<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عمر فاروق, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/omer-farooq/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:21:18 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>عمر فاروق, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہمارا رویہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d9%88%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d9%88%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عمر فاروق]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 23 Sep 2015 13:07:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[انتہا پسندی]]></category>
		<category><![CDATA[حملہ آور]]></category>
		<category><![CDATA[دہشتگردی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12729</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">فرقہ وارانہ سوچ اورمذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d9%88%db%8c%db%81/">دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہمارا رویہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">” یہ جو خودکش حملہ آور ہیں ، یہ جو بچوں کی گردنیں کاٹنے والے ہیں ، یہ جو بچیوں کے سکول کو بموں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو پولیو ٹیموں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو ایک نہتی عورت کو سرِبازار کوڑے مارنے والے ہیں ، یہ جو محرم کے جلوسوں پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو صوفیاء کے مزاروں کو دھماکوں سے اڑانے والے ہیں ، یہ جو تعلیم کے دشمن ہیں ، یہ جو ترقی کے دشمن ہیں ، یہ جو پولیس پر حملے کرنے والے ہیں ، یہ جو فوجیوں کے گلے کاٹ کر ان کی لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے والے ہیں ، یہ جو شریعت کے نام پر پر ستر ہزار پاکستانیوں کو موت کی نیند سلانے والے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ انسان نہیں ہو سکتے اور اگر انسان ہیں تو کم از کم مسلمان کبھی نہیں ہو سکتے۔۔۔ یہ پاکستانی بھی نہیں ہیں۔۔۔ یہ ضرور کسی اور کی سازش ہیں۔۔۔۔“یہ ہے ہمارا وہ مشترکہ اور عمومی رویہ جس کا اظہارہم ہر بم دھماکے، خودکش حملے یا دہشتگردی کے ہر واقعے کے بعد کھلے عام کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری جانب یہ سب کچھ کرنے والے سرِعام نہ صرف ان واقعات کی ذمہ داری تسلیم کرتے نظر آتے ہیں بلکہ ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان فرما رہے ہوتے ہیں کہ شریعت کے نفاذ تک یہ جنگ جاری رہے گی اوروہ ایسے حملے ہوتے رہیں گے۔ اس بات کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے کہ ہمارے اس مغالطے میں کچھ حقیقت بھی ہے کہ نہیں۔ کیں ہم ایسی پرفریب کہانیوں میں الجھ کر اپنے لیے مزید مسائل تو پیدا نہیں کر رہے؟</div>
<div class="leftpullquote">فرقہ وارانہ سوچ اور مذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔</div>
<div class="urdutext">شدت پسند عورتوں کی تعلیم ، حقوق اور مساوی حیثیت کے خلاف ہیں لیکن ہمارے معاشرے میں عورتوں کی تعلیم کے حوالے سے جو فرسودہ سوچ پائی جاتی ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔اکثر علاقوں میں عورتوں کی تعلیم کو یا تو سرے سے ہی برا سمجھا جاتا ہے یا ایک مخصوص حد تک تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ معاشرے میں ایسی انتہا پسندانہ سوچ کا پایا جانا انتہاپسند قوتوں کے لیے اپنے عزائم آگے بڑھانے کے لیے راہ ہموار کرتی ہے۔اس کے علاوہ عورتوں کا گھروں سے باہر نکلنا، خریداری کے لیے بازار جانا، کسی محفل میں شرکت کرنا، موبائل کا استعمال کرنا، ملازمت کے لیے نکلنا بھی بہت سارے علاقوں میں سختی سے ممنوع ہے اور جہاں جہاں عورتوں کو کسی قدر آزادی نصیب ہے وہاں بھی ان کے حوالے سے کچھ اچھے جذبات نہیں پائے جاتے۔ معاشرے میں عورت سے متعلق پائے جانے والے عمومی تاثرات کو ترقی پسند یا انتہاپسندی یا شدت پسندی کے خلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔یہ تاثر عام دیکھنے کو ملتا ہے کہ جو عورت گھر سے باہر نکلتی ہے وہ شاید اچھے کردار کی مالک نہیں ہے ۔ ملازمت کے لیے باہر نکلنے والی خواتین کے بارے میں بھی عام خیال یہ ہے کہ وہ اچھے کردار یا چال چلن کی مالک نہیں ہو سکتیں۔</div>
<div class="leftpullquote">مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہر گروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">فرقہ وارانہ سوچ اورمذہبی منافرت کا چلن بھی گھر، گلی اور محلے کی سطح تک عام ہے، ایک مسلک کے ماننے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والوں کی عبادت گاہ میں داخلے کے روادار نہیں۔اپنے مسلک کے ماننے والے اگر کسی حملے میں مارے جائیں تو شہید اور اگر مرنے والے کسی دوسرے مسلک کے ماننے والے ہوں تو وہ ہلاک۔ مذہبی اجتماعات میں کھلے عام نفرت انگیز تقریروں پر جھوم جھوم کر نعرے لگانے والوں میں ہم بھی شامل ہیں۔ وال چاکنگ، پوسٹرز، کتابوں، رسالوں یا سوشل میڈیا پر کھلے عام کفر کے فتوے بانٹنے والے، انہیں پسند فرمانے والے اور تکفیریت کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والے بھی ہم ہی ہیں۔ ہماری بات چیت، گفتگو اوربحث و مباحثے کے دوران بھی یہی خرد دشمن رویہ عام ہے۔اگر کوئی عقل، علم یا شعور کی بنیاد پر بات کرتا ہے تو اس کی زبان بندی کے لیے ہمارے پاس یوں تو کئی راستے ہیں لیکن سب سے آسان اور آزمودہ راستہ فتویٰ لگانا ہے۔ جب کسی پر فتویٰ لگ جاتا ہے تو باقی کام ہمیں کرنے کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ خود بخود ہی ہوتا چلا جاتا ہے۔عقل، علم یا شعور کی راہ روکنے کے علاوہ ہم اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے بھی یہ طریقہ کار بہت کامیاب نتائج کے ساتھ بہت عرصے سے آزماتے چلے آ رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال کوٹ رادھا کشن میں ہونے والا اندوہناک واقعہ بھی ہے جو سوچنے سمجھنے والے لوگوں کے لیے نشان عبرت ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ان ستر ہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟</div>
<div class="urdutext">ہمارے ہاں ایک نقطہ نظر اچھے طالبان اور برے طالبان کی تفریق کا بھی پایا جاتا ہے۔ لیکن اگر اس سوچ کا گہرائی میں جا کر تجزیہ کیا جائے تو ہر مسلک یا فرقے کے حساب کتاب میں اچھے اور برے طالبان کی تعریف مختلف ہو سکتی ہے۔مقتدر حلقوں کے لیے جو طالبان کسی دوسرے ملک میں جا کر انسانوں کو قتل کرتے ہیں وہ اچھے طالبان ہیں کیونکہ ہمارے خیال میں وہ ہمارے لیے نقصان دہ نہیں ہیں۔ اسی طرح ہرگروہ، طبقے اور مسلک کے لیے اچھے اور برے طالبان کا معیار مختلف ہوتا ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو لڑکیوں کے سکولوں پر حملہ کرنے والوں کو برے طالبان مانتا ہے لیکن دوسری طرف بہت سارے ایسے لوگ موجود ہیں جو ملالہ یوسف زئی پر حملے کو با لکل درست اقدام تصور کرتے ہیں۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کی شہادت کے ذمہ دار انتہائی برے طالبان ہیں لیکن ان طالبان کا رہنما ملا عمر ہمارے دانشوروں اور مذہبی جماعتوں کی آنکھوں کا تاراہے۔ سلمان تاثیر کے قاتل کے حق میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی جاتی ہیں اور اسے ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ ایک جانب انسانی حقوق، امن، محبت اور رواداری کی بات کرنے والوں کو یا تومار دیا جاتا ہے یا ان کے راستے میں ہر طرح سے روڑے اٹکائے جاتے ہیں اور دوسری جانب کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر کام کرتی ہیں اور ان کے کارندے کھلے عام دندناتے پھرتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے، ان کی مذمت کرنے یا ان پر کوئی ہاتھ ڈالنے والا نہیں ۔<br>
بظاہرہم شدت پسندی اور انتہا پسندی کے جس قدر خلاف ہیں ہمارا عمومی رویہ دہشت گردوں کے لیے اسی قدر راستے ہموار کررہا ہے۔ آئیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکیں، آئیے ذرا آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنا جائزہ لیں، آئیے اپنا احتساب کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ ہمارے بچوں، نوجوانوں، عورتوں، مردوں، بوڑھوں، فوجیوں، پولیس والوں کا قاتل کون ہے؟کہیں ایسا تو نہیں کہ ان سترہزار پاکستانیوں کا خون ہمارے ہاتھ پر ہے؟؟ کہیں ہمارے عمومی رویے اس سب کے پیچھے کارفرما تو نہیں؟؟؟ ذرا سوچیئے!</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d9%88%db%8c%db%81/">دہشتگردی، انتہا پسندی اور ہمارا رویہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%db%81%d8%a7-%d9%be%d8%b3%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%b1%d9%88%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جمہوریت: ترقی کا راستہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عمر فاروق]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Dec 2014 08:58:37 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جمہوریت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8118</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک مختلف گروہوں اور طبقوں کے درمیان طاقت، اقتداراور مفادات کی جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%81/">جمہوریت: ترقی کا راستہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پاکستان اپنے قیام سے لے کر آج تک مختلف گروہوں اور طبقوں کے درمیان طاقت، اقتداراور مفادات کی جنگ کے باعث شدید مشکلات کا شکار رہا ہے۔ یہاں ابتدا سے ہی وہ بنیادی ذمہ داریاں بھلا دی گئی تھیں جو ریاست کو اپنے شہریوں کے لیے نبھانی تھیں اور جن کا وعدہ مملکت کے قیام کے وقت کیا گیا تھا۔ عوام کو اقتدار میںشراکت اور انتخاب کے حق سے محروم کر کے اس پرایسے گروہوں کی اجارہ داری قائم کر دی گئی جنہوں نے طاقت اور اختیار کواپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا۔ حقیقی سیاسی طاقت جو عوام کی ملکیت ہونا چاہیے تھی،عسکری اداروں،مذہبی پیشواوں اور سرمایہ داروں کے ہاتھ میں رہی ہے۔ فیصلہ سازی جو عوام کے اختیار سے عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے تھی انہی مقتدر گروہوں کی من منشاء کے مطابق کی گئی ہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">شہریوں کو اقتدار سے دور رکھتے ہوئے مقتدر اشرافیہ اور عسکری حکومتوں نے ریاستی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کو بری طرح تباہ کیاہے۔ سرمائے اور وسائل کو چند خاندانوں کی ملکیت بنا دیا گیا ہے جس سے طبقاتی خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔</div>
<div class="urdutext">مفادات کے حصول کی اس کشمکش میں عوامی فلاح و بہبود کا ریاستی تصور ایک سکیورٹی سٹیٹ کے قیام سے دھندلا کر رہ گیا ہے۔ مستحکم اور موثر جمہوریت کی عدم موجودگی میں شفاف انتخابات، جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا نظام قائم نہیں کیا جا سکا۔ شہری نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ اس محرومی کی اصل وجوہ جاننے، ذمہ داروں کا تعین کرنے اور انصاف حاصل کرنے سے بھی قاصر ہیں۔عوام کواقتدار کے ایوانوں سے دور رکھنے کے لیے ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے باعث آج وطن عزیز تباہی کے دھانے پر کھڑا ہو اہے۔<br>
شہریوں کو اقتدار سے دور رکھتے ہوئے مقتدر اشرافیہ اور عسکری حکومتوں نے ریاستی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کو بری طرح تباہ کیاہے۔ سرمائے اور وسائل کو چند خاندانوں کی ملکیت بنا دیا گیا ہے جس سے طبقاتی خلیج میں اضافہ ہوا ہے۔اس سارے دورانیے میں اجتماعی طور پر ایسے رویے فروغ پائے جو کسی صورت جمہوریت اور ریاست کے حق میں نہیں تھے ۔ اقتدار پر قابض گروہوں نے جان بوجھ کر جمہوریت اور جمہوری رویوں کو پنپنے کا موقع نہیں دیا اور اقتدار کو عوام کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے عوام سے دوررکھا گیا ہے ۔ شہریوں کے بنیادی حقوق سے ہی ان کو محروم رکھا گیا ہے جس کے باعث شہری ریاست اور جمہوریت سے متنفر ہو چکے ہیں۔<br>
مقتدر طبقات کے مفادات کے تحفظ کے لیے جمہوریت کے لیے درکار بنیادی دھانچے کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ طلبہ تنظیموں، مزدور یونین اور مقامی حکومتوں کے نظام کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملاجس کے نتیجے میں سیاسی عمل پر بھی سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مذہبی پیشواوں کی اجارہ داری قائم ہو گئی ۔ سیاسی عمل اور سیاستدانوں کو متنازعہ اور غیر مقبول بنایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف سیاسی عمل پر عدم اعتماد کی فضا پیدا ہوئی ہے بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ شہریوں کی سیاسی عمل سے بیگانگی اور لاتعلقی بھی بڑھی ہے۔<br>
عقل ، علم اور شعور کی بنیاد پر بات کرنے کے رواج کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں اظہار رائے پر قدغنیں عائد کرنے سے جمہوری مکالمہ کی روایت ختم ہوئی ہے۔مقتدر طبقات کے مفادات کی خاطر شہریوں کا سیاسی، سماجی اور معاشی استحصال کیا گیا۔ ریاست کو ان معاملات میں شامل کیا گیا جو مہذب معاشروں میں شہریوں کے انفرادی معاملات ہوا کرتے ہیں۔ سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کو اپنے عزائم پورا کرنے کی غرض سے مفلوج کیا گیا۔پاکستان میں شہری آزادیوں، سہولتوں اور حقوق کی فراہمی کی ابتر صورت حال ماضی میں کیے گئے غیر جمہوری فیصلوں کی وجہ سے ہے۔<br>
ماضی میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ آج بھی کیا جا سکتا ہے اور انہیں دہرانے کی بجائے ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایک فلاحی ریاست کے قیام کا جمہوری راستہ اپنایا جا سکتا ہے۔ ریاست کو یہ یاد دہانی کرائی جا نی چاہیے کہ اس کا بنیادی فریضہ شہریوں کو حقوق، تحفظ ، سہولیات اور آزادیوں کی فراہمی ہے۔ریاست اور شہریوں کے مابین حقوق اور ذمہ داریوں کا دوطرفہ تعلق ریاست کے استحکام اور شہری فلاح پر مبنی ہونا چاہیے۔ ریاست کو اپنے شہریوں کو وہ بنیادی حقوق اور آزادیاں فراہم کرنی ہوں گی جو انسان ہونے کی حیثیت سےسبھی انسانوں کو بین الاقوامی اعلامیوں میں حاصل ہیں۔ ہمیں عقل ، علم اور شعور کی بنیاد پر ریاست کے لیے ایک جمہوری مستقبل کاتعین کرنا ہوگا۔ اقتدار کو اس کے اصل مالکوں(عوام) کی جھولی میں ڈالنا ہوگا، تما م فیصلے عوام کی امنگوں اور منشاء سے کرنے ہونگے۔ ہمیں برابری اور مساوات کی بات کرنی ہوگی، امن اور رواداری کی بات کرنی ہوگی۔<br>
پاکستان میں شہری حقوق کی صورت حال کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج تمام شہریوں کی سہولیات تک یکساں رسائی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ ہے۔ تمام طبقوں ، فرقوں، مذاہب اور فکر کے لوگوں کے اس ملک کا مساوی درجے کا شہری قرار دیا جانا نہایت ضروری ہے کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو ریاست اور شہریوں کے مابین حائل خلیج کو دور کرتے ہوئے مسائل سے نجات، ترقی ، امن اور خوشحالی کاباعث بن سکتا ہے۔ وطنِ عزیز کو ایک فلاحی ریاست بنانے کے لیے ریاست سے مذہب اور ثقافت کے نفاذ کا اختیار واپس لینا ہو گا ۔ریاست کی توجہ سکیورٹی کے ساتھ ساتھ فلاح پر مبذول کر انے سے ہم ایک ایسی ریاست بنا سکتے ہیں جہاں تمام شہریوں کو برابری کا درجہ حاصل ہو، جہاں امن ہو خوشحالی ہو اور طبقاتی تفریق کم سے کم ہو۔</div>
<div class="leftpullquote">شفاف انتخابات، منتخب نمائندوں اور اداروں کی جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا موثر نظام ہی پاکستان میں شہریت سے متعلق مسائل کا واحد حل ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔</div>
<div class="urdutext">
<p>پاکستان میں اقلیتی شہریوں سے دوسرے اور تیسرے درجے کا سلوک ختم کرنے کے لیے اقلیتوں کو ان کی اپنی لسانی،علاقائی، مذہبی، مسلکی اور صنفی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قومی دھارے میں شامل کرنا ہو گا ۔ریاست کے ساتھ ساتھ معاشرتی سطح پر بھی دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری ہونے کے تصور کو ختم کرنا ہوگا۔ کسی مخصوص عقیدے ،قومیت یا مذہب کی بنیاد پر اقلیت یا اکثریت کا مروجہ تصور بھی بدلنے کی ضرورت ہے ۔ریاست میں بسنے والے تمام افراد کو امتیازی سلوک سے بچانا ، کثرت رائے سے کیے جانے والے فیصلوں میں اقلیت کے حقِ رائے دہی اور تخصیص کا احترام بھی ضروری ہے۔قانون سازی میں انسانی مساوات اور تکثیریت کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کے نفاذ اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہ کر اپنی ذمہ داریاں سر انجام دیں اور اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی کے عمل کو یقینی بنایا جائے۔ تمام شہریوں کی معاشی مواقع تک یکساں رسائی یقینی بنانے کے لیے ریاست کو اپنی طاقت استعمال کرنا ہوگی تاکہ چھوٹے صوبوں کے احساس محرومی کو ختم کیا جا سکے۔ شفاف انتخابات، منتخب نمائندوں اور اداروں کی جوابدہی اور اختیارات کی تقسیم کا موثر نظام ہی پاکستان میں شہریت سے متعلق مسائل کا واحد حل ہے اور یہ سب تب ہی ممکن ہے جب اس ملک میں جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھا جائے۔</p>
</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%81/">جمہوریت: ترقی کا راستہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%85%db%81%d9%88%d8%b1%db%8c%d8%aa-%d8%aa%d8%b1%d9%82%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%b1%d8%a7%d8%b3%d8%aa%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
