<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نور پامیری, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/noor-pameeri/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:23:17 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>نور پامیری, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نور پامیری]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Sep 2015 08:15:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاک چین اقتصادی راہداری]]></category>
		<category><![CDATA[حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خیبر پختونخوا]]></category>
		<category><![CDATA[دفترخارجہ]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12651</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7/">گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل ہونے تک علاقے کو آئینی صوبہ بنانا یا پھر آئینی حقوق دینا ممکن نہیں ہے۔<br>
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے چند روز قبل وزیر اعظم میاں نواز شریف نے گلگت میں اعلان کیا تھا کہ علاقے کو آئینی حقوق دینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائےگی۔ اس سلسلے میں امور خارجہ کے مشیر جناب سرتاج عزیز صاحب کو ذمہ داری دی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے اس اعلان نے علاقے کے لوگوں کی ایک کثیر تعداد کو یہ ڈھارس بندھائی تھی کہ شائد اب جبر کے دن تھو ڑے ہیں۔ لیکن دفتر خارجہ کے ترجمان نے لگی لپٹی رکھے بغیر اس کمیٹی کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے غبارے سے ہوا نکال دی۔ یعنی، اب کمیٹی بنانے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی کیونکہ بوجوہ، ایسا گمان ہوتا ہے کہ اگر کمیٹی وجود میں آبھی جاتی تو اس سے گلگت بلتستان کے مسائل حل نہیں ہو سکتے تھے۔<br>
گلگت بلتستان ایک عجیب وغریب خطہ ہے۔ یہ پاکستان کا واحد علاقہ ہے جس کے باشندے ملک میں شمولیت کے لیے گزشتہ چھ</div>
<div class="leftpullquote">گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا حصہ نہیں ہے، اور اسے ملک کا آئینی حصہ بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی جارہی ۔</div>
<div class="urdutext">دہائیوں سے کوششوں میں مصروف ہیں۔ ایسا بہت کم ملکوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں مرکز سے الگ ہونے کی تحریکیں تو بہت ہیں، لیکن مرکز میں شامل ہونے کی تڑپ رکھنے والے اس علاقے کے باشندے اپنی جگہ منفرد ہیں۔ آج بھی تمام تر محرومیوں کے باوجود یہاں کے زیادہ تر باسی پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں اور صرف نعروں پر ہی اکتفا نہیں کرتے۔ اس علاقے کے جوان سرحدوں، شہروں، قصبوں اور دیہات میں افواج پاکستان اور دیگر مسلح اداروں میں شامل ہو کر قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ اس علاقے کے بیٹے اور بیٹیاں ریاستی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود دنیا کی بلند و بالا چوٹیوں پر ہلالی پرچم لہرا چکے ہیں اور فخر سے سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں۔ لیکن پاکستان انہیں اپنا شہری تسلیم کرنے، حقوق دینے اور منتخب و غیر منتخب ریاستی اداروں میں نمائندگی دینے سے مسلسل گریزاں ہے۔<br>
حال ہی میں بنائی گئی بائیس رکنی کمیٹی کی مثال لیجئے جس کے ذمے پاک چین اقتصادی راہداری کی نگرانی کا اہم اور انتہائی نازک کام ہے۔ مذکورہ کمیٹی میں سندھ، بلوچستان، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نمائندے شامل ہیں، لیکن ڈھونڈے سے بھی کوئی نام گلگت بلتستان سے نہیں ملے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ گلگت بلتستان کو اس منصوبے میں کوئی حصہ نہیں دیا جائےگا، باوجود اس حقیقت کے کہ شاہراہ قراقرم، جسے توسیع دے کر پاک چین اقتصادی راہداری بنایا جارہا ہے، گلگت بلتستان کے ایک کونے سے دوسرے کونے ، یعنی بھاشا سے خنجراب تک پھیلی ہوئی ہے۔<br>
پاک چین اقتصادی راہداری نگران کمیٹی میں نمائندگی سے محروم گلگت بلتستان کے عوام اس منصوبے کے اہم حصے دار ہیں، کیونکہ اس کی تعمیر میں علاقے کے وسائل استعمال ہو رہے ہیں، اور جن علاقوں سے یہ راہداری گزرتے ہوے چین میں داخل ہوتی ہے، وہ اس “متنازعہ” خطے کے “متنازعہ” باسیوں کی قانونی ملکیت ہے ۔</div>
<div class="leftpullquote">میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اور مضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔</div>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان کے باشندے اقتصادی راہداری کی نگرانی کے لیے بنی اس بائیس رکنی کمیٹی کو گلگت بلتستان کے حقوق کا محافظ تسلیم نہیں کر سکتے۔ یہ ایک غیر نمائندہ کمیٹی ہے جس سے گلگت بلتستان کے لوگوں کے قانونی، معاشی اور اقتصادی حقوق کی پاسداری کی توقع رکھنا خودفریبی کے مترادف ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ مجوزہ راہداری کے خلاف نہیں لیکن موجودہ سیاسی و غیر آئینی نظام میں اس راہداری سے ہم خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ہیں۔<br>
پاکستان کی بقا اور ترقی کے لیے دیامر بھاشاڈیم، بونجی ڈیم اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے بہت اہم ہیں اور یہ سارے منصوبے گلگت بلتستان کی سرزمین پر تعمیر ہو رہے ہیں۔ ان منصوبوں کی کامیابی کے لیے لازم ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتیں اس آئینی طور پر محروم خطے کے غریب عوام کو تمام منصوبوں میں نہ صرف نمائندگی دیں بلکہ حقوق کے تحفظ کے لیے واضح، منصفانہ اور شفاف طریقہ کار اور حکمت عملی وضع کرے۔ ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات سے گلگت بلتستان کو فائدہ پہنچانے کے لیے لازمی ہے کہ علاقے کونیشنل فائنانس کمیشن، مشترکہ مفادات کونسل اور وسائل کی تقسیم کے دیگر مرکزی آئینی اداروں میں نمائندگی دی جائے ۔ میرے خیال میں وہ وقت آن پہنچا ہے کہ پاکستان کی ریاست گلگت بلتستان کے لوگوں کے ساتھ ایک نیا اورمضبوط عمرانی معائدہ کرے تاکہ آئینی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ، قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کی حقِ ملکیت تسلیم کرنے اور صاف اور شفاف طریقے سے وسائل اور آمدنی کے منصفانہ استعمال کی سبیل ہو سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خطے کے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں تیزی سے پھیلتے احساسِ محرومی کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7/">گلگت بلتستان اور پاک چین اقتصادی راہداری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%d8%a7%da%a9-%da%86%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%82%d8%aa%d8%b5%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%b1%d8%a7%db%81%d8%af%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قائدین انقلاب! پتھروں، درختوں اور دیواروں کو بخش دیجئے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%aa%da%be%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%aa%da%be%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نور پامیری]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 10 May 2015 13:17:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[الیکشن کمیشن]]></category>
		<category><![CDATA[انتخابات]]></category>
		<category><![CDATA[بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11060</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حضرت، آپ منتخب ہو کر قومی رہنما بننا چاہتے ہیں؟ قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے اقوام عالم میں ممتاز وکامران کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہیں؟ بہت اچھی بات ہے ۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%aa%da%be%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7/">قائدین انقلاب! پتھروں، درختوں اور دیواروں کو بخش دیجئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔</div>
<div class="urdutext">حضرت، آپ منتخب ہو کر قومی رہنما بننا چاہتے ہیں؟ قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں؟ راستہ دکھانا چاہتے ہیں اور قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر کے اسے اقوام عالم میں ممتاز وکامران کرنے کا عزمِ صمیم رکھتے ہیں؟ بہت اچھی بات ہے ۔ اللہ سبحان تعالی آپ کے نیک ارادوں کو مزید جلا بخشے اور آپ کو سرفرازی عطا کرے۔۔۔ آمین، ثم آمین۔<br>
لیکن جناب، کیا آپ نے غور کیا ہے کہ رہنما بننے کے لئے انتخابات میں حصہ لینا اور منتخب ہونا لازمی نہیں ہے؟ جی۔ یعنی، ہر رہنما انتخابات میں حصہ لے کر رہنما نہیں بنتا۔ جنابِ من ، انتخابات کے موجودہ نظام کو رائج ہوے ابھی چند صدیاں ہوئی ہیں ، تو کیا اس سے قبل لوگ رہنما نہیں رکھتے تھے؟ ایسا تو نہیں کہ آپ رہنما اور جمہوری حکمران کے واضح فرق کو گڈمڈ کر کے دیکھ رہے ہیں؟ کیونکہ نہ تو سماجی رہنما جمہوری طور پر منتخب ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر جمہوری طور پر منتخب حکمران سماجی رہنما ہوتا ہے ۔<br>
جنابِ من، اگر آپ واقعی قوم کی فلاح کے بارے میں فکر مند ہیں اور اپنی صلاحیتیں اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں ، تو ابھی سے رہنمائی کا حق ادا کیجئے اور منتخب ہونے کا انتظار مت کیجئے ۔ خود کو رہنما ثابت کرنے کے لئے آپ کو اربابِ اختیار کے آگے جھک جانے، زمین و آسمان کے قلابے ملانے، ٹکٹ کے لیے پارٹی کے کرتا دھرتاوں کو پیسے کھلانے، ان کی ہاں میں ہاں ملانے، اور پھر ووٹ کی خاطر نفرتیں پھیلانے، جھوٹ پر جھوٹ بولنے، دیواروں پر نعرے لکھوانے، بینرز لگوانے اور پوسٹرز چھپوانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔بس کچھ چھوٹے موٹے کام کیجئے۔ اچھی اور عقلندی کی باتیں کیجئے اور سب سے اہم یہ کہ جن اچھی باتوں کی پرچار میں آپ وقت ، توانائی اور روپوں کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں، ان پر خود بھی عمل پیرا ہو کر دکھا ئیں۔ اب آپ پوچھیں گے وہ کیسے؟</div>
<div class="leftpullquote">یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں، شاہراوں، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟</div>
<div class="urdutext">مثلاً، اگر آپ اتحاد و اتفاق کے داعی ہونے کا اعلان تقریر میں کرتے ہیں تو اپنے قلم، زبان اور جسم و جاں کو اتحاد و اتفاق پھیلانے کے لئے وقف کردیجئے۔ اور اگر یہ مشکل ہو تو خدا را کم از کم فرقے، زبان، علاقے اور نسل کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کی خاطر نفرتیں پھیلانے کے دھندے میں بھی ملوث نہ ہو ں۔اسی طرح سے اگر آپ حسین و جمیل گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ سے معاشی و اقتصادی انقلاب کی نوید دے رہے ہیں تو کھوکھلے انتخابی دعووں اور بھاری بھر کم نعروں سے ہمارے دلکش و نایاب قصبوں ، راستوں اور ہمارے گھروں اور چار دیواریوں کی شکل بگاڑنے سے پرہیز کریں ۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ آپ گلگت بلتستان کو خوبصورت بنانے ، ترقی دینے ، عالمی سیاحتی مرکز بنانے کے نعرے لگا رہے ہوں ، اور ادھر آپ کے زرخرید چیلے سڑکوں ، شاہراوں ، شہروں اور دیہاتوں کی شکل بگاڑنے میں مگن نظر آئے؟ آپ لوگوں کے نعروں ، دعووں ، جھنڈیوں ، بینروں اور پوسٹروں کی بھرمار کو دیکھ کر تو مقامی لوگوں کا جی چاہتا ہے کہ علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائے۔ جب ہر دیوار پر آپ کے نعرے درج ہوں گے، ہر گلی میں آپ کے بینر آویزاں ہوں گے اور ہر چوراہے پر آپ کے پوسٹر چسپاں ہوں گے تو ملکی اور بین الاقوامی سیاح کیا خاک یہاں کا رخ کریں گے؟<br>
آپ رہنما بننا چاہتے ہیں؟ تو اس کی ایک جھلک دکھا دیجئے۔ اپنے منشور میں واضح طرح سے یہ بات شامل کر یں کہ آٹھ جون کو ہونے والے انتخابات کے لیے آپ کی پارٹی شہر اور گاوں کے کسی کونے میں بھی دیوار و در پر چاکنگ نہیں کرے گی۔ اور اگر آپ کے نام سے ، یا آپ کی پارٹی کے نام سے چاکنگ کی گئی ہے تو آپ خود وہ چاکنگ مٹا دیں گے۔ اور یہ بھی کہ آپ شہر کے چوراہوں اور گاوں کی گلیوں کو اپنے پوسٹرز سے نہیں بھریں گے۔ صرف جلسہ گاہ میں ان کا استعمال کریں گے اور جلسے کے فورا بعد ان کو تلف کرنے کا مناسب انتظام کریں گے۔ اگر آپ یہ کر سکتے ہیں تو ہم مان لیں گے کہ آپ رہنما بننے کے عمل میں شامل ہیں ۔ اگر آپ اتنا بھی نہیں کر سکتے تو پھر آپ سے کسی بڑے کام، کسی بڑی قربانی ، کی توقع رکھنا عبث ہوگا۔</div>
<div class="leftpullquote">سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔</div>
<div class="urdutext">آپ کہیں گے کہ جناب آپ جلتے ہیں ، ہمارا نام دیواروں پر دیکھ کر تو جناب، ہم صرف جلتے نہیں ہیں، بلکہ کڑھتے بھی ہیں بلکہ یوں کہیے کہ ہمارا خون کھول اُٹھتا ہے۔ ارے صاحب، آپ شوق سے اپنا نام ادھر ادھر لکھوا ئیے، لیکن ہمیں یہ بھی بتائیں کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے علاوہ کونسی صنعت ہے؟ اور اگر آپ سیاحوں کے لئے کشش رکھنے والی قدرتی گزرگاہوں اور قدرتی مناظر کر سیاسی نعروں سے مکدر کر رہے ہیں تو اس سے قوم کی خدمت کیسے ممکن ہے کیوں کہ سیاح آپ کا نام پڑھنے اور آپ کی جماعت کے نعروں سے مزیں دیواریں دیکھنے تو گلگت بلتستان قطعا نہیں آتے ہیں ۔ وہ جس علاقے کو دیکھنے آتے ہیں اسے آپ الیکشن کے ایک مہینے کے دوران اتنا گندا کردیتے ہیں کہ پھر سالوں تک اس کی سیاہی نہیں جاتی۔<br>
میں اس مضمون کے ذریعے پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ، تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلین ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے علاہ آزاد امیدواروں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس نکتے پر غور کیجئے ۔ پولنگ میں ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔ کوئی ایسا اجتماعی لائحہ عمل ترتیب دیجئے کہ علاقے کی خوبصورتی کو محفوظ رکھنے کی سبیل ہو سکے ۔ اور کوئی ترجیح یا کوئی لائحہ عمل ایسا بھی ہو کہ انتخابات کے فورا بعد سیاسی جماعتیں مختلف علاقوں میں کی گئی وال چاکنگ مٹانے میں مصروف ہوجائیں ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وال چاکنگ سے صرف سرکاری عمارتوں کو بچانے تک اپنی کاروائی اور احکامات کو محدود نہ کرے بلکہ مفادِ عامہ پر بھی تھوڑی بہت توجہ دے کر احسان مند ہونے کا موقع فراہم کرے ۔<br>
اتحاد و اتفاق کی باتیں کرنے اور سیاحت کے فروغ سے علاقے کی معاشی اور اقتصادی حالت بہتر بنانے کے لئے آپ کو انتخابی مہم چلانے، اشتہار بازی کرنے اور سیلِ زر بہانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنا کردا ر اور اپنی ترجیحات درست کر لیجئے۔ لوگ آپ کو بغیر انتخابات میں حصہ لیے اپنا رہنما بنا لیں گے، اور پھر اگر آپ چاہیں تو شائد وہ آپ کو جلد یا بدیر حقِ حکمرانی دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%aa%da%be%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7/">قائدین انقلاب! پتھروں، درختوں اور دیواروں کو بخش دیجئے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%82%d8%a7%d8%a6%d8%af%db%8c%d9%86-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d9%be%d8%aa%da%be%d8%b1%d9%88%da%ba-%d8%8c-%d8%af%d8%b1%d8%ae%d8%aa%d9%88%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%d9%88%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
