<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>خضر حیات, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/khizar-hayat/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 22:06:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>خضر حیات, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نزار قبانی کی رومانی شاعری</title>
		<link>https://laaltain.pk/nazar-qabani-ki-romani-shairi/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/nazar-qabani-ki-romani-shairi/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خضر حیات]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 12 Mar 2018 09:32:22 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Haider Mehrabi]]></category>
		<category><![CDATA[Nizar Qabbani]]></category>
		<category><![CDATA[romantic poetry]]></category>
		<category><![CDATA[urdu translation]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ترجمہ]]></category>
		<category><![CDATA[رومانی شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[نزار قبانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=23176</guid>

					<description><![CDATA[<p>نزار قبانی: جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے<br />
تو تمام درخت میری طرف<br />
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nazar-qabani-ki-romani-shairi/">نزار قبانی کی رومانی شاعری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">
“معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی پر محیط ہے، ان کے اشعار، نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30 اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و انفرادیت کی بدولت ہنوز تازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار و شعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کئے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کو ان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے۔ وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسوم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا۔ اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عربی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔”
<p>نزّار قبانی عرب دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ قانون کی تعلیم حاصل تو کی مگر کبھی عملی طور پر قانون دان یا منصف کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے سفارت کاری کا انتخاب کیا اور وہ ملک شام کی طرف سے کئی ملکوں میں سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ملازمت کے بعد ڈیڑھ دہائی تک یورپ میں مقیم رہے اور 30 اپریل 1998ء کو ان کا انتقال ہوا۔</p>
<p>نزّار قبانی زمانہء طالب علمی سے ہی شاعری لکھنا شروع کر چکے تھے اور یہ زیادہ تر رومانوی شاعری ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس دور کی عرب دنیا کو نزّار قبانی نے بہت غور سے دیکھا اور انہوں نے عربوں کی حالت زار اور ان کے رویئے کو اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا۔</p>
<p>انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ آخر تک استبداد کی مخالفت میں مزاحتمی شاعری کرتے رہے۔</p>
<p>ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت دکھی انسان تھے جن کی پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد ہی ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی دوست کے ساتھ دوسری شادی کی اور ان کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کا بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ اصل زندگی کی تلخیوں سے انہوں نے ایسی شاعری کشید کی کہ جس میں مزاحمتی کڑواہٹ کے علاوہ رومانوی مٹھاس بھی شامل ہے۔</p>
<p>ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے سنگِ میل پبلی کیشنز نے ‘محبت کی 101 نظمیں’ کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے جس میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم آنجہانی منّو بھائی نے کئے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے علاوہ ‘ایک روزن’ کے قارئین کیلئے ہم نے نزّار قبانی کی کچھ مزید رومانوی نظمیں ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم کے آخر میں دیئے گئے ویب لنک سے یہی نظم عربی اور انگریزی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔</p></div>
<p>[/blockquote]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">مجھے جب محبت ہوتی ہے</div>
<p>مجھے جب محبت ہوتی ہے<br>
تو لگتا ہے میں وقت کا شہنشاہ بن گیا ہوں<br>
زمین اور جو کچھ بھی اس میں ہے، میری ملکیت بن چکا ہے<br>
اور میں گھوڑے پر سوار سورج کی سیر کو نکل کھڑا ہوتا ہوں۔</p>
<p>مجھے جب محبت ہوتی ہے<br>
تو میں بہتی ہوئی روشنی میں ڈھل جاتا ہوں<br>
کہ نظر جسے دیکھ نہ سکتی ہو<br>
اور میری ڈائریوں میں لکھی نظمیں<br>
ببول اور پوست کے کھیت بن جاتی ہیں۔</p>
<p>مجھے جب محبت ہوتی ہے<br>
پانی میری انگلیوں سے پھُدک کر بہہ نکلتا ہے<br>
گھاس میری زبان پر اُگنے لگتی ہے<br>
جب میں محبت کرتا ہوں</p>
<p>میں اس سبھی وقت سے باہر کا کوئی وقت بن جاتا ہوں۔</p>
<p>جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے<br>
تو تمام درخت میری طرف<br>
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=56</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">محبت کا گَر موازنہ کیجے</div>
<p>میری جانِ من میں تمہارے باقی چاہنے والوں جیسا نہیں ہوں<br>
اگر کوئی دوسرا تمہیں بادل لا کر دیتا ہے<br>
تو میں تمہیں بارش پیش کروں گا<br>
اگر وہ تمہیں لالٹین عطا کرتا ہے، تو میں<br>
تمہیں چاند لا کر دوں گا<br>
اگر وہ دے تمہیں ایک شاخ<br>
تو میں تمہیں پیڑ کے پیڑ لا دوں گا<br>
اور اگر کوئی دوسرا تمہیں بحری جہاز لا کردے<br>
تو میں تمہیں سفر تحفہ کروں گا۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=55</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">جب میں تم سے محبت کرتا ہوں</div>
<p>جب میں تم سے محبت کرتا ہوں<br>
ایک نئی زبان پُھوٹ پڑتی ہے<br>
نئے شہر، نئے ملک دریافت ہونے لگتے ہیں<br>
گھنٹے ننّھے کتوں کی مانند سانس لینے لگتے ہیں<br>
کتابوں کے صفحوں کے بیچ سے اناج کے خوشے اُگ آتے ہیں<br>
پرندے تمہاری آنکھوں سے شہد کی بوندیں چُرا کر اڑنے لگتے ہیں<br>
انڈین پھلیوں سے لدے قافلے تمہارے پستانوں سے روانہ ہونے لگتے ہیں<br>
ہر طرف آم ہی آم گرنے لگتے ہیں<br>
جنگل آگ پہن لیتے ہیں<br>
اور چہارسُو نیوبین ڈھول بجنے لگتے ہیں۔</p>
<p>جب میں تم سے محبت کرتا ہوں<br>
تمہاری چھاتیاں لاج شرم جھٹک دیتی ہیں<br>
یہ نُور میں بدل جاتی ہیں، گرج دار ہو جاتی ہیں<br>
تلوار لگنے لگتی ہیں اور ایک ریتلا طوفان بن جاتی ہیں<br>
جب میں تم سے محبت کرتا ہوں تو عرب شہر چھلانگنے لگتے ہیں<br>
اور ڈٹ جاتے ہیں صدیوں کے استبداد کے خلاف<br>
اور انتقام کے خلاف جو قبائلی قوانین کی آڑ میں ان سے لیا جاتا رہا<br>
اور میں، جب میں تم سے محبت کرتا ہوں<br>
تو مارچ کرنے لگتا ہوں<br>
بدصورتی کے خلاف<br>
نمک کے بادشاہوں کے خلاف<br>
صحرا کو ادارہ جاتی بندوبست میں جکڑنے کے خلاف<br>
اور میں تب تک تمہیں چاہتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا<br>
میں تب تک تم سے یونہی محبت کرتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=61</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے</div>
<p>میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے:<br>
‘میرے اور فلک کے بیچ کیا فرق ہے؟’<br>
فرق یہ ہے، میری جان<br>
کہ جب تم ہنستی ہو<br>
میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=334</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">اے میری چاہت</div>
<p>اے میری چاہت<br>
اگر تم پاگل پن میں میرے برابر ہوتی<br>
تو تم اپنے گہنے اتار پھینکتی،<br>
اپنے تمام کنگن بیچ کر<br>
میری آنکھوں میں آ کر سو جاتی۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=335</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">میں جب جب تمہیں چُومتا ہوں</div>
<p>میں جب جب تمہیں چومتا ہوں<br>
ایک لمبی جدائی کے بعد،<br>
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے<br>
کہ جیسے میں کسی سرخ لیٹر باکس میں<br>
جلدی سے محبت نامہ ڈال رہا ہوں۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=336</p>
<hr>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">روشنی لالٹین سے مقدّم ہے</div>
<p>روشنی لالٹین سے مقدّم ہے<br>
نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے<br>
اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے</p>
<p>تمہارے نام میرے خط<br>
ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی<br>
صرف یہی وہ دستاویز ہیں<br>
جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے<br>
تمہارا حسن<br>
اور میرا پاگل پن۔</p>
<p>http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=shqas&amp;qid=338</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
حالات زندگی<br>
http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=ssd&amp;shid=2</p>
<p>شاعری<br>
http://www.adab.com/modules.php?name=Sh3er&amp;doWhat=lsq&amp;shid=7&amp;start=0</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/nazar-qabani-ki-romani-shairi/">نزار قبانی کی رومانی شاعری</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/nazar-qabani-ki-romani-shairi/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دُہرا معیار</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%8f%db%81%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%8f%db%81%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خضر حیات]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 14 Apr 2017 10:32:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Mardan]]></category>
		<category><![CDATA[Minorities]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani minorities]]></category>
		<category><![CDATA[اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی اقلیتیں]]></category>
		<category><![CDATA[مردان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20511</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">خضر حیات: ہم نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا کہ اختلافِ رائے رکھنے والوں، دوسرے عقیدے کے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہم پاکستان میں کر رہے ہیں کیا وہ ہمارا دُہرا معیار اور منافقت نہیں ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d9%8f%db%81%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1/">دُہرا معیار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">حلب جل رہا ہے، حلب جل گیا، حلب راکھ ہوگیا، شام میں مسلمانوں پر جراثیمی حملہ بھی ہوگیا، اور پھر امریکہ نے میزائل بھی داغ دیئے۔ کئی مسلمان شہید ہوگئے۔ پاکستان میں بہت احتجاج ہوا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یمن میں جاری اسلامی برانڈ کی لڑائی میں لاکھوں مسلمان بچے قحط سالی کا شکار ہو گئے، اقوام متحدہ پیٹ پیٹ کے تھک گیا کہ کچھ کرلو ورنہ یہ انسانی نسل کی سب سے بڑی تباہی بن جائے گی۔ اصلی برانڈ اور نقلی برانڈ کی انوکھی چپقلش پہ ہمیں بہت افسوس ہوا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسرائیل مُصر ہے کہ وہ فلسطینی زمین پر یہودی بستیاں بنا کے رہے گا اور اسے اس کام میں اب امریکہ سرکار کی بھی شہ حاصل ہے۔ فلسطینیوں پر زمین تنگ کی جا رہی ہے، ان کو مارا جارہا ہے، ان کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ہمیں بہت تشویش ہوئی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صدر ٹرمپ نے سات مسلمان ملکوں کے باشندوں پر پابندی لگا دی کہ یہاں کے مسلمان دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ہم بہت تلملائے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">برما میں روہنگیا مسلمانوں کا بُری طرح سے قتل عام ہوا اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمان پناہ گزین بنگلہ دیش کی سرحد پار کرگئے۔ ہمیں اس پہ بھی بہت غصہ آیا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمٰن کی صاحبزادی نے کئی اسلام پسندوں کو پھانسی پر چڑھا دیا اور حکومتی ادارے باقی ماندہ اسلام پسندوں کی تاک میں ہیں۔ ہمیں پھر غصہ آیا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بھارت میں بابری مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی مہم شروع کی گئی ہمیں اتحاد بین المسلمین کی ضرورت شدت سے محسوس ہونے لگی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بھارت کی ہی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے انتہا پسند ہندو وزیراعلیٰ ادتیا ناتھ یوگی کے وژن پر عمل کرتے ہوئے گائے کی نقل و حمل میں ملوث ایک مسلمان کو پسلیاں توڑ کر قتل کردیا گیا۔ گوشت کے کاروبار سے جڑے لاکھوں مسلمان اور دلت بے روزگار ہوگئے۔ یوگی کے رومیو سکواڈ نے ایک مسلمان لڑکے کو اس بناء پر قتل کردیا کہ وہ ہندو لڑکی سے پیار کرتا ہے۔ ہمیں پاکستان میں بیٹھ کر بھارت میں مقیم مسلمانوں کی حالتِ زار پر بہت دکھ ہوا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم نے پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے بُرے سلوک پہ احتجاج کئے، ہم بہت تلملائے، ہمیں شدید غصہ آیا اور آنا بھی چاہئیے تھا۔ امت کے درد میں ہم دن رات گھلتے رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر ہم نے ایک لمحے کے لئے بھی سوچا کہ پاکستان میں کیسی صورت حال ہے؟ اختلافِ رائے رکھنے والوں، دوسرے عقیدے کے لوگوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک ہم پاکستان میں کر رہے ہیں کیا وہ ہمارا دُہرا معیار اور منافقت نہیں ہے؟ یوگی آدتیا ناتھ جو کچھ اتر پردیش میں مسلمانوں کے ساتھ کر رہا ہے ہم بھی تو ویسا ہی سلوک یہاں بسنے والے ہندووں کے ساتھ کر رہے ہیں۔ وہ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی کی تیزی سے افزائش اور ہندوؤں کی آبادی میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی بتاتا ہے کہ مسلمان ہندو لڑکیوں کو ورغلا کر ان سے شادی کرتے ہیں اور بعد میں ان کا مذہب تبدیل کرا لیتے ہیں تو کیا ہم سندھ میں ہندووں کے ساتھ مختلف سلوک کر رہے ہیں؟ کیا ہم آئے روز اس طرح کا واقعہ نہیں سنتے کہ وڈیروں نے کم سِن ہندو لڑکی کو اغواء کیا، زیادتی کی اور بعد میں زبردستی اسے اسلام کے دائرے میں داخل کر لیا۔ جو لڑکی ‘راہِ راست’ پر آ گئی اس کی جاں بخشی ہو گئی اور جو مذہب تبدیل نہ کرنے کی ضد پہ اڑ گئی اس کا سر تن سے جدا کر دیا؟ ایک مسیحی جوڑے کو ہم نے کوٹ رادھا کشن میں گستاخی کا ہتھیار استعمال کرتے ہوئے تندور میں جلا ڈالا۔ توہین مذہب کے الزام میں ہم نے گوجرہ اور لاہور کے بادامی باغ میں واقع پوری پوری مسیحی بستی کو آگ لگا دی۔ مردم شماری شروع ہوئی تو سکھ مذہب کا خانہ ہی نہیں دیا گیا فارم میں۔ اپنے فرقے کے سوا ہر فرقے سے ہم نفرت کرتے ہیں، احمدی برادری تو آئے روز ہمارے نشانے پہ ہے۔ کراچی میں اسماعیلیوں کی بس پر فائرنگ کرکے ہم نے کتنے ہی اسماعیلی صاف کر دیئے اور حالیہ واقعات میں پہلے تو ہم نے دوالمیال پہ ان کی عبادت گاہ پر حملہ کیا اور ایک درجن تک احمدیوں کو جہنم واصل کیا۔ پھر ہم نے ننکانہ صاحب میں ایک احمدی وکیل کو قتل کرکے ننکانہ صاحب کی سرزمین کو ایک شرپسند سے پاک کیا۔ پھر ہم نے لاہورکی سبزہ زار کالونی میں ایک احمدی کو قتل کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اختلافِ رائے جس حد تک اپنی اہمیت پاکستان میں کھو چکا ہے اس پر سوائے افسوس کے اور کیا بھی کیا جا سکتا ہے۔ کل ہم نے مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں ایک نوجوان کو محض مذہبی اختلاف رائے پر قتل کیا۔ گستاخی کو ہم نے یہاں بھی ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اگر پولیس ‘بروقت’ نہ پہنچتی تو ہم اس کی لاش بھی جلا چکے ہوتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پوری دنیا میں مسلمانوں کو ڈرایا جا رہا ہے، دھمکایا جا رہا ہے، مارا جا رہا ہے۔ جن ممالک میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان سے بدترین سلوک رکھا جا رہا ہے۔ برداشت نہیں کریں گے، اجازت نہیں دیں گے، سبق سکھائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میں مانتا ہوں مگر ہم اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کے ساتھ جو کچھ کر رہے ہیں وہ کسی تنقید کا مستحق نہیں؟ ہماری اس منافقت پر بھی کوئی پریس کانفرنس ہوگی؟ کوئی احتجاج ہوگا؟ کوئی مائی کا لعل اس پر بھی بینر اٹھائے گا؟ کوئی ہڑتال اس پر بھی ہوگی؟ اور کوئی اس کے خلاف بھی آواز اٹھائے گا؟؟ کیا ہمارا احتجاج کھوکھلا نہیں ہے؟؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d9%8f%db%81%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1/">دُہرا معیار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d9%8f%db%81%d8%b1%d8%a7-%d9%85%d8%b9%db%8c%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>یومِ نجات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[خضر حیات]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 17 Feb 2016 07:50:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[God]]></category>
		<category><![CDATA[Life and Misery]]></category>
		<category><![CDATA[misery and life]]></category>
		<category><![CDATA[What is life?]]></category>
		<category><![CDATA[زندگی کیا ہے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15043</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اس کے بعد جوتے مرمت کرنے کے لئے جگہ جگہ ڈھیر سارے مراکز کھولے جائیں گے جہاں صرف عام آدمی کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ پرانا مالک یا اس کا کوئی وفادار ان مراکز کے قریب سے بھی نہیں گزرے گا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%aa/">یومِ نجات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">زندگی اس جوتے کی مانند ہے جو ایک انسان کو صرف ایک بار ہی ملتا ہے، اسے واپس یا تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور ضروری نہیں کہ یہ انسان کی پسند کا بھی ہو۔ بس مل گیا تو مل گیا، اب اسی کو پہننا ہے۔ ہاں شکایت تو کی جاسکتی ہے کہ یہ مجھے لگتا ہے، سائز میں چھوٹا ہے مگر اس کا کوئی حل نہیں نکالا جاسکتا۔ پاﺅں زخموں سے چُور ہوتے ہیں تو بھلے ہوں آپ کے پاس دوسرا کوئی انتخاب نہیں ہے۔ بس جو ہے اسی کو پہنے جاﺅ اور بنانے والے کی تعریفوں کے گن گاتے رہو جس نے تمہیں اتنی ’حسین‘ نعمت سے نوازا ہے۔ اور ہاں اپنی مرضی سے آپ اس جوتے کو اتار کے پھینک بھی نہیں سکتے۔ پاﺅں چُور چُور ہیں مگر آپ نے بدستور یہ بوجھ اٹھانا ہے اور تب تک گھسٹتے گھسٹتے چلتے رہنا ہے جب تک بنانے والا جوتے واپس لینے پر تیار نہیں ہوجاتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">اپنی مرضی سے آپ اس جوتے کو اتار کے پھینک بھی نہیں سکتے۔ پاﺅں چُور چُور ہیں مگر آپ نے بدستور یہ بوجھ اٹھانا ہے اور تب تک گھسٹتے گھسٹتے چلتے رہنا ہے جب تک بنانے والا جوتے واپس لینے پر تیار نہیں ہوجاتا۔</div>
<div class="urdutext">اکثر لوگ یہ شکایت کرتے رہتے ہیں کہ جوتا ان کے ناپ کا نہیں ہے، کاٹتا ہے، تکلیف دیتا ہے مگر کیا جاسکتا ہے لاکھ باتیں بنا لیں اصل اختیار تو بس بنانے والے کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چاہے گا تو آزادی ملے گی اور جب چاہے گا تب ملے گی۔ مُکتی دینے والا صرف وہی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے جوتا اتارنے والے بھی سن لیں کہ ایسا کرنے میں تکلیف بھی زیادہ ہوگی اور پھر جوتے تیار کرنے والی فیکٹری کے مالک نے بھی ڈرایا ہوا ہے کہ میرا دیا ہوا جوتا میری مرضی کے بغیر اتار کے پھینکا تو سخت سزا ملے گی۔ اس مالک کے بارے میں سب سے کمال کی بات یہ ہے کہ اسے کبھی کسی نے دیکھا نہیں ہے مگراس کے احکام سینہ بہ سینہ چلتے رہتے ہیں اور ہر زمانے میں وہ اتنا ہی باخبر ہے جتنا پہلے دن تھا۔ مگر نہ جانے سامنے نہ آنے میں کیا مصلحت ہے۔ کبھی تو دیکھتا کہ اس کے بنائے ہوئے بن ناپ کے جوتے کس قدر تکلیف دیتے ہیں۔ لیکن سنا ہے وہ سب دیکھتا ہے۔ وہ سب دیکھتا ہے تو یہ حال ہے اللہ جانے وہ نہ دیکھتا ہوتا تو لوگوں کا کیا ہوتا!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس مالک سے ڈرتے ہوئے اور اس کے غضب سے خوف کھاکر ہر جگہ فلاح انسانیت کے ٹھیکے داروں نے ہرکارے تعینات کر رکھے ہیں جو اس بات کی نگرانی کرتے ہیں کہ کوئی اپنی مرضی سے یہ جوتا نہ اتار سکے۔ ایسی کوشش کرنے پر سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ ایک عام آدمی اکثر سوچتا ہے کہ ایسا پنجر جس میں سرے سے پاﺅں اٹھانے کی بھی ہمت نہیں ہے وہ جوُتا کیونکر اور کیسے اٹھائے گا۔اسے اتار کے پھینک دینا چاہیئے مگروہ سوچتا ہے ان دیکھی سزا سے بہتر ہے دیکھی سزا ہی بھگت لیتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خوف سے بھرے اس ماحول میں اگر کسی نے ہمت کر کے یا یوں سمجھ لیجئے کہ ہمت ختم ہونے پر اپنے آپ کو اس قید سے آزاد کرا لیا تو اس کی مثالیں اس طرح دی جاتی ہیں؛ فیکٹری مالک آزاد ہونے والے شخص کو آگ کے بڑے ڈھیر میں پھینکے گا، کوڑے مارے گا، ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سن کر ایک مرتبہ پھر زندہ رینگنے والے لوگ آزادی سے نفرت کرنے لگتے ہیں، ان دیکھی سزا کا خوف ان پر حاوی ہوجاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ بھائی لوگ فلاح اسی میں ہے کہ رینگتے رہو مگر شکایت نہ کرو کیونکہ شکایت کرنا تو ناشکروں کا کام ہے۔ اس کا احسان مانو اور آئندہ ایسی آزادی کی خواہش اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دینا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">یہ سن کر ایک مرتبہ پھر زندہ رینگنے والے لوگ آزادی سے نفرت کرنے لگتے ہیں، ان دیکھی سزا کا خوف ان پر حاوی ہوجاتا ہے اور وہ سوچتے ہیں کہ بھائی لوگ فلاح اسی میں ہے کہ رینگتے رہو مگر شکایت نہ کرو کیونکہ شکایت کرنا تو ناشکروں کا کام ہے۔</div>
<div class="urdutext">بعض پاﺅں میں تو جوتا اس بُری طرح سے چُبھ رہا ہوتا ہے کہ دیکھنے والے کا بے اختیار جی چاہتا ہے وہ اسے اتار پھینکے اور اپنے ساتھی کو اس عمر قید سے آزاد کرا دے تاکہ پہلی بار اپنی مرضی سے ایک آزاد پنچھی کی مانند کھلے آسمان میں غوطے لگا سکے۔ ایک عام آدمی یہ سب کچھ دیکھتا اور محسوس کر لیتا ہے مگر حیرت ہے فیکٹری مالک اس سے مکمل غافل رہتا ہے۔ ترجیحات کا بھی تو فرق ہوتا ہے نا، ہوسکتا ہے وہ کہیں دوسری جگہ مصروف ہو!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایسا کوئی یقین سے تو نہیں کہہ سکتا مگر امکان ہے کہ کسی روز جب یہ فیکٹری کسی عام آدمی کے ہاتھ میں آئے گی تو وہ سب سے پہلے پرانے مالک کو کٹہرے میں لاکھڑا کرے گا اور اس کے ہاتھوں کیے گئے مظالم کا حساب ضرور مانگے گا۔ نئے مالک کے ساتھ ہی ایک تبدیلی یہ بھی آئے گی کہ جوتا صرف اسی کو پہنایا جائے گا جو اس کی خواہش ظاہر کرے گا۔ ٹھیک ٹھیک ناپ والے جوتے تیار کئے جائیں گے اور جوتوں کی بے دریغ پیداوار کی بجائے صرف اتنے ہی جوتے تیار ہوں گے جتنے پیروں کی بعد میں خبربھی رکھی جاسکے۔ یہ جوتے پہننے والا کوئی پاﺅں بے آسرا نہیں چھوڑا جائے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کے بعد جوتے مرمت کرنے کے لئے جگہ جگہ ڈھیروں مراکز کھولے جائیں گے جہاں صرف عام آدمی کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ پرانا مالک یا اس کا کوئی وفادار ان مراکز کے قریب سے بھی نہیں گزرے گا۔ کسی کے جوتے میں تھوڑی بہت گنجائش ہوتی ہے تو ان مراکز سے ٹھیک کروائے جا سکتے ہیں اور سب سے خوش آئند تبدیلی یہ آئے گی کہ اگر کسی کو جوتا پسند یا پورا نہیں آرہا تو وہ اسے اپنی مرضی سے اتار کے پھینک سکتا ہے۔ عام اعلان ہوگا کہ اسے کسی آگ میں نہیں جھونکا جائے گا اور نہ ہی اسے کوڑے مارے جائیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے یقین ہے اگر ایسا ہو جائے تو اس دن لوگ ’نیا مالک زندہ باد‘ کے نعرے لگائیں گے اور ہر کوئی یوم نجات منائے گا۔</div>
<p>Image: Three Pairs of Shoes by Vincent Van Gogh</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%aa/">یومِ نجات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%8c%d9%88%d9%85%d9%90-%d9%86%d8%ac%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
