<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>راشد جاوید احمد</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/rashid-javed/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sun, 13 Jul 2025 10:23:44 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>راشد جاوید احمد</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گرے شرٹ</title>
		<link>https://laaltain.pk/grey-shirt/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/grey-shirt/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Jul 2025 08:46:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33645</guid>

					<description><![CDATA[<p>وہ اسے گرے شرٹ میں دیکھ کر خوش نہیں ہو گا۔ 'لیکن میں شرٹ تبدیل نہیں کروں گی' وہ سوچتی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے یہ رنگ۔ اضطراب اس کے ماتھے اور چہرے پر نمایاں ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/grey-shirt/">گرے شرٹ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>وہ آفس سے تین دن کی چھٹی پر ہے۔ خواتین کے ایک نجی ہوسٹل میں اپنے کمرے میں کمپیوٹر ٹیبل پر بیٹھی وہ دیوار پہ لگے کلاک کی طرف دیکھتی ہے۔ دن کے گیارہ بجے ہیں اور اس کے پاس ابھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے۔ابھی وہ تیس برس سے کچھ کم کی ہے لیکن اس کی نزدیک کی نظر نہ جانے کیسے کمزور ہو گئی کہ اب اس کے پاس ایک نزدیک کی اور ایک اینٹی گلیر عینک کمپیوٹر کے لیے ہے۔ بعض اوقات تو وہ گڑبڑا جاتی ہے کہ کون سے چشمے کا استعمال مناسب رہے گا۔ تاہم اس وقت وہ اینٹی گلیر شیشوں والا چشمہ لگائے لیپ ٹاپ پر نظر آنے والی وڈیو میں کسی سمندر کا منظر دیکھ رہی ہے جس کا پانی بہت شور کرتا ہوا ایسی لہریں اچھال رہا ہے کہ گویا ابھی سکرین سے باہر آ جائے گا۔ وہ مضطرب ہے۔ سمندر کے پانی سے اٹھتی لہریں اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔۔ ماوس پر جمی اس کی انگلیاں بھی بے قرار ہیں۔ سمندر کی وڈیو بند کر کے وہ بے خیالی میں کئی اور کلپس کھولتی ہے۔ عینک بدلتی ہے۔ سکرین پر مختلف کمپنیوں کی برانڈڈ مصنوعات کی خبریں، سلے ان سلے کپڑوں کے اشتہار، فیشن کے نئے ڈیزائن ہیں۔۔۔۔ سکرین منی مائز کر کے وہ اپنی پینٹنگز کا فولڈر کھولتی ہے۔ اپنی بنائی تصویروں کی دل ہی دل میں ستائش کرتی ہے۔ حال ہی میں لگی اپنی ینٹنگز کی نمائش پر آئے کومنٹس پڑھتی ہے۔ لیکن اسے کچھ بھی پسند نہیں آ رہا۔ شاید اس عینک کے شیشے دھندلے ہیں یا وہ اپنے آپ سے لڑنے میں مصروف ہے۔ عینک بدل کر وہ پھر گوگل سرچ کی ونڈو پر آ جاتی ہے۔ سرچ بار پر ” نور بانو” ٹائپ کرتی ہے۔ سکرین پر فیروزی رنگ کی ایک کھڑکی کھلتی ہے جس میں دنیا جہان کی نور بانووں کے نام نظر آتے ہیں۔ وہ عینک اتار کر آنکھیں سکرین کے قریب لے جا کر دیکھتی ہے کہ اس نام کو بایئس ہزار مرتبہ سرچ کیا جا چکا ہے۔ اس کی نظر ایک بار پھر کمرے میں لگے کلاک کی طرف اٹھتی ہے۔ ابھی بھی خاصا وقت ہے۔ اس کی بے چین انگلیاں پھر کی بورڈ پر ہیں۔ وہ سرچ بار میں ” باسل احمد” ٹائپ کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نام کو کوئی پچاس ہزار بار سرچ کیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر اسے بیک وقت خوشی اور رقابت کا احساس ہوتا ہے۔ لیکن اسے غصہ بھی آتا ہے کہ باسل نے اسے دوپہر کو آنے کا کیوں کہا؟ آخر وہ صبح ہی اس کی طرف کیوں نہیں جا سکتی تھی۔ ” گاڈ نوز بیٹر” وہ بڑ بڑاتی ہے اور سرچ بار پر لفظ گاڈ ٹائپ کرتی ہے۔۔ اس لفظ کے اعدادو شمار نے دونوں ناموں کو شکست دے دی۔ دور کسی کمرے سے یا شاید ساتھ والے کمرے سے اسے جسٹن بائبر کے گانے کی آواز سنائی دی تو اس نے سرچ بار پر اس کا نام لکھ دیا۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ جسٹن بائبر کا نام، گاڈ سے کہیں زیادہ بار تلاش کیا گیا ہے۔ </p>
<p>ایک کے بعد دوسری عینک بدلتے ہوئے وہ یونہی بے خیالی میں سرچ بار پر لفظ پورن ٹائپ کرتی ہے۔۔ لمحے بھر میں ان گنت پورن سائٹس کے لنک جگمگانے لگتے۔ بوس و کنار کرتے مرد عورت، سستی سی ہیجان خیزی اور میکانکی مشغولیات۔ یہ سب اس کے اضطراب میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ تنگ آ کر وہ لیپ ٹاپ ہی بند کر دیتی ہے۔ اور لباس تبدیل کرنے کو اٹھ جاتی ہے۔ گرے رنگ کی شرٹ اور سفید جینز پہتنی ہے اور کندھوں تک لٹکے بالوں کو برش سے آراستہ کرتی ہے۔ سیل فون پر وقت دیکھتی ہے تو ابھی چالیس منٹ باقی ہیں۔ ہلکا سا میک اپ کرنے کے بعد وہ میچنگ کلر کی لپ سٹک لگاتی ہے۔ شولڈر بیگ اٹھاتی ہے۔ اس میں فیشن میگزین کا تازہ پرچہ رکھتی ہے اور بیگ کندھے پر لٹکا کر اپنا جائزہ لیتی ہے۔ گرے نہیں، سفید شرٹ پہننا چاہئے تھی۔ وہ اسے گرے شرٹ میں دیکھ کر خوش نہیں ہو گا۔ ‘لیکن میں شرٹ تبدیل نہیں کروں گی’ وہ سوچتی ہے۔ مجھے اچھا لگتا ہے یہ رنگ۔ اضطراب اس کے ماتھے اور چہرے پر نمایاں ہے۔ وہ سیل فون اٹھاتی ہے اور ٹیکسی آرڈر کرتی ہے۔۔ پانچ سات منٹ کے بعد وہ ہوسٹل کے مین گیٹ پر رکی سلور رنگ کی ٹیکسی کی پچھلی نشست پر تقریباً گرنے کے انداز میں بیٹھتی ہے اور ڈرایئور کو منزل کا پتہ بتاتی ہے۔ آدھے سفر کے دوران وہ بیگ میں سے چھوٹا سا آیئنہ نکالتی ہے اور اپنے چہرے کا جائزہ لیتی ہے۔ اپنے رخساروں کو دایئں بایئں حرکت دے کر اپنے آپ کو ری لیکس کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ عینک اتار کر بیگ میں رکھتی ہے۔۔ گرے شرٹ نہیں پہننی چاہئے تھی وہ پھر سوچتی ہے۔ یقیننا باسل کو نا پسند ہے یہ رنگ۔ اس کے ماتھے پر ایک شکن سی ابھرتی ہے لیکن دوسرے ہی لمحے وہ ”سو وٹ” کہہ کر اس خیال کو جھٹک دیتی ہے۔ کوئی دس منٹ کی مسافت کے بعد ٹیکسی ایک ہوٹل کے گیٹ پر رکتی ہے۔ داخلے پر چوکیدار کو باسل احمد اور کمرہ نمبر 110 بتا کر وہ ٹیکسی سے اترجاتی ہے۔ </p>
<p>کمرہ نمبر 110 پر دستک دے کر وہ ٹشو پیپر سے پیشانی پر آیا خیالی پسینہ صاف کرتی ہے۔ دروازے پہ لگے اندھے سے شیشے میں اپنے سراپا کا جائزہ لیتی ہے۔ گرے شرٹ دھندلے شیشے میں سیاہی مائل لگ رہی تھی۔ اس نے ایک بار پھر دستک دی تو قدموں کی آواز کی بجائے “دروازہ کھلا ہے۔ اندر آ جاو۔” کی آواز سنائی دی۔وہ اندر داخل ہوتی ہے تو تین چھوٹے چھوٹے کمروں کا ایک سویٹ ہے۔ اس کی ہائی ہیل لکڑی کے فرش پر کھٹ کھٹ بجاتی ہے۔ “باسل۔۔۔ باسل۔۔۔ بھئی کہاں ہو تم۔ کہتی ہوئی وہ اس کمرے تک تک پہنچتی ہے جہاں باسل فون پر گفتگو میں مصروف ہے اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ فون بند کر کے وہ اسے ہیلو کہتا ہے۔<br>
“تو تم باہر دروازے تک نہیں آ سکتے تھے۔۔۔۔۔” وہ ذرا ترش لہجے میں پوچھتی ہے۔</p>
<p>“یار وہ اچانک باس کا فون آ گیا تھا، میں نے اسی لیے بھاگ کر دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ تم پہنچنے والی ہوگی۔ ” باسل نے اطمینان سے جواب دیا۔<br>
“ہاں ہاں، اندازے لگانے میں تم بہت ماہر ہو اور یہ باس کہاں سے آ گیا۔اسی لیے تم نے مجھے صبح آنے کو منع کیا تھا؟ باس کا فون۔۔۔ تم تو تین دن کی چھٹی پر یہاں آئے ہو اور تم جانتے ہو میں نے بھی اسی لیے چھٹی لی ہوئی ہے۔ ” وہ ایک ہی سانس میں سب کہہ گئی۔</p>
<p>” میں کیا کرتا۔ چھٹی تو اسی لیے لی تھی کہ یہ دن ساتھ گزاریں گے لیکن وہ سیلاب کی ایمرجنسی۔۔۔ یا باس کی ایمرجنسی کہہ لو، کہتا ہے یہاں ہو تو چھوٹا سا پراجیکٹ ہی کر لو اورشام تک میری ٹیم کے بندے بھی بھیج دے گا۔۔۔۔۔ اب بتاو کوئی راہ فرار ہے؟ ” </p>
<p>” تو ٹھیک ہے میں فرار ہو جاتی ہوں۔ ٹیم لیڈ صاحب آپ اپنی ٹیم کے ساتھ سیر و تفریح کریں۔ ”</p>
<p>” رکو تو۔ سانس تو لو۔ آتے ہی جانے کی باتیں شروع کر دی ہیں۔ میری پوزیشن سمجھو ناں۔ ”</p>
<p>” نہیں تم ایک نمبرکے جھوٹے ہو، یہ پروگرام پہلے سے ہی طے ہوگا۔ تم آئے ہی سیلاب کور کرنے ہو۔۔۔ تمہاری ٹیم بھی آنے والی ہے۔ وہ ہے ناں کبریٰ ، تمہاری اسسٹنٹ، سنبھال لے گی سب، تم فوٹو گرافی نہیں کروگے تو کیا آفت۔۔۔۔۔۔۔”</p>
<p>“نہیں۔ نہیں نور بانو، یہ جو تم میری نیت پر شک کرتی ہو اور مجھ پر اعتبار نہیں کرتی ناں یہ مجھے سخت تکلیف دیتا ہے۔” باسل نے ترش لہجے میں کہا۔ “ابھی بہت وقت ہے۔ کھانا کھاتے ہیں۔ گپ شپ کرتے ہیں، بس پروگرام کا کچھ حصہ منسوخ کرنا پڑے گا۔ آئی ایم سوری۔ ”</p>
<p>” نہیں کھانا مجھے کچھ بھی۔ تم نے میرا دن برباد کر دیا اور لگتا ہے باقی کے دن بھی۔”</p>
<p>باہر دروازے پر دستک ہوئی۔ روم سروس کے ویٹر ٹرالی میں خورد و نوش کی چیزین لے کر آئے اور رکھ کر خاموشی سے واپس چلے گئے۔</p>
<p>” چلو غصہ تھوک دو، چلو غصہ تھوڑی دیر کے لیے معطل کر دو۔ دیکھو تمہاری پسند کی ڈشز ہیں۔” باسل نے ٹرالی نور بانو کے قریب لاتے ہوئے کہا اور اس کے برابر ہی بیڈ نما صوفے پر بیٹھ گیا۔ وہ اسے عجیب نظروں سے گھورتی رہی۔ باسل نے اس کے کندھوں پر آہستہ سے ہاتھ رکھے اور اس کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوئے کہا،” تم جب بھی یہ رنگ پہنتی ہو تو تمہارا موڈ بھی اسی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔ آو کھانا کھایئں، لڑائی بعد میں کر لینا۔ ”</p>
<p> نور بانو ، ہاسٹل سے صرف کافی کا ایک کپ پی کر نکلی تھی بھوک اسے بھی محسوس ہو رہی تھی۔ دونوں نے خاموشی سے ایک لفظ کہے بغیر کھانا کھایا۔<br>
 ” تم یقیناً کافی پینا پسند کرو گی۔” باسل نے ٹرالی ایک طرف کر کے چوکڑی مار کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔</p>
<p>” نہیں۔ کافی کی ضرورت نہیں۔۔۔۔۔ تم بتاو یہ کیا بکواس لکھی تم نے فیشن میگزین میں میری پینٹنگ کی نمائش کے بارے میں۔۔ مانا کہ تم ایک نامی گرامی فوٹو گرافر ہو لیکن تم نے کبھی پینٹ کیا کچھ؟”</p>
<p>” اوہو تو اس بات کا غصہ ہے۔ یار دیکھو تمہارے ساتھ پینٹنگ اور فوٹو گرافی پڑھی تو تھی ناں۔ اور پانچ نمبر تم سے زیادہ ہی لیے تھے۔ یہ اور بات کہ جاب فوٹوگرافی کی ملی۔ ویسے بھی فوٹوگرافی اور مصوری جڑواں بہنں ہی کہلاتی ہیں۔ میں تو پینٹنگ کے بارے میں نئی نئی چیزیں پڑھتا ہی رہتا ہوں۔ آج کل کیا چل رہا ہے مجھے سب پتہ ہے۔ ” </p>
<p>“پانچ نمبر زیادہ۔۔ ہونہہ۔۔۔ یہ کیا لکھا تم نے” نور بانو نے بات کاٹ کر بیگ سے میگزین نکال کر گود میں رکھ لیا، ” یہ۔۔۔ یہ سٹروکس میں روانی اور حساسیت نہیں ہے۔ یہ تم کسی ایک پینٹنگ کے بارے میں کہتے تو بھی تھا۔۔۔ تم نے تو عمومی بات کر دی۔۔۔ ساری پینٹنگز ہی ایسی ہیں؟ ”</p>
<p>” دیکھو مجھے جو لگا وہ میں نے لکھ دیا۔ میں نے اپنے تاثرات کے اظہار میں کبھی بے ایمانی نہیں کی۔”</p>
<p>” یہ پڑھو، ” اس نے میگزین باسل کی آنکھوں کے قریب تر کرتے ہوئے کہا، “یہ میڈم شاہین کا ریویو۔۔۔ نور بانو کی پینٹنگز میں گلیزنگ اور واش کا میڈیم بہت خوبصورتی سے استعمال کیا نظر آتا ہے جو کہ ایک مشکل کام ہے۔۔۔۔ تمہاری ٹیچر تھیں ناں میڈم شاہین ”</p>
<p>“اور یہ پڑھو۔ قدرت شیخ کیا لکھتا ہے، ۔۔۔ نور بانو کی پینٹنگز اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مصوری کے اس قافلے میں اس کا اپنا راستہ اور اپنی منزل ہے۔ ”</p>
<p>” اور یہ تم کیا لکھتے ہو، یوں لگتا ہے برش پر کنٹرول نہیں رہا، پورے بازو سے پینٹ کرنے کی بجائے صرف کلائی سے پینٹ کرنے کا شبہ ہوتا ہے، تم سمجھتے ہو مجھے برش پکڑنا نہیں آتا؟” </p>
<p>” ہاں وہ والی پینٹنگ یاد کرو،” باسل نے یاد کراتے ہوئےکہا، ” وہ زمین پر سنگریزے اور پس منظر میں ٹنڈ منڈ درخت، وہ درخت بناتے ہوئے یقیناً تمہاری ذاتی سوچ اس وقت تمہارے سٹروکس پہ حاوی ہو گئی لگتی ہے۔” </p>
<p>” ہونہہ، ذاتی سوچ۔۔۔ ذاتی سوچ اور الہامی کیفیت نہ ہو تو فن پارہ کیسے بن سکتا ہے۔ عجیب بات کی تم نے۔”</p>
<p>” نہیں، میں ذاتی سوچ اور الہامی کیفیت کے خلاف نہیں لیکن وہ آرٹسٹ پر اتنی حاوی نہیں ہونا چاہئےکہ برش ہاتھ سے نکل جائے۔ ” </p>
<p>” بس کرو۔ ایک تو میری پینٹنگ میں اتنی برائیاں نکالیں اوپر سے معذرت بھی نہیں کر رہے ہو” یہ کہہ کر نور بانو نے میگزین باسل کے منہ پر دے مارا۔ وہ میگزین کے نشانے سے بچنے کے لیے آگے کو جھکا تو دونوں کے درمیان صرف سانس بھر کا فاصلہ تھا۔ نور بانو کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ اس کے تنفس کا زیر و بم اس قدر شدید تھا کہ جس صوفے پر وہ بیٹھے تھے وہ زلزلے کے ہلکے جھٹکوں کی طرح ہلتا محسوس ہونے لگا۔ وہ چند ثانیے اسے گھورتی رہی پھر ایک دم اس نے باسل کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔ باسل کو محسوس ہوا گویا کوئی شدید تپتی ہوئی نرم سی چیز اس کے لبوں پر پیوست ہو گئی ہے۔ باسل نے اسے سر سے پکڑ کر پیچھے ہٹانے کی کوشش کی لیکن بانو اس وقت اپنے آپ میں نہیں تھی۔ یہ غصہ تھا اور کس بات پہ تھا یا کیا تھا۔۔۔ اس نے ہونٹ ہٹائے بغیر باسل کی کمر پر زور زور سے مکے رسید کرنے شروع کر دیئے۔ باسل کو محسوس ہوا کہ ان ضربوں میں شدید اضطراب ہے۔ اس اچانک حملے کی شدت سے بچنے کے لیے باسل نے زور سے اسے اپنے ساتھ بھینچ لیا جس سے مکوں کی شدت کچھ کم ہو گئی۔ بانو کو بھی اپنی سانس گھٹتی محسوس ہوئی تو اس نے باسل کے سر کے بال نوچنا شروع کر دیئے اور اس کی شرٹ اتار کر اس کے کندھوں پر دانت گاڑ دیئے۔ باسل کو وہ نور بانو نہیں بلکہ کوئی ایسی عورت لگ رہی تھی جس کے اندر کسی پدمنی ، سنکھنی یا ہستنی کی روح آ گئی ہو۔۔اس نے اس کی گرفت سے آزاد ہونے کی کوشش کی لیکن اسے محسوس ہوا کہ گرفت خاصی مضبوط ہے۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ اس ہیجانی کیفیت سے کیونکر نمٹا جائے۔ </p>
<p>کوئی دوڈھائی گھنٹے کی گہری نیند کے بعد ملگجی سی روشنی میں نور بانو کی آنکھ کھلی تو چند لمحے اسے یہ معلوم کرنے میں لگے کہ وہ کہاں ہے۔ اس نے اپنے اوپر پڑی چادر کو ہٹایا اور اپنے زیر جامے تلاش کر کے پہنے۔ صوفے پر بیٹھ کر اس نے گرے شرٹ اٹھائی تو وہ تار تار تھی اور پہننے کے قابل نہیں رہی تھی۔ قریب ہی ایک سفید شرٹ رکھی تھی۔ اسے پہن کر وہ اٹھی اور باسل کو آوازیں دیتی واش روم کی طرف چلی گئی۔ واپس آ کر اس نے صوفے پر پڑی جینز پہننے کے لیے اٹھائی تو اس کی نگاہ کاغذ کے ایک ٹکڑے پر پڑی۔ اس نے قریب کی عینک لگا کر دیکھا۔ باسل نے لکھا تھا کہ وہ ٹیم کے ساتھ کسی گوٹھ کی طرف جا رہا ہے۔ واپسی کا کچھ پتہ نہیں۔ وہ چاہے تو رات یہیں رہ سکتی ہے۔ ہوٹل والوں کو بتا دیا ہے۔ جانا چاہے تو باہر نکل کے دروازہ بند کردے۔ خودکار دروازہ لاک ہو جائے گا۔ نور بانو نے کاغذ کا ٹکڑا مسکراتے ہوئے پرزے پرزے کردیا او شولڈر بیگ اٹھا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ </p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/grey-shirt/">گرے شرٹ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/grey-shirt/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>رف رف رفتن</title>
		<link>https://laaltain.pk/ruf-ruf-raftan/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ruf-ruf-raftan/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 05 Sep 2016 10:23:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[اردو فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[پہاڑی کہانی]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<category><![CDATA[رومانوی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[معاصر اردو افسانہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17774</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ruf-ruf-raftan/">رف رف رفتن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>یہ وہ دن تھا جب اس نے کچھ میٹر مزید کپڑا بننے کے بعد باقی دھاگہ سمیٹا اور کپڑے کو کھڈی کی گرفت سے آزاد کیا۔ وہ اس کپڑے پر جو اب ایک نہایت ہی خوبصورت چادر کی شکل اختیار کر چکا تھا بار بار ہاتھ پھیر کر لطف اندوز ہو رہی تھی۔ بادامی رنگ کے سلک کی یہ چادر اس نے کئی راتوں کی محنت کے بعد تیار کی تھی اور اس کے چاروں کونوں پر ہلکے نیلے رنگ کے پھول بھی کاڑھے تھے۔ اس نرم و نفیس سلک پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے دیکھا کہ اس کا ہاتھ مسلسل محنت سے نیلا پڑ چکا تھا۔ چادر طے کرتے ہوئے اس نے دیوار میں لگے شیشے میں جھانکا۔ نیلے ہاتھ سے سر کے بال، جو اس کی موٹی دلکش آنکھوں پر آئے تھے پیچھے ہٹائے۔ اسے اپنا چہرہ، رخسار، جلد سب کے سب سلک کی طرح ملائم نرم اور نیلاہٹ لئے ہوئے لگے۔ قدموں کی آہٹ سن کر اس نے چادر ایک ایسے صندوق میں چھپا دی جس کو شاید ہی کبھی سال دو سال میں ایک بار کھولا جاتا تھا۔</p>
<p>اونچے، بلند پہاڑوں اور درختوں سے گھری یہ بستی آٹھ گھروں پر مشتمل تھی اور ہر گھر ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر تھا۔ پہاڑ کی تراش خراش اور کہیں تنگ اور کہیں کھردرے راستوں کے باعث جہاں کسی کو جگہ مناسب لگی اس نے گھر بنا لیا، کوئی اونچا کوئی نیچا۔ اس بستی میں ابھی تک بجلی نہیں تھی اور رات کو جب ان میں روشنی کا انتظام کیا جاتا تو یہ روشنی دور سے ایک منحنی سی روشن لکیر نظر آتی۔ گھروں کے دروازوں کا رخ اس ندی کی جانب تھا جو ان گھروں سے تقریباً بیس فٹ نیچے بہہ رہی تھی۔ یہ کسی دریا کا حصہ تھی اور چند ایک قدرتی چشمے بھی اس میں گرتے تھے اس لئے وہاں ہر وقت پانی موجود رہتا تھا جو سورج کی روشنی میں ایک پنے کی صورت چمکتا نظر آتا، البتہ رات کی تاریکی اور خاموشی میں پانی کے بہنے کی آواز میں دلفریب موسیقیت تھی۔ آٹھ گھروں کی اس بستی میں ہتھ کھڈیاں تھیں۔ یہاں کے مرد چالیس کوس کا فاصلہ طے کر کے بُنائی کے لئے خام مال خرید کر لاتے اور ان کی عورتیں دھاگہ بنتیں اور حیران کن خوبصورت ڈیزائین کی چادریں، مفلر ٹوپیاں، واسکٹ حتی کہ بستر میں پاوں گرم رکھنے والے موزے بھی تیار کر لیتیں۔ یہی یہاں کی معیشت تھی۔ اگرچہ تمام مال شہروں میں پہنچ کر سستے داموں بکتا تھا تاہم اتنے دام مل جاتے تھے کہ ضروریات زندگی اور خام مال خرید لیا جائے۔ اس دور افتادہ بستی کے مکینوں کی ضروریات ہی کیا تھیں۔ کھانا پینا ان کا بے حد سادہ، سارا سال وہ مکئی ، باجرے پر گذارہ کرتے۔ دودھ کے لئے ہر گھر میں دو چار بکریاں یا ایک گائے تھی۔ عورتیں اور مرد دونوں ہی جفا کش تھے۔ لوگوں کے لئے اعلیٰ لباس تیار کرنے والے خود موٹے جھوٹے پیوند لگے لباس میں عمر گزار دیتے تھے اور سردیوں میں بھی اکثر ننگے پاوں ہی نظر آتے تھے، خاص طور پر عورتیں کہ ان کا تو کہیں آنا جانا ہی بہت کم تھا۔</p>
<p>گھروں کے سامنے والے رخ پر ندی اور گھروں کے درمیان، اونچے درختوں پر پہاڑی کووں کے لا تعداد گھونسلے تھے اور صبح کے وقت ان کا شور سن کر بستی کا ہر فرد بیدار ہونے پر مجبور تھا۔ ان کووں کی کائیں کائیں کے مختلف انداز بستی والوں کے لئے بڑے معنی لئے ہوتے۔ لڑکے بالے اور چھوٹی بچیاں سارا دن بکریوں کے ریوڑ چراتے، لڑکے البتہ کبھی کبھار شہر سے آئی ڈور سے گھر میں بنائی پتنگیں بھی اڑا لیتے۔ بکریاں چراتی بچی میں جونہی جوانی میں قدم رکھنے کی نشانیاں ابھرتیں اسے گھر کی کھڈی پر بٹھا دیا جاتا اور پھر باہر کی دنیا سے گویا ان کا رشتہ ختم ہو جاتا۔ ہاں چوری چھپے وہ گھر کے باہر کھیل لیتیں لیکن اس کا بھی ایک آدھ بار سے زیادہ امکان نہ ہوتا اور وہ جاتی بھی کہاں، ندی کی طرف جانے کی ممانعت تھی اور گھروں کی پچھلی طرف پہاڑوں کی ایک مسلسل دیوار تھی جسے دیکھ کر لڑکیوں کو قید کا سا احساس ہوتا تھا۔</p>
<p>دن تقریباً ختم ہونے والا تھا جب خوش بخت نے آج کا بنائی کا کام مکمل کیا اور کمر سیدھی کرنے کو ذرا لیٹی ہی تھی کہ بوڑھی دادی نے اسے آواز دی اور آج کے کام کا حساب لیا۔ وہ روزانہ اس سے معلوم کرتی کہ اس نے کتنے گولے دھاگے کے استعمال کئے ہیں اور ان سے کیا کیا تیار کیا ہے۔ دادی کا حساب بہت پکا تھا اور سب اس کے دماغ میں بہی کھاتے کی طرح درج ہوتا تھا۔ وہ جوانی میں ان گنت لباس بن چکی تھی اور بستی میں ایک بڑے فنکار کی حیثیت رکھتی تھی۔ اسے حساب کتاب میں کبھی غلطی نہیں لگی تھی لیکن وہ اس لڑکی خوش بخت کا حساب کبھی نہیں سمجھ پائی۔ وہ اسے ہمیشہ اس بات پر ڈانٹتی کہ وہ دھاگہ ضائع کرتی ہے اور اسے دیئے گئے دھاگے سے جتنی چیزیں تیار ہونی چاہئیں اتنی نہیں کر پاتی۔ دادی کی یہ تفتیش اور سرزنش اس وقت کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جب سے لڑکی نے ایک بہت ہی نفیس مردانہ مفلر مکمل کر نے کے بعد گم کر دیا تھا۔</p>
<p>جس کمرے میں ہاتھ سے چلنے والی کھڈی تھی اس کی پچھلی دیوار کے پیچھے پہاڑ کا طویل سلسلہ تھا۔ اس دیوار کا ایک پتھر کھسکا کر لڑکی نے سوراخ نما کھڑکی بنا رکھی تھی۔ جب وہ بنائی کے کام سے اکتا جاتی تو اس پتھر کو سرکا کر باہرکا نظارہ کرتی۔ باہر سرے سے کوئی نظارہ ہی نہیں تھا۔ سیدھے کھڑے پہاڑ، سورج کی روشنی میں نہائے ہوئے، بے آب و گیاہ، نہ چرند نہ پرند، نہ کوئی رستہ نہ کوئی بندہ بشر۔ پھر بھی کمرے کے ماحول سے یکسر باہر نکلنے کے لئے اس کھڑکی سے باہر جھانکنا گویا قید سے چند لمحوں کی آزادی کا احساس تھا۔ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے اس دن دور ایک جوان لڑکا نظر آیا۔ وہ بہت مشکل سے ان سنگلاخ پہاڑوں کے ابھرتے پتھروں کو پکڑ پکڑ کر اوپر کی طرف آ رہا تھا۔ اس کا رخ بلا شبہ اسی کھڑکی کی جانب تھا۔ پہلے وہ خوف زدہ ہوئی، پھر حیرت زدہ۔۔۔ یہاں کسی انسان کی آمد کا تصور بھی نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ یہاں سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں تھا، حتی کہ یہاں تو کبھی بکریاں چرانے والے بھی نہیں آ پائے تھے۔ وہ اس کا تصور تھا یا کوئی ہیولا۔آہستہ آہستہ وہ قریب آتا گیا تو اس کے خدو خال واضح ہونے لگے۔ لمبا قد، متناسب جسم لیکن جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ اس کی پاو پاو بھر موٹی آنکھیں تھیں۔ اور قریب آنے پر اس کے نیم گھنگریالے بال اور ہونٹوں پر بہت ہی ہلکی سنہری روئیں بھی نظر آ رہی تھیں۔ وہ بڑی مشقت کے بعد سوراخ کے قریب پہنچا۔ اس نے اپنی سانس ہموار کی۔ لڑکی اسے اتنا قریب دیکھ کر ششدر رہ گئی۔کون ہے یہ، لباس سے تو اسی علاقے کا معلوم ہوتا ہے لیکن یہ یہاں پہنچا کیسے۔ اجنبی تو اپنی سانس ہموار کر چکا تھا لیکن لڑکی کی سانسوں کا زیر و بم تو گویا پوری دیوار کو ہلائے دے رہا تھا۔ وہ اسے دیکھنے میں بری طرح مگن تھی۔اتفاق سے وہ خوبصورت مفلر اس وقت لڑکی کے گلے میں تھا۔ لڑکے نے ہاتھ بڑھایا تو لڑکی نے پیچھے ہٹنے کی بجائے مفلر سوراخ سے نیچے لٹکا دیا۔ لڑکے نے اتنا خوبصورت مفلر اپنے ہاتھوں سے چھوا تو اسے لڑکی کا لمس بھی محسوس ہوا۔ اس نے مفلر کو ذرا سا جھٹکا دیا تو مفلر لڑکی کے شانے سے نکل گیا اور دور نیچے کی طرف اڑتا ہوا نظروں سے غائب ہو گیا۔ اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ اسے فورا دادی کی غصے بھری آنکھوں کا خیال آیا اور جونہی مفلر اس کی نظروں سے غائب ہوا تو اس نے غصے سے لڑکے کی جانب دیکھا۔ لیکن وہاں تو اب کوئی نہیں تھا۔ ایسے جیسے کبھی کوئی تھا ہی نہیں۔ شام گہری ہونے کو تھی۔ وہ دیر تک کھڑکی کے پار دیکھتی رہی۔ بات اس کی سمجھ سے باہر تھی۔ لڑکے کو پہاڑ سے اوپر آنے میں کوئی پندرہ منٹ تو لگے ہوں گے لیکن غائب ہونے میں صرف پلک جھپکنے کا وقت۔</p>
<p>اس نے کھڈی کی پچھلی ٹیک پر پیر رکھا اور سوراخ کے تقریباً وسظ میں ہو کر دیکھا کہ وہ نوجوان کہیں گر تو نہیں گیا کہ اتنے میں دادی کے قدموں کی اواز آئی۔ اس نے فورا واپس کمرے میں چھلانگ لگائی اور سوراخ کو پتھر سرکا کر بند کر دیا۔ دادی جانتی تھی کہ لڑکی نے پتھر ہٹا کر کھڑکی سی بنا رکھی ہے۔ اس نے اس پر غصے کا اظہار بھی کیا تھا لیکن وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ اس سوراخ سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔۔ رات جب دادی نے حساب کتاب کیا تو تیار ہونے والے کل تین مفلر تھے جبکہ چوتھے کا نہ دھاگہ تھا اور نہ ہی مفلر۔ لڑکی کی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ نہ جانے کیوں اس نے اس واقعے کو پوشیدہ رکھنے کا سوچا اور بیان دیا کہ چوتھا مفلر ہاتھ میں لئے وہ کھڑکی سے باہر جھانک رہی تھی تو ایک دم تیز ہوا کے جھونکے سے وہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور کہیں پہاڑوں میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔ دادی نے سخت ترین الفاظ میں ڈانٹ پلائی اور یہ بھی کہا کہ یہ کھڑکی کسی دن تمہیں برباد کر دے گی۔ تھکاوٹ کے باوجود وہ رات کو اپنے کمرے سے نکل کر کھڈی والے کمرے میں آتی رہی۔ اس نے ایک دو بار پتھر سرکا کر دیکھا بھی لیکن انتہا درجے کی تاریکی میں کیا نظر آتا۔ باقی ماندہ رات، شام کو پیش آنے والا واقعہ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔</p>
<p>اگلے روز کھڈی والے کمرے کے باہر نظر آنے والے درختوں میں غالباً کسی جانب سے آئی کوئی پتنگ پھنسی تھی اور کووں کی جان پر بن آئی تھی۔ کچھ تو بے صبری سے اڑان بھرتے دور چلے جاتے اور پھر پلٹ کر آتے اور پتنگ پر حملہ آور ہوتے لیکن ہوا کے زور سے پتنگ کے پھڑپھڑانے کا شور ہوتا تو پھر اڑجاتے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ان کی پر سکون زندگی میں یہ بلا کہاں سے چلی آئی۔ ایک کوا زور زور سے کائیں کائیں کرتا تو نہ جانے کہاں کہاں سے بیسیوں کوے اور آجاتے اور سب مل کر اجتماعی شور و غوغا کرتے۔ شور سن کر دادی بھی آ گئی۔ اس نے جو کووں کی آوازیں سنی تو سب کو خبردار کیا کہ یہ کوئی اچھا شگون نہیں۔ اس کے تجربے کے مطابق جو آوازیں کوے نکال رہے تھے وہ محض پتنگ کی وجہ سے نہیں تھیں بلکہ یا تو کسی مہمان کی آمد کی خبر تھی یا گھر کے کسی فرد کے سفر پر جانے کی۔ دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔</p>
<p>لڑکی کام کے کمرے میں آئی اور غیر ارادی طور پر اس نے کھڑکی کا پتھر سرکا کر باہر جھانکا۔ باہر دھوپ اور ویرانی تھی البتہ کووں کی آواز کہیں دور سے سنائی دے رہی تھی۔ اس نے کھڑکی بند کر دی اور کام پر بیٹھ گئی۔ آج اس کے کام کی رفتار بہت سست تھی۔ ہاتھ کھڈی پر بے دلی سے چل رہے تھے اور دھاگہ اس کے خیالوں کی طرح بار بار الجھ رہا تھا۔ مزید برآں اس نے کام کے دوران کوئی بیسیوں بار پتھر سرکا کر نظریں پھاڑ پھاڑ کر باہر دیکھا لیکن وہاں کچھ ہوتا تو نظر آتا۔ تنگ آ کر اس نے کام میں دھیان لگایا کہ مطلوبہ مقدار میں دھاگے سے کچھ بن پائے اور دادی کی نرم گرم سے بچ جائے۔ دادی اسے بہت اچھا کاریگر بلکہ فنکار سمجھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ اسے دھاگے کی دشمن بھی قرار دیتی تھی۔ دادی کو کیا علم کہ روز کچھ نہ کچھ خام مال اس خفیہ چادر کی نظر ہو جاتا تھا جسے وہ بہت محنت اور پیار سے بنا رہی تھی۔ دادی کا خیال آتے ہی اس کے ہاتھوں میں روزانہ کی تیزی لوٹ آئی۔ اس نے شام سے پہلے ہی آج کا کام ختم کیا اور ایک بار پھر چاہا کہ کھڑکی سے پتھر سرکا کر دیکھے کہ اچانک کھڑکی کے باہر پتھر پر کسی جنبش کا احساس ہوا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا اور سردی کے موسم میں وہ پسینے میں شرابور ہو گئی۔ جلدی جلدی مکمل کیا کام دادی کو تھمانے کے بعد وہ واپس پتھر کے قریب آئی اور دھڑکتے دل سے اسے ایک طرف سرکایا تو وہ سامنے کھڑا تھا۔ پہاڑ کے ایک نوکیلے پتھر کے سہارے۔ اسے اتنا قریب دیکھ کر ایک بار تو جیسے اس کے دل نے دھڑکنا بند کر دیا ہو لیکن ہمت کر کے اس نے سہمی ہوئی سرگوشی میں پوچھ ہی لیا</p>
<p>” تم۔۔۔۔تم۔۔۔۔کون ہو اور کہاں تھے۔۔۔۔میرا مطلب کہاں سے اس مشکل اور سنگلاخ پہاڑ پر آئے ہو۔۔۔کیسے۔۔۔اتنی نشیبی دیوار۔۔۔۔”</p>
<p>لڑکے نے لڑکی کے تمام سوال غور سے سنے۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی جس سے اس کی مونچھوں کی سنہری روئیں پھیل گئیں اور شفق میں زیادہ سنہری لگنے لگیں۔ اس نے صرف اتنا کہا ” تم مجھے پانی پلا سکتی ہو، مجھے بہت پیاس لگی ہے۔۔۔”</p>
<p>کچھ نہ سمجھتے ہوئے، ہونق چہرہ لئے وہ صراحی سے پا نی کا کٹورا بھر کے لائی تو وہ وہیں اسی انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے اشارے سے اسے بتایا کہ وہ پانی پینے کے لئے ہاتھ فارغ نہیں کر سکتا۔ لڑکی نے سوراخ میں سے تقریباً نصف جسم باہر نکالتے ہوئے کٹورا اس کے ہونٹوں کے ساتھ لگا دیا اور اس نے گھونٹ گھونٹ کر کے پانی پی لیا۔</p>
<p>” تم کون ہو، اس بستی کے تو نہیں لگتے اور یہاں کیوں آئے ہو، مطلب کیسے آئے ہو ؟ ” لڑکی نے اوسان بحال کر کے پوچھا</p>
<p>” ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، میں پہاڑ کی دوسری جانب سے ہوں لیکن میں یہاں آتا رہتا ہوں، میں ان گلہریوں کا شکار کرتا ہوں جو یہاں نیچے کثرت سے مل جاتی ہیں اور ان کی کھال۔۔۔۔”</p>
<p>” مگر نیچے سے اوپر آنے کو تو کوئی راستہ نہیں، میں بخوبی جانتی ہوں، آج تک کوئی نہیں آیا، آخر تم۔۔۔” لڑکی نے بات کاٹی، ” ہاں یہاں آنے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا۔ بس ایک دن کھڑکی کھلی تھی اور میں نے تمہیں ایک خوبصورت چادر بنتے دیکھا ۔ مجھے تم اور چادر دونوں ہی بے حد پسند آئے۔ میں تمہیں چادر سمیت اپنی بستی میں لے جانا چاہتا ہوں۔۔۔”</p>
<p>دادی کے دیکھتے ہی دیکھتے آخر ایک جری کوے نے پتنگ کا کاغذ پھاڑ دیا اور باقی کووں نے نہایت خوشی کے عالم میں وہ داد و تحسین بلند کی کہ اہل خانہ کانوں پر ہاتھ رکھ کر کمروں کے اندر دبک گئے۔</p>
<p>لڑکی نے اس قسم کی بات کبھی زندگی میں نہیں سنی تھی۔ وہ جس ماحول کی پیداوار تھی وہاں تو اس قسم کا خیال بھی محال تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے لیکن یک بیک وہ لڑکا اسے بھر پور طریقے سے اچھا لگنے لگا۔ ابھی اس نے کوئی بات کرنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا کہ دادی کی آواز اس کے کان میں پڑی جو پوچھ رہی تھی کہ کام ختم کر نے کے بعد وہ ابھی تک کمرے میں کیوں تھی۔ دادی کا ڈر اس قدر تھا کہ مشینی انداز میں اس نے پتھر سرکا کر کھڑکی بند کر دی اور دوسرے کمرے میں بھاگ گئی۔</p>
<p>یہ رات اس کے لئے پہلی رات سے بھی زیادہ تکلیف دہ تھی۔ پہلے تو وہ اسے محض اپنا وہم سمجھتی رہی لیکن آج اس کو اسی مفلر سمیت دیکھا جو خود اس نے اس کے ہاتھ میں دیا تھا اور آج تو اس نے کٹورا بھر پانی بھی پیا تھا اور بات بھی کی تھی۔ رات کروٹیں بدلتے اور یہ سوچتے گزر گئی کہ وہ کوئی انسان تھا یا اس کا خیال کیونکہ کھڑکی کے اس پار تو آج تک بستی کا کوئی بندہ بشر کبھی نظر نہیں آیا تھا اور سب جانتے تھے کہ وہاں آنے جانے کا کوئی راستہ، کوئی پگڈندی، کچھ بھی نہیں ہے۔ اسے دادی کی بات بھی یاد آئی کہ ابھی دو دن پہلے ہی اس نے کووں کی عجیب کائیں کائیں سن کر کہا تھا کہ کوئی مہمان آنے والا ہے۔</p>
<p>بمشکل دن طلوع ہوا تو اسے اس کمرے میں جانے ہی سے ڈر لگنے لگا۔ جہاں وہ پچھلے پانچ سال سے کھڈی چلا رہی تھی۔ وہ دبے پاوں کمرے میں گئی اور دھاگوں کے گولوں کو جو دن چڑھے ہی دادی کھڈی پر رکھ دیتی تھی، گھورنے لگی۔ ہر گولے میں اسے اسی لڑکے کے خدوخال نظر آنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسے ماتھے میں درد محسوس ہوا اور بدن کی حرارت بھی تیز لگنے لگی۔ ایک بار تو اس نے سوچا کہ آج دادی سے چھٹی لے لے لیکن آج اس کا ارادہ اس خوبصورت چادر کو مکمل کرنے کا تھا جو اس نے صندوق کے اندر چھپا رکھی تھی۔ اس نے کوئی دس بار کھڑکی کے پتھر کی طرف چور نظروں سے دیکھا لیکن اتنی ہمت نہ ہوئی کہ پتھر سرکا سکے۔ کل والا پانی کا خالی کٹورا بھی قریب ہی پڑا تھا۔ اس نے لپک کر اسے اٹھایا اور کسی پیاسے کی طرح ہونٹوں سے لگا لیا۔ اسے ایک عجیب خوشی اور سکوں کا احساس ہوا۔اب تو اسے یقین ہو چلا تھا کہ نہ یہ خواب ہے نہ خیال، یہ ایک حقیقت ہے مگر وہ پھر گڑبڑا گئی۔ ابھی کل ہی کی بات تھی، اس نے اپنے باپ سے پوچھا تھا کہ اس پہاڑ کی دیوار کے پیچھے کیا کوئی راستہ ہے، کوئی جگہ ہے آنے جانے کی تو اس نے گھور کر اس کی طرف دیکھا اور الٹا سوال کر دیا کہ آیا اسنے اپنی اٹھارہ سالہ کی عمر میں کووں کے علاوہ کسی اور پرندے تک کو بھی اس طرف دیکھا ہے۔ وہ خاموش ہو رہی۔ وہ کیسے بتاتی کہ لڑکا وہاں تھا، اس کے گلے میں مفلر تھا اور اس نے اسکے ہاتھوں پانی پیا تھا۔ اس نے چادر کی تعریف کی تھی اور ۔۔۔ اور۔۔۔۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے۔ آج کے کام کا آغاز بھی نہیں کر پائی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ اس اجنبی کے لئے پاگل ہو چکی ہے۔ کل کا واقعہ یاد کر کے اسکا دل زور زور سے دھڑک اٹھتا۔ یکدم کھڈی والا کمرہ اسے قید خانہ لگنے لگا اور کام کرنے کی بجائے وہ پتھر سرکا کر باہر کا نظارہ کرنے اٹھ کھڑی ہوئی۔</p>
<p>آج پھر کووں نے بہت شور مچا رکھا تھا۔ معلوم نہیں اونچے درختوں پر بیٹھے نیچے پہاڑ کی جانب کیا نظر آرہا تھا کہ بار بار نیچے کو اڑان بھرتے اور پھر شور مچا کر اوپر درختوں پر بیٹھ کر واویلا کرتے۔ ان کے اس بے تحاشا اور غیر معمولی شور نے دادی کو بھی مجبور کر دیا کہ وہ دیکھے کہ ان کو آج کیا تکلیف ہے۔ ماتھے پر ناگواری لئے دادی کھڈی والے کمرے کے باہر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کووں کی حرکات میں ایک عجیب سی بے چینی دیکھی۔ اس کے دل میں کسی انہونی کا کھٹکا ہوا۔ اس نے اپنی پوتی سے کچھ کہنے کو مڑ کر کمرے کے اندر جھانکا تو کھڈی پر کوئی نہیں تھا۔ گولے ویسے کے ویسے ہی دھرے تھے۔ پتھر سرکا ہوا تھا اور کمرہ خالی تھا۔ دادی نے سارے گھر میں پوتی کو آوازیں دیں، تلاش کیا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔ گھر کے مرد ندی تک تلاش کر آئے لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ سہ پہر ہونے کو آئی۔ بستی کے لوگوں نے رسوں، لاٹھیوں اور بھالوں کی مدد لی اور دادی کے حکم پرگھر کے پچھواڑے والے عمودی پہاڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگے کہ یہی ایک جگہ تھی جہاں آج تک کسی کی رسائی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی کبھی ضرورت پڑی تھی ۔ تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد وہ لوگ اس کھڑکی کے قریب پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ لڑکی ایک نہایت خوبصورت سلک کی چادر میں ملبوس پہاڑ کے ایک چوڑے پتھر پر لیٹی تھی اس کے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا پانی کا کٹورا تھا، اس کے پاس وہی مفلر پڑا تھا جو سال بھر پہلے کھڑکی سے باہر اڑ گیا تھا۔ اتنی بلندی سے گرنے کی وجہ سے وہ دم توڑ چکی تھی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ruf-ruf-raftan/">رف رف رفتن</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ruf-ruf-raftan/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>تیز دھوپ میں کھلا گلاب</title>
		<link>https://laaltain.pk/tez-dhoop-mein-khila-gulab/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/tez-dhoop-mein-khila-gulab/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2015 14:23:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<category><![CDATA[عورت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12739</guid>

					<description><![CDATA[<p>کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/tez-dhoop-mein-khila-gulab/">تیز دھوپ میں کھلا گلاب</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>کتا زور زور سے بھونک رہا تھا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ ارسطو کے نظریہ حکومت کا بغور مطالعہ کر سکوں لیکن شور بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ میں نے مٹھو سے کہا کہ جا کر معلوم کرے کہ کیا مسئلہ ہے۔ واپس آ کر اس نے مجھے بتایا کہ سڑک پر ایک عورت بکریاں چرا رہی ہے اور بکریاں ہمارے گھر کے باہر والے لان میں گھس آئی ہیں۔ مجھے باغبانی سے از حد دلچسپی ہے اور جب سے ہم دوسرے شہر میں اپنا بڑا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آئے ہیں میں اسی چھوٹے سے لان میں اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کر لیتا ہوں۔ نئی کالونیوں اور جدید بستیوں میں دس مرلے کے گھروں میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی کہ میرے جیسا شخص اپنا شوق بطریق احسن پورا کر سکے۔ میرے ایک دوست نے باغبانی سے میری دلچسپی دیکھ کر میرا نام نباتاتی مریض رکھ چھوڑا ہے۔</p>
<p>اگرچہ مٹھو نے لان میں بکریوں کے آنے کا جو نقشہ پیش کیا تھا وہ میرے غصے کو آخری درجے تک پہنچانے کے لئے کافی تھا لیکن ارسطو کا نظریہ حکومت بھی غیر دلچسپ نہیں تھا۔ کتاب میں بک مارک رکھ کر میں کمرے سے باہر ٹیرس پر آ گیا۔ بکریاں اگرچہ اب لان میں نہیں تھیں تاہم وہ قریب ہی تھیں اور ایک بار پھر پودوں پر حملہ آور ہو سکتی تھیں۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو میرے پور چو لاکا(Portulaca) کے چار پودے تو بالکل غائب تھے۔ ٹیرس کے جنگلے سے ہی میں اس عورت پر برس پڑا۔ وہ اپنے اوڈھ لہجے میں نہ جانے کیا بڑ بڑا رہی تھی جو کتے کے مسلسل بھونکنے کی وجہ سے سنائی نہیں دے رہا تھا۔ آخر مجھے نیچے آنا ہی پڑا۔ عورت پھٹے پرانے نیلے رنگ کے پیوند لگے کپڑوں میں ملبوس ، ننگے سر ننگے پاوں زمین پر متھلا مارے بیٹھی تھی۔ دھوپ کی حدت سے اس کا رنگ سیاحی مائل سرخ ہوگیا تھا۔ اس کے گلے میں گلٹ کا بنا ہوا بھدا سا نیکلس، کانوں میں پیلے رنگ کے جھمکے اور ناک میں اسی رنگ کی بلاقی تھی۔ اس کی کلائیوں کی ہڈیاں مضبوط تھیں اور اس امر کی گواہ تھیں کہ وہ زیر تعمیر عمارتوں میں اینٹیں ڈھونے اور بیلچہ چلانے کا کام کرتی ہے۔ مجھے اپنے قیمتی پودوں کے ضائع ہونے کا اتنا رنج تھا کہ میں اپنے آپ پر قابو نہ پا سکا۔</p>
<p>’’ کچھ معلوم ہے تمہیں۔۔۔؟ تم نے میرا کتنا نقصان کر دیا ہے۔۔۔‘‘<br>
’’ کیا ہوا، ذرا بکریوں نے منہ مار لیا ہے‘‘<br>
’’ یہ ذرا ہے، پورے چار پودے غائب ہیں اور تم کہہ رہی ہو ذرا‘‘<br>
’’ کوئی بات نہیں صاب، اللہ اور دے گا۔۔ آخر بے زبان بکریوں نے بھی تو کچھ کھانا ہے نا۔‘‘<br>
اس کی یہ منطق سن کر تو میں اور آگ بگولا ہو گیا۔<br>
’’ بکریوں نے کھانا ہے تو میں نے کیا ٹھیکہ لے رکھا ہے، ان کا دودھ تم پیتی ہو، مجھے کوئی حصہ تو نہیں ملتا‘‘<br>
’’ ایمان سے میری نہیں ہیں ، مجھے تو ان کو چرانے کے روز دس روپے ملتے ہیں ‘‘<br>
’’ مجھے نہیں معلوم دس ملتے ہیں کہ بیس، تم نے میرا چارسو کا نقصان کر دیا ہے اور اوپر سے باتیں الگ بنا رہی ہو۔۔۔اگر میں ان پر اپنا کتا چھوڑ دیتا تو بکریوں سمیت تم کو بھی کھا جاتا‘‘<br>
’’ہاں ہاں چھوڑ دو ہم پر کتے، اب یہی کسر تو رہ گئی ہے، تم بھرے پیٹ والے ہو، پیسے والے ہو، تمام خالی جگہیں خرید کر تم نے گھر بنا لئے ہیں ۔۔۔اب ہم پر کتے ہی چھوڑو گے۔۔ذرا روٹی کا آسرا ہے، وہ بھی چھین لو گے؟‘‘</p>
<p>بک بک کرتی وہ اٹھی اور پتلی چھڑی سے ہانکا کرتی بکریوں کو ہماری گلی سے باہر لے گئی۔ میں اس وقت بہت غصے میں تھا۔ دراصل میں نے بڑی محنت سے پہلے پنیری تیار کی، پھر کافی انتظار کے بعد انہیں الگ الگ کیاریوں میں لگایا تھا اور ابھی ان پر پھول آئے دو دن ہی ہوئے تھے کہ بکریوں نے دن کے وقت شب خون مار دیا تھا۔ میں نے لان کا جائزہ لیا تو وہاں صرف یہی چار پودے غائب نہیں تھے بلکہ بکریوں کی یلغار سے گارڈینیا کی باڑھ بھی ایک جگہ سے ٹوٹ چکی تھی ۔ البتہ گلِ نافرمان کا پودا بس تھوڑا ٹیڑھا ہوا تھا۔ میں نے فورا کچھ اینٹیں چن کر اس کے گرد رکھ دیں۔</p>
<p>سہ پہر کی چائے تیار تھی اور میری بیوی مجھے چائے کے لئے آوازی دے رہی تھی۔ میں نے ہاتھ دھوئے اور اوپر جا کر چائے پینے لگا۔ ہم میاں بیوی اس سلسلے میں بڑے خوش قسمت ہیں کہ ایک دوسرے کا موڈ پہچانتے ہیں۔ میرا غصہ کم کرنے کے لئے اس نے ادھر ادھر کی باتیں چھیڑ دیں اور میں بھی کتاب کی ورق گردانی کرنے لگا۔ میری نظریں تو کتاب پر تھیں لیکن میرا ذہن ضائع ہوجانے والے پودوں اور عورت کی باتوں میں اٹکا تھا۔ مجھے وہ عورت، اس کی مضبوط کلائیاں، اس کا مادر زاد ننگا بچہ، کڑتن سے بھرے تلخ الفاظ ، رہ رہ کے یاد آ رہے تھے۔۔ موٹے پیٹ والے۔۔۔ پیسے والے۔۔۔ بے وقوف عورت اتنا بھی نہیں جانتی کہ یہ گھر میرا نہیں بلکہ کرائے کا ہے اور ہم دونوں محنت مشقت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مجھے اس کی بے وقوفی اور سادگی پر ترس آنے لگا۔ پھر مجھے دیگر مزدور عورتوں کے ساتھ ساتھ نوکری پیشہ خواتین کا خیال آیا۔ مجھے اپنے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کا خیال آیا کہ میں ان کا ہمیشہ احترام کرتا ہوں۔ بات بے بات شکریہ ادا کرنا، خوش مزاجی سے پیش آنا، ان کے نقطۂ نظر کا حتی الامکان احترام کرنا۔۔۔آخر میں یہ سب کیوں کرتا ہوں؟؟کیا میں دفتر میں ایک خول چڑھائے رکھتا ہوں۔ نہیں، ہر گز نہیں، میں اس بات پر پوری طرح یقین رکھتا ہوں کہ اس مردانہ برتری کے معاشرے میں عورت، مرد سے کہیں زیادہ جبر کا شکار ہے۔ میں نے عورت کو ہمیشہ اپنے جیسا انسان ہی جانا ہے اور اسے جنس یا کم تر جنس کے حوالے سے کبھی نہیں دیکھا۔ میں اپنی بیوی کی ہر رائے کا احترام کرتا ہوں اور ایک رفیق کی مانند اس کی مدد کرتا ہوں۔ گھر کے کاموں میں اس کا ہاتھ بٹاتا ہوں لیکن اس بکریاں چرانے والی عورت کی ذرا سی لا پرواہی پر میں اتنا سیخ پا کیوں ہو گیا۔ کیا یہ جعلی پن ہے ؟ سوچوں تو کیا میں اکیلا اتنے بڑے ریوڑ کو قابو کر سکتا ہوں۔ کیا میں اس عورت کی جگہ اپنی بیوی، بہن، کولیگ یا دوست کو تصور کر سکتا ہوں؟ میرے ذہن کی رو اسی طرف بہنے لگی ہے اور ارسطو کا نظریہ حکومت وہیں رہ گیا ہے۔ میں نے کتاب بند کر دی ہے اور سگریٹ سلگا لیا ہے۔ اس عورت کے ساتھ میرا مکالمہ مجھے بار بار یاد آ رہا ہے۔ میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھ سے زیادتی ہو گئی ہے۔ میرا خیال ہے کہ مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیئے۔ ہاں کل، یا اگلے چھٹی کے روز یا جب وہ نظر آئے۔<br>
سہہ پہر کا وقت ہے۔ چھٹی کا دن ہے۔ کتا زور زور سے بھونک رہا ہے۔ میں نیچے آتا ہوں، گیٹ کھولتا ہوں۔۔۔وہی عورت۔۔۔میں اپنے آپ میں ہمت نہیں پاتا۔۔۔میں لان کے ایک کونے میں کھڑا ہو جاتا ہوں جہاں سے میرا خیال ہے کہ بکریاں آ سکتی ہیں، بس میں انہیں روک لوں گا۔</p>
<p>’’ فکر مت کرو بابو۔۔۔میرا دھیان ہے‘‘ عورت اوڈھ لہجے میں کہتی ہے اور کوڑے کرکٹ سے بھری زمین پر متھلا مار کر بیٹھ جاتی ہے۔ اس کی گود میں وہی بچہ ہے اور وہ بڑے پیار سے اپنے مہندی لگے ہاتھوں سے اس کے سر سے جوئیں نکال رہی ہے۔ میں حیران و ششدر وہیں کھڑا رہ جاتا ہوں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/tez-dhoop-mein-khila-gulab/">تیز دھوپ میں کھلا گلاب</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/tez-dhoop-mein-khila-gulab/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سفید دھاگہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/sufaid-dhaga/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/sufaid-dhaga/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 09 Sep 2015 12:37:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[اردو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12521</guid>

					<description><![CDATA[<p>لیکن اس وقت یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کسی نے اس حالت میں دیکھا تو کیا کہے گا اور کہنے والوں کی زبانیں بند کرنے کا کوئی نسخہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sufaid-dhaga/">سفید دھاگہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>سفید چکن کے کرتے پاجامے میں ملبوس، ایک ہاتھ میں بچوں کی کاپیوں سے بھرا شاپنگ بیگ، دوسرے ہاتھ میں شولڈر بیگ اور آنکھوں پر سن گلاسز لگائے وہ رکشے سے اتری۔ تھکے قدموں کے ساتھ چلتی ، چار سیڑھیاں چڑھ کر اس نے چابی ، فلیٹ کے دروازے کے تالے میں گھمائی اور کمرے میں داخل ہوئی۔ ابھی اس نے ایک پاوں کا جوتا اتارا ہی تھا کہ اس کی نظر ڈور میٹ پر ایک لمبے سے سفید دھاگے پر پڑی۔ اس نے جوتے کا اگلا حصہ بار بار اس دھاگے پر مارا لیکن وہ سانپ کی طرح بل کھا کر میٹ کے اور ساتھ چپک گیا۔ اس نے ایک بار اور کوشش کی تو دھاگہ ہاتھی کی سونڈ کی شکل بنائے، ایک طرف سے لمبا ہوا اور میٹ کے بالوں میں نیم پوشیدہ ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ اسے ہاتھ سے اٹھا کر پھینک دے لیکن اس کی بجائے اس نے اپنے جوتے اٹھائے اور جھاڑ کر شو ریک میں رکھ دئے۔ ہینڈ بیگ میز پر الٹا کر اس نے سیل فون تلاش کیا اور اسے چارجنگ پر لگا دیا-</p>
<p>اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا ۔اسے ایسے لگ رہا تھا کہ سکول کے مختلف کاغذات، اسباق کی تفصیل، پلینرز اور بچیوں کی ہوم ورک کی کاپیاں اس کے جسم کے ساتھ چمٹی ہوئی ہیں۔ کمرے میں لگے وال کلاک کی سوئیاں چار بج کر پچیس منٹ بجا رہی تھیں۔ صبح سکول جاتے وقت جو کپڑے اس نے اتارے تھے وہ اسی طرح پڑے تھے۔ اس نے ایک بار پھر ڈور میٹ کی طرف دیکھا۔ سفید دھاگہ اب چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں کی طرح جگہ جگہ سے ابھرا نظر آرہا تھا۔ اسے نظر انداز کرتے ہوئے وہ بیڈ روم میں گئی اور دیواروں کے تمام پردے برابر کر کے عادت کے مطابق قمیض وغیرہ اتار کر، پنکھا فل سپیڈ پر چھوڑ کر عین اس کے نیچے کھڑی ہو گئی۔ پنکھے کی ہوا اگرچہ گرم تھی لیکن عریاں جسم کو اس سے خاصی آسودگی ملی۔ کچھ دیر بعد اس نے تولیہ پکڑا اور غسل خانے میں لٹکا دیا مگر ابھی اس کا نہانے کو جی نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ باورچی خانے میں چلی آئی، ماچس کی ڈبیا پکڑی اور چولہا جلانے ہی لگی تھی کہ اس کا ارادہ بدل گیا۔ اس نے فریج کھولا اور ایک دوست کے گھر سے لائی خوبصورت کٹ والی بوتل سے ٹھنڈا پانی اپنے حلق میں انڈیلا اور کمرے سے باہر آگئی۔ کمروں میں گھس آنے والی چھپکلی تو اسے تنگ کیا ہی کرتی تھی لیکن یہ سفید دھاگہ آج خوامخواہ کی پریشانی بن رہا تھا۔ اس نے ڈور میٹ کی طرف دیکھا ، اسے ڈرتے ڈرتے، دو انگلیوں سے اٹھایا، دھاگہ اس وقت کسی کی ای سی جی کی مانند تھا۔ اس نے دروازے کے سوراخ سے باہر دیکھا، ہوا چلنا شروع ہو چکی تھی۔ اس نے خاموشی سے دروازہ کھولا اور ایک پاوں باہر نکالا اور ایک اندر ہی رہنے دیا اور دروازے کی آڑ سے دہلیز پر میٹ کو زور سے جھٹکا۔ اس نے میٹ کو اتنے زور سے جھٹکا کہ اسے کھانسی آگئی ۔ دھاگہ اب بھی میٹ کے ساتھ کسی جونک کی طرح چمٹا تھا۔ اس نے میٹ کو زوردار جھٹکا دینے کی خاطر بے خیالی میں دوسرا پاوں بھی باہر نکال لیا۔ اس نے ڈور میٹ کو دروازے کے برابر سیڑھیوں کی ریلنگ کے ساتھ زوردار طریقے سے جھٹکا دیا ، میٹ اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گرا اور ٹھیک اسی لمحے زوردار دھماکے کے ساتھ وہ دراوزہ بند ہو گیا جس کے بند ہونے سے بچنے کے لئے اس نے ایک پاوں اندر کر رکھا تھا۔ ” اوہ۔۔۔ نہ مالک کو وقت ملے گا نہ اس دروازے کا تالہ بدلا جائے گا ” غصے کی لہر اس کے چہرے پر نمودار ہوئی۔ اس نے اپنے آپ کو غور سے دیکھا۔ وہ اپنے فلیٹ کے باہر، ٹانگیں چوڑی کئے کھڑی تھی اور اسنے صرف پاجامہ پہن رکھا تھا۔ اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ مستری کو بلائے بغیر یہ دروازہ نہیں کھلے گا۔ اپنی اس ہیئت کذائی پر کوئی گرم سیال مادہ اس کے جسم میں دوڑ گیا۔ اس نے اوپر کے فلیٹ کی جانب دیکھا تو اسے ایک کھڑکی کے پٹ پورے کھلے نظر آئے اور اسے ایسے لگا کہ یہ تو اسے کھانے کے لئے منہ کھولے کھڑے ہیں۔ خوف کی ایک لہر آئی۔ اسے دل کی دھڑکن کن پٹیوں میں بجتی محسوس ہوئی۔ اس کی نظریں بار بار بند دروازے، میٹ ، کھڑکی اور نصف عریاں جسم کا طواف کر رہی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے عریانی ڈھانپنے کی کوشش کی مگر ایک حصہ چھپاتی تو دوسرا نمایاں ہو جاتا۔ کچھ دیر وہ اسی کشمکش میں رہی اور پھر بڑی بے بسی سے اس دیوار کے ساتھ جس پر سوئچ بورڈ لگے تھے متھلا مار کر بیٹھ گئی۔ ڈور میٹ اس کے سامنے پڑا تھا اور دھاگہ اب مسکراتے ہونٹوں کی شکل بنائے ہوئے تھا۔</p>
<p>فلیٹ کے باہر نیم عریاں حالت میں ایسے بیٹھنا— اس کی ریڑھ کی ہڈی میں گرم موسم میں بھی سردی کی ایسی لہر اٹھی کہ اسے شدید درد محسوس ہوا۔ اسے ایسے لگا کہ جسم کا سارا خون اسکے چہرے اور کن پٹیوں میں جمع ہو کر منجمد ہو گیا ہے۔ یہ مجھے کس جرم کی سزا مل رہی ہے اس نے دکھ سے سوچا۔ عمارت کی پرلی طرف، تنگ گلی کی نکڑ والی مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز آئی تو اس نے صدق دل سے دعا مانگی کہ کوئی اسے اس حالت میں نہ دیکھ پائے۔ وہ تو صبح سکول کے لئے نکلتے وقت بھی پہلے دروازے کی درز سے باہر جھانکتی ہے اور یہ اطمینان کرنے کے بعد کہ گلی میں کوئی علیک سلیک کرنے والا نہیں تو جلدی جلدی قدم اٹھاتی گلی کے کونے پر پہنچتی ہے جہاں رکشے والا ٹھیک سوا سات بجے موجود ہوتا ہے۔ وہ اپنے بیگ اور لنچ باکس کے ساتھ رکشے میں سوار ہوتی ہے اور اندر بیٹھ کر ایک گہرا سانس لیتی ہے تو ایک ووف کی آواز نکلتی ہے جو رکشے کی تیز پھٹ پھٹ کے باوجود صاف سنائی دیتی ہے۔ سکول سے اس کی واپسی اکثر ایسے اوقات میں ہوتی ہے جب عمارت کے مکین دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرتے ہیں یا کچھ بد تمیز بچے دوپہر برباد کرنے کے بعد گلی میں شور شور کھیل رہے ہوتے ہیں، ہاں اس نے ان کے اس کھیل کو شور کا نام ہی دے رکھا تھا کہ تنگ سی گلی میں کرکٹ یا فٹ بال یا کچھ بھی کھیلنا محض شور مچانے کے مترادف تھا۔</p>
<p>شکر ہے کہ بچے آج کھیل کر جا چکے تھے ورنہ وہ جس حالت میں تھی اس میں کوئی اسے دیکھ لیتا تو نہ جانے زمین آسمان کے کون کون سے قلابے ملاتا۔ سکول سے فلیٹ میں داخل ہونے کے بعد وہ تو کبھی چہل قدمی کے لئے بھی نہیں نکلی تھی حالانکہ اڑوس پڑوس کی عورتیں اور بچے اکثر رات کو ملحقہ خاموش سڑک پر سیر کرتے پائے جاتے تھے لیکن اس کے اندر ایک خوف بس چکا تھا اور یہ خوف اس کے اس شوہر کی دین تھا جس نے اس کی ازدواجی زندگی جہنم بنا ئی اور اب اسے علیحدہ ہوئے کافی عرصہ بیت چکا تھا۔ اوپر تلے بیٹیوں کو جنم دینے کے بعد کسی اولاد نرینہ کو جنم دینے کی کوشش میں وہ پیٹ کے اندر بیٹے اور زچگی کی صلاحیت دونوں ہی کھو بیٹھی۔ مردوں کو ہمیشہ نر وارث کی ضرورت ہوتی ہے چاہے پلے کچھ ہو نہ ہو (اس مرد کے خیال میں عورت چاہے ماں ہو، بیٹی ہو یا بیوی، کسی منصب کے لائق نہیں )، سو اس نے ایک اور شادی کر لی اور اس کے ساتھ کچھ ایسا برتاو کیا کہ وہ ایک خوف زدہ فرد میں تبدیل ہو گئی جسے ہر وقت کسی حادثے کا ڈر رہتا۔انہیں حالات میں وہ ماں باپ کے گھرواپس پہنچ گئی ۔کچھ عرصہ ماں باپ کے ساتھ رہی لیکن بھایئوں کی شادیوں کے بعد اس گھر میں بھی اس کے لیے جگہ نہ رہی تو اس نے اس عمارت میں ایک مناسب فلیٹ مناسب سے کرائے پر لے لیا۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ اکیلے رہنے کا اتنا بڑا اقدام اٹھا کر اس کے اندر کا خوف کچھ کم ہوتا لیکن یہ خوف شاید اس کی فطرت ثانیہ بن چکا تھا۔ سکول میں ملازمت اسے ایک واقف کار کی سفارش پر ملی لیکن وہ اپنی محنت اور لگن کے ساتھ وہ اب وہاں ایک اچھی پوزیشن پر تھی۔ اس کے ساتھی، اس کے ماتحت اور مالی ، چوکیدار، بلاوی سب کے سب اس کی بے حد عزت کرتے تھے اور اس کے دوست ہمیشہ مدد گار اور دکھ درد میں شریک پاتے تھے۔</p>
<p>لیکن اس وقت یہ مسئلہ در پیش تھا کہ کسی نے اس حالت میں دیکھا تو کیا کہے گا اور کہنے والوں کی زبانیں بند کرنے کا کوئی نسخہ آج تک ایجاد نہیں ہوا۔ پسینے میں شرابور وہ دیوار کے ساتھ متھلا مارے بیٹھی تھی اور بازووں سے عریاں جسم ڈھانپنے کی کوشش میں اس نے اپنی بانہوں کی رگیں دیکھیں جو ابھری ہوئی نیلی اور کالی نظر ارہی تھیں اور اسے ایسے لگا کہ یہ اس کے بازو نہیں بلکہ کسی اور کے ہیں یا شاید وہ اپنے آپ کو اتنی تفصیل سے پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ بے خیالی میں اس نے اپنے معدے اور پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو اسے یوں لگا جیسے پیٹ کے اندر کوئی چھوٹا سا لجلجا سا تھیلا ہے۔ اس نے ایک ہاتھ سے اپنے سینے کو ڈھانپا کہ دوسرے ہاتھ سے بالوں میں اٹکے کلپ کو دوبارہ لگائے کیونکہ بال بار بار ماتھے پر گر رہے تھے کہ اچانک اسے ایک خیال آیا اور اس نے کلپ ہی اتار کر پھینک دیا۔ کافی عرصے سے اس نے بال نہیں کٹوائے تھے اس لiے وہ اتنے لمبے تو ضرور تھے کہ انہوں نے جسم کا کچھ ابھار ڈھانپ لیا۔ کچھ شام کے جھٹ پٹے نے اس کی مدد کی۔ ہمت کر کے وہ اٹھی اور اس نے ڈور میٹ کو دیکھا۔ سفید دھاگہ اب اس کے بازووں کی رگوں کی مانند نظر آنے لگا۔ اسے قریب ہی سے کسی کے قدموں کی آواز آئی تو وہ ساری جان سے کانپ گئی اس نے میٹ کو ایک چادر کی مانند اپنے سینے پر لپیٹ لیا جیسے کوئی بہترین قیمتی لباس ہو۔ خوف اور پریشانی کی ایک اور لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی لیکن قدموں کی آواز کہیں غائب ہو گئی۔</p>
<p>ڈور میٹ کے بال اس کے جسم میں پیوست ہو کر بری طرح چبھ رہے تھے۔ اس نے میٹ اتار کر پھینک دیا۔ اب تو اس کی خواہش تھی کہ کوئی مدد کو آ ہی جائے، بھلے وہ ایک دفعہ اسے اس حالت میں دیکھ کر ششدر تو ضرور ہو گا لیکن وہ وضاحت کر کے اس سے کسی کپڑے، کسی چادر کی درخواست کر سکے گی۔ اس نے ایک اندازہ سا لگانے کی کوشش کی کہ سات فلیٹوں والی اس عمارت میں اگر فی فلیٹ تین باسی بھی ہوں تواکیس لوگ تو ہوئے۔ کم از کم آدھے تو گھروں سے باہر دفتر، یونیورسٹی، کاروبار سے اب واپس نکل پڑے ہوں گے کہ اس وقت تو پرندے بھی اپنے گھونسلوں کو لوٹ آتے ہیں۔ کاش کوئی بچہ ہی آ جائے۔ آخر وہ سارے بدتمیز بچے کہاں دفع ہو گئے جو ساری دوپہر گلی میں اودھم مچاتے ہیں۔ کاش وہ خاکروب ہی آ جائے مگر وہ تو مالک کے کہنے پر ہفتے میں صرف ایک بار، باہر کی صفائی کرنے آتا تھا۔ اسے کمرے میں فون کی گھنٹی بجنے کی آواز آئی ۔ یقیناً یہ اس کی بڑی شادی شدہ بیٹی ہوگی۔ اس کے فون کرنے کا یہی وقت ہے اور وہ فون پر سارے دن کی روداد سنا کر کوئی نہ کوئی ایسا مسئلہ بھی بیان کر دیتی کہ ماں اور پریشان ہو جاتی اور کچھ نہ کر پانے کی بے بسی میں ہاتھ ملتی رہ جاتی۔</p>
<p>تھک کر وہ پھر دیوار کا سہارا لے کر کسی مدد کے انتظار میں بیٹھ گئی۔ معا ًاسے خیال آیا کہ دو فلیٹوں کی بیچ کی دیوار کو ہی تھپ تھپا کر دیکھے شاید کوئی سن پائے لیکن وہ ایسا نہ کر سکی کہ ساتھ والے فلیٹ کے باسی اسے کبھی بھی اچھے نہیں لگے تھے۔ ان کی سرگرمیاں مشکوک سی تھیں اور ایک انجانا سا خوف ان کے بارے میں اس کے دل میں شروع ہی سے تھا۔ قدموں کی آواز ایک بار پھر آئی۔ اس نے اپنے آپ کو سختی سے دیوار کے ساتھ لگا لیا اور ڈور میٹ اٹھایا تاکہ اپنے گرد لپیٹ لے، قدموں کی آواز رک گئی۔ سفید دھاگہ اب انگریزی حرف وی کی شکل بنا رہا تھا۔ اس نے عمارت کے میں گیٹ کے دھندلے سے شیشے میں کوئی چہرہ ابھرتا دیکھا، پھر دروازہ کھلنے کی آواز سنی اور دوڑ کر سیڑھیوں کے پیچھے جا چھپی، آنے والا نہ جانے کون سے فلیٹ میں چلا گیا تب اسے خیال آیا کہ اس نے موقع کھو دیا ہے۔ یہ وقت چھپنے کا نہیں مدد کے لیے پکارنے کا تھا اور کوئی پردہ کوئی چادر کچھ بھی مانگا جا سکتا تھا لیکن نہ جانے کیوں خوف اور جھجک اس پر مسلط ہوا اور اس کے دماغ نے مدد مانگنے کی بجائے ٹانگوں کو دوڑنے کا حکم دیا۔</p>
<p>باہر اب کافی اندھیرا ہو چکا تھا۔ دیوار کے ساتھ کھڑی وہ اپنے آپ کو خاصا محفوظ سمجھ رہی تھی ،اس نے آنکھیں اتنے زور سے بھینچ رکھی تھی کہ ان میں آنسو نکل آئے۔ ہوا بھی اب کافی تیز تھی اور لگ رہا تھا کہ دن میں جتنی گرمی پڑی ہے اس کا اثر برابر کرنے یہ ہوا آندھی میں تبدیل ہو جائے گی اور ایسا ہی ہوا، تیز ہوا کا ایک جھکڑ مٹی سمیت اسکے بدن سے ٹکرایا اور پھر فلیٹ کے دروازے سے اور دروازہ ایک دم کھل گیا۔ اس سے پیشتر کہ دروازہ پھر بند ہوتا وہ ایک ہی جست میں کمرے کے اندر پہنچی اور خود کو زمین پر گرا دیا۔ ۔ اطمینان کا ایک طویل سانس لے کر وہ اٹھی۔ اس نے دروازہ بند کیا۔ کمرے کی بتی جلائی۔ بیڈ کی کریم کلر کی چادر، اسی رنگ کے سرہانے، ہلکے نیلے رنگ کی پوشش والی کرسی، جھولنے والی آرام کرسی، خوبصورت گلدان، تیز ہوا سے اوپر اٹھتے پردے، سنگھار میز—– اسے ہر چیز ایسے نئی لگ رہی تھی گویا وہ آج پہلی بار اس کمرے میں آئی ہو۔ اس نے ڈور میٹ کی طرف دیکھا جو آدھا کمرے میں اور آدھا دروازے میں پھنسا تھا۔ اس نے ڈور میٹ کو اندر کی جانب کھینچا—- سفید دھاگہ اب وہاں نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل جھک گئی، اس نے غور سے دیکھ، واقعی دھاگے کا نام و نشان نہیں تھاَ۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/sufaid-dhaga/">سفید دھاگہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/sufaid-dhaga/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>4</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>آدھی کھڑکی</title>
		<link>https://laaltain.pk/aadhi-khirki/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/aadhi-khirki/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 16 Jul 2015 11:12:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11871</guid>

					<description><![CDATA[<p>میری نظروں کے بالکل سامنے اس اونچی دیوار میں ایک کھڑکی ہے۔میں جب بھی فائلوں سے سر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کمرے کے سامنے والی دیوار پر پڑتی ہے جہاں چاچا رحمت بیٹھا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aadhi-khirki/">آدھی کھڑکی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>میری نظروں کے بالکل سامنے اس اونچی دیوار میں ایک کھڑکی ہے۔ میں جب بھی فائلوں سے سر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کمرے کے سامنے والی دیوار پر پڑتی ہے جہاں چاچا رحمت بیٹھا ہے۔ رحمت کے پیچھے ایک دیوار ہے اور دیوار کے پار ایک وسیع لان جس کی انتہائی دیوار کی پرلی طرف وہ اونچی دیوار ہے جس میں ایک کھڑکی ہے۔ اس کھڑکی کے ایک حصے پر پردہ پڑا ہے اور یوں میری نظروں کے سامنے آدھی کھڑکی ہے۔</p>
<p>اس وقت میری میز پر اتنا کام نہیں اور میں دفتر میں آنے جانے والوں کا جائزہ لے رہا ہوں لیکن جب بھی میں نظر اٹھا کر سامنے دیکھتا ہوں تو میری نظر لان میں اگے پھل دار درختوں اور پھولوں سے ہوتی ہوئی اس کھڑکی پر جا رکتی ہے۔کبھی کبھی اس بڑی سی کوٹھی کے بڑے سے لان میں ایک بوڑھا مالی پودوں کی دیکھ ریکھ کرتا نظر آتا ہے۔ وہ ہمیشہ ملیشیے کی شلوار قمیص اور میلی سی صدری میں ملبوس ہوتا ہے۔ اس کا گنجا بیضوی سر دھوپ کی شدت سے سرخ یاقوت کی مانند نظر آتا ہے۔مٹی ملے ہاتھوں سے وہ اپنے سر اور منہ سے پسینہ پونچھتا ہے۔ کوٹھی میں رہنے والا کوئی بندہ بشر نظر نہیں آتا البتہ گھر کے گیراج میں کھڑی کالے رنگ کی بڑی سی گاڑی کی پچھلی بتیاں نظر آتی ہیں۔</p>
<p>لان میں گہری خاموشی ہے اور مالی بھی خاموشی سے کام کر رہا ہے۔ میں اس خاموشی سے اکتا کر اپنے ساتھ کام کرنے والوں کی طرف دیکھتا ہوں جو اپنے اپنے کام کے ساتھ گپ شپ میں مشغول ہیں۔ میرے کام کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ کبھی بے تحاشا کام ۔۔دین دنیا بھلا داینے والا اور کبھی مکمل فراغت اور اس فراغت میں جب میں دفتر کے میکانکی ماحول سے چھٹکارے کے لیے نظریں اوپر اٹھاتا ہوں تو میری نظر کھڑکی پر جا پڑتی ہے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کارکن کو اس کھڑکی کے بارے میں بتانا چاہا تو اسے میری دماغی حالت پر کافی تشویش ہوئی۔ ایک اور نے تو مجھے اس کھڑکی کے سحر سے نکلنے کا مشورہ دیا۔ تیسرے نے بس ہنس کر ٹال دیا۔۔کھڑکی کچھ اس مضبوطی سے بند ہے کہ اسے کھولنا مشکل ہے۔</p>
<p>میں اپنی میز سے اٹھ کر چاچے رحمت کے پاس آ کھڑا ہوتا ہوں۔ اب مجھے لان میں اگے انار اور آم کے درخت صاف دکھائی دیتے ہیں۔ اوپر تلے آنے والی موسمی آندھیوں کی وجہ سے کافی پھل ضائع ہو چکا ہے۔خشک پتے اور سوکھی لکڑیاں لان کے ایک کونے میں ڈھیر ہیں۔دیوار کے پار اب کھڑکی زیادہ صاف نظر آ رہی ہے۔میری نظریں کھڑکی کی طرف ہیں اور چاچا رحمت مجھ پر طنزیہ جملے پھینک رہا ہے لیکن میں ایک اور ہی نظارے میں گم ہوں۔ میرے سامنے کھڑکی کا آدھا پٹ کھلا ہے لیکن اندربہت اندھیرا ہے۔چیزوں کا عکس صاف نظر نہیں آ رہا۔ میں ذرا غور سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو کمرے کی ایک کونے سے دوسرے کونے تک ایک رسی بندھی نظر آتی ہے جس پر ایک مردانہ قمیص، بچوں اور عورتوں کے ایک دو کپڑے لٹکے ہیں۔ ایک طرف پیڈسٹل فین کا کچھ حصہ اور پانی کا ایک ڈرم نظر آ رہا ہے۔کمرے کی تاریکی کے ساتھ ساتھ اندر کا حبس بھی محسوس ہو رہا ہے۔اچانک ایک بچے کی قلقاری کی آواز کھڑکی میں میری دلچسپی بڑھا دیتی ہے۔ مہندی لگے دو سانولے ہاتھ نظر آتے ہیں جن کے ساتھ بازو میں پرانے فیشن کی موٹی چوڑیاں ہیں۔ آہستہ آہستہ موٹے اور بھدے نین نقش والی ایک عورت کا مہاندرہ نظر آتا ہے۔ بالکل کھڑکی کے سامنے۔۔ایک منٹ کے لیے اور پھر غائب۔۔۔</p>
<p>مجھے یاد آتا ہے کہ یہ چہرہ میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے۔میں اپنے ذہن پر زور دیتا ہوں۔ ہاں بالکل وہی چہرہ۔۔ وہی نین نقش۔۔ اپنے گھر میں، اپنے محلے میں، دفتر میں،اپنے دوست کے گھر۔۔۔سڑک پر۔۔۔گلی میں۔۔میری نظریں اس آدھی کھلی کھڑکی کے اندر گڑی ہیں اور میرا دماغ اس چہرے کی پہچان میں مصروف ہے۔چاچا رحمت بلاتکان باتیں بنائے جا رہا ہے۔ میرا دھیان اپنی جانب کرنے کے لیے وہ میری قمیص کھینچتا ہے۔ میں رحمت کی طرف متوجہ ہونے ہی لگتا ہوں کہ وہی چہرہ ایک بار پھر دکھائی دیتا ہے۔وہی ناک، وہی کان، وہی ماتھ، وہی ہونٹ، ہونتوں پر بے بسی اور افسردگی۔۔سخت چہرے پر پھیلا جبر۔۔بالکل وہی چہرہ ۔۔میں نے یہ چہرہ کئی بار دیکھا ہے۔باورچی خانے میں،بس سٹاپ پر،ریلوے سٹیشن پر، دفتر میں ، شہر کے بڑے چوک میں۔۔۔وہاں اس قسم کے اور بھی کئی چہرے تھے۔سب کے ہونٹوں پر جبر، آنکھیں اندر کو دھنسی۔۔ان کی زبانوں پر ان کے دل کی پکار۔۔مہندی لگے ہاتھوں نے ایک دوسرے کو پکڑ رکھا تھا۔۔ اپنے دوپٹے اپنی کمروں سے باندھے وہ ایک ہی سر تال میں دھمال ڈالے جا رہے تھے۔میں نے اس مہاندرے کو پہچان لیا ہے۔۔میں آنسو گیس کے شیل فائر ہونے کی آواز سن رہا ہوں۔ چہرہ زور سے چیختا ہے۔ میں چاچے رحمت سے پوچھتا ہوں کہ اس نے چیخ کی آواز سنی ہے ؟ وہ عجیب نظروں سے میری طرف دیکھتا ہے۔“چاچا چیخ کی آواز اس کھڑکی میں سے آئی ہے“میں اسے بتاتا ہوں۔۔اس آدھی کھڑکی سےجس پر پردہ پڑا ہے۔میں یہ پردہ گرا دینا چاہتا ہوں چاچا۔۔۔</p>
<p>“کوئی عقل کے ناخن لواچھے بھلے شریف آدمی ہو تم!!“چاچا کہتا ہے۔</p>
<p>یہ پردہ ضرور گرے گا ایک دن۔میں سوچتا ہوں لیکن چاچا رحمت مجھے دھکیل کر میری میز کی طرف لے جاتا ہے جہاں آج کی تازہ ڈاک رکھی ہے اور مجھے اسےآج ہی ڈسپوز آف کرنا ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/aadhi-khirki/">آدھی کھڑکی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/aadhi-khirki/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>موسم</title>
		<link>https://laaltain.pk/mausam/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/mausam/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 20 Dec 2014 15:07:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<category><![CDATA[شہر]]></category>
		<category><![CDATA[موسم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8546</guid>

					<description><![CDATA[<p>شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mausam/">موسم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>شہر کے وسط میں بلند و بالا عمارتوں کے درمیان سڑکوں پر لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ہے۔ چالیس کے پیٹے کا ایک شخص بڑے جذباتی انداز میں زور زور سے ہاتھ ہلا ہلا کر پرشور مجمعے سے خطاب کر رہا ہے۔ ہجوم اتنا بڑا ہے کہ ڈکٹا فون کے استعمال کے باوجود بہت سے لوگوں تک مقرر کی آواز پہنچ نہیں پاتی۔ کچھ دیر بعد ایک بلند نعرے کی آواز آتی ہے لیکن الفاظ صاف سنائی نہیں دیتے۔</p>
<p>نعرے کی گونج کے ساتھ بلند و بالا عمارتوں میں گھری ایک ٹاور نما عمارت کی سب سے اوپر والی کھڑکی کھلتی ہے اورایک شخص کی شکل نظر آتی ہے۔ وہ ایپملی فائر کی مدد سے کوئی اعلان کرتا ہے،لوگوں میں ہل چل سی پیدا ہوتی ہے۔ ان کا دائرہ پھیلنے لگتا ہے اور پھر وہ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ٹکڑیوں میں بٹا ،ہجوم کی شکل اختیار کیے یہ انبوہ بے ترتیبی سے رواں دواں ہے جس کے نعروں کے شور میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔</p>
<p>ہیڈ کلرک بوٹا خان بغل میں دفتری فائلیں دبائے تیزتیز قدم اٹھاتا دفتر کی طرف جا رہا ہے۔ سواری نہ ملنے اور ٹریفک جام کی وجہ سے اسے خاصی دیر ہو چکی ہے۔ اسکا آفیسر انچارج بہت سخت مزاج ہے اور ذرا سی تاخیر بھی برداشت نہیں کرتا لیکن بوٹا خان کے راستے میں ایک بہت بڑا ہجوم حائل ہے۔ صبح کے دس بجے ہیں اور شہر کا درجہ حرارت 40 درجے سنٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔</p>
<p>” نہیں چلے گا۔۔۔نہیں چلے گا۔۔۔۔” بہت سے نعروں میں سے ایک نعرہ ہے جو صاف سنائی دیتا ہے۔ بوٹا خان کے کانوں سے یہ نعرہ ٹکراتا ہے، وہ اسے اپنے ہونٹوں میں دہراتا ہے تو انچارج کا کرخت چہرہ اسکے خیال میں آتا ہے۔ وہ دفتری فائیلیں ایک طرف پھینک کر ہجوم کا حصہ بن جاتا ہے۔ سائیکلوں اورموٹر سائیکلوں پر دفتروں کو جاتے ہوئے لوگ، مزدور پیشہ، بابو، طالبعلم سب کے سب اسی ہجوم میں شامل ہوتے جا رہے ہیں۔</p>
<p>ادھر، شہر سے دور ایک جدید بستی کے ایر کنڈیشنڈ ڈرائینگ روم میں کچھ لوگ کافی اور سگار سے شغل کرتے ہوئے زور دار بحث میں مصروف ہیں۔ بحث ا ن کا من بھاتا شغل ہے۔</p>
<p>“ہوں۔۔تو سب لوگ بالکل تیار ہیں؟”</p>
<p>“نہیں۔۔۔مگر ابھی تو دور دور تک۔۔۔شاید ابھی نہیں۔۔۔”</p>
<p>“لیکن تم نے انہیں اچھی طرح سمجھا دیا تھا نا۔۔۔”</p>
<p>“ہاں ہاں۔فکر کیوں کرتے ہو؟صورت حال کچھ بھی ہو ہمارا نام بالکل نہیں آئے گا۔”</p>
<p>” ان کے اپنے مسئلے ہیں۔ٹاور والا ان میں کافی مقبول ہے اور اسے سونپی گئی ذمہ داری۔۔۔۔۔وہ ذمہ دار شخص ہے۔”</p>
<p>” پر میں سوچ رہا ہوں کہ وہ ابھی شہر کے وسط میں ہیں۔”</p>
<p>” جلدی نہ کرو۔۔۔جلدی کام بگاڑ دیتی ہے۔”</p>
<p>“پر موسم بہت مناسب ہے۔”</p>
<p>” بعض لوگ کہتے ہیں تم ہر موسم کو مناسب موسم کہتے ہو۔”</p>
<p>” شٹ اپ”</p>
<p>شہر کے وسط میں لوگوں کا ہجوم کئی بار بکھرتا اور کئی بار اکٹھا ہوتا ہے، لوگ ایک جسم، ایک آواز ہیں۔ کوئی لالچ، کوئی فریب، کوئی شک، کوئی شبہ اب ان کے قدم متزلزل نہیں کر سکتا اور وہ تبدیلی کا حصہ بننے کے لئے تیار ہیں۔</p>
<p>” ہم آدم کی اولاد ہیں ” اس بات میں انکی ہر بات پوشیدہ ہے اور ان کا عزم عیاں ہے۔</p>
<p>ٹاور نما عمارت کی سب سے اوپر والی کھڑکی سے وہی شخص دوبارہ جھانکتا ہے۔ اس کی نظریں اس طرف ہیں جدھرہجوم کا رخ ہے۔ وہ ایمپلی فایر پر لگے لاوڈ سپیکر کا استعمال کرتا ہے۔ ہجوم میں ہلچل پیدا ہوتی ہے، لوگ پھر ٹکڑیوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں لیکن اگلے ہی چوک میں پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر اب پریشانی کے آثار نمودار ہو چکے ہیں ۔ ان کو احساس ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک شخص، جو ان کی رہنمائی کر رہا تھا اب نظر نہیں آ رہا۔ بندہ غائب ہونے کی اطلاع ڈرائینگ روم میں پہنچتی ہے۔</p>
<p>“صرف ایک بندہ” عقل مند حضرات اپنا من پسند شغل شروع کرتے ہیں۔</p>
<p>” میں نے کہا تھا کہ ابھی لوگ۔۔۔”</p>
<p>” رہنے دو تم۔۔۔میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ کچھ لوگ۔۔۔کچھ اور لوگ۔۔۔۔”</p>
<p>پر ہمارا انکا اختلاف اتنا زیادہ تو نہیں، اصل میں ہم ایک ہی ہیں۔۔۔”</p>
<p>” بات اختلاف کی نہیں ،لوگ جان چکے ہیں۔وہ برسوں کے اندھیرے سے باہر نکلنا چاہتے ہیں۔”</p>
<p>” پھر اب؟”</p>
<p>” اب پھر انتظار کرو ”</p>
<p>خاموشی۔۔۔۔۔ کافی۔۔۔۔۔ سگار</p>
<p>ہجوم اب ایک چوک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے کی جانب رواں ہے۔ ٹاور نما عمارت سے یکے بعد دیگرے احکام جاری ہو رہے ہیں اور بندے ایک ایک کر کے غائب ہو رہے ہیں۔ شہر کی سڑکیں ٹریفک سے خالی ہیں اور ہر طرف سر ہی سر نظر آرہے ہیں۔</p>
<p>چوراہوں سے نکلنے والی خبریں ڈرائینگ روم تک پہنچ رہی ہیں۔ شہر کے وسط میں لوگوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، کچھ لوگ ایک جگہ رک کر سوچ بچار کر رہے ہیں۔ یہ خبر بھی جدید بستی میں پہنچ چکی ہے اور بحث کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔</p>
<p>” ہاں تو ٹھیک ہو گیا۔ لوگوں کی تعداد اب بہت کم ہے۔”</p>
<p>ہوں۔۔۔۔ لیکن وہ گئے کدھر؟”</p>
<p>” میں نے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ سب امکان نظر میں رکھو”</p>
<p>” مگر ٹاور والے نے ان کو ہر بات اچھی طرح سمجھا دی تھی”</p>
<p>” جی جی میں نے اپنا فرض ادا کر دیا تھا۔۔۔”</p>
<p>” تمہاری منصوبہ بندی ہی غلط تھی”</p>
<p>” نہیں میری منصوبہ بندی میں کوئی سقم نہیں، یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا۔ضرور تم سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔”</p>
<p>” تم اپنا قصور مجھ پر تھوپ رہے ہو؟”</p>
<p>” ہوں۔۔۔ نہ کوئی غلطی ہے نہ قصور۔اصل میں لوگوں کو شعور ہی نہیں۔”</p>
<p>” شعور؟ وہ ہر بات اچھی طرح سمجھتے ہیں،تم خود وہاں کیوں نہیں جاتے؟ ”</p>
<p>” یہ میرا منصب نہیں۔میرا کام صرف ان کو ان کے مسائل کی پہچان کروانا ہے۔”</p>
<p>” پھر ٹھیک ہے۔ وہ واقعی نہیں جانتے کہ وہ کس کے کہنے پر اکٹھے ہوئے ہیں۔”</p>
<p>” شٹ اپ”</p>
<p>کچھ وقت اسی طرح کی طعن و تشنیع میں گزرتا ہے۔ ڈرائینگ روم کے دروازے پر زور سے دستک ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک اٹھ کر دروازے تک جاتا ہے اور دستک دینے والے کو تقریبا گھسیٹ کر اندر لے آتا ہے، آنے والا بری طرح تھک چکا ہے۔ تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ انہیں کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہے۔ ماحول میں ایک دم خاموشی چھا جاتی ہے،وہ سب سوچوں میں گم ہیں اور ان میں اب بحث کی ہمت بھی باقی نہیں ہے۔</p>
<p>ٹاور نما عمارت کی کھڑکی بند ہے۔ وہاں بھی مکمل خاموشی ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک چلنا شروع ہو چکی ہے۔ لوگوں کا ہجوم شہر کے وسط سے نکل چکا ہے۔ وہ پہلے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے خاموشی سے، بغیر کوئی بات کئے، بغیر کسی نعرے کے چلتے جا رہے ہیں۔ ان کے چہرے سرخ اور آنکھیں نفرت سے بھری ہیں اوران کا رخ جدید بستی کے ایر کنڈیشند ڈرائینگ روم کی طرف ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/mausam/">موسم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/mausam/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بوری بند</title>
		<link>https://laaltain.pk/bori-band/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/bori-band/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 16 Dec 2014 11:44:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[راشد جاوید احمد]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8402</guid>

					<description><![CDATA[<p>وہ صرف ایک بوری میں ملبوس تھا، لوگ بھاگ بھاگ کر  اس کے  ہاتھوں کو بوسہ دے رہے تھے</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/bori-band/">بوری بند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>وہ گوجرانوالا کے ایک نواحی گاوں کا رہنے والا تھا۔ اس کا باپ بہت اچھا ڈھولچی تھا۔ پہلوانوں کے اکھاڑے سے اس کے ڈھول کی دھوم قرب و جوارمیں پھیل گئی اور اسے میلوں ٹھیلوں پر بصد اصرارا بلایا جانے لگا۔وہ اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا تھا اور جتنا اس کے باپ کو اسے پڑھانے اور بابو بنانے کا شوق تھا اتنا ہی وہ پڑھائی سے بھاگتا تھا۔ باپ کی خواہش تھی کہ اسکا بیٹا بابو بن جائے لیکن تعلیم میں اس کی واجبی سی دلچسپی دیکھ کر اس نے چاہا کہ وہ ڈھول بجانا ہی سیکھ لے تو اچھی روزی روٹی مل جائے گی لیکن اسے باپ کے اس کا م سے شدید چڑ تھی۔وہ نہ نکما تھا نہ کند ذہن بس اوسط درجے کا طالب علمم تھا اور اس نے باپ کی توقعات کے بر عکس بغیر کسی غیبی امداد کے میڑک کر ہی لیاتھا،باپ کے لئے تو خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے فوراً مستقبل کے خواب دیکھنا شروع کر دیےاوراسے ایک اعلیٰ افسر کے طور پردیکھنا شروع کر دیا۔خوبصورت بہو اور پوتے پوتیاں تصور کیے، حالانکہ یہ کام اکثر عورتوں سے منسوب رہا ہے لیکن اس کی ماں ایک حقیقت پسند عورت تھی۔بیٹے کی پڑھائی کے حالات اس سے پوشیدہ نہ تھے اس لئے اس نے اسے مشورہ دیا کہ ٹائپنگ سیکھ لے۔ گاوں میں ایک سرکاری اہل کار گھر پر شام کو ٹاٗئپنگ سکھاتا تھا۔ یہ مشورہ اس کے دل کو لگا اور اس نے بڑی محنت سے یہ کام سیکھا اور اسی اہل کار کی سفارش سے وہ محکمہ خوراک میں ٹائپسٹ بھرتی ہو گیا جس کے دو سال بعد قریبی عزیزوں میں اس کی شادی کر دی گئی۔</p>
<p>جس شہر میں اسے ملازمت ملی تھی وہ ایک بڑا شہر تھا۔ وہ کام لگن سے کیا کرتا تھا اور اس کی ٹائپنگ سپیڈ بھی اچھ تھی یہی وجہ تھی کہ گرم اور خشک مزاج سپرٹنڈنٹ بھی اس کے کام کی تعریف کرتا تھا۔اسکے باوجود بھی سات برس سے وہ جس سکیل میں بھرتی ہوا تھا اسی میں مارچ پاسٹ کر رہا تھا اوراس کی مالی حالت بہتر ہونے کی بجائے روز افزوں مہنگائی کے ہاتھوں ابتر تھی۔ کرایہ، بل، دوادارو اور ایک نومولود بیٹی کا خرچ اسے وقت سے پہلے بوڑھا کرنے پر تلے تھے۔<br>
گرمیوں کا موسم اسے بہت پسند تھا لیکن سردی کے آتے ہی اسکامنہ ڈھلک جاتا ۔ سخت سردی میں وہ جب ساتھی کار کنوں کو اچھے اور نئے گرم کپڑوں میں دیکھتا تو آہیں بھر کر رہ جاتا۔مالی تنگی کی وجہ سے وہ اب تک نیا گرم سوٹ نہیں سلا پایا تھا اور سات برس سے اس پرانے سوٹ سے گزارا کرتا چلا آ رہا تھا جو اس نے شادی کے موقعے پر اسی بڑے شہر کے لنڈا بازار کی ایک دکان سے خریدا تھا۔ پچھلے سات برس سے یہ سوٹ اسے سردی سے بچا رہا تھا مگر لگا تار استعمال سے کوٹ اور پتلون اب اتنے گھس چکے تھے کہ لگتا تھا کہ سوٹ خود اپنی بے چارگی کا اعلان کرنے والا ہے۔کوٹ کی حالت زیادہ خراب تھی اور پہلی نظر میں ایسا لگتا تھا کہ کسی نے پٹ سن کی بوری پہن رکھی ہے اسی لئے اسکے ساتھی اسے مذاق سے بوری بند کہتے ، آفس انچارج نے تو آج تک اسے بوری بند کے علاوہ کسی اور نام سے پکارا ہی نہیں تھا، لیکن وہ آفس انچارج تھا، وہ چاہے کچھ بھی کہہ لے،نوکری کے تسلسل میں بہر حال وہ اہم مقام رکھتا تھا،موسم تبدیل ہوتے رہے مگر یہ نام تبدیل نہ ہوا۔</p>
<p>جب اسکے ساتھی افسر یا ملاقاتی اسکے لباس کی طرف دیکھتے تو اسے یوں محسوس ہوتا گویا وہ ننگا ہی دفتر آ گیا ہو۔ایسے موقعے پر وہ بہت پریشان ہو جاتا ، سخت سردی کے باوجود ماتھے کا پسینہ صاف کرتا اور لوگوں کی طنزیہ نظروں سے بچنے کے لئے دفتر سے باہر نکل کر ساتھ والے چائے کے کھوکھے میں جاتا اور وہاں رکھے ایک شیشے میں اپنا جائزہ لیتا اور بڑبڑاتا رہتا کہ آخر لوگ اسکے کام کی بجائے اسکے لباس ہی کو ہر وقت کیوں دیکھتے رہتے ہیں ۔</p>
<p>میری اس سے ملاقات ہفتے میں ایک آدھ بار اسی کھوکھے پر ہوتی۔چونکہ میں نے اس کے لباس یا ہیت پر کبھی کوئی بات نہیں کی تھی اس لئے وہ مجھے اپنے قریب سمجھتا اور کبھی کبھار اپنے ساتھیوں کی برائی بھی کر لیتا۔چائے پیتے ہوئے وہ جو کچھ بھی سوچتا اسکے چہرے سے عیاں ہوتا۔ اس کا خیال تھا کہ یہ کوٹ پتلون بھی تو آخر کچھ نہ کچھ سوچتے ہوں گے کہ کس کے پلے پڑ گئے جو ہماری طبعی عمر گزرنے کے باوجود ہمیں چھوڑتا ہی نہیں۔یہی سوچتا ہوا وہ پھر دفتر آ بیٹھتا ۔ ساتھی اگر کسی اور بات پر بھی قہقہہ لگاتے تو اسے لگتا کہ اس کا ہی مذاق اڑا رہے ہیں اور وہ سہم کر رہ جاتا۔اسکے سب دوستوں نے اچھا لباس پہنا ہوتا تھا اور انچارج تو ہر سال سردیوں میں بڑھیا اور اعلیٰ کپڑے کا ایک نیا سوٹ سلاتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اس لباس کے لئے رقم کا بندو بست کہاں سے ہوتا ہے اور دیگر ساتھیوں کو تنخواہ کے علاوہ کچھ نہ کچھ حصہ کیسے ملتا ہے لیکن اسے ماں کی تاکید یاد تھی کہ بیٹا اپنے وسائل میں رہنا اور حرام کے قریب بھی نہ پھٹکنا۔اس نصیحت کی وجہ سے گھر میں تنگی ترشی اور کبھی کبھار تلخ کلامی بھی ہو جاتی لیکن وہ یہ سوچ کر خاموش ہو رہتا کہ نہ وہ حالات کا کچھ بگاڑ سکتا ہے اور نہ آفس انچارج کا۔</p>
<p>وہ ہر سخت سست بات بڑے تحمل اور برداشت سے سن لیتا تھا شاید اسی لئے ساتھی کارکنوں کا حوصلہ کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا تھا ۔اب تو ایسا لگنے لگا تھا کہ وہ سب شاید اس کا اصلی نام بھول چکے ہیں۔ شاید وہ خود بھی اپنا نام بھول چکا تھا اسی لئے تو بوری بند سنتے ہی وہ فورا پکارنے والے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ دوستوں کے اس رویے سے وہ بہت تنگ تھا اور ان سے بچنے کا بس ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ ایک نیا سوٹ سلا لے اور ان چیتھڑوں کو پھینک دے مگر مالی ناآسودگی کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہ تھا۔گرم کپڑے کی قیمتیں اس کی پہنچ سے باہر تھیں ، ہزار بارہ سو روپے میٹر کپڑا خریدنا اس کے بس سے باہر تھا۔ اس کے پے سکیل(Pay scale) کا پھیلاو بس اتنا ہی تھا کہ وہ اور اس کی فیملی دو وقت کی روکھی سوکھی کھا لیں۔طنزیہ جملے سن سن کر اس کے کان دکھنے لگتے تھے لیکن اسے معلوم تھا کہ وہ اتنی بڑی رقم نہ تو پس انداز کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی غلط کام سے حاصل کر سکتا تھا، گھر میں بھی ساتھیوں کی طنزیہ باتیں یاد آتیں تو وہ آزردہ ہو جاتا، کبھی آہیں بھرتا اور کبھی تحقیر آمیزقہقہے لگانے لگتا ۔</p>
<p>یہ اس کی خوش قسمتی تھی کہ دو دن بعد انچارج نے اسے ایک حکم نامہ پکڑایا اور بتایا کہ کسی این جی او کی جانب سے خوراک پر سہ روزہ کانفرنس ہو رہی ہے جہاں ماہر ٹائپسٹ کی ضرورت ہے اور انچارج نے اس کا نام اس کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے دیا ہے۔” تین دن جانا ہے ٹائپ رائٹر کے ساتھ، صبح دس بجے سے شام سات بجے تک، جب تک ان لوگوں کو ضرورت ہو وہیں رہنا ہو گا، سات آٹھ ہزار تو بن ہی جائے گا ۔۔۔” ابھی انچارج نے بات مکمل ہی کی تھی کہ اس کا نائب بول اٹھا’’ہاں بھائی بوری بند ،تمہاری تو لاٹری نکل آئی ۔ صاحب کتنے مہربان ہیں تم پر، اچھا موقع ہے۔ ایک گرم سوٹ تو آرام سے بن جائے گا۔ دیکھو بیوی کا میک اپ نہ خرید لینا بلکہ اسے تو خبر بھی نہ ہونے دینا‘‘ اسے یہ بات ناگوار تو بہت لگی لیکن معاوضے کی رقم کا خیال آتے ہی نیا سوٹ اس کی نگاہوں میں پھرنے لگا۔</p>
<p>اس شام دفتر سے واپسی پر اس نے ٹائپ مشین سائیکل پر لادی اور گھر روانہ ہو گیا۔ تمام رات وہ سوچتا رہا، اس نے بھوک کے باوجود کھانا بے دلی سے کھایا اور بیوی کے پوچھنے پر بھی اسے کچھ نہیں بتایا۔ وہ بھلی مانس جان چکی تھی تھی کہ دفتروں میں کام کرنے والے بعض اوقات کافی دباو میں ہوتے ہیں اور چند ایک روز میں ان کا مزاج ٹھیک ہو ہی جاتا ہے۔</p>
<p>کانفرنس میں کام بے حد زیادہ تھا۔ تین دنوں میں اس نے اتنا کام کیا کہ شاید دفتر میں پندرہ دن میں بھی اتنا کام نہیں کرنا پڑتا ہو گا۔ اس کے ہاتھ بٹن دباتے دباتے تھک جاتے اور اسے اپنے کندھوں پر بھاری بھرکم بوجھ محسوس ہونے لگتا لیکن نئے سوٹ کا حصول، جو اب دور نہیں تھا اسے کام کرنے پر مجبور کرتا رہا۔کانفرنس کے تینوں دن جب وہ تھک کر گھر لوٹتا تو دن بھر کی مشقت ، تھکان اور نئے سوٹ کا خیال اسے تھپک تھک کر سلا دیتے۔</p>
<p>اس ماہ جب اسے تنخواہ کے علاوہ ساڑھے چھ ہزار الگ سے ملے تو اس نے ان نوٹوں کو ہتھیلی پر پھیلا کر بار بار یوں دیکھا گویا پہلی بار کرنسی نوٹ دیکھے ہوں۔ یہ کرنسی نوٹ نہیں تھے بلکہ عمدہ غیرملکی کپڑے کا تھان تھا۔دفتر کا وقت ختم ہوتے ہی اس نے سائیٗکل پکڑی اور وقت ضائع کیے بغیر وہ گرم کپڑے کی مارکیٹ جا پہنچااورجو دکان اسے سب سے پہلے نظر آئی اسی میں گھس گیا۔ اس دکان میں ایک اور شخص جو آن بان سے کافی صاحب ثروت دکھائی دیتا تھا، دکاندار سے بھاو تاوکر رہا تھا۔درآمد شدہ غیر ملکی کپڑے کے تھان اس کے سامنےکھلے تھے اور دکاندار بہترین سیلز مین ہونے کا کردار نبھا رہا تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ بھی ایسا ہی کپڑا لے گا بلکہ یہی کپڑا خریدے گا کیونکہ دکاندار نے بتایا تھا اس کپڑے کو نہ دھونے سے فرق پڑے گا، نہ اس کا رنگ اترے گا، نہ ڈرائی کلین اس کا کچھ بگاڑے گا اور نہ ہی دھوپ۔ اس نے سوچا یہی کپڑا اس کے لئے موزوں ترین ہے۔ کپڑا دیکھنے کے لئے جیسے ہی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تودوکاندار بولا:</p>
<p>’’ کیا ہے، کیا چاہئے آپ کو ‘‘<br>
مجھے ایک سوٹ کا کپڑا چاہئے، کیا بھاوہے اس کا؟‘‘</p>
<p>دکاندار نے اس کے لباس کی طرف دیکھا،کوٹ کا رنگ بعض جگہوں سے ایسے اڑ چکا تھا جیسے کپڑے کو برص کا مرض ہو، دکاندار نے اسے نظر انداز کر دیا اور پہلے گاہک کی طرف متوجہ ہوا۔</p>
<p>دکاندار نے پہلے گاہک کواپنی چرب زبانی سے ایک کی بجائے دو سوٹ اٹھوا دیئے اور پیسے گلّے میں ڈالنے کے بعد دیکھا تو بوری بند وہیں بیٹھا تھا۔</p>
<p>’’ جی اب فرمایئے‘‘<br>
’’ مجھے سوٹ کا کپڑا درکار ہے ۔کیا دام ہیں ؟‘‘<br>
جو جی چاہے دے دیجیے‘‘دکاندار نے یہ کہہ کر نسبتاً ہلکا کپڑا اسے دکھایا۔</p>
<p>’’اُس کپڑے کا کیا بھاو ہے؟مجھے وہی چاہیئے، جو وہ صاحب لے کر گئے ہیں۔‘‘</p>
<p>دکاندار نے شک کی نظر سے اسے دیکھا پھر اپنی دکان کے باہر غور سے دیکھا اور وہاں کھڑے گارڈ کو دیکھ کر مطمئن ہو کر بولا<br>
’’یہ اٹھارہ سو روپے میٹر ہے پانچ ہزار چار سو کا ایک سوٹ‘‘<br>
’’ مگر ابھی تو ان صاحب کو آپ نے پندرہ سو کے حساب سے دیا ہے‘‘<br>
’’ جی ان کی کیا بات ہے، وہ تو بڑے آدمی ہیں اور ہمارے پرانے گاہک‘‘<br>
’’ چلیے مجھے بھی گاہک بنائیں اور پندرہ سو ہی لگائیں‘‘<br>
امپورٹڈ ٹویڈ کا کپڑا لے کر اس نے رقم ادا کی اور دکان سے باہر نکل آیا۔</p>
<p>دکاندار نے جب اسے سائیکل پر جاتے دیکھا تو بہت حیران ہوا۔اس نے سوچا کہ یا تو اس پھٹیچر کے پاس چوری کا مال ہے یا پھر بے چارہ کسی صاحب کو رشوت دینے کے لئے اتنا مہنگا کپڑا خرید کر گیا ہے بہر حال اسے تو دام سے مطلب تھا۔ ابھی وہ سائیکل پر سوار ہونے کو تھا کہ اسے درزی کی دکان نظر آئی اور حسب عادت وہ پہلی نظر آنے والی دکان میں گھس گیا۔ درزی نے اتنے بڑھیا کپڑے کی تعریف کی تو اس کا جی خوش ہو گیا لیکن جب اس نے سلائی کی رقم سے آگاہ کیا تو وہ درزی اسے بہت برا لگا، سوٹ کی قیمت سے زیادہ سلائی۔الٹے قدموں وہ دکان سےنکلا اور تیز تیز سائیکل چلاتے گھر کو ہو لیا۔صبح اٹھتے ہی اس نے اپنے دوست درزی کے گھر کا رخ کیا جو اس کے گھر کے نزدیک ہی رہتا تھا اور اس کی بچی اور بیوی کے کپڑے سی دیا کرتا تھا۔</p>
<p>ٹھیک تین دن میں نیا سوٹ سل گیا ۔ اس کی زندگی میں یہ پہلا سوٹ تھا جو اس نے خود بنوایا تھا۔ صبح جب وہ نیا سوٹ پہنے دفتر پہنچا تو اس کے ساتھی ابھی نہیں آئے تھےشاید وہ جلد ہی دفتر آ گیا تھا۔ وہ بہت ہی مسرور تھا اور اس نے یہ بھی نہ دیکھا کہ بڑے صاحب کے دفتر میں محکمے کے ڈپٹی سیکریٹری تشریف فرما ہیں۔آج وہ وقت سے پہلے آ گیا تھا اور یہ اس کے حق میں اچھا ہوا کہ ڈپٹی نے اسے شاباشی دی۔ دفتر کے لوگ بھی پہنچ گئے۔ وہ اسے دیکھ کر آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جب ڈپٹی کا دورہ ختم ہو گیا تو وہ اس کے گرد ہو گئے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ ان کو اس کا نیا سوٹ پسند آیا ہے لیکن اسسٹنٹ سپر ٹینڈنٹ اسے دیکھتے ہی بولا ’’اوہو آج تو نیا سوٹ پہنا ہے اسی لئے میں تو پہچان ہی نہیں پایا جناب کو،بوری بند جی۔‘‘ یہ بات اسے تیر کی طرح لگی۔ اسی وقت دوسرے ساتھی بھی آ گئے اور اس کامذاق اڑانے لگے۔ ایک نے تو سوٹ کے کپڑے کی بے حد تعریف کی لیکن دوسرے نے سوال کر ڈالا ’’یار بوری بند، یہ سوٹ کس موچی نے سیا ہے،<br>
یار اس میں تو تم بالکل ہیرو لگ رہے ہو ہیرو‘‘<br>
’’ آخر ہمیں بھی تو بتاو اس فنکار کا نام ‘‘<br>
یار میں بھی اس سے ایک سوٹ سلوانا چاہوں گا، سستا سلوایا ہے ناں ‘‘</p>
<p>کمرہ قہقہوں سے لرز اٹھا۔ اور تو اور اس نے دیکھا کہ دفتر کے چپڑاسی بھی اسے طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ یہ صورت حال نا قابل برداشت تھی ۔وہ کمرے سے باہر چلا گیا، ذلت، ندامت اور غصے نے اسے ادھ موا کر دیا۔میں اس وقت چائے کے کھوکھے پر تھا جب وہ دفتر سے نکلا، لیکن حسب معمول کھوکھے پر آنے کی بجائے اس نے سائیکل پکڑی اور کسی کو بتائے بغیر روانہ ہو گیا۔</p>
<p>گھر پہنچ کر اس نے سوٹ اتار کر زور سے زمیں پر پھینکا، پھر اس نے سارے کپڑے اتار دئے۔ کمرے کا دروازہ بند کر کے وہ زور زور سے چلایا، پھر یہ آواز سسکیوں میں بدل گئی۔ اس کی بیوی نے باہر سے خیریت پوچھنے کی جسارت کی۔</p>
<p>’’ ہاں ہاں خیریت ہے، خیریت ہی تو ہے،چلی جاو یہاں سے‘‘ کچھ دیر وہ غصے میں بڑبراتا رہا، کبھی روتا پھر روتا تو کبھی قہقہے لگانے لگتا۔ تھوڑی دیر بعد روازہ کھلا تواس نے پٹ سن کی ایک بوری کمر کے گرد لپیٹ رکھی تھی۔ گرم سوٹ اس کے ہاتھ میں تھا، اس نے میز سے ماچس اٹھائی اور سوٹ کو آگ لگا دی۔ اس کی بیوی نے سوٹ چھیننے کی کوشش کی تو اس نے ایک زور دار ہاتھ مار کر اسے پیچھے دھکیل دیا۔ سوٹ لمحوں میں خاکستر ہو گیا۔ بیوی اور بچی کو روتا چھوڑ کر وہ گھر سے ایک بوری باندھے نکل پڑا ۔</p>
<p>کوئی ایک سال بعد مجھے سرکاری کام سے ایک اور شہر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کام ختم کر کے جب میں لاری اڈے پر بس کا انتظار کر رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے لوگ ایک شخص کے پیچھے بڑی عقیدت سے چل رہے ہیں۔ اس کے سر اور داڑھی کے بال گردآلودتھے، اس کے جسم کا جو حصہ دکھائی دے رہا تھا وہ دھوپ سے کالا ہو چکا تھا، اس کے پاوں میل سے اٹے ہوئے تھے اور وہ صرف ایک بوری میں ملبوس تھا، لوگ بھاگ بھاگ کر  اس کے  ہاتھوں کو بوسہ دے رہے تھے اور وہ ’’ آگ لگا دو، آگ لگا دو ‘‘ چلا رہا تھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/bori-band/">بوری بند</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/bori-band/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>4</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
