<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رضا اختر, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/raza-akhtar/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 23:50:21 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>رضا اختر, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دھواں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 31 Jul 2017 06:02:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood Songs]]></category>
		<category><![CDATA[Cassettes]]></category>
		<category><![CDATA[Indian Songs]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[رضا اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=21735</guid>

					<description><![CDATA[<p>رضا اختر: اس نے سوچا شاید گھر والے اسے روٹی دیتے ہیں، وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح روٹی کما کر نہیں کھاتا شاید اسی لیے وہ ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%da%ba/">دھواں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>وہ سات سال کا تھا جب اس نے گلی کی نکڑ پر کھڑے ایک نوجوان کو سگریٹ کے بڑے بڑے کش لگا کر منہ سے دھواں نکالتے ہوئے دیکھا۔</p>
<p>ایک لمبا، گہرا کش جو سگریٹ کو جلا کر راکھ کر دے اور پھر اسی جلی ہوئی راکھ کا جسم ہوا میں اڑتے دھوئیں کی طرح شامل ہو جائے اور یہ منظر بالکل ایسا جیسے کوئی خواب ناک منظر تحلیل ہو رہا ہو۔</p>
<p>نجانے کیوں اسے اس اڑتے ہوئے دھوئیں کا انداز بہت شاہانہ لگا، جیسے کوئی بڑی شان سے سگریٹ کو جلانے کا اہتمام کرے، اسے ہونٹوں میں دبائے، جلائے اور راکھ بن جانے پر اک خمار بھری سلامی دے جس میں دھوئیں کی پرتیں آہستہ آہستہ کھلنے لگیں۔<br>
ایک رات چھت پر شام سے کچھ دیر پہلے اس نے بھی چوری چھپے سگریٹ کا ایک ایسا ہی کش لگایا۔</p>
<p>ایک لمبا کش ش ش ش ش ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس کی سانس پھول گئی اور اسے کھانستے ہوئے اس کش کو بیچ راستے چھوڑنا پڑا۔<br>
کش سے نکلتا دھواں آہستہ آہستہ ہوا میں غائب ہونے لگا اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے یہ غائب ہوتا دھواں اس کے وجود کو بھی تحلیل کر رہا ہو۔</p>
<p>دھواں بالآخر اس پر مہربان ہونے لگا، اب لمبے کش پر اس کی سانس نہیں پھولتی تھی۔ اب اس کی بغلوں سے لڑکپن پھوٹنے لگا تھا، ہر طرف رومانوی گانوں کی دھنیں کانوں میں کسی ریکارڈ کی طرح بجتیں اور پھر تھک ہار کر یادداشت کے کسی گوشے میں سو جاتیں لیکن وہ ان دھنوں کو سونے نہیں دیتا اور رات بھر گنگناتا رہتا۔</p>
<p>اسے ان لفظوں اور اشعار کی کوئی خاص پہچان نہیں تھی لیکن وہ منہ میں جوڑ توڑ کرتے ہجوں سے ان لفظوں کو گنگنانے کی کوشش کرتا اور پھر اچانک سو جاتا۔</p>
<p>صبح نلکے پر منہ ہاتھ دھوتے ہوئے بھی ایک آدھ گانا اس کے لبوں پر ہوتا جس پر اسے اکثر ابا کی ڈانٹ اور مار پڑتی لیکن وہ پھر بھی ڈھیٹ ہو کر گنگناتا رہتا لیکن قدرے مدھم آواز میں !!!</p>
<p>“ایک میں اور ایک تو، دونوں ملے اس طرح ۔ ۔ اور یہ جو ہو رہا ہے تن، من میں! یہ تو ہونا ہی تھا۔”</p>
<p>اسے اندر ہی اندر یہ چیزیں بڑا لطف دیتی تھیں۔ سگریٹ، گانے، قنچے اور اس طرح کی تمام وہ چیزیں جو اسے خوش رکھتیں۔ وہ بادلوں، پہاڑوں اور اڑتے آنچلوں کے بیچ ایسے ہی گیت گنگنانا چاہتا تھا۔</p>
<p>اس کا بڑا بھائی قرآن حافظ بن رہا تھا، اس سے چھوٹا ابا کا ریڑھی میں ہاتھ بٹاتا اور سب سے چھوٹا گھر میں سارا دن روتا رہتا لیکن وہ ۔ ۔ ۔ ۔!<br>
وہ سارا دن گلیوں کی خاک چھانتا، دور تالابوں میں نہانے چلا جاتا، گلی کے بچوں کے ساتھ قنچے کھیلتا اور روزانہ سہ پہر کو چوری چھپے سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگاتا۔<br>
تھوڑا بڑا ہوا تو زندگی میں بڑی تبدیلیاں آئی، بڑا بھائی امام مسجد بن چکا تھا جبکہ ابا نے دوسرے بڑے بھائی کو اپنے ساتھ ایک اور ریڑھی لگوا دی تھی، چھوٹا بھی اب زیادہ روتا نہیں تھا اور پاس کے سرکاری سکول میں تختی سیکھ رہا تھا۔<br>
اور وہ ! وہ نہیں بدلا بلکہ ہمیشہ کی طرح اپنی مستی میں مگن۔ ہاں لیکن ایک تبدیلی یہ ضرور آئی کہ اب اسے سگریٹ کے لیے چھت پر جانے کی ضرورت نہیں رہی تھی یا یہ کہ کشور اور جگجیت کی جگہ کمار سانو، اُدت اور سونو نگم لے چکے تھے۔</p>
<p>کوئی فلم ایسی نہیں تھی جو ریلیز ہوگئی ہو اور اس نے دیکھی نہ ہو۔ کوئی گانا ایسا نہیں تھا جس کی کیسٹ اس نے سنبھال سنبھال نہ رکھی ہو۔</p>
<p>میلے میں جان پہچان والے ایک حلوائی کے ساتھ کام کر کے اس نے اتنے پیسے کما لیے کہ جس سے ایک ٹیپ ریکاڈر اور سپیکر خریدا جا سکے اور یوں سارا دن گلی میں گانے گونجتے۔ محلے کی بڑی بوڑھیوں کے کوسنوں میں اس کا نام بھی شامل ہو گیا، آس پاس کی ہم سن لڑکیوں کی پہرے داری میں اضافہ ہو گیا مگر پھر بھی کبھی کبھار جب وہ گنگناتا اور سیٹی بجاتا محلے سے گزرتا تو کچھ چوباروں پر ہلچل ہونے لگتی۔</p>
<p>ایک دو چوباروں کی طرف اس نے رقعے بھی پھینکے جو کبھی کسی نے اٹھا لیے اور کبھی کسی نے روند دیے لیکن کبھی کہیں سے جواب نہیں آیا۔</p>
<p>جوانی یونہی گزر رہی تھی کہ اس کے چاچے نے برادری کی لاج رکھتے ہوئے کام نہ ہونے پر بھی اپنی بڑی بیٹی کی شادی اس سے کر دی۔</p>
<p>گھر والوں کا خیال تھا کہ ذمہ داری بڑھے گی تو خود ہی عقل ٹھکانے آجائے گی اور ہو سکتا ہے آوارہ گردی چھوڑ کر کسی ڈھنگ کے کام سے اپنی روزی روٹی کمانی شروع کر دے لیکن یہ باتیں محض خیالی ثابت ہوئیں وہ اس مستی سے باہر ہی نہیں نکلا جس کی عادت اسے بچپن سے ہو گئی تھی۔</p>
<p>وہ سارا دن اپنی خوشی میں گم رہتا، گانے سنتا، بیگم کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرتا، گھر والوں کی گالیاں سن کر بھی ہنستے ہوئے کم سالن اور آدھی روٹی پر گزارا کرتا اور ہر وقت چہکتا رہتا۔</p>
<p>باپ بستر مرگ پر تھا اور ماں کا رو، رو کر برا حال۔ اس نے ماں کو دلاسہ دینے کے لیے گلے لگانا چاہا لیکن اماں نے اسے ایک جھٹکے سے پرے کر دیا اور کہا کہ وہ ساری عمر ایک اچھا بیٹا ثابت نہیں ہوسکا اور ساری عمر لاپرواہی میں کم عقلی میں گزار کر اپنے بوڑھے ماں، باپ کا سہارا نہیں بن سکا۔</p>
<p>اچھا بیٹا نہیں بن سکا؟؟؟؟ یہ سوال اس کے دماغ میں کھٹک گیا۔<br>
کیسے اچھا بیٹا نہیں بن سکا؟ وہ جنازے کی تدفین کے وقت قبر کے پاس کھڑا سوچ رہا تھا۔<br>
اس نے سوچا، بہت گہرا سوچا لیکن اسے کچھ خاص یاد نہیں آیا۔</p>
<p>اسے یاد نہیں ٰآیا کہ کبھی اس نے اونچی آواز میں ابا سے بات کی ہو یا ان کی مار پر ان کا ہاتھ روکا ہو۔<br>
اس نے سوچا میں نے کب اماں کو سنیارے کے بیٹے کی طرح گالی دی۔</p>
<p>سنیارے کے لڑکے نے تو اپنی اماں کو دھکے دے کر باہر نکال دیا تھا اور وہ بیچاری اسی صدمے سے مرگئی تھی لیکن میں سے ایسا کیا، کیا؟</p>
<p>میں نے ٹیپ ریکارڈر اپنے پیسوں سے خریدا، رنگ برنگے رومال اپنے پیسوں سے خریدے، اپنی من مرضیوں پر اپنی جیب سے خرچ کیا اور ہاں شادی کا جوڑا بھی مجھے میرے یار رفیق نے تحفے میں دیا، لیکن!”</p>
<p>وہ ایک ناکام بیٹے کے طور پر اپنی بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے میں بھی ناکام تھا۔</p>
<p>اس نے سوچا شاید گھر والے اسے روٹی دیتے ہیں، وہ اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح روٹی کما کر نہیں کھاتا شاید اسی لیے وہ ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا کیونکہ حافظ بھائی بھی تو ختم کی ہر چیز گھر لاتا ہے، خود بھی کھاتا ہے اور گھر والوں کو بھی کھلاتا ہے۔<br>
چھوٹا بھی ہر جمعرات کی جمعرات پیسے گھر دیتا ہے اور گھر میں ایک بس وہی ہے جو یوں پیسے یا روٹی گھر نہیں لاتا اور اسے گھر والے اسے روٹی دیتے ہیں۔’</p>
<p>اس نے سوچا اب وہ روٹی کمائے گا اور خود بھی کھائے گا، گھر بھی لائے گا۔</p>
<p>وقت گزرا اور اماں بھی چل بسی لیکن اس نے سبزی کی دکان ڈال کر اپنی کمائی سے اماں کو بہت خوش رکھا، وہ اماں کو دیسی گھی کھلاتا اور سبزی منڈی سے کبھی کبھی فروٹ بھی لا کر دیتا۔</p>
<p>ہسپتال میں بھی اماں نے اسے بڑی دعائیں دی اور رو پڑی کہ میرا کملا پتر اب سیانا ہو گیا اور کماؤ بن گیا ہے اور بس یہی وہ آخری باتیں تھیں جو اماں نے اس کے ساتھ کیں۔</p>
<p>ان سب باتوں کے باوجود اس کے اندر ایک خالی پن تھا۔ اسے چوبارے پر گئے عرصہ بیت چکا تھا اور وہاں اس کی پڑی ہوئی پرانی کیسٹیں گرد آلود ہو کر مٹی میں ڈھکی پڑی تھیں۔</p>
<p>اسے اب سگریٹ کے کش میں بھی مزا نہیں آتا تھا بلکہ اسے لگتا تھا کہ سگریٹ سے اڑتی راکھ اب آزاد ہونے کی بجائے اندر ہی اندر کہیں قید ہو رہی ہے۔</p>
<p>اس کی اٹھکھلیاں ختم ہو چکی تھیں، اللہ نے اسے دو بیٹے اور ایک بیٹی دی جن کی پرورش اور سبزی کی دکان کے چکروں میں اب وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔</p>
<p>چہکنے کی بجائے اب اس کا زیادہ تر وقت حساب کتاب اور گاہوں کو راضی کرنے میں گزرتا۔<br>
بچے پڑھ لکھ گئے اور ڈھلتی عمر نے اس کی ان پرانی یادوں کو مزید قصہ پارینہ بنا دیا اور وہ دن بھی آن پہنچا جب وہ بھی بستر کے ساتھ لگ گیا۔</p>
<p>ڈاکٹروں نے اسے ٹی بی بتائی لہذا بہت سی کھانے پینے کی چیزیں اس کے لیے بند کر دی گئیں اور وہ سارا دن لیٹا بس کبھی آسمان اور کبھی پرانی چھت کو گھنٹوں دیکھتا رہتا۔</p>
<p>بہن کی شادی کے فرض سے سبکدوش ہونے کے بعد بڑے بھائی نے چھوٹے سے مشورہ کیا اور مکان کی از سر نو تعمیر کا سوچا۔<br>
چھوٹے نے بھی ہاں میں ہاں ملائی اور مکان کی نئی تعمیر کو بہتر سمجھا، ویسے بھی گھر کی در و دیوار اپنی عمر گزار چکے تھے اور اس محلے میں محض ایک ان ہی کا مکان رہ گیا تھا جو اس قدر پرانا تھا۔</p>
<p>اس نے مکان کی تعمیر کا سنا تو دل کیا کہ ایک دفعہ چوبارہ پر جا کر اپنی کیسٹ کے ڈبے سنبھال لے اور ہر کیسٹ کو جی بھر کر سنے لیکن اس کوشش میں وہ آخری سیڑھی سے گر کر پہلی سیڑھی پر آن گرا۔ سر میں شدید چوٹ آئی اور ایک ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔<br>
گھر میں اس کے لیے ایک مستقل چارپائی مقرر کر دی گئی جو دن بھر گلی میں دروازے کے آگے اور اندھیرا چھاتے ہی کمرے میں قید کر دی جاتی۔</p>
<p>ایسے میں گرمی کی ایک شام ایسی آئی جب گلی میں کھیلتے ایک بچے نے ہاتھوں میں تیپ ریکارڈ اٹھا رکھا تھا جو کہ خراب ہو چکا تھا اور محض ریڈیو سناتا تھا۔</p>
<p>اس نے بچے کو اشارے سے بلایا اور ریڈیو کی ٹیون سیٹ کرنے لگا۔ اچانک محمد رفیع کی مدھر آواز میں گانا بج اٹھا۔ “یاد نہ جائے، بیتے دنوں کی ۔ ۔ ۔”</p>
<p>اس نے ریکاڈر کان کے ساتھ لگا لیا۔ اسے سگریٹ کی طلب ہونے لگی لیکن گھر والوں نے اسے منع کر رکھا تھا جبکہ ڈاکٹر کی خاص ہدایات تھیں کہ سگریٹ والا شخص ان کے پاس بھی نہ بیٹھے لیکن نجانے کیوں آج طلب کچھ زیادہ ہی تھی اس نے بچے کے ہاتھوں میں دو سکے تھمائے اور ایک سگریٹ کے ساتھ ایک سکے کا لالچ دیا۔</p>
<p>بچہ سگریٹ لے آیا، اس نے راہگیر سے ماچس طلب کی اور ٹیب ریکارڈ کانوں کو لگا کر گانا سننے میں محو ہو گیا۔<br>
سگریٹ کے لمبے کش چل رہے تھے اور گانے کی مدھر دھن اس کے جسم کو ویسے ہی مدھوش کر رہی تھی جیسے آج سے پینتیس چالیس سال قبل سرشار کرتی تھی۔</p>
<p>پاس کھڑا بچہ بڑے غور سے سگریٹ کو سلگتے اور منہ سے نکلتے دھوئیں کو دیکھ رہا تھا۔</p>
<p>اس نے بچہ کی جانب مشکوک نظروں سے دیکھا اور اسے اس کا ٹیپ ریکارڈر تھما کر روانہ کر دیا اور خود سگریٹ پیتے پیتے گانے کے شعر گنگنانے لگا لیکن آواز نے ساتھ نہیں دیا۔</p>
<p>کچھ دیر بعد بڑا بیٹا مستری کو مکان دکھانے کے لیے آیا تو اس نے ابا کو چار پائی سے اٹھا کر اندر لیٹ جانے کو کہا لیکن ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بے سدھ تھا۔</p>
<p>اس نے تجسس میں ابا کو ہلا، جلا کر دیکھا اور نبض دیکھی۔</p>
<p>اس کے چہرے پر ایک نہ گائے جا سکنے والی دھن اور ایک نہ پیے جا سکنے والے سگریٹ کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔</p>
<p>چالیسویں کے بعد مکان کی تعمیر کے لیے کمروں کی صفائی کی گئی اور تمام پرانی کیسٹیں اٹھا کر کباڑئیے کو بیچ دی گئیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%da%ba/">دھواں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%da%be%d9%88%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>افغانوں کا کوئی ملک نہیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 17 Oct 2016 08:24:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[افغان مہاجرین]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں افغان]]></category>
		<category><![CDATA[پناہ گزین]]></category>
		<category><![CDATA[مہاجرین]]></category>
		<category><![CDATA[ولی خان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18858</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">رضا اختر: گڑتے حالات کی وجہ سے اب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ افغان  باشندوں کا کوئی ملک نہیں ہے تاہم وہ سفر کرتے رہیں گے جبکہ تک ان کے کندھوں پر ان کے خاندان کی ذمہ داری ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/">افغانوں کا کوئی ملک نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">32 سالہ ولی خاں اور اس کے تین بھائیوں کی پیدائش یوں تو پاکستان میں ہوئی ہے تاہم اس کے دادا، پڑدادا کا تعلق افغانستان سے ہے جو 70 کی دہائی سے قبل پاکستان کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان آ کر آباد ہو گئے۔ولی خاں کے والد سلیم خاں نے بھٹو دور میں پاکستان کی شہریت حاصل کی اور واپس افغانستان نہ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے ڈیرہ اسماعیل خان میں ہی اپنی باقی کی جمع پونجی سے ایک مکان خرید کر مستقل سکونت اختیار کی۔ہجرت کر کے آنے والے اس خاندان نے حالات کی سختی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا اور روزگار کی تلاش میں جنوبی پنجاب کے علاقوں کا رخ کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مالی پریشانی ایک بڑا مسئلہ تھا لہذا کام کرنے کی غرض سے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بالاآخر ساہیوال ڈویژن میں پہلے سے موجود چند افغان بھائیوں کی مدد سے یہاں پشاوری قہوہ اور چائے پتی کی فروخت کا کام کیا تاکہ مالی حالات کچھ بہتر ہو سکیں۔مقامی لوگوں کی پسند کی وجہ سے ساہیوال اور اوکاڑہ کے علاقوں میں ان کی چائے پتی کی مانگ بڑھنے لگی اور یوں ان کا کاروبار چمک اٹھا۔ منافع کی رقم سے انہوں نے جلد ہی ایک چھوٹے سے ہوٹل کا آغاز کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ولی خاں اور اس کے تین بھائی اب اس ہوٹل کو چلا رہے ہیں جبکہ سلیم خاں گھٹنوں کے عارضہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے گھر میں ہی رہتے ہیں۔آج کل افغان شہریوں کے شناختی کارڈز کی تصدیق اور انہیں اپنے ملک واپس بھیجنے کی خبریں گردش کر رہی ہیں جس میں چالیس، پچاس سال سے سکونت اختیار کیے اور پاکستانی شہریت کے حامل افغانیوں کو بھی کڑی جانچ پڑتال کا سامنا ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس حوالے سے ولی خاں نے بتایا کہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا انہیں سانحہ پشاور پر بھی کرنا پڑا تھا اور شناختی کارڈ کی تصدیق کے علاوہ پوچھ گچھ کے چکروں میں کئی کئی دن تھانوں کے چکر بھی لگانا پڑے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ولی خاں کا کہنا ہے کہ جو لوگ یہاں پاکستان بننے کے وقت سے رہ رہے ہیں انہیں بھی یہاں کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور مقامی لوگوں سمیت حکومت انہیں غیر ملکی سمجھتی ہے حالانکہ ان کے پاس یہاں کی شہریت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اگر حکومت پاکستان چھوڑنے کا کہتی ہے تو ہمارا گھر، کاروبار سب یہیں ہے۔ یہ سب چھوڑ کر ہم کہاں جائیں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">افغانستان چھوڑ کر پاکستان آنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں دو وجوہ نے انہیں وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا۔ ایک زراعت کے لیے پانی کی کمی اور دوسرا بد امنی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“وہاں زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش کھیتی باڑی تھا مگر بارشوں کی کمی اور چشموں کا پانی سوکھ جانے کی وجہ سے زراعت کا شعبہ تباہ ہو گیا۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انہوں نے مزید بتایا کہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دوسرا انتخاب کاروبار تھا مگر امن و امان کی بگڑتی صورتحال سے نوبت یہاں تک آپہنچی تھی کہ افغان تاجر کے شام کو گھر زندہ لوٹنے کی بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی تھی۔<br>
“ایسی صورتحال میں ہم نے پاکستان کا رخ کیا اور یہاں کی شہریت حاصل کی۔ یہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے ہم اپنے دوسرے گھر آ گئے ہوں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستان آنے کے سوال پر ولی خاں کا کہنا تھا کہ یہاں کے لوگ ملنسار ہیں۔ کاروبار کے بہتر مواقع ہیں اور ان کے لوگ ورکنگ ویزہ پر اکثر و بیشتر کام کی غرض سے یہاں آتے رہتے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان کا کہنا تھا کہ اب اگر پاکستانی حکومت افغانوں کو واپس بھیجنے کا سوچ رہی ہے تو نا گزیر حالات کے باعث وہ کم از کم افغانستان تو نہیں جائیں گے البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایران، بھارت یا کسی دوسرے ملک کا رخ کر لیں لیکن انہیں پاکستان سے نکالے جانے کا دکھ ہمیشہ رہے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“ہم جانتے ہیں کہ دوسرے ممالک میں بھی ہمارے لیے حالات سخت ہوں گے اور ہمیں پاکستان جیسا روزگار نہیں ملے گا۔ وہاں ہمارے لیے کھیت مزدور اورراج گیری جیسے کام ہیں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اک سرد آہ بھرتے ہوئے ولی خاں نے کہا کہ بگڑتے حالات کی وجہ سے اب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ افغان باشندوں کا کوئی ملک نہیں ہے تاہم وہ سفر کرتے رہیں گے جبکہ تک ان کے کندھوں پر ان کے خاندان کی ذمہ داری ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یاد رہے کہ دنیا بھر میں اس وقت تارکین وطن اور مہاجرین کے خلاف نفرت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ افغان باشندوں کی ایک بہت بڑی تعدادہر برس بیرون ملک مہاجرت اختیار کرتی ہے اور ان کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان میں مقیم ہے۔ پاکستان میں مقیم افغانوں کی زیاہ تر تعداد افغان جنگ کے دوران یہاں آئی تھی۔ دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بعد افغان باشندوں کے خلاف پاکستان میں نفرت بڑھی ہے اور حکومت کی جانب سے ان کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/">افغانوں کا کوئی ملک نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%81%d8%ba%d8%a7%d9%86%d9%88%da%ba-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%85%d9%84%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>عرس بابا فرید</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b1%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b1%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 11 Oct 2016 10:33:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[Baba Farid]]></category>
		<category><![CDATA[Pakpattan]]></category>
		<category><![CDATA[بابا فرید]]></category>
		<category><![CDATA[بابا فرید عرس]]></category>
		<category><![CDATA[بابا نانک]]></category>
		<category><![CDATA[بہشتی دروازہ]]></category>
		<category><![CDATA[پاک پتن]]></category>
		<category><![CDATA[پنجاب صوفی]]></category>
		<category><![CDATA[فرید الدین مسعود گنج شکر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18666</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">رضا اختر: معاشرے میں پھیلی عدم برداشت، نسلی امتیاز، فرقہ واریت اور نظریاتی تنازعات میں اپنے دور کی تاریکی ختم کرنے والے ان مفکروں کی شاعری اور تعلیمات کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b1%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af/">عرس بابا فرید</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پنجاب کی دھرتی ہمیشہ سے ہی ولیوں اور صوفیوں کی سرزمین رہی ہے جنہوں نے یہاں انسانی فکر وفلسفے کے حوالے سے گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔ان صوفی بزرگان میں سے ایک نام حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کا ہے۔ جنہوں نے اپنی تعلیمات میں لوگوں کے حقوق، برابری اور بھائی چارہ کی بات کی۔آپ کی تعلیمات انسانیت کے قریب تر تھیں۔ آپ کی وفات کے بعد حضرت علاوالدین صابر پیا نے آپ کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18668" aria-describedby="caption-attachment-18668" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-full wp-image-18668" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-2.jpg" alt="حضرت صابر پیا کی گدی؛ آپ نے بابا فرید کی تعلیمات کا سلسلہ آگے بڑھایا" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/4-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18668" class="wp-caption-text">حضرت صابر پیا کی گدی؛ آپ نے بابا فرید کی تعلیمات کا سلسلہ آگے بڑھایا</figcaption></figure>
<div class="urdutext">آپ کا اثر پنجاب کی صوفی روایت پر نہایت گہرا ہے۔ خاص کر بابا نانک آپ سے بے حد متاثر تھے۔ سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک آپ کی وفات کے بعد پندرہ سو انتالیس (1539) اور پندرہ سو انہتر(1569) عیسوی کے دوران جب پاکپتن آئے تواس وقت یہاں موجود شیخ ابراہیم نامی شخص سے ملے جو بابا فرید کی شاعری کی ترتیب و تدوین کا کام سر انجام دے رہے تھے۔گرو نانک نے ان سے (پاکپتن سے چند میل دور) جسے اَب ٹبہ نانک سر کہا جاتا ہے کے مقام پر بابا فرید کی شاعری پڑھی اور اکٹھی کی جو سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب میں موجود ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آپ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ آپ اہل تحقیق کے نزدیک پنجابی کے پہلے بڑے اور باقاعدہ شاعر ہیں جن کا کلام تحریری شکل میں محفوظ ہو سکا۔ انہوں نے اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کے قلب اور روح پر جمی فرسودگی اور زنگ کو اتارنے کی سعی کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گرنتھ صاحب میں بابا فرید الدین ؒ کے 114 صوفیانہ اشلوک اور چار شبد شامل ہیں۔ گرنتھ صاحب میں کل اشلوکوں کی تعداد 130 ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکھ مذہب کے لوگ حضرت بابا فرید الدینؒ کے افکار کو انتہائی عقیدت سے دیکھتے ہیں۔ جس کی مثال انڈیا میں پنجاب کے علاقے ضلع فرید کوٹ میں قائم فرید میڈیکل یونیورسٹی ہے۔اس یونیورسٹی کے تحت متعددمیڈیکل کالج کام کر رہے ہیں جبکہ چندی گڑھ کی پنجاب یونیورسٹی میں بابا فرید ؒ پر پی ایچ ڈی کروائی جارہی ہے۔ اب تک دو سو سے زائد طلبا بابا فرید کے انسانی فلسفے پر پی ایچ ڈی مکمل کرچکے ہیں۔اس کے برعکس اگر پاکستان میں ان کی تعلیمات کے فروغ کی بات کی جائے تو قابل افسوس ہے کہ کوئی قابل ذکر ادارہ موجود نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">معاشرے میں پھیلی عدم برداشت، نسلی امتیاز، فرقہ واریت اور نظریاتی تنازعات میں اپنے دور کی تاریکی ختم کرنے والے ان مفکروں کی شاعری اور تعلیمات کی ہمیں آج بھی ضرورت ہے لیکن ایسا نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب کی صوفی روایت اب محض عرس، میلوں اور قوالی کی صورت میں ہی باقی رہ گئی ہے۔ یہ بھی غنیمت ہے کہ شدت پسندی کے اس دورابتلاء میں اب بھی کوئی ان بابوں کا نام لیوا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">28 ستمبر سے پاکپتن میں دربار بابا فرید کے سالانہ 774 عرس کی رسومات جاری ہیں۔ 25 ذوالحجہ سے شروع ہونے والی یہ رسومات دس محرم تک جاری رہتی ہیں۔یہ ذہن میں رہے کہ پاکپتن میں بابا فرید کے علاوہ بھی متعدد صوفیاء کے مزارات موجود ہیں، جن میں موج دریا ، خواجہ عزیز مکی اور حضرت سخی چن پیر گیلانی کا مزار قابل ذکر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18670" aria-describedby="caption-attachment-18670" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-18670" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-2.jpg" alt=" بابا فرید کے پوتے علاء الدین موج دریا کے مزار کا ایک منظر" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/5-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18670" class="wp-caption-text">بابا فرید کے پوتےہ علاء الدین موج دریا کے مزار کا ایک منظر</figcaption></figure>
<div class="urdutext">عرس کی پہلی رسم ختم شریف بدست سجادہ نشین معززین، زائرین و عقیدت مندان کے ہمراہ آستانہ عالیہ کے مغربی محراب میں ادا کی گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18684" aria-describedby="caption-attachment-18684" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-18684" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/11.jpg" alt="دربار کے راستے میں جلائے گئے چراغ" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/11.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/11-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/11-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18684" class="wp-caption-text">دربار کے راستے میں جلائے گئے چراغ</figcaption></figure>
<div class="urdutext">ختم شریف کے بعد زائرین وعقیدت مندان میں “جلے دمشتری (حلوے اور میدے کی بنی چھوٹی چھوٹی روٹیاں)” اور میٹھا پانی تقسیم کیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18671" aria-describedby="caption-attachment-18671" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18671" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-2.jpg" alt="ختم کے تبرکات" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/8-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18671" class="wp-caption-text">ختم کے تبرکات</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18672" aria-describedby="caption-attachment-18672" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18672" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-2.jpg" alt="ختم کے تبرکات زائرین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/3-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18672" class="wp-caption-text">ختم کے تبرکات زائرین میں تقسیم کیے جا رہے ہیں</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18673" aria-describedby="caption-attachment-18673" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18673" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-2.jpg" alt="زائرین میں شکر تقسیم کی جا رہی ہے" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/6-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18673" class="wp-caption-text">زائرین میں شکر تقسیم کی جا رہی ہے</figcaption></figure>
<div class="urdutext">ختم شریف کے بعد محفل سماع کی نشست بھی منعقد کی گئی جو یکم تا چھ محرم تک جاری رہی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محفل سماع میں قوال حضرات بابا فرید، خواجہ امیرخسرو، حضرت احمد جام اور میراں سید کا عارفانہ کلام اور پر اثر ہندی اشلوک اور دوہے پڑھتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نو محرم کو دربار عالیہ کو غسل دیا جائے گا اور دس محرم تک آخری ختم کے ساتھ مزارات پر غلاف چڑھا کے عرس کا اختتام کر دیا جائے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-18674" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-2.jpg" alt="9" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/9-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<figure id="attachment_18675" aria-describedby="caption-attachment-18675" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18675" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/12.jpg" alt="دربار کا صحن" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/12.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/12-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/12-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18675" class="wp-caption-text">دربار کا صحن</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18676" aria-describedby="caption-attachment-18676" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18676" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/13.jpg" alt="دربار کو رات کے وقت برقی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/13.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/13-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/13-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18676" class="wp-caption-text">دربار کو رات کے وقت برقی روشنیوں سے سجایا جاتا ہے</figcaption></figure>
<div class="urdutext">عرس کی تقریبات میں مقامی آبادی کے علاوہ دیارِ غیر میں مقیم عقیدت مند بھی شریک ہوت ہیں۔ پچاس سالہ محمد عمران، ڈربن (جنوبی افریقہ) سے اپنے دوستوں کے ہمراہ پاکپتن میں بابا فرید الدین کے عرس میں شرکت کے لیے آئے ہیں جہاں وہ عرس دربار فرید الدین کی دیگر رسومات کے ساتھ ساتھ بہشتی دورازہ کی خاص رسم ادا کرنے کے خواہشمند ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18680" aria-describedby="caption-attachment-18680" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18680" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-2.jpg" alt="بہشتی دروازے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں سے گزرنے والا جنتی ہو گا" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/7-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18680" class="wp-caption-text">بہشتی دروازے کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں سے گزرنے والا جنتی ہو گا</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18679" aria-describedby="caption-attachment-18679" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18679" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-2.jpg" alt="زائرین کے ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جنگلے نصب کیے گئے ہیں" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/2-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18679" class="wp-caption-text">زائرین کے ہجوم کو منظم کرنے کے لیے جنگلے نصب کیے گئے ہیں</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18678" aria-describedby="caption-attachment-18678" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18678" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-2.jpg" alt="بہشتی دروازے سے گزرنے کے خواہشمند افراد کی طویل قطار" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-2.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-2-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/1-2-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18678" class="wp-caption-text">بہشتی دروازے سے گزرنے کے خواہشمند افراد کی طویل قطار</figcaption></figure>
<div class="urdutext">جنوبی افریقہ سے آئے اس وفد کا پاکپتن میں یہ پہلا دورہ نہیں ہے بلکہ یہ 2003ء سے متواتر پاکپتن آرہے ہیں اور ہر سال عرس میں شرکت کرنا اپنے لیے باعث سعادت سمجھتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محمد عمران بتاتے ہیں کہ ان کے آباو اجداد کا تعلق حیدرآباد دکن (انڈیا) سے تھا جو تقریبًا ڈیڑھ سو سال قبل محنت مزدوری کی غرض سے جنوبی افریقہ چلے گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘جنوبی افریقہ میں اس وقت مسلم کمیونٹی کم آباد تھی تاہم حیدر آباد سے آئے بیشتر لوگ وہاں کے بزرگ خواجہ حبیب علی شاہ کے مریدین میں سے تھے جبکہ حبیب علی شاہ خود حافظ پیر دستگیر اور خواجہ نور محمد تونسہ شریف (پاکستان) کے مریدوں میں سے تھے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انہوں نے بتایا کہ انہی مریدان میں ولی عہد سید محمد شاہ جہانگیری حیدرآباد (سندھ، پاکستان) اور حضرت شاہ غلام محمد المعروف صوفی صاحب ڈربن (ساوتھ افریقہ) میں معروف بزرگ ہستیوں کے نام سے جانے جاتے تھے جن کے فیض نے انہیں درِ فرید دکھایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے پیر سید محمد شاہ نے انہیں پاکستان آنے کی دعوت دی جہاں وہ بابا فرید کے عرس سے فیض یاب ہوئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان کا کہنا تھا کہ ہر سال پاکپتن آنے کی طلب نے ان کی طبیعت ایک مریض کی سی بنا دی ہے جس کے لیے یہ عرس ہر سال ایک دوا ثابت ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عمران کے ساتھ ان کے دوست زین العابدین اور نظام دین بھی ہر سال پاکپتن آتے ہیں لیکن عمران کی خواہش ہے کہ ان کے بیوی، بچے بھی ایک دفعہ عرس بابا فرید پر ان کے ساتھ ضرور آئیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے رہن سہن اور ماحول میں مطابقت نہ ہونے کے باعث ان کے خندان کے باقی افراد یہاں نہیں آ پاتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘ٹرانسپورٹ، رہائش اور ماحول میں فرق سے مطابقت اختیار کرنا دوسرے ممالک سے آنے والے زائرین کے لیے قدرے مشکل ثابت ہوتا ہے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عرس کے دوران کیسری رنگ کے دھاگے جنہیں پیچے بھی کہا جاتا ہے بانٹے جاتے ہیں۔ یہ دھاگے اس واقعے کی یاد میں بانٹے جاتے ہیں جو بابا فرید کے پہلے خلیفہ سے منسوب ہے۔ روایت ہے کہ آپ کے پہلے خلیفہ نے اپنے آخری ایام میں اپنی قمیص کے ٹکڑے غرباء میں تقسیم کیے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">عرس مبارک کی تقریبات 25 ذوالحج سے پاکپتن میں ان کے مزار پر شروع ہوتی ہیں اور دس محرم الحرام تک جاری رہتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_18682" aria-describedby="caption-attachment-18682" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18682" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/15.jpg" alt="کیسری دھاگے تقسیم کیے جا رہے ہیں" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/15.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/15-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/15-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18682" class="wp-caption-text">کیسری دھاگے تقسیم کیے جا رہے ہیں</figcaption></figure>
<figure id="attachment_18681" aria-describedby="caption-attachment-18681" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-18681" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/14.jpg" alt="زائرین کیسری دھاگے پکڑنے کی کوشش میں" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/14.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/14-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/14-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-18681" class="wp-caption-text">زائرین کیسری دھاگے پکڑنے کی کوشش میں</figcaption></figure>
<div class="urdutext">تصاویر: رضا اختر</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b1%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af/">عرس بابا فرید</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d8%b1%d8%b3-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نوآبادیاتی تسلسل  اور خالد مسعود کی  فکری مزاحمت</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 28 Oct 2015 13:25:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[خالد مسعود]]></category>
		<category><![CDATA[ڈھانچے]]></category>
		<category><![CDATA[فکری مزاحمت]]></category>
		<category><![CDATA[نوآبادیاتی تسلسل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13233</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کسی معاشرے میں تبدیلی کے لیے اس کی ساخت کو سمجھنا ضروری ہے مگر طبقاتی معاشرے میں معاشرے کی ساخت کے ساتھ ساتھ یہ تلاش کرنا بھی اہم ہےکہ کون سے طبقات موجودہ استحصالی نظام سے غیر مطمئن ہیں اور کون سے طبقات اس استحصالی نظام کو قائم رکھنے کے حامی ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1/">نوآبادیاتی تسلسل  اور خالد مسعود کی  فکری مزاحمت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ادارتی نوٹ: رضا اختر اس موضوع پر اس سے قبل <a href="http://pakpattan.sujag.org/feature/26275" target="_blank" rel="noopener">پنجاب لوک سجاگ کے لیے بھی ایک فیچر لکھ</a> چکے ہیں۔ اس تحریر میں ترمیم اور اضافے کے بعد اسے لالٹین پر شائع کیا جارہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">کسی معاشرے میں تبدیلی کے لیے اس کی ساخت کو سمجھنا ضروری ہے مگر طبقاتی معاشرے میں معاشرے کی ساخت کے ساتھ ساتھ یہ تلاش کرنا بھی اہم ہےکہ کون سے طبقات موجودہ استحصالی نظام سے غیر مطمئن ہیں اور کون سے طبقات اس استحصالی نظام کو قائم رکھنے کے حامی ہیں۔ استحصالی نظام کو قائم رکھنے والے ایسے حکمران عوام کی اکثریت کوتعلیم اور اپنی ثقافت سے بیگانہ رکھ کر اپنے مخصوص جمودی نظریات کی ترویج کرتے ہیں اور پھر ایسے مقاصد کو قومی نظریات کا نام دے دیا جاتا ہے۔ ان نظریات میں مخفی مفادات اصل میں انہی حکمرانوں کے ہوتے ہیں جنہیں غیر مطمئن اکثریتی عوام وجہ بنا کر اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">حقوق سے محروم اکثریت کے سامنے جمودی نظریات کو بے نقاب کرنا، معاشی اور معاشرتی ساکھ کو سمجھنا، معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے آمادگی کی پہلی شرط ہے اور محروم و محکوم پسماندہ رکھے گئے طبقات کو منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد پر آمادہ کرنا آج کی روشن خیالی ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حقوق سے محروم اکثریت کے سامنے جمودی نظریات کو بے نقاب کرنا، معاشی اور معاشرتی ساکھ کو سمجھنا، معاشرے کو تبدیل کرنے کے لیے آمادگی کی پہلی شرط ہے اور محروم و محکوم پسماندہ رکھے گئے طبقات کو منصفانہ معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد پر آمادہ کرنا آج کی روشن خیالی ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے29 مارچ 2006ء کو پاکپتن میں ایک فکری تحریک سانجھ کی بنیاد رکھی گئی ۔ جس کا مقصد لوگوں میں طبقاتی استحصالی نظام اور جمودی نظریات کے خلاف شعور اور آگٓہی پیدا کرنا تھا جس کے لیے سانجھ کے زیر اہتمام 7 کتابوں کی سلسلہ وار اشاعت کا فیصلہ کیا گیا:<br>
1‑نو آبادیاتی نظام کا تعارف<br>
2‑نو آبادیاتی معاشی ڈھانچے کا تسلسل<br>
3‑نو آبادیاتی انتظامی ڈھانچے کا تسلسل<br>
4‑نو آبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کا تسلسل<br>
5‑نو آبادیاتی سیاسی ڈھانچے کا تسلسل<br>
6‑متبادل نظام<br>
7‑ضمیمہ</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس حوالے سے بات کرتے ہوئے تحریک کے سربراہ مسعود خالد نے بتایا کہ ” تحریک کےآغاز کے لیے 29 مارچ کو اہمیت دینے کا مقصد لوگوں کو یہ یاد کروانا تھا کہ 29 مارچ 1849ء کو برطانیہ سامراج نے قبضہ کیا تو اپنے 98 سالہ غلامی کے دور میں انہوں نے معاشرے کی تمام بنیادیں تبدیل کر دیں۔ ہندوستان کی معیشت کو زراعت پر جامد کر کے خام مال پیدا کرنے، فوجی بھرتی کے لیے نوجوان تیار کرنے اور برطانوی مصنوعات کی منڈی بنانے کے لیے جاگیردار طبقہ پیدا کیا گیا اور سیاسی اقتدار میں شریک کیا گیا ۔ 1947ء میں انگریز اسی طبقے کو اقتدار منتقل کر کے چلے گئے۔ اس طرح برطانوی سامراج میں معیشت کا زرعی ڈھانچہ، غیر پیداواری نظام تعلیم، بیوروکریسی کا انتظامی ڈھانچہ اور بعد میں ریاستی سرپرستی میں پیدا کیے گئے ریاستی سرمایہ دار کو فوج کی حکمرانی اور حمایت سے اس نظام کو قائم رکھنے میں مدد ملی ۔اس سارے نظام کو جدید نو آبادیاتی نظام کہا جاتا ہے جو کہ غلامی کی ایک نئی شکل ہےاورغلامی کے اسی نظام کو سمجھنے کے لیے ان کتابوں کی اشاعت کا فیصلہ کیا گیا “۔</div>
<div class="leftpullquote">ہندوستان کی معیشت کو زراعت پر جامد کر کے خام مال پیدا کرنے، فوجی بھرتی کے لیے نوجوان تیار کرنے اور برطانوی مصنوعات کی منڈی بنانے کے لیے جاگیردار طبقہ پیدا کیا گیا اور سیاسی اقتدار میں شریک کیا گیا ۔ 1947ء میں انگریز اسی طبقے کو اقتدار منتقل کر کے چلے گئے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تمام کتابیں سلسلہ وار شائع کی گئی ہیں جن میں اس نو آبادیاتی نظام کے تعارف سے لے کر اس کے متبادل نظام تک کو بیان کیا گیاہے۔ اس مرحلے میں 6 کتابیں آتی ہیں جب کہ ساتویں کتاب 4 ایسی کتابوں کی تلخیص ہر مشتمل ہے جو مختلف مفکروں اور دانشوروں نے سرمایہ داری کے استحصال کو بے نقاب کرنے کے لیے لکھیں۔<br>
کتابوں کا تعارف و مرکزی خیال کچھ اس طرح سے ہے:</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">1‑نو آبادیاتی نظام کا تعارف :</div>
<div class="urdutext">پہلا کتابچہ عام آدمی کی زبان میں سیاست، معیشت اور سماجی علوم میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کی ان کے تاریخی پس منظر میں تشریح کرتا ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">2‑نو آبادیاتی معاشی ڈھانچے کا تسلسل :</div>
<div class="urdutext">دوسرا کتابچہ عالمی سرمایہ داری کے ارتقاء اور پاکستانی معیشت کو عالمی سرمایہ داری کے مفادات کے مطابق ڈھالنے کے مسلسل عمل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">3‑نو آبادیاتی انتظامی ڈھانچے کا تسلسل :</div>
<div class="urdutext">تیسرا کتابچہ اصل حکمران، فوجی، سول اور عدالتی بیوروکریسی کے پاکستان میں جمہوری عمل کو پنپنے نہ دینے کی تعریف ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>4‑نو آبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کا تسلسل :</p>
<div class="urdutext">چوتھا کتابچہ پاکستان کے غیر پیداواری نظام تعلیم، قرضہ کی شرائط سے مشروط تعلیمی پالیسیوں، من گھڑت تعلیمی فلسفوں اور آئیڈیالوجی کے نام پر مسلط رکھی گئی پسماندگی اور تصوریت کے پھیلائے جال کوبے نقاب کرتا ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">5‑نو آبادیاتی سیاسی ڈھانچے کا تسلسل :</div>
<div class="urdutext">عالمی سرمایہ داروں کے معاشی مفادات کو تحفظ دینے کے لیے پاکستان میں کن نظریات اور اداروں کو تشکیل دے کر سیاسی ڈھانچہ بنایا گیا ہے یہ کتابچہ ان نظریات اور اداروں پر ایک بحث ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">6‑متبادل نظام :</div>
<div class="urdutext">اس کتابچے میں ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں پسماندہ، محروم اورمحکوم طبقات کی نجات کے لیے کون سا متبادل نظام ایسا ہے جو یہاں ایک منصفانہ معاشی نظام قائم کر کے بہتر مستقبل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔<br>
ان تمام کتابوں میں اب تک 4 کتب ” سانجھ پبلیکیشنز” کے زیر اہتمام شائع ہو چکی ہیں جب کہ باقی کی کتب ابھی تحریر کے مراحل میں ہیں۔ حال ہی میں 29 دسمبر2014ء کو ان کے چوتھے کتابچے ” نو آبادیاتی تعلیمی ڈھانچے کا تسلسل ” کی تقریب رونمائی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوئی تھی جس میں ملک کے نامور دانشور اشفاق سلیم مرزا، طارق رحٰمن اور سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر انوار نے شرکت کی۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان شائع شدہ کتابچوں سے عوامی جمہوریت کے نقطہ نظر کے حامل افراد خود بھی مستفید ہو رہے ہیں اور مختلف ادبی حلقوں میں بھی سٹڈی سرکلز کروا کر اس علم کو پھیلارہےہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ملتان میں ” ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹ فیڈریشن ” پنجاب کے صدر مشکور صاحب کا کہنا تھا کہ:</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">” خالد صاحب کے کتابچوں پر ہم متعدد سڈی سرکلز کروا چکے ہیں جن کی وجہ یہ ہے کہ یہ آسان فہم اور عام آدمی کی زبان میں لکھے گئے ہیں۔ ان میں طبقاتی جدوجہد کے لیے جس عوامی جمہوریت کے نقطہ نظر پر بحث کی گئی ہے ہم اس سے مکمل متفق ہیں۔ ان کتابوں کی مقبولیت کی بڑی وجہ اس میں استعمال ہونے والے مشاہدے، مفروضے اور مثالیں ہیں جو کہ لوگوں کی عام زندگیوں سے جڑے ہیں۔ استحصالی نظام اور طبقاتی فرق کو سمجھنے کے لیے ان کتب سے زیادہ سہل اور کچھ نہیں ہو سکتا ” ۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کسی معاشرے میں ایسی فکری سوچ کا پروان چڑھنا جس میں اس معاشرے میں پائے جانے والے استحصالی نظام کا جائزہ لیا جانا اور پھر اس علم کو عام آدمی تک پہنچایا جانا ایک ایسی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے جو فرسودہ نظام کے ڈھانچے کو توڑتے ہوئے ارتقاء کی جانب پہلا قدم اٹھانے کا باعث بنتی ہے۔ نوآبادیاتی نظام کے تسلسل کو سمجھنے اور اس کا متبادل ڈھونڈنے میں مد د کرنے والی یہ کتب بھی ایسی ہی سوچ کی کڑیاں ہیں جو نئی نسل کی رہنمائی کر سکتی ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1/">نوآبادیاتی تسلسل  اور خالد مسعود کی  فکری مزاحمت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%d9%84%d8%af-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%a9%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ  کے عرس کی چند جھلکیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%af%d9%86%d8%ac-%d8%b4%da%a9%d8%b1%d8%92-%da%a9%db%92%d8%b9/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%af%d9%86%d8%ac-%d8%b4%da%a9%d8%b1%d8%92-%da%a9%db%92%d8%b9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2015 16:36:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[عرس]]></category>
		<category><![CDATA[فرید الدین مسعود گنج]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13101</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکپتن میں عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکر کے عرس کی تقریبات جاری ہیں دربار کے سجادہ نشین دیوان مودود مسعود چشتی نے نماز عشاء کے بعد بہشتی دروازہ کھولا، جس کے بعد زائرین میں قلاوے بھی تقسیم کئے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%af%d9%86%d8%ac-%d8%b4%da%a9%d8%b1%d8%92-%da%a9%db%92%d8%b9/">حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ  کے عرس کی چند جھلکیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“1/1”][vc_column_text]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حضرت بابا فرید گنج شکر کا 773 واں عرس جاری ہے، بہشتی دروازہ کھول دیا گیا جو 10 محرم کی رات تک کھلا رہے گا۔</div>
<p>[/vc_column_text][vc_single_image image=“13128” alignment=“center” border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” img_size=“large”][vc_single_image image=“13126” alignment=“center” border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” img_size=“large”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13130” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13131” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13133” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13134” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13135” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13136” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13137” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13138” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13140” img_size=“large” alignment=“center”][vc_single_image border_color=“grey” img_link_large=”” img_link_target=“_self” image=“13143” img_size=“large” alignment=“center”][vc_separator color=“grey” align=“align_center” border_width=“3”][/vc_column][/vc_row]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%af%d9%86%d8%ac-%d8%b4%da%a9%d8%b1%d8%92-%da%a9%db%92%d8%b9/">حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ  کے عرس کی چند جھلکیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ad%d8%b6%d8%b1%d8%aa-%d8%a8%d8%a7%d8%a8%d8%a7-%d9%81%d8%b1%db%8c%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%af%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%b3%d8%b9%d9%88%d8%af-%da%af%d9%86%d8%ac-%d8%b4%da%a9%d8%b1%d8%92-%da%a9%db%92%d8%b9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پورا ملک تھر کا منظر پیش کرے گا</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[رضا اختر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 31 Mar 2015 09:40:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[پانی]]></category>
		<category><![CDATA[پانی کی قلت]]></category>
		<category><![CDATA[ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=10279</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">"پانی کا موثر استعمال ہی آنے والے دنوں میں ہمیں اس کی فراہمی ممکن بنا سکتا ہے" یہ بات 20 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/">پورا ملک تھر کا منظر پیش کرے گا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">“پانی کا موثر استعمال ہی آنے والے دنوں میں ہمیں اس کی فراہمی ممکن بنا سکتا ہے” یہ بات 20 مارچ 2015 کو اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے 43 ممالک کے 70 کروڑ افراد کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سال 2025 تک دنیا کی تقریباً دو ارب آبادی پانی کی شدید قلت کا شکار ہو گی جب کہ 2030 تک دنیا کی پچاس فیصد آبادی کو پانی کی دستیابی کے شدید دباؤ کا سامنا ہوگا۔ورلڈ واٹر ڈویلپمنٹ رپورٹ 2015 کے مطابق دنیا کے کل زیر زمین پانی کا پچاس فیصد استعمال پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال، چین اور بھارت کی آبادی کررہی ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ دنیا کی آبادی 2050 تک 9 ارب ہو جائے گی اس کے ساتھ ہی کاشتکاری، صنعتی ذرائع اور زندگی کے تمام معمولات میں پانی کی ضرورت بھی 55 گنا بڑھ جانے کا خدشہ ہے جس سے پانی کے وسائل ختم ہو جائیں گے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">پاکستان میں صورتحال:</div>
<div class="urdutext">دنیا کے کئی ممالک اس وقت پانی کی قلت کے مسئلے کا شکار ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1992 میں پاکستان میں پانی کی دستیابی سترہ سو مکعب میٹر فی کس تھی جو 2009 میں پندرہ سو مکعب میٹر فی کس رہ گئی اور موجودہ صورتحال میں دستیاب پانی کی سطح ایک ہزار مکعب میٹر فی کس رہ گئی ہے۔ ہنگامی حالات کے لیے بھی پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت مجوزی عالمی معیار کے مطابق نہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بنک نے شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے والے ممالک میں کم سے کم سو دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تجویز کی ہے جبکہ پاکستان میں صرف تیس دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کا شمار پانی کی قلت والے ممالک جیسے ایتھوپیا، لیبیا، الجزائر وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں پانی کی قلت کے آثار تھر اور بلوچستان میں قحط کی صورت میں سامنے آرہے ہیں اور اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پورے ملک میں تھر قحط کی سی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">پاکستان میں پانی کی قلت کے آثار تھر اور بلوچستان میں قحط کی صورت میں سامنے آرہے ہیں اور اگر بروقت مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پورے ملک میں تھر قحط کی سی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔</div>
<div class="urdutext">پاکستان زیرزمین پانی کے استعمال کے باعث شہری علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے ۔ میدانی اور پہاڑی علاقوں میں غیر موسمی بارشوں اور مون سون بارشوں کے دورانیے میں تبدیلی اور اضافے کا مقابلہ کرنے کے لیے پانی محفوظ کرنے کے ذخیرے تعمیر نہ کرنے کے باعث آنے والے برسوں میں پانی کی شدید کمی کے باعث خوراک کا قحط بھی ممکن ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">2025 میں پانی کی متوقع قلت</div>
<div class="urdutext">ماحولیاتی ماہرین کے مطابق دنیا کے عظیم نظام آبپاشی کے باوجود پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جو مستقبل قریب میں پانی کی قلت کا شکار ہوسکتے ہیں اور پانی کی قلت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی نہیں بلکہ پانی کی کمی کو قراردیا ہے۔ جریدے نے جولائی 2013 میں اپنی ایک رپورٹ میں دریائے سندھ میں پانی کے بہاو میں کمی اور پانی ذخیرہ کرنے کی محدود صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔ پاکستان میں دستیاب صاف پانی کا 90 فیصد زراعت اور صرف 10 فیصد پینے کے لیے استعمال میں آتا ہے۔ دوسری جانب صورتحال یہ ہے کہ جو پانی فراہم کیا جارہا ہے وہ غیر معیاری ہے۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پانی کا ضیاع بہت زیادہ ہے، ملک کے اشرافیہ پینے کے پانی سے گاڑیاں دھوتے ہیں۔ زراعت کیلئے جتنا پانی ہم ٹیوب ویل سے تین ہزار روپے میں حاصل کرتے ہیں، اتنا ہمیں نہری پانی 100روپے میں پڑتا ہے۔<br>
انہوں نے کہا کہ پانی کا ضیاع روکنے کیلئے آبپاشی کے طریقے بدلنے اور پانی کا ضیاع روکنا پڑے گا ورنہ ملک میں سات سال بعد پانی کا قحط آ جائے گا۔ ان کے مطابق آبی ذخائر کی تعمیر پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں، سیلاب برداشت کرنے کے باوجود آبی ذخائر نہیں بنائے جا رہے، پاکستان بہت تیزی سے پانی کے قحط کی طرف بڑھ رہا ہے، پاکستان آبی قحط کا سامنا کرنے کیلئے ہرگز تیار نہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کے تحت سرجوال این جی او نے پانی کی اے ٹی ایم مشینیں متعارف کرائی ہیں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کی ایک ایک بوند کا حساب رکھا جاتا ہے۔</div>
<div style="font-family: nafeesregular; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات:</div>
<div class="urdutext">پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کا کردار نمایاں ہو کر سامنے آرہا ہے۔افریقہ میں اسمارٹ ہینڈ پمپس متعارف کرا دیے گئے ہیں جبکہ سنگاپور نے واٹر وائر کے نظام کو اپنایا ہے۔ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں اسمارٹ واٹر مینجمنٹ کے تحت سرجوال این جی او نے پانی کی اے ٹی ایم مشینیں متعارف کرائی ہیں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے پانی کی ایک ایک بوند کا حساب رکھا جاتا ہے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے دور دراز علاقوں میں بھی جدید نظام اور حساس سینسرز کے ذریعے لمحہ لمحہ نگرانی کی جاتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">پانی کا عالمی دن ہر سال 22 مارچ کو منایا جاتا ہے- اس دن کا مقصد لوگوں میں پانی کے موثر استعمال کا شعور پیدا کرنا، پانی کی آلودگی سے بچاؤ کے محفوظ طریقوں سے لوگوں کو روشناس کرانا اور اس کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی حوصلہ افزائی بھی کرنا ہے، جو پانی کے قلت سے بچاؤ کے طریقے اور قوانین اپنے معاشرے کے لوگوں میں لاگو کرواتے اور اس پر اپنا پیسا اور محنت خرچ کرتے ہیں۔ہمیں بھی پانی کی کمی کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو سمجھنا چاہیے اور پانی کے بہتر استعمال کے طریقہ کار کو اپنانا چاہیے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/">پورا ملک تھر کا منظر پیش کرے گا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d9%88%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d9%84%da%a9-%d8%aa%da%be%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d9%86%d8%b8%d8%b1-%d9%be%db%8c%d8%b4-%da%a9%d8%b1%db%92-%da%af%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
