<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>نور اکبر گوہر, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/noor-akbar-gohar/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 20:01:42 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>نور اکبر گوہر, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نور اکبر گوہر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 14 Oct 2016 12:07:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک حادثات]]></category>
		<category><![CDATA[ٹریفک وارڈن]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18790</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">نور اکبر: جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں  حکومت اور متعلقہ اداروں کو  بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/">گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اکیس سالہ نوجوان محفوظ خان کا تعلق پونیال کے خوبصورت وادی گیچ سے تھا۔ وہ کراچی کے ایک کالج میں بارہویں جماعت کا طالب علم تھا۔ وہ ایک مہینے قبل گلگت آیا تھا۔ محفوظ خان کو قریبی گاؤں گوہرآباد میں پیچھے سے آنے والی تیز رفتار کار نے اُس وقت ٹکر ماری جب وہ موٹر سائیکل پر سوار تھا۔ انہیں زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں جس میں کسی نوجوان کو جان سےہاتھ دھونا پڑا۔ آج کل گلگت بلتستان میں مشکل سے ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہے جب کوئی خوفناک ٹریفک حادثہ رونما نہ ہوتا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثات کی ایک اہم وجہ غیر تجربہ کار اور ڈرائیونگ کے اصولوں سے نابلد ڈرائیور حضرات ہیں۔ صرف گاڑی کا سٹیرنگ ہاتھ میں لے کر لائن سیدھی کرنے سے کوئی ڈرائیور نہیں بن جاتا۔ ہمارے معاشرے میں یہ چلن عام ہے کہ آج جس نے گاڑی یا بائیک خرید لی، وہ اگلےدن اسے لے کر روڈ پرنکل آتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<div class="urdutext">گاڑی کی سیٹ پر براجمان بیشتر حضرات کو یہ تک نہیں معلوم ہوتا کہ کب انڈیکیٹرز کا استعمال کیا جائے اورکب لائٹ ڈم کی جائے، اہم موڑوں اور آبادی والی جگہوں پر کیوں کر گاڑی کی رفتار کم کی جائے۔ کیسے اور کس وقت اگلی گاڑی کو اوور ٹیک کیا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی طرح کئی حضرات گاڑی چلاتے ہوئے سگریٹ نوشی اور موبائل پر باتیں کرتے ہیں جبکہ لمبے سفر پر چلنے والی گاڑیوں اور بسوں کے ڈرائیور حضرات ضروری آرام اور نیند پوری کئے بغیر ڈرائیونگ کرتے ہیں۔ بہت سے تو نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہیں اور کچھ خود کو جہاز کا پائلٹ سمجھ کرخوفناک حد تک تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان جان لیوا حادثات کے وقوع پزیر ہونے میں جہاں شہریوں کی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویہ کارفرما ہے وہیں حکومت اور متعلقہ اداروں کو بری الزمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے لئے محفوظ اور موثر ذرائع آمدورفت کی فراہمی یقینی بنائے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کا رویہ اس حوالے سے قابل مذمت اور شرمناک ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔ یہ الگ بات ہے کہ سڑکوں پر پڑے ملبے کی صفائی اور ان کی مرمت اُس وقت ضرور کی جاتی ہے جب کسی اہم حکومتی شخصیت کا یہاں سے گزرنا ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">گلگت بلتستان میں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ لینڈسلائیڈنگ، سیلاب، بارشوں اور دریائی کٹاؤ کی شکار سڑکوں کی سالوں مرمت نہیں کی جاتی۔</div>
<div class="urdutext">ٹریفک کی محفوظ روانی کو یقینی بنانے میں ٹریفک پولیس کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے تاہم گلگت بلتستان میں ٹریفک پولیس کا کردار علامتی ہے۔ ٹریفک وارڈن انہی سڑکوں اور مقامات پر فعال نظر آتے ہیں جہاں فوجی، بیوروکریٹ اور اہم حکومتی شخصیات کا آنا جانا ہوتا ہے۔ عوامی گزرگاہوں پر ٹریفک پولیس اہلکار جھُرمٹ کی شکل میں شہروں میں کہیں کہیں بغیر ہیلمٹ پہنے موٹرسائیکل سواروں کو جرمانے کرتے نظر آئیں گے۔ وہ شاذ و نادر ہی ڈرائیور حضرات اور موٹرسائیکل سواروں کا لائسنس چیک کرتے ہیں۔ ان موٹر سائیکل سواروں میں سے بہت سے کم عمر لڑکے ہوتے ہیں جو قانوناً گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کے اہل نہیں ہوتے لیکن ٹریفک وارڈنز کی توجہ اس اہم مسئلے کی جانب نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان قاتل سڑکوں کو کیسے محفوظ بنایا جائے۔ ایسے کیا اقدامات اُٹھائے جاسکتے ہیں جن سے ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">راقم کی نظر میں سرکاری سطح پر ڈرائیونگ کے تربیتی مراکز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ ان مراکز میں ڈرائیونگ سیکھنے والے خواتین و حضرات کو گاڑی چلانے کے ساتھ ٹریفک کے اصول و قواعد کے حوالے سے بھی تربیت دی جائے اور صرف اُن خواتین و حضرات کو لائسنس جاری کیے جائیں جو رجسٹرڈ تربیتی مراکز سے تربیت یافتہ ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک حادثات میں اُس وقت تک کمی نہیں لائی جاسکتی جب تک سڑکوں کو محفوظ نہیں بنایا جاتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ سیلاب، زلزلے اور بارشوں سے متاثرہ سڑکوں کی بروقت مرمت کی جائے جبکہ تنگ سڑکوں کو کھلا کیا جائے تاکہ وہ ٹرانسپورٹ کے لئے محفوظ اور موثر بنائی جا سکیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے۔ اسی طرح اسکولوں، مساجد اور ہسپتالوں سمیت آبادی والی جگہوں پر محفوظ سپیڈ بریکرز بنائے جائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ٹریفک پولیس کا کردار موثر بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں صرف وی آئی پی مقامات پر ہی نہیں بلکہ ایسے تمام مقامات پر تعینات کیا جانا چاہیئے جہاں ٹریفک کا دباو زیادہ ہوتا ہے اور جہاں ٹریفک حادثات روز کا معمول ہیں۔</div>
<div class="urdutext">وہ گاڑیاں جو صحیح حالت میں نہیں ہیں ان کے چالان کیے جائیں۔ صرف ایسی گاڑیوں کو روڈ پرمٹ دیا جائے جو صحیح حالت میں ہیں اورسفر کے لئے محفوظ ہوں۔ اس حوالے سے ملک کے باقی علاقوں میں کلئیرینس سرٹیفیکیٹ دیا جاتا ہے جبکہ گلگت بلتستان میں اس نطام کی عدم موجودگی کی وجہ سے عوام گئی گزری پبلک اور پرائیویٹ گاڑیوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ مسافر گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ سواریاں اور وزن رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی حادثہ وقوع پذیر ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسافر اور مال بردار گاڑیوں پر گنجائش سے زیادہ وزن نہ ڈالا جائے جبکہ اس حوالے سے غفلت برتنے والے ڈرائیور حضرات کا لائسنس منسوخ کیا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس تمام صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے، کیا حکومت، متعلقہ ادارے اور معاشرہ بحیثیت مجموعی اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے تیار ہیں؟ یا ہمیں مزید نوجوانوں کے اپنی جان سے جانے، خواتین کے بیوہ ہونے، بچوں کے یتیم ہونے اور غریب والدین کے اپنے سہاروں سے محروم ہونے کا انتظار ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/">گلگت بلتستان کی قاتل سڑکیں — مدیر کے نام خط</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%af%d9%84%da%af%d8%aa-%d8%a8%d9%84%d8%aa%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%8c-%d9%82%d8%a7%d8%aa%d9%84-%d8%b3%da%91%da%a9%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%ac%da%be-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84-%da%a9%da%be%d9%88-%d8%b1%db%81%db%92-%db%81%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%ac%da%be-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84-%da%a9%da%be%d9%88-%d8%b1%db%81%db%92-%db%81%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[نور اکبر گوہر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 02 Sep 2016 06:52:13 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Politics of Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[Problems of Gilgit Baltistan]]></category>
		<category><![CDATA[State terrorism]]></category>
		<category><![CDATA[State Terrorism in Gilgit]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی کے قوانین]]></category>
		<category><![CDATA[ریاستی دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[سی پیک اور گلگت بلتستان]]></category>
		<category><![CDATA[سیاسی کارکن گرفتار]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان کے مسائل]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17717</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">نور اکبر گوہر: گلگت بلتستان میں دہشت گردی اور غداری سے متعلق قوانین کا دہشت گردوں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%ac%da%be-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84-%da%a9%da%be%d9%88-%d8%b1%db%81%db%92-%db%81%d9%88/">یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">گلگت بلتستان کی قدرتی خوبصورتی اور منفرد جغرافیہ کی وجہ سے دنیا میں اپنی ایک پہچان ہے تاہم اس جنتِ نظیر خطے میں جاری استحصال اور عوام پر مسلط ریاستی جبرکی شکل میں ایک نئی پہچان بھی بن رہی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">گلگت بلتستان میں دہشت گردی اور غداری سے متعلق قوانین کا دہشت گردوں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہاں دہشت گردی اور غداری سے متعلق قوانین کا دہشت گردوں سے زیادہ قوم پرستوں اور سماجی وسیاسی کارکنوں پر اطلاق ہو رہا ہے۔ ہمالہ، ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں واقع ان علاقوں میں سیاسی صورت حال نوآبادیاتی دور کے جبر سے مماثل ہے۔ سماجی انصاف اور بنیادی حقوق کے لئے اُٹھنے والی ہر آواز کو ریاست مخالف قرار دے کر کچلا جارہا ہے۔ آج کل پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سازش کے نام پر مقامی سیاسی کارکنان کے خلاف مقدمات کا اندراج اس تاثر کو تقویت دینے کا بعث بن رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گلگتـت بلتستان کے وزیر تعمیرات ڈاکٹر اقبال احمد کا دیا ہوا حالیہ بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شاہراہ قراقرم پر احتجاج کرنے والوں پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا جائے گا مستقبل میں شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی اور بڑھتے ہوئے ریاستی جبر کی طرف ایک اشارہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ مختلف مقدمات کے تحت گرفتار کئے جانے والے قومی،عوامی اور ترقی پسند تحریکوں سےوابستہ کارکنان کے ساتھ بہیمانہ سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ اسی طرح تحریکی کارکنان کو اپنے جائز سیاسی و معاشی حقوق کےلئے آواز بلند کرنے کی پاداش میں لمبے عرصے کےلئےسلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کا عمل بھی جاری ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">گلگت بلتستان کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری میں نظرانداز کرنے، زمینوں پر حکومتی قبضے، جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔</div>
<div class="urdutext">یہاں کے باسیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاک چین اقتصادی راہداری میں نظرانداز کرنے، زمینوں پر حکومتی قبضے، جغرافیائی سرحدوں میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی محرومی کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا گناہ یہ ہے کہ وہ بد ترین لوڈ شیڈنگ، علاقے میں جاری کرپشن، غیرمعیاری ترقیاتی کام کے خلاف اور قدرتی آفات کے نتیجے میں متاثر ہونے والی آبادیوں کی امداد و بحالی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہونے کی بناء پر ایک متنازعہ علاقہ ہونے کے ساتھ خطے میں بڑی طاقتوں کے مفاداتی ٹکراؤ کا مرکز بھی بن رہ ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے اس علاقے کا شمار دنیا کے حساس ترین علاقوں میں کیا جاتا ہے۔ ایک ایسے خطےمیں حکومت کا مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک ذمہ دارانہ اور محتاط ہونا چاہیے۔عوامی حقوق کی لڑائی لڑنے والوں کو جبر سے خاموش کرانے کی بجائے ان کی محرومیوں کا ازالہ کرنا چاہیے۔ لیکن ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کی بجائے ظلم و جبر اور روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہی ہے جس کی وجہ سے ریاست کے خلاف لوگوں میں مزاحمت کے جذبات فروغ پا رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انقلابی نوجوان رہنما بابا جان، طاہر علی طاہر اور کامریڈ افتخار سمیت درجنوں دیگر سیاسی، قوم پرست اور ترقی پسند کارکنان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا جہاں ریاستی جبر کی عکاسی کرتا ہے وہاں یہ علاقے میں جبر و استبداد کے خلاف پائی جانے والی مزاحمت کی علامت بھی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">عوامی جدوجہد بزورطاقت کچلنے سے نہ صرف لوگوں میں بغاوت کے جذبات ابھررہے ہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی حقوق کی پامالی کے نام پر ہرزہ سرائی اور شورش زدہ علاقوں میں مداخلت کرنےکا موقع مل رہا ہے۔</div>
<div class="urdutext">عوامی جدوجہد بزورطاقت کچلنے سے نہ صرف لوگوں میں بغاوت کے جذبات ابھررہے ہیں بلکہ ہمسایہ ملکوں کو بھی حقوق کی پامالی کے نام پر ہرزہ سرائی اور شورش زدہ علاقوں میں مداخلت کرنےکا موقع مل رہا ہے۔ بھارت کے وزیر اعظم، بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ اور اب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے بلوچستان اور گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے دیئے گئے بیانات اس کی واضح مثالیں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ گلگت بلتستان میں ریاست عوام کو صحت، تعلیم، روزگار، تفریح اور دیگر سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہوچکی ہے۔ بے پناہ قدرتی وسائل کی موجودگی کے باوجود اکثریتی آبادی غربت اور کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ بیوروکریسی، سیاست دان اور ان کے حواری علماء، ٹھیکیدار سمیت سرکاری وظیفہ خور اور مراعات یافتہ طبقات عوام کے وسائل پر شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایسی صورِت حال میں عوامی سطح پر نظام کے خلاف مزاحمت تو ہوگی۔ استحصال کا شکار اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات آخر کب تک خاموش رہیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں کی محرومی کے خلاف آواز بلند ہوتی ہے تو اُسے عوامی حمایت بھی حاصل ہوجاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حکومتی سطح پر ہونا تو یہ چاہیے کہ عوامی پسماندگی کو دور کرنے اور ان کی مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ لیکن جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ مسائل کو حل کرنے کی بجائے حق کے لئے بلند کی جانے والی ہرآواز کو دبایا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">قوم پرست اور ترقی پسند تحریکوں اور ان کے کارکنان کو بزور طاقت خاموش کرانے کی بجائے ریاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیتی تو صورت حال قدرے بہتر ہوتی۔</div>
<div class="urdutext">قوم پرست اور ترقی پسند تحریکوں اور ان کے کارکنان کو بزور طاقت خاموش کرانے کی بجائے ریاست عوامی مسائل کے حل پر توجہ دیتی تو صورت حال قدرے بہتر ہوتی۔ اس سے لوگوں میں نہ ریاست مخالف جذبات فروغ پاتے اور نہ ہی دیگر ممالک کو دخل اندازی کا موقع ملتا۔ لیکن ریاست اور حکمرانوں نے شاید تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حبیب جالب نے 1971ء میں اس وقت کے مشرقی پاکستان میں ریاستی جبرکے نتیجے میں ابھرنے والے عوامی وبال کو کچلنے کے لیے کیے گئے فوجی آپریشن کے موقع پر کہا تھا:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">محبت گولیوں سے بو رہے ہو<br>
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو<br>
گمان تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے<br>
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو</div>
<p>Image: Tribune.com.pk</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%ac%da%be-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84-%da%a9%da%be%d9%88-%d8%b1%db%81%db%92-%db%81%d9%88/">یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%82%db%8c%d9%86-%d9%85%d8%ac%da%be-%da%a9%d9%88-%da%a9%db%81-%d9%85%d9%86%d8%b2%d9%84-%da%a9%da%be%d9%88-%d8%b1%db%81%db%92-%db%81%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
