<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>شمائلہ وقار, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/shumaila-waqar/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 16:16:51 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>شمائلہ وقار, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Sep 2016 01:31:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Effects of facebook]]></category>
		<category><![CDATA[Effects of Social media]]></category>
		<category><![CDATA[Social media and pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل میڈیا]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل میڈیا اور پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[سوشل میڈیا کے اثرات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18116</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">شمائلہ وقار: ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81/">کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ ‘یہ ویب سائٹس کس طرح پاکستان اور دنیا کو تبدیل کر رہی ہیں؟’ اس موضوع پر مضامین کا ایک سلسلہ لالٹین پر شروع کیا جا رہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں ان مضامین سے ادب، معاشرے، سیاست، صحافت، تفریح اور دیگر شعبہ ہائے زندگی پر ان ویب سائٹس کے اثرات سمجھنے میں مدد ملے گی۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urduexcerpt">اس <a href="https://laaltain.pk/category/laaltain-categories/society-laaltain-categories/social-median-and-pakistan/" target="_blank" rel="noopener">سلسلے</a> کے دیگر مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">معلوم نہیں کوئی بھی چیز وائرل کس طرح ہوتی ہے اور کیوں اتنے بہت سے لوگ کسی ایک بات پر فوراً ٹویٹس اور تبصروں کے خنجر ایک دوسرے پر سونت لیتے ہیں۔ میرے لیے ایک تصویر یا ویڈیو کا ٹرینڈ کرنا اور پر ہونے والے مباحثوں کامعاملہ ایک معمہ ہی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ایک تنازعے کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ بھی ایسا جو سنسنی پھیلا دے۔ ہم صرف ان باتوں کو پھیلاتے ہیں جن کی مدد سے ہم اپنی ناپسندیدہ شخصیات کو بدنام کر سکیں یا اپنے پسندیدہ لوگوں کو ہر معاملے میں درست ثابت کر سکیں۔ وہ تمام باتیں جن سے ہمارے موقف کی تائید یا تردید نہیں ہوتی ہمارے لیے بے معنی ہیں۔ وہ تمام واقعات جو کسی بھی طرح ہمارے سیاسی رحجانات کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتے ہمارے لیے قابل توجہ نہیں۔ ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ہمیں ہر وقت کچھ ایسا چاہیئے جو متنازع ہو یا جس کے باعث جھگڑا کھڑا ہو سکے، بات توتو میں میں تک پہنچے، گالم گلوچ کی نوبت آئے، پگڑیاں اچھالی جائیں اور ایک دوسرے کی ہنڈیا بیچ چوراہے پھوڑی جائے۔</div>
<div class="urdutext">ابھی حال ہی میں دو تین ایسے واقعات پیش آئے جو میرے اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں <a href="http://www.dw.com/ur/%D8%AF%DA%A9%DA%BE%D8%A7%D9%88%D8%A7-%DA%86%DA%BE%D9%88%DA%91%D9%8A%DA%BA-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1-%D8%A8%DA%86%D9%88%DA%BA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%8A%D9%85-%DA%A9%DB%92-%D9%84%D9%8A%DB%92-%D8%A7%D9%82%D8%AF%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA-%DA%A9%D8%B1%D9%8A%DA%BA-%D9%85%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%81/a-19549479" target="_blank" rel="noopener">ملالہ یوسفزئی نے ایک بیان</a> میں یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ ہجرت کر کے آنے والے بچوں کی تعلیم کے لیے عملی اقدامات کریں۔ یہ خبر کہیں بہت سی خبروں میں دبی رہی حالانکہ ملالہ یوسفزئی اور اس کے بیانات ہمارے ہاں ایک ایسا موضوع ہیں جو مذہبی غیر مذہبی، لبرل اشتراکیت پسند، دائیں اور بائیں بازو غرض ہر قسم کے حلقوں کے لیے ایک بہت بڑے تنازعے کا باعث ہے۔ ملالہ کے اس بیان پر اوریا مقبول جان کا کوئی کالم اس کے خلاف نہیں آیا، کسی اینکر پرسن نے اس معاملے پر ملالہ کی نیت پر شبہ کیا۔ اور سوشل میڈیا پر بھی اس پر کوئی تنازع کھڑا نہیں ہوا۔ اس بات کو بس ایک خبر کے طور پر دیکھا گیا اور بات آگے بڑھ گئی چند فیس بک صفحات نے اس بات پر بھی مخالفین کا منہ چڑانے کی کوشش کی مگر دال نہیں گلی اور سب بھول بھال گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی طرح عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے ہندوستانی فوج کے کشمیر میں مظالم پر ہندوستان کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ <a href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/09/160916_asma_interivew_fz" target="_blank" rel="noopener">بلوچستان کا کشمیر کی صورت حال سے موازنہ درست نہیں</a>۔ عاصمہ جہانگیر کو کئی مذہبی فیس بک صفحات ہندوستان کی ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ ان کی حب الوطنی پر شک کیا جاتا ہے۔ <a href="https://www.youtube.com/watch?v=qBXnaFXpzQo" target="_blank" rel="noopener">یوٹیوب پر ویڈیوز</a> میں انہیں ملک دشمن ثابت کیا جاتا ہے اور جب بھی وہ فوج پر گرجتی برستی ہیں تو یہ ویڈیوز وائرل ہو جاتی ہیں مگر میں نے کسی مذہب پسند صفحے پر اس بیان کے حوالے سے کچھ نہیں دیکھا۔ لیکن اس کے برعکس جب بھی وہ فوج کی جانب سے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات کی جاتی ہے تو عاصمہ جہانگیر کے خلاف وہ طوفانِ بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے کہ الامان۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔ مرنے والوں کے لاشوں، ان کے عقائد، ان کی بے گناہی اور ان پر سامنے آنے والا ردعمل ہر طرح سے جانبدار ہوتا ہے۔ اکثر فیس بک صفحات پر میں اس قسم کا مواد دیکھتی ہوں کہ اگر یہی بم دھماکہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا تب بھی لبرلز کا یہی ردعمل ہوتا(مثلاً فرانس میں ہونے والے حملے اور امریکہ میں ایک ہم جنس پرستوں کے کلب پر حملہ)۔ اسی طرح ہم نے فرانس میں برقینی پر پابندی کے معاملے میں ایسی پوسٹس پڑھیں کہ اگر خواتین کے ساتھ فلاں واقعہ کسی مسلم ملک میں ہوا ہوتا تو کیا مذہبی جماعتیں اسی طرح احتجاج کرتیں وغیرہ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ماضی قریب میں سامنے آنے والی خبروں پر ہونے والی بحث کے دوران سوشل میڈیا پر ان خبروں کے متنازع ترین پہلووں پر ہی بات چیت کی جاتی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بم دھماکوں اور انسانی سانحات کو بھی تنازعات میں تبدیل کر دیا گیا۔</div>
<div class="urdutext">ایسے لگتا ہے جیسے ہر فرد نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک نظریاتی مورچہ سنبھالا ہوا ہے اور وہ کسی بھی طرح کسی ایسی بات کی حمایت یا مخالفت کرنے کو تیار نہیں جس سے اس کے نظریاتی موقف کو گزند پہنچنے کا امکان ہو۔ ہر خبر اور ہر واقعے پر ہمارا ردعمل کبھی بھی متوازن، غیر جانبدارانہ یا عالمانہ نہیں ہوتا۔ بس ایک ہی کوشش ہوتی ہے کہ اپنی اپنی نظریاتی جنتوں اور جہنموں کا وجود ثابت کیا جائے۔ کوئی یورپ پر آنچ نہیں آنے دیتا، کسی نے سعودی اور ایرانی حکومتوں کے دفاع کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ کچھ فیس بکیے فوج کے دفاع پر کمربستہ ہیں تو کچھ سیاستدانوں کے متوالے ہیں، کچھ کو سب خرابیاں مذہب اور مولوی میں دکھائی دیتی ہیں اور کوئی ہر معاملے میں امریکہ کی مخالفت فرض سمجھتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سماجی رابطوں کی ویب سائٹس نے ہمارے تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے رویے کو پرورش دی ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر چیز میں سازش تلاش کرتے رہے ہیں اور ہر بات کو جھگڑے کی شکل دینے میں مہارت رکھتے ہیں سوشل میڈیا پر جہاں ہمارے لیے اپنی شناخت چھپانا بھی ممکن ہے اور کسی بھی شخص سے براہ راست ٹاکرے کا امکان بھی نہیں وہاں تنازعات کو تصادم کی شکل دینا بے حد آسان ہو گیا ہے۔ ہم ہر معاملے کو ایک تنازعے کی شکل دینا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔ یہ الاو تب تک روشن رکھے جاتے ہیں جب تک کہیں کوئی اور چنگاری آن لائن نہ ہو جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اگر ایک تنازعہ موجود نہیں ہے تو کھڑا کیا جائے، اگر موجود ہے تو اسے بھڑکایا جائے، اگر تنازع بھڑک رہا ہے تو ہم اس میں اپنے اپنے نظریات کا ایندھن جھونکنے میں لگے رہتے ہیں تاوقتیکہ کہ ہمارے اپنے ہاتھ جھلسنے لگیں۔</div>
<div class="urdutext">تنازعات کی ٹوہ میں رہنے کے اس رحجان نے ہماری عام زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم جو پہلے ہی ہر شخص کے معاملے میں Judgmental تھے ہم نے اب یہ کام پہلے سے کہیں زیادہ شروع کر دیا ہے۔ فلانے کی بات مت سنو وہ لبرال فاشسٹ ہے، اس کی تحریر مت پڑھو کہ وہ بنیاد پرست مولوی ہے، اس کا پیج لائیک مت کرنا وہاں را کے ایجنٹ بیٹھے ہیں، اس کو بلاک کر دو یہ تو ملحد ہو گیا ہے، فلاں یہ ہے اور فلاں وہ ہے کے لیبل لگانا اتنا آسان ہو گیا ہے کہ ہر کسی کی ہر بات متنازع ہو گئی ہے اور ایسے میں کہیں بھی کوئی بھی معقول یا متوازن رائے پڑھنے کو نہیں ملتی۔ موٹروے پولیس کے اہلکار پر فوجی افسران اور جوانوں کے تشدد کی خبر پر جو طوفان بدتمیزی برپا ہوا وہ اس کی ایک حالیہ مثال ہے۔ سوائے ‘ہم سب’ پر شائع ہونے والی ایک دو تحاریر خصوصاً م<a href="http://www.humsub.com.pk/25827/wajahat-masood-127/" target="_blank" rel="noopener">حترم وجاہت مسعود کی تحریر کے</a> ہر کسی نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے اور سنگ باری شروع ہو گئی۔ پہلے پہل فوج کو بدنام کیا گیا پھر اس پورے واقعے کو ہی فوج کے خلاف پروپیگنڈا قرار دے کر تنازعے کی نذر کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ تخریب پسندی بہت بری طرح سے ہمارے دنیا اور لوگوں سے متعلق تصورات کو بدل رہی ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ تبدیلی نہایت منفی ہے۔ اب ہم سوشل میڈیا سے باہر بھی ایسے ہی رویوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سبزی خریدتے ہوئے، بچوں کو سکول چھوڑتے ہوئے، کلاس میں پڑھاتے ہوئے یا اپنے گھر والوں، پڑوسیوں اور کولیگز سے بات کرتے ہوئے ہم صرف تنازعات کو ہوا دیتے رہتے ہیں اور کسی بھی ایسے شخص پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں جو ہم سے مختلف نظریات رکھتا ہو۔ ہمیں ہر وقت ایک تنازعے کی تلاش رہتی ہے اور اگر نیٹ نہ ہو، یا کوئی متنازع چیز ٹرینڈ نہ کر رہی ہو تو ہم عجیب سی craving کا شکار ہو جاتے ہیں کہ بس ابھی کوئی ایسی بات ہو کہ ہم خوب تالیاں پیٹیں، تو تڑاخ کریں اور ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘تنازع پسندی’ کی یہ انسانی جبلت معلوم نہیں آگے کیا رخ اختیار کرے گی لیکن یہ بات طے ہے کہ اب جنگیں ٹی وی پر نہیں درحقیقت سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہیں۔ کسی بھی خبر کے نیچے بس پاکستانیوں یا ہندوستانیوں کے کمنٹس پڑھ لیجیے آپ خود ہی سمجھ جائیں گے کہ تنازعات کس طرح پیدا ہو رہے ہیں۔ کس طرح ہم سب ایک طرف ان تنازعات کا حصہ بننے پر مجبور بھی ہیں اور اپنی ٹویٹس، پوسٹس اور میمز کے ذریعے تنازعات کھڑے کرنے کی دبی دبی خواہش بھی رکھتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81/">کیا ہم سوشل میڈیا پر تنازعات تلاش کرتے ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%a7%d8%b2%d8%b9%d8%a7%d8%aa-%d8%aa%d9%84%d8%a7%d8%b4-%da%a9%d8%b1%d8%aa%db%92-%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ڈورے مون کے نام نو سالہ زین العابدین کا خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%88%d9%88%d8%b1%db%92-%d9%85%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%88%d9%88%d8%b1%db%92-%d9%85%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Aug 2016 15:16:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Ban on doraemon]]></category>
		<category><![CDATA[Doraemon]]></category>
		<category><![CDATA[Letter to Doraemon]]></category>
		<category><![CDATA[ڈورے مون]]></category>
		<category><![CDATA[ڈورے مون پابندی]]></category>
		<category><![CDATA[ڈورے مون کے نام خط]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17055</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">میں تمہیں بتاوں کہ تمہاری وجہ سے میں بگڑا نہیں، بلکہ میں نے سیکھا ہے کہ مجھے ایک عام سا بچہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی مشکل کا سامنا کر سکتا ہوںمیں جیان سے بھی بچ سکتا ہوں اور اپنی پسند کے مطابق سب کچھ کر سکتا ہوں۔  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%88%d9%88%d8%b1%db%92-%d9%85%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/">ڈورے مون کے نام نو سالہ زین العابدین کا خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">عرضِ مصنف: جب میرے بیٹے کو پتہ چلا کہ ڈورے مون پر پابندی لگ سکتی ہے تو وہ بے حد غصے میں آ گیا۔ پہلے پہل تو میں نے اور میرے میاں نے اسے چھیڑا لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ اگر ہم بچوں سے ان کی یہ واحد تفریح بھی چھین لیں گے تو وہ کیا کریں گے؟ اسے بہلانے کے لیے میں نے اسے کہا کہ چلو ہم ڈورے مون کو خط لکھتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں۔ کیا پتہ ڈورے مون واقعی کوئی ایسا gadget بھیج دے جس سے ہمارے بچوں کی یہ خوشی قائم رہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">پیارے ڈورے مون! اسلام علیکم</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اگر میں ڈورے مون نہیں دیکھوں گا تو کیا دیکھوں گا؟ کیامیں خبریں دیکھوں گا جس میں ہر وقت لڑائی اور خون خرابہ ہوتا ہے، یا میں ڈرامے دیکھوں گا جن میں ہر قسط میں کسی نہ کسی کی طلاق ہوتی ہے یا شادی؟</div>
<div class="urdutext">امید ہے تم خیریت سے ہو گے، میں خیریت سے ہوں اور اس بات پر سخت غصے میں ہوں کہ تمہارے کارٹون بند ہو جائیں گے۔ مجھے نہیں پتہ کہ تمہیں اردو آتی ہے یا نہیں کیوں کہ ماما کہتی ہیں تم جاپان کے ہو اور پھر تمہیں ہندوستان میں ہندی زبان سکھائی جاتی ہے۔ لیکن مجھے پتہ ہے تمہارے پاس اردو پڑھنے والا gadget بھی ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ تم نوبیتا کے دوست ہو اور تمہارے پاس ہر مشکل کے لیے ایک gadget ہے، لیکن کیا تمہارے پاس کوئی ایسا gadget جو <a href="http://www.dawn.com/news/1275117" target="_blank" rel="noopener">عمران خان انکل کی پارٹی کو تمہارے کارٹون بند کرنے</a> سے روک سکے؟ لیکن رکو میں تمہیں بتا دوں کہ میں تمہیں ہر روز دو گھنٹے دیکھتا ہوں، تم بہت ہنساتے ہو، اور تمہاری وجہ سے میں کبھی بھی بور نہیں ہوتا۔ اتوار کے روز میں تمہیں چار گھنٹے دیکھتا ہوں اور اگر میرا کزن ٹیپو یا میرا دوست ارسلان آ جائیں تو پھر ہم مل کر تمہارے کارٹون دیکھتے ہیں۔ پہلے میں شام کو سائیکل چلانے جاتا تھا مگر اب میں باہر نہیں جا سکتا، امی کہتی ہیں لاہور میں بچے اغواء ہو رہے ہیں سو تم سائیکل چلانے نہیں جا سکتے۔ پہلے ہم لڈو کھیلتے تھے مگر آپی اب بڑی ہو گئی ہے اور وہ شام کو اکیڈمی چلی جاتی ہے اور میرے پاس اور کرنے کو کچھ نہیں ہوتا اس لیے میں تمہارے کارٹون دیکھتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تمہیں پتہ ہے کہ میں صبح سکول جاتا ہوں پھر مجھے قاری صاحب پڑھانے آتے ہیں اور پھر ٹیوٹر اور اس کے بعد میں تمہارے کارٹون دیکھتا ہوں۔ مجھے قاری صاحب پسند نہیں وہ مجھے چھٹی نہیں دیتے اور ان کا بیٹا ڈورے مون نہیں دیکھتا وہ حفظ کرتا ہے۔ میری ماما exam کے دنوں میں تمہارے کارٹون بند کر دیتی ہیں اور ہوم ورک کرنے سے پہلے بھی نہیں دیکھنے دیتیں۔ اب وہ مجھے چھت پر بھی نہیں جانے دیتیں اور گلی میں بھی نہیں، وہ مجھے اب دکان پر بھی نہیں بھیجتیں اور کرکٹ بھی اب ہم نہیں کھیل سکتے کیوں کہ سڑک میں پائپ ڈالنے کے لیے اسے کھود دیا گیا ہے۔ میرے پاس تمہاری تصویروں والی کلرنگ بک بھی ہے اور میرے پاس تمہاری شکل والا لنچ باکس اور جیومیٹری باکس بھی۔<br>
لیکن بابا نے آج مجھے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں عمران خان انکل والی پارٹی نے ایک قرارداد جمع کرائی ہے (حالانکہ مجھے نہیں پتہ کہ یہ کیا ہوتی ہے) اور انہوں نے بتایا ہے کہ وہ تمہارے کارٹونوں پر پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ انہیں کارٹون نیٹ ورک بھی پسند نہیں اور وہ کہتے ہیں کہ ہم بچے ڈورے مون کو دیکھ کر اپنی عادتیں بگاڑ لیتے ہیں۔ ماما اور بابا اس بات پر خوش ہیں کہ چلو اب میں ٹی وی کے سامنے زیادہ وقت نہیں گزار سکوں گا۔ انہوں نے مجھے چھیڑا بھی ہے کہ اب تمہارا ڈورے مون کیا کرے گا۔ لیکن اگر میں ڈورے مون نہیں دیکھوں گا تو کیا دیکھوں گا؟ کیامیں خبریں دیکھوں گا جس میں ہر وقت لڑائی اور خون خرابہ ہوتا ہے، یا میں ڈرامے دیکھوں گا جن میں ہر قسط میں کسی نہ کسی کی طلاق ہوتی ہے یا شادی؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">میں تمہیں بتاوں کہ تمہاری وجہ سے میں بگڑا نہیں، بلکہ میں نے سیکھا ہے کہ مجھے ایک عام سا بچہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی مشکل کا سامنا کر سکتا ہوں، میں جیان سے بھی بچ سکتا ہوں اور اپنی پسند کے مطابق سب کچھ کر سکتا ہوں۔</div>
<div class="urdutext">میں تمہیں بتاوں کہ تمہاری وجہ سے میں بگڑا نہیں، بلکہ میں نے سیکھا ہے کہ مجھے ایک عام سا بچہ ہوتے ہوئے بھی ہر قسم کی مشکل کا سامنا کر سکتا ہوں، میں جیان سے بھی بچ سکتا ہوں اور اپنی پسند کے مطابق سب کچھ کر سکتا ہوں۔ میں نے تمہاری وجہ سے ڈرنا بھی کم کر دیا ہے کیوں کہ تم بہادر ہو اور نوبیتا کو مشکل سے بچاتے ہو۔ میں نےتم سے ہندی سیکھی ہےجو اردو سے ملتی جلتی ہے اور میں نے تم سے مزے مزے کے gadget بنانے کے آئیڈیاز سیکھے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں بڑا ہو کر وہ سارے gadget ایجاد کروں جو تم نے نوبیتا کو دیے۔ میں بھی تمہاری طرح ذہین بننا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہاری طرح ایک دن اتنے سارے gadget بنا لوں کہ میں سب مسئلے حل کر لوں۔ میں ایسے gadget بناوں گا جو میرے ملک کے سب بچوں کو خوش رکھ سکیں، انہیں کھیلنے کے میدان، میک ڈونلڈ، اور سال میں آٹھ مہینے کی چھٹیاں دلا سکیں۔ جو انہیں ایک سپیس شپ (اصلی والی) اور ایک گئیرز والی سائیکل دلا سکیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں ایسے gadget بنانا چاہتا ہوں جس سے عمران خان انکل کی پارٹی کے تمام لیڈرز کو پھر سے بچہ بنا دوں تاکہ وہ بھی میرے ساتھ ڈورے مون دیکھ سکیں اور انہیں پتہ چلے کہ ڈورے مون کتنا funny اور کتنا مدد کرنے والا ہے۔ اگر جاپان کے بچے ڈورے مون دیکھ کر خراب نہیں ہوتے تو پاکستان کے بچے ڈورے مون دیکھ کر کیسے بگڑسکتے ہیں؟(یہ لائن ماما نے لکھوائی ہے) میں تم سے ملنا چاہتا ہوں اور میں تم سے ایک ایسا gadget ادھار لینا چاہتا ہوں جس سے میں جب چاہوں جتنے چاہوں ڈورےمون دیکھ سکوں اور کوئی مجھے ایسا کرنے سے نہ روکے۔ اور ڈورے می کو بھی میرا سلام کہنا اور شزوکا اور نوبیتا کو بھی۔ خط کا جواب ضرور دینا اور مجھے ایک bamboo copter ضرور بھجوانا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فقط<br>
تمہارا دوست<br>
زین العابدین<br>
کلاس 4th</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%88%d9%88%d8%b1%db%92-%d9%85%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/">ڈورے مون کے نام نو سالہ زین العابدین کا خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%88%d9%88%d8%b1%db%92-%d9%85%d9%88%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85-%d9%85%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%a8%db%8c%d9%b9%db%92-%da%a9%d8%a7-%d8%ae%d8%b7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سنگ میل پبلی کیشنز سے چند گزارشات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%b2-%d8%b3%db%92-%da%86%d9%86%d8%af-%da%af%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%b2-%d8%b3%db%92-%da%86%d9%86%d8%af-%da%af%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Feb 2016 13:04:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Printing and Publishing in Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Sang-e-meel Publications]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں طباعت و اشاعت]]></category>
		<category><![CDATA[سنگ میل پبلی کیشنز]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14903</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ادیبوں کی اموات کا سب سے زیادہ فائدہ شاید ان ناشران نے ہی اٹھایا ہے، پہلے اشفاق صاحب، پھر عبداللہ حسین اور اب انتظار حسین کی کتب کی قیمتوں میں ان کی وفات کے بعد اضافے کا سوچ کر ہی دل کڑھتا ہے اور اس موقع پرستی پر حقیقتاً ماتم کرنے کو دل کرتا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%b2-%d8%b3%db%92-%da%86%d9%86%d8%af-%da%af%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d8%a7%d8%aa/">سنگ میل پبلی کیشنز سے چند گزارشات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="left2pullquote">سنگ میل کی شائع کردہ کتب پڑھنے کے لیے آپ کو خصوصی طور پر مطالعے کی میز پر بیٹھنا پڑھتا ہے اور دوران سفر یا بستر میں لیٹ کر پڑھنے کی عیاشی ممکن نہیں۔</div>
<div class="urdutext">سنگ میل سے پہلا تعارف اخبار جہاں میں مستنصر حسین تارڑ کے ہفتہ وار کالم “کارواں سرائے“کے ذریعے ہوا۔ اپنے ایک کالم میں انہوں نے لاہور کے ایک ایسے اشاعتی ادارے کا ذکر کیا تھا جو نہ صرف مصنفین کو بروقت معاوضہ ادا کرتا ہے بلکہ ہر ایڈیشن کا معاوضہ بغیر تقاضہ کیے ادا کر دیتا ہے۔ ہمارے لڑکپن کا زمانہ تھا اور اس زمانے میں رسالوں اور زنانہ رومانی ڈائجسٹوں کے سوا کم ہی کچھ پڑھنے کو ملتا تھا مگر بھلا ہو کالج کی لائبریری اور میری پھپھو کا جو غزل کہتی تھیں اور اردو کے نامور ادیبوں سے واقف تھیں۔ ان کے بیاہ کے بعد ان کا کمرہ اور کتب کا ایک نادر ذخیرہ میرے ہاتھ آیا۔ رخصت ہوتے وقت وہ اپنی بیشتر کتابیں بھی میرے سپرد کر گئیں کہ انہیں پردیس سدھارنا تھا۔ ان کی اس الماری اور کالج کی لائبریری نے اردو کے بیشتر ادیبوں کے طلسم ہائے ہوشربا کے در مجھ پر کھولے۔ تارڑ صاحب نے بے حد متاثر کیا، پھر انتظار صاحب کی گلی کوچے ہاتھ لگی، کسی نے عبداللہ حسین کا باگھ بھی تھما دیا اور مجھے ایک ایسی چاٹ لگی جو اب تک نہیں اتری۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی زمانے میں سنگ میل والوں سے تعارف ہوا اور پھر سنگ میل سے میرا تعلق گزشتہ سولہ برس استوار ہے۔ اسی زمانے میں ان کی جانب سے مجموعے چھاپنے کا سلسلہ بھی شروع ہوا۔ انتظار حسین، عبداللہ حسین، بیدی، احمد ندیم قاسمی۔۔۔۔غرض کس کا مجموعہ ہے جو انہوں نے نہیں چھاپا۔ سنگ میل نے مجھے اور مجھ جیسے ادب خوروں کو چٹورے پن کی حد تک حریص بنایا ہے۔ ایسے ایسے لوگ جنہیں سب جانتے تھے، مشہور تھے اور سب جنہیں پڑھنا چاہتے تھے، اور وہ بھی جنہیں “کلاسیک” کہہ کر کتب خانوں کی گردآلود الماریوں کے سپرد کر دیا گیا تھا سبھی کو سنگ میل نے چھاپا ہے اور داد پائی ہے۔ سنگ میل نے ایسے ادیبوں کا بھی چھاپا ہے جنہیں کوئی چھاپنے کو تیار نہیں تھا۔ پاکستان میں اردو ادب کی ترویج میں سنگ میل کا کردار بے حد اہم ہے لیکن ہر اچھے آغاز کی طرح شاید معاشی مجبوریوں یا انتظامی غیرذمہ داری کے باعث سنگ میل کی طباعت اور اشاعت کا معیار بھی گرنے لگا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">سنگ میل پبلی کیشنز سے ایک اور تکلیف دہ شکایت کتابوں کے بھدے اور بہت حد تک بدصورت سرورق ہیں۔</div>
<div class="urdutext">سنگ میل کے مستقل خریدار جانتے ہیں کہ سنگ میل پبلی کیشنز کے پاس ادیبوں اور دانشوروں کی سب سے روشن کہکشاں ہے، کسی اور ناشر یا اشاعتی ادارے کے پاس اس قدر بڑے نام اور کتابوں کی اس قدر طویل فہرست نہیں جیسی سنگ میل پبلی کیشنز کا اثاثہ ہے۔ <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Prof.%20Ahmad%20Rafique%20Akhtar&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">احمد رفیق اختر</a>، قرۃ العین حیدر، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Bano%20Qudsia&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">بانو قدسیہ</a>، اشفاق احمد، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Mustansar%20Hussain%20Tarar&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">مستنصر حسین تارڑ</a>، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Ahmad%20Nadeem%20Qasmi&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">احمد ندیم قاسمی</a>، گلزار، امجد اسلام امجد، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Abdullah%20Hussain&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">عبداللہ حسین</a>، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductCatalog.aspx?Author=Intizar%20Hussain&amp;Page=1" target="_blank" rel="noopener">انتظار حسین</a>، راجنگدر سنگھ بیدی، ضمیر جعفری، مرزا ہادی رسوا، پریم چند، شفیق الرحمن اور بہت سے۔ لیکن اس سب کامیابی، پذیرائی اور نیک نامی کے باوجود گزشتہ دس برس کے دوران اس ادارے کی طباعت اور اشاعت کا معیار بتدریج انحطاط پذیر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سنگ میل کی کتابوں پر مجھے سب سے بڑا اعتراض ان کے بے تحاشا مہنگا ہونے کی وجہ سے ہے۔ سنگ میل کی شائع کردہ کتب گو اچھے اور معیاری کاغذ پر چھپتی ہیں، اور وہ یقیناً ادباء کو معقول معاوضہ بھی دیتے ہوں گے لیکن ان کی کتب عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ پچھلے دنوں لاہور کی معروف کتابوں کی دکان ریڈنگز پر القاء پبلی کیشنز والوں کی کتب دیکھ کر خوش گوار حیرت ہوئی۔ ان کی کتب سنگ میل کے مقابلے میں بے حد سستی اور معیاری معلوم ہوئیں۔ حال ہی میں انہوں نے اسد محمد خان اور ناصر کاظمی کو اس دیدہ زیب انداز میں چھاپا ہے کہ جی خوش ہو گیا۔ سنگ میل والے بھی کتب کی قیمت کم رکھنے کے لیے مجموعے چھاپتے ہیں لیکن مجموعہ اس قدر بھاری اور پڑھنے میں اس قدر دشوار ہوتا ہے کہ اسے خریدنا اور خرید کر پڑھنا بجائے خود ایک کار دشوار ہے۔ سنگ میل کی کتب کی قیمت زیادہ ہونے کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہے کہ وہ سخت گتے کی جلد (Hard Binding)کے ساتھ کتب چھاپتے ہیں، اور شاید یہ بھی (بقول ایک غیر معروف پبلشر) کہ وہ منافع کی شرح بے حد زیادہ رکھتے ہیں۔ بعض دل جلے کتب فروشوں (جو عین ممکن ہے سنگ میل پبلی کیشنز کی کامیابی سے نالاں ہوں) سے یہ بھی سنا کہ “سنگ میل والے عام قاری کے لیے کتاب کہاں چھاپتے ہیں، وہ تو لائبریریوں کے لیے چھاپتے ہیں، لوگ مجبور ہیں سو خریدتے ہیں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سنگ میل پبلی کیشنز اور ان سے لاہور کے دیگر ناشران کی چپقلش میں کوئی حقیقت ہے یا نہیں، یہ بہرحال درست ہے کہ سنگ میل کی چھاپی بیشتر کتب (خصوصاً مجموعے) قاری کی سہولت کو سامنے رکھتے ہوئے نہیں چھاپی جاتیں۔ دنیا بھر میں ناشرانِ کتب، کتابوں کے دو طرح کے ایڈیشن چھاپتے ہیں ایک پیپر بیک کے ساتھ اور ایک ہارڈ بائنڈنگ کے ساتھ، عام قاری تک رسائی کے لیے پیپر بیک کتب چھاپتے ہیں جو قیمت میں کم اور پڑھنے میں سہل ہوتی ہیں یہ اہتمام پاکستان میں آج کے اجمل کمال اور القاء پبلی کیشنز سمیت آکسفورڈ والے بھی کر رہے ہیں لیکن سنگ میل پبلی کیشنز والے اس حوالے سے قاری کی سہولت کو مدنظر رکھنے کے قائل نظر نہیں آتے۔ ان کی کتب پاکستان بھر کی لائبریریوں کو فروخت کی جاتی ہیں اور شاید ان کی کاروباری حکمت عملی بھی یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ کتب، کتب خانوں کو بیچی جائیں اور چوں کہ قاری کے پاس ان کی کتب خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اس لیے کتب کی من مانی قیمت مقرر کر کے من چاہے انداز میں شائع کر کے انہیں اپنی مرضی سے بیچا جائے۔ سنگ میل کی شائع کردہ کتب پڑھنے کے لیے آپ کو خصوصی طور پر مطالعے کی میز پر بیٹھنا پڑھتا ہے اور دوران سفر یا بستر میں لیٹ کر پڑھنے کی عیاشی ممکن نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ادیبوں کی اموات کا سب سے زیادہ فائدہ شاید ان ناشران نے ہی اٹھایا ہے، پہلے اشفاق صاحب، پھر عبداللہ حسین اور اب انتظار حسین کی کتب کی قیمتوں میں ان کی وفات کے بعد اضافے کا سوچ کر ہی دل کڑھتا ہے اور اس موقع پرستی پر حقیقتاً ماتم کرنے کو دل کرتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">سنگ میل پبلی کیشنز سے ایک اور تکلیف دہ شکایت کتابوں کے بھدے اور بہت حد تک بدصورت سرورق ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک سنگ میل کی کتب کے سرورق بے حد دیدہ زیب اور کتاب کے موضوع اور مرکزی خیال سے مطابقت رکھنے والے ہوتے تھے۔ لیکن جب سے سنگ میل پبلی کیشنز نے کمپیوٹر پر سرورق ڈیزائن کرنے کا کام شروع کیا ہے تب سے جمالیاتی اعتبار سے اس قدر بھدے سرورق سامنے آ رہے ہیں کہ کتاب خریدنے یا پڑھنے کو دل ہی نہیں کرتا۔ یوں معلوم ہوتا ہے گویا کسی نوآموز نے اپنے ڈیسک ٹاپ کے <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693520076" target="_blank" rel="noopener">چار چھ پسندیدہ وال پیپر</a> کورل یا ایڈوبی میں اکٹھے کر کے چھاپ دیئے ہیں۔ آپ سوچیے کہ اگر کسی کتاب کے سرورق پر بادل، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693527917" target="_blank" rel="noopener">گلاب</a>، گاوں کا منظر، ایک ٹرین، سورج مکھی، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693518292" target="_blank" rel="noopener">ایک فرنگی دوشیزہ کا چہرہ</a>، ایک مورت، ایک پرندہ، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693528506" target="_blank" rel="noopener">نہانے کا ایک ٹب</a> اور ایک قلم اکٹھے کر دیئے جائیں یا <a href="http://sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693521374" target="_blank" rel="noopener">مصنف کا چہرہ</a> نہایت اناڑی پنے اور بدذوقی کے ساتھ چھاپ دیا جائے تو وہ کیوں کر خوب صورت معلوم ہو سکتا ہے، یا ایسی کتاب پڑھنے پر آپ اپنے دل کو کیوں کر مائل کر سکتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ سبھی کتابوں کے سرورق بھدے اور بے ڈھنگے ہیں کئی کتب جیسے <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693526996" target="_blank" rel="noopener">گردش رنگ چمن</a>، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693518926" target="_blank" rel="noopener">منہ ول کعبے شریف</a>، <a href="http://www.sangemeel.com/ProductDetail.aspx?ProductID=9693506707" target="_blank" rel="noopener">نادار لوگ</a>، اے غزال شب اور فریب جیسی کتب کے سرورق بے حد دیدہ زیب ہیں لیکن بیشتر کتب کے سرورق جمالیاتی اعتبار سے نہایت بدشکل قرار دیئے جا سکتے ہیں اور بدقسمتی سے ان کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر سنگ میل پبلی کیشنز والے ہر کتاب کا علیحدہ سرورق ڈیزائن نہیں کر سکتے تو مجلس ترقی ادب کی طرح ایک ہی سرورق مختلف کتابوں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک اور نہایت افسوس ناک چلن بھی گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ہر نئے ایڈیشن پر کتب کی قیمتوں میں معمولی اضافہ تو قابل فہم ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے کسی بھی ادیب کی وفات کے بعد اس کی کتب کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے جو ناصرف نامناسب بلکہ بدتہذیبی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ادیبوں کی اموات کا سب سے زیادہ فائدہ شاید ان ناشران نے ہی اٹھایا ہے، پہلے اشفاق صاحب، پھر عبداللہ حسین اور اب انتظار حسین کی کتب کی قیمتوں میں ان کی وفات کے بعد اضافے کا سوچ کر ہی دل کڑھتا ہے اور اس موقع پرستی پر حقیقتاً ماتم کرنے کو دل کرتا ہے۔ سنگ میل پبلی کیشنز سمیت تمام ناشران ہمارے ادب اور ادیب کو زندہ رکھنے کے لیے ہمارا اثاثہ ہیں لیکن ایسا غیر پیشہ ورانہ، غیر مہذبانہ اور صارف دشمن طرزعمل قطعی ناقابل قبول ہے۔ سنگ میل پبلی کیشنز ایک بڑا اشاعتی ادارہ ہے اور اسی وجہ سے اسے خوش ذوق اور مہذب طرزعمل اختیار کرنا چاہیئے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہمارا ادبی ورثہ آنے والی نسلوں تک دیدہ زیب اور قابل مطالعہ ڈھنگ سے منتقل کریں تاکہ ہم ان ادیبوں سے محض روپیہ کمانے اور انہیں کتب خانوں، الماریوں اور شیلفوں کی زینت بنانے کی بجائے اپنا رفیق اور ہم سفر بنا سکیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%b2-%d8%b3%db%92-%da%86%d9%86%d8%af-%da%af%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d8%a7%d8%aa/">سنگ میل پبلی کیشنز سے چند گزارشات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%86%da%af-%d9%85%db%8c%d9%84-%d9%be%d8%a8%d9%84%db%8c-%da%a9%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%b2-%d8%b3%db%92-%da%86%d9%86%d8%af-%da%af%d8%b2%d8%a7%d8%b1%d8%b4%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نکاح نامے پر ہمارا بھی حق ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%ad-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%ad-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 07 Mar 2015 12:57:09 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9862</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ا نکاح نامہ بھی حق مہر، طلاق اور نان نفقے کی ان تمام شرائط کو کاٹ کر نہ صرف پُر کیا گیا ہے بلکہ مجھے ان شرائط کا پابند بنایا گیا ہے جو مجھ سے پوچھے بغیر طے کر دی گئی ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%ad-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/">نکاح نامے پر ہمارا بھی حق ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">میرا نکاح نامہ بھی حق مہر، طلاق اور نان نفقے کی ان تمام شرائط کو کاٹ کر نہ صرف پُر کیا گیا ہے بلکہ مجھے ان شرائط کا پابند بنایا گیا ہے جو مجھ سے پوچھے بغیر طے کر دی گئی ہیں۔ اپنے نکاح نامے کے تحت نہ تو میں طلاق دے سکتی ہوں، نہ نان نفقے کی شرائط طے کر سکتی ہوں اور نہ ہی حق مہر پر لین دین کرسکتی ہوں۔ اس نکاح نامے میں میرے جہیز کی تفصیلات بھی درج نہیں جو میں اپنے ہم راہ لائی ہوں اور اس لیے شوہر کے چھوڑنے یا طلاق دینے کی صورت میں میرے پاس کوئی ایسی ٹھوس قانونی بنیاد نہیں جس کے تحت میں اپنا سامان واپس لے سکوں۔ میں نہیں جانتی کہ یہ نکاح نامہ میرا ہے اور نہ ہی مجھ سے اس نکاح کی شرائط پر رضامندی حاصل کی گئی۔ مجھے افسوس ہے کہ میرے والدین کے نزدیک شادی کی تیاری محض میرے عروسی جوڑے، زیورات، جہیز اور طنبو قناتوں تک محدود تھی اور مجھ سے میرے لباس اور زیورات کے علاوہ کسی اور معاملہ میں رضامندی اور مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ نکاح نامے میں عورت کے مہر، طلاق کے حق اور نان نفقے سے متعلق خانوں کو عورت کی مرضی کے بغیر پہلے سے ہی کاٹ دیا جاتا ہے ۔ اس سے بھی تشویش ناک امر یہ ہے کہ اگر لڑکی یا اس کے گھر والے ان شرائط پر بات کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے کیوں کہ ایسی صورت میں لڑکے اور اس کے گھروالوں کی عزت پر حرف آنے کا اندیشہ ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">کیا ہمارے نکاح شرعی اور قانونی طور پر جائز قرار دیے جاسکتے ہیں جب کہ ہمیں نہ تو اس نکاح نامے اور نہ ہی فیملی آردیننس میں شریک سمجھا گیا ؟</div>
<div class="urdutext">آپ ایک سولہ برس کی لڑکی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ نکاح کے وقت ان تمام شرائط سے واقف ہو گی اور اسے اپنے تمام حقوق کی آگہی ہو گی جو مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے تحت دیے گئے ہیں اور کیا وہ اس آرڈیننس میں اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے بھی واقف ہوگی؟ شادی کی کم سے کم عمر اگر سولہ برس سے بڑھا کر ۱ٹھارہ یا بیس برس بھی کر دی جائے تو کیا موجودہ سماجی ڈھانچے میں یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی لڑکی یا عورت نکاح نامے کی ان تمام شقوں سے واقف ہواوران پر رضامند بھی ہو جو اس کی زندگی اور اس کا مستقبل اس کے سسرال اور شوہر کے “تابع” کرنے والی ہیں۔ میری ماں، دادی، نانی اور میں بھی ان شرائط اور قواعد سے ناواقف ہیں اور تھیں جب ہمارا نکاح کیا گیا اور یوں لگتا ہے کہ ہماری آنے والی نسل بھی اپنے حقوق سے ناواقف ہوگی۔ کیا ہمارے نکاح شرعی اور قانونی طور پر جائز قرار دیے جاسکتے ہیں جب کہ ہمیں نہ تو اس نکاح نامے اور نہ ہی فیملی آرڈیننس میں شریک سمجھا گیا ؟<br>
پاکستان میں رائج مسلم فیملی آرڈیننس اس مفروضے پر قائم ہے کہ ہمارا مذہب، معاشرہ اور ثقافت عورت کا تحفظ کرتے ہیں اور عورت کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری مرد پر ڈالتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ مذہب، معاشرہ اور ثقافت ایسا کرنے سے پہلے عورت کی رضامندی حاصل کرنا گوارا نہیں کرتے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مرد عورت کی حفاظت سے مراد اسے محکوم، تابع اور محتاج رکھنا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عورت سے متعلق فیصلے مرد کو برتر سمجھتے ہوئے کیے جاتے ہیں اور اس عمل میں عورت بھی مرد کے ساتھ خاموش رہ کر شریک ہے۔ بہتر ہوتا کہ فقہا اور قانون ساز ادارے عورت کی رضامندی بھی حاصل کرلیتے ،اچھاہوتا اگر معاشرہ اور ریاست قانون سازی سے قبل عورت کو مرد کے مدمقابل یکساں اور برابر کا انسان تسلیم کرلیتے۔طلاق، شادی، وراثت، نان نفقہ اور اولاد پر حق کے حوالے سے مذہبی اور ریاستی قوانین نہ صرف عورت کو ایک آزاد اور خود مختار فرد ہونے کی نفی کرتے ہیں بلکہ وہ تمام راستے جن کے ذریعے عورت اپنی شادی ، شادی شدہ زندگی اور اولاد کے حوالے سے فیصلہ کر سکتی ہے مسدود کر دیے گئے ہیں۔<br>
اگرچہ شادی بیاہ کے معاملات عام طور پر خواتین کا شعبہ سمجھے جاتے ہین لیکن اہم بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی خواتین انہی پدرسری روایات کے تحفظ اور نفاذمیں مشغول رہتی ہیں جو انہیں اور ان سے پہلے ان کی ماوں اور ساسوں کے حقوق اور آزادیاں سلب کرتی رہی ہیں۔ معاشرے اور ریاست کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نکاح نامہ محض ایک خانہ پری نہیں بلکہ ایک معاہدہ ہے جو دوخاندانوں نہیں بلکہ دوانسانوں کے درمیان طے پارہا ہے۔ یہ ایک کم زور عورت اور ایک طاقت ور مرد کے درمیان سودے بازی کی بجائےایک برابر، خود مختار اور آزاد عورت اور ایک برابر، آزاد اور خودمختار مرد کے درمیان باہمی رضامندی اور شراکت کے تحت خاندان کی تشکیل کا معاہدہ ہونا چاہیے ۔ اس معاہدے میں برابری کی سطح پر رضامندی سے شمولیت تبھی ممکن ہے جب مرد اور عورت کی سماجی حیثیت میں موجود معاشی، سیاسی اور معاشرتی تفاوت کو توازن میں لایا جائے گا ورنہ شادی محض ایک بیگار ثابت ہوتی رہے گی۔</div>
<div class="leftpullquote">عورت تب تک خاندان اور خانگی زندگی میں مرد کی برابری کی دعویدار نہیں ہو سکتی جب تک اسے طلاق ، بچوں کی ولدیت، وراثت اور خاندان کی سربراہی کا حق مردوں کے برابر نہیں دیا جاتا۔</div>
<div class="urdutext">غیرت، عزت اور حیا کے وہ ناقص پدرسری تصورات جو عورت کو خاندان میں مرد کے مساوی حیثیت دینے کو تیار نہیں، عورت کو لاعلم اور محتاج رکھنا چاہتے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک اس طرح معاشرے میں “استحکام”، “سکون” اور خاندان کا “تحفظ” ممکن ہے۔ نکاح نامے میں طلاق کا حق عورت کو شوہر کی جانب سے دیے جانے کی بجائے ریاست کی جانب سےلازماً دیا جانا چاہیے، نان نفقہ کے معاملات پر لکیر کھینچنے کی بجائے لڑکا اور لڑکی کے درمیان اس بارے میں ہم آہنگی پیدا کرنی چاہیے اور مہر عورت کی مرضی سے طے کیا جانا چاہیے۔ مگر کیا یہ تب تک ممکن ہے جب تک ہمارے ماں باپ ہمیں ہم سے پوچھے بنا ایسے مردوں سے بیاہتے رہیں گے جو ان کے مطابق مناسب ہیں؟ یہ تب تک ممکن نہیں جب تک خاندان اور شادی کے معاملات مین عورت بھی مرد جتنی خود مختار اور آزاد نہیں ہو جاتی ۔ عورت تب تک خاندان اور خانگی زندگی میں مرد کی برابری کی دعویدار نہیں ہو سکتی جب تک اسے طلاق ، بچوں کی ولدیت، وراثت اور خاندان کی سربراہی کا حق مردوں کے برابر نہیں دیا جاتا۔<br>
نکاح نامہ، نکاح نامے کی شرائط اور خاندان سے متعلق قوانین عورت کو تحفظ کی بجائے محتاجی دینے کا باعث بن رہے ہیں، ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کے حوالے سے بیشتر فیصلے اس کی پیدائش سے پہلے کیے جاچکے ہوں وہاں عورت محض قانون سازی سے بھی محفوظ نہیں ہوسکتی،اور نہ ہی ایسے نکاح نامے اور خانگی قوانین کی موجودگی میں مرد کی برابری کر سکتی ہے جس کی بنیاد ناانصافی پر رکھی گئی ہو۔ اگر آپ واقعی عورت کو مرد کے برابر کھڑا دیکھنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے اور شادی کی شرائط میں عورت کو مرد کے ہم پلہ جگہ اور اہمیت دیجیے کیوں کہ یہ دنیا ہماری بھی اتنی ہی ہے جتنی مردوں کی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%ad-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/">نکاح نامے پر ہمارا بھی حق ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d8%a7%d8%ad-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%d9%be%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%ad%d9%82-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>3</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عورت ناکام ڈرائیور نہیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 02 Feb 2015 09:43:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک]]></category>
		<category><![CDATA[ڈرائیور]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9243</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اپنے شوہر کے بیرون ملک جانے کے بعد مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ تحفظ اور دیکھ بھال کے نام پر ہمارے باپ، بھائی اور شوہر ہمارے ساتھ کس قدر ناانصافی کرتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/">عورت ناکام ڈرائیور نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اپنے شوہر کے بیرون ملک جانے کے بعد مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ تحفظ اور دیکھ بھال کے نام پر ہمارے باپ، بھائی اور شوہر ہمارے ساتھ کس قدر ناانصافی کرتے ہیں۔ پاوں چلنے سے لے کر گاڑی چلانے تک مجھے اور ہر عورت کو مرد کا محتاج بنانے کا نامحسوس عمل ہر عورت کی آزادی اور خود مختاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اگرچہ میں اپنے والد، بھائیوں اور اپنے شوہر کی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے زندگی میرے لیے آسان بنائی ہے لیکن اس آسانی اور سہولت نے مجھے کم زور کیا ہے۔ ہو سکتا ہے مجھے اس کم زوری اور بے بسی کا کبھی احساس نہیں ہوتا لیکن اپنے شوہر کی غیر موجودگی میں روزانہ صبح بچوں کو سکول لانے اور لے جانے کی ذمہ داری آن پڑتے ہی مجھے احساس ہوا کہ سڑک عورت کا احترام نہیں کرتی۔ سڑک پر گاڑی چلاتے وقت ہر اشارہ، ہر موڑ، ہر گاڑی اور ہر فرد مجھے اور ہر عورت کو ایک ناکام ڈرائیور سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ عورتیں گاڑی چلانا چھوڑدیں۔<br>
خود سکول جانے سے لے کر اپنے بچوں کو سکول بھجوانے تک محرم مرد کی محتاجی نے میرے اعتماد اور قوت فیصلہ کو بری طرح متاثر کیا ہے اور مجھے سڑک پرنادانستہ طور پر ہمیشہ ایک سہارے کا محتاج کر دیا ہے۔ میں37 برس کی ہونے کے باوجود نا چاہتے ہوئے بھی گھر سے نکلنے، اکیلے جانے اور گاڑی چلانے میں خوف محسوس کرتی ہوں۔ یہ خوف پرورش کے دوران ہم عورتوں کی ہڈیوں کے گودے تک بٹھا دیا گیا ہے اور دنیا خاص کر سڑک اور بازار کو ہمارے لیے اس قدر اجنبی کر دیا گیا ہے کہ اب دن کی روشنی میں خالی سڑک پر بھی یہی خوف رہتا ہے کہ کہیں کچھ غلط نہ ہو جائے۔ یقین جانیے کہ میرا آٹھ سالہ بیٹا سڑک پر مجھ سے زیادہ بے خوف اور نڈر ہےاور ٹریفک کی بہتر سوجھ بوجھ رکھتا ہے،اور تشویش اس بات کی ہے کہ میری بیٹی بھی میرا یہ خوف اپنا چکی ہے جو ہم سب عورتوں کا مشترکہ خوف ہے۔یہی وہ خوف ہے جو گھر سے سڑک اور سڑک سے پارلیمان تک ہر عورت کی نسوں میں اتار دیا گیا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">یہ صرف سعودی عرب نہیں جہاں عورت کا گاڑی چلانا ممنوع ہے بلکہ دنیا کے ہر معاشرے میں عورت کی ڈرائیونگ کے حوالے سے لطائف، ٹیبوز، مردانہ شرافت کے معیارات (Male Chivalry) اور پدرسری روایات کی صورت میں غیر رسمی پابندیاں اور رکاوٹیں موجود ہیں۔</div>
<div class="urdutext">میں اپنے خاندان کی اس نسل کی نمائندہ ہوں جنہوں نے پہلی بار ڈگری حاصل کی، شناختی کارڈ بنوائے، نکاح نامے پر انگوٹھا لگانے کی بجائے دستخط کیے اور ڈرائیونگ لائسنس بنوایا لیکن میں اپنے خاندان کی پہلی خود مختار اور پراعتماد عورت بننے میں ناکام رہی ہوں۔ میں اپنے سرپرست مردوں کے باعث ایک مکمل عورت اور ایک خود مختار انسان بننے میں ناکام رہی ہوں۔ یہ صرف سعودی عرب نہیں جہاں عورت کا گاڑی چلانا ممنوع ہے بلکہ دنیا کے ہر معاشرے میں عورت کی ڈرائیونگ کے حوالے سے لطائف، ٹیبوز، مردانہ شرافت کے معیارات (Male Chivalry) اور پدرسری روایات کی صورت میں غیر رسمی پابندیاں اور رکاوٹیں موجود ہیں۔ ایک خاتون ڈرائیور کو جس قدر دباو اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے مرد ڈرائیور کبھی نہ اس کا اندازہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی برداشت کرسکتے ہیں۔<br>
سڑک پر حادثہ ہو یا ٹریفک جام ہر مردڈرائیور اور رہگیر ہمارے خوف میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ جب بھی کہیں کوئی خاتون ڈرائیور نظر آئے تو شیشوں سے جھانکنا، غیر ضروری ہارن بجانا، غلط اشارہ(Indicator) دینا، آنکھوں میں تیز روشنی ڈالنا، آوازے کسنا، تمسخر کرنا اور بد حواس کرنا شاید بیشتر مرد ڈرائیوروں کی عادت ہے جو عورت کی آزادانہ نقل و حرکت اور پراعتماد ڈرائیونگ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ جنید جمشید اور طارق جمیل ہی کی طرح یہ مرد حضرات جو سڑک پر عورت کو ناکام ثابت کرنے کی دانستہ یا نادانستہ کوشش کرتے ہیں عورت کے ازلی خوف اور بے بسی کے ذمہ دار ہیں۔ایک عورت کی بری ڈرائیونگ کے پیچھے اس کا عورت ہونا نہیں بلکہ پیدائش سے موت تک اس کی نقل و حرکت پر عائد وہ پابندیاں ہیں جو اسے اکیلے آنے جانے، میل جول رکھنے اور فیصلے کرنے سے روکتی ہیں۔ عورت کے “ناقص ڈرائیور” ہونے کی وجہ اس کا مردوں کے کہے کے مطابق “ناقص العقل” ہونا نہیں بلکہ وہ روایات ہیں جو عورت کی خّد مختاری کی نفی کرتی ہیں اور دنیا خصوصاً سڑک کو اس کے لیے غیر محفوظ بناتی ہیں۔ آپ ایک ایسی عورت سے جسے زندگی بھر اکیلے آنےجانے، تنہا گھومنے پھرنے اور سائیکل، موٹر سائیکل چلانے یا سڑک پار کرنے کا موقع نہیں ملا ، سے پہلے ہی روز سٹیئرنگ سبھالتے ہی ایک ایسے مرد جیسا اچھا ڈرائیور ہونے کا تقاضا نہیں کرسکتے جسے ہوش سنبھالتے ہی نقل و حرکت کی مکمل آزادی ملی ہو۔ عورت ناکام ڈرائیور نہیں وہ پدر سری روایات ناکام ڈرائیور ہیں جو عورت کو نقل و حرکت کے لیے مرد کا محتاج بناتی ہیں اور اس کے اکیلے اپنے طور پرآنے جانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">ایک عورت کی بری ڈرائیونگ کے پیچھے اس کا عورت ہونا نہیں بلکہ پیدائش سے موت تک اس کی نقل و حرکت پر عائد وہ پابندیاں ہیں جو اسے اکیلے آنے جانے، میل جول رکھنے اور فیصلے کرنے سے روکتی ہیں۔</div>
<div class="urdutext">پاکستان جیسے قدامت پسند معاشروں میں جہاں عورت کو سائیکل اور موٹر سائیکل چلانے کی آزادی نہیں وہاں عورت کو گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر یہ سمجھنا کہ وہ ہر سماجی دباو، معاشرتی پابندی اور مردانہ رویہ سے بے نیاز ہو کر گاڑی چلانا شروع کردے ایک خام خیالی ہے۔ ہمیں بچپن سے عورت کی نقل و حرکت پر عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کی بھی اپنے بیٹوں کی طرح حوصلہ افزائی کرنا ہوگی۔ ہمیں گاڑی کے علاوہ، رکشہ، ٹیکسی، موٹر سائیکل، سائیکل، بس، ٹرک حتیٰ کہ ہوائی جہاز چلانے والی خواتین کی عادت ڈالنی ہے اور اس کے لیے اپنی بیٹیوں کو سائیکل دلانے اور پھر سڑک پر تنہا اسے چلانے کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہوگی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/">عورت ناکام ڈرائیور نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%d9%86%d8%a7%da%a9%d8%a7%d9%85-%da%88%d8%b1%d8%a7%d8%a6%db%8c%d9%88%d8%b1-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>4</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خاندان اور تفریح</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ad/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ad/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[شمائلہ وقار]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 28 Nov 2014 13:01:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Entertainment]]></category>
		<category><![CDATA[Family]]></category>
		<category><![CDATA[تفریح]]></category>
		<category><![CDATA[خاندان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8074</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ایک ماں ہونے کے ناطے میرے لیے یہ بات بے حد تشویشناک ہے  کہ میں اور میراخاندان صحت مند تفریح سے محروم ہو چکے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ad/">خاندان اور تفریح</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ایک ماں ہونے کے ناطے میرے لیے یہ بات بے حد تشویشناک ہے کہ میں اور میراخاندان صحت مند تفریح سے محروم ہو چکے ہیں۔ کھانے کی میز سے لے کر تعطیلات تک ہمارے پاس خوش ہونے اور خوشی کا اظہار کرنے کے مواقع اس قدر کم ہوچکے ہیں کہ سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ٹی وی پروگرامز کے سوا کوئی تفریح باقی نہیں رہی۔ کبھی کبھار تہواروں پررشتہ داروں سے رسمی ملاقاتوں، خریداری، خاندانی تقریبات یا کہیں باہر کھانا کھانے جیسی سرگرمیوں کے بہانے گھرسے نکلنے کے مواقع کے سواخاندان خصوصاً خواتین کے لئے باہر نکلنا ممکن نہیں رہا۔<br>
میرے بچپن میں گھریلو تقریبات اور ملنے ملانے کے دوران جو خوشی اور اطمینان دیکھنے کو ملتا تھا آج میرے بچوں کے لئے اپنے رشتہ داروں اور ملنے ملانے والوں کے لئے نہ تو وہ خلوص باقی رہا ہے اور نہ کشش۔ میری نسل نے بسنت،کرکٹ میچ، میوزک کنسرٹس، سینما اور شادی کی تقریبات پر جو چہل پہل، رونق اور گہما گہمی دیکھ رکھی ہے وہ آج کہیں بھی دکھائی نہیں دیتی۔ شدت پسندی، امن و امان کی خراب صورت حال اور اخراجات کے دباو نے ہر شے میں سےخوشی کا عنصر ختم کردیا ہے۔ آنے والی نسل ایک ایسے گھٹن زدہ ماحول میں اپنا بچپن، لڑکپن اور جوانی گزار رہی ہے جہاں خوش ہونے،گیت گانے، ناچنے ، پہننے اور گھر سے نکلنے پر پابندیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ ایک جانب ریپ Rapeاور سٹریٹ کرائمز کے بڑھتے ہوئے واقعات ہیں تو دوسری جانب عوامی اجتماعات میں دہشت گرد حملوں کا خوف ہے جس کے باعث گھر سے نکلنا اور کہیں بھی جانا ممکن نہیں رہا۔</div>
<div class="leftpullquote">ہم اپنے بچوں کو خوش ہونا اورخوشی کا اظہار کرنا نہیں سکھا پائے کیوں کہ ہم نے انہیں پارکوں، کھلی جگہوں، پودوں، درختوں، گیتوں، تصویروں اور کھلونوں کی بجائے مشینوں اور مشینوں جیسے معمولات کا تحفہ دیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">ہمارے بچوں پر اس وقت ایک ایسا نظام الاوقات منضبط ہے جس میں ان ذات کے لئے وقت ختم ہوچکا ہے۔ ان بچوں پر سکول، کالج اور یونیورسٹی کے بعد اکیڈمی، ٹیوٹر اور قاری صاحب کے ساتھ ہوم ورک، امتحانات اور اسائمنٹس کا ایک ایسا چکرا دینے والا سلسلہ مسلط ہے کہ یہ سانس لینے، کھیلنے کودنے اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار سے محروم ہو چکے ہیں۔آنے والی نسل کی تفریح فیس بک، ٹی وی،خریداری اور کھانے پینے تک محدود ہوگئی ہے ۔ ہم اپنے بچوں کو خوش ہونا اورخوشی کا اظہار کرنا نہیں سکھا پائے کیوں کہ ہم نے انہیں پارکوں، کھلی جگہوں، پودوں، درختوں، گیتوں، تصویروں اور کھلونوں کی بجائے مشینوں اور مشینوں جیسے معمولات کا تحفہ دیا ہے۔ ان بچوں کے لئے فاسٹ فوڈ ریستورانوں اور پان کی دکانوں کے علاوہ نہ تو کوئی مل بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ ہی سیاسی جلسوں، دھماکوں اور موبائل فون ایپس کے سوا گفتگو کا کوئی موضوع ہے۔<br>
گھٹن زدہ گھریلو ماحول کا سب سے برا اثر لڑکیوں پر ہوا ہے جن کی آزادانہ نقل و حرکت اور تفریح کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ سڑکیں، چوراہے اور عوامی مقامات عورت کے لیے کبھی اتنے غیر محفوظ نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اگرچہ آنے والی نسل اپنے حق اور آزادی کے لیے جدوجہد کرنے کو تیار ہے اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد اپنے حق کے لیے گھروں سے نکلنے لگی ہے لیکن بڑھتی ہوئی شدت پسندی اور تنگ نظری نے تفریحی مقامات پر عورتوں کے لیے خطرات میں بے حد اضافہ کیا ہے۔<br>
بچوں اور بڑو ں کی ذہنی ہم آہنگی میں پایا جانے والا فرق بھی خاندان کے گھلنے ملنے میں مزاحم ہے۔ میرے نزدیک خاندان میں ایک دوسرے کے مسائل پر کھل کر بات کرنے کا رحجان نہ ہونے کے باعث بچوں اور بڑوں میں ایک ایسی خلیج حائل جس کے باعث خاندانی اجتماع بے حد بور اور بے مزہ ہو چکے ہیں۔ خاندان کے ارکان کے درمیان غیر ضروری تکلف کے باعث بچے اپنے گھروالوں کی بجائے زیادہ سے زیادہ وقت اپنے دوستوں اور ہم عمروں میں گزارنا چاہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی نے بچوں کو اپنے بڑوں کے اثر سے آزاد کردیا ہے اور انہیں اپنی بات کہنے کے مواقع پہلے سے زیادہ حاصل ہیں لیکن گھر میں بات کرنے اور بولنے کی آزادی نہ ہونے کے باعث ان کا حقیقی زندگی کی سرگرمیوں، خوشیوں اور تفریحات سے تعلق کم ہوتا چلا جارہا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ad/">خاندان اور تفریح</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%af%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%aa%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%ad/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
