدموں کی آواز ہے” جواب آیا۔<br>
“محل کی چھت پہ اونٹ نہیں آسکتا ہے”<br>
“نرم بستر پہ سوکر تمھارے دل میں رب بھی نہیں آسکتا۔” جواب نے لاجواب کر دیا۔<br>
کہیں چھن کی آواز آئی ہوگی اپنے وجود سے۔ کیف ومستی میں سب کچھ چھوڑ دیا، نرم بستر، محل، خدام۔۔اور رب کی تلاش میں سرگرداں ہوئے۔ اپنے “ایڈو” کو ڈھونڈنے کی لیئے سلوک کی کن منزلوں سے گزرے ہوں گے کہ آج ایک ولی اللہ کہلائے ۔<br>
منصور بن حلاج بھی تھے، دار پہ چڑھائے گئے۔ ایک نعرہ لگایا تھا “انا الحق” کا۔ شاید عالمِ جذب میں کوئی “ایڈو” دیکھ لیا ہوگا، کہ زباں بیاں کرنے سے قاصر ہوگئ اور سننے والوں نے خدائی دعوٰی کا الزام لگایا۔ مگرجسم کی موت بھی ان کی آواز نہ دبا سکی،“انا الحق، اناالحق“آج ان کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔<br>
معزز انبیا کرام ہوں یا گاندھی اور بدھا، مارٹن لوتھر ہو یا دلی کے سرمد، آنگ سوکی ہو یا نیلسن منڈیلا ۔ اِن سب نے اپنے اپنے “ایڈو” کا نعرہ مستانہ لگایا تھا۔ کسی نے پتھر مارے، کوڑا پھینکا، کافرِ اعظم کہا، جیل میں ڈالا، لیکن اِن کے “ایڈو” سب نے دیکھ لئے، شناخت تو ملی ہی لیکن زندگیوں پہ گہرا اثر بھی چھوڑا۔<br>
بہت سے ایسے نعرہ ہائے مستانہ سینوں میں دفن رہ جاتے ہیں۔ اگر وہ زبان زد عام ہوتے تو شاید بلند کرنے والا تو راندہ درگاہ ہوتا، لیکن کوئی نہ کوئی “ایڈو” دنیا کو ضرور مل جاتا، تاریخ کے اوراق پہ نام رہ جاتا۔۔۔ کتنی ہی آوازوں کا گلا گھونٹ کر انہیں خاموش کرا دیا گیا،کتنے ہی خوبوں کو مسمار کی گیا اور کتنے ہی قدموں میں کانٹے بچھائے گئے مگر تاریخ انہیں کے نام کا ورد کرتی ہے جو اک نعرہ مستانہ بلند کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%81/">نعرہِ مستانہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b9%d8%b1%db%81%d9%90-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
