<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عاصم بخشی, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/asim-bakhshi/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 01:14:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>عاصم بخشی, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>انڈہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%88%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%88%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 04 Jan 2018 10:29:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22810</guid>

					<description><![CDATA[<p>اینڈی ویئر: تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%88%db%81/">انڈہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>مصنف: اینڈی وئیر</p>
<p>ترجمہ: عاصم بخشی</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>تم اپنے گھر کے راستے میں تھے جب تمہاری موت واقع ہوئی۔</p>
<p>یہ ایک کار&nbsp; حادثہ تھا۔ کچھ خاص غیرمعمولی نہیں لیکن بہرحال مرگ آور۔تم نے اپنے پیچھے بیوی اور دو بچے چھوڑے۔یہ ایک بے اذیت موت تھی۔ہسپتال کے تکنیکی عملے نے پوری کوشش کی لیکن تم جانبر نہ ہو سکے۔ تمہارا جسم اس حد تک مسخ ہو چکا تھا کہ یقین کرو اچھا ہی ہوا۔</p>
<p>یہی وہ لمحہ تھا جب ہماری ملاقات ہوئی۔</p>
<p>‘‘ہائیں! یہ کیا ہوا؟’’،&nbsp; تم نے کہا۔‘‘میں کہاں ہوں؟’’</p>
<p>‘‘تمہاری موت واقع ہو گئی،’’ میں نے حقیقت پسندانہ لہجے میں کہا۔آئیں بائیں شائیں کرنے کی ضرورت بھی کیاتھی۔</p>
<p>‘‘ایک ٹرک۔۔۔پھسلتا ہوا آ رہاتھا۔۔۔’’</p>
<p>‘‘بالکل،’’ میں نے کہا۔</p>
<p>‘‘میں۔۔۔کیا میں مر چکا ہوں؟’’</p>
<p>‘‘ہاں۔ لیکن اس میں بُرا محسوس کرنے کی کوئی بات نہیں۔ ہر کوئی مرتا ہے،’’ میں نے کہا۔</p>
<p>تم نے اردگرد نظر دوڑائی۔ ہر طرف خالی پن تھا۔ صرف میں تھا اور تم تھے۔</p>
<p>‘‘یہ کیا جگہ ہے؟’’ تم نے پوچھا۔‘‘کیا یہ حیات بعد الموت ہے؟’’</p>
<p>‘‘کم وبیش،’’ میں نے کہا۔</p>
<p>‘‘کیا تم خدا ہو؟’’&nbsp; تم نے پوچھا۔</p>
<p>‘‘ہاں،’’ میں نے جواب دیا۔‘‘میں خدا ہوں۔’’</p>
<p>‘‘میرے بچے۔۔۔میری بیوی،’’&nbsp; تم نے کہا۔</p>
<p>‘‘ان کا کیا؟’’</p>
<p>‘‘کیا وہ ٹھیک ٹھا ک ہوں گے؟’’</p>
<p>‘‘میں یہی دیکھنا چاہتا ہوں،’’ میں نے کہا۔‘‘تم ابھی ابھی مرے اور تمہاری پہلی پریشانی تمہارا خاندان ہے۔یہ بہت اچھی بات ہے۔’’</p>
<p>تم نے میری طرف حیرانی سے دیکھا۔تمہیں میں خدا کی طرح تو نہیں لگ رہا تھا۔بس ایسا ہی نظر آتا تھا جیسے کوئی بھی اجنبی مرد۔یا ممکن ہے عورت۔ یا شاید کوئی مبہم سی بااختیار شخصیت۔ خدا کی بہ نسبت کسی پرائمری اسکول کا استاد۔</p>
<p>‘‘پریشانی کی کوئی بات نہیں،’’&nbsp; میں نے کہا۔ ‘‘وہ بھلے چنگے ہیں۔تمہارے بچے تمہیں ہر صورت ایک مکمل شخص کے طور پر یاد رکھیں گے۔ان کے پاس تم سے بدظن ہونے کا وقت ہی نہیں تھا۔تمہاری بیوی اوپر&nbsp; اوپر سے تو ماتم زدہ&nbsp; نظر آئے گی لیکن اندر سے اطمینان محسوس کرتی ہو گی۔بھئی صاف بات ہے کہ تمہاری شادی شدہ زندگی بکھر رہی تھی۔ہاں اگر یہ خیال تمہیں کچھ سکون دیتا ہے تو یوں کہہ لو کہ وہ اس اندرونی اطمینان پر شرمسار ہوگی۔’’</p>
<p>&lt;iframe width=“560” height=“315” src=“https://www.youtube.com/embed/ehRggplMieM” frameborder=“0” gesture=“media” allow=“encrypted-media” allowfullscreen&gt;&lt;/iframe&gt;</p>
<p>‘‘اوہ،’’ &nbsp;تمہارے منہ سے نکلا۔‘‘تو اب کیا ہو گا؟ کیا میں جنت یا جہنم میں جاؤں گا یا کچھ اور؟’’</p>
<p>‘‘ان میں سے کچھ بھی نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘تمہیں نیا جنم ملے گا۔’’</p>
<p>‘‘آہ،’’ تم نے کہا۔‘‘تو ہندو درست تھے۔’’</p>
<p>‘‘تمام مذاہب ہی اپنے تئیں درست ہیں،’’ میں بولا۔‘‘ میرے ساتھ آؤ ۔’’</p>
<p>ہم خلا میں لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگے۔‘‘ہم کہاں جا رہے ہیں؟’’</p>
<p>‘‘کسی خاص جگہ نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘بس چہل قدمی کے ساتھ گپ شپ ذرا مزا دیتی ہے۔’’</p>
<p>‘‘تو آخر مقصد کیا ہے؟’’ تم نے پوچھا۔‘‘جب میں دوبارہ جنم لوں گا تو ایک خالی تختی ہوں گا نا؟ ایک بچہ۔ لہٰذا اس زندگی کے سارے اعمال و تجربات بس اکارت جائیں گے۔’’</p>
<p>‘‘ہرگز نہیں!’’ میں نے کہا۔‘‘تمہارے اندر اپنے سارے &nbsp;گزرے جنموں کا علم اور تجربہ موجود ہے۔بس تمہیں ابھی وہ یاد نہیں۔’’</p>
<p>میں چلتے چلتے رکا اور تمہیں دونوں کندھوں سے تھام لیا۔‘‘تمہاری روح تمہارے تصور سے بھی زیادہ پُرشکوہ، خوبصورت اور دیوقامت ہے۔انسانی ذہن میں بس تمہاری حقیقت کی ایک ننھی سی مقدار ہی سما سکتی ہے۔یہ کسی گلاس میں انگلی ڈال کر یہ جانچنے کی طرح ہے کہ وہ گرم ہے یا سرد۔ تم اپنے آپ کا ذرا سا حصہ برتن میں ڈال کر باہر نکالتے ہو تو اندر موجود تمام تر تجربات حاصل کر چکے ہوتے ہو۔تم پچھلے اڑتالیس سال سے ایک انسان کے اندر ہو او ر پھیل کر اب تک اپنے باقی ماندہ بے پایاں شعور کو محسوس نہیں کر سکے۔اگر ہم یہاں خاطرخواہ رکے رہیں تو تمہیں سب یاد آنا شروع ہو جائے گا۔ لیکن دو جنموں کے دوران یہ&nbsp; سب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔’’</p>
<p>‘‘تو میں کتنے جنم لے چکا ہوں؟’’</p>
<p>‘‘اوہ، متعدد۔ کتنے ہی زیادہ۔اور کتنی ہی مختلف زندگیوں میں،’’ میں نے کہا۔‘‘اس بار تم ۵۴۰عیسوی میں ایک چینی کسان لڑکی ہو گے۔’’</p>
<p>‘‘ذرا ٹھہرو، کیا؟’’ &nbsp;تم ہکلائے۔‘‘تم مجھے ماضی میں بھیج رہے ہو؟’’</p>
<p>‘‘ہاں تکنیکی طورپر تو شاید ایسا ہی ہے۔ وقت، جیسا کہ اسے تم جانتے ہو، صرف تمہاری کائنات میں ہی موجود ہے۔ جہاں سے میں آیا ہوں وہاں صورتِ حال مختلف ہے۔’’</p>
<p>‘‘تم کہاں سے آئے ہو؟’’ تم نے کہا۔</p>
<p>‘‘اوہ یقیناً،’’ میں نے وضاحت کی۔‘‘میں کہیں سے تو آیا ہوں۔ کسی دوسری جگہ سے۔ اور میرے جیسے دوسرے بھی ہیں۔مجھے معلوم ہے تم جاننا چاہو گے کہ وہاں سب کچھ کیسا ہے لیکن یقین مانو تم نہیں سمجھ سکتے۔’’</p>
<p>‘‘اوہ،’’ تم نے ذرا مایوسی سے کہا۔‘‘لیکن سنو، اگر میں وقت کے سلسلے میں مختلف جگہوں پر جنم لیتا ہوں تو کسی نہ کسی وقت خود سے بھی مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔’’</p>
<p>‘‘یقیناً۔ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔اور چونکہ دونوں زندگیاں صرف عمر کا ادراک رکھتی ہیں اس لئے پتہ بھی نہیں چلتا کہ اصل &nbsp;واقعہ کیا ہے۔’’</p>
<p>‘‘تو پھر آخراس سب کا مقصد کیا ہے؟’’</p>
<p>‘‘واقعی؟’’ میں نے پوچھا۔‘‘میرا مطلب ہے تم سنجیدگی سے حیات کے معنی جاننا چاہتے ہو؟ کیا یہ ذرا ڈھیلا ڈھلایا سا کلیشے نہیں؟’’</p>
<p>‘‘یہ ایک معقول سوال ہے،’’ تم اپنے سوال پر اڑے رہے۔</p>
<p>میں نے تمہاری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔‘‘حیات کے معنی یعنی میرے لئےاس ساری کائنات کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ تم بالغ ہو جاؤ۔’’</p>
<p>‘‘تمہارا مطلب ہے انسانیت؟ &nbsp;یعنی تم چاہتے ہو کہ ہم بالغ ہو جائیں؟’’</p>
<p>‘‘نہیں، صرف تم۔میں نے یہ پوری کائنات تمہارے لئے تخلیق کی ہے۔ ہر نئی زندگی کے ساتھ تم پھلتے پھولتے ایک جسیم و عظیم گیانی بن جاتے ہو۔’’</p>
<p>‘‘صرف میں؟ باقی سب کا کیا؟’’</p>
<p>‘‘دوسرا کوئی ہے ہی نہیں،’’ میں نے کہا۔‘‘اس کائنات میں صرف میں اور تم ہی تو ہیں۔’’</p>
<p>تم نے خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھا۔‘‘لیکن زمین پر موجوداتنے بہت سے لوگ۔۔۔’’</p>
<p>‘‘ہر ایک تم۔ تمہارے مختلف جنم۔’’</p>
<p>‘‘ہائیں! میں ہر کوئی ہوں!’’</p>
<p>‘‘اب تم بات سمجھے،’’ میں نے شاباشی سے تمہاری کمر تھپتھپائی۔</p>
<p>‘‘میں ہر ایک انسان ہوں جو کبھی بھی تھا؟’’</p>
<p>‘‘اور کبھی بھی ہو گا، ہاں۔’’</p>
<p>‘‘میں ابراہام لنکن ہوں؟’’</p>
<p>‘‘اور تم جان ولکس بوتھ بھی،’’ &nbsp;میں نے لقمہ دیا۔</p>
<p>‘‘میں ہٹلر ہوں؟’’ &nbsp;تم نے ہیبت زدہ ہوتے ہوئے کہا۔</p>
<p>‘‘اور وہ لاکھوں لوگ بھی جنہیں اس نے قتل کیا۔’’</p>
<p>‘‘میں عیسیٰ ہوں؟’’</p>
<p>‘‘اور ہر کوئی جس نے اس کی اتباع کی۔’’</p>
<p>تم خاموش&nbsp; ہو گئے۔</p>
<p>‘‘تم نے جب بھی کسی کو نشانہ بنایا،’’ میں نے کہا،‘‘تم آپ اپنا نشانہ بنے ۔ کوئی بھی نیکی کی تو اپنے ساتھ کی۔کسی بھی انسان کا کوئی بھی مسرت و غم کا لمحہ دراصل خود تمہارا &nbsp;ہی تجربہ تھا اور ہو گا۔’’</p>
<p>تم نے کافی دیر سوچا۔</p>
<p>‘‘کیوں؟’’ تم پوچھا۔‘‘آخر یہ سب کس لئے؟’’</p>
<p>‘‘کیوں کہ کسی دن تم میرے جیسے بن جاؤ گے۔ کیوں کہ تم یہی ہو۔ تم میری ہی نوع سے ہو۔میرے بچے ہو۔’’</p>
<p>‘‘ہائیں،’’ تم نے بے یقینی کے عالم میں کہا۔‘‘تمہارا مطلب ہے میں خدا ہوں؟’’</p>
<p>‘‘نہیں۔ ابھی نہیں۔ ابھی تو تم جنین ہو۔ مسلسل بڑھ رہے ہو۔ایک دفعہ تم وقت کے کُل پھیلاؤ میں موجود ساری زندگیاں جی لو تو پیدائش کے قابل ہو جاؤ گے۔’’</p>
<p>‘‘تو یہ ساری کائنات،’’ تم نے کہا،‘‘یہ صرف۔۔۔’’</p>
<p>‘‘ایک انڈہ ہے۔’’ میں نے جواب دیا۔‘‘چلو اب اگلے جنم کا وقت ہو گیا۔’’</p>
<p>اور یوں میں نے تمہیں اپنی منزل کی جانب روانہ کر دیا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%88%db%81/">انڈہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d9%86%da%88%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بادشاہ سنتا ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 15 Dec 2017 11:17:38 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Aasem Bakhshi]]></category>
		<category><![CDATA[Atalo Calvino]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اتالو کلوینو]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22771</guid>

					<description><![CDATA[<p>اتالو کلوینو: اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/">بادشاہ سنتا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">اتالو کلوینو کی کہانی A King Listens کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس سے قبل معروف ادبی جریدے “آج” کے شمارہ نمبر 101 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ “آج” اجمل کمال کی زیر ادارت شائع ہونے والا سہ ماہی کتابی سلسلہ/ادبی جریدہ ہے جو اپنے معیار اور افرادیت کے لئے معروف ہے۔ اس رسالے کو سبسکرائب کرنے کے لئے <a href="https://www.facebook.com/City-Press-Bookshop-1574804906077834/?ref=br_rs" target="_blank" rel="noopener">سٹی پریس بک شاپ کے فیس بک صفحے</a> یا اس نمبر پر رابطہ کیجیے: 03003451649</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>عصائے شاہی تمہیں اپنے داہنے ہاتھ میں تھامنا ہے، بالکل سیدھا اور تنا ہوا۔ اسے کسی صورت نیچے نہیں رکھنا۔ خیر، تم اسے رکھو کے بھی کہاں؟ تخت کے ساتھ کوئی میز نہیں، نہ ہی کوئی طاق یا تپائی جہاں کوئی گلاس، ایش ٹرے یا ٹیلی فون رکھا جاسکے۔تختِ شاہی تنگ اور اونچی سیڑھیوں کی چوٹی پر تنِ تنہا موجود ہے۔ اگر کوئی شے اوپر سے نیچے پھینکی جائے تو وہ لڑھکتے لڑھکتے کہیں غائب ہو جائے گی اور کبھی نہ ملے گی۔ خدانخواستہ اگر عصا تمہاری گرفت سے پھسلا تو اسے اٹھانے کے لئے تمہیں ہی تخت سے اتر کر نیچے آنا پڑے گا، آخر بادشاہ کے علاوہ اسے کوئی چھو بھی تو نہیں سکتا۔ اور پھر نگاہیں اس نظارے کی تاب بھی کہاں لا سکیں گی کہ ایک بادشاہ زمین پر لمبا ہو کر سازو سامان کے نیچے سے اپنا عصا یا پھر تاج نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ، جو نیچے جھکنے کے باعث باآسانی تمہارے سر سے گر سکتا ہے۔ چاہو تو کلائی کو تھکن سے بچانے کے لئے کرسی کے بازو پر ٹکا سکتے ہو۔ ہاں میں تمہارے دائیں ہاتھ ہی کی بات کر رہا ہوں، وہی جس میں عصا موجود ہے۔ جہاں تک بائیں ہاتھ کا تعلق ہے تو وہ آزاد رہ سکتا ہے، تم چاہو تو اسے کھجلانے کے لئے استعمال کر سکتے ہو۔ کبھی کبھار سنجابی چوغہ گردن میں خارش کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے کمر اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ مخملیں مسند بھی گرم ہو کر کولہوں اور رانوں میں تکلیف دہ سوزش پیدا کرتی ہے۔ اپنے موٹے کمر بند کا سنہرا قبضہ کھولتے ہوئے، گلوبند، سینے پر سجے تمغے اور اطراف میں موجود اعزازت اِدھر اُدھر سرکاتے ہوئے، تم اپنی انگلیاں بلاتردد کسی بھی خارش زدہ جگہ پہنچاسکتے ہو۔آخرتم بادشاہ ہو، تم پر بھلا کون اعتراض کرسکتا ہے۔یہ تو طے ہے۔</p>
<p>سر ساکت رہنا چاہئے، ہمیشہ یاد رکھو کہ تاج تمہاری منڈیا پر ٹکا ہے، تم اسے کسی گرم ٹوپی کی طرح کانوں پر نہیں کھینچ سکتے۔تاج اوپر اٹھتے اٹھتے ایک مخروطی گنبد میں ڈھل جاتا ہےجو نچلے حصے سے زیادہ چوڑا ، یعنی غیرمتوازن ہے۔ اگر اونگھ آ جائے اور ٹھوڑی سینے سے جا لگے تو تاج نیچے لڑھک جائے گا اور نازک ہونے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، خاص طور پر ہیرےجڑی سنہری زردوزی ۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ یہ پھسلنے والا ہے تو تمہیں بڑی ہوشیاری سے سر کے پٹھوں کو جنبش دیتے ہوئے اسے واپس اپنی جگہ بٹھانا ہے، لیکن خبردار! ایک دم سیدھے نہیں ہونا ورنہ تاج تختِ شاہی کی چھتر سے جا ٹکرائے گا جس کی جھالریں اسے چھو رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں شاہانہ ڈیل ڈول برقرار رکھنا ہے جو کہ تمہاری شخصیت کا اٹوٹ انگ ہے۔</p>
<p>اور پھر تمہیں اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تم بادشاہ ہو، جس شے کی خواہش کرو وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔ انگشت کے ایک اشارے پر ماکولات و مشروبات، چیونگم، دانتوں کا خلال، ہر قسم کے سگریٹ، غرض جو چاہو ایک نقرئی تھال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی حاجت ہو تو تخت آرام دہ اور دبیز ہے، تمہیں بظاہر اپنی حالت قائم رکھتے ہوئے بس کمر تختۂ پشت سے لگا کر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ سونا یا جاگنا برابر ہی ہے، کوئی فرق نہیں کر سکے گا۔ جہاں تک حوائجِ ضروریہ کا سوال ہے تو یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ تخت میں کسی بھی خوددار تخت کی طرح ایک بڑا سا سوراخ موجود ہے ، دن میں دو بار برتن تبدیل کیا جاتا ہے۔ بدبو کی صورت میں زیادہ بار۔</p>
<p>قصہ مختصر، تمہیں حرکت سے بچانے کے لئے پہلے ہی سب بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حرکت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ سب کچھ چھن جائے گا۔اگر تم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو، دو چار قدم ہی لو یا ایک لمحے کے لئےبھی تخت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دو تو کون ضمانت دے سکتا ہے کہ واپسی پر تمہیں کوئی اور اس پر براجمان نہ ملے؟ شاید کوئی تم سے ملتا جلتا، بالکل تمہارے ہی جیسا۔ پھر کون یہ ثابت کرتا پھرے گا کہ بادشاہ وہ نہیں، تم ہو! بادشاہ اس حقیقت سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ تخت پر براجمان ہے، تاج سر پر رکھے ،عصا تھامے ہے۔اب چونکہ یہ صفات تمہاری ہیں تو تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔</p>
<p>اب بھی اکڑتے ہوئے پٹھوں کو سُن ہونے سے بچانے کے لئےٹانگیں پھیلانے کا مسئلہ رہتا ہے، یقیناً یہ ایک اچھی خاصی تکلیف ہے۔ لیکن تم ہمیشہ لاتیں مار سکتے ہو، گھٹنے اوپر کر سکتے ہو، تخت پر چوکڑی مار سکتے ہو، ترکی طرز پر اکڑوں بیٹھ سکتے ہو، یقیناً مختصر وقفوں کے لئے جب ریاستی معاملات سے ذرا فرصت ہو۔ ہر شام پیر دھلانے والے خدمت گار آ جاتےہیں اور پندرہ منٹ کےلئے جوتے اتار دیتے ہیں، صبح عفونت ربائی کے لئے آئی خدمتگاروں کی ایک جماعت معطر روئی سے بغلوں کی عطر پاشی کر دیتی ہے۔ تمہارے وجود پر جسمانی خواہشات کے غلبے کے امکانات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔تنومند بدن سے لے کر نہایت نازک اندام جسمانی خطوط والی قابل کنیزیں منتخب کی گئی ہیں تاکہ وہ باری باری اپنی جالی دار ، لہراتی قبائیں لئے سیڑھیوں کے راستے تمہارے تھڑدلے گھٹنوں تک حاضری دیں۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ تمہارے تخت پر بیٹھے بیٹھے خود کو سامنے، عقب یا اطرافی زاویوں سے پیش کریں، اور تم کچھ ہی لمحوں میں ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہو، ہاں اگر اقلیمِ سلطانی کی مصروفیات اجازت دیں تو کچھ زیادہ وقت جیسے آدھا یا پون گھنٹہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ شاہی چھتر کے پردے گرا دیا جائیں تاکہ بادشاہ بیرونی نظروں سے اوجھل رہے اور موسیقار لطیف دُھنیں بجاتے رہیں۔</p>
<p>خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار تاج پوشی کے بعدتخت بس وہی ہے جہاں تم دن رات حرکت کے بغیر جمے رہو۔ تمہاری ساری پچھلی زندگی بادشاہت کے انتظار ہی پر مشتمل ہے، اور اب جب کہ تم بادشاہ ہو تو تمہیں بس بادشاہت ہی کرنی ہے۔ اگر یہ طویل انتظار نہیں تو پھر بادشاہت اور کیا ہے؟ اس لمحۂ معزولی کا انتظار جب تمہیں تخت و تاج، عصائے شاہی اور اپنے سر سے جدا ہونا پڑے گا۔</p>
<p>ساعتیں سست رفتار ہیں۔ حجرۂ شاہی میں چراغوں کی روشنی ہمیشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔وقت کے بہاؤ کی سنسناہٹ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح ہے، محل کی گردشی راہداریوں یا تمہارے گوشِ سماعت کی گہرائیوں میں جھکڑ سے چلتے ہیں۔ بادشاہوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتیں، مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کا بہاؤ ان کے قبضۂ قدرت میں ہے، مشینوں کے میکانکی قوانین کے آگے سرنگوں ہونا بادشاہوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساعتوں کا مسلسل پھیلاؤ کسی ریتلے تودے کی طرح تمہیں دفنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اسے کیسے جُل دیناہے۔محل کی ہر گھنٹہ بدلتی آوازیں پہچاننے کے لئے تمہیں صرف چوکنا رہنا ہے: دن کے وقت پرچم کشائی کا تُرم بجتا ہے، شاہی خاندان کی مال بردار گاڑیاں گوداموں میں بید کی ٹوکریاں اورتیل کے پیپے اتارتی ہیں، خادمائیں چھتّوں پر ٹنگے قالینوں پر ضرب لگاتی ہیں، شام کو آہنی دروازے بند ہوتے ہوئے چرچراتے ہیں، باورچی خانوں سے برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی ہے ، اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔</p>
<p>محل ایک گھڑیال ہے، اس کی خفیہ آوازیں سورج کا تعاقب کرتی ہیں، تیر کے نادیدہ نشان میخ لگے بوٹوں کی گھسٹتی آوازوں کے ساتھ دمدموں پر محافظوں کی تبدیلی کی خبر دیتے ہیں، رائفل کے بٹ پر لگی ہاتھوں کی ضرب کے جواب میں احاطے سے ٹینکوں کے نیچے روندی جانے والی بجری کی چرمراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔</p>
<p>تخت میں دھنسے ہوئے تم اپنا ہاتھ کان تک لےجاتے ہو، چھتر کے پردوں کو سرکاتے ہو تاکہ وہ کسی مدھم سی سرسراہٹ، کسی خفیف ترین گونج تک کا گلا نہ گھونٹ دیں۔ دن تمہارے لئے آوازوں کا تسلسل ہے۔ کچھ واضح ، کچھ تقریباً مبہم۔ تم نے ان میں امتیاز کرنا ، ان کےمنبع اور دُوری کو جانچنا سیکھا ہے، تمہیں ان کے تسلسل کی پہچان ہے، تم جانتے ہو کہ وقفوں کی معیاد کیا ہے، تم تو پہلے ہی سے ہر اس تھرتھراہٹ، چرمراہٹ یا کھنکھناہٹ کے منتظر ہو جو تمہارے پردۂ سماعت سے ٹکرائے، اپنے تصور میں اس کی توقع باندھے رکھتے ہو، اگر تاخیر ہو تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے ، جب تک مانوس آوازوں میں پیدا ہونے والا خلا پُر نہ کر دیا جائے۔ محل کے ڈیوڑھیوں، زینوں، بالکونیو ں اور غلام گردشوں میں بہت اونچی محرابی چھتیں ہیں،قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں ، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ غرض تمام صوتی راستے حجرۂ شاہی میں ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے دریا خود کو سکوت کی اس عظیم جھیل میں خالی کرتے ہیں، جس میں تم مسلسل تھپیڑوں کے ہاتھوں ہچکولے کھاتے ہوئے تیر رہے ہو۔ ہوشیاری سے، چوکنے ہو کر ان کا سامنا کرتے اور ان کی تہیں کھولتے ہو۔ محل کیا ، ایک مرغولہ،گردشیں ہی گردشیں، ایک گوشِ جسیم، جس کی ماہیت و ساخت نام اور کام بدلتی رہتی ہے: مخروطی خیمے، سرنگیں،محرابیں، بھول بھلیاں۔تم تہہ میں دبکے ہوئے ہو، گوشِ محل کے سب سے اندرونی حصے میں، یعنی اپنے ہی کان کے اندر۔ محل بادشاہ کا کان ہے۔</p>
<p>یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ ہر چلمن، ہر پردے، ہر منقش دیوار کے پیچھے جاسوس موجود ہیں۔ تمہارے جاسوس، تمہاری خفیہ تنظیم کے ایجنٹ، جن کا کام محلاتی سازشوں کی تفصیلی رپورٹ دینا ہے۔محل دشمنوں سے اس طرح بھرا ہے کہ دوستوں دشمنوں میں فرق مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن سازش میں تمہارے وزراء اور عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر خفیہ تنظیم میں مخالف خفیہ تنظیم کے ایجنٹ اپنی جگہ بنا ہی چکے ہوتے ہیں۔ شاید تمہارے تمام وظیفہ خوار ایجنٹ سازشیوں کے لئے بھی کام کرتے ہوں جس صورت میں وہ خود بھی سازشی ہوئے، لہٰذا تم ان کا وظیفہ جاری رکھنے پر مجبور ہو تاکہ جب تک ہو سکے انہیں خاموش رکھا جا سکے۔</p>
<p>برقی مشینوں سے نکلے خفیہ رپورٹوں کے ضخیم بنڈل روزانہ تمہارے پایۂ تخت کے آگے ڈھیر کر دئیے جاتے ہیں۔انہیں پڑھنا کارِ عبث ہے: تمہارے جاسوس صرف سازشیں ہونے کی تصدیق ہی کر سکتے ہیں تاکہ جاسوسی جاری رکھنے کا جواز قائم رہے، اگلے ہی سانس میں وہ اپنی سرگرمیوں کو پُراثر ثابت کرنے کے لئے کسی فوری خطرے کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ خیر کوئی بھی یہ گمان تو نہیں رکھتا کہ تم ان رپورٹوں کو پڑھتےہو گے، حجرۂ شاہی میں اتنی روشنی نہیں کہ کچھ پڑھا جا سکے، مفروضہ یہی ہے ایک بادشاہ کو پڑھنے کی کیا ضرورت، جو اسے معلوم ہونا چاہئے وہ پہلے ہی جانتا ہے۔اپنی یقین دہانی کے لئے تمہیں بس معمول کے آٹھ گھنٹوں کے دوران خفیہ تنظیم کے دفاتر سے آتی برقی مشینوں کی آوازیں ہی سننی ہیں۔ کارندوں کا ایک لشکر میموری بینکوں میں نیا آنے والا ڈیٹا بھرتا رہتا ہے، اسکرینوں پر پیچیدہ جدول بھرے جاتے ہیں، پرنٹروں سے وہی پرانی رپورٹیں بس بارش یا صاف موسم کی خبروں کے ردوبدل کے ساتھ نکالی جاتی ہیں۔ یہی پرنٹر کم از کم ردوبدل کے ساتھ سازشیوں کے خفیہ اخبار برآمد کرتے ہیں، غداریوں کے روزمرہ حکم نامے، تمہاری معزولی اور قتل کے تفصیلی منصوبے۔</p>
<p>تم اگر چاہو تو انہیں پڑھ سکتے ہو۔ یا پھر یوں ظاہر کرو کہ پڑھ چکے ہو۔تم یا تمہارے دشمنوں کے نمک خوار جاسوسوں کی سُن گُن پر مشتمل روزنامچے خفیہ فارمولوں میں ڈھالے جاتے ہیں اور پھر اُن کمپیوٹر پروگراموں میں داخل کر دئیے جاتے ہیں جو سرکاری سانچوں کے مطابق خفیہ رپورٹیں تیار کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ چاہے خطرناک ہویا اطمینان بخش، یہ مستقبل جو ان صفحات میں منتقل ہو رہا ہےتمہارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ یہ تمہاری بے یقینی کی کیفیت ختم نہیں کرتا۔ تم جس راز سے پردہ اٹھنے کے خواہش مند ہو وہ کافی مختلف ہے، وہ خوف اور امید جو تمہاری راتوں کی نیند اڑائے رکھتی ہے، تمہاری سانسیں روکے رکھتی ہے، تمہارے کان جو سننے کے خواہش مند ہیں، اپنے بارے میں، اپنی تقدیر کے بارے میں۔</p>
<p>اسی لمحے جب تم نے تخت سنبھالا، وہ گھڑی جب یہ محل تمہارا ہوا،یہ تمہارے لئےاجنبی ٹھہرا ۔ رسمِ تاج پوشی کے جلوس کے آگے چلتے ہوئے، تم مشعل اور مورچھل برداروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آخری باراس دالان میں پہنچ گئے جہاں سے نکلنا اب نہ تو معقول ہے اور نہ ہی شاہی رسم و رواج کے مطابق ہے۔ ایک بادشاہ کا کیا کام کہ وہ راہداریوں، دفاتر، رسوئیوں میں چہل قدمی کرتا پھرے! اس حجرۂ شاہی کے علاوہ اب محل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔</p>
<p>تمہارے تصور میں محفوظ ان کمروں کی آخری شبیہ تیزی سے محو ہو چکی ہے، لیکن خیر چونکہ وہ تو جشن و تقریبات کے لئے سجائے جانے کے باعث پہلے ہی ناقابلِ شناخت تھے، تم ویسے بھی ان میں کھو چکے ہوتے۔</p>
<p>ہاں اُس لڑائی کے کچھ بچے کھچے مناظر اب بھی تمہاری یاداشت میں تازہ ہیں جب تم اپنے اُس وقت کے وفادار (اور اب یقیناًتم سے غداری پر مائل) ساتھیوں کے ہمراہ محل پر حملے کے لئے بڑھے تھے: مارٹر گولوں سے خستہ ہوتی چھتیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے دیواروں میں چھید اور دراڑیں۔ تم اب اُس کو یہ محل نہیں سمجھ سکتے جس میں تم ابھی اس تخت پر براجمان ہو، اگر تم ایک بار پھر خود کو اُسی محل میں پاؤ تو یہ اشارہ ہو گا کہ ایک پورا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب تمہاری بربادی تمہیں منتخب کر چکی ہے۔</p>
<p>اس سے بھی پہلےاُن سالوں میں جب تم اپنے پیش رو کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ، تم نے ایک اور محل دیکھا تھا کیوں کہ تمہارے مصاحبوں کو کچھ مخصوص کمروں کی بجائے دوسرے دئیے گئے، اور تم یہی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے کہ بادشاہ بننے کے بعد ان جگہوں کی حالت میں کیا تبدیلیاں لاؤ گے۔تخت پر براجمان ہوتے ہی ہر بادشاہ کا پہلا حکم تمام کمروں، سازو سامان، آویزاں تصاویر ، سجاوٹ وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔تم نے بھی یہ سوچتے ہوئے ایسا ہی کیا کہ یہ تمہاری ملکیت کی اصل علامت ہے۔لیکن اس کے برعکس تم نے مزید یادوں کو فراموشی کی اس چکّی میں ڈال دیا جس سے کچھ واپس نہیں آتا ۔</p>
<p>یقیناً محل میں کچھ نام نہاد تاریخی حجرے بھی ہیں جنہیں تم ایک بار پھر دیکھنا چاہو گے، حالانکہ انہیں اوپر سے نیچے تک تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ایامِ رفتہ کے ساتھ کھو جانے والی قدامت انہیں واپس لوٹائی جا سکے۔لیکن وہ کمرے ابھی حال ہی میں سیاحوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔ تمہیں ان سے کافی فاصلے پر ہی رہنا چاہئے۔ اپنے تخت میں سمٹے ہوئے تم چوک میں رکنے والی بسوں کے شور ، گائیڈوں کی یاوہ گوئی اور بھانت بھانت کی بولیوں سے اپنے صوتی کیلنڈر میں گزرتے دنوں کی شناخت کرتے ہو۔ تمہیں اُن دنوں بھی وہاں نہ پھٹکنے کی باقاعدہ تجویز دی گئی ہے جب وہ کمرے مقفل ہوتے ہیں: خاکروبوں کے جھاڑوؤں ، بالٹیوں اور صابن کے کنستروں سے ٹکراؤ گے۔رات کو کھو جاؤ گے، اپنے راستے میں آنے والے خطرے کی انگارہ چشم علامتیں تمہارے لئے رکاوٹ ہوں گی، صبح تم خود کو ویڈیو کیمروں سے لیس جتھوں، اصل پر نیلے غلاف چڑھائے نقلی دانتوں والی بڑی بوڑھیوں کے لشکروں اور پتلونوں سے باہر لٹکتی پھول دار قمیصوں اور سروں پر تنکوں کے چوڑے ہیٹ پہنے فربہ مردوں کے نرغے میں پاؤ گے۔</p>
<p>تمہارے لئے اپنا محل اجنبی اور نامعلوم ہونے کے باوجود تم ہر سرسراہٹ کے تعین ، کھانسی کی ہر آواز کی کسی نقطۂ مکان میں تحدید ، ہر صوتی علامت کے ارد گرد دیواروں کا تصور باندھ کراس کی ذرہ ذرہ تعمیرِ نو کر سکتے ہو، چھتیں، بغلی راستے، ہر اس خلا اورہر اس رکاوٹ کو شکل بخش دو جہاں آوازیں پھیلتی یا ٹکراتی ہیں، خود آوازوں کو اجازت دو کہ وہ تصویروں کو جنم دیں۔ایک نقرئی کھنک محض کسی چمچ کے تھالی سے گرنے کی آواز نہیں جہاں اسے ٹکایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی میز کا کونا بھی ہے جس پر گوٹا کناری والا سوتی کپڑا بچھا ہے، جس پر ایک ایسے اونچے روزن سے چھنتی روشنی پڑ رہی ہے جہاں تخم دان پھولوں کی بیلیں معلق ہیں۔ ایک مدھم دھمک صرف کسی چوہے پر جھپٹتی ایک بلی نہیں بلکہ میخ دار تختوں سے بند سیڑھیوں کے نیچے ایک مرطوب کیچڑ والی جگہ بھی ہے۔</p>
<p>محل ایک صوتی تشکیل ہے جو ایک لمحہ پھیلتی ہے تو دوسرے ہی لمحے سکڑتی ہے، زنجیروں کی لڑی کی طرح تن جاتی ہے۔ تم گونجتی صداؤں کی بیساکھی کے سہارے اس میں چل پھر سکتے ہو، دراڑوں ، جھنکاروں، بدکلامیوں، سانسوں کے اتار چڑھاؤ، سرسراہٹ، بڑبڑاہٹ، غرغراہٹ کا تعین کرتے ہوئے۔</p>
<p>محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمہارا بدن تمہیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے، تمہاری موت وہاں پہلے ہی سے قیام پذیر ہے، تم تک پہنچنے والے اشارے شاید تمہیں تمہارے ہی اندر دفن ایک خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا ترچھا جسم اب تمہارا نہیں ، جب سے تاج نے تمہارے سر کا گھیراؤ کیا ہے بدن تمہارے لئےقابلِ استعمال نہیں ، اب تمہاری ذات تم سے پہیلیوں میں باتیں کرنے والی ایک اندھیری، اجنبی رہائش گاہ کے طول و عرض میں پھیلی ہے ۔لیکن کیا واقعی کچھ بدلا ہے؟ پہلے بھی تو تم اپنے بارے میں کم کم بلکہ شاید کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔اور اسی طرح خوف زدہ تھے جیسے اب ہو۔</p>
<p>محل آوازوں کا ایک باقاعدہ تانا بانا ہے، دل کی دھڑکن کی طرح ہمیشہ یکساں، جس سے باقی تمام غیرمتوقع، بے ربط آوازیں ابھرتی ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے۔ کہاں؟ کوئی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترتا ہے، ایک گھٹی گھٹی چیخ سنائی دیتی ہے۔ طویل، تناؤ کی کیفیت سے لبریز ساعتیں گزرتی ہیں۔ سیٹی کی ایک لمبی کٹیلی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے، شاید کسی کھڑکی یا منارے سے۔ نیچے سے ایک اور سیٹی جواب دیتی ہے۔ پھر خاموشی۔<br>
کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہے جو انہیں الگ الگ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہانی ہے تو کیا وہ کہانی تم سے متعلق ہے؟ کیا نتائج کا کوئی سلسلہ آخرکار تم سے متعلق ٹھہرا؟ اور کیا یہ اُسی سلسلۂ حوادث سے جڑی بس ایک اور غیرمتعلق واردات ہے جو محل کے روزمرہ کا معمول ہیں؟ ہر وہ قصہ جو تمہاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے خود تمہیں تمہارے ہی پاس واپس لے آتا ہے، محل میں کچھ ممکن نہیں جب تک اس واقعے میں بادشاہ کا کوئی امر شامل نہ ہو، چاہے فعال یا پھر غیر فعال۔ کسی مبہم ترین سراغ سے بھی تم اپنا زائچہ بناسکتے ہو۔</p>
<p>شاید خطرہ آوازوں کی بجائے سلسلۂ سکوت سے ہے۔ سنتریوں کی تبدیلی کی آواز سنے کتنے گھنٹے ہو گئے؟ اور اگر تمہارے وفادار محافظ سازشیوں نے گرفتار لئے ہوئے تو؟ باورچی خانوں سے برتنوں کے ٹکرانے کی مانوس آوازیں کیوں نہیں سنائی دے رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے بھروسے کے باورچیوں کی جگہ قاتلوں کے کسی ایسے گروہ نے لے لی ہو جو خاموشی سے واردات کرنے میں ماہر ہوں، پکوانوں میں چپکے چپکے زہر ملا رہے ہوں۔۔۔؟<br>
شاید خطرہ خود باقاعدگی میں ہے۔ تُرمچی روز کی طرح ٹھیک معمول کے مطابق تُرم بجا دیتا ہے، لیکن کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غیرمعمولی تعین سے یہ کام کر رہا ہے؟ کیا تمہیں ڈھول کی تھاپ میں ایک عجیب سا زور، جوش و خروش کی ذرا سی زیادتی محسوس نہیں ہوتی؟ آج پریڈ کرتے ہوئے دستوں کی گونج میں میں ایک مغموم سا زیرو بم ہے، جیسے کوئی فائرنگ اسکواڈ چلا جا رہا ہو۔۔۔ٹینکوں کے پہیے کسی چرچراہٹ کے بغیر بجری پر سے گزر جاتے ہیں جیسے انہیں معمول سے زیادہ تیل دیا گیا ہو، کیا کسی آنے والی لڑائی کے پیشِ نظر؟</p>
<p>شاید حفاظت پر مامور سپاہی اب وہ نہیں جو تمہارے وفادار ہیں۔۔۔یا شاید وہ کسی تبدیلی کےبغیر ہی سازشیوں سے جا ملے ہیں۔۔۔شاید ہر چیز پہلے کی طرح ہی چلتی رہے،لیکن محل تو پہلے ہی غاصبوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے، انہوں نے تمہیں اب تک اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ آخر اب تم کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ وہ تمہیں ایک ایسے تخت کی سپردگی میں فراموش کر چکے ہیں جو اب مزید ایک تخت نہیں۔ محلاتی زندگی کا روزمرہ معمول اس حقیقت کی علامت ہے کہ تختہ الٹا جا چکا ہے، ایک نئے تخت پر ایک نیا بادشاہ براجمان ہے، تمہیں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اتنی ناقابلِ تنسیخ ہے کہ اس پر جلد عمل درآمد کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔۔</p>
<p>اس ہذیانی کیفیت کو چھوڑو۔ محل میں سنائی دینے والی ہر حرکت ٹھیک ٹھیک انہیں قواعدو قوانین کے مطابق ہے جو تم نے وضع کئے ہیں: فوج کسی چالو مشین کی طرح تمہارا حکم بجا لاتی ہے، محل کے رسم و رواج دسترخوان لگانے اور سمیٹنے میں رتی برابر تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، پردوں کا گرانا اور تقریباتی قالینوں کا کھولنا ہدایات کے مطابق ہے، ریڈیو پروگرام وہی ہیں جن کا حکم تم نے پہلی اور آخری بار دیا تھا۔ حالات تمہارے قابو میں ہیں، کوئی بھی تمہارے ارادے یا اختیار کوجُل نہیں دے سکتا۔ نالی میں ٹراتا مینڈک، آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کا شور، بوڑھے خزانچی کا پھوہڑ پن، غرض ہر شے تمہارے منصوبے کے مطابق رہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے کان کو سنائی دے، تمہارا ذہن ہر شے سوچ چکا ہوتا ہے، غوروفکر کر چکا ہوتا ہے، فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک مکھی بھی تمہاری خواہش کے بغیر نہیں بھنبھنا سکتی۔</p>
<p>لیکن شاید تم پہلے کبھی سب کچھ گنوا دینے کے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب جب تمہارے خیال میں سب کچھ تمہاری گرفت میں ہے۔ محل کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ تصور کرنے کا فریضہ، اسے اپنے ذہن میں قید رکھنے کی ذمہ داری تمہیں ایک تھکا دینے والے دباؤ میں رکھتی ہے۔ وہ ڈھٹائی جو طاقت کی بنیاد ہے، کبھی اتنی نازک نہیں ہوتی جتنی لمحۂ فتح میں۔</p>
<p>تخت کے قریب دیوار کا ایک ایسا زاویہ ہے جہاں وقفے وقفےسے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے: دور سے آتی ہوئی دھمک جیسے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ کیا کوئی دیوار کے دوسری طرف ضربیں لگا رہا ہے؟ لیکن یہ شاید دیوار سے زیادہ ایک ستونچہ ہے، باہر کو نکلتا ہوا ایک سہارا، کوئی کھوکھلا ستون، شاید ایک عمودی نلی جو محل کی تمام منزلوں میں تہہ خانوں سے چھتوں تک جاتی ہے، مثال کے طور پر ایک ایسا بادکش جو آتش دانوں سےشروع ہوتا ہے۔یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں عمارت کی مکمل اونچائی تک آوازیں سفر کرتی ہیں۔ نہ جانے کس منزل پر، لیکن حجرۂ شاہی سے متصل بالائی یا زیریں کمرے میں کوئی نہ کوئی شے اس نلی سے ٹکرا رہی ہے۔کوئی شے یا کوئی ذی روح۔ کوئی نہ کوئی وقفے وقفے سے ضرب لگا رہا ہے، گھٹی گھٹی تھرتھراہٹ یہی ظاہر کرتی ہے کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔ ضربیں جو کسی اندھیری گہرائی سے ابھرتی ہیں، ہاں ہاں نیچے سے، زیرزمین ابھرتی ہوئی کھٹکھٹانے کی آواز۔ کیا یہ کوئی اشارے ہیں؟</p>
<p>ایک بازو پھیلا کر تم کونے میں مکا مار سکتے ہو۔ ضربوں کو بالکل ویسے ہی دہراتے ہو جیسے وہ سنائی دے رہی ہیں۔ خاموشی۔ اے لو! پھر آواز آئی۔ وقفوں اور تکرار کا سلسلہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔ تم بھی اسی طرح پھردہراتے ہو۔ پھر انتظار۔ اب ایک بار پھر۔ لیکن اب جواب کے لئے بہت انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ کوئی بات چیت شروع ہو گئی ہے؟</p>
<p>مکالمے کے لئے زبان جاننا ضروری ہے۔ضربوں کا ایک سلسلہ، ایک کے بعد ایک، ایک وقفہ، پھر کچھ ایک ساتھ اور علیحدہ علیحدہ ضربیں: کیا یہ اشارے کسی کوڈ میں ڈھالے جا سکتے ہیں؟ کیا کوئی حرف بُن رہا ہے، یا لفظ؟ کیا کوئی تم سے رابطہ کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے پاس کچھ اہم خبریں ہیں؟ سادہ ترین علامت کو آزماؤ: ایک ضرب ’’الف‘‘، دو ضربیں ’’با‘‘۔۔۔یا پھر مورس کوڈ آزما لو، مختصر اور طویل آوازوں میں امتیاز کی کوشش کرو۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ بھیجا جانے والا پیغام ایک نغمگی رکھتا ہے، جیسے موسیقی کی کوئی عبارت، یہ تمہاری توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ رابطہ قائم ہو، تم سے بات ہو سکے۔۔۔لیکن یہ تمہارے لئے کافی نہیں: اگر ضربوں کی آواز میں باقاعدگی ہے تو ان سے کوئی لفظ ضرور بننا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ پھر جملہ۔ ۔۔اور اب تم محض ان ٹپ ٹپ گرتےصوتی قطروں پر اپنے من چاہے معانی کا غلاف چڑھانے کے لئے مچل رہے ہو گے: ’’جہاں پناہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ کے وفادار نمک خوار۔۔۔تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیں گے۔۔۔عمر دراز ہو۔۔۔‘‘ کیا وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا تم تمام قابلِ تصور علامتوں کے اطلاق کے بعد یہی سمجھ سکے ہو؟ نہیں، اس قسم کی تو کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اگر کچھ تھا بھی تو بھیجا جانے والا پیغام بہت مختلف تھا، کچھ اِس سے ملتا جلتا:’’حرامی غاصب کتے۔۔۔انتقام۔۔۔تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘</p>
<p>شانت ہو جاؤ۔ شاید یہ سب تمہارا تخیل ہی ہے۔ صرف حادثہ ہی حروف اور الفاظ کو اس طرح ملا سکتا ہے۔ شاید یہ اشارے ہی نہ ہوں: ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز ہو سکتی ہے، یا کوئی بچہ گیند اچھا ل رہا ہو، یا کوئی کیل ٹھونک رہا ہو۔ کیل۔۔۔’’تابوت۔۔۔تمہارا تابوت۔۔۔‘‘ اب ضربیں یہ الفاظ تشکیل دے رہی ہیں: ’’میں اس تابوت سے نکلوں گا۔۔۔تم اس میں داخل ہو گے۔۔۔زندہ درگور۔۔۔’’ وہی بے معنی الفاظ۔ صرف تمہارا تخیل ہی اس بے شکل ارتعاش پر ہذیانی الفاظ کو مسلط کر سکتاہے۔</p>
<p>یہ تصور بھی کر سکتے ہو کہ اگر تم محل میں خدا جانے کہاں موجود کسی سننے والے کو بے ترتیبی سے اپنی مٹھی کے جوڑ مار کر مخاطب کرو تو وہ الفاظ اور جملے سمجھ سکتا ہے۔کوشش کرو۔ ذرابھی توقف کے بغیر۔ اب کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کیا غور ، جیسے ہجے کر رہے ہو؟ تمہارے خیال میں تم اس دیوار کے دوسری جانب کیا پیغام بھیج رہے ہو؟’’غدار! تم بھی! میرے سامنے یہ مجال۔۔۔میں تمہیں شکست دے چکا ہوں۔۔۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔۔۔‘‘ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کسی نادیدہ آواز کے سامنے کیا جواز تراشیاں کر رہے ہو؟ کس کے سامنے گڑگڑا رہے ہو؟ ’’میں نے تمہاری جان بخشی تھی۔۔۔تمہاری باری آئی تو۔۔۔یادرکھنا۔۔۔‘‘ تمہارے خیال میں زیرِ زمین کیا چیز دیوار پر یہ ضربیں لگا رہی ہے؟ کیا تمہارا پیش رو ا ب تک زندہ ہے، وہی بادشاہ جسے تم نے اس تخت سے بے دخل کیا تھا، ہاں یہی تخت جس پر تم بیٹھے ہو؟ کیا یہ وہ قیدی ہے جسے تم نے محل کے گہرے ترین زندان میں قید کیا تھا؟<br>
تم ہر رات اسی بے سود امید پر اِس زیرِ زمین ڈھول کی تھاپ پر کان لگائے رکھتے ہو کہ شاید کوئی پیغام پلے پڑ جائے۔ لیکن یہ شک بھی کہیں اندر ہی اندر کلبلا رہا ہے کہ یہ صرف تمہارے کان بج رہے ہیں، یا پھر دل بلّیوں اچھل رہا ہے، یا پھر یہ وہ کھوئی ہوئی نغمگی ہے جو کبھی کبھار یاداشت میں لوٹ کر خوف جگادیتی ہے۔ وائے پشیمانی!آنکھ لگتی ہے تو رات کو گزرنے والی ریل گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ ہمیشہ الفاظ کی ایک ہی تکرار میں کسی یک سُرےلحن کی طرح ڈھل جاتی ہے۔نہیں! بلکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ آوازوں کی ہر تال تمہارے کانوں میں کسی قیدی کی آہ و بکا بن کر ابھرے، تمہارے ۔۔۔شکاروں کی گالیاں، کسی وجہ سے کام تمام نہ ہو سکنے والے دشمنوں کے سانسوں کی منحوس دھونکنی۔</p>
<p>عقل مند ہو کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بھی سب کچھ سن رہے ہو، لیکن اتنا یقین رکھو: تم دراصل خود ہی اپنے سامع ہو، یہ بدروحیں تمہارے اندر اتر کر ہی قوتِ گویائی پاتی ہیں۔ کوئی ایسی بات خود کو قربِ سماعت کے لئے کرب سے مچل رہی ہے جو تم خود تک سے کہنے کے قابل نہیں۔۔۔نہیں مانتے؟ تمہیں حتمی ثبوت درکار ہے کہ جو تم سن رہے ہو وہ اندر سے اٹھ رہا ہے نہ کہ باہر سے؟ حتمی ثبوت تو خیر کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ محل کے زندان قیدیوں، معطل بادشاہوں، غداری کے ملزم وزراء اور اُن اجنبیوں سے بھرے پڑے ہیں جو پولیس کی روزمرہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہتھے چڑھے ہیں، پھر وہ شکار بھی ہیں جو انتہائی محفوظ کوٹھڑیوں میں پھینک کر بھلا دئیے جا چکے ہیں۔۔۔چونکہ یہ تمام لوگ احتجاجی نعروں اور باغی نغموں کے ساتھ رات دن اپنی بیڑیاں ہلاتے یا جیل کی سلاخوں سے اپنے چمچ ٹکراتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ایک فطری بات ہے کہ اس شور شرابے کی گونج اوپر تم تک پہنچ جائے، حالانکہ تمہاری دیواروں اور چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آواز کا گزر ممکن نہیں اور اس حجرے کے گرد بھی دبیز پردے گرائے گئےہیں۔ یہ ناممکن نہیں کہ انہی زندانوں میں سے آتی ہوئی آوازوں کا تسلسل جو پہلے تمہیں کسی کھٹکھٹاہٹ کا زیروبم محسوس ہوتا تھا اب ایک گہری ، ہولناک گڑگڑاہٹ میں تبدیل ہو چکا ہو۔ ہرمحل کی بنیادوں میں کچھ ایسے تہہ خانے موجود ہوتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی زندہ درگور ہوتا ہے یا کوئی مردہ شخص ابدی سکون حاصل کر لیتا ہے۔تمہیں ہاتھوں سے اپنےکانوں کو ڈھکنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ آوازیں اسی طرح آتی رہیں گی۔</p>
<p>اگر تم کسی گھن چکر کی طرح ان میں پھنس نہیں جانا چاہتے تو محل کی آوازوں کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں! باہر نکلو! دور نکل جاؤ! آوارہ گردی کرو! اندھیرے محل کے باہر شہر پھیلا ہوا ہے، راجدھانی کا دارالخلافہ، تمہاری اقلیمِ سلطانی۔ تم اس یاسیت کی سیاہی میں ڈوبے ہوئے محل نہیں بلکہ شہنائیوں جیسی سینکڑوں آوازوں سے مترنم، رنگا رنگ شہروں کے مالک ہونے کے لئے بادشاہ بنے ہو!</p>
<p>شہر رات گئے پیر پسارے لیٹا ہے، خمیدہ پڑا سوتا، خراٹے لیتا، خواب میں بڑبڑاتاہے: وہ اِدھر سے اُدھر کروٹ لیتا ہے توسایوں اور روشنیوں کے قطعے اپنی جگہوں سے سرکتے ہیں۔ ہر صبح شادمانی، انتباہ یا خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں: وہ پیغامات بھیجتے ہیں لیکن تم کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ دراصل تمہیں کیا بتانا چاہتے ہیں۔مرنے والوں کے لئے جاری آوہ و بکا میں تمہاری سماعت سے پُرجوش رقص و موسیقی کی آوازیں بھی ٹکراتی ہیں، پھر مسرت و شادمانی کےاس گجر کے درمیان ہی غضبناک آوازوں کا ایک دھماکہ سنائی دیتاہے۔ تمہیں تنفسِ شہر کی سماعت پر کان لگانے چاہئیں ، سانسیں جوخستہ و شکستہ ہیں یا پھر مطمئن اور گہری ۔</p>
<p>شہر تہہِ گوش سے اٹھتی ایک مدھم گڑگڑاہٹ ہے، آوازوں کی ایک بھنبھناہٹ، پہیوں کا ایک شور۔ جب محل میں ہر طرف سکوت ہوتا ہے تو شہر حرکت کرتا ہے، گلیوں میں پہیے دوڑتے ہیں، گلیاں کیا ہیں گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں، گراموفون پر قرص گردش میں ہے ، کسی پرانے ریکارڈ پر سوئی رگڑ کھاتی ہے، وقفوں وقفوں سے موسیقی کے لہری جھونکے چلتے ہیں، گلیوں کی گرجتی دراڑوں میں ڈوبتے ہیں اور پھر چمنیوں پر نصب سمت نماؤں کو گھمانے والی ہواؤں کےساتھ ابھرتے ہیں۔ شہر ایک ایسا پہیہ ہے جس کے مدار پر ساکت بیٹھے تم محوِ سماعت ہو۔</p>
<p>گرمیوں میں شہر محل کی کھلی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا ہے، اپنی صداؤں، قہقہوں اورآنسوؤں کے دوروں، ہوائی چرخیوں کے شور اور ٹرانسسٹروں کے ناگوار پٹاخوں کے ساتھ تمام کھلی کھڑکیوں سے اڑتا ہوا اندر آ پہنچتا ہے۔ تمہارے لئے بالکونی سے باہر جھانکنا بے معنی ہے، اوپر سے چھتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے تم ان گلیوں کو کیا خاک پہچان پاؤ گے جن میں تم نے تاج پوشی کے روز سے آج تک قدم بھی نہیں رکھا، جب جلوس اعلام و آرائش اور محافظوں کی قطاروں میں سے گزررہا تھا اور اسی وقت سے ہر شےدور، بہت دور جاتی ہوئی دھندلی محسوس ہو رہی تھی۔</p>
<p>شام کی سرد لہر حجرہ ٔ شاہی تک تو نہیں پہنچتی لیکن تم اسے شامِ گرما کے اس مدھم شور سے پہچان لیتے ہو جس کی پہنچ تختِ شاہی تک ہے۔تمہیں تو بالکونی سے باہر جھانکنے کا خیال تک ترک کر دینا چاہیے: مچھروں کے کاٹنے کے علاوہ تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا،کچھ ایسا نہیں جو پہلے ہی اس گرج میں شامل نہ ہوجو کان اوپر کسی خول کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ شہر کسی گھیرے دار خول یا پھر کان کی طرح اپنی گہرائی میں کسی سمندر کی سی گھن گرج رکھے بیٹھا ہے: اگر تم لہروں کی آواز پر کان لگاؤ تو محل کیا ہے ، شہر کیا ہے، کان، خول ، غرض سب کچھ گڈمڈ ہو جائے گا۔<br>
شہر کی آوازوں میں تمہیں ہر کچھ دیر کے بعد ایک تال، سُروں کا ایک سلسلہ، ایک دُھن سنائی دیتی ہے: نفیریوں کے باجے، جلوسوں کے نعرے،ا سکول کے بچوں کے اجتماعی نغمے، جنازے، احتجاجیوں کے بڑھتے قدموں کی تاپ میں رچے بسے انقلابی گیت، احتجاجی جلوس کو رفع دفع کرتے تمہارے مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے سپاہیوں کے تعظیمی ترانے ، ہر کسی کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شہر اپنی مسرتوں میں ڈوبا ہے، کسی نائٹ کلب کے لاؤڈ اسپیکر سے اونچی آواز میں بجتی موسیقی، بلوے میں مارے جانے والی کسی غریب کی موت پر عورتوں کے نوحے۔یہی وہ موسیقی ہے جو تم سنتے ہو، لیکن کیا اسے موسیقی کہہ سکتے ہیں؟ تم آواز کی ہر ٹھیکری سے اس طرح اشارے اور معلومات جمع کرتےہو جیسے اس شہر میں تمام گانے بجانے اورموسیقی سننے والے تمہیں واضح اور غیر مبہم پیغامات بھیجنا چاہتے ہیں۔ تمہاری تاج پوشی کے دن سے تم موسیقی نہیں بلکہ موسیقی کے استعمال کی بابت خبریں سن رہے ہو: اشرافیہ کے رسوم و رواج میں، عوام کے میلوں ٹھیلوں میں، روایات، ثقافت، اور فیشن کے تحفظ میں۔ اب تم خود سے پوچھتے ہو کہ تمہارے لئے تب سماعت کے کیا معنی ہوا کرتے تھے جب تم سُروں کو صرف اور صرف اپنی روح میں اتارنے کے لئے موسیقی سنا کرتے تھے؟</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/ckMbqXl0eKU" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لئے تمہیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ٹرا لالالا‘‘ کرتے ہوئے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمہارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔اب ’’ٹرالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمہارے ذہن میں نہیں آتا ۔</p>
<p>یاد ہے وہ آواز، وہ نغمہ ، وہ نسوانی آواز جو کبھی کبھار ہوا کے دوش پر کسی کھلی کھڑکی سے تم تک پہنچ جاتی تھی، یاد ہے وہ محبت کا گیت جو گرمیوں کی راتوں میں ہوا کے جھونکے تم تک لاتے تھے، یاد ہے وہ لمحہ جب تمہارے اس گمان کے ساتھ ہی کہ تم نے اس کی کوئی سُر پکڑ لی ہے ، وہ کھو چکا ہوتا تھا، اور تمہیں کبھی یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ آیا وہ تم نے واقعی سنا تھا یا وہ محض تمہارے تخیل ، تمہاری تمنا کی پیداوار تھی ، تمہاری طویل شب بیداری کے ہیبت ناک خواب میں اسی عورت کے گانے کی آواز گونجتی ہے۔ تم خامشی و ہوشیاری سے اسی کے منتظر ہو: اب تمہارے کان خوف کے مارے تو ہرگز نہیں کھڑے۔اب ایک بار پھر تم وہی نغمہ سن رہے ہو جو اپنی ہر جداگانہ سُر، ہر رنگ و آہنگ کے ساتھ ایک ایسے شہر سے تم تک پہنچ رہا ہے جسے ہر قسم کی موسیقی اکیلا چھوڑ چکی ہے۔</p>
<p>کسی شے کی کشش محسوس کئے بھی تمہیں ایک عرصہ گزر چکا، شاید اس وقت سے جب تم نے اپنی تمام تر قوتیں تخت کے حصول میں لگا دیں۔ اب تمہیں بس یہی یاد ہے کہ اپنے دشمنوں کو زیر کرلینے کی تمنا کیسے تمہیں نگل رہی تھی کہ کسی دوسری چیز کی خواہش اور خیال تک نہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی دن رات موت کا خیال اسی طرح تمہارے ساتھ تھا جیسے آج جب تم رات کے سناٹے اور اپنے خلاف جنم لیتی بغاوتوں سے بچاؤ کی خاطر نافذ کئے گئے کرفیو کی خامشی میں شہر کو گھورتے ہو، اور سنسان گلیوں میں محافظ گشتی دستوں کے دھپ دھپ کرتے قدموں کا تعاقب کرتے ہو۔ پھر جب سناٹے میں کسی بے نور روزن کی دہلیز پر موجود وہ نادیدہ نسوانی آواز اپنے سُر بکھیرتی ہے تو اچانک زندگی کی بھولی بسری یادیں واپس لوٹ آتی ہیں، تمہاری تمنا ئیں کسی شے کو پا لیتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ نغمہ نہیں جو تم نے نہ جانے کتنی بار سنا ہو گا، نہ ہی یہ عورت جو تم نے کبھی نہیں دیکھی: تم تو دراصل اس آواز کے قتیل ہو جس طور وہ خود کو گیت میں پیش کرتی ہے۔</p>
<p>یہ آواز یقیناً کسی انسان کی ہے، کسی بھی جیتےجاگتے، یکتا، بے مثل انسان کی طرح ایک انسان، لیکن پھر بھی آواز انسان تو نہیں ہوتی، یہ تو اشیاء کے انجماد سے جدا، ہوا میں معلق کوئی چیز ہے۔آواز بھی یکتا اور بے مثل ہوتی ہے لیکن شاید انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طور پر: یہ ممکن ہے کہ آواز اور انسان میں مماثلت نہ ہو۔ یا پھر وہ کسی ایسی خفیہ طرز پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں جس کا ادراک پہلی نظر میں ناممکن ہو: ممکن ہے کہ آواز کسی انسان کا پوشید ہ اور اصل ترین جزو ہو۔ کیا وہ تمہارا غیر مجسم جزو ہے جو اس غیر مجسم آواز کو سنتا ہے؟ اس صورت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم نے وہ آواز اصل میں سنی یا محض تمہاری یاداشت یا تخیل کا کرشمہ تھا۔</p>
<p>لیکن پھر بھی تم یہی چاہتے ہو کہ تمہارا کان اس آواز کا ادراک کرے لہٰذا تمہیں اپنی جانب کھینچنے والی شے صرف کوئی یاد یا پُرفریب سراب نہیں بلکہ ایک گوشت پوست کے حلق میں اٹھتا ارتعاش ہے۔ ایک آواز کے معنی یہ ہیں:ایک زندہ شخص، حلق، سینہ، احساسات، یعنی وہ جو اس آواز کو ہوا کے سپرد کرتا ہے، تمام آوازوں سے مختلف ایک آواز۔ایک آواز میں حلق، لعاب، نوزائیدگی، تجرباتِ زندگی کا ملمع، ذہن کی مرادیں اور صوتی لہروں کو ایک ذاتی تشخص دینے کی مسرت شامل ہوتی ہے۔تمہارے لئے اصل کشش اس مسرت میں ہے جو یہ آواز ایک ہستی کو دیتی ہے، یعنی ہستی بطور آواز۔ لیکن یہ مسرت تمہیں اس تصور پر ابھارتی ہے کہ فلاں شخص فلاں سے اس لئے مختلف ہے کیوں کہ دونوں کی آواز مختلف ہے۔</p>
<p>کیا تم اِس مغنیہ کو تصور میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یاد رکھو تم اپنی چشم ِ تصور سے ا س کا جو بھی سراپا دیکھو ، صوتی سراپا اس پر بھاری ہو گا۔ یقیناً تم اس میں موجود امکانات کو ضائع تو نہیں کرنا چاہو گے، تو بہتر یہی ہے کہ آواز کو تھامے رکھو اور محل سے باہر بھاگ نکلنے اور اس ڈومنی کی تلاش میں شہر کی سڑکیں ناپنے کی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو۔</p>
<p>لیکن تمہیں روکنا ناممکن ہے۔ تمہارا ایک حصہ اس نامعلوم آواز کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ اُس کی اپنی سماعتوں تک رسائی کی مسرت سے سرشار، تم اب اپنی سماعت اُس کے کانوں تک پہنچانا چاہتے ہو، تم بھی اب ایک آواز بننا چاہتے ہو تاکہ و ہ تمہیں اسی طرح سن سکے جیسے تم اسے سنتے ہو۔</p>
<p>کیا بدنصیبی ہے کہ تم گا نہیں سکتے۔ اگر تم گانا جانتے تو شاید تمہاری زندگی مختلف ہوتی،اس سے زیادہ خوش یا پھر ایک منفرد سی اداسی ، ایک نغمگی بھری یاسیت۔ شاید تم بادشا ہ بننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس چرچراتے تخت پر بیٹھے یوں سایوں کو نہ گھور رہے ہوتے۔<br>
شاید تمہاری اصل آواز کہیں تمہارے بہت اندر دفن ہے، ایک ایسا نغمہ جو تمہارے جکڑے ہوئے حلق ، تمہارے خشک اور بھنچے ہوئے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یا پھر تمہاری بکھری ہوئی آواز اپنی بھنبھناہٹ سے اِدھر اُدھر سر اور تال بکھیرتی ،قریہ بہ قریہ آوارہ پھرتی ہے۔وہ انسان جو تم ہو، تھے یا ہو سکتے تھے یعنی تم جیسے تمہیں کوئی نہیں جانتا اس آواز میں ظاہر ہوتے ہو ۔</p>
<p>کوشش کرو، زور لگاؤ، اپنی خفیہ قوت کو حاضر کرو۔ زور لگا کر ہیّا! نہیں ، یہ بھی نہیں چلا۔ ہمت نہ ہارو، دوبارہ کوشش کرو۔ اے لو! ہو گیا نہ معجزہ! تمہیں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا! کس کی ہے یہ آواز جو اونچی تیز تال کے ساتھ اٹھتی ہے، اپنے نقطۂ اوج کو جا لیتی ہے اور پھر اُس نسوانی آواز کی نقرئی جھلملاہٹ میں مل جاتی ہے؟ کون اُس کے ساتھ اس دوگانے میں اس طرح شریک ہے جیسے دونوں ایک ہی صوتی ارادے کے دو تکمیلی و تشاکلی چہرے ہوں؟ یہ تم ہی گا رہے ہو، اس میں کوئی شک نہیں: یہ تمہاری ہی آواز ہے جو آخر کار تم کسی اجنبیت یا اضطراب کے بغیر سن سکتے ہو۔</p>
<p>لیکن تم یہ سُر کیسے پیدا کر سکتے ہو جب تمہارا سینہ سکڑا اور دانت بھنچے ہوئے ہیں؟ تمہیں یقین ہے کہ شہر اس ذاتِ نسوانی کے طبعی پھیلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اپنی راجدھانی کے دارلخلافہ سے بھی نہیں ،تو پھر ایک بادشاہ کی آواز آخر کہاں سے آئے؟ اپنی سماعت کی وہی تیزی جس نے تمہیں اب تک اس نامعلوم عورت کے گیت سے جوڑے رکھا، اب اس آواز کی سینکڑوں کرچیاں چن رہی ہے جو یکجا ہو ایک قطعی غیر مبہم آواز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، ایک ایسی آواز جو صرف اور صرف تمہاری ہے۔</p>
<p>بس اب اپنی سماعت میں ہر خلل اور رکاوٹ کو دور کر دو ۔غور کرو! تمہیں خود کو بلاتی اُس عورت کی پکار اور اسے بلاتی اپنی پکار کو اکھٹے ایک ہی ارادۂ سماعت میں پرونا ہے (یا تم اسے تصورِ سماعت کہنا چاہو گے؟)۔ اے لو! نہیں، اتنی جلدی نہیں۔ ہمت نہ ہارو۔ دوبارہ کوشش کرو۔ اگلے ہی کسی لمحے میں اس کی اور تمہاری پکاریں ایک دوسرے کو جواب دیں گی اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں گی کہ انہیں علیحدہ کرنا ناممکن ہو گا۔۔۔<br>
لیکن بہت سی آوازیں حملہ آو ر ہوتی ہیں، چیختی چنگھاڑتی، وحشی آوازیں: اُس کی آواز خارج سے لشکر کشی کرتی موت کی دھاڑ سے گھبرا کر ٹھٹکتی اور غائب ہو جاتی ہے، یا پھر تمہارے اندر مکرر گونجتی ہے۔ تم اسے کھو چکے ہو، تم کھو چکے ہو، تمہارا صوتی خلاؤں میں اڑتا جزو اب کرفیو لگی گلیوں میں شب گردی کرتے گشتی دستوں کے درمیان دوڑ رہا ہے۔ آوازوں کی زندگی بس ایک خواب تھا، شاید کچھ ہی لمحے زندہ رہا جیسے خواب رہتے ہیں ، جب کہ خارج میں وہ ہولناک خوابیدہ داستان اب بھی جاری ہے۔</p>
<p>لیکن اس کے باوجود تم بادشاہ ہو: اگر تم دارالخلافہ میں رہنے والی کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہو جو اپنی آواز سے پہچانی جاتی ہے تو یقیناً تم اس قابل ہو گے۔ اپنے جاسوسوں کو کھلا چھوڑ دو، حکم دو کہ وہ شہر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ لیکن اس آواز کو کون پہچانتا ہے؟ صرف تم۔ صرف تم ہی اس تلاش کے قابل ہو۔ اور یوں جب کوئی تمنا آخرکار خود کو تمہارے سامنے پیش کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ ہونا کسی کام کا نہیں۔</p>
<p>ذرا ٹھہرو، اتنی جلدی ہمت ہارنے کی کوئی وجہ نہیں، ایک بادشاہ کےپاس وسائل کی کیا کمی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم ایک ایسا نظام نہ بنا سکو جو من چاہی چیز حاصل کر لے؟ تم ایک مقابلۂ موسیقی کا اعلان کر سکتے ہو: بادشاہ کے حکم سے سلطنت کی تمام خوش نوا ڈومنیاں محل میں حاضر کی جائیں۔ بلکہ یہ تو ایک بہت ہی اہم سیاسی چال ہو گی کہ اِس افراتفری کے زمانے میں رعایا کے حوصلے بلند کئے جائیں اور شہریوں اور تاج ِ شہنشاہی کے درمیان رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔تم باآسانی یہ منظر تصور میں لا سکتے ہو:یہی آراستہ و پیراستہ دالان، سجا سجایا چبوترا، سازندوں کا طائفہ، اہم ترین درباریوں پر مشتمل سامعین، اور تم تخت پراپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان، ایک ایک اونچے سُر، ایک ایک گٹکری پر کسی غیرجانبدار جج کی طرح بغور کان لگائے، یہاں تک کہ اچانک تم اپنا عصا اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے ہو:’’یہی وہ عورت ہے!‘‘</p>
<p>تم اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتے ہو؟ جگمگاتے بلوری فانوسوں ، گملوں میں لگے چوڑے چکلے پام جیسے پودوں کے پتوں بیچ گانے والی کوئی بھی آواز اس سے کم ملتی جلتی نہیں ہو سکتی جو عام طور پر بادشاہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تم اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی شاندار سالانہ تقریبات کے دوران سنگت کی کئی محفلوں میں موجود رہے ہو۔ سماعت ِ شہنشاہی کا ادراک رکھنے والی ہر آواز خود پر ایک سرد ملمع، ایک کانچ کا سا تصنع طاری کئے رہتی ہے۔ اس کے برعکس یہ آواز کسی دھندلکے سے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے خود کو اندھیروں کی اوٹ سے نکالے بغیر ظاہر کرنے پر خوش ہو، انہی اندھیروں میں لپٹی ہر موجودگی کی جانب ایک پل سا بنا رہی ہو۔</p>
<p>لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ پایۂ تخت کے سامنے موجود آواز بھی وہی تھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ درباری مغنیاؤں کی نقالی کی کوشش کرے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اسے ان بہت سی آوازوں سے خلط ملط کر بیٹھو جنہیں تم آئے دن ایک شاہانہ التفات سے کسی اڑتی مکھی کی پرواز کو تکتےہوئےسنتے ہو؟</p>
<p>اُسے خود کو ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ اپنی اصل آواز سے اُس کا ٹکراؤ ہے، وہی مبہم سا صوتی پیکر جسے تم نے شہر میں اٹھنے والے آوازوں کے طوفان سے طلب کیا ہے۔ یہی کافی ہو گا اگر تم گاؤ، اس آواز کو آزادکرو جسے تم نے ہمیشہ ہر ایک سے چھپائے رکھا، اور وہ تمہیں فوراً اس انسان کے طور پر پہچان لے گی جو تم حقیقتاً ہو، اپنی آواز، اپنی حقیقی آواز تمہاری آواز سے ملا دے گی۔</p>
<p>لیکن آہ! پھر پورے محل میں ایک حیرت زدہ واویلا سا مچ جائے گا: ’’جہاں پناہ گا رہے ہیں۔۔۔سنو تو ظلِ الہی کیسے گاتے ہیں۔۔۔‘‘ لیکن پھر جلد ہی وہ سکوت ایک بارپھر چھا جائے گا جو ،اُس کے قول و فعل سے قطع نظر، کسی بھی بادشاہ کے دربار میں سماعت کا خاصہ ہے۔ تمام چہرے اور انداز ایک لگا بندھا سا اطمینان ظاہر کریں گے جیسے کہہ رہے ہوں: ’’جہاں پناہ ہمیں ایک گیت سے نواز رہے ہیں۔۔۔‘‘ اور سب اس پر متفق ہوں گے کہ صوتی مظاہرہ کسی بھی مطلق العنان ہستی کا استحقاق ہے (اس شرط کے ساتھ کے اس کے بعد وہ طنز و دشنام سے بھری سرگوشیاں کر سکتے ہیں)۔</p>
<p>قصہ مختصر، تمہارے لئے گانا بہت ہی خوب ہے: تمہیں کوئی نہیں سنے گا، ہاں وہ تمہیں نہیں سنیں گے، تمہارا گیت، تمہاری آواز۔ وہ بادشاہ کو اسی طرح سنیں گے جیسے کسی بادشاہ کو سننے کا حق ہے، یعنی ہر اس چیز کو قبول کیا جائے جو اوپر سے نازل ہو اور جس کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہ ہوں کہ وجود ِ بالا اور وجود ہائے زیریں کے بیچ غیرمتغیر رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ بھی تمہیں نہیں سن سکتی جو تمہاری واحد مخاطب ہے: تمہاری آواز نہیں بلکہ وہ تو بادشاہ کو سُنے گی، اس کا جسم کورنش کی حالت میں منجمد اورہونٹوں پر درباری آداب کے مطابق متوقع نامنظوری کو چھپاتی ایک مسکراہٹ ہو گی۔</p>
<p>پنجرے سے نکلنے کی ہر کوشش کی تقدیر میں ناکامی ہے: خود کو ایک ایسی دنیا میں تلاش کرنے کا کیا فائدہ جو تمہاری ہے ہی نہیں، جو شایدسرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تمہارے لئے تو صرف محل ہے،گونج در گونج باز گشت پیدا کرتی محرابیں، سنتریوں کی گھڑیاں، بجری کو روندتے ٹینک، سیڑھیوں پر جلدی میں اٹھتا ہر قدم جو شاید تمہارے خاتمےکا اعلان کر رہا ہے۔ یہی وہ واحد علامتیں ہیں جن کے ذریعے دنیا تم سے ہم کلام ہوتی ہے، ایک لمحے کے لئے بھی ان سے اپنی توجہ نہ ہٹاؤ، اِدھر تمہاری توجہ ہٹی اُدھر تمہارے ارد گرد اپنے تفکرات کی حفاظت کے لئے تخلیق کی گئی فصیل دھڑام سے زمین بوس ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔</p>
<p>کیا یہ تمہارے لئے ناممکن ہے؟ کیا تمہارے کان ان نئی اجنبی آوازوں سے بہرے ہو رہے ہیں؟ کیا تم مزید اس قابل نہیں رہے کہ اندر اور باہر اٹھتے شوروغوغامیں فرق کر سکو؟ شاید اب مزید کوئی اندر یا باہر رہا ہی نہیں: جس دوران تم آوازوں پر کان لگائے بیٹھے تھے، غداروں نے پہرے میں کمزوری کا فائدہ اٹھایا تاکہ بغاوت کر دیں۔</p>
<p>اب تمہارے ارد گرد محل نہیں بلکہ چیخوں اور گولیوں کی آوازوں سے بھری رات ہے۔ تم کہاں ہو؟ کیا اب تک زندہ ہو؟ کیا تم حجرۂ شاہی میں داخل ہوئے قاتلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے؟ کیا خفیہ سیڑھیوں نے تمہیں بچ نکلنے کاموقع دیا؟</p>
<p>شہر اب شعلوں اور چیخ و پکار سے پھٹا جا رہا ہے۔ شب کی اندرونی تہہ ادھڑ کر باہر آ گئی ہے۔ سیاہی اور سناٹا باہم غوطہ زن ہیں اور ایک دوسرے کی تہہ میں سے آتش و غوغا نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔ شہر کسی جلتے ہوئے کاغذ کی طرح شکن زدہ ہے۔ بھاگو! تاج کے بغیر، عصا کےبغیر، کسی کو خبر نہیں ہو گی کہ تم بادشاہ ہو۔ شبِ آتشیں سے اندھیری کوئی رات نہیں۔ اس آدمی سے تنہا کوئی نہیں جو ایک نوحہ کناں ہجوم کے بیچ سے گزر رہا ہو۔<br>
مضافاتی علاقے کی رات شہر کی حالتِ نزاع پر نظر رکھے ہے۔ طیورِ شبانہ کی دلدوز چیخوں کے ساتھ ایک خطرے کا گجر بجتا ہے، لیکن جوں جوں وہ دیواروں سے باہر نکلتا ہے ، توں توں تاریکی کی عمومی سرسراہٹ میں گم ہو جاتا ہے: پتوں سے گزرتی ہوا، ندیوں کا بہاؤ، مینڈکوں کی ٹراہٹ ۔ رات کے پُرشور سکوت میں ایک خلا سا پھیلتا ہے، تمام واقعات ایک آناً فاناً شعلے کے سے ہیں جو جلتے ہی بجھ جائے، کسی ٹوٹی شاخ کے چٹخنے کی آواز، کسی خرموش کی کٹیلی چیخ جب سانپ اس کی کھوہ میں آ گھسے، دو محبت میں لڑتی بلیاں، تمہارے مفرور قدموں تلے گھسٹتی کچھ کنکریاں۔<br>
تم ہانپتے ہو، کچھ اس طرح کہ سیاہ آسمان تلے صرف تمہاری سانس اور تمہارے لڑکھڑاتے قدموں تلے چرچراتے پتوں کی آواز ہی سنی جا سکتی ہے۔ مینڈک اب چپ کیوں ہیں؟ ارے نہیں، یہ لو، وہ دوبارہ شروع ہو گئے۔ کوئی کتا بھونکتا ہے۔۔۔ذرا ٹھہرو۔کتے ایک دوسرے کو دور سے جواب دیتے ہیں۔ کچھ دیر سے تم دبیز اندھیرے میں چل رہے ہو، تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ اپنے کان کھڑے کرتے ہو۔ تمہاری ہی طرح کوئی اور بھی ہانپ رہا ہے۔ کہاں؟<br>
رات سانس کی دھونکنی ہے۔ ہلکی ہوا یوں چلتی ہے جیسے گھاس سے جنم لے رہی ہو۔ چار سو جھینگر وں کا شورتھمنے کا نام نہیں لیتا۔اگر تم ایک آواز کو دوسری سے علیحدہ کرو تو وہ یک دم نکلتی محسوس ہوتی ہے، بہت واضح ، لیکن وہ تو اس سے قبل بھی یہاں تھی، دوسری آوازوں میں چھپی ہوئی۔<br>
تم بھی وہاں پہلے موجود تھے۔ اور اب؟ جواب نہیں بن پڑتا۔ نہیں جانتے ان سانسوں میں سے کون تمہارا ہے۔ نہیں جانتے کہ کیسے سننا ہے۔ اب مزید کوئی کسی کو نہیں سن رہا۔ صرف رات خود اپنی ہی سامع ہے۔</p>
<p>تمہارے قدموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تمہار ے سر پر اب آسماں نہیں۔ دیوار چھوتے ہو تو کائی کالیپ اور بھربھرا پن ہے ، اب تمہارے ارد گرد چٹانیں ہیں، ننگے پتھر۔ اگر پکارو تو تمہاری ہی آواز ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ کہاں؟ ‘‘اوہووووو۔۔۔اوہوووو۔۔۔’’ شاید تم کسی پہاڑ کی کھوہ میں پہنچ چکے ہو: ایک ناختم ہونے والی غار، ایک زیر زمین راستہ۔۔۔</p>
<p>کئی سال تم نے محل میں ایسی سرنگیں کھدوائیں جن کی شاخیں شہر تلے گزرتی ہوئی کھلے میدانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ خود کو امکانی طور پر یقین دلانا چاہتے تھے کہ نظر آئے بغیر کہیں بھی پہنچ سکو، خیال تھا کہ صرف زمین کی آنتوں ہی میں رہتے ہوئے اپنی راجدھانی پر غلبہ قائم رکھ سکو گے۔ پھر تم نے کھدائی کو کھنڈر ات تلے دبا رہنے دیا۔ اور اب تم یہاں اپنی کچھار میں پناہ گزیں ہو۔ یاا پنے ہی جال میں پھنس چکے ہو۔ خود سے پوچھو کہ کیا کبھی یہاں سے باہر نکلنے کا رستہ ڈھونڈ سکو گے۔ باہر نکلو گے: کہاں؟</p>
<p>کھٹکھٹانے کی آواز۔ پتھر میں سے۔ مدھم۔ زیر وبم۔ کسی اشارے کی طرح! تھپ تھپ کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ تم تو یہ تال پہچانتے ہو۔ یہ تو قیدی کی پکار ہے! جواب دو۔ خود بھی دیوار کو تھپتھپاؤ۔ چیخو۔ اگر تمہیں یاد ہو تو یہ سرنگ سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے منسلک ہے۔۔۔</p>
<p>وہ نہیں جانتا تم کون ہو: رہاکرانے والے یا داروغہ؟ یا شایدوہ جو زیر زمین گم چکا ہے ، خود اسی کی طرح، ،شہر کی خبروں اور اس لڑائی سے کٹا ہوا جس پر اس کی تقدیر کا انحصار ہے؟</p>
<p>اگر وہ اپنی کوٹھڑی کے باہر پھر رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس کی بیڑیاں کھولنے، سلاخیں ہٹانے آئے ہیں۔ وہ اس سے کہتے ہیں: ‘‘غاصب ہٹ چکا ہے! تم تخت پر واپس لوٹو گے! محل کو واپس حاصل کر لو گے!’’ایک اور گجر، شاہی سپاہیوں کی جانب سے جوابی حملہ اور رہا کرانے والے اسے تنہا چھوڑ کر سرنگوں میں کہیں نکل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب وہ گم چکا ہے۔ان پتھر کی محرابوں تلے کوئی روشنی ، اوپر ہونے والے شور کی کوئی گونج نہیں پہنچتی۔</p>
<p>اب تم ایک دوسرے سے بات چیت کےقابل ہو تاکہ ایک دوسرے کی آوازیں پہچان سکو۔ کیا تم اسے بتاؤ گے کہ تم کون ہو؟ کیا یہ کہ تم اسے اس آدمی کے طور پر پہچان چکے ہو جسے تم نے اتنے سال جیل میں رکھا؟ وہ آدمی جسے تم نے لعنت ملامت کرتے، انتقام کی قسمیں کھاتے سنا؟ اب تم دونوں ہی زیرِ زمین کھو چکے ہو اور نہیں جانتے کہ کون بادشاہ ہے او رکون قیدی۔ تمہیں کچھ کچھ گمان ہے کہ اصل چاہے جو بھی ہو، کچھ نہیں بدلے گا: تم اس کوٹھڑی میں ہمیشہ کے لئے مقفل معلوم ہوتے ہو، پیغامات بھیج رہے ہو۔۔۔تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تقدیر اسی طرح ہمیشہ امید و بیم کی کیفیت میں معلق رہی ہے۔ تم میں سے ایک یہیں نیچے رہےگا۔۔۔دوسرا۔۔۔</p>
<p>لیکن شاید اس نے، یہاں نیچے ، ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ وہاں اوپر تخت پر ہے، سر پر تاج ، ہاتھ میں عصا ہے۔ اور تم؟ کیا تم نے ہمیشہ خود کو قیدی محسوس نہیں کیا؟ تمہارے درمیان مکالمہ کیسے ممکن ہے جب تم دونوں میں سے ہر ایک یہی سوچ رہا ہو کہ جو وہ سن رہا ہے وہ دوسرے کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز کی گونج ہیں؟</p>
<p>تم میں سے ایک کے لئے چھٹکارے کی ساعت قریب آ رہی ہے، دوسرے کے لئے تباہی کی۔ اور پھر بھی وہ پریشانی جس نے کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اب غائب محسوس ہوتی ہے۔ تم اب گونجوں اور سرسراہٹ کی آواز سنتے ہوئے انہیں علیحدہ کرنے اور ان کے معانی سمجھنے کی مزید کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسے وہ کوئی موسیقی ترتیب دے رہی ہوں۔ ایک ایسی موسیقی جو اس نامعلوم نسوانی آواز کی یاد یں واپس لے آتی ہے۔ لیکن کیا تم اسے یاد کر رہے ہو یا واقعی سن رہے ہو؟ ہاں یہ وہی ہے، یہ اسی کی آواز ہے جو چٹانی محرابوں تلے ابھرنےوالی کسی پکار کی طرح ایک سُر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید وہ بھی کائنات کے ابدی کنارے کی طرح اسی رات میں کھو چکی ہو۔اسے جواب دو، اپنی آواز سناؤ، اسے پکارو تاکہ وہ سیاہی میں راستہ تلاش کرتی ہوئی تم تک پہنچ جائے۔ خاموش کیوں ہو؟ کیا تمہیں سارے زمانے میں اسی لمحے گنگ ہونا تھا؟</p>
<p>لو وہاں اندھیرے سے ایک اور پکار اٹھتی ہے، عین اسی جگہ جہاں سے قیدی کے الفاظ سنائی دئیے تھے۔ یہ ایک آسانی سے پہچان لی جانے والی پکار ہے جو عورت کو جواب دیتی ہے، یہ تمہاری آواز ہے، وہی آواز جو تم نے اسے جواب دینے کے لئے تخلیق کی، شہر کی آوازوں کی خاک میں سے اسے چنا، وہی آواز جو تم نے حجرۂ شاہی کے سکوت سے اس کی جانب روانہ کی! قیدی تمہاراگیت گا رہا ہے جیسے اس نے کبھی یہ گیت گانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ کیا ہو، جیسے یہ گیت کبھی کسی اور نے نہ گایا ہو۔۔۔</p>
<p>وہ اپنی باری پر جواب دیتی ہے۔ دونوں آوازیں اک دوجے کی جانب بڑھتی ہیں،اک دوجے پر منڈھ دی جاتی ہیں، مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے تم نے انہیں شہر کی رات میں ایک ساتھ سنا، اسی یقین کے ساتھ کہ اس کے ساتھ یہ گیت گانے والے تم ہو۔ اب وہ یقیناً اس تک پہنچ چکی ہے، تم ان دونوں کی آوازیں سنتے ہو، تمہاری آوازیں، ایک ساتھ۔ ان کا تعاقب تمہارے لئے بیکار ہے: وہ ایک بڑبڑاہٹ، ایک سرگوشی بن رہے ہیں، باالآخر غائب ہو جاتے ہیں۔<br>
نظریں اٹھاؤ تو تمہیں ایک چمک نظر آئے گی۔افق پر نمودار ہوتی صبح آسمان کو روشن کر رہی ہے: تمہارے رخساروں کو چھوتی یہ سانس دراصل پتوں کو جنبش دینے والی ہوا ہے۔</p>
<p>اب تم پھر باہر ہو، کتے بھونک رہے ہیں، پرندے جاگتے ہیں، دنیا کے چہرے پر رنگ واپس لوٹ رہا ہے، چیزیں دوبارہ جگہ پر واپس آ رہی ہیں، جاندار ایک بار پھر زندگی کی علامت پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً تم بھی یہیں ہو، اس سب کے بیچ، تمام اطراف میں امڈتی ہوئی آوازوں کے بیچ، برقی رو کی بھن بھن میں، پسٹنوں کے ارتعاش میں، چرخیوں کے چھناکوں میں۔ زمین کی تہوں میں کہیں نہ کہیں شہر ایک بار پھر جاگ رہا ہے، دھماکے، ہتھوڑے ، رگڑ کی آواز جو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اب ایک شورو غوغا ، ایک گرج کڑک تمام جگہ پر پھیل رہی ہے، تمام آہیں، پکاریں اور ہچکیاں اپنےاندر جذب کر لیتی ہے۔۔۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/">بادشاہ سنتا ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d8%af%d8%b4%d8%a7%db%81-%d8%b3%d9%86%d8%aa%d8%a7-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%af%db%8c%d8%af%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%af%db%8c%d8%af%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2017 11:35:25 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Asim Bakhshi]]></category>
		<category><![CDATA[Chinese workers suicide]]></category>
		<category><![CDATA[Foxcon]]></category>
		<category><![CDATA[foxconn suicide]]></category>
		<category><![CDATA[xu lizhi]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=20017</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عاصم بخشی: یہ کریہہ الخصال،<br />
مکروہ نظم،<br />
میرے نحیف و خستہ گماں کی باچھوں سے زہر بن کے ٹپک رہی ہے<br />
مجھے اب اک کاسنی قبائے حقیقتِ نم سے<br />
آخری بار ڈھک رہی ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%af%db%8c%d8%af%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d9%85/">ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">کلیدی نوٹ: اس نظم کا مرکزی خیال عمومی طور پر چینی الیکٹرانک مصنوعات کی مشہور و معروف فیکٹری ’’فاکس کان‘‘ (Foxconn) میں 2010 سے لے کر 2016 تک ہونے والے 18 خودکشی کے واقعات سے ماخوذ ہے جنہیں عرف عام میں ’’فاکس کان خودکشیاں ‘‘ (Foxconn Suicides) کہا جاتا ہے۔ ان واقعات میں چودہ مزدور اپنی جان سے گئے جن میں سے زیادہ نے فیکٹری عمارت کی کسی اونچی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کو الوداع کہا۔ گمان غالب ہے کہ یہ اٹھارہ واقعات وہ ہیں جن کا راز کسی نہ کسی طرح افشا ہوگیا اور شاید اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہوں جو منظر ِعام پر نہ آ سکے ہوں۔ کئی مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ فیکٹری مالکان کا ظالمانہ سلوک، کام کی طویل ساعتیں اور چین میں عمومی طور پر مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خودکشیوں میں سب سے زیادہ دلدوز واقعہ چوبیس سالہ شو لیزی کا ہے جس نےستمبر 2014 میں چھت سے چھلانگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔ شولیزی کی ذہنی کشمکش اور اضطراب کا پتہ اس کی درجن بھر سادہ و مختصر لیکن وحشت ناک نظموں سے چلتا ہے جو چینی شہر شین زین کے مختلف رسالوں میں شائع ہوئیں۔ میں اپنی زیرِ نظر نظم میں موجود استعاروں اور مرکزی خیال کے لئے شولیزی کا مقروض ہوں بلکہ اگر مان لیا جائے کہ ترجمہ بس دوسری زبان میں پھیلاؤ اور معنی کی تہہ کا اضافہ کرتے ہوئے اصل کیفیات کو برقرار رکھنے کا نام ہے تو یہ شولیزی ہی کے تخیل کا پھیلاؤ ہے جو اس کی 2013 میں لکھی گئی ایک نظم “میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا” میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ نظم کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہے:</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا<br>
وہ اسے کیل کہتےہیں<br>
 میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں<br>
 مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں<br>
 میں شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں<br>
 پیادہ رو پُل اور زنگ آلود زندگی بھی نگل لی ہے<br>
 اب مزید نہیں نگل سکتا<br>
نگلا ہوا سب کچھ میرے حلق سے باہر آ رہا ہے<br>
 میرے آباؤ اجداد کی دھرتی پر پھیل رہا ہے<br>
 ایک بے توقیر نظم کی صورت۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم</div>
<div class="urdutext"> اُفق کے پیالے کو پوری رغبت سے چاٹتے چاٹتے میں کل رات<br>
بے خیالی میں ایک لوہے کا ماہِ تاباں نگل گیا تھا<br>
مرے عقیم النظر رفیقوں کا ماننا ہے کہ میری وحشت اثر خیالی<br>
رہِ بقا پر کہیں مجھے خاک پانہ کر دے<br>
فنا نہ کر دے</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
اگر مصر ہیں رفیق میرے تو مان لیتے ہیں<br>
استعاروں کو ترک کر کے<br>
پسِ تخیل چھپی حقیقت کو جان لیتے ہیں</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
کیا تعجب ہے؟<br>
آہنی چاند کو نگلنے کا واقعہ کوئی سانحہ ہے؟</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
یہ سچ نہیں کیا کہ اس سے پہلے<br>
محافظوں سے نظر بچا کے<br>
میں صنعتی آب رومیں بہتی ہوئی شرابیں بھی پی چکا ہوں؟</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
سُنا نہیں تم اے رفیقو!<br>
چبا چکا ہوں نہ جانے کتنے لذیذ دفتر میں کاغذوں کے!</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
فلک نہیں تھا تو “کوزۂ ٹِن” کی تہہ میں چپکی ہوئی ستارہ سی میخ ہو گی!<br>
صنوبریں میخ چو سے پک کے گرا ہوا کوئی ننھا میوہ!<br>
نگل چکی ہے مری بصارت<br>
ہزارہا خواب دیدہ منظر<br>
کہ جن میں ہم رقص ہیں مشینیں اور آدمی<br>
اس طرح کہ آدم مشیں میں ضم ہے<br>
مشین آدم میں ڈھل چکی ہے<br>
مری سماعت نے خوب چکھی ہے<br>
پردۂ گوش چاک کرتی<br>
وہ سیٹیوں کی سی سنسناہٹ کہ جس میں<br>
انساں قطار اندر قطار خود کو پھلانگتے<br>
بے زباں مشینوں کے اپنی جانب بڑھے ہوئے دیوتائی ہاتھوں کو چومتے ہیں<br>
نگل چکا ہوں میں اپنی زنگار آرزوئیں،<br>
ہڑپ کئے ہیں<br>
مشیں حمائل رسائیوں، نارسائیوں کے ملے جلےزشت رو تصور<br>
نہ جانے کتنے خیال،<br>
کتنے ہی خواب،<br>
اب آتشیں ملیدے میں ڈھل کے<br>
میرے شکم کی گہرائی کھوجتے ہیں</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
مرے رفیقو، معاف کرنا!<br>
دہن بریدہ ہوں،<br>
جسم سے روح تک بھرا ہوں<br>
سو یہ کریہہ الخصال،<br>
مکروہ نظم،<br>
میرے نحیف و خستہ گماں کی باچھوں سے زہر بن کے ٹپک رہی ہے<br>
مجھے اب اک کاسنی قبائے حقیقتِ نم سے<br>
آخری بار ڈھک رہی ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%af%db%8c%d8%af%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d9%85/">ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%86%d8%af%db%8c%d8%af%db%92-%d9%81%db%8c%da%a9%d9%b9%d8%b1%db%8c-%d9%85%d8%b2%d8%af%d9%88%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%a2%d8%ae%d8%b1%db%8c-%d9%86%d8%b8%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خشک نمی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d9%86%d9%85%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d9%86%d9%85%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 04 Jan 2017 08:14:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Asim Bakhshi]]></category>
		<category><![CDATA[poetry]]></category>
		<category><![CDATA[Romantiv poetry]]></category>
		<category><![CDATA[urdu poetry]]></category>
		<category><![CDATA[اردو شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[رومانی شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19828</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں<br />
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے<br />
تو جب آئے گی،<br />
گھٹا چھائے گی،<br />
بارش ہو گی</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d9%86%d9%85%db%8c/">خشک نمی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align:right;">خشک نمی</div>
<div class="urdutext"> شامِ تجدیدِ وفا اب کے برس مثلِ خزاں آئی ہے<br>
نہ کوئی تحفۂ گل سرخیٔ رخسارِ تمنا کو عیاں کرتا ہے<br>
نہ کوئی سبز خطِ قصۂ پارینہ<br>
رہِ یاد کے غنچوں کو ہرا کرتا ہے<br>
نہ تو تشبیب،<br>
نہ توصیف،<br>
نہ رنگینی و زیبائی ہے<br>
فاصلہ موسمِ ہجراں کا تماشائی ہے</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
فاصلہ کیا ہے مگر؟<br>
زود گزر تین حبابوں کا تراشیدہ تعلق ہے فقط<br>
“اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا”<br>
سرمدی موجِ گزشتہ<br>
جو کسی قطرۂ آئندہ کو<br>
موجودہ میں ڈھلنے کی صدا دیتی ہے<br>
کل، ابھی، آج، کبھی،<br>
موجِ زماں، طولِ مکاں،<br>
شعبدۂ دستِ اجل ہے مری جاں</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
فاصلہ زہرِ جدائی تو ہے<br>
پر ایسا بھی اب اژدرِ سفاک نہیں<br>
پہلوئے یاد ترا لمس گزیدہ تو ہے<br>
پر درد کا محتاج نہیں<br>
ہے زمیں خشک<br>
مگر اتنی بھی تاراج نہیں</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
سُن مری جانِ وفا<br>
گرچہ صبا لائے گی تجھ تک<br>
مرےاس شہرِ شکستہ پہ برسنے کی خبر<br>
ایسی افواہوں پہ یوں کان نہ دھر<br>
ایک لحظے کو ٹھہر،<br>
غور تو کر،<br>
بات اتنی سی ہے<br>
امکان کی میچی ہوئی آنکھوں سے یہی چار گہر پھسلے ہیں<br>
اِن کو برکھا نہ سمجھ<br>
یہ تو فقط اشکِ شکیبائی ہیں<br>
اتنی جلدی بھی کبھی چرخِ تمنا پہ گھٹا چھائی ہے؟<br>
اتنی سرعت سے کبھی نخلِ بیاباں پہ شگوفوں کے ابھرنے کی خبرشوق کی بے جان زمینوں میں نمی لائی ہے؟</div>
<p></p>
<div class="urdutext">
تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں<br>
کیسے ممکن ہے کہ گلشن میں بہار آ جائے<br>
اور سلگتی ہوئی نظروں کو قرار آ جائے<br>
یہ جو کل صبح ذرا گرم شتابی سے فلک ایک گھڑی برسا ہے<br>
ہو نہ ہو یہ بھی کسی غفلت وانکار کی مٹی میں گندھے ابر کی سازش ہو گی<br>
تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں<br>
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے<br>
تو جب آئے گی،<br>
گھٹا چھائے گی،<br>
بارش ہو گی</div>
<p>Image: Duy Huynh</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d9%86%d9%85%db%8c/">خشک نمی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d8%b4%da%a9-%d9%86%d9%85%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>اگر یہ انسان ہے (انتخاب)</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 17 Dec 2016 05:09:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Concentration camps]]></category>
		<category><![CDATA[If this is a man]]></category>
		<category><![CDATA[Nazism]]></category>
		<category><![CDATA[Primo Levi]]></category>
		<category><![CDATA[Second World War]]></category>
		<category><![CDATA[دوسری جنگ عظیم]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<category><![CDATA[نازی جرمنی]]></category>
		<category><![CDATA[یہودی کیمپ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19733</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پریمو لیوی: تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8/">اگر یہ انسان ہے (انتخاب)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">تعارف: “ہم جو بچ گئے اصل گواہ نہیں ہیں۔” یہ ہیں وہ الفاظ جواطالوی کیمیادان پریمو لیوی (م۔1987) کے مکمل ادبی ورثے کی کامل ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ 1919 میں اٹلی کے شہر ٹیورن میں پیدا ہوئے اور کیمیا کے شعبے سے منسلک رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران (1944) پچیس سال کی عمر میں وہ اطالوی فسطائیت کے خلاف تحریک کے ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے گرفتا ر ہو کر آشوِٹز کے کیمپ میں بھیج دیئے گئے۔ ان کی اس زمانے کی یاداشتیں اور تجربات ان کی دو سوانحی کتب “اگر یہ انسان ہے” (If This is Man, 1958) اور “صلح” (The Truce, 1963) کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد ناول اور مضامین بھی تحریر کئے جن میں “اگراب نہیں تو کب” (If Not Now, When?) اور “التوا کی ساعتیں‘‘(Moments of Reprieve)وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کی انتہائی دلچسپ اور آخری تصنیف “جو غرق ہوئے اور جو محفوظ رہے” (The Drowned and the Saved, 1986) آٹھ تجزیاتی مضامین کا مجموعہ ہے جو جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام، کیمپوں میں قیدیوں کی انفرادی و اجتماعی نفسیات اور ان کی سوانح کے متعلق جرمن قوم کے رد عمل کی کثیر الجہت تعبیرات پر مشتمل ہے۔ اس آخری مجموعہ کے منظر عام پر آنے کے کچھ ہی مدت بعد سیڑھیوں سے گر کران کی موت واقع ہوئی جسے کافی بحث مباحثے کے بعد خود کشی تسلیم کیا گیا۔ گمان غالب ہے کہ ان کی خود کشی کی وجہ وہ شدید احساس ندامت تھا کہ وہ آشوٹز میں ہلاکت سے بچ گئے اور موت ان سے کہیں بہتر اور قابل لوگوں کا مقدر ٹھہری۔ لہٰذا یہی وہ لوگ تھے جو لیوی کے نزدیک اس قتل عام کے اصل گواہ تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج جبکہ ایک طرف تو دہشت گرد صیہونی ریاست آگ اگلتے ہتھیاروں کے ذریعے نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کے بے دریغ قتلِ عام میں مصروف ہے اور دوسری طرف چاہے ڈھیلے ڈھالے طنزیہ انداز میں ہی سہی، سادہ لوح جذباتی مسلمانوں سے ہٹلر کے لئے تعریفی کلمات سننے کو ملتے ہیں، لیوی اور اس جیسے دوسرے متون کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ تاریخ کا نفسیاتی اور انسانی پہلو زندہ رکھے ہوئے ہیں، اور ہمیں یہ حقیقت فراموش کرنے سے روکتے ہیں کہ ہم انسان ہیں اور انسانی زندگی کی تقدیس و تکریم ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ذیل میں لیوی کی پہلی کتاب کے کچھ منتخب حصوں کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔خود مصنف کے دیباچے کے مطابق متن کی ساخت قاری سے ایک مخصوص مروت کا تقاضا کرتی ہے کیوں کہ اس کے مآخذعملی طور پر نہیں بلکہ تصوراتی طور پر کیمپ کی زندگی کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ ضرورت کہ اپنی کہانی کو دوسروں تک پہنچایا جائے آزادی کے بعد ایک فوری اور شدید فطری محرک کے طور پرمصنف کے سامنے آئی۔ لہٰذا کتاب کے ابواب کسی منطقی تسلسل کی بجائے ابلاغ کے اسی تقاضے کی پابندی کرتے ہیں۔ہم نے کوشش کی ہے کہ ابواب کی ترتیب قائم رکھتے ہوئے، ہر باب میں سے کچھ مختصر اور دلچسپ حصوں کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے مگر ظاہر ہے کہ اس مختصر مگر جامع انتخاب کی حیثیت محض ایک خاکے کی سی ہےجو مکمل کتاب کا ادنٰی سا نعم البدل بھی نہیں، لیکن امید ہے کہ قاری کو زیرِ نظر کتاب اور پریمو لیوی کی دوسری تصانیف کے مطالعے پر اکسائے گا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">1۔ سفر</div>
<div class="urdutext">میں فسطائی ملیشیا کے ہاتھوں 13 دسمبر 1943 کو گرفتار ہوا۔ میں چوبیس سال کاایک ایسا کم عقل، غیر تجربہ کار نوجوان تھا جو پچھلے چار سال کے نسلی قوانین کے مرہون منت، جبری تنہائی کا شکا رہو کر اپنی ہی تخلیق کردہ ایک تخیلاتی دنیا میں رہنا چاہتا تھا، ایک ایسی دنیا جو مہذب کارتیزی (Cartesian) بھوتوں، اور پرخلوص مردانہ اور بے حس زنانہ دوستیوں کا مسکن تھی۔ پس میں نے ایک معتدل اور مجرد سرکشی کا احساس پال لیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پہاڑوں میں راہِ فرار اختیار کرنا اور ایک ایسے گروہ کی تشکیل کسی بھی درجے میں سہل نہ تھی جو میری اور مجھ سے کچھ ہی زیادہ تجربہ کار دوستوں کی رائے میں “انصاف وحریت” نامی مزاحمتی تحریک کا ایک حمایتی جتھہ بننے جا رہا تھا۔ تعلقات، اسلحہ، روپیہ اور تجربہ جو ایسے کاموں کے لئے عام طور پر درکار ہوتا ہے ناپید تھا۔ ہمار ے پاس قابلیت کا فقدان تھا اور یہ ایک ایسے وطن بدر بے خانماں افراد کا سیلاب تھا جو اچھی یا بری نیت سے میدانوں کو چھوڑ کر کسی بے وجود فوج یا سیاسی تنظیم کی تلاش میں، یا پھر محض اسلحے، تحفظ، کسی پوشیدہ مقام، آگ یا جوتوں کے جوڑے کی خاطر ہم سے آن ملے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img fetchpriority="high" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20093" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camps.jpg" alt="camps" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camps.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camps-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camps-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">اس وقت تک میں اس نظریہ سے جس کی باقاعدہ تعلیم مجھے کیمپ میں عجلت میں حاصل ہوئی واقف نہ تھا: انسان اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے پر مجبور ہے اوروہ انسان جو صرف ایک بار غلطی کا مرتکب ہوتا ہے، اس کی بھاری قیمت ادا کرتا ہے۔ لہٰذا میں صرف واقعات کی اس ترتیب کو با جواز مانتا ہوں: فسطائی ملیشیا کی تین کمپنیاں جو رات کو ہم سے کہیں زیادہ طاقت ور اور خطرناک جتھے کے شکار کے لئے نکلیں تھیں ایک برفانی صبح ہماری جائے پناہ میں آ دھمکیں اور مجھے ایک مشتبہ شخص کے طور پر گرفتار کر کے نیچے وادی میں لے گئیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوران تفتیش میں نے خود کو “یہودی النسل اطالوی شہری” تسلیم کیا۔ میں خیال کرتاتھا کہ ایسا کیے بغیر میں اتنی الگ تھلگ جگہوں پر اپنی موجودگی کا جواز کیسے پیش کروں گا اور یہ بھی کہ ( بعدمیں ثابت ہوا کہ میں غلط تھا) اپنی سیاسی جدوجہد کے اقرار کا مطلب تشدد اور یقینی موت تھی۔ ایک یہودی کی حیثیت سے مجھے موڈینا (Modena) کے قریب فوسولی (Fossoli) نامی جگہ پر واقع ایک قیدی کیمپ میں بھیج دیا گیا جو اصل میں برطانوی اور امریکی جنگی قیدیوں کے لئے قائم کیا گیا تھا مگر اب ان تمام مختلف افراد کی منزل تھی جو نو مولود فسطائی ریاست کے زیر عتاب تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">20فروری کو جرمنوں نے بہت اہتمام سے کیمپ کا معائنہ کیا اور کھانے کے انتظامات اور آگ کے لئے لکڑی کی کمی پر کھلم کھلا اطالوی منتظم کی سرزنش کی۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ عنقریب ایک شفاخانہ بھی قائم کیا جائے گا۔ لیکن اگلی صبح یعنی 21 فروری ہمیں خبر ملی کہ یہودی اگلے دن کوچ کر جائیں گے،تمام یہودی، کسی استثناء کے بغیر، یعنی بچے، بوڑھے اور بیمار، سبھی۔ ہماری منزل ؟ کسی کے علم میں نہ تھی۔ہمیں تقریباً پندرہ دن کا سفر درپیش تھا۔حکم یہ تھاکہ گنتی کے وقت غائب ہر شخص کی جگہ دس افراد کو گولی مار دی جائے گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صرف کچھ معصوم اور خودفریبِی کے شکار نفوس پر مشتمل ایک قلیل تعداد اب بھی پُر امید تھی۔ ہم جیسے دوسرے جو پولینڈ اور کروشیا کے مہاجرین سے اکثر بات چیت کرتے رہتے تھے جانتے تھے کہ “کوچ کرنے “کے کیا معنی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20094" aria-describedby="caption-attachment-20094" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-20094" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Jan-Komski-Laaltain.jpg" alt="نازی کیمپوں کے محسورین کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو جاتی تھی۔ " width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Jan-Komski-Laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Jan-Komski-Laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Jan-Komski-Laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20094" class="wp-caption-text">نازی کیمپوں کے محسورین کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو جاتی تھی۔</figcaption></figure>
<div class="urdutext">ان لوگوں کے لئے جنہیں موت کا مژدہ سنایا جا چکا ہوروایت ایک سادہ سی رسم تجویز کرتی ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ تمام جذبات اور غصہ ختم ہو چکا ہے اور انصاف کا عمل معاشرہ کی طرف سےمحض ایک ایسے افسردہ فرد کی نمائندگی کرتا ہے جو جلاد کو بھی اپنے شکار پر ترس کھانے پر مجبور کر دے۔لہٰذا سزا کے مستحق شخص کو تمام بیرونی پریشانیوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے، اسے تنہائی عطا کی جاتی ہے اور اگر وہ چاہے تو روحانی آسودگی بھی،مختصراًیہ کہ اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کو ئی نفرت یا من مانی محسوس نہ کرے بلکہ صرف احتیاج اور انصاف، اور بالآخر سزا کے ذریعے بخشش۔ مگر ہمیں یہ عطا نہ کیا گیاکیونکہ ہم کئی لحاظ سے کوتاہ تھے۔ اور اگر ایسا کیا بھی جاتا تو ہمیں کس گناہ کی توبہ مقصود تھی، ایسا کون سا جرم تھا جو معافی کا متقاضی تھا؟ اطالوی منتظم نے فیصلہ سنایا کہ آخری اعلان تک تمام انتظامات برقرار رکھیں جائیں گے: باورچی خانے کھلے رہے، بیگار کے ملازمین نے اسی طرح صفائی ستھرائی کی، یہاں تک کہ اساتذہ نے دوسرے دنوں کی طرح شام تک دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ مگر اس شام بچوں کو گھر کا کام نہ دیا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پھر رات آ گئی اور وہ ایسی رات تھی کہ ہر کوئی جانتا تھا کہ انسانی آنکھ اس کا مشاہدے کی تاب نہیں لا سکتی۔یہ حقیقت ہر ایک نے محسوس کی: اطالوی یا جرمن کسی محافظ تک میں یہ جرأت نہ تھی کہ آئے اور دیکھے کہ جب لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ وہ مرنے والے ہیں تو وہ کیا کرتے ہیں۔ ہر ایک جس طرح مناسب سمجھتا تھا زندگی سے رخصت لے رہا تھا۔ کچھ دعا میں مشغول تھے اور کچھ قصداً شراب کے نشے میں مخمور، اور کچھ آخری بار شہوت سے مست۔ مگر مائیں سفر کے لئے کھانا تیار کرنے، بچوں کو نہلانے اور سامان باندھنے میں رات گئے مصروف رہیں اور علی الصبح تاروں کی باڑھ بچوں کے سوکھتے ہوئے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ ہی وہ بچوں کے پوتڑے، کھلونے اور تکیے بھولیں، اور نہ ہزاروں دوسری ایسی چھوٹی چھوٹی اشیاء جو مائیں ہی یاد رکھ سکتی ہیں اور جو بچوں کی ضرورت ہوتی ہیں۔<br>
کیا آپ ایسا نہیں کرتے؟ اگر آپ اور آپ کا بچہ کل قتل کئے جانے والے ہوں تو کیا آپ اسے آج رات کا کھانا نہیں دیں گے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس بے معنی درستگی کے ساتھ جس سے ہمیں بعد میں مانوس ہونا تھا، جرمنوں نے حاضری لی۔ آخر میں افسر نے پوچھا “کتنی تعداد؟”۔ حوالدار نے خوبصورتی سے سیلوٹ کرتے ہوئے جواب دیا کہ چھ سو پچاس “ٹکڑے” ہیں اور سب کچھ درست ہے۔ پھر ہمیں بسوں میں سوار کر کے کارپی (Carpi)کے اسٹیشن لےجایا گیا۔ یہاں ٹرین سفر کے محافظوں کے ہمراہ ہماری منتظر تھی۔ یہاں ہم نے پہلی ضربیں کھائیں اور یہ اتنا نیا اور بے معنی تھا کہ ہمیں کوئی کرب محسوس نہ ہوا، نہ جسم اور نہ ہی روح میں۔صرف ایک شدید حیرانی کا احساس: کسی انسان کو غصہ کے بغیر کس طرح مارا جا سکتا ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زندگی میں جلد یا بدیر ہر کوئی یہ دریافت کر لیتا ہے کہ کامل مسرت ناقابل فہم ہے مگر کچھ لوگ توقف کر کے جوابِ دعوٰی پر غور کرتے ہیں کہ کامل غم بھی اتنا ہی ناقابل حصول ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹیں ایک ہی نوعیت کی ہیں:ان کا ماخذ ہماری وہ انسانی کیفیت ہے جو ہر لامتناہی شے سے غیر موافق ہے۔ مستقبل کے متعلق ہماری دائمی لاعلمی اس سے متضاد ہے : ہم اسے ایک حوالے سے امید اور دوسرے حوالے سے آنے والے کل کے متعلق عدم یقین کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ موت پریقین اس سے متضاد ہے: کیونکہ یہ ہر مسرت کو محدود کر دیتا ہے، اور اسی طرح ہر غم کو بھی۔ ناگزیر مادی تفکرات اس سے متضاد ہیں :کیونکہ جہاں وہ ہر دائمی مسرت کو زہر آلود کر دیتے ہیں وہاں وہ اتنی ہی مستقل مزاجی سے ہمارا رخ اپنی بد نصیبیوں سے بھی پھیر دیتے ہیں اور ان کے متعلق ہمارے شعور کو غیر مسلسل،لہذا قابل ِبرداشت بنا دیتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20095" aria-describedby="caption-attachment-20095" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-20095" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Janina-Tolkins-Laaltain.jpg" alt="کیمپوں میں حالات ناسازگار تھے" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Janina-Tolkins-Laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Janina-Tolkins-Laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/Janina-Tolkins-Laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20095" class="wp-caption-text">کیمپوں میں حالات ناسازگار تھے</figcaption></figure>
<div class="urdutext">وہ ایک شدید بے آرامی یعنی ضربوں، خنکی، پیاس وغیرہ کا احساس ہی تھا جس نے ہمیں دورانِ سفر اور اس کے بعد ایک اتھاہ شکستہ دلی کے خلا سے کچھ اوپر ہی اٹھائے رکھا۔یہ نہ تو کوئی زندہ رہنے کی امنگ تھی اور نہ ہی کوئی شعوری قناعت کا جذبہ کیونکہ چند ہی انسان ایسے عزم و استقلال کے اہل ہو سکتے ہیں اور ہم تو محض انسانیت کا ایک عمومی نمونہ تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم پیاس اور سردی کی اذیت میں مبتلا ہر پڑاؤ پر پانی یا تھوڑی سے برف ہی کے لئے دہائی دیتے رہے، مگر ہماری آواز کم ہی سنی گئی۔ جو بھی قریب آنے کی کوشش کرتا ریل گاڑی کے محافظ سپاہی اسے دور بھگا دیتے۔ دو جوان دود ھ پلاتی مائیں رات دن پانی کے لئے آہ وبکا کرتی رہیں۔ اعصابی دباؤ نے بھوک، تھکن اور نیند کی شدت کو کم کر دیا۔ مگر رات کے اوقات کسی نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20096" aria-describedby="caption-attachment-20096" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20096" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-conditions-laaltain.jpg" alt="کیمپوں میں سردی کی شدت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-conditions-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-conditions-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-conditions-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20096" class="wp-caption-text">کیمپوں میں سردی کی شدت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا</figcaption></figure>
<div class="urdutext">چند انسان ہی جانتے ہیں کہ اپنی موت کی جانب خودداری سے سفر کیسے ممکن ہے، اور اکثر وہ لوگ ہماری امیدوں کے برعکس ہوتے ہیں۔چند انسان ہی خاموشی کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں اور دوسروں کے سکوت کا احترام کرنا جانتے ہیں۔ ہماری بے آرام نیند کئی بار شور و غل اور لا حاصل تنازعات، گالیوں اورمداخلت پر آمادہ ناگزیر لمس کو روکنے کے لئےلاتوں اور مکوں کی وجہ سے ٹوٹی۔ پھر کوئی موم بتی جلا دیتا اور اس کا غمگین شعلہ ایک مبہم ہیجان کو ظاہر کرتا، زمین پر پھیلا ہوا ایک انسانی انبار، منتشر اور مسلسل، جامد اور ٹیسوں سے بھرپور، اچانک ہلچل سے یہاں وہاں ابھرتا اور پھریک دم تھکن سے نڈھال ہو کر دوبارہ ڈھیر ہوتا ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ریل گاڑی کی درز سے جانے پہچانے اوراجنبی آسٹریائی شہروں، سالزبرگ (Salzburg)، وی اینا (Vienna)وغیرہ کے نام نظر آتے رہے، پھر چیکو سلواکیہ اور آخر کار پولینڈ۔ چوتھے دن شام کے وقت سردی مزید شد ت پکڑ گئی۔ ریل گاڑی ناقابل ِاختتام، کالے صنوبر کے جنگلات سے گزرتی ہوئی چڑھائی پر گامزن تھی۔برف اونچی ہو رہی تھی۔ یہ شاید کوئی ذیلی لائن تھی کیوں کہ اسٹیشن چھوٹے چھوٹے اور تقریباً غیر آباد تھے۔ پڑاؤ کے دوران کسی نے باہر کی دنیا سے رابطے کی مزید کوشش نہیں کی۔ اب ہمیں خود بخود محسوس ہو رہا تھا کہ”دوسری جانب” پہنچ گئے ہیں۔ کھلے میدان میں ایک طویل پڑاؤکے بعد ریل گاڑی نہایت آہستگی سے روانہ ہوئی اور پھر قافلہ رات کے سکوت میں ایک خاموش تاریک میدان میں آخری دفعہ رک گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک درجن ’ایس ایس‘ سپاہی کولہوں پر ہاتھ رکھے ایک لاتعلقی کے ساتھ کھڑے تھے۔کسی خاص گھڑی وہ ہمارے درمیان گشت کرنا شروع ہوئے اور پتھر صفت چہرے کے ساتھ سخت مگر سپاٹ لہجے والی ٹوٹی پھوٹی اطالوی میں ہم سے ایک ایک کر کے سوالات کرنے لگے۔ انہوں نے سب افراد کی بجائے چند ہی لوگوں سے پوچھ گچھ پر اکتفا کیا:“کیا عمر ہے؟ صحت مند یا بیمار؟” اور جواب کی بنیاد پر دو مختلف سمتوں میں اشارہ کرتے رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہر چیز کسی تالاب کی طرح ساکت تھی، یا اسی طرح جیسے کچھ خوابوں کے سلسلو ں میں ہوتا ہے۔ہمیں کچھ زیادہ غارت گری کی توقع تھی اور یہ تو سادہ سے پولیس کے سپاہی لگتے تھے۔ سب کچھ بے ترتیبی کو دعوت دے رہا تھا اور شبہات کو رفع کر رہاتھا۔ کسی نے اپنے سامان کے بارے میں پوچھنے کی جرأت کی: جواب ملا “سامان بعد میں”۔ کسی نے کہا کہ وہ اور اس کی بیوی اکھٹے رہنا چاہتے ہیں : انہوں نے جوب دیا “اکٹھے بعد میں”۔ کئی مائیں اپنے بچوں سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھیں : انہیں جواب دیا گیا “اچھا، اچھا، بچے کے ساتھ رہو”۔ مگر رینزو اپنی منگیتر فرانسیسکا کو الوداع کہنے کے لئے ایک ساعت زیادہ رکا اور ایک ہی ضرب میں انہوں نے اسے زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ان کا روزمرہ کافرض تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دس منٹ سے بھی کم عرصے میں تمام صحت مند آدمی ایک جگہ جمع کئے جا چکے تھے۔دوسروں یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے بارے میں ہمیں نہ تو اس وقت کچھ خبر ملی اور نہ ہی بعد میں، بس رات نے انہیں نگل لیا۔ تاہم آ ج ہمیں معلوم ہے کہ اس تیز رفتار اور مختصر چناؤ میں ہم میں سے ہر کسی کو نازی حکومت کے لئے مفید یا غیر مفید ہونے کی حیثیت سے جانچا جا رہا تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے قافلے میں سے چھیانوے آدمی اور اور انتیس عورتیں بالترتیب مونووٹز بونا (Monowitz-Buna)اور برکیناؤ (Birkenau) کے کیمپوں میں داخل ہوئے اور دو دن کے بعد باقی بچ جانے والوں، یعنی پانچ سو سے زیادہ میں اسے ایک بھی زندہ نہ تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ صحت مند اور غیر صحت مند کے مابین امتیاز کا یہ نازک اصول بھی ہمیشہ نہیں اپنایا گیا اور بعد میں ایک مزید سادہ طریقہ جو اکثر اپنایا گیا یہ تھاکہ محض گاڑی کے دونوں دروازے کسی انتباہ یا فرمان کے بغیر نوواردوں کے لئے کھول دئیے جائیں۔ جو کسی اتفاق کی وجہ سے ایک جانب اترے وہ کیمپ اور دوسری جانب والے گیس چیمبر میں داخل ہو گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہی وہ وجہ تھی کہ تین سالہ ایمیلیا موت سے جا ملی۔ اولاد ِ یہودکے قتل کی تاریخی ناگزیری جرمنوں پر فی نفسہٖ عیاں تھی۔ ایلڈو لیوی کی بیٹی ایمیلیا ایک پُر تجسس، پُرامنگ، خوش مزاج اور ذہین بچی تھی۔ دورانِ سفر اس کے والدین اسے نیم گرم پانی سے بھرے ایک ٹب سے نہلانے میں کامیاب ہو گئے تھے جو ایک ناخلف جرمن انجینئر نے انہیں اسی انجن سے نکالنے دیا جو ہم سب کو موت کی سمت گھسیٹ کے لے جا رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پس اسی طرح ایک ہی گھڑی میں ہماری عورتیں، والدین اور بچے غائب ہو گئے۔ ایک ساعت کے لئے وہ ہمیں پلیٹ فارم کے اُس پار ایک مبہم ہجوم کی صورت نظر آئے لیکن اس کے بعد نگاہ سے اوجھل ہو گئے۔<br>
ان کی جگہ لیمپوں کی روشنی میں عجیب و غریب افراد کے دو گروہ ظاہر ہو گئے۔ وہ تین قطاروں پر مشتمل دو دستوں میں ایک عجیب الجھے ہوئے قدم کے ساتھ، سر آگے کو جھولتے ہوئے، ساکت بازوؤں کے ساتھ چل رہے تھے۔ ان کے سروں پر مضحکہ خیز فوجی ٹوپیاں تھیں اور وہ دھاری دار لمبے اوورکوٹوں میں ملبوس تھے، جو رات میں بھی اور کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود غلیظ چیتھڑے معلوم پڑتے تھے۔وہ ایک بڑے دائرے میں ہمارے گرد گھومنے لگے اور خاموشی سے ہمارے سامان کے ساتھ مصروف خالی ڈبوں سے اندر باہر جاتے رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم نے کوئی بات کئے بغیر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ سب کچھ ایک ناقابل فہم پاگل پن لگتا تھا، مگر ایک بات ہمیں سمجھ آ گئی۔ یہ وہ قلبِ ما ہیت تھی جو ہماری منتظر تھی۔ کل ہمیں بھی ان جیسا ہو جانا تھا۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">2۔ تہہ میں</div>
<div class="urdutext">آخر کار ایک اور دروازہ کھلا۔ ہم یہاں بند ہیں، برہنہ، منڈے سر اور کھڑے ہوئے، جبکہ ہمارے پاؤں پانی میں ہیں۔ یہ نہانے کا کمرہ ہے۔ ہم تنہا ہیں۔ آہستہ آہستہ حیرت ختم ہو گئی اور باتیں شروع ہوئیں۔ ہر کوئی سوال پوچھتا ہے اور جواب کسی کے پاس نہیں۔ اگر ہم نہانے کے کمرے میں برہنہ کھڑے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم غسل کریں گے۔ نہانے دیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی ہمیں قتل نہیں کریں گے۔مگر پھر انہوں نے ہمیں کھڑا کیوں کر رکھا ہے اور پینے کو کیوں کچھ نہیں دے رہے جبکہ کوئی بھی کچھ تفصیل نہیں بتا رہا، اور نہ ہی ہمارے پاس کپڑے یا جوتے ہیں مگر برہنہ ننگے پیر پانی میں کھڑے ہیں، ہم نے پانچ روز مسلسل سفر کیا ہے تو کیا بیٹھ بھی نہیں سکتے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور ہماری خواتین؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20097" aria-describedby="caption-attachment-20097" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20097" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/women-camps-laaltain.jpg" alt="خواتین کے کیمپوں میں ظلم کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جاتے تھے" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/women-camps-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/women-camps-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/women-camps-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20097" class="wp-caption-text">خواتین کے کیمپوں میں ظلم کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جاتے تھے</figcaption></figure>
<div class="urdutext">پاس کھڑا لیوی مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا میرے خیال میں ہماری خواتین بھی اس وقت اسی حال میں ہوں گی، وہ کہاں ہیں،اور کیا ہم انہیں کبھی دیکھ پائیں گے؟ میرا جواب ہاں ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے، یقیناً ہم انہیں دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ مگر اب تک مجھے یقین ہے یہ سب ہماری تضحیک اور تحقیر کے لئے رچایا گیا ایک کھیل ہے۔ ظاہر ہے وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ جو بھی سمجھتا ہے کہ وہ زندہ بچ جائے گا وہ دیوانہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس نے شکاری کا چارہ نگل لیا ہے مگر میں ایسا نہیں ہوں۔میں سمجھ چکا ہوں کہ یہ سب کچھ جلد ہی ختم ہو جائے گا، شاید اسی کمرے میں، جب وہ ہمیں برہنہ، ایک پاؤں سے دوسرے پر رقصاں، ہر وقت زمین پر بیٹھنے کی کوشش میں دیکھتے دیکھتے اکتا جائیں گے۔ مگر زمین پر تو دو انچ سرد پانی ہے اور بیٹھنا ناممکن۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">فراغت کے بعد ہر کوئی اپنے کونے میں پڑا رہا اور ہمیں ایک دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہوئی۔ یہاں آیئنہ تو نہیں مگر ہمارا ظاہر بیسیوں سرمئی چہروں اور اور بیسیوں خستہ حال غلیظ پُتلیوں میں منعکس ہو تا ہوا ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ہم انہیں بدروحوں کے قالب میں ڈھل چکے ہیں جن کی ایک جھلک ہم نے پچھلے روز دیکھی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پھر ہم پر یہ پہلی بار آشکار ہوا کہ ہماری زبان میں اس جرم یعنی انہدامِ انسان کو بیان کرنے کی لئے الفاظ ناپید ہیں۔ ایک لمحے میں تقریباً ایک الہامی وجد ان کی طرح ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ہم تہہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اس سے مزید نیچے ڈوبنا ناممکن ہے۔انسان کی اسے زیادہ خستہ حالی کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی اس کا تصور ممکن ہے۔ کوئی شے ہماری نہیں، وہ ہمارے کپڑے، جوتے، یہاں تک کے بال بھی سلب کر چکے ہیں۔ اگر ہم لب کھولیں گے تو وہ ہماری آواز نہیں سنیں گے اور اگر سنیں گے تو سمجھیں گے نہیں۔ وہ ہمارا نام بھی سلب کر لیں گے اور اگر ہم اس سے جڑے رہنا چاہیں تو ہمیں اپنے اندر ایسا کرنے کی قوت تلاش کرنی ہو گی کہ کسی طور اس نام کے پیچھے ہمارا کوئی حصہ اب بھی موجود ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم جانتے ہیں کہ اپنی بات سمجھانا مشکل ہوگا اور ایسا ہی ہونا چاہیئے۔ مگر غور کریں ہماری چھوٹی سے چھوٹی روزمرہ عادات میں کیا قیمت یا کیا معانی ملفوف ہیں، ان بیسیوں چیزوں میں جو ایک غریب ترین بھکاری کی ملکیت بھی ہوتی ہیں:ایک رومال، کوئی پرانا خط، کسی محبوب کی تصویر۔ یہ اشیاء ہمارا حصہ ہیں، تقریباً اسی طرح جیسے ہمارے بدن کے اعضاء۔ ہماری دنیا میں ان سے جدا کردیئے جانے کا تصور ممکن نہیں کیوں کہ اس صورت میں ہم فوراً ان کےنئےمتبادل تلاش کر لیں گے، یعنی دوسری اشیاء جو ہماری یادوں بازیاب کرتی مجسم صورتیں بن جاتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ایک ایسے انسان کا تصور کریں جو ہرمانوس شخص، اور ساتھ ہی ساتھ اپنے گھر، اپنی عادات، اپنےلباس، مختصراً ہر اس چیز سے جس کا وہ مالک ہے محروم کیا جا چکا ہے:وہ ایک کھوکھلا انسان ہو گا جو عزت اور ضبطِ نفس فراموش کرنے کے بعد اپنی ضروریات اور مصائب تک محدود کیا جا چکا ہے، کیوں کہ ایسااکثر ہوتا ہے کہ سب کچھ کھو دینے والاآخر کار اپنے آپ کو بھی کھو دیتا ہے۔وہ ایک ایسا انسان ہو گا جس کی زندگی اور موت کا فیصلہ انسانی ناطےداری کے احساس کی بجائے خالص افادیت کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔یہ وہ طریقہ ہے جس سے “استیصالی کیمپ” (extermination camp) جیسی اصطلاح کے دوگانہ معانی سمجھے جا سکتے ہیں اور اب یہ ظاہر ہے کہ ہم “تہہ میں پڑے ہونے” کی عبارت سے کیا واضح کرنا چاہتے ہیں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہیفٹلنگ! (قیدی) (1)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے معلوم ہوا ہے کہ میں ایک” ہیفٹلنگ” ہوں۔ میرا نمبر 174517 ہے۔ ہمیں بپتسمہ دیا جا چکا ہے۔گودنے کا نشان ہمارے بائیں بازو پر تا حیات رہے گا۔ آپریشن ہلکا سا تکلیف دہ اور غیر معمولی طو رپر تیز رفتار تھا۔ انہوں نے ہمیں ایک قطار میں کھڑا کر دیا اور ایک ایک کر کے ناموں کی ابجدی ترتیب کے ساتھ ہم ایک باہنر اہلکار کے سامنے سے گزرتے رہے جس کے ہاتھ میں ایک پتلی سی سوئی والا نوک دار اوزار تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی اصل اورحقیقی داخلہ لائسنس ہے:صرف “اپنا نمبر دکھا کر” ہی روٹی اور شوربہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔کئی دن اور کافی تھپڑوں مکوں کے بعد ہم چستی کے اس معیار پر پورے اترے کہ روزمرہ کے ضابطے میں کسی خلل کے بغیر اپنا نمبر دکھا کر کھانا حاصل کر سکیں۔ جرمن زبان میں اس کی آواز سمجھنے کے لئے ہفتے اور مہینے درکار تھے۔اور کئی دفعہ جب ایامِ آزادی کی عادا ت مجھے کلائی کی گھڑی کی طرف نظر دوڑانے پر مجبور کرتیں، مجھے طنزاًاپنا نیا نام نظر آ جاتا، کھال کے نیچے نیلے حروف میں گوندھا ہوا اس نام کا نمبر۔ کافی دن بعد آہستہ آہستہ ہم میں سے کچھ کو آشوٹز (Auschwitz)کے نمبروں کی تعزیتی سائنس کے بارے میں کچھ کچھ پتا چلا، جو یورپی یہودیت کے انہدام کے درجات کی علامت ہے۔ کیمپ کے پرانے باسیوں کے نزدیک نمبر سب کچھ بیان کر دیتے ہیں: کیمپ میں داخلے کا عرصہ، وہ قافلہ جس کا فرد حصہ تھا، لہذا قومیت۔ ہر کوئی 30000 سے 80000 تک کے نمبروں کی عزت کرتا ہے :ان میں سے کچھ سو ہی باقی رہ گئے ہیں اور وہ پولینڈ کے یہودی باڑوں سے زندہ بچ جانے والے ہیں۔ کاروباری معاملات میں 116000یا 117000کے سلسلے سے ہوشیار رہیں:اب ان میں سے صرف چالیس ہی باقی بچے ہیں مگر وہ یونانی تسالونیکی (Greeks of Salonica) ہیں، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں۔ جہاں تک بڑے نمبروں کا سوال ہے تو ان سے ایک ناگزیر تمسخرانہ کیفیت مربوط ہے جیسا کہ عام زندگی میں “نوآموز” (Freshman) یا “بیگار کا سپاہی” (Conscript) جیسے القابات۔ عمومی طور پر بڑا نمبر ایک فربہ، فرمانبردار اور احمق شخص ہے: یہ باور کرواتے ہوئے کہ تمام نازک پیر والوں کو شفاخانے میں چمڑے کے جوتے دیے جا رہے ہیں،اسے اپنےشوربے کی پلیٹ “آپ کی حفاظت” میں رکھوا کراُس جانب بھاگنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ چاہیں تو آپ روٹی کے تین راشن کے بدلے اسے ایک چمچ بھی بیچ سکتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تویہ ہے ہماری زندگی۔ ہر دن ایک باضابطہ تسلسل کے ساتھ، صبح کی حاضری پریڈاور شام کی حاضری پریڈ، باہر جانا اور اندر آنا، سونا اور کھانا، بیمار پڑنا، واپس صحت مند ہونا یا مر جانا۔لیکن آخر کب تک؟ پرانے قیدی اس سوال پر مسکراتے ہیں۔ وہ اس سوال سے نواردو ں کو پہچان لیتے ہیں۔ مسکرادیتے ہیں مگر کوئی جواب نہیں دیتے۔ مہینوں اور سالوں میں دور دراز مستقبل کا مسئلہ مدھم پڑ چکا ہے اور اس سے کہیں زیادہ ضروری اور ٹھوس مسائل کے سامنے اپنی شدت کھو چکا ہے:آج میں کتنا کھا سکوں گا؟ اگر آج برفباری ہوئی تو کیا کوئلے کی مال برداری ہو گی؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر ہم منطقی ہوتے تو اپنا آپ اس دلیل کے سپرد کر چکے ہوتے کہ ہماری تقدیر انسانی علم سے ماوراء ہے،اور یہ کہ ہر مفروضہ بے طور اور مشاہداتی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ مگر جب اپنی ہی تقدیر داؤ پر لگی ہو تو انسان کم ہی منطقی ہوتے ہیں، وہ ہر موقع پر انتہا پسندانہ نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی مخصوص طبیعتوں کے مطابق کچھ تو فوراً مان جاتے ہیں کہ سب کچھ کھو گیا ہے، انسان یہاں نہیں رہ سکتا، اور خاتمہ قریب اور یقینی ہے۔ دوسرے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حالیہ زندگی کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو، نجات کا احتمال ہے اور وہ زیادہ دور نہیں ہے، اور اگر ہم میں ایمان اور قوت ہو تو ہم ایک بار پھر اپنے گھربار اور احباب کو ضرور دیکھیں گے۔ قنوطیت اور رجائیت پسندی کی ان دو اقسام کے درمیان تفریق واضح نہیں ہے، مگر اس لئے نہیں کہ بہت سے لوگ لاادرئیت پسند ہیں بلکہ اس لئے کہ کسی یاداشت یا ہم آہنگی کے بغیر اکثریت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان وقت اور انفرادی کیفیت ِ مزاج کے زیر ِ اثر ڈولتی رہتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سو اب میں یہاں تہہ میں پڑا ہوں۔ جبر کے زیر اثر انسان جلد ہی سیکھ جاتا ہے کہ ماضی اور مستقبل کو کیسے مٹایا جائے۔ آمد کے پندرہ دن کے اندر اندرمجھ پر مجوزہ بھوک کا حملہ ہوچکا تھا، وہ شدید بھوک جس سے آزاد انسان نا آشنا ہیں، جو رات کو خواب دکھاتی ہے اور تمام انسانی اعضاء میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔ میں پہلے ہی جان چکا ہوں کہ اپنے آپ کو لٹنے سے کس طور بچانا ہے، اور اگر مجھے کوئی چمچ گرا ملے، یا دھاگے کا ایک ٹکڑا یا ایک ایسا بٹن جسے میں سزا کے خطرے کے بغیر حاصل کر سکوں تومیں اسے جیب میں منتقل کر لوں گا اور پورے حق کے ساتھ اسے اپنی ملکیت سمجھوں گا۔ میرے پاؤں تلے وہ بے حس چھالے ہیں جو مندمل نہیں ہوں گے۔میں گاڑیاں دھکیلتا ہوں، میں کام کے لئے کدال کا استعمال کرتا ہوں،میں بارش میں گل سڑ جاتاہوں، میں ہوا میں کانپتا ہوں، میرا جسم مزید میرا نہیں ہے، میرا پیٹ سوجا ہوا ہے، میرے اعضاء لاغر ہیں، میرا چہرا صبح میں پھولا ہوااور شام میں کھوکھلا ہوتا ہے، ہم میں سے کچھ کی جلد زرد اور کچھ کی خاکستری ہے۔اگر ہم کچھ دن ایک دوسرے سے نہ ملیں تو مشکل ہی سے پہچان پاتے ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">3۔ آغاز</div>
<div class="urdutext">مجھے بہت سے سوال پوچھنے ہیں۔ میں بھوکا ہوں تو کیا یہ کل شوربہ بانٹیں گے؟ کیامیں چمچ کے بغیر اسے کھا سکوں گا؟ مجھے چمچ کہاں ملے گا؟ کل مجھے کام کے لئے کہاں بھیجا جائے گا؟ ڈی اینا مجھ سے زیادہ نہیں جانتا اور جواباً مزید سوال داغ دیتا ہے۔ مگر اوپر اور نیچے، قریب اور دور، اندھیرے کمرے کے ہر کونے سے نیند میں بھری غصیلی آوازیں مجھ پر چلا رہی ہیں: “رُوہے، رُوہے۔”(2) میں سمجھتا ہوں کہ یہ مجھے خاموش رہنے کا حکم دے رہی ہیں مگر یہ لفظ میرے لئے نیا ہے۔ چونکہ میں اس کے معنی اور مراد نہیں سمجھتا میرا شور بڑھ جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زبانوں کا ابہام یہاں کے رہائشی اطوار کا بنیادی عنصر ہے: انسان اپنے آپ کو مسلسل ایک بابل میں محبوس محسوس کرتا ہے جہاں ہر کوئی نامعلوم زبانوں میں احکام اور دھمکیاں اگل رہا ہے اور جو کوئی بھی معنی تک نہ پہنچ سکے وہی ملامت کا حقدار ہے۔ یہاں کسی کے پاس وقت نہیں،کوئی آپ کی نہیں سنتا، ہم نوواردان مار پیٹ کے ڈر سے فطری طور پر دیواروں کے ساتھ لگے کونوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں کسی جھجک کے بغیر تسلیم کرتا ہوں کہ جیل کے صرف ایک ہفتے بعد ہی مجھ میں صفائی کی جبلت غائب ہو گئی۔ بے مقصد نہانے کے کمرے کے گرد گھوم رہا ہوں کہ مجھے یک لخت اسٹائن لاف مل جاتا ہے، میرا تقریباً پچاس سالہ دوست جو ننگے دھڑ اپنے گردن اور کندھوں کو پوری قوت سے رگڑتے ہوئے بغیر کسی کامیابی (اس کے پاس صابن نہیں ہے) کے صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسٹائن لاف مجھے دیکھتا ہے اور خوش آمدید کہتا ہے۔ پھر بغیر کسی تمہید کے سختی سے پوچھتا ہے کہ میں کیوں نہیں نہاتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے کیوں نہانا چاہئے؟ کیامیں اب سے بہتر ہو جاؤں گا؟ کیا میں کسی اور کی خوشی کا باعث ہوں گا؟ کیا میں ایک دن، ایک گھنٹہ زیادہ زندہ رہ پاؤں گا؟ میں شاید کم زندہ رہوں گا کیوں کہ نہانا محنت طلب ہے، طاقت اور حدت کا ضیاع۔ کیا اسٹائن لاف نہیں جانتا کہ کوئلے کی بوریوں کی ساتھ آدھا گھنٹہ گزارنے کے بعد ہم میں ہر امتیاز مٹ جائے گا؟ میں جتنا اس بارے میں سوچتا ہوں، اپنی موجودہ حالت میں اپنا منہ دھونا ایک بےوقوفی محسوس ہوتا ہے بلکہ محض سبک سری:ایک میکانی عادت، یا اس سے بھی بدتر کسی متروک تہوار کا بے کیف تسلسل۔ ہم سب مر جائیں گے، ہم سب قریب المرگ ہیں:اگر یہ مجھے صبح کے بگل اور کام کے درمیان دس منٹ دیں تو میں انہیں کسی اور شے کے لئے وقف کروں گا، اپنے اندر جھانکنے کے لئے، غورو فکر کے لئے، یا محض آسمان کی طرف دیکھنے اور سوچنے کے لئے کہ میں اس کی طرف آخری بار دیکھ رہا ہوں، یا صرف اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے، تاکہ اپنے آپ کو ایک غیر مصروف ساعت کا تعیش عطا کر سکوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر اسٹائن لاف مجھے ٹوک دیتا ہے۔ وہ نہا چکا ہے اور اب اپنے آپ کو اسی کپڑے سے پونچھ رہا ہے جو اس نے پہلے اپنی ٹانگوں پر لپیٹا ہوا تھا او رجو وہ عنقریب پہن لے گا۔بغیر اس عمل میں کسی رکاوٹ کے وہ مجھے ایک مکمل درس دیتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے افسوس ہے کہ میں اس کےسادہ صاف گو الفاظ فراموش کر چکا ہوں، آسٹریائی ہنگری فوج کے سارجنٹ اسٹائن لاف کے الفاظ۔ افسوس اس لئے کہ مجھے اس کی ٹوٹی پھوٹی اطالوی اور ایک اچھے سپاہی جیسے خاموش طبع سلیقۂ گفتگو کو اپنے جیسے بے اعتقاد کی زبان میں ڈھالنا ہے۔ مگرکم و بیش لُب لباب یہ تھا:چونکہ قیدی کیمپ ایک ایسی عظیم مشین ہے جس کا مقصد ہمیں درندہ بنا دینا ہے، اس لئے ہمیں درندہ نہیں بننا۔ اور یہ کہ انسان اس جگہ پر بھی زندہ رہ سکتا ہے لہٰذا انسان کو زندہ رہنے کی خواہش رکھنی چاہئے تاکہ کہانی سنا سکے اورگواہی دے سکے۔ زندہ رہنے کے واسطے ہمیں کم از کم اس ڈھانچے، اس مچان، تمدن کی اس شکل کو بچا کے رکھنا ہے۔ ہم ہر حق سے دستبردار، ہر دشنام کے لئے حاضر، ایک یقینی موت کے معتوب کردہ غلام ہیں مگر ہم اب بھی ایک قوت کےمالک ہیں اور ہمیں پوری ہمت کے ساتھ اس کا دفاع کرنا ہے کیوں کہ یہ آخری قوت رضامندی سے انکار ہے۔ لہٰذا ہمیں یقیناً اپنے منہ صابن کے بغیر گندے پانی سے دھونے چاہئیں اور قمیصوں سے اپنے آپ کو پونچھنا چاہئے۔ ہمیں اپنے جوتوں کو پالش کرنا چاہئے، اس لئے نہیں کہ یہ ضابطہ ہے بلکہ عزت اور معقولیت کی خاطر۔ہمیں سیدھا اکڑ کر چلنا چاہئے، اس لئے نہیں کہ یہ جرمن نظم کے مطابق ہے بلکہ زندہ رہنے اور موت کی جانب سفر شروع نہ کرنے کے لئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ سب کچھ جو ایک اچھی نیت والے انسان اسٹائن لاف نے مجھے بتایا میرے کانوں کے لئے اجنبی تھا اور میں اسے جزوی طور پر ہی سمجھ اور قبول کرسکا، ایک ایسےمزید سہل، سادہ، لچک دار اور معتدل نظریے نے میری خاطر یہ مخصوص نظریہ نرم کر دیا جس نے صدیوں سے کوہِ الپس کے اس پار اپنا ٹھکانہ تلاش کیا ہوا ہے۔اور چیزوں کے علاوہ اس کے مطابق دوسروں کی ملکیت اور کسی اور فلک تلے بیان کردہ نظامِ اخلاق کو ہضم کر لینے سے زیادہ خود نمائی کا مظہر اور کوئی شے نہیں۔نہیں، ہر گز نہیں، اسٹائن لاف کی نیکی اور دانائی جو اس کے لئے یقیناً بہتر ہو گی میرے لئے کافی نہیں۔ اس پیچیدہ دنیا میں دائمی عذاب کےمتعلق میرے تصورات مبہم ہیں۔ کیا ایک نظام کا بیان اور اس کے عملی مظاہر واقعی ناگزیر ہیں؟ یا پھر کیااس سے یہ بہتر نہیں کہ نظام کی غیر موجودگی کو تسلیم کر لیا جائے؟</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">4۔ شفاخانہ</div>
<div class="urdutext">یہ شاید گرمی ہے یا پیدل چلنے کی تھکن مگر درد دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور ساتھ ہی زخمی پاؤں میں ایک عجیب سی نمی کا احساس۔ میں اپنا جوتا اتارتا ہوں: یہ خون سے بھرا ہوا ہے جو اب ایک سیال کی صورت مٹی اور کپڑوں کے ان چیتھڑوں میں مل رہا ہے جو مجھے ایک ماہ پہلے ملے تھے، اور جنہیں میں ایک دن دائیں اور دوسرے دن بائیں پاؤں کے نیچے رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج شام شوربہ کے بعد میں “کا۔بے”(3) جاؤں گا۔ یہ کرنکن باؤ یعنی کہ شفاخانے کا مخفف ہے۔ یہ آٹھ جھونپڑوں پر مشتمل ہے کیمپ کے دوسرے جھونپڑوں کی طرح مگر تاروں کی باڑ کے ذریعے علیٰحدہ۔ یہاں کیمپ کی کل آبادی کا دس فیصد حصہ مستقل رہائش پذیر ہے مگر کچھ یہاں دو ہفتے سے زیادہ رہتے ہیں اور کوئی ایسا نہیں جو یہاں دو ماہ سے اوپر رکے: انہی حدود کے اندر یاتو وہ صحت مند ہو جاتے ہیں یا انہیں مرجانا ہے۔ جن میں صحت کی علامات نمودار ہوتی ہیں ان کا علاج” کا۔بے” میں جاری رہتا ہے اور جن کی صحت رو بہ زوال ہوتی ہے وہ گیس چیمبر کی طرف بھیج دیئے جاتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ہمارا شمار خوش قسمتی سے “معاشی طور پر مفید یہودیوں” میں ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ساتھ والے تختۂ خواب پر میرے دو پڑوسی ہیں۔ وہ رات دن ایک دوسرے کے ساتھ جسم ملائے، بُرجِ حوت کی مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کے سر کی جانب پیر کئے لیٹے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک والٹر بون ہے، ایک سلجھا ہوا متمدن ولندیزی۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس ڈبل روٹی کاٹنے کے لئے کچھ نہیں تو اپنی چھری مجھے ادھار دے دیتا ہے اور پھر ڈبل روٹی کے آدھے راشن کے عوض بیچنے کی پیشکش کرتا ہے۔میں قیمت پر بحث کرتا ہوں اور پھر اس کی پیشکش مسترد کر دیتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں یہاں “کا۔بے” میں مجھے کوئی نہ کوئی ادھار دے ہی دے گا اور باہر اس کی قیمت صرف راشن کا ایک تہائی ہے۔مگر اس وجہ سے والٹر ہر گز اپنی خوش خلقی کم نہیں ہونے دیتا اور دن چڑھے اپنا شوربہ پینے کے بعد اپنے منہ سے چمچ صاف کر کے(جو کہ ادھار دینے سے قبل ایک اچھا اصول ہے تاکہ شوربے کے ذرا سے ذرات بھی ضائع نہ ہوں) ایک دم مجھے پیش کر دیتا ہے۔<br>
“تمہیں کیا مرض ہے، والٹر؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“اعضاء کا گلنا سڑنا”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یعنی وہ بدترین مرض جو ناقابل علاج ہے اور“کا۔بے” (2) میں اس طرح کی تشخیص کے ساتھ داخلہ خطرناک ہے۔اگر اسےپیدل چلنے سے روکنے والی ایڑیوں کی سوجن نہ ہوتی (جو وہ مجھے دکھاتا ہے) تو وہ بیماری کے بارے میں اعلان کرنے میں احیتاط برتتا۔اس خطرے کے بارے میں میرے تصورات اب تک مبہم ہیں۔ ہر کوئی اس کے بارے میں بالواسطہ طور پر اشاروں کنایوں میں با ت کرتاہے او رجب میں کوئی سوال کرتا ہو ں تو میری طرف دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔کیاوہ سب کچھ جو چناؤ (selections)، گیس اور لاشیں جلانے کی بھٹیوں (crematorium) کے بارے میں سننے میں آتا ہے سچ ہے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20098" aria-describedby="caption-attachment-20098" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20098" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/corpse-burning-laaltain.jpg" alt="لاشوں کی بھٹیاں" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/corpse-burning-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/corpse-burning-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/corpse-burning-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20098" class="wp-caption-text">لاشوں کی بھٹیاں</figcaption></figure>
<div class="urdutext">“لاشوں کی بھٹیاں۔” دوسرا جو والٹر کا پڑوسی ہے چونک کر اٹھ بیٹھتا ہے:“لاشوں کی بھٹیوں کے بارے میں کون بات کر رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا کسی سوتے آدمی کو سکون سے نہیں رہنے دیا جا سکتا؟“یہ پولینڈ کا یہودی ہے، ایک جذامی جس کا لاغر خوش فطرت چہرہ اب مزید جوان نہیں رہا۔ اس کا نام شمولک ہے، یہ ایک لوہار ہے۔والٹر اس کو مختصراً بتاتا ہے۔” تو یہ ’احمق اطالوی‘ چناؤ کو حقیقت نہیں مانتا۔” شمولک جرمن بولنا چاہتا ہے مگر یہودی زبان بولتا ہے۔ میں اس کی بات مشکل سے سمجھتا ہوں کیونکہ وہ اپنی بات سمجھانا چاہتا ہے۔ وہ والٹر کو اشارے سے خاموش کراتا ہے او رمجھے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے، “مجھے اپنا نمبر دکھاؤ: تم 174517ہو۔ نمبروں کا یہ سلسلہ اٹھارہ ماہ قبل شروع ہو ا تھا اور اس کا اطلاق آشوٹز اور اس کے ماتحت کیمپوں پر ہوتا ہے۔ بونا مونووٹز (Buna-Monowitz)میں اب ہم دس ہزار ہیں، آشوٹز (Auschwitz) اور برکینو (Birkenau)میں شاید تیس ہزار۔ باقی کہاں ہیں؟”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“شاید دوسرے کیمپوں میں بھیج دیئے گئے ہوں”، میں ایک ممکنہ جواب پیش کرتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شمولک اپنا سر جھٹک کر والٹر کی طرف مڑتا ہے، “یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر تقدیر کا فیصلہ یہ تھا میں جلد ہی سمجھ جاؤں، اور خودشمولک ہی کے عوض۔ اسی شام جھونپڑے کا دروازہ کھلا، ایک آواز آئی “ہوشیار” اور ہر آواز کی جگہ ایک غمگین سناٹے نے لے لی۔“ایس۔ایس“کے دو سپاہی اندر داخل ہوتے ہیں (ان میں سے ایک نے وردی پر بہت سے عسکری نشان لگا رکھے ہیں، شاید وہ کوئی افسر ہے)۔ ان کے قدموں کی آواز کمرے میں اس طرح سنائی دیتی ہے جیسے وہ خالی ہو۔ وہ چیف ڈاکٹر سے بات چیت کرتے ہیں اور وہ انہیں ایک رجسٹر دکھاتا ہے اور اس میں اِدھر اُدھر اشارہ کرتا ہے۔ افسر اپنی نوٹ بک میں کچھ لکھتا ہے۔ شمولک میرے گھٹنے کو چھوتا ہے، “اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔” افسر ڈاکٹر کی معیت میں خاموشی اور سرد مہری سے خوابی تختوں کے بیچ گھومتا ہے، اس کے ہاتھ میں ایک سوئچ ہے جسے وہ اوپر والے تختے کے کمبل کے لٹکے ہوئےسرے کی طرف کر کے دباتا ہے، مریض جلدی سے اسے ٹھیک کرتا ہے۔ ایک کا چہرہ زرد ہے۔ افسر اس کے کمبل کھینچتا ہے، وہ پیچھے ہٹتا ہے، افسر اس کا پیٹ چھوتا ہے اور کہتا ہے “اچھا، اچھا” اور آگے بڑھ جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب وہ شمولک کی طرف دیکھ رہا ہے۔وہ کتاب نکالتا ہے، بستر کا نمبر دیکھتا ہے اور پھر کلائی پر گودا ہوا نمبر۔ میں اوپر سے یہ سب کچھ واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں:وہ شمولک کے نمبر کے سامنے کراس (X)کا نشان لگاتا ہے۔ پھر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب میں شمولک کی طرف دیکھتا ہوں۔ اس کے عقب میں والٹر کی آنکھیں نظر آرہی ہیں، لہٰذا میں کوئی سوالات نہیں پوچھتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگلے دن حسب دستور مریضوں کےصحت یاب گروہ کی جگہ دو مختلف گروہ باہر نکلے۔پہلا جس کا سر اور چہرہ منڈا ہوا تھا اور نہلایا گیا تھا۔دوسرا لمبے بالوں کے ساتھ بغیر نہائے جیسا کہ وہ عام حالت میں تھا۔کسی نے آخرالذکر کو الوداع نہیں کہا، کسی نے صحت مند رفیقوں کے لئے پیغامات نہیں بھجوائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شمولک اس گروہ کا حصہ تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی محتاط اور پرسکون انداز میں کسی نمائش یا غصے کے بغیر “کا۔بے “کے جھونپڑوں میں روزانہ قتل عام ہوتا ہے۔ جب شمولک گیا تو مجھے اپنا چمچ اور چھری دے گیا۔ والٹر اور میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے ہچکچاتے رہے اور کافی دیر خاموش رہے۔پھر والٹر نے مجھ سے پوچھا کہ میں اپنا ڈبل روٹی کا راشن اتنی دیر کیسے بچا لیتا ہوں، اور مجھے بتانے لگا کہ کیسے وہ اپنی ڈبل روٹی لمبائی کے رخ کاٹتا ہے تاکہ مکھن آسانی سے لگ سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر شفاخانے کی زندگی یہ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ چناؤ کی نازک ساعتیں ہیں اور نہ ہی پیٹ کی خرابی اور جوؤں کے خلاف اقدامات کے بے ڈھنگے سلسلے، نہ ہی یہ بیماریاں ہیں۔شفاخانہ قید خانہ ہے، بغیر اُس کی جسمانی صعوبتوں کے۔ لہٰذا جس کسی میں بھی شعور کے بیج موجود ہیں وہ اسے زندہ ہوتا محسوس کرتا ہے، اور طویل کھوکھلےایام میں انسان بھوک اور کام کے علاوہ دوسری چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہے اور غور کرتا ہے کہ انہوں نے ہمیں کیا بننے پر مجبور کر دیا ہے، کتنا کچھ ہم سے چھین لیا گیا ہے، یہ زندگی کیا ہے؟ اس شفاخانے میں، جو نسبتاً ایک پرسکون ٹھکانہ ہے، ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری شخصیت کمزور ہے،یہ بھی کہ یہ ہماری زندگی کی نسبت زیادہ خطرے میں ہے، اور بہت بہتر ہوتا اگر پرانے اربابِ عقل و دانش ہمیں یہ تنبیہ کرنے کے بجائے کہ “یاد رکھو، تمہیں ہر صورت مرنا ہے“ہمیں اس عظیم خطرے سے آگاہ کرتے جو ہمیں درپیش ہے۔ اگر قید خانے کے اندر سے کوئی پیغام باہر کے آزاد انسانوں تک پہنچایا جا سکے تو وہ یہ ہو گا:اپنے گھروں میں اس اذیت کو نہ سہو جو ہم پر یہاں مسلط ہے۔ جب انسان کام کرتا ہے تو وہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے اور سوچنے کا کوئی وقت نہیں:ہمارے گھر ایک یاد سے بھی کم ہیں۔ مگر یہاں وقت ہمارا ہے: تختۂ خواب سے تختۂ خواب تک، ممانعت کے باوجود ہم ایک دوسرے سے ملاقات اور بات چیت کرتے ہیں۔ اذیت ناک انسانیت سے ٹھنسا ہوالکڑی کا جھونپڑا الفاظ، یادوں اور کرب سے لبریز ہے۔ اس کرب کوجرمن “ہائم وے”(4) کہتے ہیں یہ ایک خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے“اپنے گھر کی تمنا “۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمیں معلوم ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ باہر کی دنیا کی یادیں ہماری نیند اور جاگنے کے اوقات میں یلغار کرتی ہیں، ہمیں تحیر ہے کہ ہم نے کچھ فراموش نہیں کیا، ہر اکساتی یاداشت ہمارے سامنے کرب انگیز طور پر روشن ہوتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر نہ جانے ہماری منزل کیا ہے؟ کیا ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ امراض سے زندہ بچ رہیں اور چناؤ سے فرار ممکن ہو، شاید بیگار اور بھوک جو ہمیں تھکاتی ہے اس کے خلاف ڈٹ سکیں، مگر پھر اس کے بعد کیا؟ یہاں ایک ساعت کے لئے گالیوں اور مار پیٹ سے دور ہم اپنے اندر از سرِنو جھانک سکتے ہیں اور غور و فکر کر سکتے ہیں، اور پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ہم یہاں مقفل ریل گاڑیوں میں آئے تھے، ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو فنا کی جانب کوچ کرتے دیکھا، ہم نے غلاموں کا روپ دھار لیا، سینکڑوں قدم آگے اور پیچھے اپنی خاموش مشقتوں کی جانب پیش قدمی کی، اپنی بے نام موت سے بہت پہلے اپنی روح کی موت دیکھی۔کسی کو یہاں سے اپنی جلد کا یہ نشان لے کر دنیا میں نہیں جانا چاہئے، انسان کے ایک مفروضے کی وعید نے آشوٹز میں انسان کو کیا بنا دیا۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">5۔ہماری راتیں</div>
<div class="urdutext">انسان کی خود کو محفوظ کرنے،اپنے اندر ایک خفیہ خول بنا لینےاوربظاہر شدید مایوس کُن حالات میں اپنے اردگرد دفاع کی ایک مہین مزاحمتی باڑھ قائم کرنے کی تخلیقی صلاحیت حیران کن اور ایک سنجیدہ مطالعے کا موضوع ہے۔اس کی بنیاد ایک بیش بہا مطابقت پذیری کا عمل ہے، جو جزوی طور پر غیر متحرک اور بےشعور اور جزوی طور پر متحرک ہے:اپنے تختۂ خواب کے اوپر جوتے لٹکانے کےلئے ایک کیل ٹھونک لینا، پڑوسیوں کے ساتھ خاموشی پر اتفاق کرتے ہوئے عدم جارحیت کے کچھ معاہدے قائم کرنا، ایک جھونپڑی یا بلاک کے قوانین اور رواجوں کو سمجھنا اور قبول کر لینا۔یوں کچھ ہفتے کے اندر انسان ایک مخصوص توازن حاصل کر لیتا ہے، کسی بھی غیر متوقع صورت سے ایک مخصوص درجے کی حفاظت، اپنے لئے ایک گھونسلے کی تخلیق، منتقلی کےصدمے کا اختتام۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20099" aria-describedby="caption-attachment-20099" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20099" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/self-isolation-laaltain.jpg" alt="کیمپوں میں خود کو اپنے خول میں بند کر لینا پڑتا تھا" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/self-isolation-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/self-isolation-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/self-isolation-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20099" class="wp-caption-text">کیمپوں میں خود کو اپنے خول میں بند کر لینا پڑتا تھا</figcaption></figure>
<div class="urdutext">مگر شفاخانے سے نکلا ایک برہنہ اور تقریباً ہمیشہ ناقص طور پر صحت یاب آدمی، خود کو ایک اندھیرے اور سرد فلکی علاقہ میں چھوڑا گیا محسوس کرتا ہے۔ پتلون نیچے گرتی ہے، جوتے کاٹتے ہیں، قمیص کے بٹن ندارد۔ وہ کسی انسانی لمس کی تلاش میں ہوتا ہے اور اسے اپنی طرف پھیری ہوئی پُشتیں ہی ملتی ہیں۔ ایک نومولود بچے کی طرح لاچار اور غیر محفوظ ہوتا ہے لیکن اگلی ہی صبح اسے کام کے لئے پیش قدمی کرنی ہوتی ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں کافی انتظامی رسومات کے بعد مجھے بلاک نمبر ۴۵ میں بھیجا گیا۔ مگر اچانک ایک خیال مجھے مسرت سے بھر دیتا ہے:میں خوش قسمت ہوں، یہ البرٹو کا بلاک ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">البرٹو میرا بہترین دوست ہے۔ اس کی عمر صرف بائیس سال ہے یعنی مجھ سے دو سال کم مگر ہم اطالویوں میں سے کسی نے بھی حالات سےمطابقت اختیار کرنے کی اتنی صلاحیت ظاہر نہیں کی۔البرٹو سر اٹھا کر قیدخانے میں داخل ہوا اور یہاں بغیر کسی اخلاقی بگاڑ اور آنچ کے رہتا ہے۔ وہ ہم سے بہت پہلے یہ سمجھ گیا کہ یہ زندگی ایک جنگ ہے، اس نے کوئی تقاضا نہیں پالا، خود سے اور دوسروں سے شکوہ و شکایت اور ہمدردی کی بجائے آغاز ہی سے لڑائی میں داخل ہو گیا۔ اس کے پاس ذہانت اور وجدان کی صلاحیتیں ہیں، اکثر وہ استدلال نہ کرنے کے باوجودحق پر ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ یک دم سمجھ لیتا ہے۔ اسے فرانسیسی کم ہی سمجھ آتی ہے کہ لیکن جوکچھ بھی جرمن اور پولش بتاتے ہیں سمجھ لیتا ہے۔ اطالوی میں اشاروں سے جواب دیتا ہے، اپنی بات سمجھا دیتا ہے اور یک دم ہمدردی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی خاطر لڑ مرتے رہنے کے باوجود بھی ہر ایک کا دوست رہتا ہے۔ اسے “معلوم” ہے کہ کس کو گمراہ کرنا ہے، کس سے کنارہ کشی کرنی ہے، کس کے جذبات کو بھڑکانا ہے اور کس کے سامنے مزاحم ہونا ہے۔ پھر بھی (اور یہ وہ خوبی ہے جس وجہ سے اس کی یاد آج بھی میرے دل میں زندہ ہے) وہ خود اخلاقی بگاڑ کا شکار نہیں ہوا۔میں نے اس میں ہمیشہ ایک ایسے امن دوست انسان کو دیکھا اور آج بھی دیکھتا ہوں جس کے خلاف ظلمت کے ہتھیار کند ثابت ہوئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نہیں جانتا میرا پڑوسی کون ہے۔ مجھے اتنا یقین بھی نہیں کہ آیا یہ ہمیشہ ایک ہی شخص ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ میں نےعلی الصبح بگل کے شور میں چند سیکنڈ کے علاوہ کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا، لہٰذا میں اس کی پشت اور پیروں کو چہرے کی نسبت بہتر طور پر پہچانتا ہوں۔ و ہ میرے بلاک میں کام نہیں کرتا اور کرفیو کے اوقات میں تختۂ خواب پر پہنچتا ہے، خود کو کمبل میں لپیٹتا ہے، اپنےہڈیوں بھرے کولہے سے مجھے ایک طرف دھکا دیتے ہوئے پشت میری جانب کرتا ہے اور ایک دم خراٹے لینا شروع کر دیتا ہے۔ پشت سے پشت ملا کر میں تنکوں کے گدے کا ایک معقول حصہ واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہوں۔ اپنی پشت سے اس کی پشت پر ایک مسلسل دباؤ ڈالتا ہوں، پھر پیچھے کروٹ لیتا ہوں اور گھٹنوں سے زور لگاتا ہوں، اس کی ایڑیاں پکڑتے ہوئے انہیں کچھ دُور رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ اس کے پیر میرے چہر ے کی بالکل ساتھ نہ چپکیں۔ مگر یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوتا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے کافی بھاری ہے اور عالمِ خواب میں ایک پتھر کی مانندمحسوس ہوتا ہے۔ پس میں اپنے آپ میں اسی طرح لیٹنے کی طاقت پیدا کرتا ہوں کہ لکڑی کے کنارے پر ساکت نیم درازپڑا رہوں۔تاہم تھکن سے اتنا چور اور چکرایا ہوں کہ میں بھی یک لخت سو جاتا ہوں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریل کی پٹڑی پر محوِ خواب ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سونےوالوں کے سانسوں کی آوازاور خراٹے سنے جا سکتے ہیں، کچھ کراہتے اور باتیں کرتے ہیں۔ کئی اپنے ہونٹ چاٹتے اور جبڑے ہلاتے ہیں۔ وہ خواب میں کچھ کھا رہے ہیں، یہ ایک مشترکہ خواب ہے۔ ایک سنگ دل خواب جو طنطالوس (Tantalus)کی اساطیری کہانی کے خالق کو ضرور معلوم ہو گا۔نہ صرف آپ خوراک دیکھتے ہیں بلکہ اسے ہاتھوں میں محسوس بھی کرتے ہیں، واضح اور ٹھوس، آپ اس کی شیریں اور متاثر کن مہک سے واقف ہوتے ہیں، یہاں تک کےخواب میں کوئی اسے آپ کے ہونٹوں تک پہنچا دیتا ہے، مگرہر بار ایک مختلف حادثہ حائل ہو کر اس عمل کوانجام تک نہیں پہنچنے دیتا۔ پھر خواب اپنے عناصر میں بکھر جا تا ہے، مگر یک دم پھر متشکل ہو کر دوبارہ شروع ہو جاتاہے، اسی طور، پھر بھی مختلف اور ہم سب کے مکمل دورانِ نیند میں ہر رات بلا وقفہ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب شاید رات گیارہ بجے سے کچھ اوپر کا وقت ہو گا کیونکہ محافظ کے پاس پڑی بالٹی کے ارد گرد حرکت کافی سرگرم ہے۔ یہ ایک بیہودہ اذیت اور ایک راسخ ندامت ہے:ہر دو سے تین گھنٹے کہ بعد ہمیں پانی کے اس عظیم ذخیرے کا اخراج کرنا ہوتا ہے جو دن میں شوربے کے نام پر بھوک مٹانے کے لئے جذب کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہی پانی جو شام کے اوقات میں ہماری ایڑیوں کی سوجن اور آنکھوں کے گرد حلقوں کا باعث ہے، جو تمام چہروں کو ایک جیسی بدنمائی دیتا ہے، جس کا اخراج ہمارے گردوں کے لیے ایک نقاہت آمیز جدوجہد ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پس یوں ہماری راتیں گھسٹتی ہیں۔ طنطالوس اور اس کہانی کا خواب آپس میں غیر ممیز عکسوں کی صورت بُنے ہوئے ہیں:دن کے مصائب یعنی بھوک، مارپیٹ، سردی، تھکن، خوف اور اختلاطِ باہمی رات کو ایسے بے شکل خوفناک خوابوں کا روپ دھار لیتے ہیں جن کا تشدد ناشنیدہ ہےاور آزاد زندگی میں وہ صرف ہذیان آمیز بخار کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ کسی غصے سے بھرپور آوازکے ناقابل ِفہم زبان میں چلاتے ہوئے حکم کے زیرِ اثرانسان، دہشت سے منجمد، کانپتے اعضاء کے ساتھ، ہر ساعت ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھتا ہے۔بالٹی کی طرف سفر کرتا جلوس اور ننگی ایڑیوں کی لکڑی کے فرش پر آواز ایک اور علامتی جلوس کو تخلیق کرتے ہیں۔یہ ہم ہیں، خاکستری اور یکساں، چیونٹیوں کی طرح ننھے، پھر بھی اتنے جسیم کہ ستاروں تک پہنچ جائیں، ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے،لاتعداد، تاحدِنظر زمین کو پُر کرتے ہوئے، کبھی ایک واحد مادے میں پگھلتے ہوئے، ایک الم ناک صعوبت میں مقید اوردم پُخت، تو کبھی ایک دائرے میں پیش قدمی کرتے ہوئے، بغیر کسی ابتداء یا انتہا کے، ایک نابینا کر دینے والے چکر اور متلی کے ایک سمندر میں جو چھاتی سے نرخرے کو ابھرتا ہے، یہاں تک کہ بھوک یا سردی یا مثانوں کا بھرا ہونا ہمارے خوابوں کو ان کی رسمی شکلوں میں واپس لے آتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20100" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-misery-laaltain.jpg" alt="camp-misery-laaltain" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-misery-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-misery-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-misery-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">جب خوفناک خواب یا صعوبتیں ہمیں جگا ڈالیں تو اُن کے حملے کے سامنے اپنی نیند کے دفاع میں مختلف عناصر کو سلجھانے اور انہیں ایک ایک کر کے اپنی حالیہ توجہ کے دائرے سے باہر بھیجنے کی کوشش بلا سود ہے۔لیکن آنکھیں بند کرتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دماغ ہمارے قابو سے باہر نکل کر اٹھ بیٹھا ہے، یہ کھٹکھٹاتا اور بھنبھناتا ہے، انتھک آسیب اور بدترین علامات بن کر انہیں کسی سرمئی دھند کی طرح ہمارے خوابوں کے پردے پر منعکس کرتا ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">6۔ کام</div>
<div class="urdutext">کام کی طرف پیش قدمی کے وقت اپنے بڑے بڑے لکڑی کے جوتوں میں منجمد برف پر لنگڑاتے ہوئے ہم نے کچھ بات چیت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ریسنک پولینڈ کا رہنے والا ہے۔ وہ بیس سال پیرس میں رہا مگر کافی بری فرانسیسی بولتا ہے۔ اُس کی عمر تیس سال ہے مگر ہم سب کی طرح سترہ یا پچاس کا گمان ہو سکتا ہے۔اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی تھی جسے آج میں بھول چکا ہوں مگر وہ یقینا ایک الم ناک، سنگ دل اور پرتاثر کہانی تھی کیوں کہ ہم سب کی کہانیا ں ایسی ہی ہیں، تمام ایک دوسرے سے مختلف لیکن ایک ہی جیسی دل شکن کیفیت سے بھرپور۔ ہم شام کو یہ کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ یہ ناروے، اٹلی، الجیریا، یوکرائن وغیرہ میں پیش آتی ہیں اور انجیل ِمقدس کی کہانیوں کی طرح سادہ اور ناقابل فہم ہیں۔ مگر کیا یہ خود ایک نئی انجیل ہی کی کہانیاں نہیں ہیں؟</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">7۔ایک اچھا دن</div>
<div class="urdutext">یہ یقین کہ زندگی کا ایک مقصد ہے انسان کے رگ و پےمیں عمیق بنیادیں رکھتا ہے۔ یہ انسان کے وجود ِ حقیقی کی ایک خصوصیت ہے۔ آزاد انسان اس مقصد کو کئی نام دیتا ہے اور کئی انسان اس کی ماہیت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔ مگر ہمارے لئے سوال نسبتاً سادہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج اس جگہ ہمارا واحد مقصدموسمِ بہار تک پہنچنا ہے۔ اس وقت ہمیں اور کسی شے کی پرواہ نہیں۔اس مقصد کے علاوہ لمحۂ موجود میں اور کوئی مقصدپیش ِنظر نہیں۔ صبح جب ہم حاضری کے میدان میں قطار بنا کرکام پر نکلنے کے لئے لامتناہی انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں، جب ہوا کا ہر جھونکا کپڑوں میں سرایت کر رہا ہوتا ہے اور ہمارے بےکس جسموں میں شدید کپکپی دوڑا دیتا ہے، ہمارے ارد گرد ہر شے خاکستری ہے اور ہم خود بھی۔ صبح جب ہر شے اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہے تو ہم مشرق میں آسمان کی طرف ایک نسبتاً معتدل موسم کے اولین اشارات کی تلاش میں نگاہ دوڑاتے ہیں اور روزانہ سورج کے طلوع ہونے پر بحث کی جاتی ہے: آج کل کی نسبت کچھ جلدی تھا، آج کل کی نسبت کچھ گرم تھا، دو ماہ کے اندر، ایک ماہ کے اندر سردی اپنی طرف سے جنگ بندی کر دے گی اور ہمارا ایک دشمن کم ہو جائے گا۔<br>
آج سورج پہلی بار گرد کے افق سے روشن اور صاف طلوع ہوا۔ یہ پولینڈ کا سفیدسورج ہے جو بہت فاصلے سے صرف جلد کو حدت پہنچاتا ہے۔ جب وہ غروب ہو رہا تھا تو ہمارے بے رنگ جسموں میں ایک سنسناہٹ تھی۔ جب میں نے اس کی نرم حدت اپنے کپڑوں میں محسوس کی تو میں سمجھ گیا کہ انسان سورج کی پوجا کیونکر کر سکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بونا(Buna) کسی شہر جتنا بڑا ہے، مہتممین اور جرمن تکنیکی ماہرین کے علاوہ چالیس ہزار غیر ملکی یہا ں کام کرتے ہیں اور پندرہ سے بیس زبانیں بولی جاتی ہیں۔ تمام غیرملکی بونا کے گرد مختلف قید خانوں میں رہائش پذیر ہیں:برطانوی جنگی قیدیوں کا قیدخانہ، یوکرائنی عورتوں کا قید خانہ، فرانسیسی رضا کاروں کا قید خانہ اور دوسرے جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔ صرف ہمارا قید خانہ دس ہزار مزدور فراہم کرتا ہے جو یورپ کی تمام اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم غلاموں کے غلام ہیں جنہیں سب حکم دے سکتے ہیں اور ہمارا نام وہ نمبر ہے جسے ہم کلائی پر گندھوائےاور قمیص پر سیے پھرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بونا کے درمیان سے اٹھتا ہوا کاربائیڈ کا مینار جس کی چوٹی دھند کی وجہ سے بمشکل نظر آتی ہے ہم نے بنایا تھا۔ اس کی اینٹوں کے نام زیگل، بریکیس، ٹیگولا، سیگلی، کامینی، ماتون، ٹیگلاک ہیں اور یہ نفرت کی بھٹی میں پکائی گئی ہیں، نفرت اور عدم اتفاق، جیسا کہ بابل کا مینار اورہم اسے یہی کہتے ہیں:بابل تورم، بوبل تورم۔ اور اس میں ہم اپنے آقاؤں کی شان و شوکت کے دیوانے خوابوں سے نفرت کرتے ہیں، خدا اور انسان کے لئے ان کا کینہ یعنی ہم انسانوں کے لئے۔اور آج بالکل اس قدیم حکایت کی طرح ہم سب محسوس کرتے ہیں اور جرمن خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ ایک ماورائی یا الوہی نہیں بلکہ ذاتی اور تاریخی بد دعا کے سائے اس سرکش عمارت کے اوپر منڈلا رہے ہیں جس کی بنیاد زبانوں کے ابہام پر ہے اور جو آسمانوں کے مقابلے میں اس طرح اٹھائی گئی ہے جیسے کوئی پتھر کا حلف۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جیسا کہ بتایا ہی جائے گا، بونا کی فیکٹری جہاں جرمن چار سال مصروف رہے اور جہاں ہم میں سے لاتعداد نے اذیتیں برداشت کیں اور جان دی، ایک پونڈ مصنوعی ربڑ بھی نہیں بنا سکی۔مگر آج وہ دائمی جوہڑ جن میں پٹرول کا ایک قوسِ قزاح جیسا پردہ کانپتا ہے، ایک پرسکون سورج کو منعکس کرتے ہیں۔پائپ، فولادی پٹڑیاں،بوائلر، جو ابھی بھی منجمد رات کے باعث سرد ہیں،بخارات ٹپکا رہے ہیں۔ کھودی ہوئی زمین، کوئلے کے ڈھیر، کنکریٹ کے بلاک بھاپ خارج کر رہے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج کا دن ایک اچھا دن ہے۔ ہم ایسے نابینا لوگوں کی طرح ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہیں جنہیں ان کی بینائی ابھی واپس ملی ہو اور ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں۔ہم نے کبھی ایک دوسرے کو سورج کی روشنی میں نہیں دیکھا:کوئی مسکراتا ہے۔اگر یہ بھوک کا مسئلہ نہ ہوتا تو!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انسانی فطرت ایسی ہے کہ غم اور کرب چاہے وہ ایک ساتھ وارد ہوں ہمارے شعور میں جمع نہیں ہوتے، بلکہ ایک معین قانونِ تناظر کے مطابق شدت میں کم تر دوسرے کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے اور کیمپ میں ہمارے زندہ رہنے کی سبیل۔ یہی وہ سبب ہے جس کے باعث ہم آزاد زندگی میں یہ بار بار سنتے ہیں کہ انسان کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔حقیقتاً یہ انسان کی مطلق سرور کی حالت کو نہ پا سکنے کی صلاحیت کا سوال نہیں بلکہ غم کی پیچیدہ نوعیت کے متعلق ایک دائمی طور پر ناکافی علم ہے، لہٰذا مخلوط اور فوری ضرورت کے تقاضوں کے تحت پیش آنےوالے تمام اسباب کو ایک بنیادی علت کے واحد نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ جب ذہنی دباؤ کی فوری ترین علت خاتمے کے قریب پہنچتی ہے تو آپ یہ دیکھ کر ایک غمگین حیرت کا شکار ہو تے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک اور موجود ہے اور حقیقت میں ایک کے بعد ایک علل کا ایک پورا سلسلہ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لہٰذا جیسے ہی خنکی جو موسم سرما کے دوران ہماری واحد دشمن تصور کی جاتی تھی ختم ہوئی تو ہمیں اپنی بھوک کا احساس ہوا، اور وہی غلطی دہراتے ہوئے ہم اب کہتے ہیں:”اگر یہ بھوک کا مسئلہ نہ ہوتا تو!۔۔۔” مگر انسان بھوکا نہ ہونے کا تصور کیسے کر سکتا ہے؟ قید خانہ بھوک ہے: ہم خود بھوک ہیں،جیتی جاگتی بھوک!</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">8۔ جو غرق ہوئے اور جو محفوظ رہے</div>
<div class="urdutext">ہم نے اب تک جو کچھ کہا اور کہیں گے وہ قید خانے کی مبہم زندگی کے بارے میں ہے۔ ہمارے دور میں کئی انسان اسی ظالمانہ طور پر زندہ رہے ہیں، تہہ سے چمٹے ہوئے مگر ہر ایک، نسبتاً قلیل وقت کے لئے تاکہ شاید ہم اپنے آپ سے پوچھ سکیں کہ کیا اس غیر معمولی انسانی حالت کی یاد سینے سے لگائے رکھنا واقعی ناگزیر یا سودمند ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20101" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/a-night-mare-laaltain.jpg" alt="a-night-mare-laaltain" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/a-night-mare-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/a-night-mare-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/a-night-mare-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">ہماری نظر میں اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اصل میں ہم اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی انسانی تجربہ بے معنی یا تجزیہ کے حق سے محروم نہیں ہےاور بنیادی اقدار چاہے وہ مثبت نہ بھی ہوں اسی مخصوص دنیا سے اخذ کی جا سکتی ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ یہ قیاس بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ قیدخانہ بنیادی طور پر ایک عظیم الجثہ حیاتیاتی اور سماجی تجربہ تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مختلف عمروں، حالات، حسب و نسب، زبان، ثقافت اور رواج سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ایک تاروں کی باڑ کے اندر محدود ہیں:یہاں یہ ایک باقاعدہ، باضابطہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہرایک کے لئے یکساں اور ضروریات کے لئے ناکافی ہے، کسی بھی ایسی تجربہ گاہ سے زیادہ محتاط ہے جو انسانی حیوان کی جدوجہدِ حیات کے مطالعے کے لئے قائم کی گئی ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم اس واضح اور سہل ترین استخراج پر اایمان نہیں رکھتے کہ جب ہر مہذب ادارہ منہدم کیا جا چکا ہو تو انسان اپنے عمل میں بنیادی طور پروحشی، خود غرض اور احمق بن جاتا ہے، اور یہ کہ “ہیفٹلنگ” نتیجتاً امتناعات کے بغیر ایک انسان کے سوا کچھ نہیں۔اس کے برعکس ہمار ا یہ ماننا ہے کہ یہی واحد نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ ایک متحرک ناگزیریت اور جسمانی معذوریوں کے سامنے کئی سماجی میلانات اور جبلی تقاضے خاموش ہو جاتے ہیں۔مگر ایک اور واقعہ جو فکر کو دعوت دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں کی دو مخصوص اور منفرد اقسام کی موجودگی ظاہرہوتی ہے یعنی جو محفوظ رہے اور جو غرق ہوئے۔تضادات کے دوسرے جوڑے (اچھا اور برا، عقل مند اور احمق، بزدل اور بہادر، بدقسمت اور خوش قسمت) نسبتاً کم ممیز ہیں، یہ کم ناگزیر محسوس ہوتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ متعدد اور پیچیدہ وسطی درجات کو ممکن بناتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تقسیم عام زندگی میں کہیں زیادہ مبہم ہےکیونکہ وہاں ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھوبیٹھے۔انسان عمومی طور پر تنہا نہیں ہوتا اور اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں اس کے پڑوسیوں کی قسمت سے جڑی ہوتی ہیں اور کسی کے لئے بھی غیر محدود طاقت کا حصول یا ایک کامل تباہی تک پہنچانے والی ایک مسلسل شکست نہایت غیر معمولی بات ہے۔مزید برآں ہر کوئی عام طور پر ایسے روحانی، جسمانی اور بلکہ معاشی وسائل تک کا مالک ہوتا ہے کہ جہاز غرق ہونے، یعنی زندگی میں مکمل ناکامی کا احتمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔اور انسان کو قانون اور ایسے اخلاقی احساسات جو اپنے اندر ایک خودساختہ قانون رکھتے ہیں، ایک واضح سہارا بہم پہنچاتے ہیں، کیوں کہ وہ ملک زیادہ مہذب تصور کیا جاتا ہے جہاں کے قوانین کی دانائی اوراستعداد ایک کمزور انسان کو مزید کمزور ہونے اور ایک طاقتور کو مزید طاقتور ہونے سے روکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مگر قید خانے میں حالات مختلف ہیں۔ یہاں زندہ رہنے کی جدوجہد انتھک ہے کیوں کہ ہر کوئی بے جگراور سفاک طور پرتنہا ہے۔اگر کوئی لاغر انسان لڑکھڑاتا ہے تو وہ کسی مددگار ہاتھ کا سہارا نہیں پائے گا، بلکہ اس کے برعکس کوئی نہ کوئی اسے ٹھوکر مار کرراستے سے ہٹا دے گا کیوں کہ کسی کے مفاد میں نہیں کہ ایک اور“موسلمان” (5) (Musselman) ہر روز اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا کام پر جائے۔ پھر اگر ایک وحشی انسان، صبر اور چالاکی کے ساتھ،معجزانہ طور پر، سخت ترین بیگار سے بچنے کا کوئی نیا طریقہ ڈھونڈ لے، ایک نیا فن جو اسے ایک اونس ڈبل روٹی کے حصول میں مدد دے، تو وہ اس طریقے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرے گا اور اس لئے عزت اور توقیر کا مستحق ٹھہرے گا، اور اس سے وہ ایک امتیازی اور ذاتی مفاد اخذ کرے گا، وہ طاقتور ہو جائے گا اور اسی لئے خوف کا باعث ہو گا اور جو بھی باعثِ خوف ہو وہ فی نفسہٖ بقا کا امیدوار ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20102" aria-describedby="caption-attachment-20102" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20102" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/struggle-for-life-laaltain.jpg" alt="کیمپوں میں زندہ رہنے کی ان تھک محنت" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/struggle-for-life-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/struggle-for-life-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/struggle-for-life-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20102" class="wp-caption-text">کیمپوں میں زندہ رہنے کی ان تھک محنت</figcaption></figure>
<div class="urdutext">تاریخ اور زندگی دونوں میں انسان کئی بار ایک ایسے سفاک قانون کی جھلک دیکھتا ہے جس کا قاعدہ یہ ہے:”وہ جس کے پاس ہےاسے دے دیا جائے گا، وہ جس کے پاس نہیں ہے اس سے لے لیا جائے گا۔” قیدخانہ جہاں انسان تنہا ہے اور جہاں زندگی کی جدوجہد اس کی اولین ماہیت تک محدود ہے یہ بےانصاف قانون کھلم کھلا رائج ہے اور سب اسے تسلیم کرتے ہیں۔ مفاد کی امیدمیں قائدین بھی مطابقت پذیر، طاقتور اور زیرک افراد کے ساتھ دانستہ تعلق رکھتے ہیں اور کئی دفعہ دوستانہ تعلقات۔مگر“موسلمان” یعنی وہ افراد جو بربادی کا شکار ہیں، ان سے بات کرنا بھی بے فائدہ ہے کیوں کہ یہ پہلے ہی معلوم ہے کہ وہ گلے شکوے کریں گے اور بتائیں گے کہ وہ گھر میں کیا کھایا کرتے تھے۔اس سے بھی زیادہ بے فائدہ ان سے دوستی ہے کیونکہ کیمپ میں ان کے کوئی معزز شناسا نہیں ہیں، انہیں زیادہ راشن نہیں ملتا، وہ کسی خفیہ بلاک میں کام نہیں کرتے اور انہیں تنظیم کا کوئی خفیہ طریقہ معلوم نہیں۔اور کسی بھی حالت میں یہ معلوم ہے وہ یہاں محض ایک سفر پر ہیں اور کچھ ہی ہفتوں میں کسی نزدیک میدان میں مٹھی بھر راکھ اور ایک رجسٹر میں کٹے ہوئے نمبر کے علاوہ ان کا کچھ نہیں بچے گا۔ گو وہ ایک بھنور میں پھنسے کسی سکون کے بغیر ایک ایسےان گنت ہجوم کے ساتھ بہتے چلے جا رہے ہیں جو انہی جیسا ہے، وہ اذیت برداشت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایک شفاف گہری تنہائی میں مقید رکھتے ہیں اور اسی تنہائی میں، کسی یادداشت میں اپنا اثر چھوڑے بغیر وہ غائب ہو جائیں گے یا ان کی موت ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_20103" aria-describedby="caption-attachment-20103" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-20103" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/death-squad-laaltain.jpg" alt="فطری چناؤ کا بے رحم طریقہ" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/death-squad-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/death-squad-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/death-squad-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-20103" class="wp-caption-text">فطری چناؤ کا بے رحم طریقہ</figcaption></figure>
<div class="urdutext">قیدخانے کے فطری چناؤ کے اس بے رحم طریقے سے حاصل ہونے والے نتائج کا مطالعہ اس مردم شماری میں کیا جا سکتا ہے۔1944 میں آشوٹز کے پرانے یہودی قیدیوں (یہاں ہم دوسروں کا ذکر نہیں کریں گے کیوں کہ ان کی حالت مختلف تھی) کی کل تعداد 150000 تھی۔ ان میں سے جوچند سو بچے ان میں کوئی ایک بھی ایسا عام “ہیفٹلنگ” نہ تھا جو عام بلاکوں میں نشونما پائے اور روزمرہ کے راشن پر زندہ ہو۔صرف ایسے لوگ بچے جو ڈاکٹر، درزی، موچی، موسیقار، باورچی، جوان خوبصورت ہم جنس پرست، کیمپ کے کسی اہلکار کے دوست یا ہم وطن تھے، یا پھر وہ خاص طور پر بے رحم، پر جوش اور غیرانسانی افراد تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">غرق ہونا آسان ترین معاملہ ہے۔ یہی کافی ہےکہ تمام احکام بجا لائے جائیں، صرف راشن کھایا جائے، بیگار کے قواعد اور کیمپ کے قوانین کی پابندی کی جائے۔ تجربہ یہ کہتا ہے کہ صرف چند غیرمعمولی لوگ ہی اس طرح تین ماہ سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ان تمام” موسلمانوں” کی یہی کہانی ہے جن کا اختتام گیس چیمبروں میں ہوا یا مزید درست طور پربات کی جائے تو ان کی کوئی بھی کہانی نہیں ہے، وہ ان ندیوں کی طرح جو سمندر میں گرتی ہیں، ڈھلوان پر سفر کرتے ہوئےتہہ تک پہنچے۔ کیمپ میں داخلے کے ساتھ ہی اپنی ناقابلیت، بدقسمتی یا کسی معمولی واقعے کی وجہ سے وہ مغلوب ہو جاتے ہیں، پیشتر اس کے کہ وہ حالات سے مطابقت پیدا کر سکیں، وہ وقت سے مار کھا جاتے ہیں، وہ قوانین اور ممنوعات کی شیطانی گرہ کھولنے کے لئے جرمن زبان سیکھنا شروع بھی نہیں کرتے کہ ان کا جسم پہلے ہی گلنا سڑنا شروع ہو چکا ہوتا ہےاور کوئی قوت انہیں چناؤ یا ضعف کے نتیجے میں موت سے نہیں بچا سکتی۔ان کی زندگی مختصر ہے مگر ان کی تعداد لا انتہاء، یہ “موسلمان”، یہ غرق ہونے والے، کیمپ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ایک گمنام جمِ غفیر، مسلسل احیا ءپذیر اور ہمیشہ یکساں، غیر انسانی افراد پر مشتمل جو خاموشی میں ڈوبے ہوئے پیش قدمی اور مشقت کرتے ہیں، شعلہء ملکوتی ان میں مردہ ہے، پہلے ہی سےاتنے کھوکھلے کہ حقیقتاً اذیت بھی برداشت نہ کرسکیں۔ انہیں زندہ کہتے ہوئے جھجک ہوتی ہے، ان کی موت کو موت کہتے ہوئے جھجک ہوتی ہے، جس کا سامنا کرتے ہوئے انہیں کوئی خوف نہیں کیوں کہ وہ تھکن کی شدت میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں۔<br>
وہ اپنی بے چہرہ موجودگیوں سے میری یادداشت کو بھر دیتے ہیں اور اگر میں اپنے زمانےکی تمام بدی کو ایک عکس میں مجتمع کر سکوں تو میں یہ عکس چنوں گا جو میرا جانا پہچانا ہے: ایک جھکے سر اور منحنی کندھوں والا لاغر انسان جس کے چہرے اور آنکھوں میں کسی خیال کا کوئی اثر نہیں دیکھا جا سکتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر غرق ہوجانے والوں کی کوئی داستان نہیں اور بربادی کو جاتا راستہ واحد اور چوڑا ہے تو نجات کی سمت جاتی راہیں متعدد، کٹھن اور بعید ازقیاس ہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">9۔ کیمیائی امتحان</div>
<div class="urdutext">پان وِٹز دراز قد، دبلا پتلا اور بھورے بالوں والا ہے، اس کی آنکھیں، بال اور ناک اسی طرح ہیں جس طرح تمام جرمنوں کے ہونے چاہئیں، وہ بھیانک طور پر ایک پیچیدہ میز کے پیچھے بیٹھا ہے۔ میں ہیفٹلنگ نمبر 174517 اس کے دفتر میں کھڑا ہوں جو کہ ایک حقیقی دفتر ہے، چمکدار، صاف و شفاف، منظم اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں جس شے کو بھی چھوؤں گا وہاں ایک غلیظ دھبہ چھوڑ دوں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس نے لکھنا ختم کیا،نظریں اوپر اٹھائیں، اور میری طرف دیکھا۔<br>
اس دن سے میں نے ڈاکٹر پان وِٹز کے بارے میں کئی بار اور کئی طور سےسوچا۔ میں نے اپنے آپ سے بار بار پوچھا ہے کہ اس نے ایک انسان کی حیثیت سے کس طرح کام کیا، کس طرح اس نے اپنا وقت پولیمرسازی اورہندآلمانی شعور سے باہر گزارا، سب سے بڑھ کر یہ دوبارہ آزاد انسان بننے پر مجھے کسی انتقام کی نیت سے نہیں بلکہ انسانی روح کے بارے میں محض ایک ذاتی تجسس کی تسکین کی خاطراس سے دوبارہ ملنے کی آرزوتھی۔ کیونکہ وہ نگاہ دونوں افراد کے مابین یکساں نہیں تھی، اور اگر میں اس نگاہ کی نوعیت مکمل طور پر بیان کر نے قابل ہوتا، جو کچھ اس طرح تھی جیسے کسی پن گھر کے شیشے کے آر پار دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والی ہستیوں کے مابین ہو، تو میں نازی جرمنی کی عظیم دیوانگی کی ماہیت بھی واضح کر سکوں گا۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">10۔ اکتوبر 1944</div>
<div class="urdutext">ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ موسم سرما کی آمد کے خلاف برسرپیکار رہے۔ گرم ساعتوں سے مضبوطی سے چمٹے رہے، ہر جھٹ پٹے کے وقت ہم سورج کو آسمان پر کچھ دیر اور روکے رکھنے کی کوشش کرتے رہے، مگر سب بیکار رہا۔ کل شام سورج ناقابل تنسیخ طور پر گدلے بادلوں، چمنیوں کے ڈھیر اور گنجلگ تاروں کے بے ترتیب انتشار کے پیچھے چھپ گیا اور آج موسم سرما کا آغاز ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چونکہ ہم پچھلے موسمِ سرما میں بھی یہیں تھے اس لیے ہم جانتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں، اور دوسرے بھی یہ جلد ی ہی جان لیں گے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگلے کچھ ماہ یعنی کہ اکتوبر تا اپریل ہم میں سے ہر دس میں سے سات اپنی جان کھو بیٹھیں گے۔جو نہیں مرے گا وہ ہر روز،تمام دن، لمحہ بہ لمحہ اذیت برداشت کرے گا۔ سحر پھوٹنے سے بھی پہلے سے شام شوربہ تقسیم ہونے تک ہمیں اپنے پٹھوں کو تنا ہوا رکھنا ہے، ایک پاؤں سے دوسرے پر رقص کرنا ہے، اپنے بازوؤں کو کندھوں تلے سردی کےبچاؤ میں دبائے رکھنا ہے۔ دستانوں کے حصول کی خاطر ہمیں ڈبل روٹی کو خرچ کرنا ہے، اور سلائی اکھڑنے پر ان کی مرمت کے لئے سونے کے اوقات کی قربانی دینی ہے۔ کیوں کہ کھلے آسمان تلے کھانا اب ناممکن ہو گا، ہمیں جھونپڑے میں کھڑے رہ کر کھانا کھانا ہو گا، ہر ایک کو زمین کا ہاتھ برابر حصہ مختص کر دیا جائے گا کیونکہ خوابی تختوں سے ٹیک لگانے کی ممانعت ہے۔ہر ہاتھ میں زخم کھل جا ئیں گے اور پٹی کروانے کا مطلب ہو گاہر شام گھنٹوں برف اور ہوا میں کھڑے رہ کر انتظار۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بالکل اسی طرح جیسے ہماری بھوک کا معنی خوراک کی طلب کا احساس نہیں، ہمارے سرد ہونے کا احساس بھی ایک نئے لفظ کا متقاضی ہے۔ جب ہم “بھوک”، “تھکن”، “خوف”، “درد”، یا “سرما” بولتے ہیں تو یہ بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یہ آزاد الفاظ ہیں جو اپنے گھروں کی سکون اور اذیت میں رہنے والےآزاد انسانوں کے تخلیق کردہ ہیں۔اگر یہ نازی قیدخانے زیادہ دیر رہے ہوتے تو ایک نئی، کرخت زبان وجود میں آتی اور صرف وہ زبان یہ بیان کرسکتی کہ تمام دن نقطہء انجماد سے نیچے سرد ہوا میں صرف ایک قمیص، زیرجامہ، کپڑے کی جیکٹ اور پتلون میں ملبوس مشقت کے کیا معنی ہیں، اور اس وقت جب انسان کے جسم میں کمزوری، بھوک اور قریب آتے انجام کے علم کے سوا کچھ نہ ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جیسے کوئی امید ٹوٹ جائے اسی طور آج صبح سردی آ گئی۔ ہمیں تب پتہ چلا جب ہم جھونپڑے سے صفائی ستھرائی کے لئے نکلے:ستارے غائب تھے، سیاہ سرد ہوا میں برف کی بُو تھی۔ علی الصبح اندھیرے میں جب بیگار پر روانہ ہونے سے پہلے ہم حاضری کے میدان میں جمع ہوئے تو سب خاموش تھے۔ جب ہماری نگاہ برف کے پہلے گالوں پر پڑی تو خیال آیا کہ اگر پچھلے سال اسی وقت اِنہوں نے ہمیں بتایا ہوتا کہ ہم اگلے سال کا موسم سرما بھی قیدخانے میں دیکھیں گے تو ہم نے جا کر برقی تاروں کی باڑ کو ہاتھ لگا لیا ہوتا، اور اگر ہم منطقی ہوتے اور وہ آخری غیر معقول ناگزیر بچی کچھی امید نہ ہوتی تو ہمیں آج بھی یہ کر گزرنا چاہئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کیونکہ سرما کےایک اورمعنی بھی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پچھلی بہار میں جرمنوں نے قید خانے کی ایک کھلی جگہ میں دوکشادہ خیمے تعمیر کئے تھے۔ بہار کا پورا موسم یہ دونوں خیمے ایک ہزار سے زیادہ افرادکے لئے کافی تھے:اب وہ دونوں ڈھائے جا چکے ہیں اور مزید دو ہزار سے زیادہ مہمان ہمارے جھونپڑوں میں جمع ہیں۔ ہم پرانے قیدی جانتے تھے کہ جرمن بےقاعدگیاں پسند نہیں کرتے اور اس تعداد کو کم کرنے کے لئے جلد ہی کچھ نہ کچھ ہو گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چناؤ کی آمد محسوس کی جا سکتی ہے۔ “سلیک جا” (6) ایک لاطینی اور پولینڈ کے مآخذ رکھنے والا مختلف النوع لفظ ایک دفعہ، دو دفعہ بلکہ کئی دفعہ غیر ملکی مکالموں میں سنا جا سکتا ہے۔پہلے پہل ہم اس کو شناخت نہیں کر سکتے لیکن پھریہ ہماری توجہ پر حاوی ہوتا ہے اور بالآخر ہمیں ستا کر چھوڑتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج صبح پولینڈ والوں نے“سلیک جا” بولا۔ وہ پہلے ہیں جنہیں یہ خبر ملی اور وہ عمومی طور پر اسے نہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ دوسروں سے پہلےکچھ معلوم ہونا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ جب تک ہر کسی کو اس بات کا شعور ہو کہ ایک چناؤ ہونے والا ہے، اس سے بچنے کے کچھ ممکنات تک (کسی ڈاکٹر یا اہلکار کو ڈبل روٹی یا تمباکو کے ذریعے آمادہ کرنا، جھونپڑے سے شفاخانے منتقلی یا کسی صحیح وقت پر شفاخانے سے جھونپڑے میں تبادلہ تاکہ چناؤ کمیشن سے ٹکراؤ نہ ہو) ان کی رسائی ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آنے والے کچھ دنوں میں قید خانے اور میدان کا ماحول “سلیک جا ” سے بھر چکا ہے:کسی کو قطعی طور پرکچھ نہیں معلوم مگر سب اس کے بارے میں بات کرتے ہیں، پولینڈ والے، اطالوی، فرانسیسی مزدور جنہیں ہم خفیہ طور پر میدان میں دیکھ سکتے ہیں۔پھر بھی نتیجہ دل شکستگی ہر گز نہیں ہے:ہمارا مجموعی حوصلہ اس قدر غیر برجستہ اور زمیں بوس ہے کہ غیر متوازن ہونا ناممکن ہے۔بھوک، سردی اور کام کے خلاف جنگ،سوچ کے لئے شاذ و نادر ہی کوئی جگہ چھوڑتی ہے۔ہر ایک کا رد عمل یکساں ہے مگر شاید ہی کوئی مایوس یا راضی برضا ہو۔ جوبھی کوئی بچاؤ کی راہ ااپنا سکتا ہے وہ اس کی کوشش کرتا ہے مگر ایسے لوگ اقلیت میں ہیں کیوں کہ کسی چناؤ سے بچنا نہایت مشکل ہے۔جرمن ان معاملات میں نہایت مہارت اور محتاط رویہ رکھتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مادی طور پر جو بھی اس کی تیاری کے قابل نہیں وہ اپنا دفاع کہیں اور ڈھونڈتا ہے۔ہم لیٹرینوں، نہانے کے کمروں میں ایک دوسرے کو اپنے سینے، اپنے کولہے، اپنی رانیں دکھاتے ہیں اور ہمارے رفیق ہماری ہمت بندھاتے ہیں:”تم بالکل ٹھیک ہو، اس دفعہ یقیناً تمہاری باری نہیں آئے گی۔۔۔۔ تم” موسلمان” نہیں۔۔۔۔اب کے شاید میری باری ہو”۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنی گرہیں کھولتے ہیں اور قمیصیں اوپر کرتے ہیں۔کوئی کسی کے خلوص کونہیں ٹھکراتا۔ کسی کو اپنے بارے میں اتنا یقین نہیں کہ دوسرے کو معتوب ٹھہرا سکے۔ میں نے بڑی بے حیائی سےبوڑھے ورتھیمر سے جھوٹ بولا، میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ اس سے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو اسے جواب دینا چاہیے کہ اس کی عمر پینتالیس سال ہے اور چاہے اسے ڈبل روٹی کے ایک چوتھائی راشن سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے،اسے کل شام داڑھی بنانا نہیں بھولنا چاہیے تھا، اس کے علاوہ اسے کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے، اور پھر کسی بھی حالت میں یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ چناؤ گیس چیمبر کے لئے ہے، کیا اس نے بلاک کے قائد کو یہ کہتے نہیں سنا کہ چنے گئے افراد جاوورزنو (Jaworzono)میں افاقہ یاب لوگوں کے کیمپ میں بھیجے جائیں گے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ورتھیمر کو امید دلانا بے معنی ہے۔عمر ساٹھ کے لگ بھگ ہے، نسیں پھولی ہوئی اور موٹی ہیں، اب تو وہ شاذ ہی بھوک محسوس کرتا ہے۔ مگر اپنے بستر پر غیر مضطرب اور خاموش لیٹ جاتا ہے، اور میرے جیسے کسی اور شخص کو جواب دینے لگتا ہے۔ آج کل یہ کیمپ کے احکامی الفاظ ہیں:میں کاجیم کی بتائی ہوئی تفصیلات سے قطع نظر ان کو دہراتا رہتا ہوں،کاجیم جو تین سال سے قید خانے میں ہے اور مضبوط اور صحت مند ہونے کے باعث پُر یقین ہے۔ میں اس کی بات پر یقین رکھتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انہیں نازک بنیادوں پر میں بھی ناقابل فہم طمانیت کے ساتھ اکتوبر 1944کے چناؤ سے بچ نکلا۔ میں پر سکون تھا کیونکہ میں اپنے آپ سے کافی جھوٹ بول سکتا تھا۔ مجھے نہ چنا جانا خالصتاً اتفاق پر مبنی تھا اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میرا ایمان ٹھوس بنیادوں پر قائم تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">موسیو پینکرٹ بھی پہلے ہی سے معتوب نظر آتے ہیں:ان کی آنکھوں میں دیکھنا ہی کافی ہے۔وہ مجھے اشارے سے بلاتے ہیں اور ایک خفیہ انداز میں بتاتے ہیں کہ وہ اس خبر کا منبع تو نہیں بتا سکتے مگر انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس بار حقیقتاً کچھ نیا ہو گا۔ مختصراً یہ کہ وہ ذاتی طور پر مطلقاً ضمانت دیتے ہیں کہ وہ اور میں ہر خطرے سے باہر ہیں۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے، ان کا تعلق وارسا میں غیر عسکری فرد کی حیثیت سے بیلجیم کے سفارت خانے سے تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لہٰذا اسی طرز پریہ ایامِ سوگ جن کا بیان کرنا انسانی کرب کی تمام حدود پار کرنے کے برابر ہے، دوسرے دنوں سے کچھ خاص مختلف نہ تھے۔قیدخانے اور بونا میں نظم وضبط میں کوئی کمی نہیں آئی:بیگار، سردی اور بھوک ہر فکری ساعت کو پُر کرنے کے لئے کافی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آج کا اتوار کام کا دن ہے۔ ہم دن ایک بجے تک کام کرتے ہیں، پھر نہانے، داڑھی بنانے اور جلدی بیماریوں اور جوؤں وغیرہ کے عمومی حفاظتی اقدامات کے لئے کیمپ آتے ہیں۔ احاطوں میں ہر ایک کو معلوم ہے کہ آج چناؤ کا دن ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمیشہ کی طرح یہ خبر متضاد اور مشتبہ تفصیلات کے ہالے میں گھری ہم تک پہنچی:شفاخانے میں آج صبح چناؤ ہوا، شرح پورے کیمپ کا سات فی صد تھی، مریضوں کا پینتیس فی صد۔ برکیناؤ میں شمشان بھٹی دس دن سےدھواں اگل رہی ہے۔ پوزنان کے یہودی باڑے سے آنے والے ایک ضخیم قافلے کے لئے جگہ بنانا مقصود ہے۔ جوان جوانوں سے کہتے ہیں کہ تمام عمر رسیدہ چن لئے جائیں گے۔ صحت مند صحت مندوں سے مخاطب ہیں کہ صرف بیماروں کو چنا جائے گا۔متخصصین مستثنیٰ ہوں گے۔ جرمن یہودی مستثنیٰ ہوں گے۔نمبروں کے قلیل سلسلے مستثنیٰ ہوں گے۔ تمہیں چن لیا جائے گا۔ میں مستثنیٰ ہوں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پورے ایک بجے احاطہ قرینے سے خالی کر لیا گیا اور دو گھنٹےنہ ختم ہونے والی خاکستری فوجی قطاریں ان دو کنٹرول اسٹیشنوں کے سامنے سے گزرتی رہیں جہاں ہر روز ہماری دو بار گنتی ہوتی ہے، اور اس فوجی بینڈ کے سامنے سے جو ہر روز بلا وقفہ بجتا رہتا ہے تاکہ ہم داخلے اور اخراج کے وقت اس سے قدم ملا سکیں۔آج بھی روز کی طرح کا معمول ہے، باورچی خانے کی چمنی سے اسی طرح دھواں نکل رہا ہے، شوربےکی تقسیم بس شروع ہونے کے قریب ہے۔مگر پھر گھنٹی کی آواز سنائی دیتی ہے اور ہمیں سمجھ آتا ہےکہ ہم منزل پر پہنچ گئے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کیونکہ یہ گھنٹی جب پو پھٹنے پر سنائی دیتی ہے تو اس کے معنی ہمیشہ حاضری کے بگل کے ہوتے ہیں، مگر اگر یہ آواز دن میں سنائی دے تو اس کا مطلب جھونپڑوں میں بند رہنا ہوتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جب کسی چناؤ سے کسی کو نہ بچ نکلنے دینا مقصود ہو، یا گیس کے لئے چنے گئے قیدیوں کو کوچ کے وقت پیچھے رہ جانے والوں کی نظروں سے اوجھل رکھنا مقصود ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمارے بلاک کا قائد اپنا کام جانتا ہے۔ اس نے اطمینان کیا کہ تمام لوگ داخل ہو چکے ہیں، وہ دروازہ بند کر چکا ہے، وہ ہر ایک کو اس کا کارڈ دے چکا ہے جس پر اس کا نمبر، نام، پیشہ، عمر اور قومیت درج ہے۔ اس نے ہر ایک کو جوتوں کے علاوہ مکمل برہنہ ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ہم اسی طرح برہنہ، کارڈ اپنے ہاتھوں میں پکڑے، کمیشن کے ہمارے جھونپڑے تک پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمارا جھونپڑا نمبر 48 ہے،مگر کوئی نہیں کہ سکتا کہ وہ نمبر ۱ سے آغاز کریں گے یا نمبر 60 سے۔کسی بھی صورت میں ہم کم از کم ایک گھنٹہ خاموشی سے آرام کر سکتے ہیں، اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم تختوں پر موجود کمبلوں میں نہ گھس جائیں اور گرم رہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب احکامات، اعلانات اور ضربوں کے سیلاب کے ذریعے کمیشن کی متوقع آمد کا اعلان ہوا تو کئی لوگ پہلے ہی سے اونگھ رہے تھے۔قائد اور اس کے مددگار خواب گاہ کی ایک سمت سے شروع ہوئے اور خوف زدہ برہنہ لوگوں کے ہجوم کو ہانکتے ہوئے کوارٹر ماسٹر کے دفتر میں لے گئے۔اس کمرے کا طول و عرض بالترتیب سات اور چار گز ہے۔ ہجوم رکا تو انسانوں کا ایک گرم انبار اس طرح پھنس چکا تھا کہ لکڑی کی دیواریں چٹخ رہی تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ہم سب اس دفتر میں ہیں اور ڈرنے کے لیے وقت نہ ہونے کے علاوہ کوئی ایسی جگہ بھی نہیں جہاں ڈرا جا سکے۔ ہر طرف گرم گوشت کا دباؤ غیر معمولی ضرور ہے مگر نا خوشگوار نہیں۔ انسان کو سانس لینے کے لئے اپنی ناک کو اوپر رکھنا پڑتا ہے، اپنے آپ کو لڑکھڑانے سے بچانا ہے مبادا کہیں کارڈ ہاتھ سے گر جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">قائد ساتھ والا دروازہ بند اور دوسرے دوکھول چکا ہے جو خواب گاہ اور دفتر سے باہر کی طرف جاتے ہیں۔یہاں ان دو دروازوں کے درمیان ہماری قسمت کا مختارِ کل یعنی “ایس ایس” کا ایک ماتحت افسرکھڑا ہے۔ اس کے دائیں جانب بلاک کا قائد اور بائیں جانب کوارٹر ماسٹر موجود ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی جب برہنہ دفتر سے باہراکتوبر کی سرد ہوا میں آئے گا تو اسے دونوں دروازوں کے درمیان کچھ قدم بھاگنا ہے، اپنا کارڈافسر کے حوالے کرنا ہے اور خواب گاہ کے دروازے سے اندر داخل ہو جانا ہے۔”ایس ایس” کے افسر نے اس دوران سیکنڈ کے کچھ حصے میں کسی کی پشت اور سامنے کی ایک جھلک دیکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیناہے، اور کارڈ اپنے دائیں یا بائیں پکڑا دینا ہے اور یہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی یا موت ہے۔تین یا چار منٹ میں دو سو افراد کا ایک جھونپڑا “ختم” ہو جائے گا اور اس طرح ایک دوپہر میں بارہ ہزار افرادکا مکمل کیمپ۔ اسی دفتر میں اپنے اردگرد انسانی دباؤ برداشت کرتے کرتے آخر کار میری باری آ گئی۔ ہر کسی کی طرح میں بھی ایک چست اور لچک دار چال کے ساتھ، اپنا سر اوپر رکھنے، سینہ آگے رکھنے، پٹھے واضح اور تنے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئےگزر گیا۔اپنی آنکھ کے کونے سے میں نے اپنے کندھے کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تو میرا کارڈ مجھے دائیں جانب جاتا محسوس ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">خواب گاہ میں آتے ہی ہمیں کپڑے پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابھی کوئی حتمی طور پر اپنی قسمت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، سب سے پہلے تو یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ معتوب کارڈ دائیں جانب والے ہیں یا بائیں جانب والے۔اب چھوٹے چھوٹے توہماتی سہاروں کے ذریعے ایک دوسرے کی ہمت بندھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہر ایک سب سے زیادہ عمر رسیدہ، سب سے زیادہ لاغر اور سب سے زیادہ “موسلمان” کے گرد جمع ہے۔ اگر ان کے کارڈ بائیں جانب گئے تو پھر یقیناً یہی معتوب ہونے والا رخ ہے۔بلکہ چناؤ سے بھی پہلے ہر کوئی جانتا تھا کہ بائیاں رخ چناؤ کا ہے، بُرا رخ؟ قدرتاً کچھ بے قاعدگیا ں ضرور ہوں گی۔مثلاً رینی جو کہ جوان اور مضبوط ہے بائیں جانب پہنچا، شاید اس کی وجہ اس کی عینک ہو، شاید اس لئے کہ وہ کسی کمزور نظر والے کی طرح جھک کر چلتا ہے، مگر سب سے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ ایک سادہ سی غلطی تھی۔ رینی مجھ سے پہلے کمیشن کے سامنے سے گزرا اور ہمارے کارڈوں کے ساتھ کوئی گھپلا ہو سکتا تھا۔ میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں، البرٹو سے مشورہ کرتا ہوں، اور ہم اتفاق کرتے ہیں کہ یہ مفروضہ قرین قیاس ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کل اور اس کے بعد کیا سوچوں گا،مگر آج میں کوئی واضح جذبہ نہیں رکھتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی طرح کی کوئی غلطی شاید سیٹلر کے ساتھ بھی ہوئی، ایک لحیم شحیم ہنگری کا کسان جو صرف دس دن پہلے اپنے گھر میں تھا۔ سیٹلر جرمن زبان نہیں سمجھتا، جو کچھ بھی پیش آیا ہے،وہ نہیں سمجھ سکا اور ایک کونے میں کھڑا اپنی قمیص سینے میں مصروف ہے۔کیامیں اس کے پاس جاؤں اور اسے بتاؤں کہ اس کی قمیص کا مزید کوئی فائدہ نہیں؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ان غلطیوں کے بارے میں کچھ حیران کن نہیں۔امتحان بہت فوری اور اجمالی تھا اور کسی بھی حالت میں قید خانے کے لئے اہم یہ نہیں کہ زیادہ غیر مفید قیدیوں کو تلف کر دیا جائے بلکہ یہ کہ کسی خاص طے شدہ تناسب کے تحت خالی جگہیں تخلیق کی جائیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ہمارے جھونپڑے میں چناؤ ختم ہو چکا ہے مگر دوسروں میں جاری ہے لہٰذا ہم اب بھی مقفل ہیں۔ مگر چونکہ سُوپ کے پیالے اس دوران آ چکے ہیں لہٰذا ہمارے قائد کا فیصلہ ہے کہ تقسیم فی الفور شروع کی جائے۔چنے ہوؤں کو دوگنا راشن دیا جائے گا۔میں یہ کبھی دریافت نہیں کر سکا کہ یہ قائد کا اپنامضحکہ خیز خیراتی اقدام تھا یا” ایس ایس” کا ایک دو ٹوک ضابطہ، مگرواقعہ یہی تھا کہ چناؤ سے کُوچ کے درمیان دو یا تین دن (کئی بار اس سے بھی زیادہ) مونووٹزز آشوٹز میں موجود شکاروں کو اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کاموقع دیا جاتا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زیگلر اپنا عمومی راشن حاصل کر کے پیالہ اٹھائے انتظار میں کھڑا ہے۔ “تم کیا چاہتے ہو؟” قائد پوچھتا ہے۔ اس کے مطابق زیگلر کسی ضمیمے کا حقدار نہیں ہے سو وہ اس کو دور دھکیل دیتا ہے مگر زیگلر واپس آ جاتا ہے اور عاجزی سے اصرار کرتا ہے۔ وہ بائیں جانب تھا، ہر کسی نے دیکھا ہے، قائد کو کارڈ دیکھ لینے چاہئیں، اسے دوگنے راشن کا حق ہے۔جب اسے یہ دے دیا جاتا ہے تو وہ خاموشی سے اپنے تختے کی طرف کھانے کے لئے چلا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب ہر کوئی چمچ سے اپنے پیالے کی تہہ صاف کر رہا ہے تاکہ آخری ذرات ضائع نہ ہو جائیں، ایک مبہم دھاتی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی ہےجو دن کے اختتام کی علامت ہے۔آہستہ آہستہ خاموشی چھا جاتی ہےاور پھر میں اپنے اوپر کی قطار والے تختے سے بوڑھے کوہن کو اپنی ٹوپی پہنے آگے پیچھے زور سے ہلتے ہوئے،اونچی آواز میں دعا مانگتے دیکھتا اور سنتا ہوں۔ کوہن خدا کا شکر ادا کر رہا ہے کہ وہ نہیں چنا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوہن اپنی حواس سے باہر ہے۔کیا وہ بیپو یونانی کو اپنے ساتھ والے تختے پر نہیں دیکھ سکتا، وہی بیپو جس کی عمر بیس سال ہے، جسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ پرسوں گیس چیمبر میں جا رہا ہے، اور وہ وہاں روشنی پر آنکھیں جمائے، کچھ کہے سوچے بغیر لیٹا ہے؟ کیا کوہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگلی باری اس کی ہو گی؟ کیا کوہن نہیں سمجھتا کہ جو کچھ آج ہوا وہ ایک کراہت آمیز حقیقت ہے جسے کوئی مصالحت آمیز دعا، کوئی توبہ، کسی گناہ گار کا کفارہ، کوئی بھی انسانی طاقت کبھی بھی پاک نہیں کر سکتی؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اگر میں خدا ہوتا تو کوہن کی دعا پر تھوک دیتا۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">11۔ تجربہ گاہ کے تین آدمی</div>
<div class="urdutext">لیبارٹری میں حرارت کا بہترین انتظام ہے۔ تھرمامیٹر 65 ڈگری بتا رہا ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہم سے شیشے کے آلات دھلوا سکتے ہیں، زمین پر جھاڑو لگوا سکتے ہیں، ہائیڈروجن کی صراحیاں اٹھوا سکتے ہیں، کچھ بھی ایسا جو ہمیں یہاں رہنے دے اور سردی کا مسئلہ حل کر دے۔ پھر اس کے بعد بھوک کا مسئلہ حل کرنا بھی بہت مشکل ثابت نہ ہو گا۔کیا وہ واقعی روزانہ اخراج کے وقت ہماری تلاشی لینا چاہیں گے؟ اور اگر لینا بھی چاہیں، تو کیا وہ ہمیشہ ایسا کریں گے جب بھی ہم لیٹرین جانے کی اجازت طلب کریں؟ ظاہر ہے نہیں۔ اور پھر یہاں صابن، پیٹرول اور الکحل بھی ہے۔ میں اپنی جیکٹ کے اندر ایک خفیہ جیب سی لوں گا اور اس برطانوی آدمی سے تعلق پیدا کروں گا جو مرمت کے احاطے میں کام کرتا ہے اور پیٹرول کی تجارت کرتا ہے۔ہم دیکھیں گے کہ نگرانی کتنی سخت ہے،تاہم میں اب تک قید خانے میں ایک سال گزار چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اگر کوئی چوری کرنا چاہے، اور سنجیدگی سے اپنا ذہن اس پر مائل کر لے، تو کوئی نگرانی یا تلاشی اس کو نہیں روک سکتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20109" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/3.jpg" alt="3" width="450" height="600" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/3.jpg 450w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/3-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 450px) 100vw, 450px"></p>
<div class="urdutext">لہٰذا اب یوں محسوس ہوتا ہے گویا قسمت نے ایک غیر مشتبہ راستے سے یہ انتظام کر دیا ہو کہ ہم تین،جو باقی دس ہزار معتوبین کے لئے قابل رشک ہیں، اس موسم سرما میں سردی اور بھوک کی اذیت سے بچے رہیں۔اس کا مطلب ہےیہ مضبوط احتمال، کہ ہم شدید بیمار ی، انجماد اور چناؤ سے بچے رہیں گے۔ان حالات میں قید خانے کے معاملات کے بارے میں ہم سے کم تجربہ کار لوگ بقا اور آزادی کی امید رکھیں گے۔ مگر ہم ایسے نہیں ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ یہ معاملات کس طرح پیش آتے ہیں، یہ سب کچھ قسمت کا تحفہ ہے تاکہ ایک ہی دفعہ جتنا ممکن ہو اس کا لطف اٹھایا جائے کیونکہ کل کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔میرے ہاتھ سے ٹوٹنے والاپہلا شیشہ، پیمائش کی پہلی غلطی، پہلا ایسا واقعہ جب میری توجہ بھٹک جائے، مجھے واپس برف اور ہوا کی بربادی اور باالآخر چمنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ویسے کہاں کون کیسے جانتا ہے کیا ہو گا جب روسی پہنچ جائیں گے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">چونکہ روسی ضرور پہنچیں گے اس لیے زمین ہمارے پاؤں تلے دن رات کانپتی ہے، ان کے توپ خانے کی دبی دبی بے روح چنگھاڑ اب بُونا کی منفرد خاموشی میں بلاوقفہ چٹختی ہے۔ ہم ایک بے چین اور مضطرب فضا میں سانس لیتے ہیں، ایک پُر استقلال فضا۔پولینڈ والے مزید کام نہیں کرتے، فرانسیسی ایک بار پھر اپنا سر اٹھا کے چل رہے ہیں۔ برطانوی ہمیں آنکھیں جھپکا کر علامتی انداز میں دیکھتے ہیں، نظریں بچا کر جیت کا نشان دکھا کر سلام کرتے ہیں اور کبھی کبھی بھی نظریں نہیں چراتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ڈھٹائی اور عمداً جہالت کی ڈھال کے اندر چھپے یہ جرمن بہرے اور اندھے ہیں۔ ایک دفعہ پھر انہوں نے مصنوعی ربڑ کی پیداوار کی شروعات کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ یکم فروری 1945۔ وہ عارضی پناہ گاہیں اور سرنگیں کھودتے ہیں، نقصان کی مرمت کرتے ہیں، تعمیر کرتے ہیں، لڑتے ہیں، حکم دیتے ہیں، منظم ہوتے ہیں اور قتل کرتے ہیں۔اور وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ وہ جرمن ہیں۔یہ رویہ دیدہ و دانستہ اور عمداً نہیں ہے بلکہ ان کی فطرت اوراس تقدیر سے پھوٹتا ہے جو انہوں نے اپنے لئے پسندکی ہے۔وہ اس سے مختلف طور پر عمل نہیں کر سکتے۔اگر آپ کسی مرتے ہوئے انسان کے جسم پر زخم لگا دیں تو زخم اس سے قطع نظر بھرنا شروع ہو جائے گا کہ پورا جسم ایک ہی دن کے اندر مر جائے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">12۔ آخری انسان</div>
<div class="urdutext">دستے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک اپنے لکڑی کے جوتوں کی منجمد برف پر ٹھوس کھنکھناہٹ کی آواز کے ساتھ مسلسل واپس آتے رہے۔ جب تمام یونٹ واپس پہنچ گئے تو بینڈ اچانک بند ہو گیا اور گلو گرفتہ جرمن آواز نے خاموشی کا حکم دیا۔ ایک اور جرمن آواز اس اچانک خاموشی میں اٹھی اور دیر تک سیاہ اور معاندانہ فضا میں طیش سے گونجتی رہی۔ آخر کار مجرم کو تیز روشنی کی شعاؤں میں باہر لایا گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نمائش اور سنگدلی سے بھرپور یہ تقریب ہمارے لئے نئی نہیں ہے۔ کیمپ میں آمد کے بعد میں اس سے پہلے تیرہ پھانسیاں دیکھ چکا ہوں، مگر دوسرے موقعوں کی وجہ عمومی جرائم تھے جیسے باورچی خانے سے چوریاں، تخریب کاری، فرار کی کوششیں۔ آج وجہ مختلف ہے۔<br>
پچھلے ماہ برکیناؤ کی ایک شمشان بھٹی دھماکے سے اڑا دی گئی۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا (اور شاید نہ ہی کبھی کوئی جان سکے گا) کہ یہ معرکہ کیسے پیش آیا۔ ایک مخصوص دستے کی بابت چہ میگویئاں ہیں جو بھٹیوں اور گیس چییمبرو ں سے منسلک تھا، جسے باقی کیمپ سے الگ تھلگ رکھا جاتا تھا اورخود بھی وقتاً فوقتاً مٹا دیا جاتا تھا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ برکیناؤ میں ہم جیسے چند سو بے یارومددگار اور لاغر غلاموں جیسے آدمیوں نے اپنے اندرعمل کی قوت پائی تاکہ نفرت کے پھلوں کو پھلتا پھولتا دیکھ سکیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ آدمی جوآج ہمارے سامنے اس وقت مرنے والا ہے کسی صورت اس بغاوت کا حصہ تھا۔کہا جا رہا ہے کہ اس کے تعلقات برکیناؤ کے باغیوں کےساتھ تھے اور یہ ہمارے کیمپ میں ہتھیار درآمد کر کے ویسی ہی بغاوت برپا کرنا چاہتا تھا۔اسے آج ہماری نگاہوں کی سامنے مرنا ہے۔شاید جرمن نہیں جانتے کہ یہ تنہا موت، اس انسان کی موت جو اس کے لئے مختص کر کے رکھی گئی ہے،بدنامی کی بجائے عزت و توقیر کا باعث ہو گی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جرمن کی تقریر کے اختتام پر جو کسی کو سمجھ نہیں آئی، وہی پہلے والی طیش بھری آواز پھر ابھری،“کیا تم سمجھ گئے؟” کس نے جواب دیا “جی ہاں”؟، شاید ہر ایک نے اور کسی نے بھی نہیں۔ یہ اس طرح تھا گویا ہماری ملعون تسلیم و رضا نے جسم کوقابو میں لے لیا ہو، جیسے وہ ہمارے سروں سے اوپر کوئی مجموعی آواز ہو۔ مگر ہر ایک نے بدقسمت شخص کی چیخ سنی، یہ چیخ ہمارے جمود اور اطاعت شعاری کے پرانے اور دبیز پردوں کو پھاڑتی ہوئی گزر گئی، اس نے ہمارے اندر موجود زندہ انسانی قالب پر چوٹ لگائی:”میرے رفیقو، میں آخری انسان ہوں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری خواہش ہے کہ میں کہہ سکتا کہ ہمارے یعنی ایک قابل حقارت ریوڑ کےبیچ سے ایک صدا اٹھی، ایک گونج، ایک توثیقی علامت۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ ہم کھڑے رہے، جھکے ہوئے، اداس، ڈھلکے ہوئے سروں کی ساتھ، اور جب تک جرمنوں نے حکم نہیں دیا ہم نے اس وقت تک اپنے سر ننگے نہیں کئے۔ تہہ خانے کا دروازہ کھلا، جسم دہشت ناک طور سے لہرایا، بینڈ ایک بار پھر بجنا شروع ہو ا اور ہم ایک بار پھر قطار بنا کر مرتے ہوئے آدمی کے کانپتے جسم کے ساتھ سے گزر گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20108" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/gas-chamber.jpg" alt="gas-chamber" width="450" height="600" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/gas-chamber.jpg 450w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/gas-chamber-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 450px) 100vw, 450px"></p>
<div class="urdutext">پھانسی گھاٹ کے دوسرے کونے پر “ایس ایس “کے اہلکار ہمیں لاتعلق نگاہوں سے گزرتے دیکھتے رہے۔ ان کا کام ختم ہو چکا ہے اور اختتام بہت خوب تھا۔روسی اب آ سکتے ہیں۔ہم میں اب کوئی بھی مضبوط آدمی نہیں، آخری انسان اب ہمارے سروں کے اوپر معلق ہے، اور جہاں تک دوسروں کا سوال ہے، کچھ پھندے ہی کافی ہیں۔روسی اب آ سکتے ہیں، وہ یہاں صرف ہمیں پائیں گے، تھکے ہارے غلام، اس غیرمسلح موت کے حق دار جو اب ہماری منتظر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">انسان کو تباہ کرنا کٹھن ہے، تقریباً اتنا ہی دشوار جتنا اسے تخلیق کرنا۔یہ سہل نہ تھا، نہ ہی اتنا فوری، مگر تم جرمن لوگ کامیاب رہے۔ ہم یہاں ہیں، تمہاری ٹکٹکی بندھی نگاہ تلے آمادۂ اطاعت، تمہیں ہماری طرف سے اب مزید کوئی خطرہ نہیں،نہ کوئی شدت پسند ردعمل، نہ کوئی سرکش الفاظ، یہاں تک کہ کوئی قہر بھری نگاہ بھی نہیں۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">13۔ دس دن کی داستان</div>
<div class="urdutext">وقفے وقفے سے روسی توپوں کی دوردراز گولہ باری کی آواز کو کافی ماہ گزر چکے تھے،جب 11 جنوری 1945 کو میں سرخ بخارکا شکار ہو کر ایک بار پھر شفاخانے بھیج دیا گیا۔ اس متعدی بیماری کا مطلب تھا ایک چھوٹا نسبتاً صاف کمرہ جس میں دو درجوں پر دس خوابی تختے نصب تھے، ایک توشہ خانہ، تین اسٹول اور پیشاب اور طہارت کے لئے ایک کرسی اور بالٹی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے تیز بخار تھا۔ خوش قسمت تھا ایک پورا تختہ صرف میرے لئے تھا۔ یہ جانتے ہوئے سکون سے لیٹ گیا کہ میں چالیس دن کی تنہا ئی کا حقدار تھا، لہٰذا آرام کا، جب کہ میں اپنے آپ کو اس حد تک طاقتور تصور کر رہا تھا کہ نہ تو بخار اور نہ ہی چناؤ سے خوفزدہ تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20106" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-activities-laaltain.jpg" alt="camp-activities-laaltain" width="450" height="600" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-activities-laaltain.jpg 450w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-activities-laaltain-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 450px) 100vw, 450px"></p>
<div class="urdutext">کیمپ کے اب تک کے طویل تجربات کے باعث میں اپنا تمام ذاتی سامان ساتھ لا سکا۔برقی تارکی ایک بیلٹ، چمچ اور چاقو، ایک سوئی اور تین دھاگے، پانچ بٹن، اور آخرمیں اٹھارہ سنگِ چقماق جو میں نے لیبارٹری سے چوری کئے تھے۔ان میں سے ہر ایک کو صبر سے تراشنے کے بعد تین ایسے چھوٹے پتھر بنانے ممکن ہوئے جو تقریباً ایک سگریٹ لائٹر جتنے تھے۔ ان کی قیمت چھ یا سات ڈبل روٹیوں کی راشن جتنی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے چار پُر امن دنوں کا لطف اٹھایا۔ باہر برف پڑ رہی تھی اور کافی سردی تھی مگر کمرہ کافی گرم تھا۔ مجھے سخت دوائیں دی گئی تھیں اور میں بمشکل کچھ کھا سکتا تھا۔ بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سرخ بخار ہی میں مبتلا دو فرانسیسی کافی خوش گفتار تھے۔ وہ کلیسائی صوبے ووسج سے تعلق رکھتے تھے جو کچھ ہی دن قبل غیر عسکری افراد کے ایک بڑے قافلے کے ساتھ جرمنوں کی لورین سے پسپائی کے دوران خالی کئے گئے ایک کیمپ میں آئے تھے۔بڑے کا نام آرتھر تھا جو کہ ایک چھوٹے قد کا دبلا پتلا کسان تھا۔ دوسرا،اس کا بستر شریک بتیس سالہ چارلس، ایک اسکول میں استاد تھا۔ قمیص کی جگہ اسے ایک گرمیوں میں پہنی جانے والی مضحکہ خیز حد تک چھوٹی بنیان دی گئی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پانچویں دن نائی آیا۔ وہ سیلونیکا کا یونانی تھا۔ صرف اپنے علاقے کی خوبصورت ہسپانوی بولتا تھا مگر کیمپ میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے کچھ نہ کچھ الفاظ سمجھ لیتا تھا۔ نام اسکینازی تھا اور کیمپ میں تقریباً تین سال سے موجودتھا۔مجھے نہیں معلوم اس نے کس طرح شفا خانے کی نائی کا عہدہ حاصل کیا، کیوں کہ نہ تو وہ جرمن اور پولش بول سکتا تھا اور نہ ہی حد سے زیادہ سنگ دل تھا۔اس کے داخل ہونے سے قبل ہی میں نے اسے راہداری میں اپے ایک ہم ملک طبیب سے پرجوش لہجے میں بات کرتے سن لیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات کچھ غیر معمولی تھے، مگر چونکہ لیونٹ کے رہنے والوں کے چہرے کے تاثرات ہم سے کافی مختلف ہوتے ہیں اس لئے میں نہیں دیکھ سکا کہ آیا وہ خوفزدہ یا خوش تھا، یا پھر محض پریشان۔ وہ مجھے جانتا تھا یا کم از کم اتنا جانتا تھا کہ میں اطالوی ہوں۔ جب میری باری آئی تو میں بڑی مشکل سے تختے سے نیچے اترا۔ میں نے اطالوی زبان میں اس سے پوچھا کہ کیا کوئی نئی خبر ہے؟ وہ داڑھی بناتے ہوئے رکا اور ذرا سنجیدہ اور خفیہ انداز میں پلکیں جھپکاتے ہوئے اپنی ٹھوڑی سے کھڑکی کی طرف اشارہ کر دیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مغرب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اطالوی زبان میں بولا،”کل، ہر کوئی جا رہا ہے۔” پھر ایک لمحے کی لئے پھیلی ہوئی آنکھوں سے میرے جانب دیکھتا رہا جیسے کسی رد عمل کا منتظر ہو اور پھر ہسپانوی زبان میں “ہر کوئی، ہر کوئی” کہتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ اسے میرے چقماق کے پتھروں کی بابت علم بھی تھا۔ بس ایک مخصوص نرمی کے ساتھ داڑھی بناتا رہا۔ اس خبر نے میرے اندر کوئی فوری جذبہ پیدا نہیں کیا۔ پہلے ہی کئی ماہ سے مجھے کسی قسم کا کوئی درد، خوشی یا خوف محسوس نہ ہو رہا تھا، علاوہ اس مخصوص غیروابستہ اور مبہم طور پر جو قید خانے کا خاصہ تھا اور کئی عوامل سے مشروط تھا۔میں نے سوچا کہ اگر میں اب بھی اپنی پہلے جیسی حساسیت کا مالک ہوتا تو یہ ایک بے حد پر جوش ساعت ہوتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میرے تصورات مکمل طور پر واضح تھے۔ کافی عرصے سے میں اور البرٹو ان خطرات کی پیش بینی کر رہے تھے جو کیمپ کے انخلا اور آزادی کے ساتھ متوقع تھے۔ جہاں تک باقیوں کا سوال ہے، ان کے لئے اسکینازی کی خبر محض ان افواہوں کی توثیق تھی جو کافی روز سے قید خانے میں گردش کر رہی تھیں :یعنی یہی کہ روسی ساٹھ میل شمال کی جانب سینسٹوچوا میں تھے، یا یہ کہ وہ ساٹھ میل جنوب کی جانب زاکوپاکسے میں تھے، یا پھر یہ کہ بونا میں جرمن پہلے ہی سے بارودی سرنگیں نصب کر رہے تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے باری باری اپنے رفیقوں کے چہروں کی طرف نگاہ دوڑائی۔ ان سے اس معاملے پر بات چیت کرنا واضح طور پر لاحاصل تھا۔ ان کا جواب یہی ہوتا کہ “پھر؟” اور یہاں ساری بات ہی ختم ہو جاتی۔ فرانسیسی ان سےمختلف تھے، وہ ابھی بھی تازہ دم تھے۔”کیا تم نے سنا؟”، میں نے ان سے پوچھا۔ “کل وہ کیمپ خالی کر رہے ہیں۔” انہوں نے مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ “کس جانب؟ کیا پیدل؟۔۔۔بیمار قیدی بھی؟ وہ بھی جو پیدل نہیں چل سکتے ؟” انہیں معلوم تھا کہ میں ایک پرانا قیدی ہوں اور جرمن زبان سمجھ سکتا ہوں، جس سے انہوں نےیہ نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے اس بارے میں اس سے کہیں زیادہ معلوم ہے جتنا میں تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔میں نے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا مگر وہ مسلسل سوال پوچھتے رہے۔کتنے احمق تھے وہ ! مگر ظاہر ہے کہ انہیں قید خانے میں آئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا اور ابھی انہوں نے یہ نہیں سیکھا تھا کہ سوال نہیں کرنے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دوپہر میں یونانی ڈاکٹر آیا۔ اس نے بتایا کہ اُن تمام قیدیوں جو چلنے کے قابل ہیں جوتے اور کپڑے فراہم کئے جائیں گے اور اگلے دن وہ تندرست افراد کے ساتھ بارہ میل کی پیش قدمی کے لئے نکل جائیں گے۔دوسرے شفاخانے میں ہی رہیں گے اور تیمارداری کے لئے انہیں منتخب کیا جائے گا جو سب سے کم بیمار ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ڈاکٹر غیر معمولی طور پر خوش تھا اور نشے میں لگتا تھا۔میں اسے جانتا تھا۔وہ ایک نفیس اور ذہین آدمی تھا، خودغرض، پیش بین اور ہوشیار۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہر کسی کو بلا امتیاز ڈبل روٹی کا تین گنا راشن دیا جائے گیا جس پر مریضوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ہم نے اس سے پوچھا کہ ہمارا کیا ہو گا۔اس نے جواب دیا کہ شاید جرمن ہمیں ہماری تقدیر پر چھوڑ دیں گے اور وہ نہیں سمجھتا کہ وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔اس نے یہ تاثر بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ اُس کا خیال اِس کے برعکس ہے۔اس کی مسرت ہی کسی ناگہانی آفت کی خبر دے رہی تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">وہ پہلے ہی سے پیش قدمی کے لئے لیس تھا۔ ابھی وہ بمشکل باہر ہی نکلا تھا کہ وونوں ہنگری کے لڑکے ایک دوسرے سے پُرجوش گفتگو کرنے لگے۔ وہ کافی حد تک صحت یاب ہو چکے تھے مگر شدید لاغر تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ مریضوں کے ساتھ رہنے سے خوفزدہ تھے اور صحت مند افراد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر رہے تھے۔یہ استدلال کا سوال نہیں تھا۔ اگر اتنا کمزور محسوس نہ کررہا ہوتا توشایدمیں بھیڑ چال میں ریوڑ کی جبلت ہی کا تعاقب کرتا، خوف بے حد متعدی ہوتا ہے، اور اس کا فوری رد عمل فرار کی کوشش ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20105" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-cvacinity-laaltain.jpg" alt="camp-cvacinity-laaltain" width="800" height="500" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-cvacinity-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-cvacinity-laaltain-300x188.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/camp-cvacinity-laaltain-768x480.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></p>
<div class="urdutext">جھونپڑے کے باہر کیمپ کی فضا غیرمعمولی طور پر سرگرم تھی۔ہنگری والوں میں سے ایک اٹھ کے باہر نکل گیا اور آدھے گھنٹے بعد چیتھڑوں سے لیس واپس لوٹا جو اس نے شاید جراثیم سے پاک ہونے کے لئے جمع کئے گئے کپڑوں کے گودام سے حاصل کئے تھے۔ وہ اور اس کے رفقاء بے چینی سے ایک کے بعد ایک چیتھڑا زیب تن کرتے رہے۔ دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ عجلت سے معاملہ ختم کرنا چاہتے تھے مبادا خوف سے جھجک جائیں۔اس لاغر پن اور خاص طور پر آخری وقت میں حاصل کئے گئے ان ٹوٹے پھوٹے جوتوں کے ساتھ برف میں محض ایک گھنٹہ پیدل چلنے کا خیال بھی دیوانگی تھی۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ جواب دئیے بغیر میری طرف دیکھتے رہے۔ان کی آنکھیں دہشت زدہ بھیڑوں کی طرح تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید وہ ٹھیک ہی ہوں۔ وہ بے ڈھنگے اندازمیں کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر نکل گئے، میں نے ان بے شکل گٹھڑیوں کو اندھیرے میں لڑکھڑاتے دیکھا۔ان کی واپسی نہیں ہوئی، مجھے کافی عرصے بعد معلوم ہوا کہ نہ چل سکنے کے باعث، پیش قدمی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد“ایس ایس“نے انہیں قتل کر دیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ظاہر ہے مجھے بھی جوتوں کے ایک جوڑے کی ضرورت تھی۔ مگر مجھے بیماری، بخار اور جمود کی کی کیفیت پر قابو پانے میں ایک گھنٹہ لگا۔ راہداری میں مجھے ایک جوڑا مل گیا۔(صحت مند قیدیوں نے مریضوں کے جمع کرائے گئے جوتوں پر ہلہ بول دیا اور ان میں سے بہترین ساتھ لے گئے، پھٹے ہوئے تلوں اور کسی جوڑے سے علیٰحدہ بچ جانے والے ہر جگہ بکھرے پڑے تھے)۔ اسی وقت میں السیشیا کے رہنے والےکوسمان سے ملا۔ ایک غیر عسکری فرد کی حیثیت سے وہ کلیرمونٹ فیرینڈ میں رائٹر کی خبر رساں ایجنسی کا نمائندہ تھا، وہ بھی پُر جوش اور بشاش تھا۔ کہنے لگا کہ”اگر تم مجھ سے پہلے واپس پہنچ جاؤ تو میٹز کے مئیر کو لکھنا کہ میں عنقریب واپس آنے ہی والا ہوں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کوسمان اہم حلقوں میں اپنے تعلقات کی وجہ سے مشہور تھا لہٰذا اس کا پُرامید ہونا اچھی علامت تھی اور میں نے اپنے جمود کو جواز دینے کے لئے اسے استعمال کیا۔ میں نے جوتے چھپا دئیے اور واپس بستر میں گھس گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">رات گئے یونانی ڈاکٹر کاندھوں پر ایک پشتی تھیلا لٹکائے اور ایک اونی ٹوپی پہنے واپس آیا۔ اس نے ایک فرانسیسی ناول میرے بستر پر پھینکا۔ “اسے رکھو، پڑھ لو، اطالوی۔ جب ہم دوبارہ ملیں تو تم یہ مجھے واپس لوٹا سکتے ہو۔”آج بھی ان الفاظ کی وجہ سے میں اس سے نفرت کرتا ہوں۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ ہماری بدقسمتی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-20104" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/ghosts-of-past-laaltain.jpg" alt="ghosts-of-past-laaltain" width="450" height="600" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/ghosts-of-past-laaltain.jpg 450w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/12/ghosts-of-past-laaltain-225x300.jpg 225w" sizes="(max-width: 450px) 100vw, 450px"></p>
<div class="urdutext">اور پھر آخرکا البرٹو امتناع کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہنچ گیا، تاکہ مجھے کھڑکی سے الوداع کہہ سکے۔ہم یک جان دو قالب تھے، “دو اطالویوں” کے طور پر مشہور تھے اور غیرملکی کئی بار ہمارے نام تک غلط سمجھ بیٹھتے تھے۔ چھ ماہ ہم ایک ہی خوابی تختے پر تھے اور خوراک کا ایک ایک ذرہ جو راشن سے زیادہ تھا “ذخیرہ” کرتے رہے۔ مگر اسے بچپن میں سرخ بخار ہو چکا تھا اور میں اسے یہ مرض نہ لگا سکا۔ لہٰذا وہ چلا گیا اور میں پیچھے رہ گیا۔ہم نے ایک دوسرے کو الوداع کہا، زیادہ لفظ درکار نہ تھے، ہم اپنے معاملات کے بارے میں لاتعداد بار کلام کر چکے تھے۔ خیال نہیں تھا کہ ہم بہت زیادہ وقت ایک دوسرے سے جُدا رہیں گے۔اسے اچھی خاصی حالت میں چمڑے کے جوتوں کا ایک مضبوط جوڑا مل گیا تھا۔وہ ان میں سے تھا جو فوراً ضرورت کی چیز ڈھونڈ لیتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">باقی تمام کُوچ کرنے والوں کی طرح وہ بھی پُرجوش اور پُر اعتماد تھا۔ یہ سب کچھ قابل فہم تھا:کچھ عظیم اور منفرد رونما ہونے والا تھا، بالآخر ہم اپنے ارد گرد ایک ایسی قوت کو محسوس کر رہے تھے جو جرمنی کی نہیں تھی، ہم اپنی اس نفرت آمیز دنیا کو متوقع طور پر ڈھیر ہوتے دیکھ رہے تھے۔ کسی بھی درجے میں وہ صحت مند لوگ جو اپنی ساری بھوک اور تھکن کے باوجود چلنے کے قابل تھے یہ محسوس کر سکتے تھے۔مگر ظاہر ہے کہ شدید لاغر، برہنہ اور ننگے پاؤں شخص مختلف طرز پر ہی سوچے اور محسوس کرے گا، لہٰذا یہ مفلوج کر دینے والا احساس کہ ہم قسمت کے رحم و کرم پر ہیں ہماری سوچوں پر حاوی تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18 جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پس ہم اپنے بستروں میں اپنی بیماری اور اپنے خوف سے زیادہ طاقتور جمود کے ساتھ اکیلے پڑے رہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پورے شفاخانے میں ہماری تعداد لگ بھگ آٹھ سو تھی۔ ہمارے کمرے میں ہم گیارہ تھے، ہر ایک اپنے اپنے تختۂ خواب پر، سوائے چارلس اور آرتھر کے جو ایک ہی تختے پر سوتے تھے۔ قید خانے کی عظیم مشین کا آہنگ ماند پڑ چکا تھا۔ ہمارے لئے زمان و مکان سے ماوراء ان آخری دس دنوں کا آغاز ہوا۔</div>
<div class="urdutext">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">1۔ Haftling (Prisoner)<br>
2۔ Ruhe (silence or peace)<br>
3۔ Ka-Be (Krankenbau)<br>
4۔ Heimweh<br>
5۔ یہ لفظ موسلمان نہ جانے کیوں کیمپ کے پرانے باسیوںمیں کمزور ، لاغر و بیکار اور چناؤ کے یقینی سزاواروں کے لئے مستعمل<br>
تھا(مصنف)۔<br>
6 Selekcja</div>
<p>۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8/">اگر یہ انسان ہے (انتخاب)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%da%af%d8%b1-%db%8c%db%81-%d8%a7%d9%86%d8%b3%d8%a7%d9%86-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>علمِ سماجیات: دعوت نامے کی بازطلبی؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 03 Dec 2016 06:30:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Peter Berger]]></category>
		<category><![CDATA[social theory]]></category>
		<category><![CDATA[جدید سماجی نظریات]]></category>
		<category><![CDATA[علم سماجیات]]></category>
		<category><![CDATA[عمرانیات]]></category>
		<category><![CDATA[کلاسیکی علم سماجیات]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19560</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">پیٹر برجر: ہم ایک ایسے علمِ سماجیات کی بات کر رہے ہیں جو کلاسیکی دور کے عظیم سوالوں کی جانب لوٹ جائے، جو وسیع المشرب اور طریقیاتی لچک رکھتا ہو، نظریاتی جبر کے خلاف ہو۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%9f/">علمِ سماجیات: دعوت نامے کی بازطلبی؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مصنف: پیٹر برجر<br>
ترجمہ: عاصم بخشی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زندگی کے اس موڑ پر ایک ماہرِ سماجیات کے طور میرے تشخص میں ایسا کچھ خاص داؤ پر نہیں لگا ہوا۔ اگر علمی تخصص کی بابت پوچھا جائے تو میں خود کو ماہرِ سماجیات ہی کہوں گا لیکن اِس تخصیص کا اِس سے کچھ خاص لینا دینا نہیں جو میں کرتا ہوں یا خود کو سمجھتا ہوں۔ میں اِس علمی دائرے سے منسلک محققین کے کام پر سرسری توجہ ہی دیتا ہوں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ وہ بھی میرے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال کچھ ایسی بری بھی نہیں۔ لیکن مجھے کبھی کبھار یاد آتا ہے کہ میں اپنی پرجوش جوانی میں دوسروں کو کافی جذباتی انداز میں اپنی تحریروں (جو خوش قسمتی سے آج بھی اشاعت میں ہیں) اور تدریس سے علمِ سماجیات کی دعوت دیتاتھا۔ کیا مجھے اپنے اس عمل پر پشیمان ہونا چاہئے؟ کیا مجھے متانت سے دعوت کے منسوخ ہونے کا اعلان کر دینا چاہئے تاکہ ایک دیوالیہ ادارے کا رخ کرتے مزید معصوم طلباء کی گمراہی کا الزام مجھ پر نہ لگے؟ میرا خیال ہے کہ ان دونوں سوالوں کا جواب ایک شکستہ دل سی ’’نہیں‘‘ ہے۔ ’’ نہیں‘‘ کیوں کہ میں اب بھی یہی سمجھتا ہوں کہ و ہ علمِ سماجیات جس کی میں نے کبھی وکالت کی تھی آج بھی اتنا ہی مستند ہے، اور” شکستہ دل “کیوں کہ خود کو ماہرِ سماجیات کہنے والے بہت سے لوگ واقعتاً یہ نہیں کر رہے۔ کیا ان حالات کے بدلنے کا کوئی امکان ہے؟ شاید نہیں جس کی محکم سماجیاتی وجوہات ہیں۔ تاہم اس سے پہلے کہ علاج کے امکانات کا جائزہ لیا جائے واضح تشخیص ضروری ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">کلاسیکی ماہرینِ سماجیات اپنی خواہشات و تعصبات سے اوپر اٹھ کر سماجی منظرنامے پر ایک معروضی نظر ڈالنے میں بہت محتاط تھے</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">یہ تو ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ ایک عظیم اور تیزرفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ یہ محض اس وسیع قلبِ ماہیت کا ایک سرعت پذیر دور ہے جو پہلے یورپ اور پھر تیز رفتاری سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جدیدیت کا بہاؤ تھا۔ یہ یاد دہانی چشم کشا ہے کہ علمِ سماجیات اس عظیم بہاؤ کے کسی نہ کسی حد تک فہم اور اس پر ممکنہ طور پر قابو پانے کی کوشش کے نتیجے میں وضع ہوا۔ یہ صورتِ حال واضح طور پر ان تین ملکوں میں دیکھی جا سکتی ہے جہاں واضح طور پر علمِ سماجیات کے تین ممیز روایتی دھارے ظہور میں آئے، یعنی فرانس، جرمنی اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ۔ جدیدیت کا فہم بلکہ شاید اس کو قابو میں لینے کی خواہش! کیا ہی رعب دار تجویز ہے! لہٰذا اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ اولین سماجی گُرو قابلِ رشک ذہنی اور زیادہ تر مثالوں میں انفرادی صلاحیتیں رکھنے والے اہلِ علم تھے۔ کئی علمی نسلوں بعد آنے والے متاخرین سے اسی قسم کی قابلِ موازنہ خصوصیات کی توقع خام خیالی ہو گی۔ لیکن کم از کم فکری رویوں میں ایک مخصوص تسلسل کی توقع تو کی جا سکتی ہے، یعنی ماہیت نہیں تو کم از کم ایک قسم کا جوہری تسلسل ہی سہی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ منظر نامہ ایسا ہی ہے۔ اپنے کلاسیکی دور یعنی تقریباً ۱۸۹۰ سے ۱۹۳۰ کے درمیان علمِ سماجیات نے زمانے کے “عظیم سوالوں” سے تعلق رکھا، لیکن آج یہ زیادہ تر ان سوالوں سے کتراتا نظر آتا ہے اور جب نہیں کتراتا تو انہیں بہت مجرد انداز میں موضوع بناتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کلاسیکی ماہرینِ سماجیات اپنی خواہشات و تعصبات سے اوپر اٹھ کر سماجی منظرنامے پر ایک معروضی نظر ڈالنے میں بہت محتاط تھے(جس کی تعریف میکس ویبر نے اپنے بدنامِ زمانہ تصور “آزاد قدری” سے کی)، جب کہ آج ماہرینِ سماجیات کی ایک بڑی تعداد بہت فخر سے اپنی غیر معروضیت یعنی حزبی فرقہ واریت کا اعلان کرتی ہے۔ ایک زمانے میں امریکہ میں علمِ سماجیات ٹھوس تجربیت پسندی کی فضا پیدا کرنے پر مائل تھا جسے لوئس ورتھ نے “تحقیق سے اپنے ہاتھ میلے کرنے” سے تشبیہ دی اور جسے ایک سماجیاتی قوتِ شامہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ آج زیادہ تر ماہرین سماجیات اپنی تحقیق کی مجرد عفونت ربا خاصیت پر فخر کرتے ہیں جو نظری معاشیات کے ماڈل وضع کرنے جیسی ہے۔ تعجب ہوتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے کبھی کسی جیتے جاگتے انسان کا انٹرویو لیا یا کسی سماجی تقریب میں ذوق و شوق سے شرکت بھی کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کہاں کیا غلط ہوا؟ اور کیا اب بھی یہ صورتِ حال سدھارنے کے لئے کچھ کیا جا سکتا ہے؟ میں اعتماد سے کوئی مستند تشخیص یا علاج پیش کرنے سے قاصر ہوں۔ نہ ہی یہ دعوی کر سکتا ہوں کہ اس تمام عرصے میں علمِ سماجیات کو لاحق عارضوں سے خود بھی محفوظ رہ سکاہوں۔ لیکن کامل تشخیص نہ سہی میں ایک امید افزا علاج کی اپنی سی کوشش ضرور کروں گا تاکہ کم از کم بیماری کی علامتوں کا کچھ بیان ممکن ہو سکے۔ اور میں یہ کام چار ایسی اہم واقعاتی تبدیلیوں کے تناظر میں کروں گا جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد رونما ہوئیں۔ ان میں سے ہر ایک تبدیلی نے اگر تمام نہیں تو زیادہ تر ماہرینِ سماجیات کو حیران کر کے رکھ دیا۔ یہی نہیں بلکہ ان تبدیلیاں کے واضح طور پر منصۂ شہود پرآنے کے بعد ماہرینِ سماجیات کسی سماجیاتی تناظر میں ان کے فہم او ربیان سے قاصر رہے۔ ان تبدیلیوں کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سماجیاتی تھیوری کی ان کے ادراک یا پیشین گوئی میں ناکامی اسی بات کی علامت ہے کہ کوئی نہ کوئی اہم بگاڑ ضرور واقع ہوا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>پہلی مثال</strong>: 1960 کے اواخر اور 70 کے اوائل میں اہم مغربی صنعتی معاشروں میں ایک ثقافتی اور سیاسی زلزلہ برپا ہوا۔ سب کچھ بہت اچانک تھا۔ رسمی سماجیات کی عینک سے دیکھا جائے تو یہاں ایک عاجز کر دینے والا سوال سامنے آیا: کیسے ممکن ہے کہ روئے زمین پر بلکہ پوری تاریخ میں سب سے زیادہ خوش حال افراد اسی سماج کے خلاف تشدد پر آمادہ ہوں جس نے انہیں خوش حال کیا؟ اگر ہم امریکی سماجیات کی جانب دیکھیں تو اس وقت بھی آج کل کی طرح کئی کالجوں کے نصاب میں یہی قضیہ پڑھایا جاتا تھا کہ لوگ خوش حالی کے ساتھ زیادہ قدامت پسند ہو جاتے ہیں۔ یہ قضیہ شاید مذکورہ بالا واقعے تک بہت مستند ہو۔ لیکن اُس سیاسی و ثقافتی زلزلے کے بعد یقیناً درست نہیں رہا اور آج بھی نہیں ہے۔ اس کے برعکس سیاست و ثقافت دونوں میں “ترقی پسند” تحریکیں سماجی طور پر خوش حال بالا مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں یعنی نیا بائیاں بازو، سیاستِ نو کے دھارے، جنگ مخالف، حقوقِ نسواں، ماحولیات اور سبز نظریات کی تحریکیں وغیرہ۔ دوسری طرف، چاہے ان کے روحِ رواں رانلڈ ریگن، مارگریٹ تھیچر یا ہیلمٹ کوہل ہوں، نئی قدامت پسند تحریکوں نے خود کو زیریں مڈل کلاس اور محنت کش طبقات کے ایسے دھارے سے منسلک کیا جو ساتھ ہی ساتھ ایک چارو ناچار پرانی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ کو بھی گھسیٹ رہا تھا۔ امریکہ میں (اسی قسم کے ردعمل برطانیہ اور اس وقت کے مغربی جرمنی میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں) پرانی طرز کے مضافاتی کلب ریپبلکنز نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے غیر ترقی یافتہ علاقوں کے اناجیلی مبلغین، ثقافتی غضب سے بھرے ہوئے مقامی لوگوں، اسقاطِ حمل کے مخالفین اور کئی دوسرے نام نہاد سماجی طبقات سے مصافحہ کیا۔ دوسری طرف مڈل کلاس کے انتہا پسند مفکرین نےاگر ثقافتی نہیں تو سیاسی طور پر خود کو اپنی نظریاتی وابستگی سے منسلک “محنت کش عوام” کے ساتھ نہیں بلکہ نچلے ترین طبقات کے نام نہاد نمائندوں اور دوسرے حاشیائی طبقات کے ساتھ کھڑا پایا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے آج بھی بروکلن کے مضافات کا ایک منظر بخوبی یاد ہے جہاں ہم ساٹھ کی دہائی کے وسط سے ستر کے اواخر تک رہے۔ یہ علاقہ تیزی سے اشرافیہ میں تبدیل ہو رہا تھا (ہم اس تبدیلی کا حصہ تھے) یعنی ایک مقامی محنت کش طبقہ ایک پیشہ ور بالا مڈل کلاس میں ڈھل رہا تھا۔ گلی میں تقریباً ہر گھر میں اس زمانے کی سیاسی سنجیدہ روی کے مطابق امن کے اشتہار چسپاں تھے جیسے “امریکہ، ویت نام سے باہر”، “جنگ نہیں محبت”، “وہیل مچھلیوں کو بچاؤ” وغیرہ وغیرہ۔ صرف ایک استثناء تھا: ایک گھر نے اس قسم کے پیغام لگا رکھے تھے کہ “ ویت نام میں فوجیوں کی ہمت بندھاؤ”، “اپنی مقامی پولیس کا ساتھ دو” اور “بندوقوں کا نہیں کمیونسٹوں کا اندراج کرو”۔ اس گھر میں ایک عمر رسیدہ معذور اور رنڈوا پرانا فوجی رہتا تھا۔ ایک دن اس آدمی کو بے دخل کر دیا گیا۔ سپاہی آئے اور ا س کا سامان گلی میں رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد اسے بھی اپنی وہیل چئیر پر بٹھا کر ایک امریکی فوجی ٹوپی پہنے گلی میں چھوڑ دیا گیا۔ اس کے کچھ دوست اسے ساتھ لے گئے اور پھر اس کا سامان بھی کسی گاڑی میں کہیں چلا گیا۔ اگلے ہی ہفتے اس گھر میں کچھ نئے لوگ آ گئے۔ فوراً کھڑکیوں میں امن کے پیغامات لگا دئیے گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">نئی قدامت پسند تحریکوں نے خود کو زیریں مڈل کلاس اور محنت کش طبقات کے ایسے دھارے سے منسلک کیا جو ساتھ ہی ساتھ ایک چارو ناچار پرانی قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ کو بھی گھسیٹ رہا تھا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">آج کا رائج نظریہ یہ ہے کہ”ساٹھ کی دہائی کا آخر” تاریخِ رفتہ ہے جو بس یادِ ایام کی بازگشت کے طور پر واپس لوٹ آیا ہے۔ یہ صریحاً ایک غلط تعبیر ہے: ساٹھ کی دہائی کا آخر محو نہیں ہوا بلکہ سیاسی اور ثقافتی دونوں طریقوں سے ایک اداراتی صورت میں ڈھل گیا ہے۔ اس تبدیلی کی کسی حد تک ایک نیم مؤثر سماجیاتی وضاحت وہ نام نہاد “نئی طبقاتی تھیوری “ تھی جو ستر کی دہائی میں ایک مختصر سے عرصے کے لئے منظرِ عام پر آئی اور اس کے بعد سے تقریباً فراموش کر دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ وضاحت بائیں اور دائیں بازو کی دونوں تعبیرات رکھتی ہے جو بالترتیب ایلون گولڈنر اور ارونگ کرسٹول نے پیش کیں۔ دونوں تعبیرات ہی کلی طور پر حقائق سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ترقی یافتہ صنعتی معاشروں کے لئے طبقاتی سماجیاتی تھیوری کی تشکیلِ نو ایک کٹھن چیلنج ہے۔ لیکن یہاں میرے پیشِ نظر یہ مسئلہ نہیں۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ ماہرینِ سماجیات کس طرح اتنے عظیم مظہر کےادراک سے بے خبر رہے؟ شاید کسی حد تک یہ جانے مانے روایتی سماجیاتی مناہج کو تبدیل کرنے کی جھجک ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بائیں بازو کے سماجیاتی مفکرین نے خاطر خواہ ناکامی سے کوشش کی کہ اس سماجی مظہر کو”مڈل کلاس کی پرولتاریت” جیسے مارکسی مقولات میں سکیڑ دیا جائے۔ ہمارے کچھ “بورژوا” ہم عصروں نے “منصبی سیاست” کے بارے میں کچھ بڑبڑانے کی کوشش کی۔ لیکن شاید سب سے بہتر تعبیر یہی ہے کہ زیادہ تر سماجی مفکرین خود بھی اسی مظہر کا ایک حصہ تھے۔ اس زمانے میں اس پیشے کو اپنانے والی نسل جو آج تدریسی وابستگی کی ایک عمر گزار چکی ہے، سینوں پر امن کے چمکتے تمغے چپکائے پھر رہی تھی۔ ان کے لئے یہ حق و باطل کی جنگ تھی اور آج بھی ہے گو اب سیاسی سنجیدہ روی کی علامات کسی حد تک جگہ بدل چکی ہیں۔ چاہے و ہ پیشہ ور ماہرینِ سماجیات ہی کیوں نہ ہوں، لوگ اپنی وابستگیوں کی سماجیاتی وضاحتیں قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ باالفاظِ دیگر،اس تبدیلی کے ادراک کی حد تک علمِ سماجیات کی ناکامی کی وجہ نظریاتی اندھیارے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>دوسری مثال</strong>: آج کی دنیا میں ایک بنیادی پیش رفت جاپان اورمشرقی ایشیا کے دوسرے ممالک کی تیز رفتار معاشی سبقت ہے۔ یہ محض نہایت تیزرفتاری سے برپا ہونے والا ایک عظیم معاشی معجزہ نہیں بلکہ غیر مغربی سماجی سیاق و سباق میں کامیاب جدیدیت کا وہ پہلا واقعہ ہے جو ماہرینِ سماجیات کے لئے خصوصی دلچپسی کا باعث ہونا چاہئے۔ میں کچھ عرصے سے یہی استدلال پیش کر رہا ہوں کہ یہ سرمایہ دارانہ جدیدیت کا دوسرا واقعہ ہے جو یقیناً فی نفسہٖ اپنے اندر بہت سے دلچسپی کے سامان تو رکھتا ہی ہے لیکن جدید سماج کے نظری تناظر میں مزید اہمیت رکھتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ جاپان خود اپنی خاطر نہیں بلکہ ہماری خاطر ہی فہم کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ بھی بالکل غیر متوقع واقعہ تھا۔ پچاس کی دہائی میں جب جدیدیت کی تھیوری تشکیل پا رہی تھی، اگر اس کے وکلاء سے یہ سوال کیا جاتا کہ معاشی ترقی کے اعتبار سے کون سا ایشیائی ملک سب سے زیادہ کامیابی کا احتمال رکھتا ہے تو گمان یہی ہے کہ جواب فلپائن ہوتا جو کہ اب اس خطے کے سرمایہ دارانہ حصے میں واحد معاشی حادثہ ہے۔ اس زمانے میں ہونے والی ایک کانفرنس میں، جسے آج کچھ مندوبین ذرا اضطراب سے یاد کرتے ہیں، ایک وسیع اتفاق ظاہر کیا گیا کہ کنفیوشی مذہب کوریائی اور چینی سماج کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آج اس ثقافتی ورثے کو مشرقی ایشیائی معاشی کامیابی کی ایک علت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جدیدیت کی تھیوری ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں متزلزل ہو گئی تھی جب اسے عمومی طورتحقیر کی نیت سے مغربی سامراج کا نظریہ کہا جاتا تھا۔ اس عرصے میں بائیں بازو کے ماہرینِ سماجیات نام نہاد نظریۂ انحصاریت کو وضع کرنے میں مصروف تھے جس کی رو سے سرمایہ داریت ناگزیر طور پر پسماندگی کے تسلسل کو بڑھاوا دیتی ہے، ظاہر ہے کہ جس کا حل اشتراکیت ہے۔ یہاں تجربے اورنظریے میں ایک اوٹ پٹانگ سی ہم عصری پائی جاتی ہے۔ عین اس وقت جب سرمایہ دارانہ مشرقی ایشیا ایک عظیم معاشی ترقی اور خوشحالی کے دور سے گزر رہا تھا اور ہندچین تا جزائرِ غرب الہندتمام اشتراکی معاشرے ایک مایوس کن ٹھہراؤ میں دھنس رہے تھے، زیادہ سے زیادہ ماہرینِ سماجیات ایک ایسے نظرئیے کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے جس کے مطابق حالات الٹ ہونے چاہئے تھے۔ مزاحیہ ترین تقریب جس میں کچھ سال قبل شریک ہونے کا اتفاق ہوا زمانۂ جدید کے ایک عظیم معاشی معجزے تائیوان میں ہونے والی ایک کانفرنس تھی۔ کانفرنس تائیوان کے بارے میں تھی یعنی اسے کیسے سمجھا جائے۔ نامعلوم وجوہات کی بناء پر مدعو کئے جانے والے زیادہ تر امریکی اہلِ علم ایسے انحصاریت پسند مفکرین تھے جو اس سے قبل لاطینی امریکہ میں سرگرمِ عمل رہ چکے تھے۔ وہ پوری دلیری سے تائیوان کے واقعات کو اپنے نظرئیے میں گھسیڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کانفرنس کی سب سے بڑی نظری کامیابی “منحصر ترقی” کا ایک تصور تھا جو قیاساً تائیوان کی صورت حال کی وضاحت کر تاتھا۔ یہ بات تو خیر قابلِ فہم ہے کہ اس سے قبل لاطینی امریکہ سے باہر کی دنیا کے بارے میں نا تجربہ کارنومارکسیوں نے شاید اسے معقول مان لیا ہو، لیکن ان سر ہلاتے تائیوانی سماجی سائنسدانوں کو کیا کہا جائے جن کے سامنے dependencia کا مستشرقی ترجمہ پیش کیا جا رہا تھا۔ ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے: جہاں انحصاریت پسندی کا نظریہ عالمی معاشیات کے تناظر میں بری طرح رد کیا جا چکا ہے، وہاں شاید عالمی ثقافت کے تناظر میں اس کی کوئی پیش گویانہ قدر و قیمت باقی ہو، آخر “دنیائے اولیٰ “ کے مفکرین کے پاس اعلی و ارفع وسائل اور سرپرستیاں ہوتے ہوئے کم ترقی یافتہ ملکوں میں ان کا ایک “نمائندہ طبقہ” وجود میں آ ہی جاتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">جدیدیت کی تھیوری ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں متزلزل ہو گئی تھی جب اسے عمومی طورتحقیر کی نیت سے مغربی سامراج کا نظریہ کہا جاتا تھا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">سچ پوچھیئے تو میرا دوسرا دعوی ہر گز دعویٔ اول جیسا نہیں کیوں یہاں ماہرین ِ سماجیات کی جانب سے مسئلے کو سمجھنے کی قرار واقعی کوشش کی گئی ہے گو وہ اس کی پیشین گوئی میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ مذکورہ بالا مابعد کنفیوشیائی مفروضہ پہلے پہل ماہرینِ سماجیات کی جانب سے ہی وضع کئے جانے کے بعد خطے اور خطے سے باہر کے ماہرینِ سماجیات کے درمیان خاطر خواہ علمی مباحث کا موضوع رہا ہے۔ بایاں بازو تو ظاہر ہے اپنی نظریاتی وجوہات کے باعث اس بحث میں شریک نہیں ہوا، لیکن بائیں بازو سے تعلق نہ رکھنے والے ماہرینِ سماجیات بھی اس میں کچھ خاص حصہ لیتے نظر نہیں آئے سوائے ان کے جو خطے کے معاملات پر تخصیص رکھتے ہیں۔ ایک اور اہم کام نئی غیر مغربی جدیدیت سے حاصل شدہ بصیرت کی بنیاد پر میکس ویبر سے ٹیلکوٹ پارسنز تک پہنچتے جدید سماج کے تصور میں تبدیلی ہے۔<br>
یہ یقیناً ایک بہت “عظیم سوال” ہے۔ لیکن یہ ان لوگوں کے مزاج کے موافق نہیں جن کا تناظر شدید قوم یا نسل پرستانہ ہو اور وہ ایسے ضوابط سے منسلک ہوں جو “عظیم سوالات” سے سروکار نہیں رکھتے۔ آج کلاسیکی قسم کے علمِ سماجیات کی ضرورت ہے جس کی بنیادیں تاریخ کےعلم میں ہوں، جو اپنے ضابطوں میں لچک رکھتا ہو اور ایک ایسی وسیع المشرب روح رکھتا ہو جو ہمہ وقت انسانی زندگی کے مظاہر کے بارے میں متجسس رہے۔ ظاہر ہے اس قسم کے ماہرینِ سماجیات تو ذرا مشکل ہی سے ملتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ پیشہ ورانہ تربیت اور صلے کا نظام چالاکی سے (چاہے غیر ارادی ہی سہی) اس طرح وضع کیا گیا ہے اس قسم کے ماہرین نہ ابھر سکیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>تیسری مثال</strong>: ایک اور تھیوری جو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں پختہ معلوم ہوتی تھی سیکولرائزیشن کی تھیوری تھی۔ مختصراً دیکھا جائے اس کے مطابق جدیدیت اپنے ساتھ انسانی زندگی میں سماجی اداروں اور انفرادی شعور کی دونوں تہوں پر مذہب کا تنزل لاتی ہے۔ مغربی فکر میں اس تصور کی تاریخ طویل ہے جو کم از کم زیادہ دور نہیں تو اٹھارہویں صدی کی تنویری(یا روشن خیالی ) تحریک تک ضرور جاتی ہے۔ لیکن اگر مکمل غیرجانبدار ہو کر دیکھا جائے تو اسے مذہبی سماجیات بالخصوص یورپ کے ماہرین کی تحقیقی کاوشوں سے ہی قوت ملی۔ خام قومی پیداوار میں بڑھوتری اور خداؤں کے تنزل کے درمیان متوقع مطابقتوں کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر تعمیر کی گئی جدیدیت اپنے ساتھ ایک ایسی حددرجے معقولی سوچ لائی جس کے نزدیک دنیا کی غیرمعقولی مذہبی تعبیرات فی زمانہ نامعتبر ٹھہری تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مذہب کی غیرمعقولیت کےاس قابلِ اعتراض مفروضے سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ذرا آگے بڑھئے جو یقیناً تنویری فلسفے پر قائم ہے۔ گمان غالب ہے کہ یہ تھیوری تجرباتی شواہد پر قائم کی گئی تھی لہٰذا اس کی تردید بھی تجرباتی بنیادوں پر ممکن تھی۔ سن ستر کے اواخر تک بہت شدت سے اس کی تردید کی جا چکی تھی۔ لیکن پھر یہ معلوم ہوا کہ اس تھیوری میں شروع دن سے ہی کچھ خاص تجرباتی مواد نہیں تھا۔ یہ درست تھی اور آج بھی درست ہے، لیکن دنیا کے صرف ایک خطے یعنی یورپ کے لئے، اس کے علاوہ کچھ بکھرے ہوئے خطے جیسے کیوبک جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سیکولرائزیشن کے ایک حیران کن دور سے گزرا، اور اس کے علاوہ ہر جگہ پھیلا ہوا مغربی تعلیم یافتہ مفکرین کا ایک چھوٹا سا طبقہ۔ باقی تمام دنیا اسی جوش و جذبے کے ساتھ مذہبی ہے جیسے کبھی بھی تھی اور غالباً بیسویں صدی کے اوائل سے تو زیادہ ہی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ستر کی دہائی کے اواخر میں پیش آنے والے دو واقعات اس حقیقت کو عوام کے سامنے لائے۔ امریکہ میں تو پچاس کی دہائی کے الموسوم مذہبی احیاء اور ساٹھ کی دہائی کی برعکس ثقافت (counterculture) نے اس تھیوری پر اعتراضات کھڑے کر دئیے،گو مذہبی سماجیات کے ماہرین اول الذکر کو مبہم طور پر مذہبی اور آخر الذکر کو ضمنی طور پر مذہبی گردانتے رہے۔ جس واقعے نے اس تھیوری کو بالکل ناقابلِ دفاع کر دیا وہ ا ناجیلی جوش و جذبے کا احیاء تھا جو پہلے پہل جمی کارٹر کی امیدواری اور کچھ عرصہ بعد”اخلاقی برتری “ کے غوغے اوراسی قسم کے دوسرے طبقات کے ظہور سے سامنے آیا۔ اچانک یہ ظاہر ہوا کہ فکری ماحول میں نمایاں نہ ہونے کے باوجود امریکی سماج میں لاکھوں حیاتِ نو یافتہ عیسائی ہیں جو خطر انگیز طور پر بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں جب کہ کلیسا کے مرکزی دھارے ایک گہرے آبادیاتی تنزل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ مذہبی جوش و جذبے کے اس مظہر نے ایک مزید بنیادی حقیقت پر روشنی ڈالی: امریکہ اور یورپ مذہبی خدوخال میں ہی تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">امریکہ سے باہر جسے واقعے نے جدیدیت کو سیکولرائزیشن سے جوڑنے والی تھیوری کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا، وہ ایرانی انقلاب تھا۔ ایک بار پھر ایک ایسا عظیم واقعہ رونما ہوا جو نظری طور پر خارج از امکان تھا۔ اس وقت سے دنیا میں قسم قسم کے مذہبی احیاء رونما ہو رہے ہیں۔ نوروایتی یا بنیاد پرست اور پروٹسٹنٹ مذہبیت اور اسلام عالمی منظر نامے پر منعقد ہونے والے دو بڑے کھیل ہیں لیکن دنیا میں تقریباً ہر مذہبی روایت نے کم و بیش اسی قسم کی حیاتِ نو کی تحریکیں برپا کی ہیں۔ اور رنگا رنگ سماجیاتی مفکرین مسلسل ورطۂ حیرت میں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ماہرینِ سماجیات کو عصرِ حاضر کی دنیا کے شدید مذہبی رجحان سے مطابقت پیدا کرنے میں کافی مشکل پیش آئی ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">میرا ایران کا واحد دورہ اس واقعے اسے دو سال قبل تھا۔ ظاہر ہے کہ بنیادی طور پر دانشوروں سے ہی ملاقاتیں رہیں جن میں سے زیادہ تر شاہ کی حکومت سے دل سے نالاں تھے اور اس کے جانے کے منتظر تھے۔ کسی کو توقع نہیں تھی کہ یہ سب کچھ اسلامی سرپرستی میں ہو گا۔ نہ ہی کہیں خمینی کا نام تک سنائی دیا۔ تقریباً اسی وقت جب میں ایران کے دورے پر تھا، بریجٹ برجر دروس کے سلسلے میں ترکی میں تھیں، ایک ایسی جگہ جہاں وہ پہلے کبھی نہیں گئی تھیں اور نہ ہی وہاں کی زبان سے واقف تھیں۔ استنبول میں انہیں کئی گاڑیوں اور گلی کی مساجد کی دیواروں پر سبز جھنڈے لگے نظر آئے جو ان کے خیال میں کسی اسلامی تہوار کی مذہبی علامتیں تھی۔ جب انہوں نےاس مشاہدے میں اپنے ترک میزبانوں کو شریک کیا تو وہ بہت حیران ہوئے۔ یا تو انہوں نے یہی اصرار کیا کہ وہ انہیں کوئی غلطی لگی ہے کہ آج کل کوئی مذہبی تہوار وغیرہ منعقد ہو رہا ہے یا پھر یہ کوئی غیر اہم سا چھوٹا موٹا مظاہرہ ہو گا۔ یہ تمام سماجیاتی سائنسدان جو زیادہ تر سیکولر دانشور تھے ایک بار پھر اپنی آنکھوں کے سامنے موجود حقیقت کو دیکھنے میں ناکام رہے کیوں کہ اس کے ظہور کی کوئی توقع نہیں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ماہرینِ سماجیات کو عصرِ حاضر کی دنیا کے شدید مذہبی رجحان سے مطابقت پیدا کرنے میں کافی مشکل پیش آئی ہے۔ چاہے سیاسی تناظر میں بایاں بازو ہو یا نہیں، مذہب کی مد میں یہ نظریاتی مغالطوں گرفتار رہتے ہیں اور پھر یہی رجحان ہوتا ہے کہ ایک ایسے سماجی مظہر کی فوراً کوئی وضاحت پیش کر دی جائے جس کی وضاحت ممکن ہی نہیں۔ لیکن نظریاتی وابستگی کے علاوہ تنگ نظری بھی اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ ماہرینِ سماجیات حقیقی سیکولر ماحول یعنی علمی درسگاہوں اور پیشہ ورانہ علمی صنعت سے متعلقہ دوسرے اداروں کے باسی ہوتے ہیں، لہٰذا یوں لگتا ہے وہ سماجی علوم میں غیر تربیت یافتہ لوگوں کی طرح ہی اس عمومی غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ دنیا پر اپنی ننھی سی نکڑ سے نظر ڈال کر ایک عمومی سماجی منظرنامہ تشکیل دیا جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آخر میں چوتھی مثال،: یہ سوویت سلطنت کے ڈھیر ہو جانے کا عظیم واقعہ تھا اور کم از کم فی الحال یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ عالمی منظرنامے پر بطور ایک حقیقت اور بطور ایک تصوری بھی اشتراکیت کا ڈھیر ہو جانا ہے۔ اس عظیم تاریخی واقعے کی شروعات تک ابھی ماضی قریب ہی کی بات ہیں اور نتائج اب تک نہایت سرعت کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ لہٰذا کسی کو بھی اس کی وضاحت کے لئے کوئی معقول تھیوری پیش نہ کرنے کا دوش دینا ناانصافی ہو گی۔ ماہرینِ سماجیات کو علیحدہ کر کے موردِ الزام ٹھہرانا بھی اتنی ہی بڑی ناانصافی ہو گی کیوں کہ تقریباً کسی نے بھی اس کی توقع نہیں کی تھی (بشمول سند یافتہ ماہرینِ سماجیات کے جتھوں کے) اور ہر کوئی کسی بھی معقول نظری ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے اس کے فہم کی مشکل سے نبرد آزما ہو رہا ہے۔ پھر بھی یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ماہرین ِ سماجیات،یہاں تک کہ و ہ بھی جو اُس خطے کے معاملات پر متعلقہ مہارت رکھتے ہیں، اس واقعے کی پیشین گوئی میں کسی سے بھی بہتر نہیں تھے اور نہ ہی اب اس کے فہم میں کسی سے افضل ہیں۔ تعجب ہے کہ آنےوالے سالوں میں وہ کیا کریں گے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">بائیں بازو والے بھی اس نظریاتی طبقے میں موجود دوسروں کے ساتھ یقیناً اس عمومی ابہام (اسے ایک “گیانی عدم رسمیت “ کیوں نہ کہہ لیں ؟)میں شریک ہیں۔ بائیں بازو سے متعلق ان دانشوروں کو چھوڑ دیجئے جن کے خیال میں سویت یونین اور اس کے نقال کسی اخلاقی فضیلت کے حامل تجربے میں مشغول تھے۔ غلطیاں وغیرہ تو ہوئیں لیکن یہ مفروضہ تو قائم تھا کہ ایک ناقص اشتراکیت بھی کم از کم سرمایہ دارانہ نظام سے زیادہ امید رکھتی ہے جو ان کے دعوے کے مطابق لاعلاج طور پر گلا سڑا ہواہے۔ لیکن بائیں بازو کے وہ لوگ بھی جو بہت عرصہ قبل سوویت تجربے سےوابستہ تمام امیدیں ترک کر بیٹھے تھے، مسلسل افق پر اس ’حقیقی اشتراکیت” کی تلاش کر رہے تھے جو کسی نہ کسی وقت نمودار ہونی ہی تھی کیوں کہ یہ منطقِ تاریخ کی مشیت ہے۔ یہ صرف قلبی جھکاؤ کی بات نہیں تھی بلکہ یہ ذہن تھا جو اپنے بنیادی ادراکی مفروضوں میں بائیں جانب تھا۔ اور سب سے بنیادی تو یہی مفروضہ تھا کہ تاریخ کا سفر سرمایہ دارانہ نظام سے اشتراکیت کی جانب ہوا ہے۔ اب اشتراکیت سے سرمایہ دارانہ نظام کی جانب تبدیلی سے کیسے نمٹا جائے؟آج کل بائیں بازو کے مجلے یورپ اور دوسرے علاقوں میں پچھلے چند سال میں ہونے والی پیش رفت کی درد انگیز تعبیرات سے بھرے پڑے ہیں جن کی کثیر تعداد سامنے موجود منظرنامے کی تردید کی کوششوں سے عبارت ہے۔ مجھے بھرپور توقع ہے کہ ماہرین سماجیات نظریہ انحصاریت کے کہنہ مشق دستوں کی دلیر کمان میں اس سرگرمی میں پورے ذوق و شوق سے شریک ہوں گے۔ کیوں نہ ہم ایسے کسی اور زبردست تصور مثلاً “خود مختار پسماندگی “ کی جانب پیش قدمی کریں جو کسی نہ کسی طرح تھیوری کو مشکل سے نکال لے؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">سوویت یونین کا بکھراؤ اور اشتراکیت کا عالمی بحران جدیدیت کے سماجیاتی فہم کے لئے ایک عظیم چیلنج ہے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">سوویت یونین کا بکھراؤ اور اشتراکیت کا عالمی بحران جدیدیت کے سماجیاتی فہم کے لئے ایک عظیم چیلنج ہے۔ پھر یہ صرف بائیں بازو کے ماہرین ِ سماجیات نہیں جو اس چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں، یعنی وہ جو ان واقعات کی اپنے بائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے رفقاء کی بہ نسبت کچھ زیادہ پیشین گوئی نہ کر سکے۔ جس چیز کی ضرور ت ہے وہ ایک ایسی فکرِ نو ہے جو جدید سماج میں معاشی، سیاسی اور سماجی اداروں کے بیچ تعلقات کو ازسرِ نو دریافت کرے۔ مجھے ایک پرانی کہاوت یاد آتی ہے جو آس پاس کی خوش مزاج دکانوں پر آج بھی لکھی نظر آ جاتی ہے، “اگر آپ کسی اور چیز کے قابل نہیں تو کم از کم ایک بُری مثال کے طور پر تو پھر بھی کارآمد ہیں۔ ”سماجیاتی نظریہ بندی کے لئے “بُری” مثالیں اتنی ہی مفید ہیں جتنی “اچھی”۔ زیادہ دلچسپ سوال یہ نہیں کہ “وہ “ کیوں بکھر گئے بلکہ یہ ہے کہ “ہم” کیوں نہیں بکھرے۔ یہ ایک بنیادی نظری نکتہ ہے جس سے زیادہ تر سماجیاتی نظریہ بندی نے مسلسل صرفِ نظر کیا ہے۔ “مسئلہ” سماجی بدنظمی نہیں بلکہ سماجی نظم ہے، یعنی شادی نہ کہ طلاق، قانون کی پاسداری نہ کہ جُرم، نسلی ہم آہنگی نہ کہ نسلی فساد وغیرہ۔ ہم کسی شک و شبہ کے بغیر یہ فرض کر سکتے ہیں جان رومین کی کارآمد عبارت “مشترکہ انسانی نمونہ” بے ایمانی، تشدد اور نفرت ہے۔ انسانی فطرت کے ان مظاہر کو وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں سوائے شاید ماہرینِ حیوانیات کے۔ وضاحت کی ضرورت ان صورتوں میں ہے جن میں معاشرے حیرت انگیز طور پر ان فطری میلانات پر قابو پاتے ہیں اور انہیں مہذب کرتے ہیں۔<br>
یہ مثالیں علمِ سماجیات کی کن بیماریوں کو ظاہر کرتی ہیں؟ چار علامات کی جانب اشار ہ ممکن ہے: تنگ نظری، فکری ناتوانی، عقلیت پسندی اور نظریاتی وابستگی۔ ان میں سے ہر ایک معذور کر دینے والی ہے۔ ان کا مجموعہ ہلاکت خیز ہے۔ اگر عظیم کلاسیکی ماہرینِ سماجیات کے کام پر نظر ڈالی جائی جن میں میکس ویبر اور ایملی ڈرک ہائیم سرِ فہرست ہیں تو ویزلے کا مقولہ ذہن میں آ جاتا ہے کہ “دنیا میر اکلیسائی حلقہ ہے۔ ” کم ہی ماہرین ِ سماجیات آ ج یہ دعوی کر سکتے ہیں اور جو کرتے بھی ہیں و ہ شرمناک طور پر تاریخی سطحیت سے دوچار نظر آتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زیرِ نظر معاملہ نفیس قسم کی کسی مخصوص وسیع المشربیت کی حمایت میں جانبداری سے کہیں بڑا ہے۔ اپنے سماج سے باہر ایک قدم نکالے بغیر ایک اعلی ماہرِ طبیعات بننا ممکن ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ ماہرِ سماجیات کے لئے ایسا ممکن نہیں۔ اور اس کی وجہ بہت ساد ہ ہے۔ جدیدیت آج دنیا میں ایک عظیم تبدیلی لانے والی قوت ہے لیکن یہ ہر جگہ جاری و ساری کوئی ایک سا میکانی ضابطہ نہیں۔ یہ مختلف شکلیں بدلتا ہے اور مختلف ردعمل پر اکساتا ہے۔ اسی لئے علمِ سماجیات یعنی ایک ایسی نوعِ علم جو جدیدیت کے فہم کے لئے بہترین ہے بہرصورت تقابلی ہونی چاہیئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ یقیناً ویبر کی بنیادی بصیرتوں میں سے ایک ہے اور آج بھی ہمیشہ کی طرح اتنی ہی معنی خیز۔ لہٰذا ماہرینِ سماجیات کو مغرب کو سمجھنے کے لئے جاپان پر نظر ڈالنی چاہئے، سرمایہ داریت کے فہم کے لئے اشتراکیت پر غور کرنا چاہئے، بھارت کو دیکھنا چاہئے اگر برازیل کو سمجھنا ہو، وغیرہ وغیرہ۔ سماجیات میں تنگ نظری کسی ثقافتی کمزوری سے کہیں زیادہ ہے، یہ تو ادراک کی معذوریوں کا باعث ہے۔ یہ کسی بھی ماہرِ سماجیات کی تربیت کا لازمی حصہ ہونا چاہئے کہ وہ ایک ایسے سماج کے بارے میں تفصیلی علم حاصل کرے جو اس سے حد درجہ مختلف ہو، ایک ایسی مہم جوئی جو یقیناً کئی طالبعلموں کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیتی ہے: یعنی بدیسی زبانوں کا سیکھنا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">طبعی علوم کی نقالی کرنے کی ایک بے کار اور نظری طور پر بے سمت کوشش میں ماہرینِ سماجیات نے تحقیق کے نت نئے اور پہلے سے زیادہ نفیس مقداری طریقے وضع کئے۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">فکری ناتوانی بھی تنگ نظر ی ہی کا ایک پھل ہے لیکن سماجیات کی حد تک زیادہ اہم جڑ علمی ضوابط سے تعلق رکھتی ہے۔ اس علمی میدان میں اس عارضے کی جڑیں کم از کم پچاس کی دہائی تک جاتی ہیں۔ طبعی علوم کی نقالی کرنے کی ایک بے کار اور نظری طور پر بے سمت کوشش میں ماہرینِ سماجیات نے تحقیق کے نت نئے اور پہلے سے زیادہ نفیس مقداری طریقے وضع کئے۔ اس میں فی نفسہٖ تو کچھ غلط نہیں کیوں کہ آخر علمِ سماجیات کئی ایسے سوالوں سے متعلق ہے جن کے لئے سروے قسم کی تحقیق ناگزیر ہے اور مقداری طریقے جتنے بہتر ہوں گے دریافت شدہ نتائج اتنے ہی معتبر ہوں گے۔ لیکن تمام سماجیاتی سوالات کے لئے یہ طریقہ موزوں نہیں اور کئی مسائل اس سے بہت مختلف تحلیلی تجزئیے مانگتے ہیں۔ سائنسی بااصولیت کو مقداریت تک محدود کر کے سماجیات کا دائرہ اکثر بس ان سکڑے ہوئے موضوعات تک محدود کر دیا گیا جو مقداری طریقوں کے لئے موزوں ہیں۔ نتیجے میں پیدا ہونے والی فکری ناتوانی پر کسی کو حیران نہیں ہونا چاہیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ایک سائنس کے طور پر علمِ سماجیات عقلی استدلال ہی کہ ایک کوشش ہے۔ لیکن یہ اس مفروضے سے بہت مختلف ہے کہ سماجی فعالیت عقلی استدلال کی راہنمائی میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ کلاسیکی سماجیات میں یہ بات اچھی طرح سمجھی جا چکی تھی، شاید سب سے زیادہ ڈرامائی انداز سے ول فریڈو پریٹو کے ہاں جو ریاضیاتی رجحان رکھنے والا ایک ایسا ماہرِ معاشیات تھا جو سماجیات کی جانب اپنی اسی دریافت کے باعث آیا کہ زیادہ تر انسانی افعال اس کے مطابق غیرمنطقی تھے۔ افسوس ہے کہ علمِ معاشیات نے تو اس بصیرت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور homo oeconomicus کے ایک شدید عقلی ماڈل کے تحت کام کرنے کو ترجیح دی۔ نتیجتاً حرکی پیشین گوئیوں کا تو ذکر ہی کیا، و تو بار بار معاشی منڈی کے فہم میں بھی ناکام ہوتی رہی۔<br>
ماہرینِ سماجیات کی ایک بڑی تعداد معاشیات کی نقالی کرتے ہوئے “مبنی بر عقل فعالیت کے منہج” پر مبنی نظری نمونوں کو اپنی علمیات سے مطابقت دینے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ ہم اعتماد سے پیشین گوئی کر سکتے ہیں اس رجحان کے فکری نتائج کافی حد تک معاشیات ہی سے ملتے جلتے ہوں گے۔ جی ہاں، سماجیات ایک عقلی علم ہے جس طرح ہر ایک تجرباتی علم ہے۔ لیکن اسے اپنی عقلیت کو دنیا کی عقلیت سمجھ لینے کی ہلاکت خیز غلطی نہیں کرنی چاہئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ تنقیدیں کسی حد تک سی رائٹ ملز کی کتاب “سماجیاتی تخیل” سے مطابقت رکھتی ہیں۔ ملز نے ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں علمِ سماجیات کو اپنی لپیٹ میں لے لینے والے نظریاتی طوفان کے بعد لکھا۔ ہم نہیں جان سکتے کہ اگر ملز ہمارے دور میں ہوتا تو کیا کرتا۔ نہ ہی ہم یہ جانتے ہیں کہ اس کے اتنے سارےقارئین خاص طور پر وہ جو اس کی تنقیدوں سے بہت متاثر ہوئے تھے کیا کرتے۔ وہ مارکسی اور نیم مارکسی مفروضوں سے تشکیل پاتی ایک ایسی نظریاتی سراسیمگی کے عالم میں تھے جو سماجیات کی تمام بیماریوں کا علاج تجویز کرتی محسوس ہوتی تھی۔ اس نے ایک ایسا نظری رجحان پیش کیا جو یقیناً “عظیم سوالوں” سے متعلق تھا، یہ سب کچھ ایک بین الاقوامی تناظر (نظامِ عالم سے کم کوئی بات نہیں کی گئی) میں پیش کیا گیا، یہاں مقداری طریقوں کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ نہیں تھا اور آخری بات یہ کہ خود کو پوری طرح سائنسی مانتے ہوئے یہاں یہ بھی فرض کر لیا گیا کہ اپنے علاوہ تقریباً ہر کوئی “شعورِ باطل” لئے اِدھر اُدھر ڈگمگا رہا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">مارکسزم کے خاتمے کا دعوی تو خیر قبل از وقت ہو گا ہی، یہاں تو کتنے ہی ایسے نیم مارکسی نظریات ہیں جو کامیابی سے کُل مارکسی روایت سے مکمل طور پر کٹ کر ایک علیحدہ دھارا تشکیل دے چکے ہیں۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">بدقسمتی سے “عظیم سوالوں” کے جواب غلط ثابت ہوئے اور دنیا نے تھیوری کے مطابق عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ مارکسزم کے خاتمے کا دعوی تو خیر قبل از وقت ہو گا ہی، یہاں تو کتنے ہی ایسے نیم مارکسی نظریات ہیں جو کامیابی سے کُل مارکسی روایت سے مکمل طور پر کٹ کر ایک علیحدہ دھارا تشکیل دے چکے ہیں۔ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں علمِ سماجیات کو نظریاتی لبادہ اوڑھانے کا بدترین نتیجہ یہ غیرمتزلزل اعتقاد ہے کہ معروضیت اور “اقداری آزادی” ناممکنات میں سے ہیں اور ماہرینِ سماجیات کو یہ جانتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کسی نظرئیے کے وکلاء کے طور پر اظہارِ رائے کرنا چاہئے۔<br>
یہ سوچ صرف بائیں بازو تک محدود نہیں۔ علمِ سماجیات کے کلاسیکی دور کی طریقیاتی جھڑپوں، خاص طو ر پر جرمنی میں یہ دائیں بازو کے مفکرین ہی تھے جو پوری قوت کے ساتھ اس محاذ پر کھڑے تھے۔ معروضیت کے “باطل آدرش” کا تریاق “جرمن سائنس” تھی اور سائنس کا سب سے شاندار مقدمہ جس شخصیت نے لڑا وہ کوئی اور نہیں بلکہ مرحوم ڈاکٹر گوئبلز تھے :”حق وہی ہے جو جرمن عوام کا مفاد ہے۔ ”<br>
جوں جوں امریکی فکر ی منظرنامے پر بایاں بازو تنزل کی جانب گامزن رہے گا، اور بالفرض اگر ایسا ہے تو دوسرے نظریات بھی یہی سوچ اپناتے نظر آئیں گے۔ یہ ایک ایسی سوچ ہے جو سائنس کو پروپیگنڈے میں بدل دیتی ہے اور جہاں جہاں اسے اپنایا جاتا ہے وہاں یہ سائنس کے خاتمے کی علامت بن جاتی ہے۔ امریکی سماجی علوم میں تحریکِ نسواں اور تکثیری ثقافت کے علمبردار اس سوچ کے سب سے بڑے نمائندہ ہیں لیکن ہم توقع کر سکتے ہیں کہ اوروں کا ظہور بھی ہو گا۔ ان میں سے کچھ دائیں بازو کے بھی ہو سکتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">علمِ سماجیات کی حالت کی تشخیص کے لئے اسے علیحدگی میں نہیں دیکھنا چاہئے۔ اس کی علامات وہ ہیں جو عمومی طور پر ہی فکری منظرنامے کا حصہ ہیں۔ دوسرے سماجی علوم بھی کچھ خاص اچھی حالت میں نہیں۔ زیادہ تر معیشت دان اپنے عقلیت پسند مفروضوں کے قیدی ہیں اور ماہرینِ سیاسیات کا جمِ غفیر بھی جیسے تیسے آخر کار اسی کھائی میں گرتا نظر آتا ہے۔ ماہرینِ بشریات شاید سماجی علوم کی کسی بھی شاخ سے زیادہ نظریاتی وابستگیاں رکھتے ہیں اور تاریخ اور بقیہ سماجی علوم کسی بھی ایسے نظریاتی فیشن کے آگے ڈھیر ہوتے محسوس ہوتے ہیں جو عام طور پر ائیر فرانس کے ذریعے بحرِ اوقیانوس پر سے اڑتا ہوا یہاں آن پہنچے، ہر ایک اپنے سے پہلے والے کی نسبت زیادہ ابہام پسند اور فکری سفاک۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شاید ماہرینِ سماجیات سے اس سے بہتر کی امید لگانا بہت بڑی توقع باندھنا ہے۔ لیکن ماہرینِ سماجیات کا ایک مخصوص مسئلہ ایسا ہی ہے جو(ممکنہ طور پرماہرینِ بشریات کے استثناء کے ساتھ) اور کسی بھی سماجی علم میں نہیں پایا جاتا۔ علمِ سماجیات ایک نوعِ علم سے کہیں زیادہ ایک زاویۂ نگاہ یعنی ایک تناظر ہے اور اگر یہ تناظر ناکام ہو جائے تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ لہٰذا معیشت کا مطالعہ ہو یا سیاسی نظام یا ساموئی قوم کے جنسی ملا پ کے میلانات، ممکنہ تناظر متعدد اور مختلف ہوتے ہیں جن میں سے ایک علمِ سماجیات ہے۔ زیادہ تر سماجی علوم کے فکری آلات میں سماجیاتی تناظر بہت کامیابی سے داخل ہوا ہے۔ شاید ہی کوئی تاریخ دان ہوگا جس نے کسی نہ کسی طرح اپنے کام میں سماجیاتی تناظر کو جگہ نہ دی ہو۔ سماجی علوم کے بہت سے دوسرے اہلِ علم کے برعکس ماہرینِ سماجیات کسی مخصوص تجرباتی منطقے کو اپنا قرار نہیں دے سکتے۔ زیادہ تر ان کے پاس پیش کرنے کے لئے اپنا تناظر ہی ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا روگ دراصل اسی تناظر کو توڑ پھوڑ کر علمِ سماجیات کو متروک کر دیتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ یہ منسوخی کوئی بڑا فکری حادثہ نہیں کیوں کہ جو علمِ سماجیات نے اپنی اصل میں پیش کرنا تھا اس میں سے بہت کچھ تو دوسرے علوم میں سما چکا ہے۔ لیکن جب ان علوم پر نظر ڈالی جائے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ انہیں اُس سماجیاتی دوا کی اچھی خاصی ضرورت ہے جو اس نوعِ علم کی کلاسیکی صورت تھی اور سماجیاتی روایاتِ علم کے وہ بچے کھچے ٹکڑے نہیں جنہیں اب اکٹھا کر لیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں سماجیات کے ممکنہ زوال پر خوش نہ ہونے کی اچھی خاصی فکری وجوہات موجود ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">ہم ایک ایسے علمِ سماجیات کی بات کر رہے ہیں جو کلاسیکی دور کے عظیم سوالوں کی جانب لوٹ جائے، جو وسیع المشرب اور طریقیاتی لچک رکھتا ہو، نظریاتی جبر کے خلاف ہو۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext">لیکن کیا قسمت کا پانسہ پلٹ سکتا ہے؟ میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ بیماری کی جڑیں اب بہت گہری ہو چکی ہیں۔ واپسی کے لئے کچھ شرائط تجویز کی جا سکتی ہیں۔ دیکھا جائے تو اوپر دئیے گئے مشاہدات پہلے ہی ضروری خدوخال سامنے رکھ چکے ہیں: ہم ایک ایسے علمِ سماجیات کی بات کر رہے ہیں جو کلاسیکی دور کے عظیم سوالوں کی جانب لوٹ جائے، ایک ایسا علمِ سماجیات جو وسیع المشرب اور طریقیاتی لچک رکھتا ہو، اور پُرزور بلکہ پُرتشدد طور پر نظریاتی جبر کے خلاف ہو۔ لیکن ایسی واپسی کے لئے اداراتی مطالبات کیا ہوں گے؟ ظاہر ہے یہ کام کانفرنسوں، منشوروں اور اسی قسم کی دوسری فرار آمادہ سرگرمیوں سے تو نہیں ہو سکتا۔ اس نوعِ علم کا احیاء تو شاید بڑی جامعات میں (چاہے پچھتاتے ہوئے ہی سہی) ایک یا ایک سے زیادہ ایسے درسی منصوبوں سے ہی ممکن ہے جن میں ماہرینِ سماجیات تربیت یافتہ ہیں۔ مزید برآں یہ سارا کام ایسے نوجوان لوگوں کی ذریعے ہونا چاہئے جن کے آگے دو یا دو سے زیادہ دہائیوں کی پیشہ ورانہ زندگی باقی ہو کیوں کہ اس میں اتنا وقت لگنا تو لازمی ہے۔ کیا اس کا احتمال ہے؟ شاید نہیں۔ لیکن کلاسیکی علمِ سماجیات کی ایک بنیادی بصیرت یہی ہے کہ انسانی افعال حیران کن ہوتے ہیں۔</div>
<p>ٰImage: Kevin Rohde</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%9f/">علمِ سماجیات: دعوت نامے کی بازطلبی؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b9%d9%84%d9%85%d9%90-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c%d8%a7%d8%aa-%d8%af%d8%b9%d9%88%d8%aa-%d9%86%d8%a7%d9%85%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%a7%d8%b2%d8%b7%d9%84%d8%a8%db%8c%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ہمیشہ بدمست رہو</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%a8%d8%af%d9%85%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%db%81%d9%88/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%a8%d8%af%d9%85%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%db%81%d9%88/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 14 Nov 2016 08:46:31 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[بادلیئر]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19316</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عاصم بخشی:ہمیشہ بدمست رہو<br />
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا<br />
واحد راستہ کہ<br />
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،<br />
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%a8%d8%af%d9%85%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%db%81%d9%88/">ہمیشہ بدمست رہو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“2/3”][vc_column_text]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">ہمیشہ بدمست رہو</div>
<p>[/vc_column_text][vc_column_text]</p>
<div class="urdutext">شاعر: بادلیئر<br>
مترجم: عاصم بخشی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمیشہ بدمست رہو<br>
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا<br>
واحد راستہ کہ<br>
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،<br>
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے<br>
سو تمہیں بے رحم مستیوں میں ڈوب جانا چاہئے<br>
لیکن آخر کس شے کا خمار؟<br>
بادہ و ساغر!<br>
شعر و سخن!<br>
عبادت و ریاضت!<br>
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے،<br>
لیکن بدمست رہو<br>
پھر اگر کسی لمحے<br>
تمہاری آنکھ کسی محل کی سیڑھیوں،<br>
اترائیوں میں کسی قطعۂ سبز،<br>
یا اپنے حجرے کی تنہا اداسیوں میں اس طرح کھلے<br>
کہ خمار اتر رہا ہو اور مستی غائب ہو<br>
تو ہوا سے دریافت کرو<br>
لہر سے پوچھو<br>
ستارے، پرندے، گھڑیال،<br>
ہر گامزن شے،<br>
ہر کراہتی شے،<br>
ہر گھومتی، آہیں بھرتی، بولتی شے کا دامن پکڑو<br>
سوال کرو کہ وقت کیا ہوا ہے،<br>
ہوا، لہر، ستارہ، پرندہ، گھڑیال یہی جواب دے گا کہ ’’یہ لمحۂ خمار ہے!<br>
سو وقت کی جنگ میں کام آئے پیادوں میں شمار ہونے کی بجائے ہمیشہ بدمست رہو!<br>
بادہ و ساغر، شعر و سخن، یا عبادت و ریاضت<br>
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے۔۔۔‘‘</div>
<p>Image: Jeremy Geddes<br>
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=“1/3”][vc_column_text]<br>
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]</p>
<p>[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%a8%d8%af%d9%85%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%db%81%d9%88/">ہمیشہ بدمست رہو</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%db%8c%d8%b4%db%81-%d8%a8%d8%af%d9%85%d8%b3%d8%aa-%d8%b1%db%81%d9%88/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>بانسوں  کے جھنڈ میں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 15 Oct 2016 11:53:28 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Into the Bamboo Grove]]></category>
		<category><![CDATA[جاپانی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[ریونسوکی اکوتاگاوا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18809</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ریونسوکی اکوتاگاوا: آخر کار میں تھکا ہارا  درخت کے نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے سامنے وہ خنجر گرا پڑا تھا جو میری بیوی نے پھینکا تھا۔ میں نے وہ اٹھایا اور اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ خون کا ایک فوارہ ابل کر میرے منہ پر آن پڑا ، لیکن رتی برابر درد محسوس نہ ہوا ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba/">بانسوں  کے جھنڈ میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext">مصنف کا تعارف: ریونسوکی اکوتاگاوا (۱۸۹۲ تا ۱۹۲۷)بیسویں صدی کے اوائل کے ان معدودے چند کہانی کاروں میں سے ہے جنہوں نے معاصر اور کلاسیکی مغربی ادب کا مطالعہ کیا اور جاپانی ادب میں نادر ترین تجربات کئے۔ اس کی کہانیوں میں جاپانی دیومالا، طنزیہ پیرائے اور جدید ثقافتی رجحانات کا ملا جلا رجحان ہے جس کی وجہ سے کئی کہانیاں ایک نیم طلسماتی سی فضا لئے ہیں۔ اکوتاگاوا نے اپنی مختصر سی زندگی میں تقریباً ڈیڑھ سو سے زیادہ چھوٹی بڑی کہانیاں لکھیں جن میں زیادہ تر جاپانی ادب میں ایک جدید سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس کی کہانیوں میں اس کی اپنی زندگی کی نیم خوابی حیثیت اور دیوانگی بہت آسانی سے نظر آتی ہے۔ اکوتاگاوا نے سینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی کیوں کہ اس کا خیال تھا کہ اس کی ماں کا پاگل پن اس کو بھی جینیاتی طور پر منتقل ہوا ہے اور اسے مکمل طور پر دیوانہ کر کے ہی چھوڑے گا۔ ہم یہاں اکوتاگاوا کی سب سے مشہور کہانی Into the Bamboo Grove کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں جس کے اسکرپٹ کو مشہور ہدایتکار اکیرا کوروساوا نے اپنی فلم Rashomon (1950) کے لئے استعمال کیا۔</div>
<p>[/blockquote]</p>
<div class="urdutext"><strong>لکڑہارے کا عدالتی بیان</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کہانی کار: ریونسوکی اکوتاگاوا<br>
ترجمہ : عاصم بخشی</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ سچ ہے جناب عالی۔ یہ لاش مجھے ہی ملی تھی۔ میں روز کی طرح آج بھی اپنی جھونپڑی کے پچھواڑے میں صنوبر کے درختوں سے لکڑی لانے گیا تھا۔ وہ لاش پہاڑی کی دوسری طرف بانسوں کے جھنڈ میں پڑی تھی۔ اس کا صحیح صحیح مقام؟ بس یاماشینا چوکی کی سڑک سے یہی کچھ سو گز دور ہو گی۔ ایک بیابان جگہ جہاں بانس کے ساتھ کچھ پستہ قد صنوبر بھی اگ آئے ہیں۔<br>
زرد مائل نیلی عبا میں ملبوس وہ آدمی کمر کے بل پڑا تھا، آستینیں چڑھی ہوئی تھیں اور سر پر کیوٹو طرز کی واضح چُنٹ والا سیاہ ہیٹ اب تک موجود تھا۔ گھاؤ کا ایک ہی نشان تھا لیکن ٹھیک سینے کے بیچ ، جسم کے ارد گرد موجود بانس کے پتے سیاہی مائل سرخ خون سے تر تھے۔ نہیں نہیں، خون رک چکا تھا۔ زخم خشک معلوم ہوتا تھا، مجھے یاد ہے کہ ایک گھڑ مکھی وہاں اس سختی سے چپکی تھی کہ اسے میرے قدموں کی آواز کا بھی پتہ نہ چلا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کیا میں نے کوئی تلوار وغیرہ دیکھی؟ نہیں جناب، ایسا توکچھ نہیں۔ بس لاش کے ساتھ موجود صنوبر کے قریب ایک رسی کا ٹکڑا پڑا تھا۔ ارے ہاں، یاد آیا، وہاں ایک کنگھی بھی تو گری پڑی تھی۔ بس رسی کا ٹکڑا اور کنگھی۔ لیکن زمین پر موجودبانس کے پتے اور جھاڑیاں اچھے خاصے کچلے ہوئے نظر آتے تھے: اس نے ان کے ہاتھوں قتل ہونے سے پہلے ضرور زبردست لڑائی کی ہو گی۔ یہ کیسے ممکن ہے جناب، کوئی گھوڑا؟ نہیں، گھوڑا کبھی اس جگہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ سڑک اور اس جگہ کے بیچ میں بانس ہی بانس ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>مسافر پادری کی گواہی</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مجھے یقین ہے جناب کہ میری کل اس آدمی سے مڈبھیڑ ہوئی تھی۔ تقریباً نصف النہار کا وقت ہو گا ۔ یاماشیما کے راستے پرموجود پہاڑی چوکی کے قریب۔ وہ گھوڑے کی پیٹھ پر موجود ایک عورت کے ساتھ چوکی کی جانب پیدل چلتا آ رہا تھا۔ عورت نے ایک اکڑا ہوا تنکوں کا ہیٹ پہن رکھا تھا جس کے کناروں سے ایک لمبا نقاب نیچے لٹک رہا تھا، میں اس کا چہرہ تو نہ دیکھ سکا لیکن عبا اب تک ذہن میں ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ نیلی اور سبز دھاریوں والا ایک گہرا سرخ ملبوس تھا۔ گھوڑا سرمئی اور کہیں کہیں بھورے دھبوں والا تھا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس کی ایال تراشی ہوئی تھی۔ کیا وہ اصیل گھوڑا تھا؟ جواب میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ عام گھوڑوں سے شاید کوئی ایک دو کمان دراز قد ہی ہو لیکن میں تو بہرحال ایک پادری ہوں۔ گھوڑوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا۔ آدمی؟ جناب اس کے پاس ایک مناسب سی تلوار تھی اور تیر کمان سے لیس تھا۔ مجھے اب بھی اس کا سیاہ چمک دار ترکش یاد ہے: شاید درجن بھر تیر ہوں گے یا اس سے کچھ زیادہ۔ میں خواب میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ اس قسم کے کسی آدمی کے ساتھ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے۔ آہ، انسان کی زندگی بھی کیا ہے، ایک قطرۂ شبنم، ایک بجلی کی کوند؟ بہت افسوس ہوا، بہت برا۔ خیر کیا کہہ سکتا ہوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کوتوال کا عدالتی بیان</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے جسے گرفتار کیا، جناب؟ مجھے یقین ہے کہ وہ مشہور ڈاکو تاجو مارو ہی ہے۔ جی یہ درست ہے کہ میرے قابو میں آتے ہی وہ گھوڑے سے گر پڑا تھا اور اواٹاگوچی والے پتھروں کے پُل پر لیٹ کر آہ و زاری کر رہا تھا۔ وقت جناب؟ یہ کل رات اول پہر کا وقت ہو گا۔ اُسی گہری نیلی عبا میں تھا اور وہی لمبی تلوار تھام رکھی تھی جب پہلی بار میرے ہاتھ آتے آتے رہ گیا تھا۔ اب تو آپ جانتے ہی ہیں کہ تیر کمان بھی موجود تھے۔ اوہ، کیا ایسا ہی ہے جناب؟ مردہ شخص بھی ملا؟ بس پھر تو قضیہ نمٹ گیا: یقیناً یہ تاجومارو ہی قاتل ہے۔ ایک چرمی کمان، سیاہ روغن چڑھے سترہ عقابی پروں والے تیر، ظاہر ہے مقتول ہی کے ہوں گے۔ اور ہاں جناب ، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا، گھوڑا سرمئی اور بھورا ہے، اور ایال تراشی گئی ہے۔ جانور کون سا ایسا عاقل ہے، لیکن اس نے اس اچکے کو وہی انعام دیا جس کا یہ حقدار تھا، زمین پر اس طرح لا پٹخا۔ یہ بس پل سے ذرا ہی دور باگیں زمین پر گھسیٹتے ہوئے سڑک کے کنارے خود رو گھاس چر رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کیوٹو کے ارد گرد گھات لگائے تمام ڈاکوؤں میں اس تاجومارو کی شہرت عورت بازی کی ہے۔ پچھلی پت جھڑ میں توریبا مندر کے لوگوں کو بنزورو کے مجسمے کی عقبی پہاڑی پر پوجا کے لیے آئے ہوئے ایک عورت اور بچہ مردہ ملے۔ ہر زبان پر یہی بات تھی کہ ہو نہ ہو یہ تاجومارو کا کام ہے۔ اگر ثابت ہو گیا کہ وہی اس آدمی کا قاتل ہے تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے گھوڑے پر سوار عورت کے ساتھ کیا کیا ہو گا۔ میں مخل نہیں ہو رہا جانب، لیکن میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ اس بارے میں ضرور پوچھ گچھ کریں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong> کمرۂ عدالت میں بڑھیا کی گواہی </strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جی جناب والا، میری بیٹی اسی مردہ شخص سے بیاہی تھی۔ لیکن یہ دارالخلافہ کا نہیں بلکہ وکاسا کے صوبائی دفتر سے منسلک ایک سامورائی تھا۔ نام نازاوا نو تاکی ہیرو، عمر چھبیس سال۔ نہیں جناب، یہ تو بہت بھلا مانس شخص تھا۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس سے نفرت کی اس حد تک جا سکتا ہے کہ جان ہی لے ڈالے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری بیٹی، جناب؟ اس کا نام ماساگو ہے، عمر انیس سال۔ وہ کسی بھی مرد جتنی دلیر ہے لیکن اس نے تاکی ہیرو کے علاوہ کسی مرد سے جان پہچان نہیں بڑھائی۔ اس کا رنگ ذرا گندمی ہے اور بائیں آنکھ کے کونے میں ایک تل ہے، لیکن چہرہ بالکل ننھا سا اور خوبصورت بیضوی نقش۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تاکی ہیرو کل میری بیٹی کے ساتھ واکاسا ہی کے لئے نکلا تھا لیکن نہ جانے قسمت اسے اس موڑ پر کیسے لے آئی؟ میں اب اپنے داماد کے لئے تو کچھ نہیں کر سکتی لیکن میری بیٹی پر کیا بیتی؟ پریشانی سے دل ڈوبا جاتا ہے۔ آپ کو خدا کا واسطہ جناب، اسے تلاش کرنے کی کوشش کیجئے، چپہ چپہ چھان مارئیے ۔میرے دن شاید پورے ہونے ہی والے ہیں لیکن اتنی شدت سے زندگی میں کسی چیز کی خواہش نہیں کی۔ اف، میں اس ڈاکو سے کتنی شدید نفرت کرتی ہوں، یہ ! یہ تاجو مارو! نہ صرف میرا داماد بلکہ میری بیٹی بھی۔۔۔ (یہاں بڑھیا کا حوصلہ ٹوٹ گیا، گلا رندھ گیا اور مزید بولنے کی سکت نہ رہی۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>تاجومارو کا اعترافی بیان</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یقیناً میں نے اس آدمی کو قتل کیا۔ لیکن میں نے عورت کی جان نہیں لی۔ تو پھر اسے آسمان کھا گیا یا زمین؟ میں ہرگز تم سے زیادہ نہیں جانتا۔ اب ذرا ایک منٹ رک کر میری بات سنو—تم مجھ پر جتنا چاہے تشدد کرو لیکن میں تمہیں وہ سب کچھ کیسے بتا سکتا ہوں جو مجھے خود معلوم نہیں۔ اور اب جب میں تمہارے قابو میں ہوں، میں کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ میں ہرگز کوئی بزدل نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں کل اس جوڑے سے ملا۔ سہ پہر کے ذرا بعد۔ اس پر نظر پڑتے ہی ہوا کے جھونکے نے نقاب کو الٹا دیا اور میں نے اس کی ایک جھلک دیکھ لی۔ بس ایک ذرا سی جھلک :شاید اسی لئے وہ مجھے اتنی خوبصورت لگی۔ عورت کیا تھی ، بس ایک گیانی بدھستوا مورتی تھی۔ میں نے اسی لمحے فیصلہ کر لیا تھا کہ چاہے اُس مرد کو قتل ہی کیوں نہ پڑ جائے، میں اس عورت کو حاصل کر کے رہوں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اوہ، تمہیں اب کیسے سمجھاؤں! کسی بندے کی جان لینا اب ایسی بھی بڑی بات نہیں جتنا تم سمجھ بیٹھے ہو۔ اگر تمہیں کسی کی عورت کو حاصل کرنا ہے تو مرد کو تو زندگی سے ہاتھ دھونا ہی ہوں گے۔ میں نے کسی کو مارنا ہو تو اپنی تلوار کا استعمال کرتا ہوں ، لیکن تم جیسے لوگ تلواریں استعمال نہیں کرتے۔ تم شرفاء تو اپنی طاقت، دولت اور کبھی کبھار صرف الفاظ ہی سے جان لے لیتے ہو: لوگوں کو یہی باور کراتے ہو کہ ان پر احسان کر رہے ہو۔ یہ سچ ہے کہ خون کا ایک قطرہ تک نہیں بہتا، انسان زندہ ہوتا ہے لیکن جیتے جی مر جاتا ہے۔ نہ جانے کس کا گناہ بڑا ہے—میرا یا تمہارا۔ (لبوں پر ایک طنزیہ مسکراہٹ۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یقیناً، اگر تم مرد کو قتل کئے بغیر عورت کو حاصل کر سکو تو کیا ہی اچھا ہے۔ کل میں یہی امید لگائے بیٹھا تھا۔ یاماشینا چوکی والی سڑک پر تو یہ ناممکن ہوتا، اس لئے میں نے اسے بہلا پھسلا کر پہاڑیوں کی طرف لانے کی ایک تدبیر کی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سب کچھ کافی آسان ثابت ہوا۔ میں نے انہیں سڑک پر جا لیا اور ایک کہانی بنا ڈالی۔ یہی کہا کہ مجھے پہاڑیوں میں ایک پرانا مدفن ملا ہے جو تلواروں، آئینوں اور دوسری اشیاءسے بھرا ہوا ہے۔ میں نے دوسروں سے چھپانے کی خاطر پہاڑ کی دوسری جانب بانسوں کے جھنڈ میں یہ سب کچھ دبا دیا ہے اور مناسب خریدار ہی کو سستے داموں فروخت کروں گا۔ وہ بہت جلد میرے دام میں پھنس گیا اور دلچسپی ظاہر کرنے لگا۔ کتنی خوف ناک ہے یہ حقیقت کہ لالچ انسان کے ساتھ کیا کر سکتا ہے؟ میں ایک گھنٹے سے بھی کم میں ان دونوں کوگھوڑے سمیت پہاڑی راستے پر لے جا رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جھنڈ میں پہنچے تو میں نے انہیں بتایا کہ خزانہ یہیں دبا ہوا ہے اور وہ اندر آ کر میرے ساتھ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ مرد تو اس وقت تک لالچ کے ہاتھوں اتنا اندھا ہو چکا تھا کہ انکار نہ کر سکا لیکن عورت نے یہی کہا کہ وہ باہر گھوڑے کی پیٹھ پر انتظار کرے گی۔ میرا یہی خیا ل تھا—جنگل بہت گھنا تھا۔ وہ میرے دام میں پھنس چکے تھے۔ ہم عورت کواکیلا چھوڑ کر جھنڈ میں داخل ہو گئے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شروع میں تو بانس ہی بانس تھے۔ کوئی پچاس گز اندر صنوبر کا ایک کھلا جھنڈ تھا—میری اسکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بالکل مناسب جگہ ۔میں یہ کہتے ہوئے جھنڈ کے اندر داخل ہوتا چلا گیا کہ خزانہ یہیں کسی درخت کے نیچے دفن ہے۔ یہ سنتے ہی مردتیزی سے سامنے موجود کچھ سوکھے ہوئے صنوبروں کی طرف بڑھا۔ یہاں بانس تقریباً ختم ہو چکے تھے اور درختوں کی ایک قطار تھی۔ وہاں پہنچتے ہی میں نے اسے دبوچ کر نیچے گرا دیا۔ میں دیکھ سکتا تھا کہ وہ ایک مضبوط آدمی ہے اور تلوار تھامے ہے، لیکن وہ حیران پریشان رہ گیا اور کچھ نہ کر سکا۔ میں نے اسے فوراً ایک درخت کے تنے سے باندھ دیا۔ مجھے رسی کہاں سے ملی؟ بھئی آخر میں ایک چور ہوں —مجھے کسی وقت بھی کوئی دیوار عبور کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے— لہٰذا رسی کا ایک ٹکڑا ہمیشہ میرے کمربند میں موجود ہوتا ہے۔ خاموش رکھنے کے لئے میں نے اس کا منہ بانس کے پتوں سے بھر دیا۔ بس اتنا سا کام تھا ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مرد سے فارغ ہوتے ہی میں واپس عورت کے پاس پہنچا اور اسے بتایا کہ اس کا شوہر اچانک بیمار ہو گیا ہے اور اسے فوراً اس کے پاس پہنچنا چاہئے۔ظاہر ہے کہ یہ ایک اور تیر بہدف تھا۔ اس نے اپنا ہیٹ اتارا اور میرا ہاتھ تھامے جھنڈ میں داخل ہونے لگی۔ لیکن جیسے ہی اس نے مرد کو درخت سے بندھے دیکھا، اپنے سینے سے فوراً ایک خنجر نکال لیا۔ میں نے کسی عورت میں اتنی آگ بھرے نہیں دیکھی۔ اگر میں چوکنا نہ ہوتا تو چاقو میری آنتوں کے آر پار ہو چکا ہوتا۔ اور وہ جس طرح وار کر رہی تھی، میرے بچاؤ کے باوجود مجھے کوئی نہ کوئی زخم تو لگ ہی گیا ہوتا۔لیکن میں بھی تاجومارو ہوں۔ کسی نہ کسی طرح میں نے اپنی تلوار نکالے بغیر اس کے ہاتھ سے خنجر چھین لیا۔ کوئی عورت جتنی بھی لڑاکا کیوں نہ ہو، ہتھیار کے بغیر ناکارہ ہے۔ قصہ مختصر، میں اس کے بندے کی جان لئے بغیر عورت کو اپنا بنانے میں کامیاب ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہاں ہاں، میں یہی کہہ رہا ہوں جو تم نے سنا: اس کے شوہر کی جان لئے بغیر۔ اتنے سب کچھ کے بعد اب میرا اس کی جان بھی لے لینے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ عورت زمین پر پڑی آنسو بہا رہی تھی اور میں اسے وہیں چھوڑ کر جھنڈ سے نکل بھاگنے والا تھا کہ اچانک اس نے عالمِ دیوانگی میں میرا بازو کھینچ لیا۔ اب میں نے سنا کہ وہ سسکیوں کے بیچ میں چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہی تھی۔ اس کی سانسیں اکھڑی اکھڑی تھیں: ’’یا تو تم جان سے جاؤ گے یا میرا شوہر۔تم میں سے ایک کا مرنا ضروری ہے۔ یہ موت سے بھی بدتر ہے کہ دو مرد مجھے بے حیا دیکھیں۔ تم ہو یا وہ، میں اسی کے ساتھ رہوں گی جو زندہ بچے۔ ‘‘ یہ سنتے ہی میرے اندر اس کے شوہر کو قتل کرنے کی وحشت ناک خواہش انگڑائیاں لینے لگی۔ (پرجوش کیفیت)۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شاید تم سوچتے ہو گے کہ میں تم سے ظالم ہوں۔ لیکن تم نے اس کے چہرے کے وہ تاثرات نہیں دیکھے، خاص طور پر جس طرح اس کی آنکھیں حدت اگل رہی تھیں۔ اس کی نظروں کا مجھ سے ملنا تھا کہ میں اسے بیوی کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ چاہے آسمانی بجلی کا دیوتا میری جان ہی کیوں سلب نہ کرلے، میں اسے اپنی بیوی بنا کر رہوں گا، بس میرے ذہن میں یہی خیالات تھے۔ اور صرف ہوس کے مارے نہیں۔ میں جانتا ہوں تم لوگ کیا سوچ رہے ہو۔ اگر صرف ہوس ہی ہوتی تو وہ تو میں پہلے ہی پوری کر چکا تھا۔ بس اسے ایک لات رسید کرتا اور اپنا رستہ ناپتا۔ اور وہ بندھا ہوا آدمی بھلا کیوں اپنے خون سے میری تلوار داغ دار کرتا! لیکن وہاں اس اندھیرے جھنڈ میں اُس لمحے جب میری نظریں اس کی نظروں سے ملیں ، میں جانتا تھا کہ میں اس کے مرد کو قتل کئے بغیر یہاں سے نہ نکل سکوں گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن پھر بھی میں اس پر بزدلانہ وار نہ کرنا چاہتا تھا۔ میں نے اسے کھول دیا اور تلوار کے مقابلے کا چیلنج دیا۔ (وہ رسی کا ٹکڑا جو انہیں ملا میں نے اسی وقت وہاں پھینکا تھا۔) اپنی لمبی تلوار نکالتے وقت وہ بہت غصے میں تھا، اور کچھ کہے بغیر مجھ پر چڑھ دوڑا۔ مجھے تمہیں لڑائی کا انجام بتانے کی ضرورت نہیں۔ میری تلوار تئیسویں وار پر اس کا سینہ چیر تی ہوئی نکل گئی۔ تئیسویں سے پہلے نہیں: میں چاہتا ہوں تم یہ بات ذہن میں رکھو۔ میں اب بھی اس کا معترف ہوں۔ وہ واحد انسان ہے جو تئیسویں وار تک مجھ سے لڑتا رہا۔ (ایک تفاخرآمیز مسکراہٹ۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس کے گرتے ہی میں نے اپنی خون آلود تلوار نیچے کی اور عورت کی جانب مڑا۔ وہ غائب ہو چکی تھی! میں نے صنوبر کے درختوں کے درمیان اسے تلاش کیا لیکن زمین پر پڑے بانسوں کے پتوں سے یہی لگتا تھا کہ وہ کبھی یہاں نہیں آئی۔ اس کی آواز سننے کے لئے کان لگائے لیکن وہاں تو پس اس آدمی کی موت کی ہچکیاں ہی سنی جا سکتیں تھیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">شاید وہ تلواروں کی لڑائی شروع ہوتے ہی زیریں حصے کی جانب مدد کی خاطر بھاگی ہو۔ اس خیال نے میرے اندر خطرے کا احساس جگا دیا۔ میں نے اس آدمی کی تلوار اور تیر کمان اٹھائے اور سیدھا پہاڑی راستے کا قصد کیا۔ عورت کا گھوڑا اب بھی وہیں کھڑا گھاس چر رہا تھا۔ اس کے بعد کے مزید واقعات بس وقت کا ضیاع ہی ہیں۔ خیر اتنا کہے دیتا ہوں کہ کیوٹو آنے سے پہلے میں اس کی تلوار سے جان چھڑا چکا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تو یہ ہے میرا اعترافی بیان۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ایک دن میرا سر قید خانے کے باہر کسی درخت سے لٹا ہو گا تو بس میں اب اس حتمی سزا کا منتظر ہوں۔ (سرکشی کا مظاہرہ۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>کیومیزو کے مندر میں عورت کا پشیمانہ اعتراف</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب نیلی عبا میں ملبوس آدمی میرے ساتھ اپنی ہوس پوری کر چکا، تو میرے شوہر کی طرف متوجہ ہوا اور اسے باندھ کر مذاق اڑانے لگا۔ میرے شوہر کی کتنی بے عزتی ہوئی ہو گی! وہ پیچ وتاب کھاتے ہوئے رسیوں میں کسمسا رہا تھا لیکن گرہیں اس کی کھال میں مزید دھنس رہی تھیں۔ میں لڑکھڑاتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ نہیں، بلکہ میں نے اس کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، لیکن اُس آدمی نے اچانک مجھے ایک لات رسید کی۔ اور اسی لمحے میں نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں وہ ناقابلِ بیان چمک دیکھی۔ واقعی یہ ایک ناقابلِ بیان جذبہ تھا۔ اب بھی سوچ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میرے شوہر کی زبان گنگ تھی، لیکن اس حالت میں بھی اس کی آنکھیں اس کے دل کا مدعا بیان کر رہی تھیں۔ میں نے جو چمک دیکھی وہ نہ تو غصہ تھا اور نہ ہی غم۔ یہ تو ایک توہین آمیز سرد مہری تھی، میرے لئے حقارت کا احساس۔ مجھے یہ اس ڈاکو کی لات سے بھی زیادہ کرب انگیز لگی۔ بس ایک چیخ ماری اور وہیں گر گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہوش آیا تو نیلے لباس والا جا چکا تھا۔ جھنڈ میں اب صرف میرا شوہر ہی تھا جو ابھی تک صنوبر کے درخت سے بندھا تھا۔ میں بمشکل بانس کے مردہ پتوں کے قالین سے اٹھ کر اپنے شوہر کی آنکھوں میں دیکھنے کے قابل ہوئی۔ اس کی نگاہیں بالکل ویسی ہی تھیں، وہی سردمہری اور حقارت و نفرت کے جذبات۔ میں کیسے وہ جذبات بیان کروں جو اس وقت مجھے مغلوب کئے دے رہے تھے؟ شرم و حیا۔۔۔غم۔۔۔غصہ۔۔۔بس میں ڈگمگاتے ہوئے اس کی جانب بڑھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">’’اوہ، میرے سرتاج! اب جب کہ اتنا کچھ ہو چکا ہے، میں تمہارے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی۔ میں ابھی اور اسی وقت مرنے کے لئے تیار ہوں۔ لیکن تم—ہاں تمہیں بھی تو جان سے جانا ہو گا۔ تم نے میری بے حیائی کا مظاہرہ دیکھا۔ میں اب تمہیں اس منظر کی یادوں کے ساتھ اپنے پیچھے تو نہیں چھوڑ سکتی۔ ‘‘</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں وہ سب کچھ کہنے کی کوشش کر رہی تھی جو میں کہنا چاہتی تھی، لیکن میرا شوہر بس مجھے اسی حقارت سے دیکھے چلا جا رہاتھا۔ یوں لگا جیسے کسی بھی لمحے میراسینہ شق ہو جائے گا ، لیکن اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے میں نے بانسوں کی جھنڈ میں اس کی تلوار کی تلاش شروع کی۔ یقیناً ڈاکو وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا کیوں کہ اس کا نام و نشان نہ تھا، اور میرے شوہر کے تیر کمان بھی غائب تھے۔ لیکن پھر مجھے خوش قسمتی سے پیروں میں گرا خنجر مل گیا۔ میں نے وہ اپنے شوہر کی نگاہوں کے سامنے لہرایا اور ایک بار پھر اس سے گویا ہوئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“یہ اب اختتام ہے۔ سو اتنے اخلاق کا مظاہرہ تو کرو کہ مجھے اپنی جان لینے دو۔ میں بس تمہارے پیچھے پیچھے پہنچ رہی ہوں۔”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہ سنتے ہی آخر کار میرے شوہر کے ہونٹ ہلنے لگے۔ ظاہر ہے کہ اس کا منہ تو بانس کے پتوں سے بھرا ہواتھا اور کوئی آواز نہ نکلتی تھی، لیکن میں فوراً سمجھ گئی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ اس نے ایک کامل حقارت سے بس اتنا ہی کہا کہ “کر گزرو۔” خواب اور حقیقت کی ملی جلی کیفیت میں میرا چاقو اس کی زردی مائل نیلی عبا سے ہوتا ہوا سینے کے آر پار تھا۔<br>
پھر میں دوبارہ بے ہوش ہو گئی۔ آخرکار آنکھ کھلی تو میرا شوہر جو اب تک درخت سے بندھا تھا اپنی آخری سانسیں لے چکا تھا۔ بانس اور صنوبر سے چھن کر ایک روشنی کی شعاع اس کے خاکستری چہرے پر چمک رہی تھی۔ اپنے آنسو نگلتے ہوئے میں نے گرہیں کھولیں اور رسی کو ایک طرف پھینک دیا۔ اور پھر—پھر اس کے بعد مجھے کیا ہوا؟ مجھے میں مزید سنانے کی طاقت نہیں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ میں خود کشی میں ناکام ہو گئی۔ اپنے حلق پر وار کرنا چاہا۔ پہاڑ کے دامن میں موجود ایک تالاب میں ڈوبنے کی نیت سے چھلانگ لگائی۔ کہیں کامیابی نہ ہوئی۔ میں اب بھی یہیں ہوں، اور خودکشی کی ناقابلیت پر مجھے کوئی فخر نہیں۔(ایک اداس مسکراہٹ۔) شاید ہمدردی کا بدھستوا کانزیون بھی مجھے کمزور سمجھ کر نظریں پھیر چکا ہے۔ لیکن اب—اب جب کہ میں اپنے شوہر کا قتل کر چکی ہوں اور ایک ڈاکو کے ہاتھوں اپنی عزت لٹا بیٹھی ہوں، تو مجھے کیا کرنا چاہئے؟ مجھے بتاؤ میں کیا۔۔۔۔(اچانک شدید سسکیاں۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>ایک مؤکل کے وسیلے سے مردہ آدمی کی روح کی گواہی</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب وہ ڈاکو میری بیوی سے اپنی ہوس کی آگ بجھا چکا تو وہیں زمین پر بیٹھ کر اسے تسلیاں دینے لگا۔ میں کیا کہہ سکتا تھا اور ظاہر ہے کہ صنوبر کے درخت سے بندھا ہوا تھا۔ لیکن آنکھوں ہی آنکھوں سے اپنی بیوی کو یہ بتانے کی کوشش کرتا رہا کہ’’اس کی کسی بات کا یقین نہ کرو۔ یہ کچھ بھی کہے جھوٹ ہی ہوگا۔“میں نے اسے اپنی بات سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ وہیں بانس کے پتوں میں سمٹی سکڑی اپنے گھٹنوں کو گھورے چلی جا رہی تھی۔ اور سچ کہوں تو مجھے واضح طور پر محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کی بات سن رہی ہے۔ میں رقابت کی آگ میں جل رہا تھا لیکن ڈاکو ایک کے بعد ایک جال بچھا رہا تھا۔ ’’ اب جب کے تم داغ دار ہو چکی ہو، تم اور تمہارا شوہر پہلے کی طرح زندگی نہیں گزار سکیں گے۔ اس سے علیحدگی اختیار کر لو— آؤ اور میری بیوی بن جاؤ! میں تمہاری محبت کی وحشت میں اپنے ہوش کھو بیٹھا تھا۔ ” ڈاکو کی جرأت دیکھئے کہ اس سے کس لہجے میں کیا بات کر رہا تھا!</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جب میری بیوی نے اس کی جانب سر اٹھایا تو وہ مکمل طور پر سحر میں گرفتار محسوس ہوتی تھی۔ میں نے اسے اس لمحے سے زیادہ خوبصورت کبھی نہ دیکھا تھا۔ تمہارے خیال میں میری خوبصورت بیوی نے میری موجودگی میں ڈاکو کو کیا کہا ہو گا— اپنے اس شوہر کی موجودگی میں جس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے؟ میری روح شاید اب ایک جہان سے دوسرے میں بھٹک رہی ہے، لیکن جب بھی مجھے اس کا جواب یاد آتا ہے تو میرے اندر ایک غیظ و غضب کی آگ بھڑکتی ہے۔’’ٹھیک ہے،” اس نے کہا،“تم جہاں چاہتے ہو مجھے لے جاؤ۔” (طویل خاموشی۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن یہ اس کاواحد جرم نہیں جو اس نے میرے خلاف کیا۔ اگر بات یہیں تک رہتی تو میں اب تک ان اندھیروں میں نہ بھٹک رہا ہوتا۔ اس کا ہاتھ تھامے وہ جیسے کسی خواب میں بانسوں کے جھنڈ سے نکل رہی تھی، جب اچانک اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ میری طرف اشارہ کر کے چلّائی۔ “اسے مار ڈالو! جب تک یہ زندہ ہے میں تمہاری نہیں ہو سکتی!” وہ دیوانگی کے عالم میں چیخ چیخ کر بار بار ایک ہی بات کئے چلے جا رہی تھی،“اسے مار ڈالو!”</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب بھی اس کے الفاظ کسی طوفانی جھکڑ کی طرح مجھے اتھاہ گہرائیوں کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ کیا کسی انسان کے منہ سے اس سے زیادہ نفرت آمیز ادا ہوئے ہیں؟ کیا کسی انسان کے کانوں تک ایسے لعین الفاظ کی رسائی ہوئی ہے؟ کیا کبھی — (ایک دیوانہ وار طنزیہ قہقہہ۔) یہاں تک کہ ڈاکو کا چہرہ بھی یہ سن کر زرد پڑ گیا۔ وہ اس کے بازو سے چمٹے ہوئے ایک بار پھر چلّائی، ’’اسے مار ڈالو!‘‘ ڈاکو نے اسے کی جانب گھور کر دیکھا، وہ نہ تو یہ کہہ رہا تھا کہ مجھے مار ڈالے گا اور نہ ہی انکار کر رہا تھا۔ اگلے ہی لمحے اس نے میری بیوی کو ایک لات رسید کی اور وہ اچھل کر بانس کے پتوں پر جا گری۔ (طنزیہ قہقہوں کی ایک اور بوچھاڑ) ڈاکو خاموشی سے میری طرف مڑا ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">“تم کیا چاہتے ہو کہ میں اس کے ساتھ کیا کروں؟” اس نے پوچھا۔ “اسے مار ڈالوں یا جانے دوں؟ صرف سر ہلا کر ہی جواب دے دو۔ مار دوں؟‘‘ اگر اور کچھ نہ بھی ہو تو میں اس بات کے لئے ڈاکو کے گناہ معاف کرنے کے لئے تیار ہوں۔ (ایک اور طویل سکوت۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ابھی میں جواب دیتے ہوئے ہچکچا ہی رہا تھا کہ میری بیوی نے ایک چیخ ماری اور بانس کے گھنے جنگل میں گھس گئی۔ وہ سرعت سے اس کی جانب لپکا لیکن گمان یہی ہے کہ وہ اس کی آستین تک پر ہاتھ نہ ڈال سکا۔ یہ سب کچھ بس پلک جھپکنے میں ہی ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میری بیوی کے فرار ہوتے ہی ڈاکو نے میری تلوار اور ترکش اٹھایا اور رسیوں کو ایک جگہ سے کاٹ دیا۔ “اب بھاگنے کی باری میری ہے،” میں نے اسے بڑبڑاتے سنا جب وہ جنگل میں غائب ہو رہا تھا۔ سارے میں ہُو کا عالم تھا۔ نہیں— شاید کسی کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔ میں آواز پر کان لگائے خود کو کھولنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھے پتہ چل گیا کہ وہ کون تھا— مجھے معلوم ہوا کہ وہ میری ہی آواز تھی۔ (ایک اور طویل سکوت۔)</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">آخر کار میں تھکا ہارا درخت کے نیچے سے اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے سامنے وہ خنجر گرا پڑا تھا جو میری بیوی نے پھینکا تھا۔ میں نے وہ اٹھایا اور اپنے سینے میں گھونپ لیا۔ خون کا ایک فوارہ ابل کر میرے منہ پر آن پڑا، لیکن رتی برابر درد محسوس نہ ہوا ۔سینہ سرد پڑتا گیا اور ہر طرف سکوت چھا گیا۔ کیا کامل سکوت تھا! پہاڑ کے نادیدہ کنارے سے ایک پرندہ بھی نہیں ابھرا جو جھنڈ کے اوپر موجود آسمان پر گیت بکھیرتا۔ سورج کی تنہا چمک صنوبر اور بانس کی بلند شاخوں میں لڑکھڑاتی پھر رہی تھی۔ لیکن بتدریج سورج کی چمک دھندلانے لگی اور ساتھ ہی صنوبر اور بانس بھی منظر سے غائب ہونے لگے۔ میں گہرے سکوت میں لپٹا وہاں پڑا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پھر قدموں کی مدھم آواز سنائی دینے لگی۔ میں نے دیکھنے کی کوشش کی لیکن چاروں طرف سے اندھیرا مجھے گھیرے میں لے رہا تھا۔ پھر کسی نادیدہ ہاتھ نے آہستگی سے خنجر میرے سینے سے باہر کھینچ لیا۔ ایک بار پھر میرا منہ خون سے بھر گیا لیکن پھر میں زندگیوں کے درمیان موجود اندھیروں میں ڈوبتا ہی چلا گیا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba/">بانسوں  کے جھنڈ میں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%a7%d9%86%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%ac%da%be%d9%86%da%88-%d9%85%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>Insomnia</title>
		<link>https://laaltain.pk/insomnia/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/insomnia/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 10 Oct 2016 14:06:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Asim Bakhsi]]></category>
		<category><![CDATA[آزاد نظم]]></category>
		<category><![CDATA[رتجگا]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18640</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">عاصم بخشی:سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!<br />
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے<br />
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے  </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/insomnia/">Insomnia</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“2/3”][vc_column_text]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">Insomnia</div>
<p>[/vc_column_text][vc_column_text]</p>
<div class="urdutext">اب نہ سو پاؤں گا میں غیبتِ یزداں کی قسم<br>
سجدۂ شوق میں ہر رات<br>
یونہی عادتِ بے قصد سے مجبور<br>
کسی بحرِخموشاں کے چمن زار کنارے پہ اترنے کی دعا کرتا ہوں<br>
سرمئی نیند کی دہلیز کو چھوتے ہی<br>
نظاروں کا فلک بار گجر بجتا ہے<br>
کان پھٹتے ہیں پکاروں سے<br>
حلق خشک،<br>
 زباں قطرۂ نمکیں کو ترستی ہے<br>
صداؤں کے تسلسل،<br>
یہ تماشوں کی فصیلیں،<br>
مجھے دہلیزکے اُس پار لپکنے نہیں دیتے<br>
کہ میں آغوشِ مسیحائے سکینت میں اتر جاؤں،<br>
نشیبوں کی،<br>
فرازوں کی نذر ہو جاؤں<br>
میں،<br>
مری تشنہ لبی ،<br>
بینا و نابینا بصیرت،<br>
کسی مبہم سی مثلث میں سمٹ جاتے ہیں<br>
گر کسی ساعتِ بخشش میں<br>
  تِرا لمس ستائے<br>
 تو  یہ بے  رنگ تکونا سا مرقع<br>
دمِ تقریبِ فنا،<br>
 نقطۂ عرفاں میں سکڑ جاتا ہے<br>
ایک ہی پَل میں کئی سال گزر جاتے ہیں<br>
پار کر لی  جو یہ دہلیز تو ڈرتا ہوں<br>
کہ غربالِ زمانہ سے یہ لمحاتِ بلاخیز پھسل جائیں گے<br>
سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!<br>
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے<br>
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے
</div>
<p>Image: Tomas Tzen<br>
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=“1/3”][vc_column_text]<br>
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]</p>
<p>[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/insomnia/">Insomnia</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/insomnia/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نارسائی کی دسترس</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d8%b3/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d8%b3/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عاصم بخشی]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 08 Apr 2016 10:31:59 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[شاعری]]></category>
		<category><![CDATA[Asim Bakhshi]]></category>
		<category><![CDATA[Contemporary Urdu Literature]]></category>
		<category><![CDATA[عاصم بخشی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=16021</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟<br />
رسائی ہو جائے تو غنیمت<br />
نہ ہو سکے تو<br />
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d8%b3/">نارسائی کی دسترس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“2/3”][vc_column_text]</p>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;">نارسائی کی دسترس</div>
<p>[/vc_column_text][vc_column_text]</p>
<div class="urdutext">خیال جیسے کوئی چونّی<br>
پڑی ہو ذہنِ رسا کی پٹڑی پہ<br>
آنکھ میچے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دل ایک بچہ سا منتظر<br>
استوائے مقنا کے معجزے کا</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟<br>
رسائی ہو جائے تو غنیمت<br>
نہ ہو سکے تو<br>
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سخن نہیں گر تو کیا مرے دل!<br>
خیال تو تیرا ہمسفر ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">سو غم ہی کیا ہے<br>
اگر نہ ابھریں<br>
نظر میں آہن ربا تماشے<br>
سرشت تیری سفر ہی ٹھہری<br>
ترا نصیبا کہ تو انہی نارسائیوں سے سخن تراشے</div>
<p>[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=“1/3”][vc_column_text]<br>
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]</p>
<p>[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d8%b3/">نارسائی کی دسترس</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d8%a6%db%8c-%da%a9%db%8c-%d8%af%d8%b3%d8%aa%d8%b1%d8%b3/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
