<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>طارق متین, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/tariq-mateen/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 01:00:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>طارق متین, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>آپ کے حسن کے نثار مگر۔۔</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%af%d8%b1%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%af%d8%b1%db%94%db%94/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طارق متین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 29 Sep 2014 09:13:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7451</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو اپنے کالم میں ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر کھڑا کیا اور پھر "سیاہی سیاہی" کر دیا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%af%d8%b1%db%94%db%94/">آپ کے حسن کے نثار مگر۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">صحافت ہمیشہ سے ایک ایسا حمام ہے جس میں کچھ اصحاب کو ہر ایک پاکی کا غسل کرتا نظر آتا ہے اور کچھ کو اس مشہور کہاوت کے مصداق سب “ویسے” ہی نظر آتے ہیں۔ اگر میرا لکھا آپ کو بھایا تو میں حق کی صدا، اور اگر میں وہ لکھ بیٹھا کہ جس کو پڑھ کر آپ سے بیٹھا نہ جائے تو پھر میں حرام کھاؤ، بکاؤ، لفافہ اور ان گالیوں کے سوا کچھ ایسی گالیوں کا مستحق بھی کہ جو شرفاء کے ہاں مستعمل نہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو اپنے کالم میں ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر کھڑا کیا اور پھر “سیاہی سیاہی” کر دیا۔</div>
<div class="urdutext">غیر مہذب دنیا میں گالی پہلے زبان سے دی جاتی تھی، اور گالی کی عمر اور اس کا پھیلاؤ صرف کہنے سننے والے تک ہوتا تھا، مگر اب “عالمگیر تہذیب” میں گالی بھی عالمگیر ہو چکی ہے۔ زبان سے نکلی گالی سماعتوں سے ٹکراتی تھی اور پھر آہستہ آہستہ اپنا اثر کھو دیتی تھی یا اپنا اثر ایک آدھ شخص تک تا عمر برقرار رکھتی تھی۔ مگر اب گالی ہارڈ یا سافٹ keys سے نکلتی ہے، ورلڈ وائیڈ ویب پر ورلڈ وائڈ جاتی ہے اور انگلیوں کی جنبش سے جنم لیتی گالی کو آنکھیں سنتی ہیں اور یوں یہ گالی ٹیگ یا شیئر ہو کر پھیلتی جاتی ہے۔<br>
یہ گالیاں کبھی اصلی اور کبھی جعلی اکاؤنٹ سے دی جاتی ہیں، لیکن دل سے دی جاتی ہیں۔ گالی دینے والے کو یقین ہوتا ہے کہ “دل سے جو ٹھاہ نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔” سوشل میڈیا پر گالیاں دینے والے عام طور پر کسی سیاسی جماعت، کسی طبقۂ فکر کے ماننے والے لوگ ہوتے ہیں جو مخالف کو اپنی محبت سے نوازتے رہتے ہیں۔ عام طور پر یہ لوگ صرف انہی خبروں یا آراء پر نظر رکھتے ہیں جو ان کے حق میں یا ان کے خلاف ہیں اس کے سوا کیا لکھا اور کہا جا رہا ہے، انہیں کچھ سروکار نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا سے باہر کی دنیا میں follower کبھی گالی نہیں دیتا، لیکن سوشل میڈیا پر اکثر followers ہی گالی دیا کرتے ہیں۔ مگر رواں ہفتے ایک مختلف بات ہوئی۔ ایک بہت ہی بڑے صحافی نے جس کو ایک زمانہ follow کرتا ہے، خود followers کو پیچھے چھوڑ دیا۔<br>
“کوبرا کے پھن سے کالم لکھنے کے دعویدار” جیّد صحافی نے ایک کالم لکھا اور ان کا وہ کالم موجودہ حالات میں ان کی ہر تحریر سے کہیں بڑا ہِٹ ثابت ہوا۔ ویسے تو ان کی ہر تحریر کمال ہوا کرتی ہے۔ کاٹ دار الفاظ ہمیشہ ان کے قلم کی نوک کے سامنے دست بستہ دل میں یہ تڑپ لیے موجود رہتے ہیں کہ ہم میں سے جو جنبشِ قلم سے حضرت کے صفحے پر منتقل ہوا وہ امر ہو جائے گا۔ ان کی تحریر میں ایسا حسن ہے کہ قاری نثار۔</div>
<div class="leftpullquote">کہیں آپ یہ لکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے بغیر نون لیگ ایسی ہی ہے جیسے زردی کے بغیر انڈا، جیسے گاڑی بغیر انجن، جیسے نعل کے بغیر گھوڑا اور جیسے وِگ کے بغیر آپ کے “تقریباً ہم نام” سیاستدان۔</div>
<div class="urdutext">انہوں نے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے مخدوم جاوید ہاشمی صاحب کو اپنے کالم میں ہاتھ باندھ کر سر جھکا کر کھڑا کیا اور پھر “سیاہی سیاہی” کر دیا۔<br>
انہوں نے لکھا کہ کپتان کی پیٹھ میں تاریخ کے اس نازک موڑ پر خنجر گھونپا گیا ہے۔ یہ ان کا خیال ہے اور اس سے اتفاق نہ بھی کیا جائے تو یہ تو ماننا ہی پڑے گا کہ جاوید ہاشمی کے بیانات سے اور فیصلوں سے تحریک انصاف کو دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ وہ ضمنی انتخابات میں جاوید ہاشمی کے مخالف کی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے اور اس کام کو انہوں نے عظیم عبادت قرار دیا۔ یہاں تک بات ٹھیک تھی کہ یہ ان کے خیالات ہیں اور ان کے اظہار کا حق وہ محفوظ رکھتے ہیں۔ مگر میری ناقص اور بہت ہی ناقص رائے میں اس سے آگے بڑھ کر جو انہوں نے رقم کیا وہ مجھ سمیت بہت سوں کے لیے ہضم کرنا ناممکن ہے۔ کیوں؟ میں ان سے عرض کرتا ہوں؛<br>
آپ نے جاوید ہاشمی کو مجہول، بوگس، بدبودار باغی اور “ہمیشہ بکاؤ” قرار دیا۔ آپ نے ناصرف پی ٹی آئی سے ان کی بغاوت کو جعلی لکھا بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ اپنے “سابق آقاؤں” سے مل کر بھاؤ بڑھوانے میں ہفتوں سے مشغول تھے۔ آپ نے انہیں ایک سابق حکمران کے فوجی بوٹ کا تسمہ لکھا اور موجودہ کے جوتے کا تلوا لکھا۔ آپ نے یہ بھی لکھا کہ بوڑھا یونیورسٹی کے دنوں میں آپ کا ہم عصر تھا۔ آپ کی ان حالیہ باتوں پر یقین کرتے ہوئے جاوید ہاشمی اور بہت سے دیگر سیاستدانوں کو سیاست کا وہ کچرا مان لیا جائے جو تاریخ کے ڈسٹ بن میں دفن ہونے جا رہے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو پھر 25 دسمبر 2011ء کے بعد ہفتوں تک لکھے گئے آپ کے معرکہ آرا کالموں کا جائزہ لیا جائے، جن میں کہیں آپ یہ لکھتے ہیں کہ جاوید ہاشمی کے بغیر نون لیگ ایسی ہی ہے جیسے زردی کے بغیر انڈا، جیسے گاڑی بغیر انجن، جیسے نعل کے بغیر گھوڑا اور جیسے وِگ کے بغیر آپ کے “تقریباً ہم نام” سیاستدان۔ 26 دسمبر 2011ء کے کالم میں آپ نے لکھا کہ جاوید ہاشمی سیاست اور جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ذہن سے کھرچ کر کون سے ڈسٹ بن میں ڈال دوں،</div>
<div class="leftpullquote">آپ صرف صحافی نہیں، بہت سوں کی نظر میں میرِ صحافت ہیں۔ جو سیاستدان کر رہے ہیں، انہیں کرنے دیں۔</div>
<div class="urdutext">استاد محترم آپ کا دس جنوری 2012ء کا کالم جس میں آپ نے لکھا کہ؛<br>
ایوان سے نکلے، سرِ بازار بھی آئے<br>
سردار وہی ہے جو سرِ دار بھی آئے<br>
اور اس شعر کے بعد آپ نے جاوید ہاشمی کو سیاست کا سردار، باکردار اور جی دار لکھا۔ میں یہ بھی ماننے کو تیار ہوں کہ ایک فرد کے بارے میں دوسرے فرد کی رائے اس کے فیصلوں اور اس کی چالوں کے ساتھ بدل جاتی ہے تو آپ رائے بدل دیتے، یہ لکھ دیتے کہ دھوکا کھایا، لیکن آپ نے تو بطور خاص انہیں آج “ہمیشہ کا بکاؤ” قرار دے ڈالا ہے۔ باغی کو داغی میں بدلنے کا کام عوام کی نظر میں ایک اور مخدوم نے انجام دیا جو سیاست میں بھی ان کے حریف تھے اور پارٹی میں بھی۔ مگر آپ، آپ صرف صحافی نہیں، بہت سوں کی نظر میں میرِ صحافت ہیں۔ جو سیاستدان کر رہے ہیں، انہیں کرنے دیں۔ ہمارے الفاظ سے تو یہی صدا سدا آنی چاہیے؛<br>
ان کا جو کام ہے، وہ اہلِ سیاست جانیں<br>
میرا تو کام “صحافت” ہے، جہاں تک پہنچے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%af%d8%b1%db%94%db%94/">آپ کے حسن کے نثار مگر۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ad%d8%b3%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%ab%d8%a7%d8%b1-%d9%85%da%af%d8%b1%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>14</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسلمانو ! لگاؤ  ۔۔۔</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88-%d9%84%da%af%d8%a7%d9%88%d9%94-%db%94%db%94%db%94/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88-%d9%84%da%af%d8%a7%d9%88%d9%94-%db%94%db%94%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طارق متین]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 07 Jul 2014 12:53:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[انقلاب]]></category>
		<category><![CDATA[تکا]]></category>
		<category><![CDATA[قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6278</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">قادری صاحب  کا ایک تکا دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے لگا اور  انہوں  اسے  کنٹینر کے اندر تکے سے بے تکے میں  بدل دیا ایک بار پھر قادری صاحب بے تکے انقلاب کے تکے لگانے کے دعوے کررہے ہیں  تو موقع ہے کہ  پوری قوم کو  دعوت دی جائے مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88-%d9%84%da%af%d8%a7%d9%88%d9%94-%db%94%db%94%db%94/">مسلمانو ! لگاؤ  ۔۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">رمضان میں شیطان اور انقلاب کے منصوبے دونوں بند ہیں ۔شیطان کو اللہ نے جکڑ دیا ہے اور انقلاب کو رمضان اور گرمی نے ۔ شیطان کے چیلے البتہ اپنے کمالات دکھارہے ہیں اور عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری ہے ۔انقلاب کو ابھی اگست تک کولڈاسٹوریج میں رکھا گیا ہے لیکن انقلابیوں کے ہرکارے تذکروں سے اس کی تجلیاں عوام تک پہنچارہے ہیں ۔ رمضان کے بعد روزے داروں کو عید کا تحفہ ملے گا اور عید کے بعد انقلاب کی تیاری ہوگی ۔ اس سے پہلے رمضان ہے جس سے کچھ مسلمان اپنے مطلب کی برکت سے مستفید ہورہے ہیں ۔<br>
یہ برکت دکانوں پر اپنا سامان بیچنے والوں کو مل رہی ہے تو ٹی وی پر دوسروں کا سامان بیچنے والوں کو وہ بھی مفت میں ۔ بس خریداروں سے مطالبہ ایک ہی ہے کہ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔ لوگوں کو تکے تکے میں موٹر سائیکل مل جاتی ہے تو کبھی تکے میں سونا ۔ کبھی تکے میں کار تو کبھی تکے میں جوتے ۔<br>
ہم جس قدر مہذب اور منظم قوم ہیں ہمیں سب کچھ تکے میں ہی ملتا ہے ۔ تکے میں ہمیں کرکٹ ورلڈ کپ ملا۔ہم تو فنڈز کی کمی کے مارے ہوئے لوگ بھیجنے کو بھی تیار نہ تھے مگر بھلا ہو چندہ دینے والوں کا کہ تکے میں ہمیں اسنوکر چیمپین محمد آصف ملا ۔ تکے میں ہمیں پتہ چل گیا کہ شمالی وزیر ستان آپریشن دو ہزار دس میں ہوجانا چاہیے تھا مگر اک ’’ خاص ہچکچاہٹ ‘‘ تھی کہ یہ ’’ بڑا آپریشن‘‘ نہیں ہوا ورنہ امن کی پیدائش بہت پہلے ہی ہوجاتی ۔ ایک تکا جنرل مشرف کا لگا اور میاں صاحب نے سینئرز کی چھٹی کرتے ہوئے جنرل صاحب کو ’’ جنرل صاحب ‘‘ بنا دیا اور پھر مشرف صاحب نے جنرل بن کر دکھا یا اور اس کے بعد کئی تکے لگائے ۔ قاف لیگ کا تکا لگا اور پھر جمالی صاحب کا تکا لگا ۔ پنجاب میں چوہدری پرویز الہی صاحب کا تکا لگا اور اس کے بعد مرکز میں چوہدری شجاعت کا ایک ’’مہا عبوری تکا‘‘ لگا ۔ اس دور میں تکوں کی ایک تاریخ ہے ۔<br>
ایک تکا لگا ایک لفٹ آپریٹر کا تو وہ دریا پارکراتے کراتے خون کے دریا بہانے لگا اور نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ حکومت کو لفٹ آپریٹر کو مذاکرات تک کی لفٹ کرانا پڑی ۔ غور کریں تو ہر تکے کے پیچھے ’’بے تکے‘‘ اقدام نظر آئیں گے ۔ ماڈل ٹاؤن لاہور میں بھی سترہ جون کو ایک بے تکا اقدام کیا گیا بے چارے غریبوں کے بچے مارے گئے اور قادری صاحب کا حکومت کو للکارنے کا تکا لگ گیا ۔ قادری صاحب کا ایک تکا دوہزار تیرہ کے الیکشن سے پہلے لگا اور انہوں اسے کنٹینر کے اندر تکے سے بے تکے میں بدل دیا ایک بار پھر قادری صاحب بے تکے انقلاب کے تکے لگانے کے دعوے کررہے ہیں تو موقع ہے کہ پوری قوم کو دعوت دی جائے مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔<br>
پہلا سوال یہ ہے کہ قادری صاحب نے دوہزار تیرہ کا اسلام آباد دھرنا دیا کیوں تھا ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔<br>
سوال تو یہ بھی ہے کہ قادری صاحب نے حکومت کو مجبور کرنے کے باوجود کیا حاصل کیا ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔<br>
قادری صاحب بین الاقوامی حلفیہ اقرار کے تحت کس کے وفادار ہیں ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔<br>
قادری صاحب کے اپنے فرمان کے مطابق ان کو کس جوتیاں پہنانے والے کی خدمت کی ’’ حیا ‘‘ زندگی بھر رہے گی ؟ مسلمانو!۔۔۔۔۔۔۔<br>
قادری صاحب نے میاں صاحب کے کاندھوں پر سوار ہوکر کس مبارک سفر کا ذکر کیا تھا ؟ مسلمانو ۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
قادری صاحب نے جہاز میں ایک مطالبے سے دست بردار ہوکر دوسرا مطالبہ پیش کرنے میں کتنی دیر لگائی تھی ۔ مسلمانو۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
قادری صاحب کے گھر کے پھیرے لگاتے ہوئے کون سی دو شخصیات بھول گئی ہیں کہ<br>
قدر کھودیتا ہے ہر روز کا آنا جانا<br>
مسلمانو! لگاؤ تکے ۔<br>
لگاؤ تکا اور بتاؤ کہ قادری صاحب کینیڈا سے کتنے بیگز میں انقلاب بھر کر لائے ہیں ؟<br>
مسلمانو یہ تکا بھی لگاؤ کہ قادری صاحب کی اے پی سی میں جو ’’چالیس بڑی ‘‘ جماعتیں شامل تھیں ان میں سے چھ کے نام کیا ہیں ؟<br>
تکا لگاؤ اور گلا پھاڑ کے بولو کہ وہ کون سا گلا ہے جو کبھی بیٹھ نہیں سکتا ؟<br>
وہ کون سا سابق وفاقی وزیر ہے جو اگست میں حتمی طور پر انقلاب کی دو میں سے کسی ایک ٹرین کا ٹکٹ لینے پر مجبور ہوجائے گا؟ مسلمانو! لگاؤتکے ۔<br>
لندن میں جن’’دو شخصیات ‘‘ کے درمیان بیٹھ کر طاہر القادری نے شریف خاندان کو خاندانی سیاست کو طعنہ دیا تھا ان کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ مسلمانو ! لگاؤ تکے ۔<br>
خالی جگہ پر کرنے کے لیے تکا لگاؤ مسلمانو اور بتاؤ کہ طاہر القادری شہادت سے نہیں ڈرتے مگر انہیں پھر بھی ۔۔۔۔۔ کی سیکیورٹی چاہیے ۔<br>
سترہ جون کو وہ کون سا پولیس والاتھا جو پولیس میں ہوکر بھی پولیس میں نہیں تھا ؟ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔<br>
گلو بٹ ، طاہرالقادری اور رانا ثنائ اللہ میں گزشتہ مہینے کی میڈیا پرسنالٹی آف دی منتھ کون رہی ؟ مسلمانو! لگاؤ تکے ۔<br>
آپ کے ہر لگنے والے تکے کا انعام سوشل میڈیا پر اس ناچیز کو ایک ۔۔۔۔ کی صورت میں ملے گا ؟ آپشن نمبر ایک تالی ، آپشن نمبر دو تھالی اور آپشن نمبر تین تالی اور تھالی کے وزن پر۔۔۔۔ تو مسلمانو! لگاؤ تکے ۔<br>
اگر کوئی تکا لگ گیا تو طاہر القادری کا انقلاب ان کے اپنے فرمودات کے مطابق دوہزار چودہ ہی میں آئے گا اور اگر نہیں لگا تو قادری صاحب بیگز بھر کر آئے ہیں شہریت ترک کرکے نہیں ، بنا بے آبرو ہوئے وہ ہمارے کوچے سے نکل جائیں گے لیکن ان کا انقلاب اور انقلاب سے نمٹنے کا حکومت کا انتظام کہیں پھر تکے کو بے تکا کرتے ہوئے غریبوں کے بچے نہ کچل دے ۔ اب اس بے تکے تکے کے کالم سے اجازت اس اپنے پن کے ساتھ کہ انقلاب سے پہلے، اس کے دوران اس کے بعد بھی اپنا بہت خیال رکھیے گا ۔ السلام و علیکم و رحمتہ اللہ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88-%d9%84%da%af%d8%a7%d9%88%d9%94-%db%94%db%94%db%94/">مسلمانو ! لگاؤ  ۔۔۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85%d8%a7%d9%86%d9%88-%d9%84%da%af%d8%a7%d9%88%d9%94-%db%94%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خود مختار، میری جوتی! ۔</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%94/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%94/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[طارق متین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 23 Jan 2014 12:30:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=3612</guid>

					<description><![CDATA[<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 14px; direction: rtl; line-height: 25px; text-align:right;">پاکستان تحریک الزام کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک "بونگے بچے" کی نیکر جتنے خود مختار ہیں  جسے شرارتی بچے بار بار نیچے سرکا دیتے ہیں </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%94/">خود مختار، میری جوتی! ۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 18px; direction: rtl; line-height: 30px; text-align: right;"><b>طارق متین</b></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/01/Khud-mukhtar.jpg"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-3613" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/01/Khud-mukhtar.jpg" alt="Khud-mukhtar" width="650" height="300" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/01/Khud-mukhtar.jpg 650w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2014/01/Khud-mukhtar-300x138.jpg 300w" sizes="(max-width: 650px) 100vw, 650px"></a></p>
<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 18px; direction: rtl; line-height: 30px; text-align: right;">
<p>پاکستان تحریک الزام کو سمجھ لینا چاہیے کہ ہم ایک “بونگے بچے” کی نیکر جتنے خود مختار ہیں جسے شرارتی بچے بار بار نیچے سرکا دیتے ہیں اور بونگے پن اور بزدلی سے واقف ہونے کے باعث یہ شریر بچے نیکر سرکاکر بھاگنے کی بجائے سامنے کھڑے ہو کر مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ بیچ بھرے بازار رسوائی کے بعد اپنی خود مختاری سنبھالنے، ناک سکیڑتے گالیاں بکنے اور پتھر اٹھا کر پھینکنے کے سوا اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے؟؟</p>
<div class="rightpullquote">کراچی میں ابھی تین شہادتیں اور ملک بھر میں درجن سے زائد حملے، پولیو مہم کا بار بار تعطل ؛ یہ حملے ہماری خود مختاری پر حملہ ہیں خان صاحب! جان لیجئے ہماری خود مختاری پر حملہ بنوں میں ہوا، آر اے بازار میں ہوا، سوات میں، مردان میں، چار سدہ میں ہوا، صحافیوں پر حملے میں ہوا۔</div>
<p>ڈرون کی سیاست پر جینے والی تحریک الزام ذرا یہ تو بتادے کہ ہماری خودمختاری پر حملہ ڈرون ہے یا “پولیوبان”۔ داڑھی اور بغیر داڑھی کے پی کے حکومت میں شامل ہر دو طرح کی جماعت اسلامی کو پتہ ہونا چاہئے کہ ڈھائی سو کی دیہاڑی پر اپنے بچوں کو گھر چھوڑ کر جو لیڈی ہیلتھ ورکر گھر سے نکلتی ہے تو سردی گرمی نہیں دیکھتی۔ ایک صحت مند مرد بھی اپنا بچہ گود میں اٹھالے تو کچھ دیر بعد بازو بدلنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور یہ خواتین ایک وزنی کولر تھامے برائے نام سہولتوں کے ساتھ گھر گھر پیدل چکر لگاتی ہیں۔ دروازے کھٹکھٹاتی ہیں، ‘ہم پولیو کے قطرے پلانے آئے ہیں، آپ کے گھر میں پانچ سال تک کی عمر کے بچے ہیں؟’ اور پھر جواب میں کہیں حالات کے ڈسے اور کہیں خصلت سے مجبور لوگ ایسی ہی نگاہوں سے دیکھتے ہیں جیسے کوئی مانگنے والا سامنے ہو یا چھوٹتے ہی ڈکیتی کا شبہہ۔ کسی خدمت انجام دینے والے کی ایسی تضحیک دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہوتی مگر ہم! ہم زندہ قوم ہیں پایندہ قوم ہیں ہم سب کی ہے پہچان پوری دنیا میں پولیو بان۔ اور اس تضحیک پر مرے کو سو درے یہ کہ سڑک کی تعمیر کے ٹھیکے سے لے کر حج پر خدا کی بستی کو دکاں بنانے تک کے ہڑپشن کے ماہر عوام کے ووٹ سے پانچ سال کے لیے آنے والے عوام کے نوکر عوام کی زندگی حرام کرکے عوام کی گردن پر سوار محافظوں کی فوج کے جھرمٹ میں کیمرے کے گھونگٹ الٹ کر پوری قوم کو اپنی” دلہن” سمجھتے ہیں۔ فرمان جاری ہوتا ہے جتنی سیکیورٹی مل رہی ہے کافی ہے۔</p>
<div class="leftpullquote">یہاں دردر مسیحائی کرتی پولیوورکرز پابند ہیں اور موت بانٹنے والے بے خطر، گلی گلی کی خبر دینے والی آوازیں گنگ ہیں۔</div>
<p>کراچی میں ابھی تین شہادتیں اور ملک بھر میں درجن سے زائد حملے، پولیو مہم کا بار بار تعطل ؛ یہ حملے ہماری خود مختاری پر حملہ ہیں خان صاحب! جان لیجئے ہماری خود مختاری پر حملہ بنوں میں ہوا، آر اے بازار میں ہوا، سوات میں، مردان میں، چار سدہ میں ہوا، صحافیوں پر حملے میں ہوا۔ چوہدری اسلم پر حملے میں ضرب ہماری خود مختاری پر آئی۔ جسے اعتزاز نے ناکام بنایا وہ خودکش حملہ آور ہماری ریاست اور اس کے آئین پر حملہ آور ہونے کو لپکا تھا! ایک ملالہ نہیں تعلیم کے حق کے لئے اٹھنے والی ہر آواز کو سوات طالبان نے دبانے کی کوشش کی ہے۔ جو دہشت گرد اور قیدی بنوں اور ڈی آئی خان کی جیلوں پر ہونے والے حملوں میں بھگا لئے گئے وہ پاکستانی ریاست اور عوام کے مجرم تھے، ہماری خودمختاری کی چادر کا تقدس میرے پیارے کپتان پامال ہواتھا جب زیارت پر حملہ ہوا۔ جب کوئٹہ میں طالبات کی بس پر حملہ ہوا۔ جب بولان میڈیکل کمپلیکس پر حملہ ہوا، جب سعد خان شہید ہوا، جب صفوت غیور شہید ہوا، جب راولپنڈی سے کراچی تک ہمارے عسکری اداروں پر حملہ ہواتو خودمختاری کی اینٹ سے اینٹ بجی تھی۔ تسلیم کہ جب ڈرون طیاروں سے ہلاکتیں ہوتی ہیں تو بے گناہ مارے جاتے ہیں لیکن جب بم پھٹتا ہے، جب اپنی خود ساختہ جنت کا راہی پھٹتا ہے تو کیا بلی کے بچے مرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں مرنے والوں کا مسلک کوئی بھی ہے، قومیت بہرطور پاکستانی ہی ہے۔</p>
<div class="rightpullquote">زندگی بچانے کے لئے زندگی چھیننے والوں کے سامنے مزاحمت کرنی ہو گی۔ دشمن کو دشمن کہہ کر بات کرنی ہو گی۔</div>
<p>اگرتحریک الزام جاننا چاہے تو خودمختاری کی تعریف بھی آپ کے لیے پیش خدمت ہے لغت کی رو سے خودمختاری کا مطلب آزادی اور خود اختیاری کا تحفظ ہے۔ تو ہمارے عزیز وطن میں آزاد کون ہے وہی جس کے وکیل آپ ہیں، وہ جو سکول اڑانے کے لیے آزاد ہیں۔ محبت، امن اور سکون کی گہوارہ خانقاہوں کے صحن جن کی دہشت سے سمٹنے لگے ہیں، جن کی برسائی گولیوں سے دعاوں کے دامن چھلنی ہیں۔ جن کے خوف سے ڈھولچیوں کو ماترے بھول گئے ہیں اور دھمالیوں کے گھنگھرووں کا وجدان ساکت ہو گیا ہے۔ عزاداروں کے پاس رونے کو آنسو نہیں اورغم حسین کے ساتھ اب ہر گھر کا غم بھی اتنا ہی تازہ ہے۔ یہاں دردر مسیحائی کرتی پولیوورکرز پابند ہیں اور موت بانٹنے والے بے خطر، گلی گلی کی خبر دینے والی آوازیں گنگ ہیں۔ اور دھمکیاں ہر کان کو سنائی دے جاتی ہیں۔ محافظوں اور رکھوالوں کے ہاتھ بندھے ہیں اور غنیم کا راستہ کھلا ہے۔ غلامی کی باتیں کرنے والے میرے کرکٹرکپتان آپ کی گالیاں میدان میں کمزور کھلاڑیوں پر اثر کرتی تھیں مگر آپ کی کمزور اپیل منہ زور خودمختاروں پر اثر نہیں کرتی۔ حقیقیت یہ ہے کہ تنی ہوئی بندوق جھکانے کے لیے گری ہوئی بندوق اٹھانی پڑتی ہے، زندگی بچانے کے لئے زندگی چھیننے والوں کے سامنے مزاحمت کرنی ہو گی۔ دشمن کو دشمن کہہ کر بات کرنی ہو گی۔</p>
</div>
<hr style="width: 640px;" width="640">
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%94/">خود مختار، میری جوتی! ۔</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d9%85%d8%ae%d8%aa%d8%a7%d8%b1%d8%8c-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%8c-%d8%ac%d9%88%d8%aa%db%8c-%db%94/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
