<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>مجاہد حسین, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/mujahid_hussain/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 13:24:48 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>مجاہد حسین, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%af%d9%88%d8%ae%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%af%d9%88%d8%ae%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[مجاہد حسین]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 26 May 2015 12:46:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[خودکشی]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11307</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کراچی میں اسماعیلی برادری کے قتل عام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بعض ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں اسماعیلی افراد کے قتل عام اور کراچی میں سبین محمود کے قتل کے علاوہ دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث قرار دیا جارہا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%af%d9%88%d8%ae%d8%a7%d9%84/">خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">کراچی میں اسماعیلی برادری کے قتل عام کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بعض ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں اسماعیلی افراد کے قتل عام اور کراچی میں سبین محمود کے قتل کے علاوہ دہشت گردی کی کئی دوسری وارداتوں میں ملوث قرار دیا جارہا ہے۔انکشافات خاصے حیران کن ہیں لیکن غیر متوقع نہیں۔پاکستان سمیت کئی دوسرے ممالک میں تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کی دہشت گرد تنظیموں میں شمولیت ایک بڑے گھمبیر مسئلے کا رخ اختیار کر چکی ہے اور مغربی ممالک میں اس حوالے سے کئی اقدامات تجویز کیے جارہے ہیں۔مثال کے طور پر دہشت و بربریت کی دلدادہ دولت اسلامیہ کے ارکان کی سب سے بڑی تعداد دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔بیرونی محاذوں پر مہمان اور رضاکارانہ انتہا پسندی کا بڑھتا ہوا رحجان اسلامی ممالک اور معاشروں کے لیے ایک براہ راست تشویشناک عنصراور خطرہ ہے۔ہمارے ہاں چوں کہ حقائق سے جان بوجھ کر نظریں پھیرنا ایک مخصوص قسم کی حب الوطنی اور حب اسلامی کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ہم ابھی تک اپنے ملک اور سماج کو لاحق انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اجزائے ترکیبی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے۔ اس کے اثرات اور مستقبل میں اس سے نبٹنے کے بارے میں کیا لائحہ عمل تیار کریں گے، کوئی نہیں جانتا۔اوراگر کہیں ایسی کوئی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستانی ریاست کو لاحق دہشت گردی اور فرقہ واریت کے حقیقی ماخذات کو سامنے لایا جائے تو لاتعداد مہم جو حملہ آور ہوجاتے ہیں اور اس طرح کے کام کو اسلام اور پاکستان کے خلاف گہری سازش سے جوڑ دیتے ہیں، جس کے بعدکچھ بھی نہیں بدلتا ۔ہم یہ تک نہیں سوچنا چاہتے کہ ہمارے اپنے بھائی بند جو کسی نہ کسی طرح انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی لہر میں شامل ہوگئے آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جو اِنہیں اس انتہائی قسم کے اقدام کی طرف لے آئیں۔</div>
<div class="leftpullquote">ہمارے ہاں چوں کہ حقائق سے جان بوجھ کر نظریں پھیرنا ایک مخصوص قسم کی حب الوطنی اور حب اسلامی کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ہم ابھی تک اپنے ملک اور سماج کو لاحق انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے اجزائے ترکیبی کا مکمل جائزہ نہیں لے پائے</div>
<div class="urdutext">اس ضمن میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی منطق یہ ہے کہ ایسا سب کچھ اغیار کے ہاتھوں سرانجام پایا ہے اور یہودو نصاری کے ساتھ ساتھ ہنود کے شیطانی ہاتھوں نے ہمارے معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر ہمارے ہی خلاف استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔لیکن اس منطق کو منطقی انجام دینے کے لیے کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاتا کہ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو آخر اس کا بھی تو کوئی نہ کوئی علاج یا حل ہوگا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مصیبت کا حل وہ بتاتے ہیں جو اس صورت حال سے پھوٹنے والے فوائد سے براہ راست منسلک ہیں اور اُن کا تیارکردہ سادہ ترین حل یہ ہے کہ یہود و نصاری اور ہنود کے ساتھ فوری طور پر حتمی جنگ چھیڑ دی جائے اور اس فتنے کو نیست و نابود کردیا جائے۔اب مصیبت یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں غلیظ فتنوں کو کیسے یک لخت نیست و نابود کردیا جائے؟ریاستوں کی معیشت جذبہ ایمانی سے زیادہ دوسرے عوامل پر پھلتی پھولتی ہے اور ہماری معیشت اس قدر لاغر ہے کہ اغیار کی بیساکھیوں کے بغیر ایک قدم نہیں اُٹھا سکتی۔ہم یہ تسلیم کرنے سے ہچکچاتے ہیں کہ ہماری ریاست اندر سے کھوکھلی ہورہی ہے اور اس کے دشمن اندر ہی اندر توانا ہوگئے ہیں۔نہ صرف دہشت گردی کے بیشتر ذرائع اندرونی ہیں بلکہ اب اس قابل بھی ہیں کہ باقی دنیا کو اپنی’’پیداوار‘‘ برآمد کرسکیں۔یہ ایک مہلک قسم کی مصلحت ہے یا خوف کہ ہم اِن ذرائع کی طرف اشارہ بھی نہیں کرسکتے، پچھلے دنوں ایک وفاقی وزیر نے محض اشارے کی مدد سے مقامی انتہا پسندوں کی کمین گاہوں کے بارے میں کچھ بتانے کی کوشش تو اِنہیں اپنی جان اور وزارت کے لالے پڑگئے۔عین ممکن ہے اُنہیں نشانہ بنانے کی بھی کوشش کی جائے کیوں کہ اُنہوں نے جو سچ بولا ہے وہ کسی طور ہضم نہیں ہورہا۔</div>
<div class="leftpullquote">جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک،جامع ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ،جامع منبع العلوم میران شاہ،جامع بنوریہ،جامع اسلامہ نیو ٹاون،جامعہ فاروقیہ،جامعہ رشیدیہ ،خیر المدارس،مدرسہ عثمان و علی اور سب سے بڑھ کر جامع محمدیہ کبیر والا نے جس قسم کا کردار پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے حوالے سے ادا کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی</div>
<div class="urdutext">اب یہ انتہائی ناگزیر ہے کہ ہم پاکستان کے اندر پلنے والی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے مقامی ذرائع کو غور سے دیکھیں اور اس حوالے سے معاون عناصر کی حقیقی نشاندہی کریں تاکہ مسئلے کا تدارک کیا جاسکے۔ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیوں ہمارے تعلیمی ادارے تعلیم یافتہ ماہرین کے ساتھ ساتھ دہشت گرد بھی پیدا کرنے لگے ہیں؟ ایسا کیا ہوا ہے کہ ایک انتہائی تعلیم یافتہ نوجوان دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہوکر قتل و غارت کرنے پر اُتر آتا ہے؟کیا یہ سب کچھ اغیار کی کوششوں کا نتیجہ ہے یا ہمارے ہاں ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والوں اور فرقہ پرستوں نے ریاست کو اپنے نشانے پر رکھ لیا ہے اور اِن کی رسائی اس قدر مضبوط اور جاندار ہے کہ لاتعداد تعلیم یافتہ نوجوان قتل وغارت گری میں ملوث ہوچکے ہیں۔ ایک ایسا موقف جس کو قبول عام کا درجہ حاصل ہے وہ یہ ہے کہ ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ واریت میں ہمارے مدارس کا کوئی کردار نہیں۔بعض بد بخت دین بیزار عناصر محض مدارس کو بدنام کرنے کے لیے اس قسم کی افواہیں پھیلاتے ہیں کہ دہشت گردی اور فرقہ واریت میں مدارس مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔اسلام دشمن طاقتیں دینی مدارس کو ختم کروانا چاہتی ہیں تاکہ پاکستان کو سیکولر ملک بنانے میں آسانی رہے۔<br>
ہمارے ہاں اس دعوئے کا رد اس لیے نہیں کیا جاتا کہ ملک میں تحقیقاتی صحافت کی روایت نہ ہونے کے برابر ہے اور مٹھی بھر ایسے صحافی جو ملک میں جاری دہشت گردی اور فرقہ وارانہ قتل و غارت پر لکھنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ مدارس کی طرف اس لیے رجوع نہیں کرتے کہ اس کام میں خطرات بہت زیادہ ہیں۔مثال کے طور پر کوئی بھی مقامی صحافی یہ نہیں لکھ سکتا کہ پاکستان اور افغانستان میں طالبانائزیشن کا سہرا خیبر پختونخواہ اور کراچی کے مدارس کے سر بندھتا ہے۔جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامع ابوہریرہ خالق آباد نوشہرہ، جامع منبع العلوم میران شاہ، جامع بنوریہ،جامع اسلامہ نیو ٹاون، جامعہ فاروقیہ،جامعہ رشیدیہ ،خیر المدارس، مدرسہ عثمان و علی اور سب سے بڑھ کر جامع محمدیہ کبیر والا نے جس قسم کا کردار پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے حوالے سے ادا کیا ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔اِن مدارس کے ہزاروں طالب علم جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر میں کام آئے ہیں اور آج بھی پاکستان کے قبائلی علاقوں سے لے کر سینٹرل ایشیاء تک اِنہیں سرگرم دیکھا جاسکتا ہے۔لیکن مقامی سطح پر اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں پائی جاتی بلکہ اِن مدارس کے بارے میں مبالغہ آمیز داستانیں سنائی جاتی ہیں اوراگر کوئی اِن کی طرف انگلی اُٹھانے کی کوشش بھی کرے تو اس کی خیر نہیں۔آج تک کسی نے یہ سوال نہیں پوچھا کہ پورے ملک میں فرقہ وارانہ تشدد جاری ہے اور خودکش حملوں سے لے کر ٹارگٹ کلنگ تک ہورہی ہے، سماجی طور پر فرقہ وارانہ تقسیم واضح طور پر نظر آتی ہے، کیا یہ تمام ’’مصنوعات‘‘ دین بیزار لوگوں کی تیارکردہ ہیں؟ مسیحیوں اور ہندووں کی بستیوں پر حملے ہوتے ہیں، بے گناہوں کو توہین کے الزامات کے تحت سربازار قتل کردیا جاتا ہے،گورنر،ڈی سی،ایس ایس پی،کمشنر،وفاقی وزیر جیسے عہدیدار قتل کردئیے جاتے ہیں اور اِن تمام وارداتوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی ہے،بچوں کے سکولوں پر وحشیانہ حملے ہوتے ہیں،پاکستانی افواج کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔کیا اِن تمام وارداتوں کا ارتکاب کرنے والے لاہور کے حلقہ ارباب ذوق سے آئے تھے؟ بوٹا ٹی سٹال پرانی انارکلی میں برسوں سے علمی محفلیں برپا کرنے والے چھ سات سرخوں نے یہ خون کی ہولی کھیلی ہے؟ یااِن تمام وارداتوں کی منصوبہ بندی نجم سیٹھی،عاصمہ جہانگیر،ڈاکٹر مہدی حسن،ڈاکٹر مبارک علی،ڈاکٹر مبارک حیدر،وجاہت مسعود،ایاز امیر،حسن نثار وغیرہ نے کی ہے؟<br>
یہ سارا کام ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں،فرقہ پرست گروہوں اور پاکستان میں القاعدہ کے سہولت کاروں نے سرانجام دیا ہے اور اس کے لیے افرادی قوت ہمارے عظیم مدارس کی مہیا کردہ ہے۔اگر یقین نہ آئے تو اِن مدارس کے ماہانہ مجلے دیکھ لیے جائیں، اِن کے اداریے پڑھ لیے جائیں اور سب سے بڑھ کر ملک کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے مدارس میں کی جانے والی جہادی و فرقہ وارانہ تقریریں سن لی جائیں۔اگر کوئی غیر جانبدار محقق صرف ماہنامہ الحق، ماہنامہ القاسم،ماہنامہ لولاک، ماہنامہ صدائے مجاہد، ماہنامہ الہلال، ماہنامہ بنات عائشہ، ماہنامہ خلافت راشدہ، ماہنامہ المرابطون، ہفت روزہ انصار اُمہ، ماہنامہ الحرمین اور ماہنامہ آب حیات ہی پڑھنے کی زحمت کرلے تو وہ آسانی سے دہشت گردی و فرقہ واریت کا ماخذوں کا کھوج لگا سکتا ہے۔لیکن چوں کہ عامتہ الناس کو یہ باور کروادیا گیا ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کرسکتا اور پاکستان جو اسلام کا قلعہ ہے اس میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے تمام واقعات بیرونی ہاتھ کی کارستانی ہے تاکہ پاکستان کو کمزور کیا جاسکے، اس لیے ایسی کوئی کوشش بھی بے سود ہوگی جو مقامی دہشت گردوں اور فرقہ پرستوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کی جائے۔</div>
<div class="leftpullquote">اگر کوئی غیر جانبدار محقق صرف ماہنامہ الحق، ماہنامہ القاسم، ماہنامہ لولاک، ماہنامہ صدائے مجاہد، ماہنامہ الہلال، ماہنامہ بنات عائشہ، ماہنامہ خلافت راشدہ، ماہنامہ المرابطون، ہفت روزہ انصار اُمہ، ماہنامہ الحرمین اور ماہنامہ آب حیات ہی پڑھنے کی زحمت کرلے تو وہ آسانی سے دہشت گردی و فرقہ واریت کا ماخذوں کا کھوج لگا سکتا ہے</div>
<div class="urdutext">یہ ایک ایسی مہلک صورت حال ہے جو ریاست کی عملداری کو تقریباًختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے اور اس کا کوئی تدارک دور دور تک نظر نہیں آتا۔ملکی ذرائع ابلاغ پر چھائے ہوئے دانش ور اس طرف دھیان دینے سے قاصر ہیں اور اگر کبھی ناچار اُنہیں اس موضوع پر بات کرنا پڑے تو اُن کے خیالات سن کر اُبکائی آتی ہے۔جب کہ زیادہ تر ایسے ہیں جو مذہبی انتہا پسندوں اور فرقہ پرستوں کے لیے راستہ صاف کرنے میں مصروف ہیں اور قلمی ناموں کے ساتھ متشدد مذہبی رسائل و جرائد میں ایمانی مضامین لکھتے ہیں۔خوشامد اور ناراضی کے خوف کی وجہ سے پاک فوج کے جاری آپریشن ضرب عضب کے بارے میں یہ دانش ور اپنے آپ پر جبر کرکے چند تعریفی کلمات ادا کرتے ہیں جب کہ اِن کی اندرونی کیفیات اِن کا منہ چڑا رہی ہوتی ہیں کیوں کہ اِنہوں نے ایک ایسے جاندار بیانیے کو جنم دیا ہے جس کے سامنے کسی قسم کی حقائق پر مبنی تصویر کشی بھی بے اثر ہے۔پاکستان کے تقریباً تمام شعبہ ہائے زندگی میں سرایت کرجانے والی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا تدارک ممکن نظر نہیں آتا کیوں کہ اس حوالے سے اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے۔اب اعلیٰ تعلیم یافتہ فرقہ پرست قاتل ہمارے شہروں میں دندناتے پھر رہے ہیں اور اُن کے مددگاروں کا ایک ہجوم ہر جگہ موجود ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں آسانی کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست تیزی کے ساتھ اپنے انہدام کی طرف رواں دواں ہے اور سماجی سطح پر مہلک تقسیم اس کا واضح اشارہ ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%af%d9%88%d8%ae%d8%a7%d9%84/">خودکشی پر مائل معاشرے کے خدوخال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%af%da%a9%d8%b4%db%8c-%d9%be%d8%b1-%d9%85%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%d8%b9%d8%a7%d8%b4%d8%b1%db%92-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%af%d9%88%d8%ae%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دہشت گردی کا تدارک کیسے؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[مجاہد حسین]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 01 Jan 2015 11:26:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[دہشت گردی]]></category>
		<category><![CDATA[سانحہ پشاور]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8722</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی ریاست کی ایک زبردست انگڑائی نے اگرچہ دہشت گردوں کو ایک بڑی عوامی اکثریت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس میں اِن کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہیں ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%9f/">دہشت گردی کا تدارک کیسے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">سانحہ پشاور کے بعد پاکستانی ریاست کی ایک زبردست انگڑائی نے اگرچہ دہشت گردوں کو ایک بڑی عوامی اکثریت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے، جس میں اِن کی واضح شکست کے آثار نمایاں ہیں ۔لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں پر ریاست کو اپنے واضح موقف پر مستحکم رہنے کے لیے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا اور حکمرانوں کو غیر مقبول ہوجانے کا خدشہ بھی لاحق رہے گا۔اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ اپنی اصلیت میں ابھی تک غیر مقامی ہے اور اس سے فوری تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ ہم غیروں کی جنگ میں اُلجھنے جارہے ہیں جہاں ہماری تباہی ناگزیر ہے۔لیکن اس جنگ میں جتنا نقصان پاکستانی ریاست اور عوام کو اُٹھانا پڑا ہے شاید کسی دوسرے فریق کو نہیں۔اس دوران سرحدوں کے اندر اور باہر کی جنگی پیچیدگی نے پاکستانی ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور اب نہ چاہتے ہوئے بھی اس ’’متنازعہ‘‘ نعرے کی ملکیت کا دعوی ریاست پاکستان کے سر ہے۔تفصیلات میں اُلجھے بغیر یہ ثابت کیا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں واضح طور پر ایک غیر فعال جنگی فریق کی حیثیت سے پاکستان کو فعال ممالک سے کہیں زیادہ مسائل کا سامنا ہے اور افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان کی صورت حال زیادہ تشویشناک ہو نے کا امکان ہے۔ریاست کے سیکورٹی ادارے دہشت گردی کے پھیلتے ہوئے امکانات کی وجہ سے پہلے سے زیادہ مصروف ہیں اور دفاعی اخراجات کا رخ اپنی افواج کی ضروریات کو پورا کرنے سے زیادہ دہشت گردی کے تدارک کی طرف ہے جس کی وجہ سے ریاست مالی بحران کا شکار ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نعرہ اپنی اصلیت میں ابھی تک غیر مقامی ہے اور اس سے فوری تاثر یہی اُبھرتا ہے کہ ہم غیروں کی جنگ میں اُلجھنے جارہے ہیں جہاں ہماری تباہی ناگزیر ہے۔</div>
<div class="urdutext">یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا صرف ایک پہلو ہے جس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے ریاست کو مشکلات کا سامنا ہے جب کہ اس جنگ کے لاتعداد پہلووں کی طرف مکمل توجہ کا مرحلہ ابھی آگے کھڑا ہے۔عوامی سطح پر جوں جوں یہ رائے مستحکم ہورہی ہے کہ سفاک دہشت گردوں کا مکمل صفایا کردیا جائے، ایسے ہی ریاستی اداروں پر پڑنے والے دباو میں اضافہ ہورہا ہے اور عوامی توقعات بڑھ رہی ہیں۔واضح رہے کہ ان توقعات اور دباو کا تعلق مقامی ہے جب کہ بیرونی توقعات اور خدشات کی الگ سے فہرست سازی کی جاسکتی ہے۔جیسے مثال کے طور پر ماضی میں ریاست کو ایبٹ آباد واقعہ،حقانی نیٹ ورک ،کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملہ اور اس سے پہلے ممبئی حملوں کے سلسلے میں بیرونی توقعات اور خدشات سے سابقہ پڑا، بلکہ ممبئی حملوں کے الزام میں ایک پاکستانی کی پچھلے دنوں عدالتوں سے ضمانت منظور ہونے کے بعد آج بھی پاکستان پر دباو برقرار ہے۔یہ صرف چند مثالیں ہیں جب کہ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی بین الاقوامی جنگ کے دوران پاکستان کو جس قسم کے حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کا بوجھ جہاں پاکستانی سماج پر پڑا ہے وہاں ملکی معیشت اور خارجہ محاذ پر بھی بہت کچھ برداشت کرنا پڑا ہے۔بنیادی طور پر یہ ایک ایسی داستان ہے جس کی جزئیات بہت تکلیف دہ ہیں اورجہاں اس سلسلے میں بیرونی عناصر کا ایک اہم کردار ہے وہاں اندرونی طور پر بھی لاتعداد کوتاہیاں اور غیر ذمہ دارانہ رویے اہم کردار کے حامل ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">عمومی تصور یہ ہے کہ دینی مدارس کے خلاف اسلام دشمن کمر بستہ ہیں اور مدارس کا خاتمہ اِن کا مقصد ہے۔یہ ایک ایسا نعرہ ہے جو عام لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کرسکتا ہے، لیکن کسی سطح پر بھی اس عزم کا اظہار ریاستی و حکومتی عہدیداروں کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔</div>
<div class="urdutext">اگر ہم نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور یہ طے کرلیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو کسی بھی قسم کی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی مقامی طور پر ایسی فضاء قائم ہونے دی جائے گی جس کا فائدہ اُٹھا کر انتہا پسند ریاست کو کمزور کرسکیں ،تو آگے کا راستہ کوئی آسان راستہ نہیں اور نہ ہی اس میں کسی فوری خوشخبری کا کوئی امکان ہے۔ یہ ایک مسلسل اور بہت حد تک بے رحم کوشش کا سفر ہے جس کے ثمرات اگرچہ بہت خوش گوار ہوں گے لیکن تندہی اور مشکل حالات کے بعد ہی ان کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔<br>
مثال کے طور پر اس وقت حکومت کو اس مطالبے کا فوری سامنا ہے کہ ملک بھر میں پھیلے ہوئے بہت حد تک غیر منظم اور مبینہ طور پر انتہا پسندی و فرقہ واریت کے فروغ میں معاون مذہبی مدارس کا محاسبہ کیا جائے۔ یہ بظاہر ایک سیدھا اور صاف مطالبہ ہے لیکن اس عمل میں موجود پیچیدگی اور حساسیت کو کسی طور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ مدارس کی بہت بڑی تعداد نہ صرف سماجی بلکہ طاقتور سیاسی و مذہبی وابستگیوں کی حامل ہے۔ اسی وجہ سے کئی سابقہ طاقت ور حکومتوں کی کارکردگی اس حوالے سےصفر رہی ہے۔عمومی تصور یہ ہے کہ دینی مدارس کے خلاف اسلام دشمن کمر بستہ ہیں اور مدارس کا خاتمہ اِن کا مقصد ہے۔یہ ایک ایسا نعرہ ہے جو عام لوگوں کو جذباتی طور پر متاثر کرسکتا ہے، لیکن کسی سطح پر بھی اس عزم کا اظہار ریاستی و حکومتی عہدیداروں کی طرف سے سامنے نہیں آیا۔لیکن مدارس کو کسی سرکاری نظم و ضبط میں لانا اور اِن کو بالکل ہی ختم کردینا دو قطعی طور پر الگ امور ہیں۔اور اگر کہیں ایسا کوئی مدرسہ سامنے آتا ہے جو فرقہ وارانہ قتل و غارت یا ریاست کے خلاف انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ایک جائز قانونی عمل تصور ہوگا۔اس کے لیے مدارس کی انتظامی انجمنوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے تاکہ مدارس کے تصور کو بحثیت مجموعی نقصان پہنچنے سے محفوظ بنایا جائے اور اِن کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔اگر حکومت اس سلسلے میں مشاورت اور منصوبہ بندی سے کام لیتی ہے تو سنجیدہ دینی طبقات یقینی طور پر اس حوالے سے تعاون کریں گے۔<br>
پاکستان کے قبائلی علاقوں سمیت ایسے تمام شہروں اور قصبات میں جہاں دہشت گردی کے واقعات اور دہشت گردوں کی موجودگی کے باعث زندگی معمول پر نہیں رہی، وہاں جامع منصوبہ بندی کے تحت تعمیر نو طرز کے پروگرام شروع کرنا ہوں گے تاکہ متاثرہ اور پچھڑے ہوئے لوگوں کو معمول کی زندگی گزارنے کے قابل بنایا جائے۔اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی قدرتی آفات سے زیادہ مہلک نقصان کی حامل ہوتی ہے اور جو علاقے اس کی لپیٹ میں آتے ہیں وہاں دیگر نقصانات کے ازالے کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے شکستہ اعتماد کو بھی بحال کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانا ہی اصل فتح نہیں جب کہ اصل معرکہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے باعث پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ اور اس کی وجوہات کا بہترین تدارک ہے۔دیکھنے میں آیا ہے کہ اصل امتحان یہی وہ مرحلہ ہے، جو نہ صرف دہشت گردی و انتہا پسندی کے متاثرین کو معمول کی زندگی میں واپس لے کر آتا ہے بلکہ اُن عوامل کا بھی تدارک کرتا ہے جو اس تباہی کا اصل موجب تھے۔خدانخواستہ اگر ریاست اور اس کے ادارے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس قسم کی کامیابی حاصل نہیں کرپاتے اور وقتی طور پر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کو پسپا کرنے میں ہی کامیاب ہوتے ہیں اور مقامی مسائل کا حل نہیں ہوپاتا تو اصل خطرہ پھرموجود رہے گا۔ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انتہا پسندوں کی دوبارہ واپسی پہلے سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہوئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%9f/">دہشت گردی کا تدارک کیسے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d8%aa%d8%af%d8%a7%d8%b1%da%a9-%da%a9%db%8c%d8%b3%db%92-%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b8%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b8%d8%a7/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[مجاہد حسین]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 12 Nov 2014 15:10:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ISIS]]></category>
		<category><![CDATA[دولت اسلامیہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7866</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">وفاقی وزیرداخلہ نے دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں قدم جمانے کے سوال پر معاملہ تقریباً صاف کردیا ہے، اُن کا موقف ہے کہ بعض تنظیمیں دولت اسلامیہ کی حامی ہیں جبکہ بذات خود دولت اسلامیہ کا ابھی تک پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b8%d8%a7/">دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">وفاقی وزیرداخلہ نے دولت اسلامیہ کی طرف سے پاکستان میں قدم جمانے کے سوال پر معاملہ تقریباً صاف کردیا ہے، اُن کا موقف ہے کہ بعض تنظیمیں دولت اسلامیہ کی حامی ہیں جبکہ بذات خود دولت اسلامیہ کا ابھی تک پاکستان میں کوئی وجود نہیں۔وفاقی وزیرداخلہ اصل میں کہنا یہ چاہتے ہیں کہ دولت اسلامیہ عراق و شام ابھی تک پاکستان میں اپنے اصلی چہرے کے ساتھ موجود نہیں بلکہ اس کے حامی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔یقینی طور پر دولت اسلامیہ پاکستان میں اپنی باقاعدہ شاخ کھولنے سے پہلے وفاقی وزارت داخلہ کو درخواست ارسال نہیں کرے گی ۔کیوں کہ ابھی تک سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دولت اسلامیہ کو پاکستان کی روایتی جنگجو تنظیموں کی طرح خیرات اور صدقے کے پیسے کے لیے قومی بینکوں میں اکاو نٹ کھولنے کی حاجت نہیں۔ماضی اس بات کا شاہد ہے کہ اب کی بار بھی پاکستان کی زبردست خفیہ ایجنسیاں اور حکومتی ادارے دولت اسلا میہ کو پاکستان میں دیکھنے سے ایک لمبے عرصے تک قاصر رہیں گے اور جب تک ابوبکر بغدادی کسی غار یا حجرے میں مارا نہیں جاتا، ہمیں کچھ ’’معلوم‘‘ نہیں ہوگا کہ کون تھا اور کہاں تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمارے اکثر و بیشتر ‘دانش مندان و ماہرین’ کے خیال میں دولت اسلامیہ اور اس کا اب تک سامنے آنے والا موقف اور اعمال ہماری سرزمین کے لیے اجنبی ہیں۔یہ ایک ایسی منطق ہے جس کا کوئی توڑ نہیں اور اگر کوئی اس کے خلاف موقف اپنانے کی کوشش کرے تو پھر اُس کی خیر نہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کچھ سال پہلے جب میں نے ’’پنجابی طالبان‘‘ پر تحقیق کی اور اس کو ایک کتاب کی شکل میں شائع کیا تو اچانک میں نے اپنے آپ کو بڑے بڑے دھانے والی توپوں کے سامنے پایا۔حال یہ تھا پنجاب کا وزیراعلیٰ اور وزیر قانون نجی محفلوں میں مجھے گالیاں دیتے تھے کہ یہ کون ہے جس نے پنجاب کی صوفیانہ آدرشوں سے لبریز پُرامن سرزمین کے منہ پر کالک پوتنے کی کوشش کی ہے۔دوسری طرف پنجابی پیارے سوشل میڈیا پر چڑھ دوڑے اور پنجاب کے ساتھ میری غداری کے فتوے جاری ہونے لگے۔بھلا ہو عصمت اللہ معاویہ کا جس نے بروقت وفاقی حکومت اور پاکستانی میڈیاکو انتباہی خط لکھ کر سزائے موت کے منتظر قیدیوں کو نہ صرف موت سے بچالیا بلکہ مجھے کہنے کا حوصلہ دیا کہ دیکھو پنجابی طالبان کا کچھ نہ کچھ وجود تو بہرحال ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔ پنجاب میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے مخصوص تعلیمی و تنظیمی مرکز کبیر والا(خانیوال) اور ملتان میں مقامی انتظامیہ ششدر ہے کہ کس طرح راتوں رات ’’نامعلوم‘‘ افرادنے پورے شہر کی دیواروں پر دولت اسلامیہ کے نعرے لکھ دئیے۔ملتان میں دولت اسلامیہ کے لیے چاکنگ کرنے والوں میں شامل گرفتارافراد پہلے ہی مقامی پولیس کو بعض سنگین جرائم میں مطلوب تھے اور اُن کا تعلق کالعدم سپاہ صحابہ سے ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شام اور عراق میں مصروف دولت اسلامیہ کے فرقہ وارانہ تصورات اور قتل و غارت سے فوری طور پر متاثر ہونے والوں میں کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی شامل ہیں، جنہوں نے حفظ ماتقدم کے طور پر پاکستان میں دولت اسلامیہ کے حقوق حاصل کرنا شروع کردیئے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سے مسلح گوشوں سے دولت اسلامیہ کے لیے ہمدردری کے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور تحریک طالبان کے علاوہ کئی متشدد گروہوں نے دولت اسلامیہ کی پاکستانی شاخیں قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستان کے جن جن شہروں اور قصبات میں دولت اسلامیہ کی حالیہ اشتہار بازی سامنے آئی ہے اُن میں سے زیادہ تر شہروں کا پاکستان کی فرقہ وارانہ تاریخ میں اہم کردار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک عام تصور یہ ہے کہ دولت اسلامیہ پاکستان میں وہ پذیرائی حاصل نہیں کرپائے گی جو القاعدہ کے حصے میں آئی۔لیکن یہ خیال اس وقت غلط ثابت ہونے لگتا ہے جب پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔اس کے علاوہ پاکستان میں القاعدہ اور بعض فرقہ پرست گروہوں کے تعلقات کہیں بہت بعد میں استوار ہوئے جب کہ پاکستان میں القاعدہ کا غالب تعارف فرقہ وارانہ نہیں۔القاعدہ جیش محمد اور سابق حزب الجہاد الا سلامی جیسے گروہوں کے زیادہ قریب تھی اور ان گروہوں کا تعارف مکمل طور پر فرقہ وارانہ نہیں تھا۔دونوں مذکورہ بالا گروہوں کی قیادت اور اراکین کی بہت بڑی تعداد چوں کہ کراچی کے دیوبندی مدارس کی فارغ التحصیل تھی، اس لیے بعض اوقات مخالف مسالک کے بارے میں ایک اجتماعی بیزاری اُن کے ہاں نظر آجاتی ہے لیکن اُنہیں اس طرح فرقہ پرست قرار دینا جس طرح سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی وغیرہ ہیں مناسب نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کو القاعدہ سے کہیں زیادہ پذیرائی ملے گی اور اس کے اہداف زیادہ تر مقامی ہوں گے۔القاعدہ نے کہیں بہت عرصے بعد مقامی ضروریات کے پیش نظر مجبوراً فرقہ وارانہ بنیادوں پر اپنے روابط بڑھانا شروع کیے اور مقامی فرقہ پرستوں کو اپنی صفوں میں شامل کیا، لیکن پاکستان میں عام فرقہ پرست جماعتوں کی طرح مخالفین پر کھلے حملے نہیں کیے بلکہ اپنے فرقہ وارانہ تصورات کو ایران اور افغانستان کے اندر موجود مسلکی مخالفین کے ساتھ معاملات میں استعمال کیا۔یا پھر بلوچستان جہاں القاعدہ کو افغانستان میں آپریشنل معاملات کے لیے ناگزیر موجودگی کو برقرار رکھنا تھا، وہاں پر مقامی فرقہ پرستوں کے ساتھ ہموار تعلقات کو قائم رکھنے کے لیے مسلکی مخالفین پر ہاتھ ڈالا گیا، جس کے بعد ہم نے کوئٹہ اور پاک ایران سرحد پر فرقہ وارانہ قتل و غارت کے مظاہرے دیکھے۔ لیکن دولت اسلامیہ اس حوالے سے زیادہ مہلک ثابت ہوگی کیوں کہ اس کا غالب تصور فرقہ وارانہ قتل و غارت سے لبریز ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">پاکستان کی ہر قسم کی فرقہ وارانہ تنظیمیں دولت اسلامیہ سے محبت کی دوڑ میں بازی لیجانے میں بیتاب نظر آتی ہیں۔فرقہ وارانہ جماعتوں میں القاعدہ کے لیے اس طرح کی بیتابی کبھی نظر نہیں آئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ ایک بالکل الگ موضوع ہے کہ پاکستانی ریاست اور اس کے ادارے دولت اسلامیہ کے ساتھ کس قسم کا سلوک کریں گے کیوں کہ جہاں تک پاکستان کی روایتی سیاست کا تعلق ہے، پاکستان میں کامیاب سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کی بیزاری کے بجائے اِن سے انتخا بات اور دیگر سیاسی اُمور میں مسلح معاونت حاصل کرتی رہی ہیں۔مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی باقاعدہ فرقہ پرستوں کی مسلح امداد کو استعمال میں لانے والی دو بڑی پارٹیاں ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت کے ہاں بھی ان گروہوں کے بارے میں کوئی خاص بیزاری نظر نہیں آتی جب کہ عمران خان اکثر اوقات متذبذب بیان بازی کا شکار رہتے ہیں جو نہ صرف مقامی مسلح گروہوں کو فائدہ پہنچاتی ہے بلکہ اِن کی جماعت کے بارے میں ابہام بڑھاتی رہتی ہے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ فرقہ پرست گروہوں کے بارے میں قومی سطح پر اتفاق رائے نہ ہونے کے برابر ہے اور جس کا براہ راست فائدہ شورش پسند اُٹھاتے ہیں۔دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد اور پھر مضبوطی کی راہ میں بظاہر کوئی روکاوٹ نظر نہیں آتی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b8%d8%a7/">دولت اسلامیہ کی پاکستان میں آمد میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہیں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%88%d9%84%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85%db%8c%db%81-%da%a9%db%8c-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a2%d9%85%d8%af-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a8%d8%b8%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
