<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>معین عباس, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/moin-abbas/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 01:13:30 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>معین عباس, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>سائیں فتو</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%aa%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%aa%d9%88/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[معین عباس]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 04 Nov 2014 16:59:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7754</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">گاوں سے مغرب کی طرف باہر نکلتے ہی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی حاجیوں کے امرود وں کے امرودوں کے باغ سے نکلتی ہوئی ملکوں کے ڈیرے سے ذرا آگے قبرستان تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%aa%d9%88/">سائیں فتو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">گاوں سے مغرب کی طرف باہر نکلتے ہی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی حاجیوں کے امرود وں کے امرودوں کے باغ سے نکلتی ہوئی ملکوں کے ڈیرے سے ذرا آگے قبرستان تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے، ورنہ ایک ہموارپختہ سڑک بھی قبرستان تک جاتی ہے۔ گاوں کے تمام جنازے اسی بڑی سڑک سے قبرستان تک جاتے ہیں۔ دن بھر قبرستان میں میلے کا ساسماں ہوتا ہے، بچے، جوان حاجیوں کے باغ والے راستے سے آتے اور گلی ڈنڈا، کرکٹ، گھیر گھمٹ وغیرہ کھیلتے ، ملکوں کے بیر کھاتے، پیلوں چنتے اور چلے جاتے۔ کبھی کبھار گاوں کی عورتیں بھی جھاڑو چننے اور ونکے درختوں سے پھل توڑنے آتی تھیں۔<br>
بابا بخت جمال کے مزار پر تو صبح سے شام تک خوب چہل پہل رہتی، کئی جوڑے پسند کی شادی کے لئے مزار کے ساتھ اُگے برگد کے پیڑ کے دوشاخوں کو ست رنگی دھاگوں سے باندھ کر جوڑ دیتے، بے اولاد سرہانیاں ٹانکتے اور مائیں اپنے بیٹوں کو بیویوں کے چنگل سے بچانے اور بیویاں شوہروں کو ان کی ماوں کے دامن سے علیحدہ کرنے کے لئے چاولوں سے بھری تھیلیاں ٹانگتیں۔ روزانہ مزار پر چاولوں کی دیگیں چڑھتیں اور آس پاس کے دیہاتی تبرک لینے مزار پر حاضری دیتے۔<br>
دن بھر بابا جی کے مزار پر تانتا بندھا رہتا لیکن شام کے سائے جب درختوں کو اپنی آغوش میں لے لیتے تو ہر طرف ہو کا عالم چھا جاتااور پورے قبرستان میں بابا جی کے مزار کے مجاور سائیں فتو کے علاوہ صرف مردے ہی رہ جاتے۔ سائیں فتو جب عشاء کے بعد گاوں سے لوٹتا تو اپنی جھگی میں چمٹا بجاتا، گاوں والے کہتے تھے کہ رات بابا جی کے مزار پر بھوت پریت آتے ہیں۔دیکھا تو کسی نے نہیں تھا پر گاوں کے سبھی باسیوں نے کبھی نہ کبھی فتو سے پوچھا ضرور تھا “سائیں بابا کے مزار پر رات کو بھوت پریت آتے ہیں نا؟؟“سائیں ہر بار چمٹے کے کڑے کو دو تین بار چمٹے پے مار کر حق بابا بخت جمال کا نعرہ بلند کرتا اور کہتا،“باباجانے کون آتا ہے، کون جاتا ہے فتو مسکین تو کچھ نہ جانے۔”<br>
جب کوئی بچہ پوچھتا کہ ،“سائیں تو نے بھوت کو دیکھا ہے؟” تو وہ ہنس کے کہتا،“میں نے تو کبھی خود کو نہیں دیکھا۔”<br>
سائیں ایسا ہی تھا، عجیب و غریب باتیں کرتا رہتا تھا، ہمیشہ اپنی ہی دنیا میں مست ۔ اس کا ہر جواب ایک رمز تھا، گہری اور اندھی رمز۔ ایک روز مولوی امام دین نے پوچھا ،“سائیں کلمے آتے ہیں؟” تو کہنے لگا،“پانچ آتے ہیں۔” مولوی نے پوچھا چھٹا کیوں یاد نہیں کرتا،“چھٹا یاد کر لیا تو ہمیں سائیں کون کہے گا۔“مولوی امادین سمیت کوئی یہ نہیں جانتا کہ سائیں چھ کلمے یاد کرنے کے بعد سائیں کیوں نہیں رہے گا۔مائیں اپنے بچوں کو سائیں کو ستانے سے روکتیں، لیکن نہ بچے ستانے سے باز آتے اور نہ سائیں بچوں سے تنگ پڑتا۔ سائیں فتو روزانہ بچوں میں کوہقاف کی پریوں کی نیاز والی ریوڑیاں بانٹتا، انہی ں کندھوں پر پھراتا، بیر، جامن اور آم توڑ توڑ کر دیتا۔ گاوں کا ہر گھرسائیں کا تھااور ہر بچہ جیسے اس کا اپنا ہو۔یہی سائیں کی دنیا تھی اور یہی اس کا مشغلہ۔<br>
ابھی گاوں میں سعودیہ کا پیسہ اور لمبی چھوٹی داڑھیوں کی بحث نہیں پہنچی تھی۔ ابھی ہاتھ چھوڑنے اور باندھنے پر نماز ہونے نہ ہونے کے مناظرے شروع نہیں ہوئے تھے۔خدا بھی ابھی ایک مسجد میں ایک ہی امام کے پیچھے سب کی نماز قبول کر رہا تھا۔ دوبرس قبل ملک مختیار کا لڑکا کالج سے لوٹا تو اس نے گاوں کے طور طریق پر اعتراض کرنا شروع کردیا۔ اسے پہلی بار پتہ چلا تھا کہ اب تک گاوں میں جتنی نمازیں پڑھی گئی تھیں وہ یا تو مکروہ تھیں یا قبول ہی نہیں ہوئی تھیں۔ پہلے پہل جھگڑا دو جماعتوں، دو اذانوں تک ہی رہا اور پھر بات دوسری مسجد تک جاپہنچی۔نور محمد کے کھیتوں کا گیہوں بھی تقسیم ہو کر آدھے گاوں میں پہنچااور حاجیوں کے امرود آدھے بچوں پر حرام ہو گئےلیکن سائیں سبھی کے بچوں میں ریوڑیاں تقسیم کرتا رہا۔<br>
لوگ نہیں جانتے تھے کہ مولوی امام دین کی مسجد کا خدا سچا ہے یا تراب شاہ کی مسجد کا؟کلمہ کون ساٹھیک ہے اور اذان کس کی صحیح ہے یہ کوئی بھی بتا نہیں سکا۔ اور پھر پچھلےبرس تراب شاہ کی محرم کی مجلس پر گولی چلی، اور ملک مختیار کو کسی نے مارڈالا۔ کوئی نہیں جانتا کس نے کس کو مارنے میں پہل کی اور کون قصوروار تھا۔ پولیس آئی اور تراب شاہ اور ملک مختیار کے بیٹے کے درمیان صلح ہوئی لیکن خاموش زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔ محرم پھر آیا اور اس بار پولیس کی نفری بھی پہلے سے زیادہ تھی۔<br>
دس محرم کی رات فتو بابا بخت جہاں کے مزار پر اپنی دنیا میں مگن تھاکہ رات کے سناٹے کا طلسم ہوش ربابندوق کی آواز سے پاش پاش ہوگیا، سائیں ایک دم سے کھڑا ہوا۔ گاوں کی جانب سے عورتوں کے چیخنے اور گولیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ سائیں نے باباکی ڈھیری کی پائینتی کو زور سے دبوچااور کہا بابا آج خیر کریں اور بابا کا جواب سنے بغیر ہی گاوں کی طرف دوڑ لگا دی۔ دسمبر کی سخت سردی میں جب فضا ٹھٹھر رہی تھی، سائیں ننگے پاوں حاجیوں کے باغ سے ہوتا ہوا گاوں کے جوہڑ میں کھڑے پانی کو چیر کر شور کی سمت بڑھنے لگا۔ گاوں میں ہر طرف جانے پہچانے چہرے سہمے سہمے پھر رہے تھے، ایک ایسی شام غریباں برپا تھی جس میں سبھی کے خیمے لُٹ رہے تھے۔<br>
رات کے مہیب اندھیروں میں گولیاں دونوں جانب سے چل رہی تھیں، ابن زیاد اور ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکروں کی تفریق مٹ چکی تھی۔ دونوں طرف شمر تھے جوکسی نہ کسی مظلوم کے لہو سے ہاتھ رنگے ہوئے تھا، ہر لٹی ہوئی بین کرتی عورت سکینہ تھی، ہر ننگا سر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔سبھی بچے علی اصغر لگ رہے تھےاور سبھی خانوادے پیاسے تھے۔لوٹنے والے تمام لشکر نیزوں پر سر اٹھائے ہوئے تھے جن پر جھولتے چہروں کی پہچان مٹ چکی تھی۔ ایک گولی سائیں فتو کا سینہ چیرتی ہوئی بھی گزری اور آخر تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ گولی شیعہ تھی یا سُنی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%aa%d9%88/">سائیں فتو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c%da%ba-%d9%81%d8%aa%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواہ مخواہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[معین عباس]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 26 Aug 2014 11:04:53 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7081</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">سنا ہے وہ شہنشاہ آج کل پھر اپنے سیاسی حریف، پیر سیاست کی بیعت کر چکا ہے جس کے مشوروں کے برعکس شہنشاہ نے سپہ سالاروں کو ناراض کیا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81/">خواہ مخواہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک نابینا حافظ صاحب کے ہاتھ راہ چلتےبٹیر آلگا۔ پاس سے گزرتے کسی دوسرے راہ گیر نے ستائشی انداز میں کہا،“واہ حافظ صاحب آپ نے تو کمال کر دیا، آپ نے تو بڑے بڑے نامی گرامی شکاریوں کی طرح بٹیر پکڑا ہے۔ حافظ صاحب مسکرائے اور فرمایا،” بھیا یہ تم رکھ لو میں اور پکڑ لوں گا۔” راہ گیر بٹیر لئے چلتا بنا اور حافظ صاحب لاکھ ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارتے پھرے پر بٹیر کو ہاتھ نہ آنا تھا سو نہ آیا۔ مجھے ڈر ہے کہ ہمارے نابینا حافظ صاحب کے ہاتھ جو 35 بٹیر لگے ہیں کسی باوردی راہ گیر کی باتوں میں آ کر اپنے بٹیروں سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور جب وہ اور ان کے “ہم جماعت “دھرنوں سے لوٹیں تو اس گاوں کی طرح ان کے گھر بھی لٹ گئے ہوں جہاں ایک رات جب سب سو رہے تھے تو ایک جانب سے شور اٹھا تھا “چور، چور، پکڑو جانے مت دو” اور پورا گاوں چور پکڑنے نکل کھڑا ہوا اور جب سب گھروں کو لوٹے تو سبھی کے گھر لٹ چکے تھے۔ یہ نہ ہو کہ جب ہمارے انقلابیے پارلیمانی چور پکڑنے کی ناکام کوشش کے بعد واپس پلٹیں تو “تبدیلی” ان کے درودیوار اورسازوسامان میں آ چکی ہو۔</div>
<div class="leftpullquote">افواہ ہے کہ آخری گنتی کے بعد بادشاہ کے اپنے حواریوں میں سے 37 غائب پائے گئے ، غلام گردشوں سے وہ بغاوتیں اٹھیں کہ دارلخلافہ کی ہر گلی میں خندقیں کھودنے، کنٹینر لگانے، ناکے لگانے اور روک ٹوک کر نے کے باوجود محل کے سامنے ایک ہجوم تھا جو تاج و تخت اچھالنے کو اکٹھا ہو چکا تھا۔</div>
<div class="urdutext">خیر سیاست کے شوق میں کس نے گھر بار نہیں لٹائے، اس جوئے میں کون اُس دیہاتی امام مسجد کی طرح نہیں لُٹا جس نے اپنے گاوں والوں کو منا لیا تھا کہ اب کی بار انتخابات میں اسے امیدوار کھڑا کیا جائے۔ انتخابات کا اعلان ہونے تک وہ گاوں کے ہر باشندے کو اس بات پر قائل کرتے رہے کہ انتخابات جیت کر وہ سب مسائل حل کر دیں گے اس لئے ووٹ انہیں دیا جائے۔ ہر بار انتخابات سے پہلے سبھی گاوں والے یقین دلاتے کہ ووٹ انہیں ہی دیں گے لیکن ووٹ کسی اور کو ڈالتے ۔ آخر کار مولوی صاحب نے مدرسے کے لڑکوں کے ہم راہ جیتنے والے امیدوار کے گھرپر دھاوا بول دیا ۔ پولیس آتے ہی خود روپوش ہوگئے اور طالب عملوں کو اندرکرا بیٹھے، گاوں والوں کو یقین ہے کہ انقلاب آتے ہی مولوی صاحب لوٹ آئیں گے۔غلط آدمی منتخب کرنے اور نہ کرنے دونوں صورتوں میں نقصان انہی کا ہوتا ہے جو کسی غیر موزوں امیدوار کی دیکھے بھالے بنا حمایت کر بیٹھتے ہیں۔ امیدواری کا کیا ہے ہر ایرے غیرے کو چار بندے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے نجات دہندہ ہونے کا یقین دلا دیتے ہیں۔یہ الو سیدھا کرنے والے ہمیشہ اُن تھڑے باز حجاموں کی طرح حمایت مانگتے ہیں جو کسی سے تبھی کچھ مانگتے ہیں جب ان کا استرا اگلے کی گردن پر ہو، اپنے قاف پور کے چوہدری بھی استرے تیز کرکے آج کل انقلابی حجامت بنا رہے ہیں۔<br>
انقلاب آئے نہ آئے مشاورت کاروں، مصالحت کاروں اور مذاکرات کاروں کی خوب چاندی ہے۔آٹھ سو سال ہوئے ہندوستان کے ایک بادشاہ نے اپنے وزراء اور مشیران کو اکٹھا کیا اور ان سے اپنی بادشاہت کے استحکام اور باغیوں کی روک تھام کے لئے تجاویز طلب کیں۔ سبھی نے شہنشاہ کو اپنی دانست میں بہترین مشورے دیے، کسی نے کہا امن قائم کیجئے، محصولات گھٹا دیجئے، کو ئی بولا تعلیم عام کیجئے اور رعایا کو سہولیات دیجئے۔ شفاخانے، درس گاہیں اور سرائے بنوانے کی چرچا بھی ہوئی، میٹرو اور موٹروے کے نقشہ تیار ہوئے۔ مشیران کی آو بھگت جاری رہی، منصوبہ بندیوں کے دفتر بھر گئے، خزانہ خالی ہوتا رہا اور سلطنت پر سےظل الہی کا اقتدار کم زور پڑتا گیا۔ ایک صاحب نے تو بادشاہ کو اپنے تمام دشمنوں کو ٹھکانے لگانےکا مشورہ دیا۔ بادشاہ کی فوجوں نے سبھی دشمنوں کا پیچھا کیا اور ایک ایک کو موت کی نیند سلا دیا۔ افواہ ہے کہ آخری گنتی کے بعد بادشاہ کے اپنے حواریوں میں سے 37 غائب پائے گئے ، غلام گردشوں سے وہ بغاوتیں اٹھیں کہ دارلخلافہ کی ہر گلی میں خندقیں کھودنے، کنٹینر لگانے، ناکے لگانے اور روک ٹوک کر نے کے باوجود محل کے سامنے ایک ہجوم تھا جو تاج و تخت اچھالنے کو اکٹھا ہو چکا تھا۔ سنا ہے وہ شہنشاہ آج کل پھر اپنے سیاسی حریف، پیر سیاست کی بیعت کر چکا ہے جس کے مشوروں کے برعکس شہنشاہ نے سپہ سالاروں کو ناراض کیا،ہمسایہ ملکوں سے دوستیاں لگائیں اور اپنے اردگرد اپنے خاندان کے لوگ اکٹھے کر لئے۔ اسی پیر سیاست کی کمک طلب کی جا رہی ہے جسے سڑکوں پر گھسیٹنے اور پھانسی چڑھانے کی باتیں کی جاتی رہی ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81/">خواہ مخواہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81-%d9%85%d8%ae%d9%88%d8%a7%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
