<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>جاذب رومی, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/jazib-romi/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 00:02:08 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>جاذب رومی, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جاذب رومی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Mar 2016 08:10:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Mumtaz Qadri]]></category>
		<category><![CDATA[عشق رسول]]></category>
		<category><![CDATA[ممتاز قادری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15520</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے". میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/">خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">میرے ہاتھ کی سختی آئی تھی کہ جسے احمد کمال (فرضی نام) کے ہاتھ میں دے بیٹھا۔ ممتاز قادری کے سچے عاشق چار دن سے میری پوسٹیں فیس بک پہ پڑھ رہے تھے لیکن خاموش تھے کہ ٹائپنگ سے انہیں چڑ ہے اور شائد یہ بھی سوچا ہو کہ اگلا منہ متھے تو لگتا ہی ہے تو گلے لگ کے گلہ کر لیں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">“ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا</div>
<div class="urdutext">ہاتھ ملانا کیا تھا، دست درازی تھی۔ مٹھی میں انگلیاں بھینچ کر یلکخت اپنی طرف جو کھینچا تو بدن کے ہالے کی حد پار کر آئے۔ آنکھوں سے آنکھیں ٹکرائیں تو ان کے دیکھنے کا انداز غیر مانوس معلوم ہوا۔ صورتحال ابھی غیر واضح تھی کہ ایک سپاٹ آواز سماعت سے ٹکرائی۔ “ممتاز قادری کے بارے میں بہتر یہی ہے کہ خاموشی اختیار کی جائے کیونکہ وہ اس دنیا میں نہیں رہے۔ اب یہ اللہ کا معاملہ ہے”. میں نے پوچھا کیا یہی اصول سلمان تاثیر پر لاگو نہیں ہوتا کہ وہ بھی اللہ ہی کے پاس ہیں”۔ انہوں نے لہجے کو مزید کرخت کر لیا اور ثابت کرنے لگے کہ سلمان تاثیر گستاخِ رسول تھا اور اس کا قتل بالکل جائز تھا۔ ان کی تشدد مائل نگاہوں اور سنسنی خیز اداؤں کے آگے میرے فیس بکی دلائل یکے بعد دیگرے دم توڑتے گئے اور کچھ ہی دیر میں میں ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پچھلی عید قربان کے موقع پر بھی میں ایک ایسی ہی نازک صورتحال سے دو چار ہوا تھا جب دوستوں کے بیچ سرِ بازار بیٹھا ایک غیر رسمی گفتگو کے دوران بکروں کی ٹھوڑی کے بالوں کے لیے نادانستگی میں ڈاڑھی کا لفظ استعمال کر گیا، جسے شعائرِ اسلام کی تضحیک قرار دے کر ایک باریش عزیز ایسے بپھرے کہ “میں بھی سہم گیا انہیں خونخوار دیکھ کر”۔ رمشا میسح والا واقعہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا جس نے نعت کا لفظ لکھتے ہوئے “ن” کا نقطہ “ع’ کے اوپر لکھ دیا تو نوبت اس معصوم کا گھر جلانے تک جا پہنچی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">حامیانِ “عشق گردی” فرماتے ہیں کہ یہ ‘عشق’ کے ‘معاملات’ ہیں ان میں عذر و جواز، عقل و فہم، قانون و انصاف اور وضاحت و شہادت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے۔ لیکن جب میں انہی “با خدا دیوانہ و با مصطفی ہوشیار” کے نعرے لگانے والے عاشقان و دیوانگان کو اپنی ذات کے تحفظ کے لیے اٹینشن ہوتے ہوئے دیکھتا ہوں تو الجھ جاتا ہوں کہ یہ کون سی محبت ہے جس میں سب کچھ دوسروں کے ساتھ ہی جائز ہوتا ہے. اور اگر اپنی ذات کا سوال آ جائے تو ساری گنجائشیں پیدا ہو جاتی ہیں. وہ حنیف قریشی جو منبر پر اچھل اچھل کر قانون ہاتھ میں لینے اور گولی کی زبان میں بات کرنے کے دعوے کر رہے تھے، جب قانون کی گرفت میں آنے لگے تو حلفیہ بیان لکھ گئے کہ ان کا ممتاز قادری سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ہمیشہ محبت کا درس دیتے اور دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے عاشق رسول بھائی کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">میرا آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ 2010 میں لاہور کے ایک بازار کے تاجران آسیہ بی بی کی حمایت پر سلمان تاثیر کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کیونکہ گورنر نے آسیہ بی بی کو معافی دلوانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا. لیکن علماء اور عوام کے نزدیک شانِ رسالت میں گستاخی ایسا جرم ہے کہ جس کے ارتکاب کے بعد وضاحت یا معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی (اور جرم کی تصدیق کا معاملہ تو ویسے ہی غیر ضروری چیز ہے)۔ ادھر بازار میں لٹکائے گئے بینرز میں سے ایک پر انتہائی گستاخانہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ غلطی کتابت کی تھی. جملہ یوں لکھا جانا چاہیے تھا کہ ہم “رسول پاک کی ذاتِ اقدس کی توہین کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ لیکن فقرے میں لفظ “کی” کی تکرار کے باعث لکھنے والا چوک گیا تھا اور فقرے میں سے “توہین کی” کے الفاظ حذف ہو گئے. تاجران نے بینر کو بغیر پڑھے آویزاں کر دیا۔ کسی وکیل کے نشاندہی پر جب تاجروں کے علم میں یہ معاملہ آیا تو انہوں نے کوئی نوٹس ہی نہیں لیا۔ بس چپ کر کے بینر اتار دیا اور زور و شور سے نعرے لگانے لگے “گستاخِ رسول کی سزا، سر تن سے جدا”. چند دن بعد گورنر تاثیر کو قتل کر دیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سو آج جب بحث کے دوران ایک آدھ بار دل میں خیال آیا کہ اپنے احمد کمال کو کھری کھری سنا دیں تو یہ سوچ کر چپ ہو رہے کہ جو کچھ طالبان اور داعش لا الہٰ الا اللہ کے نام پر کرتے ہیں، وہی سب یہ عشاق محمد الرسول اللہ کے نام پر کر گزرتے ہیں۔ اور پھر ہم کونسا جنید جمشید جیسے باریش، ٹخنوں سے اونچی شلوار والے ہیں کہ ہماری معافی قبول ہو گی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/">خداوندا یہ تیرے سادہ لوح بندے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%af%d8%a7%d9%88%d9%86%d8%af%d8%a7-%db%8c%db%81-%d8%aa%db%8c%d8%b1%db%92-%d8%b3%d8%a7%d8%af%db%81-%d9%84%d9%88%d8%ad-%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کرپشن اور ذاتی مفاد</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%81%d8%a7%d8%af/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%81%d8%a7%d8%af/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جاذب رومی]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 23 Feb 2016 09:30:05 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Corruption]]></category>
		<category><![CDATA[Corruption and ethics]]></category>
		<category><![CDATA[Corruption and Society]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن اور اخلاقیات]]></category>
		<category><![CDATA[کرپشن اور معاشرہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15217</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">رشوت لینے والے ہر انسان کو اپنے ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ اعتراف کرنا ہوتا ہے کہ وہ ایک گھٹیا، بزدل، کم ہمت اور کمزور ارادے کا مالک انسان ہے جو اخلاقی اور قانونی دائرے میں رہتے حالات کی مجبوریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%81%d8%a7%d8%af/">کرپشن اور ذاتی مفاد</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">زندگی محبوب ایسی دیدہء قدرت میں ہے<br>
ذوقِ حفظِ زندگی ہر چیز کی فطرت میں ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">جناب اگر کرپشن سے آپ اپنی ذات کا تحفظ، اپنی ضروریات کی تسکین اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے خواب کو پورا کر سکتے ہیں تو میری نظر میں یہ کرپشن دنیا کے ہر قانون اور ہر شریعت میں بالکل جائز ہے۔</div>
<div class="urdutext">شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا یہ شعر ایک ایسی آفاقی حقیقت کا اعتراف ہے کہ جس کے سامنے دنیا کے تمام آئین، تمام ضابطے، تمام آسمانی احکامات، تمام اخلاقی سفارشات اور تمام مذہبی شریعتیں سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور ہیں۔ ذات کا تحفظ ایک ایسا قانون ہے جو دنیا کے ہر قانون سے مقدم ہے۔ بقا کی جنگ وہ جنگ ہے جو ہر حال میں جائز ہے۔ تحفظِ ذات کا سوال ہو تو جھوٹ جائز، چوری جائز، قتل جائز، کفر جائز، شرک جائز۔۔۔۔۔۔۔ غرض انسان سبھی کچھ خود پر جائز سمجھ لیتا ہے۔ اپنے دفاع کی راہ میں حائل ہونے والی ہر روکاوٹ بے معنی ہے۔ یہ وہ مجبوری جس کے پیشِ نظر بڑے سے بڑا قانون توڑنا روا خیال کیا جاتا ہے اور بڑے سے بڑے گناہ کا ارتکاب کرنا حلال سمجھا جاتا ہے۔<br>
سو جب ایک پولیس اہلکار نے سرِ عام رشوت کا مطالبہ کرنے کے بعد خجالت آمیز لہجے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی اچھی زندگی گزارنے کا حق ہے تو میں یہ بات کہنے پر مجبور ہو گیا کہ جناب اگر کرپشن سے آپ اپنی ذات کا تحفظ، اپنی ضروریات کی تسکین اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے خواب کو پورا کر سکتے ہیں تو میری نظر میں یہ کرپشن دنیا کے ہر قانون اور ہر شریعت میں بالکل جائز ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے یقین ہے کہ اس پولیس والے کی طرح آپ سب کو بھی میری یہ دلیل بے حد عجیب اور بے بنیاد لگی ہو گی جس کے رد میں تقریریں کی جا سکتی ہیں اور لفاظیوں کا ڈھیر کھڑا کیا جا سکتا ہے لیکن یقین مانیے کہ یہ بات پورے دن کے سورج کی طرح سچ ہے۔ بھلے ہم کھلے عام اس حقیقت کا اعتراف نہ کریں، بھلے ہم اپنے غیر قانونی رویوں کے لیے معذرت خواہانہ انداز اختیار کریں، بھلے ہم لاکھوں بار محفلوں میں اس مذہبی ٹیپ کے مصرعے کی گردان کریں کہ انسان نے اپنے ساتھ کچھ نہیں لے کے جانا لیکن ذات کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کرپشن کے جائز ہونے کی دلیل ہر اس پاکستانی کے لیے عام فہم اور دل میں اتر جانے والی ہے جو جانتا ہے کہ اگر اس کے بچوں کے سر پر چھت نہیں ہو گی تو وہ رل جائیں گے۔ وہ پاکستانی جسے ماں کی دوا خریدنی ہے، بچوں کی فیس دینی ہے، گھر کا کرایہ ادا کرنا ہے اور بل اتارنے ہیں۔ وہ پاکستانی جو دفتروں میں سائلوں سے رشوت مانگتا ہے اور وہ جو عدالتوں میں پیشیوں پر اہلکاروں کی جیب گرم کرتا ہے، وہ پاکستانی جو بجلی کا بل زیادہ آنے پر میٹر پیچھے کرواتا ہے اور وہ جو بجلی کی تاروں پر کنڈے ڈلواتا ہے، وہ پاکستانی جو سردیوں میں گیس کی کمی ہونے پر غیر قانونی کمپریسر لگواتا ہے اور وہ جو چالان کرنے کی بجائے موقع پر جرمانہ کے نام پہ رشوت لیتا ہے۔۔۔۔۔لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بقاء کی جنگ کہاں ختم ہوتی ہے اور سہولت اور تعیش کا حرص کہاں سے شروع ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">رشوت لینے والے ہر انسان کو اپنے ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ اعتراف کرنا ہوتا ہے کہ وہ ایک گھٹیا، بزدل، کم ہمت اور کمزور ارادے کا مالک انسان ہے جو اخلاقی اور قانونی دائرے میں رہتے حالات کی مجبوریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔</div>
<div class="urdutext">رشوت لینے والے ہر انسان کو اپنے ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر یہ اعتراف کرنا ہوتا ہے کہ وہ ایک گھٹیا، بزدل، کم ہمت اور کمزور ارادے کا مالک انسان ہے جو اخلاقی اور قانونی دائرے میں رہتے حالات کی مجبوریوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ضمیر کی یہ خلش اس نوجوان اہلکار کے جھکے ہوئے سر اور نظریں چرانے کے انداز سے واضح تھی. جب میں نے اس سے کہا کہ وہ کرپشن جو آپ کے ذاتی مفادات کا تحفظ کر سکتی ہے، بالکل جائز ہے تو اس نے غیر یقینی انداز سے میری طرف دیکھا۔ “لیکن صرف ایک لمحے کے لیے اپنے ذاتی مفادات کا ازسرِ نو تعین کر لیجیے”۔ میری بات ابھی جاری تھی۔ “ایک دفعہ پھر اپنی مادی خواہشات کی اس فہرست کا جائزہ لے لیں جنہیں حاصل کرنے کے لیے آپ رشوت لینے پر آمادہ ہیں۔ گھر، جائیداد، کاروبار، گاڑی، سہولتیں، آسائشیں، خوشحالی، سیکیورٹی، پانی، بجلی، گیس، تعلیم، صحت، امن، انصاف اور اب اس فہرست میں ان اشیاء کی نشاندہی کریں جو آپ اپنے پیسوں سے خریدیں گے اور پھر ان سہولتوں کا بھی تعین کریں جو آپ خرید نہیں سکتے بلکہ جو صرف آپ کا معاشرہ ہی آپ کو مہیا کرسکتا ہے. آپ کو گاڑی چاہیے، لیکن آپ کو سڑک بھی تو چاہیے۔ کرپشن کر کے آپ گاڑی تو لے لیں گے لیکن آپ سڑک نہیں بنوا سکیں گے۔ گاڑی نہ ہوئی تو کام چل جائے گا لیکن سڑک نہ ہوئی تو کام نہیں چلے گا۔ آپ کو گرمیوں میں اے سی چاہیے، لیکن آپ کو بجلی بھی تو چاہیے، اے سی نہ ہو تو کام چل جائے گا لیکن بجلی نہ ہوئی تو بہت مشکل ہو جائے گی کیونکہ کرپشن کے پیسوں سے آپ اے سی تو خرید لیں گے لیکن ڈیم نہیں بنوا سکیں گے۔ آپ کرپشن کے پیسوں سے ہسپتال نہیں بنوا سکیں گے، آپ اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے سکول کالج اور یونیورسٹی نہیں بنوا سکیں گے۔ کیا آپ پولیس کی ضرورت نہیں ہے، کیا انصاف آپ کی ترجیح نہیں ہے، اپنے ذاتی مفاد پر ایک دفعہ پھر غور کر لیں۔<br>
ہماری ضروریاتِ زندگی کی بہت کم اشیاء ایسی ہیں جو ہم خود کما سکتے ہیں، ہماری زیادہ تر ضروریات کا بوجھ معاشرہ اٹھاتا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک اپنے گھر کو بھرنے کے لیے معاشرے کا برباد کر دینا انتہائی خسارے کا سودا ہو گا۔ اور یہ بھی سوچیے کہ ایسے معاشرے جہاں پیسہ کمانے کے لیے انصاف کا خون کر دیا جاتا ہو وہاں افراد ہمیشہ عدم تحفظ کا شکار رہتے ہیں۔ یہ لوگ پہلے اپنے لیے کماتے ہیں۔ پھر اپنے بچوں کے لیے. پھر ان کے بچوں کے لیے اور بچوں کے بچوں کے لیے اور اسی طرح کماتے کماتے مر جاتے ہیں لیکن انہیں تحفظ، سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہوتا”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ہماری زیادہ تر ضروریات کا بوجھ معاشرہ اٹھاتا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ایک اپنے گھر کو بھرنے کے لیے معاشرے کا برباد کر دینا انتہائی خسارے کا سودا ہو گا۔</div>
<div class="urdutext">ذرا ان معاشروں کی طرف دیکھیے جہاں کبدعنوانی کا چلن عام نہیں، کیا وہ لوگ ہم سے زیادہ خوشحال نہیں؟ کیا وہ اپنے معاشرے کے لئے قربانی دیتے رہتے ہیں؟ کیا ان لوگوں کو اپنا فائدہ عزیز نہیں ہے؟ نہیں جناب۔ بلکہ وہ لوگ اپنے ذاتی نفع نقصان کو ہم سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں اور اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ معاشرے باہمی مفاد کے اصول پر قائم ہوتے ہیں اور کرپشن دوسروں کی نہیں بلکہ اپنی جیب کاٹنے کا نام ہے۔ ہمارے معاشرتی اثاثے، ہمارے ادارے، ہماری سڑکیں، ہمارے اسپتال، ہمارے سکول، ہمارے ڈیم، ہماری ٹرینیں اور ہمارے جہاز، یہ سب ہمارے گھر کی چار دیواری کی محدود اور عارضی دنیا کی نسبت بہت زیادہ قیمتی ہیں۔ لیکن ہم وہ بیوقوف ہیں جو ماتھے پر گولی کھا کہ شکر کرتے ہیں کہ آنکھ بچ گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دس سال. صرف دس سال ہم اپنے معاشرے کو اپنی ترجیح بنا لیں۔ ایمانداری اور فرض شناسی کو اپنا شعار بنا لیں۔ دس سال ہمارے سیاستدان اور سرکاری افسران اپنے گھر کی فکر کو پسِ پشت رکھ کر اپنے اداروں کو بہتر کر لیں۔ دس سال ہمارے تاجر، استاد اور ڈاکٹر ایمانداری سے اپنے فرائض انجام دے لیں۔ دس سال ہماری پولیس اور عدالتیں رشوت لینا چھوڑ دیں۔ صرف دس سالوں میں ہم اپنے گھر اور معاشرے میں وہ سب کچھ حاصل کر لیں گے جو ہماری تین نسلیں ستر سال کرپشن کرنے کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%81%d8%a7%d8%af/">کرپشن اور ذاتی مفاد</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d8%b1%d9%be%d8%b4%d9%86-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%85%d9%81%d8%a7%d8%af/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان میں عشق و محبت کی بدلتی ہوئی اخلاقیات</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[جاذب رومی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Feb 2016 23:01:27 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Changes in Morality]]></category>
		<category><![CDATA[Love and Mysticism]]></category>
		<category><![CDATA[Love and Pakistani culture]]></category>
		<category><![CDATA[Pakistani Culture abd Morality]]></category>
		<category><![CDATA[Sex and Pakistani morality]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی ثقافت اور اخلاقیات]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافتی تغیر]]></category>
		<category><![CDATA[جنسی تعلق اور پاکستانی ثقافت]]></category>
		<category><![CDATA[محبت اور تصوف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14963</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حجاب و نقاب اور ڈاڑھی کے مذہبی استعارے مغربیت کی رد میں مقبول ہو رہے ہیں لیکن پرانی نسل کے لیے یہ چراغِ روایت کی آخری ہچکیاں ہیں کیونکہ اخلاقیات اقتصادیات کے آگے ہمیشہ ہتھیار ڈالتی آئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d9%84/">پاکستان میں عشق و محبت کی بدلتی ہوئی اخلاقیات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="left2pullquote">خاموشی محبت کی ثقافت تھی، لیکن اس خاموشی کے پردے میں موجزن جذبات کا بیکراں طوفان پرانی اخلاقیات کی شکستہ ناؤ کو ریخت کے تھپیڑوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا۔</div>
<div class="urdutext">“میڈا عشق وی تو میڈا یار وی تو” دھیمی آواز میں بجتا ہوا، پٹھانے خان کی کہنہ آواز میں فرید کا صوفیانہ کلام، محبوب کے لئے دین، ایمان، کعبہ، قبلہ، فرض فریضے اور حج زکوۃ کے استعاروں کی تمہید باندھ کر سرخی، بیڑہ، پان، حسن، شرم اور بھاگ سہاگ جیسی معاملہ بندیوں تک پہنچ رہا ہے۔ مذہبی استعاروں کو چھان لیجیے تو زمینی محبت کا ایک سادہ اور دل پذیر گیت سامنے آ جائے جو عاشق کے دلِ بے قرار کی سپردگی کی چاہ کا بے طرح اظہار ہے۔ معبود کے پردے میں معشوق سے والہانہ عشق کا اظہار کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زرعی دور کے سادہ دل کسانوں کی رنگا رنگ دیہاتی فضا، امن و عافیت سے عبارت، گھر بار کی مرکزیت پر مبنی، شادی بیاہ، تولید و پرورش، مضبوط خانگی رشتوں اور رسموں رواجوں میں گندھی ہوئی دل آویز فضا، جس میں ہمارے اجداد کی اخلاقی اقدار پروان چڑھیں۔ اس معاشرے کی بقا، اور اس معاشرے میں فرد کی بقا کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ شادی سے پہلے اور بعد کے غیر ازدواجی جنسی تعلقات پر پابندی عائد کی جائے۔ چنانچہ دوشیزگی و کنوار پن مقدس اور عشق و محبت کے تعلقات برائی قرار پائے۔ زرعی دور میں محبت کی قابلِ قبول اخلاقیات بہن کے لیے غیرت، بیٹی کے لیے حفاظت اور بہت ہو گیا تو محبوبہ کے لیے پاکیزگی اور عزت کے جذبے سے آگے نہیں بڑھتی تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن وہ نغمہءِ عشق جو اوائل جوانی کی ہمرکاب جسمانی تبدیلوں کے حیرت کدہ سے گزرتے ہر نوجوان کی روح کے تاروں کو جھنجھوڑنے لگتا ہے، محبت کے اس گیت نے اپنا راستہ صوفیانہ کلام میں ڈھونڈ لیا۔ “اول حمد ثناء الہی” کا راگ الاپ کر آغاز لینے والی داستانِ عشق، جوانی کی گناہ کرنے کی لذت اور بڑھاپے کی نصیحت کرنے کی رغبت دونوں کے لیے بیک وقت تسکین کا سامان بن گئی۔ زندگی کی طرح محبت بھی اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتی ہے سو عشقِ حقیقی کے پردے میں “سچی” محبت نے مرزوں اور رانجھوں کو ہیرو اور کیدو بزرگواروں کو ولن کا روپ دے ڈالا تاہم آشنائی اور یاری کے رشتے معتوب ہی رہے۔ جلد ہو جانے والی شادی یا تو محبت کے حصول کا ذریعہ بن جاتی، یا نہ بھی بنتی تب بھی خانگی زندگی کی نت نئی ذمہ داریاں اور کثرتِ اولاد کی خواہش زیادہ عرصہ تک عاشقوں کو آہیں بھرنے نہ دیتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">اکیسویں صدی کمیونیکشن انقلاب کی نقیب بن کر آئی تو محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے کوچہءِ یار میں دن سے رات کرنے والوں کی بن آئی۔</div>
<div class="urdutext">اخلاقیات کی بنیاد آسمانی نصیحتوں پر کم اور زمینی حقیقتوں پر زیادہ ہوتی ہے۔ وقت و حالات اخلاقیات کو بدل دیتے ہیں اور دیہاتوں کی نسبت شہروں میں وقت بہت تیزی سے بدلتا ہے۔ نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ہماری اس وقت کی نئی نسل عنفوانِ شباب کے ہیجان خیز مراحل سے گزر رہی تھی تو اس وقت محبت کے بارے میں مڈل کلاس اخلاقیات زرعی دور کی پابندیوں کی باقیات کو نبھانے میں کوشاں تھی، باپ کی گھر واپسی پر ٹیپ ریکارڈر اور ریڈیو بند کر دئیے جاتے تھے، ٹیلی ویژن ڈراموں میں کبھی کبھار ہونے والا محبت کا اظہار ایک ساتھ بیٹھے خاندان کے بزرگوں اور نوجوانوں کے لیے یکساں بے سکونی اور خجالت کا باعث بن جاتا تھا۔ خاموشی محبت کی ثقافت تھی، لیکن اس خاموشی کے پردے میں موجزن جذبات کا بیکراں طوفان پرانی اخلاقیات کی شکستہ ناؤ کو ریخت کے تھپیڑوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا۔ جذبات پر روک لگانے کی کوئی صورت نہ تھی۔ جب لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے یکساں اور لازمی تعلیم کا حق تسلیم کر لیا گیا تو سولہ سترہ سال کی عمر میں شادی کا سوال ہی ختم ہو گیا۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے نقل و حرکت اور آزادانہ فیصلوں کی گنجائش برھنے لگی تو رومانی تعلق کے لیے بھی برداشت بڑھی۔ چنانچہ چھتوں سے پتھر باندھ کر محبت نامے پھینکے جانے لگے اور ٹیلی فونوں پر رانگ نمبروں کی گھنٹیاں گونجنے لگیں۔ مائیں بیٹیوں کی ہمراز بننے لگیں اور باپ اور بھائی صرفِ نظر برتنے لگے۔ عشق نے جوانیوں کو فتح کرنا شروع کر دیا تھا لیکن بے حجابانہ اظہار اور سرِعام ملاقاتیں تب بھی قابلِ دست اندازی جرائم تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اکیسویں صدی کمیونیکشن انقلاب کی نقیب بن کر آئی تو محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے کوچہءِ یار میں دن سے رات کرنے والوں کی بن آئی۔ کیبل اور انٹرنیٹ نئے انداز اور نئی آزادیوں کے بیج بونے لگے۔ ہندوستانی پروگرام دیکھ کر آشکار ہوا کہ محبوب کو بھائی یا کزن کی بجائے بوائے فرینڈ کہہ کر بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن تکمیلِ تمنا کی منزل ابھی بھی چھپ چھپ کے ملاقاتیں یا وہ شادی ہے جس کی اوسط عمر شہروں میں تیس برس سے کچھ ہی کم ہے۔ پاکستانی شہری مڈل کلاس مخالف جنسوں کی باہمی دوستیوں کی عادی ہو تو رہی ہے لیکن “لیو ان ریلیشن” ابھی بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ پیار کرنے والوں کو قبول تو کر لیا گیا ہے لیکن گھروں میں داخل نہیں کیا گیا۔ عورتیں ہر شبعہءِ زندگی میں مردوں کے مساوی حیثیت کے حصول پر پوری طرح کمربستہ ہیں لیکن ان کے لیے گھر کی مرکزیت ابھی بھی قائم ہے۔ حجاب و نقاب اور ڈاڑھی کے مذہبی استعارے مغربیت کی رد میں مقبول ہو رہے ہیں لیکن پرانی نسل کے لیے یہ چراغِ روایت کی آخری ہچکیاں ہیں کیونکہ اخلاقیات اقتصادیات کے آگے ہمیشہ ہتھیار ڈالتی آئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d9%84/">پاکستان میں عشق و محبت کی بدلتی ہوئی اخلاقیات</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%b4%d9%82-%d9%88-%d9%85%d8%ad%d8%a8%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
