<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>امجد عباس, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/amjad-abbas/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Fri, 31 May 2024 16:13:19 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>امجد عباس, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ارسطو کی منطق اور علماء و مفتیانِ کرام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%b7%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%90-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%b7%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%90-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امجد عباس]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 21 Sep 2016 08:57:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[amjad abbas]]></category>
		<category><![CDATA[Islam and aristotle]]></category>
		<category><![CDATA[logic and muslim thought]]></category>
		<category><![CDATA[اسلام اور ارسطو]]></category>
		<category><![CDATA[امجد عباس]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=18157</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt"> امجد عباس: مولوی صاحبان ارسطو کی منطق پڑھ کر، خود مدعی، خود ہی منصف بننے کی روش پر گامزن ہوجاتے ہیں، اپنے دعووں کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے منظم سائنسئ انداز میں تحقیق نہیں کی ہوتی، اُن کا زور صرف جملوں کو ترتیب دینے پر ہوتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%b7%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%90-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/">ارسطو کی منطق اور علماء و مفتیانِ کرام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">مسلم فکر میں قیاس علم الکلام، فقہ اور شریعہ کے نزاعی معاملات میں نتائج اخذ کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مسلم مدارس میں منطق کو پڑھانے کا بنیادی مقصد بھی یہی رہا ہے کہ اس طرح سے طلبہ کو اسلام کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے مختلف حالات سے متعلق دینی رہنمائی حاصل کرنے اور لوگوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے قابل بنایا جائے۔ بوعلی سینا سے کی منطق سامنے آنے سے قبل مسلم دنیا ارسطو کی منطق کو ہی استخراج کے لیے استعمال کرتی آئی ہے۔ آج مسلم مدارس میں منطق جیسے اہم مضامین پر توجہ نہیں دی جاتی اور ارسطو کی منطق کی روایتی شکلیں ہی طلبہ کو سکھائی جاتی ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">مدارس میں منطق کی تدریس کے ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ منطق کا نصاب اور اس کا استعمال نہایت فرسودہ ہے</div>
<div class="urdutext">کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ مولوی/مفتی صاحبان کو خراب کرنے میں ارسطو کی منطق کا بہت عمل دخل ہے۔ مدارس میں یہی منطق پڑھائی جاتی ہے۔ منطق ایسے قوانین کا علم ہے جن کو لاگو کرنے سے ہمارا ذہن غور و فکر میں غلطی سے بچ جاتا ہے، گویا منطق صحیح فکر کے ضوابط بتاتی ہے۔ اِس کی دو قسمیں ہیں، استخراجی منطق اور استقرائی منطق۔ ارسطو نے استخراجی منطق کی طرح ڈالی، وہی مدارس میں داخل ہے)۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">مدارس میں منطق کی تدریس کے ضمن میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ منطق کا نصاب اور اس کا استعمال نہایت فرسودہ ہے حتیٰ کہ اس ضمن میں یہ فرق بھی روا نہیں رکھا جاتا کہ validity اور truth تو الگ چیزیں ہیں۔ ضروری نہیں کہ valid argument آپ کو ایک ایسا نتیجہ بھی نکالنے میں مدد دے جو حقیقت پر مبنی ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ارسطو کی منطق میں زیادہ زور استخراج پر دیا جاتا ہے کہ کس طرح دو قضیوں (جملوں/دعووں) کو ترتیب دیا جائے تو نتیجہ درست نکلے گا، اِس ترتیب کی چار صورتیں گنوائی جاتی ہیں۔ ایک صورت کی مثال دیتا ہوں، جیسے زید انسان ہے۔ یہ ایک قضیہ (جملہ/دعویٰ) ہے۔ ہر انسان فنا ہونے والا ہے، یہ دوسرا قضیہ (جملہ/دعویٰ) ہے۔ اب دونوں کو ملاتے ہیں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زید انسان ہے (دعویٰ اول، اِسے صغریٰ کہا جاتا ہے)<br>
ہر انسان فنا ہونے والا ہے (دعویٰ ثانی، اِسے کُبریٰ کہا جاتا ہے)<br>
نتیجہ: زید فنا ہونے والا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">میں نے جب بھی کسی کے خلاف فتاویٰ دیکھے، فوری ذہن میں آیا کہ یہ سب ارسطو کی منطق کے سوچے سمجھے بغیر استعمال کیا دھرا ہے کہ بس مولوی صاحب کے کان میں کوئی بھنک پڑی تو اُنھوں نے فوری دوسرا دعویٰ نتھی کیا اور نتیجہ نکال لیا۔</div>
<div class="urdutext">ارسطو کی منطق “استخراجی” (Deductive) کہلاتی ہے، اِس کا سارا زور قیاس (استخراج) کی ترتیب پر ہوتا ہے، یہ مواد سے بحث ہی نہیں کرتی کہ وہ درست ہے یا نہیں۔ اِس منطق میں دونوں دعووں کی صداقت کو جانچنے کا مرحلہ نہیں آتا۔<br>
قضایہ (جملوں/دعوں) کی صداقت اور صحت کی جانچ پڑتال “استقرائی” (inductive) منطق کا کام ہے۔ مولوی صاحبان نے “استقرائی منطق” نھیں پڑھی ہوتی۔ یہ صرف ارسطو کی “استخراجی منطق” کو سمجھے ہوتے ہیں، وہی مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ بس جیسے تیسے دو باتیں سُنیں، اُن کی صحت جانچے بنا، خود ہی نتیجہ نکال لیا، گویا خود ہی مدعی، خود ہی منصف۔<br>
ایک اور مثال دیتا ہوں، زید شرابی ہے۔ (پہلا دعویٰ) ہر شرابی فاسق ہوتا ہے۔ (دوسرا دعویٰ) ایسے میں ارسطو کی منطق بتاتی ہے کہ اِن دو باتوں کو جوڑیں</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زید شرابی ہے (صغریٰ(<br>
ہر شرابی فاسق ہے (کُبریٰ(<br>
نتیجہ: زید فاسق ہے، نکلتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اب دونوں دعووں کی صحت اور چھان پھٹک کی ذمہ دار ارسطو کی منطق نہیں۔ یہ کام استقرائی منطق کا ہے، جس سے علمائے کرام غافل ہوتے ہیں، ایسے میں دعووں کی چھان پھٹک کیے بغیر، وہ اندھا دھند اِنہیں جوڑ کر خود ہی نتیجے نکال کر فتاویٰ داغتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">میں نے جب بھی کسی کے خلاف فتاویٰ دیکھے، فوری ذہن میں آیا کہ یہ سب ارسطو کی منطق کے سوچے سمجھے بغیر استعمال کیا دھرا ہے کہ بس مولوی صاحب کے کان میں کوئی بھنک پڑی تو اُنھوں نے فوری دوسرا دعویٰ نتھی کیا اور نتیجہ نکال لیا۔<br>
چند مزید مثالیں:</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زید نے کدو کی توہین کی ہے (پہلا دعویٰ)<br>
کدو کی توہین کفر ہے (دوسرا دعویٰ، کیونکہ کدو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسند تھا۔ یہ دعویٰ بھی مولوی صاحب کی اپنی اختراع یا سُنا سُنایا ہے)<br>
نتیجہ: زید کافر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">زید نے صحابی کی توہین کی/ گالی دی (پہلا دعویٰ، اِس کی ویری فیکیشن بھی نہیں کی گئی)<br>
صحابی کی توہین کفر ہے (دوسرا دعویٰ، اس کی تصدیق بھی نہیں کی گئی)<br>
نتیجہ: زید کافر ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اِن مثالوں میں پانچ دعوے تھے۔<br>
1۔ قادیانی کافر ہیں<br>
2۔ زید نے کدو کی توہین کی ہے<br>
3۔ کدو کی توہین کفر ہے<br>
4۔ زید نے صحابی کی توہین کی<br>
5۔ صحابی کی توہین کفر ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">مولوی صاحبان ارسطو کی منطق پڑھ کر، خود مدعی، خود ہی منصف بننے کی روش پر گامزن ہوجاتے ہیں، اپنے دعووں کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے منظم سائنسئ انداز میں تحقیق نہیں کی ہوتی، اُن کا زور صرف جملوں کو ترتیب دینے پر ہوتا ہے۔</div>
<div class="urdutext">اِن کے صحیح ہونے یا غلط ہونے کی بحث، ارسطو کی منطق میں کی ہی نہیں جاتی۔ قضایا (دعووں) کی صحت و عدمِ صحت کی بحث، استقرائی منطق میں کی جاتی ہے، جو مدارس میں نھیں پڑھائی جاتی۔ گویا مولوی صاحبان ارسطو کی منطق پڑھ کر، خود مدعی، خود ہی منصف بننے کی روش پر گامزن ہوجاتے ہیں، اپنے دعوں کے صحیح یا غلط ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے منظم سائنسئ انداز میں تحقیق نہیں کی ہوتی، اُن کا زور صرف جملوں کو ترتیب دینے پر ہوتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ منطق کا علم اب ارسطو کی منطق سے بہت ترقی کر کے ایک بہت مختلف شکل اختیار کر چکا ہے۔ اور مدارس میں جس طرح منطق پڑھائی جاتی ہے اور جس طرح اسے فتوی سازی میں استعمال کیا جاتا ہے وہ نہایت نقصان دہ ہے۔ مدارس میں جدید منطقی علوم پڑھانے کی اشد ضرورت ہے وگرنہ ہماری مذہبی فکر کا جمود برقرار رہے گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%b7%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%90-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/">ارسطو کی منطق اور علماء و مفتیانِ کرام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%b7%d9%88-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%86%d8%b7%d9%82-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b9%d9%84%d9%85%d8%a7%d8%a1-%d9%88-%d9%85%d9%81%d8%aa%db%8c%d8%a7%d9%86%d9%90-%da%a9%d8%b1%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b4%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%b3%d9%8f%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c%d8%aa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b4%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%b3%d9%8f%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c%d8%aa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[امجد عباس]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Aug 2016 05:24:04 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Shia Sunni conflict]]></category>
		<category><![CDATA[Shia Sunni split]]></category>
		<category><![CDATA[شیعہ سنی اختلافات]]></category>
		<category><![CDATA[شیعہ سنی تقسیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=17270</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">امجد عباس: اسلام میں شیعہ اور سُنی دو بڑے فرقے شروع سے موجود رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت و جانشینی کے سیاسی نوعیت کے اختلاف سے یہ اُمت کھُل کر اِن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%b3%d9%8f%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c%d8%aa/">شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف پشاور اور اقبال بین الاقوامی اداہ براے تحقیق و مکالمہ کے زیر اہتمام باڑا گلی میں تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس “بین المسالک برداشت و ہم آہنگی: اسلام میں آدابِ اختلاف” میں “شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت” کے موضوع پر تفصیل سے گفتگو کا موقع مِلا، اس گفتگو کا خلاصہ قارئین کے لیے پٌیشِ خدمت ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ اسلام میں شیعہ اور سُنی دو بڑے فرقے شروع سے موجود رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت و جانشینی کے سیاسی نوعیت کے اختلاف سے یہ اُمت کھُل کر اِن دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ عہدِ رسالت میں شیعیت ایک رجحان (trend) کے طور پر صحابہ کرام کی ایک جماعت میں متعارف تھی۔ چنانچہ کئی صحابہ کرام کے متعلق ملتا ہے کہ وہ حضرت علی اور اہلِ بیت کی دیگر تمام صحابہ پر افضلیت کے قائل تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ (اثنا عشریہ بالخصوص) اور سُنی فرقوں میں ایمانیاتِ ثلاثہ جیسے توحید، نبوت اور قیامت پر ایمان میں کوئی اختلاف نہیں ہے، مسلمان ہونے کے لیے توحید، نبوت اور قیامت پر ایمان لانا کافی و وافی ہے، چنانچہ دونوں فرقے مسلمان ہیں، اُصولِ عقائد میں بھی کوئی اساسی اختلاف نہیں ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ اور سُنی فرقوں میں عقائد میں فروعی نوعیت کے اختلافات موجود ہیں، جیسے عدلِ خداوندی کا مسئلہ، امامت و خلافت، بداء اور قضا و قدر، صفاتِ خداوندی کی کیفیت، رؤیتِ باری تعالیٰ وغیرہ لیکن ایسے اختلافات سُنی کلامی فرقوں جیسے معتزلہ، اشاعرہ، ماتریدیہ اور اہلِ ظواہر کے درمیان بھی موجود ہیں، لیکن کسی کلامی مکتب نے دوسرے کی تکفیر نہیں کی، چنانچہ ایسے اختلافات کی بنا پر تکفیر ہرگز جائز نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ و سُنی فقہ میں اُسی طرح اختلاف ہے جیسے سُنی فقہوں کا آپس میں اختلاف۔۔۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ و سُنی دونوں فرقوں کے نزدیک قرآن و سُنتِ نبوی بنیادی مآخذِ فقہ شمار ہوتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ فقہ کے مرتب امام جعفر صادق جبکہ اہلِ سنت کی چاروں فقہوں کے مرتب آئمہ اُن کے براہِ راست یا بالواسطہ شاگرد ہیں، نیز اُن کی اعلمیت اور فضل و کمال کے معترف بھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ اور سُنی دونوں فرقوں نے ایک دوسرے کے خلاف بہت کچھ لکھا اور دونوں طرف بہت سی غلط فہمیاں عوامی سطح پر پائی جاتی ہیں، دونوں کو ایک دوسرے کی اساسی کتب سے دوسرے کے متعلق معلومات لینی چاہیں نہ کہ اپنی مناظرانہ کتب سے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ اور سُنی علماء جب رواداری و ہم آہنگی کی بات کرتے ہیں تو سُنی حضرات سمجھتے ہیں کہ شیعہ تقیہ کرتے ہیں جبکہ شیعہ حضرات سمجھتے ہیں کہ سُنی منافقت کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ عام سُنی حضرات سمجھتے ہیں کہ شیعہ توہینِ صحابہ کرتے ہیں، جبکہ عام شیعہ حضرات سمجھتے ہیں کہ سُنی توہینِ اہلِ بیت کرتے ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ اور سُنی عوام، ایک دوسرے سے عام طور پر سماجی تعلقات ختم کر لیتے ہیں، یہ مشرکینِ مکہ کی بُری روش ہے، ہمیں سماجی تعلق کو استوار کرنا ہے، ایک دوسرے کی خوشی و غمی میں شریک ہونا ہے، ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ شیعہ اور سُنی فرقوں میں عصرِ حاضر کے معروف عرب فقیہ اُستاذ وھبۃ الزُحیلی کے بقول صرف 17 فقہی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے، شیعہ فقہ کو اہلِ سنت کی چاروں، پانچوں فقہوں کے ساتھ موازنہ کریں تو بہت مشترکات موجود ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ حضرت علیؑ کے دور میں خوارج کا فتنہ اُبھرا، اُنہوں نے آپ کی تکفیر کی، سب و شتم کیا لیکن آپ نے اُنہیں کافر قرار نہ دیا، جب خوارج نے قتال کیا تو آپ نے بھی جنگ کی، لیکن اُن کے مرنے والوں کا جنازہ پڑھایا، تدفین کی، زخمیوں کی مرہم پٹی کا بندوبست کیا، بھاگنے والوں سے تعرض نہ کیا۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ایسے شنیع افعال سے کوئی کافر نہیں ہو جاتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ مؤول (تاویل کرنے والا) اور قائل بالشبہ (کسی علمی مغالطے کی وجہ سے کسی غلطی کے شکار) کی تکفیر نہیں کی جا سکتی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ ہمیں منصوص/غیر منصوص، اجماعی/غیر اجماعی اور اجتہادی اُمور میں فرق کرنا ہوگا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ اسلام میں رائج مُسَلَم فرقوں کی تکفیر غیر شرعی ہے، ہمیں اِس سے اجتناب کرنا ہوگا، جیسے ہم اپنی بات و روایت کی تاویل و تشریح کا حق رکھتے ہیں، دوسرے کی بات و روایت کی تاویل و تشریح کا بھی اُسے حق دیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ قرآنِ مجید، کتبِ اربعہ، صحاحِ ستہ وغیرہ حدیثی کتب امت کی مشترکہ علمی میراث ہیں، ہمیں اِس علمی وراثت سے استفادہ کرنا چاہیے، ہم دیکھتے ہیں کہ قدماء محدثین نے سبھی سے روایات لی ہیں۔ شیعہ کتب میں سُنی راویوں جبکہ سُنی کتب میں شیعہ راویوں کی روایات موجود ہیں، جبکہ کافر کی روایت کے نہ لینے پر دونوں متفق ہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ اہلِ بیتِ اطہار، امہات المؤمنین، صحابہ کرام، فقہاء اور محدثین کا احترام سبھی پر لازم ہے، علمی اختلاف اور توہین میں فرق ہوتا ہے، ہمیں توہین سے اجتناب کرنا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ ہمیں ماضی کے مسائل سے نکل کر، آج کے جدید مسائل کا اسلامی تعلمیات کی روشنی میں حل نکالنا ہے، ہمیں وقت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، آج ہمارا جوان مذہب بیزار ہو رہا ہے، ہمیں اعلیٰ دینی اقدار پر عمل کرنا اور اُنھیں منظرِ عام پر لانا ہے۔ آج ہمیں درپیش چیلنجوں کا حل نکالنا ہے، ہمیں انسانیت کی فلاح و بہبود پر توجہ دینا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">٭ اِنما المؤمنون اِخوۃ کے تحت ہمیں ایک دوسرے کو بھائی بھائی جاننا چاہیے، اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b4%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%b3%d9%8f%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c%d8%aa/">شیعہ سُنی اختلافات کی نوعیت</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b4%db%8c%d8%b9%db%81-%d8%b3%d9%8f%d9%86%db%8c-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%81%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d9%86%d9%88%d8%b9%db%8c%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
