<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>حسنین جمال, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/husnain-jamal/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 14:49:31 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>حسنین جمال, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بندے علی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%b9%d9%84%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%b9%d9%84%db%8c/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حسنین جمال]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Aug 2016 20:02:44 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Husnain Jamal]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu literature]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[افسانہ، اردو ادب، اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[حسنین جمال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17240</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">حسنین جمال:  سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%b9%d9%84%db%8c/">بندے علی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">وہ یہاں کب سے تھے یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ امانی اورماما حسن باندی بتاتی تھیں کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر ادھر آ بسے تھے۔ منہ لمبا ساتھا اور رنگ شائد آبنوسی ہی ہو گا۔ لمبے، ایک ہیولے کے جیسے، ہر وقت غیر محسوس طریقے سے گھر کے کام سنبھالے رہتے تھے۔ ہمشیر، بھائی اور میں اکٹھے سکول کے لیے نکلتے تھے، وہ اُس وقت ایک پھِرکی کے جیسے سارے گھر میں گھومتے پھِرتے۔ ہمشیر نے انڈا اُبلا ہُوا کھانا ہے، میں خاگینہ لے کر جاؤں گا، بھائی توس پر ملائی اور شہد لگائیں گے، مُجھے پانی کی جگہ ساتھ لے جانے کے لیے شربت دینا ہے سب کچھ اُنہیں ازبر تھا۔ لو بھئی سب نے کھانا کھا لیا چلو اپنے اپنے بستے لا کر دو مجھے، نا بیٹا مجھے دو، خود نہیں اُٹھانا، چار بستے کاندھوں پر لٹکائے لشٹم پشٹم وہ ہمارے پیچھے پیچھے چلتے آتے۔ہمشیر اپنے سکول کی گاڑی میں سب سے پہلے روانہ ہوتیں،پھر میں اپنے سکول، آخر میں بھائی کو چھوڑنے خود جاتے۔گھر میں کیا پکنا ہے، کتنا پکانا ہے، بی جان بالکل بے فکر ہوتی تھیں، بھائی کو چھوڑکر وہ خود قریب کے بازار سے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد سبزی پھل لاتے اور چولہے کے ہو جاتے۔ دروازے پر گھنٹی بجی، بی جان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں، دوڑے ہوئے گئے، آنے والے کو بھگتا کر ہانپتے ہوئے آئے کہ سالن کے خیال میں قدم خود بہ خود تیز ہی پڑتے تھے۔ جب تک کھانا بنا کر فارغ ہوتے تو چچا میاں کے مُلاقاتی آنے شروع ہو جاتے، اب اُن کے چاء پانی، نشست و برخواست کے مدار المہام بھی وہی ٹھہرے تو وہ اب یہاں مصروف ہو جاتے۔ وقت ضرور پوچھتے رہتے کہ بھائی کو لے کر بھی آنا ہوتا۔ ہم دونوں کو تو واپسی پہ گھر اُتارا جاتا تھا۔ مُلاقاتیوں کا زور ٹوٹتا تو ہم لوگوں کی واپسی کا وقت ہو جاتااور آتے ہی کھانا پروس دیا جاتا۔ پھر قاری چچا، پھر بھائی کے اُستاد، پھر میرے اُستاد آ جاتے اور سب مارے باندھے کھانے کی میز پر پڑھنے بیٹھے رہتے۔ وہ سب کے لیے چاء کا بندوبست کرتے، سامنے باغ میں پانی دیتے اور پودوں کی کاٹ چھانٹ میں لگے رہتے۔ مغرب کی اذان کے بعد بھائی کا کوئی دوست آتا تو اُسے ڈانٹ کر بھگا دیتے اور مُنہ بسورے بھائی روزانہ تقریباً یہی جملہ سنتے ’بی جان، صاحِبزادے کو بتا دیں کہ شریفوں کی اولاد رات میں گھر پر اچھی لگتی ہے‘۔ شام سات بجے وہ گھر کے پچھواڑے، اپنے کمرے میں چلے جاتے اور نہایت دھیمی آواز میں ریڈیو سنتے رہتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔</div>
<div class="urdutext">معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔ ظہر سے لے کر رات ایک بجے تک گھر کے قریبی عزاخانے میں بیٹھے رہتے، ہر جُلوس میں بطور رضا کارساتھ رہتے، آٹھویں دن جُلوس میں ننگے پیر تپتی زمین پر نشان اُٹھائے آگے آگے ہوتے، جہاں جُلوس رکنا ہوتا وہاں نشان کا بانس پاؤں کے اوپر ٹِکا لیتے کہ نیچے زمین کو لگنے سے بے حُرمتی نہ ہو۔ واپس آ کر سبیل لگائی جاتی، دسویں دن جُلوس میں زنجیرماتم کرتے، گھر آتے تو زخموں پر راکھ اور تیل کا لیپ ہوتا، دو روز اوندھے لیٹے رہتے، سوئم امام سے پھر حاضریاں شروع ہو جاتیں، ہاں، کالا کُرتا سوئم کے بعد اُتار دیتے تھے۔ چہلم تک اُن کے زخم جو ابھی ٹھیک سے بھرے بھی نہ ہوتے دوبارہ زنجیرماتم سے خراب ہو جاتے ۔ بی جان نے کئی بار ہمیں اُن کے کمرے میں بھیجا کہ اُن کا ماتمی سامان ڈھونڈ کر چُھپا دیں لیکن وہ شاید باہر کسی کے ہاں رکھ کر ہی آتے تھے۔ داجان کئی بار اُن سے بحث کرتے لیکن وہ ہر بار جھلّاکر یہی جواب دیتے کہ بھائی جان، قیامت کے دن مولا کو اپنا مُنہ دکھاؤں گا یا مُلّا کا فتوی، کہ زنجیرماتم کے بجائے خون عطیہ کر دو، بھلا بتائیں، مولا کو یہ کہوں گاکہ امّاں، باوا کا دین مولویوں کے کہے سے بدل دیا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">داجان نے ایک دن بندے علی کی کہانی سنائی تھی، لیکن اس شرط پر کہ ہم اُن سے کبھی اس بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔ نواب زمان حیدر خان اپنے وقتوں کے بڑے پرگنہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔ کئی بار لڑائی جھگڑا سر پھٹول کی، ما ں باپ کے کہے میں نہ آتے تھے، رنگا رنگ اسلحہ جمع کیا ہوا تھا لیکن لڑائیاں ہمیشہ خالی ہاتھ لڑے۔ پڑھائی کے بعد باپ کو ایک ہی راستہ نظر آیا اُنہیں سُدھارنے کا، کہ فوج میں بھرتی کروا دیا جائے۔ ماں باپ کے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ جانا نہیں چاہتے تھے کیوں کہ اُن کی نظر میں زمان حیدرکی سات نسلوں کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک دن ماں نے انہیں اپنی قسمیں دے کر راضی کر لیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ فوج میں گئے لیکن نواب زمان حیدرسے اکلوتے بیٹے کا جانا برداشت نہ ہوا اور اگلے ہی مہینے دِل کے معمولی دورے کے بعد بخار میں انتقال فرما گئے۔ اب اِن کی والدہ نے جانے کیامصلحت سمجھی کہ اِنہیں باپ کے مرنے کی اطلاع نہ دی (شاید یہ سوچا ہو کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں گے)، بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر بڑی بہن نے چالیسویں پر خط لکھ مارا جو اُنہیں ایک ہفتے بعد ملا۔ طیش میں آکر اُنہوں نے قسم کھائی کہ جس ماں نے انہیں مرے باپ کا چہرہ نہیں دیکھنے بلایا اس کا مُنہ اُن کے مرنے کے بعد بھی نہیں دیکھیں گے۔ آٹھ دس سال اُنہوں نے فوج میں گُزارے لیکن گھر کا کبھی قصد نہ کیا، بہنیں آتیں، ماں جائے کو مل کر آنکھیں ٹھنڈی کر لیتیں اور پلٹ جاتیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔</div>
<div class="urdutext">بعد میں بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ایک روز داجان ماما حسن باندی، بی جان اورہمشیر کو لے کر ساحلِ سمندر جا رہے تھے کہ بہت بھیانک طریقے سے اُن کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر مار دی، سب لوگ کافی زخمی ہوئے لیکن داجان اور ماما حسن باندی تو بے ہوش ہو چکے تھے۔ ہمشیرکے بازو پر آج بھی وہ زخم کا نشان نظر آتا ہے، خیر، جو لوگ مدد کو دوڑے آئے اُن میں بندے علی سب سے آگے تھے کہ اُدھر ہی آس پاس ہوٹل تھا اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہمشیر کو گود میں اُٹھا کر اُنہوں نے ایمبولینس بُلوائی اور سب کو بھاگم بھاگ اسپتال داخل کرایا۔ تین دن تک کسی کی حالت ایسی نہ تھی کہ ہمشیر کو سنبھالتا، یہ بے چارے وہیں داجان کی پائنتی سے لگے بیٹھے رہتے اور اِس ننھی بچی کو بھی سنبھالتے۔ امانی بی جان کے پاس ہوتی تھیں۔ داجان کے گھر آنے پر یہ اُن کے ساتھ ہی گھر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک بار اُن کی بڑی بہن ملنے بھی آئیں، بہت واسطے دئیے کہ یہ جا کر علاقہ سنبھال لیں مگر وہ بندے علی ہی کیا جو ہٹ کے پکے نہ رہیں۔ ماں کی وفات ہوئی تو بھی یہ چہلم کو دو دن کے لیے گئے اور اپنی ضد نِبھائی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیا تھے اور کیا ہو گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بھائی کی اُن سے بالکل نہ بنتی تھی کہ وہ عمر کے اُس حصے میں تھے جہاں ماں باپ کی لگائی پابندیاں برداشت نہیں ہوتیں کُجا کوئی اور روک ٹوک کرے۔ بندے علی کھیل کودسے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ خود بھی قومی کھیل کے بہت اچھے کھلاڑی رہ چکے تھے اور اُن دِنوں بطور فیصلہ کُنندہ مُلکی سطح کے مُقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن کی روک ٹوک ہوتی کہ فلاں لڑکا تمباکو پیتے دیکھا تھا میں نے، تم اُس سے کیوں مل رہے ہو، بے وقت کہاں جا رہے ہو، گرمیوں میں دوپہر کو آرام کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بھائی کبھی کبھی اُن سے نظر بچا کر نکل بھی جاتے لیکن وہ پھر بی جان اور داجان کے پیچھے پڑ جاتے کہ آپ لڑکے کو بگاڑ کر ہی دم لیں گے اور بھائی کے آنے کے بعد اُن سے بھی دِنوں ناراض رہتے، بھائی، تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اِتنے دِن اور آزادی مناتے۔ آخر ایک دِن بندے علی خود ہی بداؤں کے پیڑے لے آتے جو بھائی کو بہت پسند تھے اور تھوڑا بہت ڈانٹ کر اُنہیں پاس بُلاکر گلے سے لگا لیتے اور کہتے’ارے ماٹی مِلو، تمہی سب نے ہمیں گڑھے میں اُتارنا ہے، چار کندھے بھی پرائے ہوں تو کیا میّت کیا جنازہ‘۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی</div>
<div class="urdutext">اُنہوں نے شادی بھی اِسی لیے نہیں کی کہ آزاد منش اور تھوڑے سنکی تھے اور اپنی طبیعت سے واقف بھی تھے۔ کئی بار بی جان نے کہا، بہنوں نے بھی زور دیا لیکن زیادہ کہنے پر ناراض ہو جاتے اور چپ کر کے باہر نکل جاتے۔ گلی کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، نامعلوم کس بچے نے اُن کی چھیڑ ماضی میں ہوٹلوں پر کام کرنے کی وجہ سے ’انڈاگریوی‘ رکھ دی، اب یہ نکلتے اور کوئی بچہ باہر ہوتا تو آواز لگا کر غائب ہو جاتا اور یہ بے چارے دیر تک چِڑے رہتے اور غصے میں گھومتے رہتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اِس بار بھی سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔ داجان بھاگم بھاگ اسپتال لے گئے، وہاں معلوم ہوا کہ اِن کی کمرکئی بار زخمی ہونے کی وجہ سے ناقابلِ علاج ہے تو مرہم پٹی کروا کے گھر لے آئے۔ بی جان نے بہت ڈانٹا، منع کیا کہ آج کے بعد آپ سب کچھ کریں گے زنجیرماتم نہیں، یہ بھی سر جھکائے سنتے رہے، کمرے میں گئے، تمباکوپیا، اوندھے لیٹے رہے، سو گئے۔ بھائی نے بھی بستر اُٹھایا، خاموشی سے جا کر اُن کے کمرے میں زمین پر بچھا دیا اور لیٹ گئے۔رات کو خون زیادہ بہہ جانے سے دل کا دورہ پڑا، بھائی اور داجان اسپتال لے کر دوڑے، وہاں اُن کی حالت سنبھل گئی اور صبح اُنہیں لے کر آگئے۔ اب اُن کے نکلنے پر پابندی تھی، بھائی بھی چار پانچ دن ڈبڈبائی آنکھیں لیے ان کے آس پاس گھومتے رہے، پھر کالج کُھلے تو بھی آنے کے بعد اُن کے پاس چلے جاتے اور زیادہ وقت وہیں گُزارتے۔ وہ چہلم سے دو دن پہلے نکلے، بازار جا کر ٹرنک کال بُک کرائی، بہنوں کو فون کیا، گھر واپس آتے ہوئے ہم سب کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے لائے (باوجود اِس کے کہ سوگ کے مہینے میں کبھی نئی چیز نہیں خریدتے تھے)، بی جان کے پاس گئے اور ایسے لہجے میں چہلم کے جُلوس میں جانے کی اجازت مانگی کہ اُنہیں دیتے ہی بنی لیکن زنجیر ماتم سے اُنہیں سختی سے منع کیا۔ یہ بھی وعدہ کر کے چلے گئے۔ چہلم کے روز عصر کا وقت تھا، قریبی عزاخانے سے فون آیا اور اِطلاع دی گئی کہ بندے علی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، داجان اور بھائی فوراً دوڑے لیکن بندے علی اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے ‘بی جان کو مت بتانا، بی جان کو مت بتانا’۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%b9%d9%84%db%8c/">بندے علی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%86%d8%af%db%92-%d8%b9%d9%84%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بختک /کابوس</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%ae%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%88%d8%b3/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%ae%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%88%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حسنین جمال]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 03 Aug 2016 06:53:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Husnain Jamal]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Urdu Literature]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<category><![CDATA[اردو افسانہ]]></category>
		<category><![CDATA[جدید اردو ادب]]></category>
		<category><![CDATA[حسنین جمال]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17007</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%ae%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%88%d8%b3/">بختک /کابوس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">میں دوڑتا جا رہا تھا، آگے اور پیچھے کی تمام چیزیں دُھوئیں میں سے نکلتی اور اسی میں غائب ہوتی جا رہی تھیں۔میں نے دوڑتے ہوئے ایک چھلانگ لگائی اور ہوا میں بہت اوپر ہوتا چلا گیا، اوپر سب صاف تھا، نیچے مجھے اپنی رہنے کی جگہ، وہاں کے تمام راستے سب کچھ نظر آ رہا تھا۔ میں مزید اوپر گیا تو یہ سب کچھ بہت چھوٹا نظر آنے لگا۔ اس طرح ہوا میں رہتے ہوئے مجھے کوئی ڈر نہیں لگا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ نیچے گرنے تک کا خوف بھی نہیں تھا، میں بہت آرام سے تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب میں دوبارہ نیچے آرہا تھا، شائد میرا وزن مجھے نیچے لے جا رہا تھا۔ نیچے وُہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔ نیچے دھوئیں کے ساتھ اب سیاہی بھی شامل ہو رہی تھی، شائد مجھے ایسا لگ رہا ہوکہ سیاہی ہے لیکن دھواں بہت زیادہ تھا،اور بالکل ویسا ہی جیسا ٹھنڈے دنوں میں ہماری رہنے کی جگہوں میں ہوتا ہے۔ اپنے آس پاس کچھ نظر نہیں آتابلکہ ایسا لگتا ہے کہ کبھی آئے گا بھی نہیں۔میں نیچے بہت تیزی سے آیا اور جیسے ہی میرے پیر نیچے لگے میں نے دوبارہ اوپر اٹھنے کی کوشش کی اور میں حیران بھی ہوا کہ میں پھر اوپر جاتا چلا گیا۔ یہ بہت اچھا لگ رہا تھا، نیچے اب بھی وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اوپر ہوتے ہوئے میں نے سوچا کہ وہ جگہ دیکھوں جو مجھے کئی بار سوتے میں نظر آتی ہے۔ وہ عجیب سے رنگ کی تعمیر، جو راستے پر چلتے ہوئے دیکھنے سے ایسی لگتی ہے جیسے بہت نیچے، راستے سے ہٹ کر بنی ہوئی ہے، لیکن قریب سے دیکھنے پر ، راستے کے کناروں پر لگی حفاظتی سلاخوں کے پار، جن کا کوئی رنگ نہیں ہے، اُن سلاخوں کے پار دیکھنے پر وہ بالکل راستے کے ساتھ ساتھ ہی بنی لگتی ہے۔ اصل میں راستہ اوپر سے نیچے کی طرف جاتا ہے اور وہ تعمیر بالکل اسی طرح کی ہے جیسے نیچے اترتے ہوئے وہ آپ کے ساتھ ساتھ اترتی رہے۔یہ تعمیر دیکھنے کا خیال آتے ہی میں نے مزید اوپر اُٹھنے کی کوشش کی تاکہ اس کی سمت جان کر اُس کی طرف جا سکوں۔اوپر اتنا اوپر کہ نیچے ہر دیکھی جانے والی چیز اپنی پہچان ختم کر بیٹھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین باقی رہ گئے۔ مجھے اپنا پڑھا ہوایاد آ گیا۔’ہم دیوتاؤں کے نزدیک کیڑوں کے سے ہیں اور وہ ہمیں اپنی تفریح کی خاطر مارتے رہتے ہیں‘۔اتنا اوپر آکر اس پڑھے ہوئے کو آج میں پوری طرح سمجھ پا رہاتھا۔ کسی چیز کی کوئی شکل باقی نہیں تھی اور نہ ہی کوئی خاص ضرورت ۔اور جب یہ سب نہیں تھا تو کوئی بھی چیز ہو یا نہ ہو، اور اگر ہوکر باقی نہ رہے، یا نہ ہو اور ہو جائے، کیا ضروری تھا۔ مجھے حیرت ہوئی جب میں یہاں سے، اتنی اونچائی سے، اس تعمیر اور اس کی وہ سلاخیں دیکھ پایا جن کا کوئی رنگ نہیں تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب میرا وزن دوبارہ مجھے نیچے لے جا رہا تھا۔ میں اپنی مرضی سے اُس تعمیر کے پاس جا رہا تھا۔ سب رنگ دوبارہ الگ ہونے لگے تھے(جب کہ اوپر وہ صرف تین تھے)، نیچے وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔ میں دوڑتا جا رہا تھا اور اس تعمیر کے قریب تھا۔ ایک جگہ جہاں وہ سلاخیں نہیں تھیں وہاں میں اندر داخل ہوا۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی(اوپر سے ایسا نہیں دکھتا تھا)۔ وہاں موجود ہر چیز کا رنگ کوئی نہیں تھا، بالکل ویسا جیسا اُن سلاخوں کا تھا۔ میں تیزی سے ایک کے بعد دوسرے حصے میں جا رہا تھا، دھواں یہاں بھی تھا، بند جگہ ہونے کی وجہ سے کم ہوگا۔ بہت سے حصے تھے، سب ایک جیسے دکھائے جا رہے تھے، اندر جانے کو کچھ نظر نہیں آتا تھا، ایک جگہ کچھ خالی سا تھا، تعمیر نہیں تھی۔ اندر اُس حصے میں اوپر تین گھومنے والے پر تھے، شائد ہوا دینے کے لئے، لیکن وہ جگہ خود گھوم رہی تھی اور پر وں میں کوئی حرکت نہیں تھی، ہوا بہتر تھی، دھواں کم ہوگیا تھا۔ یہاں وقت بھی تھا۔اس لیے ہوگا کہ وقت دکھانے والا ایک آلہ نظر آ رہا تھا، اس کے نیچے لٹکتا ہوا ، نفی میں حرکت کرنے والا حصہ خاموش تھا، غور سے دیکھنے پر وہ جگہ خود دائیں بائیں حرکت کرتی تھی، مگر وہاں سِمت بھی نہیں تھی،یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ یہاں وہ آنے والا تھا جس سے میں دوڑ رہا تھا۔وہی جگہ جہاں کچھ خالی سا تھا، میں اسی میں دوڑا اور باہر نکل آیا۔دھواں ویسا ہی تھا، باہر آکر اندر بہتر محسوس ہوا، لیکن وہ تعمیر گھوم رہی تھی اور جہاں وہ سلاخیں نہیں تھیں، وہ جگہ اب کہیں اور تھی، بہرحال نفی کی حرکت باہر نہیں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب سامنے ایک سواری دکھائی جا رہی تھی۔ دس حرکت کرنے والے گول وجوداُس سواری کی جسامت بتارہے تھے، اُس کا رنگ چیختا ہوا سا تھا، اندر سے باہر دیکھنے کو کئی جگہیں تھیں، ایک جگہ داخل ہونے کو تھی۔ میں دوڑتا ہوا اُس میں سوار ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں وہ بھی تھا جو عمر میں مجھ سے کچھ کم تھا لیکن وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا۔ میرا اُس کا ظاہر ملتا جُلتا تھا، ہمارے پیدا کرنے والے ایک تھے۔ اسے وہاں دیکھ کر مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی (اب ہوتی ہے،اُس کا وہاں کیا کام؟)، اس نے مجھے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا ۔ وہاں بیٹھنے کی بہت سی جگہیں تھیں، وہاں کوئی اور نہیں تھا، یا شائد ہو گا، دکھایا نہ گیا ہو۔ یہاں اب تک وہ بھی نہیں تھا جس سے میں دوڑ رہا تھا۔ سواری کچھ خاص نہیں تھی اندر سے، اتنی بھی نہیں کہ کچھ یاد رہ جاتا۔ حرکت شروع ہو گئی۔ میں وہاں تھا جہاں اندر سے باہر دیکھنے کو جگہ تھی۔ وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا،کوئی بات نہیں کر رہا تھا، میں چاہ رہا تھا کہ میں کوئی بات کروں لیکن بات کرنے کی جگہ حرکت نہیں کرتی تھی۔ شائد اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔ بات کرنے کو وہاں کچھ تھا بھی نہیں، یہ سب کچھ پہلے بھی کئی بار دکھایا گیا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جہاں میں بیٹھا تھا وہاں حرکت بہت آہستہ محسوس ہو رہی تھی، مجھے اُلجھن ہونے لگی۔ میں نے برابر میں دیکھا، وہ مطمئن تھا۔ شائد اُس کی طرف حرکت تیز تھی۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا، ایک ہی حرکت کرتی ہوئی سواری میں موجود ہوتے ہوئے اُس کی اور میر ی حرکت میں فرق کیسے ہو سکتا تھا۔ اُس کو دیکھ کر بہرحال یہ لگتا تھا کہ وہ مطمئن ہے۔ میں باہر دیکھنے کو مُڑا، باہر سب کچھ آگے کی طرف دوڑ رہا تھا، تمام رنگ جو الگ الگ تھے، آگے کو دوڑ رہے تھے۔ میں مطمئن ہو کر بیٹھ گیا(اس وقت رنگ اور چیزیں پیچھے کی طرف دوڑنے کے بجائے آگے کو دوڑ رہے تھے، اور میں مطمئن تھا، اب سوچ کر کچھ عجیب سا لگ رہا ہے۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ بھی اس وقت ایسا ہی مطمئن ہویا شاید اُس کی طرف حرکت اتنی تیز ہو کہ اُسے اندازہ ہی نہ ہو، کچھ بھی ممکن تھا)۔ میں مطمئن ہو کر آرام سے لیٹ گیا اور مجھے نیند آ گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں میں پھر دوڑ رہا تھا۔اور یہاں وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا۔میں دوبارہ چھلانگ لگا کر ہوا میں بہت اوپر ہوتا چلا گیا، اوپر سب صاف تھا، نیچے مجھے اپنی رہنے کی جگہ، وہاں کے تمام راستے سب کچھ نظر آ رہا تھا۔اب کے میں کوشش کر رہا تھا کہ میں نیچے نہ آپاؤں۔ میں ایک رفتار میں سیدھا، وہیں، رہنا چاہ رہا تھا جہاں میں موجود تھا۔خبر نہیں کیسے، مگر یہ ممکن ہو گیا۔ اب اچانک نیچے سب کچھ صاف نظر آ رہا تھا۔ دھواں غائب ہو گیا تھا۔سیاہی تھی لیکن سب چیزیں دکھائی دے رہیں تھیں۔ وہ جگہ جہاں میں نے لفظ جاننا سیکھے وہ نظر آ رہی تھی، رنگ پر سیاہی غالب تھی۔ وہ جگہ جہاں میں اپنے ماں جایوں کے ساتھ گھومتا تھا، جہاں خوب صورت سبز میدان تھے، جہاں ہیبت ناک اونچائیاں تھیں اور اُن میں سے گزرنے کے لیے راستے تھے، جہاں خداؤں کے گھر تھے، جہاں خداؤں کے پیاروں کی یاد منائی جاتی تھی، رنگ پر سیاہی غالب تھی۔ جہاں میرے جیسے اور بہت سے، میرے ساتھ بے مقصد گھومتے تھے، روشنی ہونے سے پہلے بغیر کسی خوف کے نکلتے تھے، روشنی ہونے کے دیر بعد لوٹتے تھے، کوئی مقصد ہونا باہر جانے کے لیے ضروری نہیں ہوتا تھا،اندھیرے کے بعد بھی خداؤں کے پیارے بندوں کے رہنے کی جگہیں کھلی رہتی تھیں، سب نظر آ رہا تھا۔ جہاں اندھیرے کے بعد میں اور میرے جیسے اور بہت سے، صرف بولنے بیٹھا کرتے تھے۔ وہ جگہ جہاں مجھے پیدا کرنے والے صرف کھیلنے لے جایا کرتے تھے (جہاں میں اُن کونہیں لے جا سکتا جو مجھ سے پیدا ہوئے ہیں یا ہوں گے)، وہ جگہ جہاں بہت سے سبز وجود جھومتے تھے اور کئی دوسرے رنگ اُن میں آکر مل جاتے تھے، وہ جگہ جہاں نیلا رنگ نمایاں تھا، جہاں موسم کی سختی کم کرنے میرے جیسے اور بہت سے آجایا کرتے تھے، سب مل کر اُس موسم کا زرد اوراچھے مزے کا پھل کھایا کرتے تھے۔ رنگ ان دنوں صرف تین نہیں تھے، ایک دوسرے سے مل کر اتنے ہو جاتے تھے کہ شمار ممکن نہیں تھا۔ جہاں ایزد بخش، مختلف چھوٹی چیزیں پیسوں کے بدلے میں دینے والابیٹھتا تھا، وہ جگہ بھی نظر آرہی تھی، ایزد بخش نہیں تھا۔ سیاہی بڑھنے لگی تھی، اب سیاہی اتنی بڑھ گئی تھی کہ مجھے نیچے، جس کی وجہ سے میں دوڑ رہا تھا، وہ بھی نہیں دکھتا تھا۔ میں اوپر تھک چکا تھا، اب کچھ دکھتا بھی نہیں تھا، میرا وزن مجھے مسلسل بہت کم رفتار سے نیچے دھکیل رہا تھا۔ جیسے ہی میرے پیر نیچے لگے مجھے لگا کہ جس کی وجہ سے میں دوڑ رہا تھا، میرے سامنے ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری نیند ختم ہو گئی۔ میں نے برابر میں دیکھا، وہ مجھے دیکھ رہا تھا، وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا، اسی سواری میں ہم دونوں وہیں تھے جہاں مجھے نیند آ گئی تھی۔ لیکن اُس کے سر کے بال بہت زیادہ بڑھ گئے تھے، اور سفیدی اُن میں بہت زیادہ تھی، اس کے وجود کی لکیریں ایسے تھیں جیسے وہ عمر میں مجھ سے بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ وہ مجھے ابھی تک دیکھ رہا تھا، شائد میرے بالوں کی سفیدی غائب ہو گئی ہو اور میرے وجود کی لکیریں تن گئی ہوں۔ یہ میرا خیال تھا۔ شائد اُس کی طرف حرکت تیز تھی اور میری طرف رنگ اور چیزیں پیچھے کی طرف دوڑنے کے بجائے آگے کو دوڑ رہے تھے۔ لیکن یہ ممکن نہیں تھا، ایک ہی حرکت کرتی ہوئی سواری میں موجود ہوتے ہوئے اُس کی اور میر ی حرکت میں فرق کیسے ہو سکتا تھا۔ اُس کو دیکھ کر بہرحال یہ لگتا تھا کہ وہ مطمئن نہیں ہے۔ میں نیند میں نہیں تھا لیکن معلوم نہیں کیوں سب ایسا ہی لگ رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سواری رک گئی۔ باہر دھوئیں میں ویسی بہت سی سواریاں دکھائی جا رہی تھیں۔ وہ جو وہیں کا تھا جہاں کا میں تھا وہ مجھ سے مل کر بے سمت چلا گیا۔ یہاں وہی تھا جس کی وجہ سے میں دوڑنے لگا تھا، میں دوڑتا جا رہا تھا، آگے اور پیچھے کی تمام چیزیں دُھوئیں میں سے نکلتی اور اسی میں غائب ہوتی جا رہی تھیں لیکن میں چھلانگ نہیں لگا سکتا تھا، یہ اختیار اب لے لیا گیا تھا۔ میں تھک گیا تھا، میں دوڑتے ہوئے بالکل رک گیا، گھوم کر دیکھا، جس کی وجہ سے میں اندھا دھند دوڑ رہا تھا، وہ اب میرے سامنے تھا۔ وہ میرے جیسے اور بہت سوں جیسا تھا۔ اس کے سر کے بالوں کے بجائے چہرے کے بال بہت زیادہ تھے (شائد سر کے بال نہیں تھے) اور سیاہی غالب تھی، وہ مجھے گرا کر مجھ پر چڑھ بیٹھا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے میرا دم گھونٹ رہا تھا۔ میں چیخ نہیں پاتا تھا، مجھے جھٹکے لگنے شروع ہو گئے۔ وہ تعمیر گھوم رہی تھی۔ یہ حرکت نفی کی حرکت تھی۔ سب رنگ آپس میں مل کر تین بچ گئے۔ اگر ہو کر باقی نہ رہے یا نہ ہو اور ہو جائے، کیا ضروری تھا۔ اُس کا رنگ چیختا ہوا سا تھا۔ بات کرنے کی جگہ حرکت نہیں کرتی تھی۔ وہ جگہ جہاں میں اپنے ماں جایوں کے ساتھ گھومتا تھا۔ ایزد بخش نہیں تھا۔ سیاہی بڑھتی جا رہی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">(در این حالت بھترین روش برای خلاصی از حالت فلج، تمرکز روی حرکت اعضای بدن است. سعی کنید دست ھا و پاھا و انگشتان خود را تکان دھید و حتی پلک بزنید. اگر قادر بہ حرکت بدن خود نیستید، این کار را در ذہن خود القا کنید. تصور کنید کہ سرتان یا بخشی از بدنتان را تکان می دھید. این کار مغز شما را برای فرستادن پیام ھای عصبی فعال می کند. بہ طور کلی سعی کنید وضعیت خروج از بدن را در وجود خود القا کنیدُ۔)</div>
<p>Image: Jordi collell</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%ae%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%88%d8%b3/">بختک /کابوس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%ae%d8%aa%da%a9-%da%a9%d8%a7%d8%a8%d9%88%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%b3-%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%90-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%8c-%da%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%b3-%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%90-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%8c-%da%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[حسنین جمال]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 31 Jul 2016 03:28:24 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Husnain Jamal]]></category>
		<category><![CDATA[Murakami]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[جاپانی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[حسنین جمال]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[موراکامی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16949</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%b3-%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%90-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%8c-%da%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9/">اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">معروف جاپانی مصنف ہاروکی مورا کامی کی کہانی “On seeing the 100% perfect girl one beautiful April morning” کا ترجمہ حسنین جمال نے کیا ہے جسے لالٹین کے قارئین کے لیے شائع کیا جا رہا ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">اپریل کی ایک خوب صورت صبح ٹوکیو کے سب سے فیشن ایبل علاقے ہاروجوکو سے گزرتے ہوئے میں نے وہ لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سچ کہوں تو وہ اتنی حسین دکھنے والی نہیں ہے۔ وہ کسی بھی طرح دوسروں سے الگ نہیں دکھتی۔ اس کے کپڑے بھی کچھ ایسے خاص نہیں ہیں۔ سر کی پچھلی طرف اس کے بال ایسے مڑے ہوئے ہیں جیسے ابھی سو کر اٹھی ہو۔ وہ اتنی کم عمر بھی نہیں ہے۔کم از کم تیس کے قریب ضرور ہو گی۔ تو کل ملا کر کچھ ایسی خاص لڑکی بھی نہیں ہے۔ لیکن میں، پچاس گز دور سے دیکھ کر ہی یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہ لڑکی ہے جو سو فی صد میرے لیے ہی بنی ہے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو میرے سینے سے ایک لمبی سانس نکلی اور میرا منہ خشک تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کسی لڑکی کی خوب صورتی کے لیے ہو سکتا ہے آپ کا معیار کچھ اور ہو۔ جیسے، اس کے پاؤں نازک ہونے چاہییں، یا، کہہ لیجیے کہ اس کی آنکھیں بڑی ہوں، یا پتلی انگلیاں اور یا آپ بغیر کسی خاص وجہ کے، صرف ایسی لڑکیوں میں کشش محسوس کرتے ہوں جو ہر کھانے کے ساتھ مکمل انصاف کرتی ہیں۔ اچھا، اب ظاہر ہے میری کچھ اپنی ترجیحات ہیں۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہو گا کہ میں صرف ایک خوب صورت ناک کے چکر میں سالم لڑکی کو گھورتا ہوا پایا جاوں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن اب یہ کون کہہ سکتا ہے کہ کسی شخص کے معیار کے سو فی صد مطابق پائی جانے والی لڑکی اس سے بالکل ویسے ہی بات چیت کرے جیسے وہ پہلے سے طے کیے بیٹھا ہے۔ کیوں کہ عموماً میری توجہ ہر طرح کی ناک کی بناوٹ پر ہی ہوتی ہے اس لیے میں صحیح طور سے جسمانی نشیب و فراز پر کچھ روشنی نہیں ڈال سکتا۔ اس کا جسم تھا بھی یا نہیں۔ ہاں، جہاں تک یاد پڑتا ہے وہ کچھ خاص خوب صورت نہیں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘کل، سر راہ میں نے ایک ایسی لڑکی دیکھی جو سو فی صد میرے خوابوں کے جیسی تھی’ میں نے کسی سے کہا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘ہیں’، وہ بولا، ‘کیا وہ خوب صورت تھی؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘نہیں، اب ایسا بھی نہیں۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘تو پھر تمہاری کچھ خاص پسند کا معاملہ تھا؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘میں کچھ کہہ نہیں سکتا، بس یوں لگتا ہے جیسے مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ ہو۔ جیسے اس کی آنکھیں کیسی تھیں، یا اس کے حسین جسمانی ابھار کیا تھے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘حد ہے!’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘ہاں، ہے تو عجیب ہی۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب وہ بوریت سے کہنے لگا، ‘چلو پھر بھی، تم نے کیا کیا؟ بات کی؟ اس کے پیچھے گئے؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘نہیں، بس گلی میں یوں ہی اس کے ساتھ سے گزرا تھا۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ مغرب کی سمت جا رہی ہے اور میں اس سمت سے آ رہا ہوں۔ اپریل کی یہ صبح واقعی حسین ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کاش میں ا س سے بات کر سکتا۔ آدھ گھنٹہ ہی کافی ہوتا۔ کرنا ہی کیا تھا، کچھ اس کے بارے میں پوچھتا، کچھ اپنا بتاتا۔ بہت کہہ پاتا تو اسے یہ بتاتا کہ قسمت کی ستم ظریفی کیسے اپریل 1981 کی ایک خوب صورت صبح ہاراجوکو میں ہمیں سرراہ ایسے پاس سے گزار دیتی ہے۔ اس معاملے میں یقیناً کئی راز چھپے تھے۔ عین وہی سکون اس واقعے سے پہلے تھا جیسا دنیا میں گھڑی کی ایجاد سے پہلے ہوتا ہو گا۔ یوں ہی سا معاملہ تھا یہ سب۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بات کرنے کے بعد ہم کہیں کھانا کھا لیتے یا وڈی ایلن کی دل چسپ سی کوئی فلم دیکھ لیتے۔ یا راستے میں کسی ہوٹل کے بار سے کچھ پینے رک جاتے۔ اور پھر کیوپڈ کا ایسا میربان تیر چلتا کہ یہ ملاقات بستر تک جا کر ختم ہوتی۔<br>
یہ سب کچھ حقیقت میں بدلنے کا خیال میرے دل میں دھڑکنے لگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ہمارے بیچ پندرہ گز کا فاصلہ رہ گیا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں اس کے پاس جاوں، کہوں کیا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘صبح بخیر، کیا ایک مختصر سی بات چیت کے لیے آپ صرف آدھا گھنٹہ مجھے دے سکیں گی؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تف ہے، میں بالکل ایسا لگوں گا جیسے کوئی بیمہ پالیسی بیچنے والا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘معاف کیجیے گا، یہاں آس پاس کوئی ایسی لانڈری ہے جو راتوں رات کپڑے دھو کر تیار کر دے؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نہیں بھئی، یہ بھی ویسا ہی احمقانہ خیال ہے، اور میرے پاس تو کوئی میلے کپڑے بھی نہیں۔ ویسے بھی کسی ملاقات میں پہلی بات ہی اس طرح کی، کون کرنا چاہے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شاید سیدھے سبھاو بات کرنا بہتر رہے گا۔ ‘صبح بخیر، آپ سو فی صد میرے خوابوں میں پائی جانے والی لڑکی ہیں۔’<br>
نہیں، وہ اس پر یقین ہی نہیں کرے گی۔ اور اگر کر بھی لیا تو بھی شاید وہ مجھ سے بات ہی نہ کرنا چاہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتی ہے کہ ٹھیک ہے، میں ہوں گی سو فی صد آئیڈیل لڑکی آپ کے لیے، مگر بصد معذرت، میرے آپ کے بارے میں ایسے کوئی خیالات نہیں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایسا ہو بھی سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور اگر ایسا ہو گیا تو میں وہیں بکھر کر رہ جاوں گا۔ میں اس صدمے سے شاید کبھی باہر نہ آ سکوں۔ اب میں بتیس برس کا ہو چلا ہوں، اور بس یہی سارا معاملہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم ایک پھولوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہیں۔ تازہ ہوا کا ایک لطیف سا جھونکا مجھے محسوس ہوتا ہے ۔ راستے کی گھٹن اچانک تازہ گلاب کی خوشبو آنے سے کچھ اور کم ہو جاتی ہے۔ میں اپنے آپ کو اس سے بات کرنے پر آمادہ نہیں کر پاتا۔اس نے ایک سفید سوئیٹر پہن رکھا ہے اور اس کے داہنے ہاتھ میں ایک سفید براق خط کا لفافہ ہے، اس پر صرف ٹکٹ نہیں لگا ہوا۔ تو گویا اس نے کسی کو خط لکھا ہے۔ اور ویسے اس کی آنکھوں کے خمار سے بھی یہی لگتا ہے جیسے ساری رات شاید یہی لکھنے میں بتا دی۔ اس لفافے میں شاید وہ تمام راز ہوں جو ابھی تک ان کہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بے چینی سے میں وہیں منڈلاتا رہا اور ایک بار جو مڑا تو وہ ہجوم میں غائب ہو چکی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ظاہر ہے مجھے بالکل واضح ہو گیا کہ دراصل میں اس سے کیا بات کرتا۔ وہ، ایک لمبی تقریر ہوتی۔ جی ہاں، وہ اتنی لمبی ہوتی کہ میں اسے ٹھیک سے ادا ہی نہ کر پاتا۔ اف! مجھے جو بھی خیالات آتے ہیں وہ زیادہ قابل عمل نہیں ہوتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اوہ، یاد آیا، ‘ایک دفعہ کا ذکر ہے’ بات اس جملے سے شروع ہوتی اور ‘کیا یہ واقعی ایک اداس کہانی نہیں؟’ اس پر ختم ہو جاتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہوتے تھے۔ لڑکا اٹھارہ سال کا تھا اور لڑکی سولہویں سال میں تھی۔ لڑکا بہت زیادہ خوب رو نہیں تھا، وہ لڑکی بھی اتنی دلکش نہیں تھی۔ وہ دونوں بالکل عام سے ایک لڑکا لڑکی تھے۔ جیسے کوئی بھی دوسرا ہو سکتاہے۔ مگر انہیں پورا یقین تھا کہ اس دنیا میں کہیں نہ کہیں ان کا ایک چاہنے والا موجود ہے جو سو فی صد ان کے خوابوں جیسا ہے۔ جی ہاں انہیں معجزوں پر یقین تھا۔ اور وہ معجزہ واقعی میں ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک دن وہ دونوں ایک گلی کے موڑ پر آمنے سامنے آ گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لڑکا بولا، ‘یہ بہت حیران کن بات ہے، میں تمام عمر تمہیں تلاش کرتا رہا ہوں، تم شاید اس بات پر یقین نہ کرو، مگر تم سو فی صد وہی لڑکی ہو جیسی میرے خوابوں میں موجود تھی۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘اور تم’، لڑکی اس سے کہنے لگی، ‘تم سو فی صد میرے خوابوں کے شہزادے ہو۔ عین ویسے ہی، جیسے میں نے کبھی سوچا تھا۔ یہ سب کہیں خواب تو نہیں؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ دونوں قریب ہی موجود باغ میں ایک بینچ پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے بیٹھ جاتے ہیں اور کئی گھنٹے ایک دوسرے کو اپنی کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔ وہ اب اکیلے نہیں تھے۔ انہیں اپنا خواب، اپنا سو فیصد مثالی ساتھی مل گیا تھا۔ یہ کیا ہی خوب صورت بات ہے کہ آپ کو اپنا سو فی صد آئیڈیل مل بھی جائے اور آپ بھی اس کے آئیڈیل ہوں۔ یہ تو بھئی معجزہ ہوا۔ کائنات کا ایک حیران کن معجزہ!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب وہ بیٹھے رہے اور بات کرتے رہے۔لیکن ایک معمولی سی، بالکل باریک سی شک کی ایک دراڑ ان کے ذہنوں میں موجود تھی۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ کسی کے خواب اتنی آسانی سے حقیقت میں بدل جائیں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور تب، جب ان کی باتوں میں دم لینے کو ایک وقفہ آیا تو لڑکے نے لڑکی سے کہا۔ ‘ہمیں صرف ایک بار اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا واقعی ہم سو فی صدی ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے، تو ہم کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی ملیں گے ضرور۔ اور جب ایسا ہو گا اور ہم جانتے ہوں گے کہ ہم سو فی صد ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں تو ہم وہیں کے وہیں شادی کر لیں گے۔ کیا خیال ہے؟’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘ہاں’، لڑکی نے کہا، ’ہمیں واقعی یہی کرنا چاہیے۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور پھر وہ جدا ہو گئے۔ لڑکی مشرق کو اور لڑکا مغرب کی سمت چلا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ویسے یہ آزمائش جس کے بارے میں وہ دونوں متفق تھے، قطعی غیر ضروری تھی۔ انہیں یہ بات کبھی نہیں ماننا چاہیے تھی کیوں کہ دراصل وہ دونوں واقعی میں سو فی صد ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔ اور یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ ایسے مل لیے تھے۔ مگر اس کم عمری میں ان کے لیے یہ جاننا ممکن نہیں تھا۔ قسمت کے سمندر کی سرد اور بے نیاز لہروں نے انہیں بے رحمی سے اچھال دیا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک دفعہ سردیوں میں لڑکے اور لڑکی، دونوں کو بہت شدید موسمی زکام نے آ لیا۔ کئی ہفتے وہ دونوں زندگی اور موت کی بے کراں سرحدوں پر بھٹکتے رہے۔ یہاں تک کہ انہیں گذشتہ زندگی کے تمام واقعات بھول گئے۔ جب وہ صحت یاب ہوئے تو ان کے دماغ بالکل ایک کوری تختی کے مانند تھے۔ اتنے خالی کہ جیسے کبھی بچپن میں بے چارے ڈی۔ایچ۔لارنس کی گلک ہوتی ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ دونوں پرعزم اور ذہین تھے، اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ان تھک کوششوں کی وجہ سے دوبارہ اس قابل ہو گئے تھے کہ وہ تمام علم اور حسیات دوبارہ سیکھ جائیں کہ جن کی مدد سے وہ معاشرے میں کارآمد ہو سکتے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خدا نے اپنا فضل کیا۔ وہ دونوں واقعی معاشرے کے معزز شہری بن گئے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ایک سب وے لائن سے دوسری پر کس طرح جانا ہے۔ وہ یہ جانتے تھے کہ ڈاک سے رجسٹری کس طرح بھیجی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں دوبارہ مبتلائے محبت ہونے کا بھی اتفاق ہوا جو 75 فیصد اور کبھی 85 فیصد تک بھی ہو جاتا تھا۔ وقت ناقابل یقین تیزی سے گزرا، جلد ہی لڑکا بتیس سال کا اور لڑکی تیس سال کی ہو گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اپریل کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ دن کا آغاز گرماگرم کافی کے ایک کپ سے کرنے کے خیال میں گم لڑکا مغرب سے مشرق کی طرف جا رہا تھا۔ جب کہ لڑکی مشرق سے مغرب کو اس خیال میں رواں تھی کہ ایک خط رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوایا جا سکے۔ مگر ٹوکیو کے نواح میں واقع ہاروجوکو کی اسی تنگ سی گلی سے گزرتے ہوئے عین گلی کے درمیان وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزرے۔ ان کے دلوں میں گمشدہ یادوں کی ہلکی سی ایک کرن صرف ایک لمحے کو نمودار ہوئی۔ دونوں نے اپنے سینوں میں ایک سرد سی آہ محسوس کی۔ اور وہ جانتے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ لڑکی سو فیصد میرے خوابوں کی شہزادی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ لڑکا سو فیصد میرے خوابوں کا شہزادہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر ان یادوں کی چمک بہت کم تھی۔ اور چودہ سال گزرنے کی وجہ سے وہ سب یادیں پہلے کی سی واضح نہیں تھیں۔<br>
ایک لفظ کہے بغیر وہ ایک دوسرے کے پاس سے گزرے اور ہمیشہ کے لیے ہجوم میں کھو گئے۔</div>
<p>Image: Duy Huynh</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%b3-%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%90-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%8c-%da%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9/">اور دیکھنا اس پیکرِ کمال کو، چیت کی ایک سہانی صبح</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%af%db%8c%da%a9%da%be%d9%86%d8%a7-%d8%a7%d8%b3-%d9%be%db%8c%da%a9%d8%b1%d9%90-%da%a9%d9%85%d8%a7%d9%84-%da%a9%d9%88%d8%8c-%da%86%db%8c%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a7%db%8c%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
