<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>علی آزاد, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/ali-azad/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 17:11:35 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>علی آزاد, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>ہمارا بڑھاپا کیسا ہو گا؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%a7%d9%be%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88-%da%af%d8%a7%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%a7%d9%be%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88-%da%af%d8%a7%d8%9f/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی آزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 14 Jan 2016 09:05:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Technology and Old age]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیکنالوجی اور بڑھاپا]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=14519</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">موسیقی سننے کے نت نئے آلات، فلم بینی کے نئے انداز اور باخبر رہنے کے جدید ذرائع کوئی پتہ نہیں کب مجھے فرسودہ اور دقیانوسی بنا دیں ؟ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%a7%d9%be%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88-%da%af%d8%a7%d8%9f/">ہمارا بڑھاپا کیسا ہو گا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">میں اپنے ابا کو دفنانے کے بعد سے اکثر سوچتا ہوں کہ میری نسل کا بڑھاپا کیسا ہو گا؟ اس نسل کا جو ٹیکنالوجی سے گریزاں نسلوں کی وہ اولادیں ہیں جنہوں نے خوشی خوشی یا باامر مجبوری برقی آلات کو بچپن میں ہی ہم جولی بنالیا تھا۔ میرے چچا کا گھر وہ پہلا گھر تھا جس نے گاوں سے نکل کر پہلے ریڈیو، پھر ٹی وی، پھر فون، کمپیوٹر اور پھر موبائل خریدا۔ کیبل لگوائی اور پھر انٹرنیٹ بھی۔ اور اسی گھر میں میں نے اور میرے عم زادوں نے وی سی آر پر گبر سنگھ کو ہارتے بھی دیکھا ہے اور شاہ رخ خان کو سی ڈی پلیئر پر دلہنیا لے جاتے بھی۔ ہم نے جورے بھٹی اور باسو کمہار کو بھی دیکھا اورنجی سناری سے پہلے پہلے عشق بھی لڑائے۔ ہم نے سانپ والی اولین موبائل گیم کا اختتام بھی کیا اور سٹریٹ فائٹر کے سب فارمولے بھی ازبر کیے۔ لیکن اس سب کے باوجود میرا بڑھاپا میرے باپ کے بڑھاپے سے کس قدر مختلف ہو گا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">مجھے نہیں پتہ کہ اگلے دس، بیس، تیس اور شاید چالیس سال کے بعد میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہمارا بڑھاپا کس قسم کا ہوں گا۔ کیا میرے لیے ورچوئل ریلیٹی، مریخ پر زندگی، مصنوعی ذہانت، خود کار کاریں اور چلتے پھرتے روبوٹ اتنے ہی اجنبی ہوں گے جس قدر میرے ابا کے لیے ٹچ سکرین موبائل اور انٹرنیٹ تھے؟</div>
<div class="urdutext">فلاپی سے 128 جی بی کی فلیش ڈرائیو کا سفر میرے لڑکپن سے جوانی تک کی مختصر سی کہانی ہے اور پی ون Compaq سے آئی فائیو ایچ پی تک کتنی ہی پائیریٹڈ ونڈوز میں نے اپنے ہاتھوں سے کی اور برباد کی ہیں۔ پاک نیٹ سکریچ کارڈ کی کھسی سپیڈ پر سلیزی ڈریم اور دیسی بابا ڈاٹ کام سے لے کر پی ٹی سی ایل ان لمیٹڈ پیکج پر پورن ہب پر ایچ ڈی میں میا خلیفہ تک میری جوانی کی تنہائیاں رنگین ہیں۔ 25 روپے والی کیسٹ سے 25 روپے کی ایم پی تھری سی ڈی تک کا عرصہ ہمارے لیے محض ایک میڈیم سے دوسرے میڈیم تک جانے کا معاملہ تھا جو شاید ایک دکان چھوڑ کر دوسی دکان سے ٹافیاں خریدنے جتنا ہی آسان تھا لیکن میرے ابا کی نسل کے لیے نورجہاں کی کیسٹ سے مفت ڈاون لوڈ کردہ ایم پی تھری تک جانے کا معاملہ ایک سیارہ چھوڑ کر دوسرے سیارے پر رہائش رکھنے جیسا تھا۔ ٹیکنالوجی سے ناواقفیت پر شرمندگی کے تمام مراحل میں نے اپنے لڑکپن میں ہی طے کر لیے تھے جو اباجی پانچ برس میں بھی طے نہ کر سکے۔ ونڈو 95 سے ونڈو ٹین تک کی سیڑھیاں میں نے جست لگا کر طے کر لیں لیکن میرے ابا کے لیے کمپیوٹر آخری عمر تک ٹائپ رائٹر اور ٹی وی سے مشابہ ہی رہا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">لیکن اس سب کے باوجود۔۔۔۔۔ ہمارا بڑھاپا کیسا ہو گا؟ میں نے اپنے باپ کو بوڑھے ہوتے دیکھا ہے اور اس کا بڑھاپا اس ٹیکنالوجی سے گریز کا بڑھاپا تھا، وہ آخری عمر تک بھی موبائل پر کال ریسیو کرنے سے گھبراتے تھے، اخبار پڑھتے تھے اور پی ٹی وی پر خبرنامہ دیکھ کر سو جاتے تھے۔ انہوں نے پہلے ریڈیو اور پھر اپنی آخری عمر میں کس مشکل کے ساتھ ٹی وی کو قبول کیا یہ اپنی جگہ ایک اہم تاریخی واقعہ ہے مگر بٹن اور مشین کے مابین بغیر تار کا تعلق ان کے شعور کا حصہ نہیں بن سکا۔ وہ چینل بدلنے سے پہلے ریموٹ پر مطلوبہ بٹن ڈھونڈنے کے بعد بھی کئی بار دبانے سے پہلے سوچتے تھے اور دبانے کے بعد بھی انہیں اکثر یقین نہیں ہوتا تھا کہ آیا درست بٹن دبایا ہے یا نہیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">پھر بھی انہیں دفنانے کے بعد مجھے بار بار یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا بڑھاپا کیسا ہو گا۔ گو ہماری نسل ٹیکنالوجی سے گریزاں نہیں بلکہ نت نئی ٹیکنالوجی اور آلات کی رسیا ہے۔ ہمارے لیے شاید اب کسی بھی نئی تکنیک میں حیرت کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ ہم اب کسی بھی بٹن کو دبانے سے پہلے ڈرتے نہیں، ہمیں یقین ہوتا ہے کہ اس بٹن کو دباتے ہی مطلوبہ نتائج مل جائیں گے۔ ہمیں بٹن سے ٹچ سکرین پر آنے میں چند دن لگے لیکن میرے ابا کے لیے تار والے ٹیلی فون سے بغیر تار والے موبائل تک پہنچنے کا واقعہ اتنا سہل اور معمولی نہیں تھا۔ میں نے اکثر انہیں بڑے بھائی کے دلائے پہلے نوکیا سیٹ کے بٹنوں پر انگلیاں پھیرتے اور کال وصول کرنے کا درست بٹن پوچھتے دیکھا تھا۔ کی پیڈ کا گھس جانا ان کے لیے ٹیکنالوجی کی دنیا اندھیر ہو جانے کے مترادف تھا۔ انہیں اکثر یہ گلہ کرتے سنا کہ ان کے جاپانی ریڈیو کی آواز اب صاف نہیں رہی اور کوئی کاریگر اسے ٹھیک بھی نہیں کر کے دیتا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ایک تسلی یہ بھی ہے کہ اگر اس بے لگام، سبک رفتار اور مشین پرست نسل کا بچپن اور جوانی اگر چند سکرینوں کے سامنے گزر سکتا ہے تو پھر بڑھاپا بھی کسی نہ کسی نئی ایجاد کے سہارے کٹ جائے گا۔</div>
<div class="urdutext">مجھے نہیں پتہ کہ اگلے دس، بیس، تیس اور شاید چالیس سال کے بعد میں ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہمارا بڑھاپا کس قسم کا ہوں گا۔ کیا میرے لیے ورچوئل ریلیٹی، مریخ پر زندگی، مصنوعی ذہانت، خود کار کاریں اور چلتے پھرتے روبوٹ اتنے ہی اجنبی ہوں گے جس قدر میرے ابا کے لیے ٹچ سکرین موبائل اور انٹرنیٹ تھے؟ کیا میں ٹیکنالوجی کے سبک رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر حیرت کے سب امکانات سے ماورا ہو جاوں گا یا پھر اپنے ابا کی طرح بمشکل ہانپ ہانپ کر اپنی شرمندگی بچانے کے لیے نت نئے آلات کو قبول کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا؟</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اور پھر میرے حواس اور صحت کے معاملات کا کیا ہوگا؟ میرے ابا کی نسل کے لوگ اپنی آخری عمروں میں کولا مشروبات، بناسپتی گھی، ڈبے میں بند کھانوں، مصنوعی حرارت اور خنکی اور ڈیجیٹل سکرینوں سے متعارف ہوئے لیکن ہم نے تو اپنے لڑکپن میں ہی فاسٹ فوڈ چکھ لیا تھا، کولا مشروبات کے عادی ہو گئی تھے اور ڈبے میں بند خوراک کو کھلی چیزوں پر ترجیح دینے لگے تھے اور ہماری آنکھوں نے تو ڈیجیٹل پردے پر ہی اپنا بیشتر وقت گزارنا شروع کر دیا ہے۔۔۔۔ ہمارے حواس، ہمارے اعصاب، ہمارے معدے اور ہمارے قویٰ کیسے ہوں گے؟ عین ممکن ہے کہ ہم بہت سی بیماریوں کے علاج دریافت کر لیں اور موت کے معمے حل کر لیں لیکن مصنوعی ذہانت کے حملے شروع ہو گئے تو ٹیکنالوجی میں پل بڑھ کر جوان اور پھر بوڑھے ہونے والی اولین نسلیں کیا کریں گی؟ عین ممکن ہے کہ ہم ناکارہ سمجھ کر کسی ایسے زمانے میں مقید کر دیئے جائیں جہاں ہمارے لیے ناشناسا آلات، ہماری فہم سے بالاتر ایپلیکیشنز اور ہمارے زمانے سے بعد کی ٹیکنالوجی ممنوع قرار دے دی جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ٹیکنالوجی کی گود میں پلنے والی نسلوں کا بڑھاپا اس ٹیکنالوجی کے ہاتھوں کس حد تک پرآسائش یا تکلیف دہ ہو گا کون جانتا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ میں بھی ای میل اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے پرانے ورژن، اور پرانے سمارٹ فونز کو چلانے والی ایپس کے سہارے ایک نئی دنیا میں بسنے والی اگلی نسل کے لیے اجنبی اور ناکارہ قرار پاوں۔ ایک تسلی یہ بھی ہے کہ اگر اس بے لگام، سبک رفتار اور مشین پرست نسل کا بچپن اور جوانی اگر چند سکرینوں کے سامنے گزر سکتا ہے تو پھر بڑھاپا بھی کسی نہ کسی نئی ایجاد کے سہارے کٹ جائے گا۔ عین ممکن ہے کہ انسان بڑھاپے، موت اور بیماری پر ہی قابو پا لے اور ہمیشہ کی جوانی اور تندرستی حاصل کر لے؟ مگر موسیقی سننے کے نت نئے آلات، فلم بینی کے نئے انداز اور باخبر رہنے کے جدید ذرائع کوئی پتہ نہیں کب مجھے فرسودہ اور دقیانوسی بنا دیں؟ میں بھی اپنے ابا کے جاپانی ریڈیو کی طرح ایک آئی پیڈ ایسا لیے گھومتا رہوں جس کی مرمت کرنے والے کاریگر بھی باقی نہ رہیں؟ مائیکروسافٹ والے ہو سکتا ہے کہ میرے لیپ ٹاپ اور میری ونڈو کے لیے تکنیکی معاونت بند کر دیں اور نئی ونڈو اور نئے پارڈوئیر کی سوجھ بوجھ پیدا کرنے کی سکت مجھ میں نہ ہو؟ ہو سکتا ہے کہ جس طرح میں نے بغیر تار کے چلنے والے چارج ایبل آلات کو اپنے معمولات زندگی میں جگہ دے دی ہے ہو سکتا ہے انسانی دماغ سے کنٹرول ہونے والے آلات یا مصنوعی ذہانت کی حامل مشینیں اور روبوٹ چلانے کے استعمال کو سمجھنے کے لیے تب تک میں بے حد بوڑھا ہو چکا ہوں اور اپنے باپ کی طرح ایک نیم مفلوج اور غیر متعلق زندگی گزار کر مر جاوں۔۔۔۔۔۔۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%a7%d9%be%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88-%da%af%d8%a7%d8%9f/">ہمارا بڑھاپا کیسا ہو گا؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%db%81%d9%85%d8%a7%d8%b1%d8%a7-%d8%a8%da%91%da%be%d8%a7%d9%be%db%81-%da%a9%db%8c%d8%b3%d8%a7-%db%81%d9%88-%da%af%d8%a7%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی آزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 10 Dec 2015 10:47:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[Art and Class Conflict]]></category>
		<category><![CDATA[Class Difference in Pakistan]]></category>
		<category><![CDATA[Culture and Class Conflict]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں طبقاتی تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[ثقافت اور طبقاتی تقسیم]]></category>
		<category><![CDATA[فنون لطیفہ اور طبقاتی تقسیم]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13924</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی 'بو' آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85/">سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="left2pullquote">فیض اور جالب جس عام آدمی کے حالات پر کڑھتے تھے، جدوجہد کرتے تھے، جیلوں میں جاتے تھے اس بیچارے کو نسخہ ہائے وفا خریدنے اور ٹینا ثانی کی آواز میں“ہم دیکھیں گے” سننے کے لیے اپنی دو تین دیہاڑیاں قربان کرنی پڑیں گی۔</div>
<div class="urdutext">مفت میں دیکھے جا سکنے والے فیض امن میلے اور ڈیڑھ سے چار ہزار روپے ٹکٹ والے “صوفی گوسپل نائٹ” کے معیار کا فرق اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ہمارا این جی او زدہ دانشور طبقہ یہ تسلیم کر چکا ہے کہ کچھ چیزیں صرف اشرافیہ اور امراء کے لیے ہیں اور کچھ بچا کچھا استعمال شدہ چھان بورا کلچر “عام آدمی” کو خیرات کیا جا سکتا ہے۔ پارکنگ سے لے کر سرکاری دفتروں تک اور سیرگاہوں سے لے کر شاہراہوں تک ایک ان دیکھی طبقاتی تقسیم رائج ہے جس سے ہم سب واقف بھی ہیں اور شاید اب تسلیم بھی کر چکے ہیں کیوں کہ شاید سہولت اسی میں ہے۔ وہی ثقافت، دستکاریاں، علوم و فنون اور رسم و رواج جو ہمارا عام آدمی صدیوں سے اپنی گزر بسر سے تشکیل دیتا ہے ایک سرمایہ دار کے ہاتھ لگ کر بہت جلد اس کے ہاتھ سے نکل کر منڈی اور پھر منڈی سے ڈرائنگ روموں، تھیٹروں، شاپنگ مالوں اور الحمرا ہالوں میں سینکڑوں اور ہزاروں روپوں میں بکتا ہے۔ فیض اور جالب جس عام آدمی کے حالات پر کڑھتے تھے، جدوجہد کرتے تھے، جیلوں میں جاتے تھے اس بیچارے کو نسخہ ہائے وفا خریدنے اور ٹینا ثانی کی آواز میں“ہم دیکھیں گے” سننے کے لیے اپنی دو تین دیہاڑیاں قربان کرنی پڑیں گی۔ جن کی عمریں پبہاں بھا لنگ گئی ہیں انہیں شاید کوک سٹوڈیو سمجھنے کے لیے اپنی آمدنی میں کم از کم چھ صفروں کا اضافہ کرنا پڑے گا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">ہمیں ہر فرد کو اس سے حاصل ہونے والے منافع کی شرح سے تولنے کی عادت پڑ گئی ہے اور ہم اسی پیمانے پر عزت، احترام اور خوش خلقی کا میٹھا کم یا زیادہ کرتے رہتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم ہر جگہ ہے اور ہر کوئی اسے قبول کر کے اس سے انحراف کرنے کو بدعت سمجھنے لگا ہے۔ ایک پارکنگ والے کو بھی پتہ ہے کہ گاڑی والے سے تمیز سے بات کرنی ہے اور موٹر سائیکل والا اوئے بھی سن ہی لے گا۔ ایک سیکیورٹی گارڈ کو بھی پتہ ہے کہ موٹر سائیکل والے کی جگہ گاڑی آ بھی جائے تو خیر ہے لیکن موٹر سائیکل والا گاڑی والی جگہ پر اپنی پھٹپھٹیا نہیں لگا سکتا کیوں کہ اگر ایسا ہو گیا تو کائنات کا توازن خراب ہو جائے گا۔ دکاندار کو بھی پتہ ہے کہ کب “جی جناب اور مہربانی” کہنا ہے اور کب “لینا ہے تو لو نہیں لینا تو۔۔۔۔۔ آ جاتے ہیں منہ اٹھا کر” کہنا ہے۔ ہمیں ہر فرد کو اس سے حاصل ہونے والے منافع کی شرح سے تولنے کی عادت پڑ گئی ہے اور ہم اسی پیمانے پر عزت، احترام اور خوش خلقی کا میٹھا کم یا زیادہ کرتے رہتے ہیں۔ میں نے بارہا سموسے والے کے ہاں ان دھلے سٹیل کے گلاس میں محض اس لیے پانی پیا ہے کیوں کہ میں ان دنوں سائیکل پر آیا کرتا تھا اور میری قمیص کا رنگ کالر اور کہنیوں سے اڑا ہوا تھا اور پھر اسی سموسے والے سے موٹر سائیکل پر بیٹھ کر تقریباً دھلے ہوئے گلاس میں بھی پانی پیا ہے۔ شاید دو چار سال میں میں شیشے کے گلاس میں بھی پانی پیش کیے جانے کا اہل ہو جاوں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہمارے اندر ایک ایسی حس پیدا ہو گئی ہے جو دور سے ہی ہمارے متوقع گاہک کی شکل، صورت، حلیہ اور سواری دیکھ کر ہمیں ہمارے Survival mode میں لے جاتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ایک پجیرو میں بیٹھ کرگزرنے والے کو ناکے پر کیوں نہیں روکنا اور کرسچن کالونی سے آنے والے میلے کچیلے موٹر سائیکل سواروں کو کیوں لازماًروکنا ہے۔ میڈم جی کے لیے دروازہ کھولتے ہوئے یہ احتیاط کیوں کرنی ہے کہ اس کی نظر میلے ناخنوں پر نہ پڑے اور مائی سے کیوں پوچھنا ہے کہ “کی کم اے؟” جوتے دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آنے والا کس “Range” کا گاہک ہے اور کس “Range” کا سامان دکھانے میں زیادہ سے زیادہ کتنی خوش خلقی اور کتنا وقت صرف کرنا ہے۔ ہمارے اوزان، فیتے اور سانچے طے شدہ ہیں۔<br>
ہم نے درخت صرف وہاں لگانے ہیں جہاں سے کاروں والے نکلتے ہیں اور کوڑا صرف وہاں سے اٹھانا ہے جہاں کے مکین خوشبو لگاتے ہیں۔ کون ہیں جو صاف پانی اور سیوریج کے بغیر بھی صبر کر لیں گے اور کہاں کہاں بلاتعطل رواں دواں ٹریفک کے لیے چنگ چی اور سواری والے رکشے کا داخلہ بند کرنا ہے۔ کس کو کس سے بچانا ہے اور کس کو کس طرح بچانے کے لیے کسی اور کو دھر لینا ہے یہ ہر اچھے منتظم کے علم میں ہے۔ کون ہیں جو محض گنتی میں ایک اور کا اضافہ ہیں اور کون ہیں جن کا نام اور چہرہ وزٹنگ کارڈ کے بغیر بھی یاد رکھنا ہے۔ کس کے لیے سڑک کھولنی ہے اور کن کے لیے بند کرنی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ہم جیسوں کو تو اچھے ریستوران میں جا کر بھی ناگوار ذمہ داری سمجھا جاتا ہے اور ہمیں احساس دلایا جاتا ہے کہ شاید ہم غلط جگہ آ گئے ہیں کیوں کہ ہمارا حلیہ بتاتا ہے کہ یہاں کی چیزوں کی قیمتیں ہماری پہنچ سے باہر ہیں۔ ہم نے اکثر لوگوں کو اپنی جانب یوں دیکھتے پایا ہے کہ جیسے اشرافیہ کی مخمل میں ہم پرولتاریہ کا واحد پیوند ہیں جسے یہاں ہونا ہی نہیں چاہیئے یا شاید پیدا ہی نہیں ہونا چاہیئے۔ یہ بھی بارہا سن لیا ہے کہ ہم جاہل اور گنوار ہیں اسی لیے اپنے جیسے بچے پیدا کرتے ہیں اور اپنے جیسے ہی لگتے ہیں اور تبدیلی لانے کے لیے ان کی پسندیدہ جماعت کو ووٹ نہیں ڈالتے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="left2pullquote">یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی ‘بو’ آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟</div>
<div class="urdutext">اگرچہ اب میں سائیکل کی گدی سے اتر کر موٹر سائیکل کی گدی پر بیٹھ گیا ہوں اور اتوار بازار کی سستی کاٹن کی بجائے غیر اتوار بازاری کاٹن کی قمیصیں پہننے لگا ہوں اور اب مجھے ہر سائیکل والا سڑک پر اتنا ہی جاہل اور گنوار اور ٹریفک قوانین سے نابلد لگتا ہے جتنا میں 2D والوں کو لگتا ہوں، مجھے اب شاید ان سب کپ، گلاس اور پرچوں سے کراہت محسوس ہونے لگی ہے جن میں میں کبھی بڑے آرام سے پشاور سے منگائی چائے کی کھلی پتی کا بدذائقہ مرکب پی لیتا تھا لیکن پھر بھی سوال یہ ہے کہ میرے ہونے اور پہچانے اور گنے جانے کے لیے کیا میرا انسان ہونا کافی نہیں؟ مجھے اپنی اہمیت جتانے کے لیے اپنی Financial Statement ساتھ لیے کیوں گھومنا پڑ رہا ہے؟ اپنے ہی ملک کے ریستورانوں، تھیٹر ہالوں اور سیرگاہوں میں داخلے کے لیے بھی اتنے ہی ویزے اور تگ و دو کیوں ضروری ہے جتنی شاید ولایت جانے کے لیے درکار ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ مجھے تعویذ والی چائے بنانی آ گئی ہے اور پتہ چل گیا ہے کہ اپنا موبائل نمبر انگریزی میں ہی بتانا پڑے گا ورنہ کسی کو شاید ہی سمجھ آئے کیوں کہ یہاں اکثر لوگوں کا پچھتر seventy-five ہے اور چورنجاFifty-Four۔۔۔۔ یہ بھی مانا کہ مجھے پتہ لگ گیا ہے کہ جینز استری کر کے نہیں پہنتے، ٹی شرٹ کے نیچے بنیان کا مذاق اڑایا جائے گا اور شلوار قمیص کے ساتھ جوگر پہن کر میں پینڈو ہی لگ سکتا ہوں لیکن پھر بھی میں اپنا ماضی اپنے جسم سے کیسے کھرچ کر پھینک دوں؟ میں کیسے اس بات پر شرمندہ ہونا شروع کر دوں کہ ہمارے کپڑوں سے اب سے کچھ عرصہ پہلے تک بانو سوپ کی ‘بو’ آتی تھی اور میرا سارا بچپن پرچ میں چائے انڈیل کر پیتے گزرا ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85/">سماجی مظاہر کی طبقاتی تقسیم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac%db%8c-%d9%85%d8%b8%d8%a7%db%81%d8%b1-%da%a9%db%8c-%d8%b7%d8%a8%d9%82%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%aa%d9%82%d8%b3%db%8c%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیا ہم منٹو کو اپنانے کو تیار ہیں؟</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d9%85%d9%86%d9%b9%d9%88-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d9%85%d9%86%d9%b9%d9%88-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی آزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 12 Sep 2015 14:42:51 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان میں منٹو]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی سینما]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی فلمیں]]></category>
		<category><![CDATA[ٹوبہ ٹیک سنگھ]]></category>
		<category><![CDATA[سرمد سلطان کھوسٹ]]></category>
		<category><![CDATA[سینماٹوگرافی]]></category>
		<category><![CDATA[منٹو]]></category>
		<category><![CDATA[نورجہاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12571</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">آپ منٹوسے واقف ہوں یا نہ ہوں، منٹو کو پسند کرتے ہوں یا نہ ہوں، منٹو منٹو کی تکرار سے بیزار ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ منٹو کو ابھی تک پوری طرح دریافت ہی نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ہر صورت میں منٹو ایک ایسی فلم ہے جو دیکھی جانی چاہیئے۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d9%85%d9%86%d9%b9%d9%88-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/">کیا ہم منٹو کو اپنانے کو تیار ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">آپ منٹو سے واقف ہوں یا نہ ہوں، منٹو کو پسند کرتے ہوں یا نہ ہوں، منٹو منٹو کی تکرار سے بیزار ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ منٹو کو ابھی تک پوری طرح دریافت ہی نہیں کیا گیا ۔۔۔۔ہر صورت میں منٹو ایک ایسی فلم ہے جو دیکھی جانی چاہیئے۔ یہ فلم صرف اس لیے اہم نہیں کہ یہ اردو افسانے کے خدا منٹو کی زندگی پر بنائی گئی ہےبلکہ اس لیے بھی قابل دید ہے کیوں کہ یہ سوانحی فلموں میں اب تک کی پاکستانی کی سب سے بہتر فلم ہے۔ سنجیدہ فلم بینوں کے ذہن میں پاکستانی فلموں میں کہانی، ہدایتکاری، عکاسی اور فلمی موسیقی سے متعلق جو تحفظات پائے جاتے ہیں وہ اس فلم کو دیکھنے کے بعد بہت حد تک دور ہوجاتے ہیں۔ منٹو کو پاکستانی سینما پر دوررس اثرت مرتب کرنے والی فلم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اپنے موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بھی یہ پاکستانی سینما کی پہلی فخریہ پیشکش ہے۔ پاکستانی سینما کی بحالی اور فلم سازی کی نئی لہر کے ساتھ یکجہتی کے لیے نئے فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کے طور پر دیکھنے کی بجائے اس فلم کو ایک معیاری فلم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">منٹو کو پاکستانی سینما پر دوررس اثرت مرتب کرنے والی فلم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اپنے موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے بھی یہ پاکستانی سینما کی پہلی فخریہ پیشکش ہے۔</div>
<div class="urdutext">سرمد سلطان کھوسٹ کی یہ فلم شاہد ندیم کے اس ڈرامہ سکرپٹ سے ماخوذ ہے جو اجوکا تھیٹر کے لیے لکھا گیا تھا اور اس سے قبل ‘میں منٹو’ کی صورت میں ٹی وی پر پیش کرنے کے لیے بھی بنایا جا چکا ہے۔ بجاطور پر یہ فلم اب تک پاکستان میں منٹو پر کیے گئے تھیٹراور ٹی وی ڈراموں سے بدرجہا بہتر اور معیاری ہے۔ شاہد ندیم کا لکھا سکرین پلے منٹو کی متنازع مگر اہم کہانیوں اور منٹو کی پاکستان آمد کے بعد کی زندگی پر مشتمل ہے۔ فلم کی کہانی منٹو کی کہانیوں اور منٹو کی سوانح کے تانے بانے پر مشتمل ہے۔ فلم منٹو کی ذاتی زندگی کے ان پہلووں کو بھی سامنے لاتی ہے جن پر کم بات کی گئی ہے؛ میڈم نورجہاں سے ان کا تعلق، مقدمات ، مے نوشی، خانگی حالات اورنفسیاتی الجھنیں اس فلم میں منٹو کو نئی نسل سے متعارف کرانے کے لیے ایک موزوں تعارف بن جاتی ہیں۔ فلم میں منٹو کی اہم کہانیوں ٹھنڈا گوشت، لائسنس ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ہتک، کھول دو، اوپر نیچے درمیان اور پشاور سے لاہور تک سے استفادہ کی گیا ہے اور ان کہانیوں کی فلم بندی بھی کی گئی ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">فلم تکنیکی اعتبار سے بھی بے حد عمدہ ہے۔ منٹو دیکھتے ہوئے بیشتر نئی پاکستانی فلموں کی طرح یہ احساس نہیں ہوتا کہ آپ بڑی سکرین پر ایک ٹی وی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں</div>
<div class="urdutext">فلم تکنیکی اعتبار سے بھی بے حد عمدہ ہے۔ منٹو دیکھتے ہوئے بیشتر نئی پاکستانی فلموں کی طرح یہ احساس نہیں ہوتا کہ آپ بڑی سکرین پر ایک ٹی وی ڈرامہ دیکھ رہے ہیں۔ فلم کی سینماٹوگرافی، ہدایتکاری، موسیقی اور تدوین سبھی پاکستانی سینماکے لیے اجنبی ہیں اور شاید ہی پاکستان میں پہلے کبھی اس طرز کی فلم پیش کی گئی ہو۔ سرمد سلطان کھوسٹ کی اداکاری اوسط سے کچھ بہتر درجے کی تھی مگر ان کی ہدایتکاری کی صلاحیتوں پر کوئی شبہ نہیں۔ جس عمدگی سے انہوں نے ٹھنڈا گوشت، اوپر نیچے درمیان، لائسنس اور ہتک فلمائے وہ قابل تعریف ہیں۔ فلم کی موسیقی کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ جمال رحمان کی مرتب کردہ موسیقی منٹو کی کہانیوں میں موجود تلخی اوربے باکی کے ساتھ منٹو کے وجود کے ساتھ جڑی الجھنوں اور نفسیاتی خلفشار کا بھرپور اظہار کرتی ہے۔ اس فلم کے تمام گیت عمدہ ہیں خصوصاً جاوید بشیر کی آواز میں ریکارڈ کی گئی مجید امجد کی نظم “کون ہے یہ گستاخ” ایک شاہکار ہے۔ اس کے علاوہ میشا شفیع کی آواز میں شیو کمار بٹالوی کا گیت” محرم دلاں دے ماہی ” اور علی سیٹھی کی گائی غالب کی غزل “آہ کو چاہیئے ” بھی عمدہ ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">منجھے ہوئے اداکاروں کے باوجود اگر کوئی شعبہ اس فلم میں کم زور رہا ہے تو وہ مکالموں کی ادائیگی اور کاسٹیوم کا ہے</div>
<div class="urdutext">اگرچہ بعض مقامات پر مکالموں کی ادائیگی خصوصاً سرمد سلطان کھوسٹ اور صبا قمر کی اداکاری کم زور ہے لیکن اس کے باوجود دیگر تمام اداکاروں نے اپنے کرداروں سے انصاف کیا ہے خصوصاًمنٹو کی ہمزاد کا کردار نمرا بچُہ نے بے حد عمدگی سے نبھایا ہے۔ سویراندیم، عرفان کھوسٹ، ثانیہ سعید، فیصل قریشی ا ور نادیہ افگن نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ منجھے ہوئے اداکاروں کے باوجود اگر کوئی شعبہ اس فلم میں کم زور رہا ہے تو وہ مکالموں کی ادائیگی اور کاسٹیوم کا ہے۔ سرمد سلطان بعض جگہوں پر منٹو کے اندرونی خلفشار کی ترجمانی میں ناکام رہے ہیں اور بعض مقامات پر غیر ضروری طور پر اوورایکٹ کرنے کے بھی مرتکب ہوئے ہیں۔اسی طرح صباقمر کسی بھی طرح میڈم نورجہاں کا کردار نبھانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اگر صباقمر نے میڈم جی کو دیکھ رکھا ہے تو انہیں معلوم ہوگا کہ ان کی موجودگی پورے منظر کو اپنی گرفت میں لے لیتی تھی۔ ان کی بھرپورشخصیت کے سامنے پردے پر کوئی اور ٹک نہیں سکتا تھا۔<br>
کاسٹیوم کا شعبہ بھی کم زور ہے، فلم میں کہیں بھی یہ احساس نہیں ہو پاتا کہ یہ گزشتہ صدی کی چالیس اور پچاس کی دہائی کے واقعات ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود فلم اپنے ناظرین وک کسی بھی لمحے منٹو سے جدا نہیں ہونے دیتی۔ اس فلم کی کامیابی یہ ہے کہ یہ منٹو سے ناواقف افراد کو بھی منٹو کی موجودگی کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس فلم کے بننے اور کامیاب ہونے کے بعد کیا ہم یہ تصور کرسکتے ہیں کہ اب معاشرہ منٹو کو پڑھنے ، تسلیم کرنے اور فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اپنانے کو بھی تیار ہے؟</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d9%85%d9%86%d9%b9%d9%88-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/">کیا ہم منٹو کو اپنانے کو تیار ہیں؟</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%db%8c%d8%a7-%db%81%d9%85-%d9%85%d9%86%d9%b9%d9%88-%da%a9%d9%88-%d8%a7%d9%be%d9%86%d8%a7%d9%86%db%92-%da%a9%d9%88-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1-%db%81%db%8c%da%ba%d8%9f/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کوک سٹوڈیو، کاروبار اور ثقافتی بخار</title>
		<link>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%da%a9-%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%db%8c%d9%88%d8%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%da%a9-%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%db%8c%d9%88%d8%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[علی آزاد]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 05 Sep 2015 08:05:52 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پروڈیوسرز]]></category>
		<category><![CDATA[ٹیگز ٹرینڈ]]></category>
		<category><![CDATA[کاروباری]]></category>
		<category><![CDATA[کلچر]]></category>
		<category><![CDATA[کوک سٹوڈیو]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12418</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">کوک سٹوڈیو کے پروڈیوسرز ڈیفنس کے ان بچوں جیسے ہیں جو سال میں ایک مرتبہ گرمی کی چھٹیوں پر اپنے ممی پاپا کے "ویلج " جاتے ہیں اور وہاں "کاوز" اور "ٹیوب ویلز" اور "فیلڈز" دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%da%a9-%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%db%8c%d9%88%d8%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1/">کوک سٹوڈیو، کاروبار اور ثقافتی بخار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">کوک سٹوڈیو کے پروڈیوسرز ڈیفنس کے ان بچوں جیسے ہیں جو سال میں ایک مرتبہ گرمی کی چھٹیوں پر اپنے ممی پاپا کے “ویلج ” جاتے ہیں اور وہاں “کاوز” اور “ٹیوب ویلز” اور “فیلڈز” دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ یہ بچے وہاں سیلفیاں لیتے ہیں، لسی پیتے ہیں اور #ourcultureisawsome یا #proudofmyroots جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈکرتے ہیں۔ یہ اپنے گٹار پر چند ٹپےماہیے گاتے ہیں، سر پر چارے کی گٹھڑی دھر کر تصویریں لیتے ہیں اور ٹیوب ویل پر نہاتے ہیں مگرکلچر کا یہ سالانہ بخار ایک ہفتے میں ہی اتر جاتا ہے اور پھر انہیں اپنے آرام دہ کمرے یاد آجاتے ہیں۔ یہ بچے “آفٹر ہیونگ سو مچ فن” واپس لوٹ جاتے ہیں۔ کوک سٹوڈیو بھی ہر برس سالانہ لوک ثقافت کے بخار کے زیر اثرچند لوک دھنیں گٹار اور ڈرم پر بجا کر لاکھوں لائیکس، ہزاروں شیئرز اور ٹویٹر ٹرینڈ کے ہم راہ لوٹ جاتا ہے۔<br>
اگرچہ کوک سٹوڈیو کا فلسفہ عمدہ، اہم اور ضروری ہے لیکن جس انداز میں لوک دھنوں، عارفانہ کلام اور ماضی کے معروف گیتوں کو نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے وہ نہ خاصا قابل اعتراض ہے۔ بہت سے اچھے گیتوں کو چھوڑ کر کوک سٹوڈیو کے حالیہ اور گزشتہ سیزن میں جس گھسے پٹے انداز میں معروف گیتوں کو نئے ڈھنگ سے پیش کرنے کی فارمولہ کوششیں کی گئی ہیں وہ اپنی جگہ کوفت کا باعث ہے۔ جہاں ایک جانب فرید ایاز اور ابومحمد نے قوالی کی دم توڑتی روایت کو مقبولیت کی ایک نئی لہر بخشی وہیں ہم نے عاطف اسلم اور کومل رضوی جیسے گلوکاروں کے ہاتھوں میرا اے چرخہ نولکھا، زاہد نے میرا حاصل ایماں نہیں دیکھا اور وش ملے جیسے گیتوں کو تباہ ہوتے بھی سنا ہے۔ یہ اور کوک سٹوڈیو کے اس جیسے گیت نہ تو ہماری لوک اور کلاسیکی موسیقی کے تقاضے پورے کرتے ہیں اور نہ ہی فیوژن کی صنف کے معیارات پر پورے اترتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">بہت سے اچھے گیتوں کو چھوڑ کر کوک سٹوڈیو کے حالیہ اور گزشتہ سیزن میں جس گھسے پٹے انداز میں معروف گیتوں کو نئے ڈھنگ سے پیش کرنے کی فارمولہ کوششیں کی گئی ہیں وہ اپنی جگہ کوفت کا باعث ہے</div>
<div class="urdutext">روحیل حیات کے پروڈیوس کردہ چند گیتوں اور سٹرنگز کے بیشتر گانوں کو سن کر یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ یہ حضرات پاکستانی پاپ موسیقی کے اسرارورموز سے تو اچھی طرح واقف ہیں لیکن مشرقی موسیقی کی نزاکتوں سے بے بہرہ ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان گیتوں کا مقصد کسی بھی طرح موسیقی کے ذریعے انسان کی حس جمالیات کی تسکین یا سُرودیا کی روحانیت کی ترسیل نہیں بلکہ محض زیادہ سے زیادہ لائیکس، شیئرز اور کمنٹس ہیں۔ بیشتر گیتوں میں یہ عمومی رحجان حاوی نظر آتا ہے جس کے تحت فیوژن یا امتزاج کا مطلب بس طبلے کے ساتھ ڈرم بجانا اور انترے استھائی کے درمیان بانسری بجوانا سمجھ لیا گیا ہے۔ گو روحیل حیات اور سٹرنگز دونوں اپنی اصناف میں پاکستان کے مایہ ناز موسیقار ہیں اور وہ پاپ موسیقی کے مغربی اور پاکستانی مزاج سے بخوبی آگاہ ہیں مگر شاید ان اصحاب کو مشرقی موسیقی کا مذاق نہیں ۔ ممکن ہے کہ کاروباری تقاضے لوک دھنوں اور مشرقی موسیقی کو ان کے اصل رنگ میں پیش کرنے میں مانع ہوں لیکن کیا اس طرح اس پروگرام کا بنیادی مقصد فوت نہیں ہو جاتا جو ہماری مٹی سے پھوٹنے والے گیتوں کو نئی نسل تک پہنچانے سے متعلق ہے؟</div>
<div class="leftpullquote">بیشتر گیتوں میں یہ عمومی رحجان حاوی نظر آتا ہے جس کے تحت فیوژن یا امتزاج کا مطلب بس طبلے کے ساتھ ڈرم بجانا اور انترے استھائی کے درمیان بانسری بجوانا سمجھ لیا گیا ہے۔</div>
<div class="urdutext">کوک سٹوڈیو کے کاروباری اور تشہیری پہلو سے قطع نظر یہ بے حد ضروری ہے کہ نئی نسل کو ان کے ثقافتی ورثے سے روشناس کرایا جائےاور کوک سٹوڈیواس کے لیے بہترین پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا تھا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ اگرچہ اس پروگرام میں بعض ایسے گیت پیش بھی کیے گئے جنہوں نے ہماری ثقافت کے مختلف رنگ اجاگر کیے لیکن زیادہ تر گیتوں میں مغربی ڈھنگ مشرقی انگ پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ تمام تر خامیوں کے باوجود بچوں کو صابری برادران، حامد علی بیلا اور نصرت فتح علی خان کی گائی چیزیں سنتے دیکھنا اپنی جگہ ایک تسکین آمیز امر ہے۔ یہ پروگرام اس لیے بھی اہم ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستانی موسیقی کی صنعت ختم ہوچکی ہے گلوکاروں اور سازندوں کو ایک ایسا فورم دستیاب ہے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔لیکن بہتر ہوگا کہ موسیقی کو محض بوتلیں بیچنے یا سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ توجہ حاصل کرنے کی بجائے جمالیاتی تسکین اور فنکارانہ اظہار کے نقطہ نظر سے تخلیق کیا جائے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%da%a9-%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%db%8c%d9%88%d8%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1/">کوک سٹوڈیو، کاروبار اور ثقافتی بخار</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%da%a9%d9%88%da%a9-%d8%b3%d9%b9%d9%88%da%88%db%8c%d9%88%d8%8c-%da%a9%d8%a7%d8%b1%d9%88%d8%a8%d8%a7%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%ab%d9%82%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%8c-%d8%a8%d8%ae%d8%a7%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>2</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
