<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>اسلم علی, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/aslam-ali/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 13:29:14 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>اسلم علی, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[اسلم علی]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 19 Jun 2015 13:02:15 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[بلاول بھٹو زرداری]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[سیاست]]></category>
		<category><![CDATA[گلگت بلتستان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11589</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8/">بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔ بینظیر بھٹو شہید سے شادی کے بعد سے آج تک کبھی نواز شریف، کبھی پرویز مشرف تو کبھی ان کی اپنی ہی جماعت کے لوگ سبھی آصف علی زرداری پر الزامات کی اس تواتر سے بوچھاڑ کرتے رہے ہیں کہ ان کے بارے میں سچ کو جھوٹ سے علیحدہ کرنا بے حد دشوار ہے۔ آصف علی زرداری صاحب کی ذات اور محترمہ کی زندگی میں ان پر لگنے والے کرپشن کے الزامات سے قطع نظر پیپلز پارٹی کے کارکنان اور رہنماوں کے لیے لیے اس وقت یہ سوال زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ چاروں صوبوں کی جماعت کہلانے والی جماعت آج ایک صوبے میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے اور اس صورت حال کا ذمہ دار عموماً آصف علی زرداری کو قرا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت سے نہ تو کوئی کارکن خوش ہے اور نہ ہی کوئی رکن۔ پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں۔ کراچی سے پیپلزپارٹی کا وجود مٹ چکا ہے اور کوئی نوجوان اس جماعت میں شمولیت یا اس کی حمایت کو تیار نہیں، آج کا نوجوان بھٹو یا بی بی کی شہادت یا ان کی غریب پرور سیاست سے واقف نہیں، آج کے ووٹر کے لیے پیپلز پارٹی کا تعارف آصف علی زرداری کی پانچ سالہ حکومت ہے اور اس دور میں روا رکھے جانے والی مالی بدعنوانیاں اور بدترین حکومتی کارکردگی ہے۔ یقیناً آصف علی زرداری اور ان کے قریبی رفقاء نے پیپلز پارٹی کو مرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور ان کا اور ان کے کرپٹ ساتھیوں کا احتساب ضروری ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">پنجاب جہاں کبھی پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت ایک مضبوط حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی تھی وہاں آج اس جماعت کو انتخابات کے دوران ایسے امیدوار دستیاب نہیں جو انتخابی مہم چلانے کے اہل ہوں</div>
<div class="urdutext">گزشتہ دنوں فوجی قیادت کے خلاف آصف علی زرداری کی پریس کے بعد سے شروع ہونے والے سیاسی بحران کے بعد سے پاکستان کے جمہوری نظام کا مستقبل ایک بار پھر خدشات کا شکار ہو گیا ہے اور پیپلز پارٹی کے تیور یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اپنی سیاست بچانے کے لیے اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے انتخابات کی حد تک بھی جا سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کا بیان پیپلز پارٹی کے ایک نئے دور کا پیش خیمہ ہے جو مسلم لیگ نواز سے مصالحت کے خاتمے اور حزب اختلاف کے طور پر مزاحمت اور احتجاج کی سیاست ثابت ہو سکتا ہے۔<br>
اس سب کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پیپلز پارٹی ایک بار پھر ماضی کی طرح ایک فعال، متحرک اور مقبول جماعت بن کر سامنے آ سکتی ہے اور کیا تحریک انصاف کی جانب مائل نوجوانو ں کو اپنی جانب کھینچ سکتی ہے یا نہیں۔ گلگت بلتستان کے انتخابات نے یہ ظاہر کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مقبولیت بری طرح کم ہوئی ہے اور اس اک ووٹ بنک تقسیم ہو چکا ہے۔ اپنی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کو بڑھانے اور اگلے انتخابات جیتنے کے قابل ہونے کے لیے پیپلز پارٹی کو ایک طویل جدوجہد کی ضرورت ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے</div>
<div class="urdutext">نوجوان بلاول بھٹو زرداری وہ ترپ کا پتہ ہیں جو پیپلز پارٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ زرداری کی جانب سے فوجی قیادت پر شدید تنقید نے جہاں پیپلز پارٹی کو تنہا کیا ہے وہیں پاکستانی سیاست میں ایک اہم پیش رفت اور پیپلز پارٹی کے مستقبل کی جانب اشارہ بھی کیا ہے۔ بہت جلد پاکستان میں سیاست دو دھڑوں میں تقسیم ہونے کو ہے جس میں سے ایک دھڑا عسکری قیادت کی پشت پناہی اور حمایت کا خواہاں نظر آتا ہے تو دوسری جانب ایک کم زور دھڑا ان سیاسی جماعتوں پر مشتمل بنتا نظر آتا ہے جو عسکری مداخلت کے مخالف ہیں۔ ایک جانب مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف ہیں جو کسی بھی صورت میں عسکری قیادت کو ناراض کرنے کے قائل نہیں تو دوسری طرف پیپلز پارٹی، ایم کیوا یم اور اے این پی کا سابقہ اتحاد اکٹھا ہوتا نظر آرہا ہے جو عسکری قیادت کی بے جا مداخلت کے خلاف احتجاج کرے گا۔<br>
پیپلز پارٹی یقیناً آنے والے دنوں میں مسلم لیگ نواز حکومت کو دباو میں لا کر فوج اور پیپلز پارٹی میں سے پیپلز پارٹی کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا یہ چال کامیاب بھی ہوگی ؟ اس کا دارومدار مکمل طور پر بلاول بھٹو کے طرز سیاست پر ہے۔ اگر چہ اس وقت عمران خان کی pro-establishment سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے اور وہی وقت پیپلز پارٹی کی تشکیل نو کا وقت ہو گا۔</div>
<div class="leftpullquote">اس وقت عمران خان کی (pro-establishment) سیاست کے باعث فوج کی حمایت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے، ذرائع ابلاغ فوج پر تنقید کو تیار نہیں اور نواز شریف عسکری قیادت کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں لیکن عنقریب پاکستانی عوام فوج کے کردار پر سوال اٹھائیں گے</div>
<div class="urdutext">بلاول کے سامنے ایک ایسی جماعت ہے جو عملاً مفلوج ہو چکی ہے اور جس کی مقبولیت اور سندھ حکومت اس وقت داو پر ہے لیکن بلاول بھٹو کے پاس وہ میراث ہے جو اسے طالع آزما جرنیلوں، ملاوں اور دائیں بازو کے سرمایہ دار دوست سیاستدانوں کو للکارنے للکارنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ لیکن اس کے لیے بلاول کو اپنی جماعت کی تشکیل نو کرنا ہو گی، نئے سرے سے سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا ہو گا اور خؤد کو اس بدعنوان ٹولے سے علیحدہ کرنا ہوگا جس نے پیپلز پارٹی کو گزشتہ ایک دہائی سے نرغے میں لے رکھا ہے۔ بلاول کو اپنے والد سے مختلف سیاست اور اپنے والد سے منفرد طرز حکومت کی داغ بیل ڈالنی ہو گی اور پنجاب میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے شریف برادران کے لیے حقیقی حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ بالول کو ایک ایسی چومکھی لڑنی ہے جس میں پیپلز پارٹی ہی نہیں پاکستان کا جمہوری اور امن پسند مستقبل بھی داو پر لگا ہوا ہے۔ یہ اس آئین کی بقاء کی جنگ ہے جسے ضیاء الحق اور اس کی باقیات نے بگاڑاہے۔ یہ ایک ڈھکے چھپے مارشل لاء کے چہرے کا جمہوری نقاب اتارنے کی جنگ ہے جو تمام سیاسی قوتوں کی بقاء کا مسئلہ ہے۔ اس وقت صرف پیپلز پارٹی کے پاس یہ طاقت اور صلاحیت ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو یاددلائے کے حکومت اور پالیسی سازی چند جرنیلوں کا کام نہیں بلکہ عوام کا استحقاق ہے۔ پیپلز پارٹی اگر بلاول کی سربراہی میں اپنا وجود قائم رکھ سکی تو وہ وقت دور نہیں جب جرنیلوں کے سیاہ اعمال نامے ذرائع ابلاغ پر بریکنگ نیوز بن کر چلیں گے اور لوگوں کو احساس ہو گا کہ اس ملک میں کرپشن ، دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی کی سب سے زیادہ سرپرستی فوجیوں نے ہی کی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8/">بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d9%84%d8%a7%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%b2%d8%b1%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%d8%a7-%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہمیں پیپلز پارٹی کی ضرورت کیوں ہے؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[اسلم علی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 27 Dec 2014 12:04:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پیپلز پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[محترمہ بینظیر بھٹو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=8656</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلزپارٹی کے شہیدوں کی فہرست  میں محض ایک نام کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ذولفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل ہی کی طرح تاریخ میں ایک  ایسی یاددہانی کا اضافہ ہے جو ہمیں شدت پسندی اور آمریت کے خلاف جنگ کے لیے جذبہ اور دانش دونوں فراہم کر نے کی اہلیت رکھتی ہے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/">ہمیں پیپلز پارٹی کی ضرورت کیوں ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلزپارٹی کے شہیدوں کی فہرست میں محض ایک نام کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل ہی کی طرح تاریخ میں ایک ایسی یاددہانی کا اضافہ ہے جو ہمیں شدت پسندی اور آمریت کے خلاف جنگ کے لیے جذبہ اور دانش دونوں فراہم کر نے کی اہلیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سابق چئیر پرسن کی قربانی ہمارے سیاسی شعور کا ایک ایسا حصہ ہے کہ ہم جب بھی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو نکلیں گے ہمیں بینظیر کی شہادت سے ہی آغاز کرنا ہوگا۔ ایک معزول جج کی بحالی، ایک آمر کی مخالفت اور اپنے سیاسی حریف سے جمہوری میثاق یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے کہ پیپلز پارٹی ہی وہ وہ واحد جماعت ہے جو اس ملک میں جمہوری قدروں اور پارلیمانی بالادستی کی مشعل جلائے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">یہ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے مذہب اور سیاست کی یکجائی کی، ایک منتخب حکومت کو آمریت میں بدلنے والے غیر جمہوری رویوں کی بنیاد رکھی اور بعدازاں موروثی سیاست کا چلن عام کیا۔</div>
<div class="urdutext">پیپلز پارٹی کی خامیاں اور خوبیاں، کامیابیاں اور ناکامیاں سبھی پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے سیاسی بلوغت کے حصول کے لیے مکتب کا درجہ رکھتی ہیں۔ پیپلز پارٹی نے جو رحجانات متعارف کرائے ہیں وہ ہماری سیاسی سمت درست کرنے اور غلطیوں سے سبق سیکھنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے عوامی سیاست کا چلن شروع کیا ، عوام کی نبض پر ہاتھ رکھا،مزدور اور کسان کی بات کی،روایتی محلاتی سیاست کو للکارتے ہوئے نئی قیادت فراہم کی۔ اور پھر یہ پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب ہی تھے جنہوں نے اپنے سیاسی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے مذہب اور سیاست کی یکجائی کی، ایک منتخب حکومت کو آمریت میں بدلنے والے غیر جمہوری رویوں کی بنیاد رکھی اور بعدازاں موروثی سیاست کا چلن عام کیا۔<br>
بھٹو صاحب نے جس عوامی سیاست کی بنیاد رکھی تھی اور بعدازاں اپنی ہے سیاسی جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے طاقت کے غلط استعمال کے باعث خود کو غیر مقبول کیا تھاتمام جمہوری حکومتوں اور جماعتوں کے ماضی، حال اور مستقبل کا تجزیہ ہے۔اسی طرح بینظیر بھٹو کی سیاسی زندگی آمریت اور مذہبی انتہا پسندی کی مخالفت سے عبارت ہے۔ بینظیر اور نواز شریف کے درمیان ہونے والا میثاق جمہوریت پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آئین پاکستان کے بعد کی اہم ترین دستاویز ہے ۔حالیہ سیاسی بحران کے دوران پیپلز پارٹی کا جمہوری رویہ یقیناً بینظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کا ہی تسلسل ہے جس کے باعث اگست میں غیر جمہوری قوتوں کا جمہوری تسلسل کو ختم کرنے کا منصوبہ ناکام ہواہے۔</div>
<div class="leftpullquote">پیپلز پارٹی جو بینظیر کے زمانے میں پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے والی واحد جماعت تھی اب صرف اندرون سند کے جاگیرداروں کی جماعت بن کر رہ چکی ہے۔</div>
<div class="urdutext">گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت اور حالیہ سیاسی بحران کے دوران پیپلز پارٹی کے کم زور ہونے کے باعث بہت سے سیاسی تجزیہ نگار پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے خیال میں پیپلز پارٹی کا زیادہ تر ووٹ بنک پاکستان تحریک انصاف کی طرف مائل ہو چکا ہے اور اگلے انتخابات میں حقیقی مقابلہ مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کے درمیان ہو گا۔ بعض مبصرین کے خیال میں تو پنجاب سے پیپلز پارٹی کاخاتمہ وہ چکا ہے اور اب پیپلز پارٹی کی مفاہمتی سیاست میں عوام کے لیے کوئی کشش باقی نہیں رہی۔ اگرچہ ناقدین کے اعتراضات میں وزن ہے اور پیپلز پارٹی جو بینظیر کے زمانے میں پورے پاکستان کی نمائندگی کرنے والی واحد جماعت تھی اب صرف اندرون سندھی کے جاگیرداروں کی جماعت بن کر رہ چکی ہے۔<br>
پیپلز پارٹی کے حوالے سے یہ تیسرا موقع ہے جب یہ کہا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے اور بطور ایک جماعت پیپلز پارٹی اب ایک صوبے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ضیاءالحق آمریت، ستانوے کے انتخابات اور اب 2013 کے انتخابات کے بعد ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے خاتمے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اس تاثر میں اس لیے بھی اضافہ ہوا ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی کو ایک بار آمریت اور دوسری بار دائیں بازو کے قدامت پرست سیاسی اتحاد سے خطرہ تھا لیکن اس بار پیپلز پارٹی کونوجوانوں میں مقبول ترین جماعت تحریک انصاف سے خطرہ ہے لیکن یہ تجزیہ یقیناً قبل ازوقت ہے کہ پیپلز پارٹی کی سیاست ختم ہو چکی ہے۔ یہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی کا کارکن اور نچلے درجے کے سیاسی رہنما موجودہ زرداری قیادت سے ناخوش ہے اور بیشتر حمایتی خصوصاً پنجاب میں اپنی وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں، یہ بھی صحیح ہے کہ پانچ سالہ وفاقی حکومت اور دس سالہ صوبائی حکومت کے دوران پیپلز پارٹی کی گورننس کا ریکارڈ بے حد برا ہے جس کی وجہ سے اس جماعت کے غریبوں کی جماعت ہونے کے تاثر کو دھچکا پہنچا ہے، یہ اعتراض بھی بجا ہے کہ یہ پارٹی موروثیت اور روایتی سیاست کا گڑھ بن چکی ہے لیکن اس سب کے باوجود راقم کے نزدیک پیپلز پارٹی ہی مستقبل کی واحد متبادل جماعت قرار پائے گی۔</div>
<div class="leftpullquote">لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک قومی جماعت بننے کے لیے جماعت کے اندر جمہوری قدروں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل کے لیے ایک واضح منشور دینا ہو گا اور نئی قیادت کو سامنا لانا ہوگا</div>
<div class="urdutext">یہ جماعت اس سے قبل بھی دو مرتبہ تشکیل اور تشکیلِ نو کے عمل سے گزر چکی ہے اور اپنی جگہ بنا چکی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس جماعت کی بنیاد رکھتے ہوئے بائیں بازو کی نوجوان اور دانشور قیادت فراہم کی تھی، اسی طرح بینظیر بھٹو نے اپنی جماعت کی تشکیل نو کی اور اسے تین بار انتخابات جیتنے کے قابل بنایا تھا۔ اس وقت بلاول بھٹو کے پاس وقت بھی ہے اور موقع بھی کے وہ پیپلز پارٹی کو اپنی والدہ اور نانا کی طرح تشکیل نو کے عمل سے گزار کر ایک نئی قیادت فراہم کر سکتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ پیپلز پارٹی کو دوبارہ ایک قومی جماعت بننے کے لیے جماعت کے اندر جمہوری قدروں کو فروغ دینا ہوگا، پاکستان کے معاشی اور سیاسی مسائل کے لیے ایک واضح منشور دینا ہو گا اور نئی قیادت کو سامنا لانا ہوگا اب محض بھٹوازم اور شہیدوں کے نام پر ووٹ نہیں حاصل کیے جا سکتے ۔<br>
پاکستان کو درپیش شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خطرے کے پیش نظر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ملک کے تمام لبرل، سیکولر اور ترقی پسند فکر کے حامل افراد نواز شریف اور عمران خان جیسے طالبان پسند سیاستدانوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کا انتخاب کریں گے۔یہ وہ واحد جماعت ہے جہاں پارٹی کا ہر کارکن اور رہنما اپنی قیادت کے فیصلوں پر کھلے بندوں تنقید کرتا ہے اور اختلاف کرنے کے باوجود پارٹی کی جانب سے انتقامی کاروائی کا نشانہ نہیں بنتا۔ اس جماعت کے جیالے بارہااس جماعت کو اس کی غلطیوں کی وجہ سے انتخابات میں مسترد کرچکے ہیں اور بارہا یہ جماعت اپنی غلطیوں سے سبق سیکھ کر اپنا ووٹ بنک واپس جیت چکی ہ کیوں کہ یہ جماعت محض ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک نظریہ اور ایک وراثت بھی ہے۔ پیپلز پارٹی قوم پرستوں ، ترقی پسندوں، جمہوریت پسندوں اور شدت پسندی کے مخالفوں کے لیے اس وقت واحد انتخاب اور متبادل ہے کیوں کہ یہ جماعت شدت پسندی اور آمریت کی مخالفت کرنے والوں کے حق میں اٹھنے والی بلند ترین آواز ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/">ہمیں پیپلز پارٹی کی ضرورت کیوں ہے؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%da%ba-%d9%be%db%8c%d9%be%d9%84%d8%b2-%d9%be%d8%a7%d8%b1%d9%b9%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%b6%d8%b1%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%a9%db%8c%d9%88%da%ba-%db%81%db%92%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
