<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>ابوبکر, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/abu-bakar/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 00:58:13 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>ابوبکر, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>دی جون ایلیا</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%db%8c-%d8%ac%d9%88%d9%86-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%db%8c-%d8%ac%d9%88%d9%86-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 08 Nov 2017 15:03:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Abu Bakar]]></category>
		<category><![CDATA[Jaun Elia]]></category>
		<category><![CDATA[ابو بکر]]></category>
		<category><![CDATA[جون ایلیا]]></category>
		<category><![CDATA[شاید]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=22586</guid>

					<description><![CDATA[<p>ابو بکر: جون پرشور تضادات کا ایسا مجموعہ تھے جس کا کیفتی اظہار صرف شاعری میں ممکن ہے۔ انہوں نے چن چن کر اپنے آپ میں وہ سب جمع کر لیا تھا جس کا بار شعر تو اٹھا سکتا ہے لیکن زندگی نہیں اٹھا سکتی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%8c-%d8%ac%d9%88%d9%86-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7/">دی جون ایلیا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جون ایلیا پر ایک تعزیتی نظم ” ایلیا کو کون جانتا ہے ” میں انور سن رائے نے کہا تھا کہ خودانہدامی پر یقین رکھنے والے زود و بسیار نویس انارکسٹ جون ایلیا کے لیے اب تعزیتی جلسے ہوں گے۔ کیا عجب ہے کہ جون ایلیا صرف اتنا نہیں تھا۔ اس کی مثال تو اس وبا سی ہے جو اپنے گردوپیش کو بھی مرض و موت سےدوچار کرتی ہے۔ وہ ایسی میت ہے جو اپنے نوحہ گروں کو بددعائیں دیتی ہے۔ جون ایلیا بطورشخص ایک استشنائی صورتحال ہے جسے صرف شاعرانہ کمال کے اتفاق کی صورت برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم میں سے ہر تیسرا شخص جون ایلیا بن جائے تو چوتھے دن ہی قیامت آجائے۔نظام دنیا پامال ہوجائے ۔</p>
<p>ایلیا نے زندگی کو ابتدائی صورت میں ہندوستان کے ثقافتی مرکز لکھنو اور امروہہ میں دیکھا ۔ان کا خاندان عالمانہ پس منظر رکھنے کی وجہ سے ایک مخصوص تہذیبی شعور اور ذوق کا حامل تھا۔تاہم ایلیا کی پیدائش کے دنوں میں یہ ثقافتی مراکز تیزی سے اپنے انجام کو پہنچ رہے تھے۔اس سماجی ادھیڑ نے جون کو ایک مریضانہ ناسٹیلجیا میں مبتلا کیا جس سے وہ عمر بھر آزاد نہ ہو سکے۔ ان کے بڑے بھائی تحریک پاکستان کے کارکن تھے۔ایک اور بھائی کمیونسٹ پارٹی سےتعلق رکھتے تھے۔ آزادی کے بعد یہ سب لوگ پاکستان ہجرت کر گئے لیکن جون اپنے والد ین کےپاس امروہہ ہی مقیم رہے۔ ان کی طبیعت اپنے بھائیوں کی طرح تعمیری نہیں تھی۔ وہ بغاوت اور انکار کی بھٹی میں جلتے ہوئے شاعر تھے جو ماضی کے ملبے پرحساب سود و زیاں کرتا ہے۔ والدین کی وفات کے بعد ایلیا نے کراچی ہجرت کی تو ایک اور مرض میں مبتلا ہو گئے۔ دیار بدری کا یہی مرض لاہور میں منٹو اور ناصر کاظمی کو بھی لاحق تھا۔ امروہہ کے ماحول نے جون کو جنم دیا تھا لہذا اس کو برداشت بھی کرتا تھا۔ پاکستان آکر جون کو اپنا پس منظر تخلیق بھی کرنا تھا جو بوجوہ ان کے لیے ممکن نہ تھا۔ جون یہ ماحول نہ بنا سکے اور ایک تاریخی مذاق بن کر رہ گئے۔</p>
<p>جون پرشور تضادات کا ایسا مجموعہ تھے جس کا کیفتی اظہار صرف شاعری میں ممکن ہے۔ انہوں نے چن چن کر اپنے آپ میں وہ سب جمع کر لیا تھا جس کا بار شعر تو اٹھا سکتا ہے لیکن زندگی نہیں اٹھا سکتی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ جون نے اپنی زندگی کا سودا کر کے شاعری خریدی۔ اس المیے کا انہیں خود بھی شعور تھا چنانچہ انہوں نے جتنے سانس لیے پردہ سخن میں لیے۔ وہ جانتے تھے کہ شاعری کی پناہ سے نکل کر زندگی سے سامنا کرنا ان کے بس کی بات نہیں۔ بطور شاعر ان کے کلام میں زندگی کی ان گنت کیفیات اپنی پوری شدت سے موجود ہیں لیکن بطور فرد ان کی زندگی میں کوئی آہنگ موجود نہ تھا۔ وہ نسباً شیعہ تھے لیکن دیوبند سے منسلک ایک مدرسے میں پڑھے اور عمر بھر علمائے دیوبند کی وطن پرست سیاست کے گن گاتے رہے۔ مرتے دم تک ایک ایسی محبوبہ کی تلاش میں رہے جو ان کے عشق میں خودکشی کرے۔جون اپنے معیارات میں بیمار شخص تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ انہوں نے بیماری کو ایک معیار کی صورت پیش کیا۔ اس معیار کو شعر میں پوری شدت سے بیان کرنے کا فن انہوں نے خدائے سخن میر تقی میر سے سیکھا تھا جو اردو ادب میں اس مریضانہ خود پسندی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اپنے عہد کے ترقی پسندوں کے عمومی چلن کے برعکس جون نے ادب میں روایت پسندی اختیار کی اور غزل کو اپنے ذاتی معیار کی حسیت پر ازسرنو ایجاد کیا۔ پرانے موضوعات کی صورت بدلی اور نئی کیفیات کا راستہ نکالا۔ تاہم یہاں بھی ان کی نفی پسندی غالب رہی۔ انہوں نے اپنی شاعری میں جا بجا اعتراف کیا کہ وہ بڑے نہیں ہو سکے اور رائیگاں گزر گئے۔ وہ ایک بچہ تھے جو اپنی روایت میں منجمد ہو گیا تھا۔ ان کی رائیگانی بھی اس روایت کے شکست کا شخصی اظہار تھی۔ جون وہ بچہ تھا جو پرنیت انہماک سے اپنے شکستہ گھر کی بنیادوں میں بارود بھرتا رہا۔ وہ اس گھر کو توانا دیکھنا چاہتا تھا چاہے سب کچھ ملیا میٹ بھی کیوں نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>وہ اعلانیہ ملحد اور نہلسٹ ہونے کے باوجود مذہب کے ساتھ ایک تہذیبی رشتہ رکھتے تھے۔ ان کا الحاد بھی محض الحاد نہیں بلکہ جون ایلیا کا الحاد تھا۔ طبعاً پیکار طلب تھے لہذا ایک مخصوص کائناتی منظر کے اندر ہی زندہ رہنا چاہتے تھے تاکہ ہر لمحہ کسی سے گتھم گتھا رہیں۔ وہ خدا کے قائل نہ تھے لیکن اسے چھوڑ بھی نا سکتے تھے۔ وہ سینے میں بغض پالنے، رنج رکھنے اور شکوہ کرنے کے خوگر تھے۔ وہ خدا کو اتنی آسانی سے منہا نہیں کرنا چاہتے تھے۔ ایسا ہو جاتا تو ان کے کوسنے کے لیے صرف انسان باقی رہتے۔ ایلیا انسان پسند بھی نہ تھے۔ وہ انسان سے نطشے کی طرح مغائرت رکھتے تھے۔ شاید اسی وجہ سے وہ تہذیب کے قائل بھی نہ تھے۔ لکھنوی فضا میں سانس لیتے جون ایلیا کو تہذیب اور تاریخ سے نفرت تھی۔ وہ اسے بیکار کا کھیل سمجھتے تھے لیکن اس کھیل میں بھی بطور کھلاڑی ایک منفرد مقام چاہتے تھے۔ وہ سرتاپا مجموعہ اضداد تھے لیکن اس جہت سے انسان کے فطری روپ کا وہ اظہار تھے جو اپنی حقیقت کے خام ہونے کا شعور رکھتا ہے۔ انہوں نے اس فطری خامی پر مذہب ، تمدن ، روحانیت اور جاہ طلبی کا میک اپ نہ کیا بلکہ ” جیسا ہے جہاں ہے ” کی بنیاد پر پیش کیا۔ وہ نہایت معیار پسند تھے لیکن اس بات کو جان گئے تھے کہ معیار وجود نہیں رکھتے۔ وہ تصور کو بے مایہ اور حقیقت کو لاچار تسلیم کرتے تھے۔ شاعری کے اس شخصی تناظر میں انہوں نے حسی تجربیت سے کام لیا اور نفس انسانی کی عمیق کیفیات کو متصادم صورتحال میں ہی پیش کیا۔</p>
<p>گاہے گاہے بس اب یہی ہو کیا<br>
تم سے مل کر بہت خوشی ہو کیا<br>
کیا کہا عشق جاودانی ہے<br>
آخری بار مل رہی ہو کیا</p>
<p>بطور فرد جون کی زندگی ایک پیچدار ترین موضوع ہے جس پر مفصل گفتگو ایک تحریر میں ممکن نہیں۔ یہی معاملہ جون ایلیا بطور شاعر کے ساتھ بھی ہے۔ اس پر مسلسل گفتگو کی ضرورت ہے۔تاہم کچھ اشارے لازمی محسوس ہوتے ہیں۔</p>
<p>جون ایلیا کا شعری قد ان کی پہلی کتاب ” شاید” کے مناسبت سے طے کیا جائے۔ اگر غالب اور اقبال سمیت دیگر ان گنت شعرا یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کلام کی ترتیب اور انتخاب خود کریں تو یہ حق جون ایلیا کو بھی ہونا چائیے۔ غالب نے اپنی شاعری کا ایک پورا دفتر ضائع کردیا کیونکہ وہ اسے پیش نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یہ حق تمام تخلیق کارو ں کو حاصل ہے۔ میں نے یوسفی صاحب کے بارے میں ایک مصدقہ ذریعے سے سنا ہے کہ وہ طباعت سے پہلے اپنی تحریر کی کانٹ چھانٹ پر انتہائی توجہ دیتے ہیں اور جب تک مطمئن نہ ہوں ایک سطر تک شائع نہیں ہونے دیتے۔ جون ایلیا ایک زود گو شاعر تھے جو طبعاً قادر الکلام تھے۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کئی کئی گھنٹے منظوم گفتگو کرتے تھے۔ اس بات کی تصدیق جناب احمد جاوید سمیت کئی صاحبان فرما چکے ہیں۔ شعر کہنا جون کے ہر سانس کی مشق تھی۔ ایسے میں ان گنت کلام انہوں نے محض ریاضت ، وقت گزاری ، فرمائش اور خواہ مخواہ بھی کہا ہوگا۔ لیکن اپنی کتابوں کی طباعت کے حوالے سے اس قدر حساس تھے کہ ”شاید” کے بعد دوسری کتاب کے لیے پریشان رہتے کہ کیا یہ بھی اتنی ہی مقبول ہوگی یا نہیں۔ تاہم افسوس یہ ہے کہ ان کے چل بسنے کے بعد ان کی شاعری مرتب کرنے والے حضرات اس تخلیقی حساسیت اور لطافت انتخاب سے کماحقہ آگاہ نہیں تھے۔چنانچہ محض قارئین کو خوش کرنے کرلیے جون کا کوئی بھی شعر کہیں سے بھی ملا اسے چھاپ دیا گیا۔ کتاب کا ایڈیشن نکل گیا تو اگلے ایڈیشن میں ”جمع” کے نشان کے ساتھ نودریافت اشعار بھی چھاپے جاتے رہے۔ اس سنگین ترین غلطی نے جون کی ادبی حیثیت کو نہایت نقصان پہنچایا۔ جون کا مقام اگر خلوص نیت سے طے کرنا ہو تو ”شاید” پڑھیے۔</p>
<p>یہی معاملہ ایک بڑی حد تک جون کی نثر کے ساتھ بھی ہے۔ ”فرنود” نامی ان کی کتاب میں وہ تمام اداریے چھاپے گئے ہیں جو بقول شکیل عادل زادہ ضرورتاً لکھے گئے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے فرنود کے چھپنے کا سنا تو نہایت خوش ہوا تھا لیکن جب مطالعہ کیا تو ”شاید” کے دیباچے کا تاثر بھی کمزور پڑنے لگا۔ گزارش یہ ہے کہ ہزاروں سال سے ادیب قارئین کا پیٹ نہیں بھر سکے۔ محض جون کے لکھے کو قارئین تک پہنچانے کے لیے خود جون کے ادبی مقام کو نقصان مت پہنچایا جائے۔</p>
<p>آخر میں عظیم روسی شاعر پشکن کا ایک ترجمہ شدہ اقتباس جو جون ایلیا نے اپنے یار عزیز عبید اللہ علیمؔ کی نذر کیا تھا یہاں نذرِ جون کیا جاتا ہے۔</p>
<p>” کوئی اجر طلب نا کر اس لیے کہ تیرا اجر تیرے سوا کوئی بھی نہیں دے سکتا۔ تو خود ہی اپنے بارے میں داوری اور فیصلہ دہی کرنے والا ہے کہ تیرے بارے میں کوئی بھی تجھ سے زیادہ سخت گیر نہیں ہے۔ اے مشکل طلب شاعر ! کیا تو اپنے کام سے راضی ہے ؟ کیا تو اپنے دل کو خرسند پاتا ہے ؟ اگر ایسا ہے تو بھلا اس کی کیا پرواہ ہے کہ لوگ تجھ سے دشمنی رکھتے ہیں ، تجھے برا بھلا کہتے ہیں۔ احمقوں کو اس عبادت گاہ کی دہلیز پر تھوکنے بھی نہ دے جس کی محراب میں تیرے کمالِ فن کی آگ شعلہ زن ہے۔”</p>
<p>پاس رہ کر جدائی کی تجھ سے<br>
دور ہو کر تجھے تلاش کیا<br>
میں نے تیرا نشان گم کر کے<br>
اپنے اندر تجھے تلاش کیا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%db%8c-%d8%ac%d9%88%d9%86-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7/">دی جون ایلیا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%db%8c-%d8%ac%d9%88%d9%86-%d8%a7%db%8c%d9%84%db%8c%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نکلسن لاٹ کی یاترا</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d9%84%d8%b3%d9%86-%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d9%84%d8%b3%d9%86-%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 26 Oct 2016 10:09:33 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستانی تاریخی مقامات]]></category>
		<category><![CDATA[تاریخی مقام]]></category>
		<category><![CDATA[نکلسن لاٹ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=19010</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ابو بکر: رضا علی عابدی نے اپنے سفرنامے میں یہاں نصب دو تعارفی تختیوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک برطانوی راج نے یادگار بناتے وقت نصب کی تھی دوسری آزادی کے بعد مقامی حکومت کی جانب سے نصب کی گئی۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d9%84%d8%b3%d9%86-%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7/">نکلسن لاٹ کی یاترا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">اسلام آباد سے ٹیکسلا جاتے ہوئے کچھ بیس منٹ کی دوری پہ جی ٹی روڈ کے کنارے مارگلہ کی ایک پہاڑی کی چوٹی پر تاریخ کے ایک قد آور کردار کی بلند تر یادگاری لاٹ کسی بے بازو سورما کی طرح سر بلند کیے ہوئے سن اٹھارہ سو اڑسٹھ سے ہر آتے جاتے کو مسلسل گھور ے جارہی ہے۔ تاہم بہت سالوں سے ہمارا اجتماعی چلن یہ صورت اختیار کرگیا ہے کہ ہم فوری متعلقہ اشیا کے علاوہ ہر شے سے نظر چرا کے چلتے ہیں۔ ایسے میں یہ لاٹ بھی ہماری بے اعتنائی کا شکار ہو کر آج یوں اجنبی سی ہو چکی ہے کہ لگتا ہے جیسے چالیس فٹ بلند پتھر کا یہ مینار کسی خلا میں بے سابقہ و لاحقہ معلق ہے۔ یہاں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بریگیڈئیر جنرل جان نکلسن کی یادگاری لاٹ کا ذکر ہو رہا ہے۔ جان نکلسن سلطنت انگلیشیہ کے ان سپاہیوں میں سے تھا جو اپنے بعد آنے والے سپاہیوں کی کئی نسلوں کے لیے درجہ ء معیار کی حیثیت اختیار کر گئے۔ وہ محض سپاہی بھی نہ تھا۔ چیف کمشنر پنجاب سر ہنری لارنس کے ماتحت سول سرونٹس کے اس نوجوان ٹولے کا سرکردہ رکن بھی تھا جو ’ لارنس کے جوان’ کے نام سے مشہور ہوئے۔ اس حیثیت میں نکلسن نے پنجاب اور موجودہ خیبر پختونخواہ کے علاقوں میں حکومتی بندوبست، امن و امان کے قیام اور روزمرہ زندگی کی بحالی میں نمایاں کردار ادا کیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19015" aria-describedby="caption-attachment-19015" style="width: 500px" class="wp-caption aligncenter"><img fetchpriority="high" decoding="async" class="size-full wp-image-19015" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/John-Nicolson-Laaltain.jpg" alt="بریگیڈئیر جنرل جان نکلسن ایک عہد ساز سپاہی تھا" width="500" height="650" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/John-Nicolson-Laaltain.jpg 500w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/John-Nicolson-Laaltain-231x300.jpg 231w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px"><figcaption id="caption-attachment-19015" class="wp-caption-text">بریگیڈئیر جنرل جان نکلسن ایک عہد ساز سپاہی تھا</figcaption></figure>
<div class="urdutext">نکلسن سے میرا پہلا مختصر تعارف بچپن میں رضا علی عابدی کے سفرنامے جرنیلی سڑک سے ہوا تھا لیکن یہ سرسری تعارف نہاں خانہء خیال میں ہی دبا رہا یہاں تک کہ کچھ مدت پہلے ہندوستان کے نامور مصنف راج موہن گاندھی کی کتاب تاریخ پنجاب پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ گاندھی نے ہندوستان میں نکلسن کے تاریخی کردار پر کافی معلومات فراہم کی ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد میں کبھی کبھی نکلسن کے بارے میں کچھ نہ کچھ پڑھتا رہتا اور اسی دوران میں نے اس لاٹ کو دوبارہ سے دریافت کیا جس کا پہلا تعارف جرنیلی سڑک سے ہوا تھا۔ دو ماہ پہلے اسلام آباد نقل مکانی کی تو یہ خواہش پیدا ہوئی کہ نیت ہر چند عبرت نگاہی نہ سہی پر یہ لاٹ دیکھنی چائیے۔ منصوبہ بنتے بنتے بالآخر گذشتہ شب یہ طے پایا کہ علی الصبح نکلسن کی لاٹ یاتر ا پر نکلا جائے اور طلوع آفتاب اس سلطنت سے مستعار بلند یادگاری چبوترے سے ملاحظہ کیا جائے جس پر کبھی سورج غروب نہ ہوتا تھا۔ پانچ بجے کا وقت مقرر ہوا اور نواز خان خٹک ٹیکسی ڈرائیور کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ اس سفر پر ساتھ چلیں تو بہ مثل غالب ایک حج کا ثواب حضور کی نذر ہو گا۔ صنوبر سہیل، اسد رضا، شوذب عسکری اور راقم اس ٹولے کے جملہ ارکان تھے۔ صبح نواز خان کے آنے سے پندرہ منٹ پہلے مجھے جگایا گیا تو اس وقت مجھے سوئے کچھ نصف گھنٹہ بیت چکا تھا۔ ہڑبڑا کے اٹھا اور اکتا کے کہا ‘نام خدا! وقت معین پر تو مردے ہی اٹھائے جائیں گے اور ہم ٹھہرے زندہ۔ پس ہم اپنی بیداری کا فیصلہ دوران استراحت خود کرتے ہوئے اپنی مرضی سے ہی اٹھنا چاہیں گے”۔ اس بے جواب تکلم کے دوران جب ہم نے سامنے سے اسد رضا کو جاگتے دیکھا اور دفعتا” نواز خان کا بجایا ہارن کان میں پڑا تو ہوش آیا۔ لمحہ بھر میں صنوبر، اسد اور راقم تیار ہو کر گاڑی میں جا بیٹھے۔ شوذب عسکری نے عین اٹھائے جانے پر غم فراق کا بہانہ بناتے خود کو تکلیف سیر باغ سے عاجز بتایا اور بستر میں ہی رہ گیا۔ پو پھٹنے میں ابھی کافی وقت تھا۔ سڑکیں ویران پڑی تھیں اور چاند چمک رہا تھا۔ اس لمحے مجھے باہر جھانکتے یہ خیال آیا کہ یہ وقت اس یاترا کے لیے نہایت موزوں ہے کہ ہنگامہ امروز ابھی شروع نہیں ہوا لہذا ذہن کو حال سے ماضی کے سفر میں سہولت رہےگی۔ بیدار ہوتے ہی چونکہ میں نے چائے طلب کی تھی بصورت دیگر گاڑی میں سو جانے کی دھمکی دے ڈالی تھی سو اب راستے میں کہیں کسی ٹرک ہوٹل سے چائے نوش کرنے کا ارادہ بنا۔ نواز خان خٹک کہ ایک شرمیلے کم گو پشتون جوان ہیں ہمیں ایک ہوٹل پر لے گئےجہاں ہم نے چائے بنانے کا کہا اور چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر میں چائے آ گئی۔ صنوبر چونکہ چائے نہیں لیتیں سو ان کے حصے کا کپ بھی ہم باقی تین افراد نے بانٹ کر نوش کیا۔ اس دوران صنوبر تصاویر لیتی رہیں۔ فدوی کا ذاتی خیال یہ ہے کہ اس موقع ان کا تصویریں لینا وہی جوش پیدا کررہا تھا جو اگلے زمانے کے لشکر وں میں دف بجاتی عورتوں کے رزمیے کیا کرتے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم دوبارہ سے عازم سفر ہوئے۔ اسد رضا موبائل پر گوگل کی وساطت سے نائب رہبر کا کردار ادا کر رہے تھے اور ہر پچاس گز بعد باقی ماندہ فاصلہ ازخود بتاتے جارہے تھے۔ دائیں طرف مارگلہ کے پہاڑ قریب سے قریب آ رہے تھے۔ جب اسد رضا نے آٹھ سو میٹر کا اعلان کیا تو دفعتہ ہماری نگاہ سڑک کے بائیں ہاتھ ایک چھوٹے پہاڑ کے سر پر گڑے اس مینار پر پڑی جو ہماری منزل تھا۔ نواز خان نے تائید کی۔ اس مقام پر جی ٹی روڈ ذرا سا خم کھاتی ہے اورلاٹ لگے پہاڑ کے پاس تھانہ مارگلہ اور تھانہ ترنول کی حدود ملتی ہیں۔ ہم لاٹ پر نظریں گاڑے اس پہاڑ کے ساتھ سے ہی گزر رہے تھے۔ اوپر جانے کا راستہ کسی کو معلوم تو نہ تھا پر نواز خان کا خیال تھا کہ وہ ذرا آگے ہے۔ اسی جگہ پولیس کا ایک ناکہ بھی ہے۔ ہم نے گاڑی وہاں کھڑی کی۔ میں اتر کر قریب ہی ایک دکان سے جوس وغیرہ لینے گیا۔ اس دوران صنوبر اور اسد نے ڈیوٹی پر موجود اہلکار سے اوپر جانے کا رستہ پوچھا تو اس نے جھٹ سے کامل لاعلمی کا اعتراف کرتے ہوئے رستے کے ”یہیں کہیں ہونے ”کا خیال ظاہر کیا۔ وہ دونوں وہاں سے ہٹ کر دکان پر میرے پاس آئے۔ بالکل سامنے ایک راستہ صاف اوپر کی طرف جا رہا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نواز خان نے موقعہ غنیمت جانا اور نیند پوری کرنے گاڑی میں ہی لیٹ گیا۔ پشتونوں سے نکلسن کا سیر وتفریح کا سلسلہ ویسے بھی پہلی اینگلو افغان جنگ یعنی اٹھارہ سو بیالیس کے بعد سے منقطع ہے۔ نکلسن غزنی کی اس برطانوی سپاہ کا حصہ تھا جس نے افغان قبائلیوں کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے اور قیدی بنا لیے گئے تھے۔ تاہم اس جنگ میں نکلسن کی جانثاری کی متعدد روایات بھی موجود ہیں۔ بہرحال یہ اس کا پہلا باقاعدہ جنگی تجربہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد وہ پشاور میں تعینات رہا اور پھر مرادآباد رہنے کے بعد اردو کا امتحان پاس کر کے دہلی کی اس فوج کا حصہ بنا جو پنجاب کی سکھ سلطنت کی تواضع کے لیے تیار کی جا رہی تھی۔ تین سال بعد ہی نکلسن پہلی اینگلو سکھ جنگ میں شریک ہوا اور بعد ازاں سرہنری لارنس کے ماتحت پولیٹیکل ایجنٹ اور ڈپٹی کمشنر رہا۔ بنوں اور کوہاٹ میں نکلسن اس قدر مقبول بھی ہوا کہ لوگ اسے ‘گورا پیر’ اور ‘نکل سائیں’ ماننے لگے۔ کہتے ہیں کہ مقامی داستانوں اور گیتوں میں بھی نکلسن کا سراغ ملتا ہے۔ یہ سب اس حقیقت کے باوصف تھا کہ نکلسن نہایت اناپسند، مستبد مزاج اور غصیلی طبیعت کا مالک تھا۔ اس حوالے سے اس کے قصے مشہور ہیں کہ کیسے ایک مقامی سردار اس وقت اس کے غیض کا نشانہ بنا جب اس نے نکلسن کے دفتر میں غلطی سے تھوک دیا۔ ملتان کی جنگ میں وہ سکھوں سے بہادری سے لڑا اور کرپان کا زخم کھایا۔ اسی علاقے میں سرکار کو مطلوب ایک شخص کو اس نے خود قتل کرکے اس کا سر تین ماہ اپنے دفتر کی میز پر مقامی ملاقاتیوں کی عبرت آموزی کے واسطے آویزاں رکھا۔ ملتان ہی سے نکلسن نے مقامی لوگوں پر مشتمل اپنے محافظوں کا تین سو کا دستہ بھرتی کیا تھا جو اس کے اشارے پر جان پر کھیل سکتے اور صرف اسی کو جوابدہ تھے۔ یہ دستہ جنگ آزادی میں دہلی پر یلغار کے وقت نکلسن کے ہمراہ تھا۔ تاہم وہ قدرشناس شخص تھا اور فہم و قیافہ کی بنیاد پر کئی مقامات پر اس کا سلوک مقامی لوگوں سے بہت اچھا رہا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19022" aria-describedby="caption-attachment-19022" style="width: 500px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-19022" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/sanober-asad-abu-bakar-laaltain.jpg" alt="صنوبر سہیل، اسد رضا اور ابو بکر، نکلسن لاٹ کی یاترا کے دوران" width="500" height="650" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/sanober-asad-abu-bakar-laaltain.jpg 500w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/sanober-asad-abu-bakar-laaltain-231x300.jpg 231w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px"><figcaption id="caption-attachment-19022" class="wp-caption-text">صنوبر سہیل، اسد رضا اور ابو بکر، نکلسن لاٹ کی یاترا کے دوران</figcaption></figure>
<div class="urdutext">خیر ہم اس راستے کی طرف چلنے لگے اورایک ٹوٹے ہوئے گیٹ سے اندر داخل ہو کر پتھر کی بھرائی سے بنے راستے پر چلنےلگے۔ یہاں گیٹ کے پاس ایک نیلے رنگ کابورڈ حکومت پاکستان کی جانب سے جی ٹی روڈ کے کوائف اس تمیز کے بغیر بتا رہا تھا کہ یہ مقام نہ تو پشاور نہ ہی کلکتہ تھا۔ گیٹ کے دونوں جانب اندر کی طرف پتھر کی دو موٹی سی برجیاں بنی ہیں جو جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہیں۔ ان پر کوئی تحریر کندہ نہیں ہے البتہ برس ہا برس کی بارشوں، مٹی اور کائی کی آمیزش نے ان کا رنگ ناقابل شناخت سا کردیا ہے۔ چند قدم ہی چلے تو لاٹ کی جانب پہاڑ کی چوٹی کی طرف سیڑھیوں کا ایک راستہ جاتا دکھائی دیا۔ اندازہ یہی ہے کہ کچھ دو سو درجے ضرور ہوں گے۔ ان سیڑھیوں پر چڑھنا شروع کیا تو قرب و جوار نیچے ہوتے گئے۔ بجری بنانے والی بہت سی مشینیں اردگرد کے پہاڑوں کے سینے کاٹ کر ان کا مرقد ہموار کرنے میں مصروف تھیں۔ یہ ننھی سی پہاڑی ‘گورے پیر’ کی کرامت کے سبب اس انجام سے تو بچ گئی پر شاید اس کی تنہائی اور اس کے پس پردہ اجتماعی حالات کی شعوری کلیت سے ہمارا بیگانہ پن اس پہاڑی کانصیب رہے گا۔ تازہ دم تھے سو رفتار سے چڑھتے گئے۔ اس دوران صنوبر ذرا پیچھے رہ گئیں تو ہم ان کا حوصلہ بڑھانے کے لیے خود ہی رک گئے۔ ابھی سورج طلوع نہیں ہوا تھا اور ہوا میں ٹھنڈک تھی۔ اب ہم سیڑھیوں کے درمیان تک پہنچ چکے تھے۔ اس دوران کیا دیکھا کہ نیچے سے ایک فربہ بدن شخص انسانی رفتار سے اس طرح اوپر چڑھ رہے ہیں جیسے کہ ہمیں بلانے آ رہے ہیں۔ اس وسوسے کی تحقیق میں ہم وہیں رک گئے تاآنکہ وہ حضرت ہمارے پاس سے گزرتے مزید بلند ہوتے اوپر چڑھ گئے۔ اس وقت یہ مفروضہ پیش ہوا کہ شاید یہ جناب ورزش کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ انہیں دعائے صحت دیتے ہوئے اسد اور میں نے سگریٹ سلگائے۔ اسی دوران یہ ذکر ہوا کہ نکلسن اپنے بہترین دوست ڈپٹی کمشنر بنوں ہربرٹ ایڈورڈ کے ساتھ صرف چند گھنٹے گزارنے کے لیے ہر ہفتے ایک سو بیس میل کا سفر گھوڑے پر طے کرتا تھا۔ نکلسن نے کبھی شادی نہیں کی۔ ایڈورڈ کے علاوہ اس کاایک اور دوست واہ کے علاقے کا سردار کرم خان تھا۔ کرم خان کے قتل کے بعد اس کاپسر محمد حیات خان نکلسن کی نگرانی میں آ گیا اور بعد ازاں اس کا سیکرٹری اور خاص آدمی بن گیا۔ دہلی پریلغار کے وقت جب نکلسن گولی لگنے کے باعث بستر مرگ پر تھا تو اس نے سرجان لارنس کو محمد حیات کی نگرانی سونپی۔ یہ محمدحیات ایک نامور شخصیت بنے اور یونینسٹ پارٹی کی طرف سے متحدہ پنجاب کے وزیر اعلی سر سکندر حیات کے والد تھے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اسی دوران ہم بھی چوٹی پر لاٹ کے پاس پہنچ گئے۔ پتھر کے ایک چبوترے پر بنی یہ لاٹ اپنی نوعیت کے حساب سے دنیا بھر میں منفرد ہے۔ نکلسن کے آبائی وطن آئر لینڈ اور دہلی میں لگے اس کے شمشیر بکف مجسمے بھی یادگار کا درجہ رکھتے ہیں۔ دہلی کے کشمیری دروازے کا مجسمہ آزادی کے بعد ہٹا کر برطانیہ کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ بنوں کے ایک چرچ میں بھی نکلسن کے لیے ایک یادگاری سلیٹ نصب ہے۔ اس چبوترے کے بھی درجے بنے ہوئے ہیں اور سب سے اوپر کے درجے پرلاٹ نصب ہے۔ ہم چبوترے کے چاروں طرف سے گھومنے لگے۔ یہاں پہاڑکا حصہ کافی کھلا تھا اور کچھ پتھر نہایت رومان پرور بے ترتیبی سے بکھرے پڑے تھے۔ ورزش کرنے والے حضرت چبوترےکے مستقل طواف میں مشغول تھے۔ ایک طرف سے چبوترے کے ساتھ آہنی سیڑھی بلند ہو کر ایک مقفل آہنی دروازے کے سامنے بے بس ہو کر ختم ہو رہی تھی۔ دروازہ نہ صرف بند تھا بلکہ لوہے کی باڑ تالے کو محفوظ کرنے کے واسطے اردگرد پھیلا دی گئی تھی۔ ایک جگہ سے دروازے کی آہنی جالی میں سوارخ پایا تو حسب عادت آنکھ لگا کر اندر دیکھنا چاہا۔ ایک راہداری تھی جو سامنے دو حصوں میں تقسیم ہو رہی تھی۔ یہ دو حصے کہاں جاتے ہیں اس کا علم دروازے کے کھلنے سے مشروط ہے۔ مجھے یہاں چوری کرنے کے لیے کچھ قیمتی نظر نہیں آ رہا تھا اس وجہ سے قفل بندی کی منطق سمجھ میں نہ آتی تھی۔ تب صنوبر نے بتایا کہ کہیں عوام اندر کے حصے کو بیت الخلا نہ فرض کر بیٹھیں یہی اشکال دور کرنے کے لیے یہاں تالہ لگایا گیا ہوگا۔ یہ سن کر تسلی بھری جھرجھری آ گئی۔ تسلی جواب ملنے کی اور جھرجھری تاریخ کے سلوک پر۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19016" aria-describedby="caption-attachment-19016" style="width: 500px" class="wp-caption aligncenter"><img decoding="async" class="size-full wp-image-19016" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/statue-nicolson-laaltain.jpg" alt="برطانوی نوآبادیات میں نکلسن کی یاد میں متعدد مقامات پر مجسمے نصب کیے گئے" width="500" height="650" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/statue-nicolson-laaltain.jpg 500w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/statue-nicolson-laaltain-231x300.jpg 231w" sizes="(max-width: 500px) 100vw, 500px"><figcaption id="caption-attachment-19016" class="wp-caption-text">برطانوی نوآبادیات میں نکلسن کی یاد میں متعدد مقامات پر مجسمے نصب کیے گئے</figcaption></figure>
<div class="urdutext">یہی باتیں جاری تھیں کہ ورزش کرنے والا شخص کہ جو اپنے چکر موقوف کر کے چبوترے کی دوسری طرف کسی نادیدہ آسن میں مشغول تھا اس کے بارے میں دوسرا مفروضہ یہ پیش ہوا کہ ہو نہ ہو یہ شخص ایجنسیوں کا بندہ ہے اور آزادی کے بعد سے یہاں اس لیے متعین ہے کہ کہیں کوئی فرضی تحریک احیائے حکومت انگلیشیہ اس مقام کو اپنی سیاسی شورش کا مرکز نہ بنا لے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19019" aria-describedby="caption-attachment-19019" style="width: 600px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-19019" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/nicholson-delhi-attack-laaltain.jpg" alt="دلی پر لشکر کشی کے دوران نکلسن کشمیری دروازے سے تلوار لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہوا" width="600" height="348" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/nicholson-delhi-attack-laaltain.jpg 600w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/nicholson-delhi-attack-laaltain-300x174.jpg 300w" sizes="(max-width: 600px) 100vw, 600px"><figcaption id="caption-attachment-19019" class="wp-caption-text">دلی پر لشکر کشی کے دوران نکلسن کشمیری دروازے سے تلوار لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہوا</figcaption></figure>
<div class="urdutext">نکلسن کے باب میں فرضی ہی سہی سیاسی شورش کا ذکر ہو تو ذہن بلا کسی واسطے کے تاریخ ہند کے اس خونچکاں باب کی طرف مڑجاتا ہے جس کے تذکرے سے خطوط غالب سے لے کر بیگمات کے آنسو اور ایک جلاوطن بادشاہ کا دیوان لہو لہو ہے۔ نکلسن کے لیے یہ جنگ غدر تھی اور نکلسن کے قاتل کے لیے جنگ آزادی۔ میرٹھ کا ہنگامہ گرم ہوا تو ایسٹ انڈیا کمپنی کو تارکی سہولت حاصل ہونے کے سبب بغاوت کی اطلاع افسران تک باغیوں سے پہلے پہنچ گئی۔ نکلسن اس وقت پشاور میں تعینات اور افغان ہند بدلتے تعلقات کی بحرانی کیفیت میں گھرا ہوا تھا۔ پنجاب تازہ تازہ کمپنی کے زیرنگیں آیا تھا۔ نکلسن نے برق رفتاری سے پشاور سے نکل کر اپنی دستے کے ساتھ پورے پنجاب میں طوفانی دورہ کیا اور دیسی یونٹس کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی نگرانی میں جان لارنس کا ساتھ دیا۔ اس کے بعد باغیوں کے بکھرے ہوئے جتھے اور مختلف شہروں میں بغاوت کے بعد دہلی جاتی دیسی یونٹس کا شکاری کی طرح تعاقب کرکے اس نے پنجاب کو محفوظ بنایا اور یہاں سے فوج لے کر دہلی کی جانب روانہ ہوا۔ اس دوران جان لارنس توپخانےکے انتظام میں مصروف تھے جسے دہلی کی فصیل میں شگاف ڈالنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ تاریخ کا یہ باب نہایت سبق آموز ہے۔ پنجاب کے مقامی لوگ اور تازہ تازہ شکست کھائے سکھ گروہ جو صدیوں سے پنجاب سے پرے کے ہندوستان کو اپنا دشمن سمجھتے تھے اس جنگ کو اپنی جنگ ماننے کو تیار نہ تھے اور نکلسن کی قیادت میں دہلی غارت کرنے پہنچ چکے تھے۔ وہ نکلسن کی قیادت میں اپنی ہم وطنوں کے خلاف تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ نکلسن نسلی طور پر آئرش تھا جو خود انگریزی راج سے تنگ تھے لیکن ہندوستان سمیت دیگر برطانوی نوآبادیات میں نکلسن جیسے بے شمار آئرش جوان اسی انگریزی راج کی آبیاری خون سے کرنے میں مصروف تھے۔ ہر امیر کے زیردست لشکر تھے اور ہر امیر کے اوپر ایک اور امیر تھا۔ تینوں بیک وقت باہم دگر بھی تھے۔ دہلی پہنچتے ہی نکلسن نے حوصلہ ہاری انگریز سپاہ کی قیادت فطری طور پر سنبھال لی حالانکہ وہ محض کپتان تھا۔ دہلی کے اندر جب توپخانہ آنےکی اطلاع پہنچی تو باغیوں کے چھ ہزار کے لشکر نے اس قافلے پر حملہ کرنا چاہا۔ نکلسن نے عددی طور پر قلت میں ہونے کے باوجود باغیوں کو زیر کیا اور توپخانہ دہلی کے سامنے نصب کر کے فصیل میں شگاف ڈالے۔کشمیری دروازے سے اندر آنے والے پہلے دستوں میں نکلسن گھوڑے پر سوار ہاتھ میں تلوار لیے آگے آگے تھا۔ یہیں اسے گولی لگی اور آٹھ دن بعد جب دہلی فتح ہو چکا تھا نکلسن نے اسی شہر کے ایک بنگلےمیں ۳۳ سال کی عمر میں اپنی آخری سانسیں لیں اور یہیں دفن ہوا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<figure id="attachment_19024" aria-describedby="caption-attachment-19024" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><img loading="lazy" decoding="async" class="size-full wp-image-19024" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/grave-of-nicolson-laaltain.jpg" alt="دلی میں نکلسن کی قبر" width="800" height="450" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/grave-of-nicolson-laaltain.jpg 800w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/grave-of-nicolson-laaltain-300x169.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2016/10/grave-of-nicolson-laaltain-768x432.jpg 768w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"><figcaption id="caption-attachment-19024" class="wp-caption-text">دلی میں نکلسن کی قبر</figcaption></figure>
<div class="urdutext">رضا علی عابدی نے اپنے سفرنامے میں یہاں نصب دو تعارفی تختیوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک برطانوی راج نے یادگار بناتے وقت نصب کی تھی دوسری آزادی کے بعد مقامی حکومت کی جانب سے نصب کی گئی۔ اس تختی کی تحریر یوں تھی۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">‘نکلسن کو ۱۸۵۷ میں دہلی میں مجاہد آزادی کالے خان نے مارا تھا۔’</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس وقت دونوں تختیاں یہاں نہیں ہیں۔ کوئی اور تعارفی بورڈ بھی نہیں ہے جو بتائے کہ یہ سب کیا ہے۔ کوئی اجنبی یہاں سے گزرے تو عین منطقی ہے کہ وہ پتھر کے اس مینار کو جنوں بھوتوں کی تعمیر سمجھے۔ انٹرنیٹ پر لاٹ کے ساتھ یونانی طرز تعمیر جیسی ایک چھوٹی سی عمارت کی تصاویر بھی ملتی ہیں جو یادگار کا حصہ تھی۔ ہمیں یہ عمارت وہاں کہیں نظر نہیں آئی۔ اللہ ہی جانے کون بشر ہے۔ اس تاریخ کے اندھیر ہونے اور تختیوں کی گمشدگی کا نوحہ لیے ایک تیسری تختی نصب کرنی کی ضرورت محسوس ہوئی پر یہ نہ سمجھ آیا کہ وہ نصب کہاں کی جائے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">دور افق سے سورج برآمد ہو رہا تھا اور لاٹ اس نرم روشنی میں آنکھیں ملتی ایک ایسے دن کا سامنے کرنے والی تھی جس کا اس سے کوئی واسطہ باقی نہ بچا تھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">صنوبر کی ہدایت پر ہم نے بجھے ہوئے سگریٹ کے ٹکڑے اور جوس کے خالی ڈبےلفافے میں ڈالے تاکہ نیچے جاکر مناسب جگہ پھینکے جائیں۔ الوداعی نظریں ڈالتے ہم سیڑھیاں نیچے اترنے لگے۔ اسی لمحے ورزش کرتے ان حضرت نے دوبارہ سے چبوترے کے مکمل چکر لگانے شروع کر دئیے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">نیچے اترے تو نواز خان جاگ رہا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ کی اور واپسی کا سفر شروع کیا۔ چاند ماند پڑ چکا تھا سڑکیں رش سے بھر گئیں تھیں۔ ہم وقت میں واپس آ گئے تھے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d9%84%d8%b3%d9%86-%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7/">نکلسن لاٹ کی یاترا</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%da%a9%d9%84%d8%b3%d9%86-%d9%84%d8%a7%d9%b9-%da%a9%db%8c-%db%8c%d8%a7%d8%aa%d8%b1%d8%a7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>مسلم دینیاتی فکر کا المیہ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 18 Mar 2016 21:20:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[Classical Muslim Thought]]></category>
		<category><![CDATA[Islam and modernity]]></category>
		<category><![CDATA[Modern Muslim Thought]]></category>
		<category><![CDATA[Muslim Theology]]></category>
		<category><![CDATA[Sir Syed Ahmed Khan]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=15812</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">ریاست و مذہب کی یکجائی ، منظم مذہبی اداروں کا سماجی اثر و نفود اور خود پرستانہ ادعائیت کا اجتماعی مظاہرہ اسی دینیاتی فکر کا پروردہ ہے جو مذہبی سچائی کے معروضی جواز پر یقین رکھتی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81/">مسلم دینیاتی فکر کا المیہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">کہا جاتا ہے کہ سرسید وہ پہلے مسلمان مفکر تھے جنہوں نے جدید علم الکلام کی ضرورت محسوس کی۔ علم الکلام سے مراد سائنسی اور فلسفیانہ اصولوں کی مدد اور تاویل سے مذہبی و ایمانی معاملات کا جواز پیدا کرنا ہے۔ کلاسیکل مسلم کلام کا آغاز مسلمانوں کے عہدِ زریں کے ان ایام سے جوڑا جاتا ہے جب یونانی و ہندی فلسفہ و حکمت کی کتب کے دھڑادھڑ تراجم ہونے کے باعث حساس مسلم اذہان میں نئے سوال پیدا ہوئے اور اہلِ مذہب کو اپنے عقائد کا جواز پیدا کرنے کے لئے الہامی فرمودات کے علاوہ منطق و فلسفہ سے استفادہ کرنا پڑا۔ مسلم کلام کی ایک Discourse کی حیثیت سے بنیادی نوعیت یونانی فلسفے کو سامنے رکھتے ہوئے تشکیل دی گئی تھی اور اشعریت سے غزالی تک کلام کے تمام مکاتب و مشاہیر نےیونانی فلسفے کی تاویل و ترمیم یا تنیسخ کا رویہ اپنائے رکھا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کلاسیکل مسلم کلام کا آغاز مسلمانوں کے عہدِ زریں کے ان ایام سے جوڑا جاتا ہے جب یونانی و ہندی فلسفہ و حکمت کی کتب کے دھڑادھڑ تراجم ہونے کے باعث حساس مسلم اذہان میں نئے سوال پیدا ہوئے</div>
<div class="urdutext">مسلم تہذیب کے زوال پذیر ہونے کے بعد علم و فن نے مغرب کا رخ کیا اور نشاۃِ ثانیہ کے یورپ میں ماضی کا فکری سرمایہ ایک نئے انداز سے پرکھے جانے کا طریقہ عام ہوا۔ یہ دور فلسفے میں مدرسیت اور یونانیت سے بتدریج انحراف کا دور تھا اور کچھ ہی عرصے میں مفکرینِ فرنگ نے علم کی عمارت یکسر جدید زاویوں پر استوار کی۔ یہی دور سائنس کی ترقی کا دور ہے۔ طبعیات میں میکانکی مادیت اور فلکیات میں آفتاب مرکزیت کے تصور نے قدیم تصورِ کائنات کی دھجیاں اڑا دیں اور عیسائیت کا ایک بڑا حصہ جو ان قدیم نظریات کا محض طفیلی تھا منہدم ہو گیا۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">کائنات کی حقیقت و کارگزاری کے علم کے لئے سائنس اور معاشرتی معاملات کی تفہیم کے لئے سماجی علوم سامنے آئے۔ اس ساری صورتحال میں مذہب آہستہ آہستہ ذاتی معاملہ سمجھا جانے لگا اور اس کا احاطہ محض اخلاقیات کے چند مسائل اور انفرادی نجات کا سامان کرنے کا بہانہ رہ گیا۔ مغربی دینیات اور اس کے مباحث اس سارے عمل کے ساتھ ساتھ اپنی شکل بدلتے گئے اور جدید یورپ میں مذہب کے معنی و کردار کے بارے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تبدیلی کا یہی دور مسلم دنیا میں بدترین فکری جمود اور سیاسی تنزل کا زمانہ ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جیسے کہانی سنتے کسی شخص کے کان بند ہو جائیں اور کہانی چلتی رہے اور جب اس کے کان کھلیں تو کہانی کئی باب آگے بڑھ چکی ہو۔ اس کا نتیجہ جہاں وقت میں پیچھے رہ جانا نکلا وہیں لاعلمی میں گوندھا ابہام ایک بیماری کی طرح ہمارے تہذیبی وجود سے چمٹ گیا۔ مسلم علم الکلام ان سب تبدیلیوں سے بے خبر اب بھی یونانی فلسفہ جسے خود مغرب مسترد کر چکا تھا کا تکیہ لئے محو خواب تھا۔ اس کی نمایاں ترین مثالوں میں ارض مرکزیت کے نظریے پر پچھلی صدی تک مسلم مفکرین کا اصرار ہے۔ ( ہرچند سرسید بھی اس میں شامل ہیں۔) ارض مرکزیت کا یونانی فلسفے اور بعدازاں مدرسیت سے جو جوہری تعلق ہے وہ اربابِ نظر سے پوشیدہ نہیں۔ آدمی اپنے حلیفوں سے پہچانا جاتا ہے لہذا یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ مسلم دینیاتی فکر اس بحث میں کس طبقے کی حلیف اور کس عہد کی نمائندہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">سرسید نے جدید مغربی علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے علم الکلام کی بنیاد اٹھانا چاہی جو تازہ مباحث مثلاً سائنس و مادیت کے تعلق سے مذہب کا جواز پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی۔</div>
<div class="urdutext">سرسید نے جدید مغربی علوم کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے علم الکلام کی بنیاد اٹھانا چاہی جو تازہ مباحث مثلاً سائنس و مادیت کے تعلق سے مذہب کا جواز پیدا کرنے کی ایک کوشش تھی۔ علامہ اقبال نے اس راستے پر ان کی تقلید کی اور متکلمانہ جدت کا سہارا لیتے ہوئے عصرِ حاضر کے سائنسی مسائل جیسا کہ نظریہ اضافیت اور تحلیلی نفسیات کو شاملِ بحث کرتے ہوئے اسلام کا جواز پیدا کرنا چاہا۔ جدید کلام اس تواتر سے محروم رہا جو کلاسیکل کلام کو نصیب ہوئی۔ چنانچہ اس سمت میں کام نہ ہونے کے برابر ہو کر قریباً رک سا گیا اور آج فکری سطح پر اسلام کے بطور مذہب معنی و کردار، مسلم دنیا کا وجودی بحران اور بین الاقوامی معاشرے سے مسلم تہذیب کے تعامل سے جنم لینے والے ان گنت معاملات ( جیسا کہ دہشت گردی، جمہوریت، انسانی حقوق وغیرہ ) پر ہمارا تہذیبی رویہ بطور ایک مسلمان کے بے جواب ابہام سے پر ہے۔ اس فکری بحران کے سماجی اثرات ناقابل یقین حد تک بھیانک ہیں اور بیشتر مسلم معاشروں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسلم دینیاتی فکر کا یہ المیہ کئی پہلو رکھتا ہے اور ذیل میں اس کا ایک اجمالی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۱۔ کلاسیکل کلام کی طرح جدید مسلم کلام بھی جوہری سطح پر ایک ہی سمت جاتا دوسرا تیر ہے۔ ہرچند کلاسیکل کلام یونانی فلسفہ و سائنس سے مشروط تھا اور جدید کلامی رجحان نے مغربی فلسفہ و سائنس کا جواب دینے کی کوشش کی لیکن ہر دو نے مذہب کا معروضی جواز پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ طبعی دنیا اور اس کے عوامل کی سائنسی تشریح کو مآلِ کار مذہبی عقائد سے مشروط کیا جائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کلاسیکل کلام نے جس سائنس اور فلسفے سے استفادہ کیا وہ طبعی تحقیق و نظریہ سازی میں روحانی عنصر کو شامل رکھنے کی گنجائش رکھتا تھا جب کہ جدید سائنسی منہاج اسے خارج کر چکا ہے۔ جب خود سائنس ہی اس قدر بنیادی تبدیلی سے گزر کر اپنا آپ بدل چکی ہو تو کوئی کسی طرح اس سے وہی کچھ ثابت کر سکتا ہے جو پہلے ممکن تھا۔ عیسائیت کے ساتھ سائنس کی تاریخی پیکار نے مغربی دینیات کو سائنس کا سہارا لے کر مذہب کا معروضی جواز ڈھونڈنا ممکن نہیں رہنے دیا۔ فلسفے میں جدید ارتیابیت اور لسانی منہاج نے فلسفیانہ سرگرمی میں روحانیت پر کاری ضرب لگائی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">ریاست و مذہب کی یکجائی ، منظم مذہبی اداروں کا سماجی اثر و نفود اور خود پرستانہ ادعائیت کا اجتماعی مظاہرہ اسی دینیاتی فکر کا پروردہ ہے جو مذہبی سچائی کے معروضی جواز پر یقین رکھتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">ایک عرصے تک فلسفے میں نظام سازی کا فیشن موجود رہا ہے اور فلسفیوں نے عظیم نظریات پر مبنی ایسے نظام پیش کئے جو مادی و روحانی عناصر کو آپس میں سموتے ہوئے حقیقت کا ایک کلی تصور پیش کرتے تھے۔ یہ رجحان اس انسانی کیفیت کے بطن سے پیدا ہوا ہے جو کائنات کی کوئی ایسی تشریح چاہتا ہے جس میں انسانی مقام و مقصد کا پہلو بھی موجود رہے۔انسانی پہلو کی ان معنوں میں جوہری موجودگی مذہب کا بھی خاصہ ہے چنانچہ نظام ساز فلسفہ کے زوال سے ساتھ ہی فلسفے کا وہ سرمایہ ختم ہو گیا جو صدیوں سے مذہب کی معاونت کرنے پر قادر تھا۔ جب سائنس اور فلسفہ دونوں ہی ہاتھ سے نکل گئے تو مغربی دینیات نے مذہب کا مسئلہ فرد کے مسئلے سے جوڑ دیا تاکہ جواز کا ایک نیا میدان ہموار ہو سکے۔ جدید وجودیت کا مذہبی حصہ اسی امر کی یادگار ہے۔ تعجب کی بات ہے یہ مسلم فکر نے کلام کی جدید صورت گری میں جدید سائنس اور کسی حد تک فلسفے کو تو خود میں داخل کیا مگر خود دینیات بطور ایک میلانِ تحقیق کی ان حدود کو نظر انداز کیا جن کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ چنانچہ جدید مسلم دینیاتی فکر نے گویا نہائے بغیر نئے کپڑے بدل کر تازہ دکھنے کی کوشش کی۔ اسی رویے کا عملی اظہار گوناگوں مظاہر میں ہوا ہے۔ ریاست و مذہب کی یکجائی ، منظم مذہبی اداروں کا سماجی اثر و نفود اور خود پرستانہ ادعائیت کا اجتماعی مظاہرہ اسی دینیاتی فکر کا پروردہ ہے جو مذہبی سچائی کے معروضی جواز پر یقین رکھتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">یہاں اس مسئلے کو ایک اور انداز سے دیکھے جانے کی بھی ضرورت ہے۔ تاریخی اعتبار سے مذاہب نے کائنات کی تشریح اپنے اصولوں کی مدد سے کرنا چاہی ہے۔ کونیات مذہب کا ایک اہم جزو ہے جو کائنات کی تخلیق، تعامل اور حتمی طورپر تباہی کی وضاحت دیگر مذہبی عقائد کے تعلق سے کرتا ہے۔ جدید دور میں جہاں یہ ذمہ داری سائنس نے لے لی ہے وہیں مذہب کی سماجی معروضیت یعنی سیاسی اداروں اور سماجی اقدار میں اس کے نفود میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ لبرلزم کا آغاز اسی واقعے کا ظہور ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">اپنے تاریخی تجربے میں بھی اسلام نے ریاست و معاشرے میں اپنے اثر کو برقرار رکھںا چاہا ہے جو ایک ایسی دنیا میں تو ممکن ہے جہاں اسلامی کونیات کا علمی جواز موجود ہو مگر اس کے سوا نہیں۔ مسلم کلام نے سائںسی کونیات پر کوئی گراں قدر کام نہیں کیا۔</div>
<div class="urdutext">جدید دنیا میں مذہبی معروضیت کی ان دونوں صورتوں کا انہدام اسی حقیقت کے دو رخ ہیں۔ ہمارے ہاں ہرچند رسمی اعتبار سے ہی سہی مگر کسی حد تک سائنس کو کونیاتی تشریح کرنے کا مقام دیاگیا ہے۔ یہاں رسمی اعتبار سے مراد اکیڈیمک مجبوری کے طور پر ہی سہی پڑھائی جانے والی سائںس ہے۔ شاید اس امر سے اب فرار ممکن نہیں اور اہل مذہب اب سائںس کو رد کرنے کی بجائے اس کی تاویل کرنے پر مجبور ہیں۔ لیکن اس کے متوازی مذہب کی سماجی معروضِت اب بھی قائم ہے جو سراسر تضاد ہے۔ مذہبی کونیات پر ایمان رکھے بغیر مذہب کی سماجی معروضیت پر اصرار منطقی بنیادوں پر درست نہیں۔ چنانچہ یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں کہ ہم کائںات کا معروضی علم حاصل کرنے کے لئے سائںس اور اس کے عملی افادے کے لئے سائنسی علم پر تشکیل کردہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں جب کہ سماجی ڈھانچے کی تشکیل میں مذہب کا سہارا لیتے ہیں۔ مسلم کلام کو اس مسئلے سے نمٹنے کی زیادہ سنجیدہ ضرورت ہے کیونکہ مسیحیت کا یہ نظریہ کہ مذہبی کتب خدا کا ذاتی کلام نہیں بلکہ رسولوں کا لکھا ہوا ہے جو انہوں نے الوہی ہدایت کے زیر اثر رقم کیے۔اس لحاظ سے مذہبی کتب کی تفسیر و تاویل کی صورت بدل جاتی ہے۔ اس کے برعکس اسلام کے عقائد میں قرآن خدا کا براہ راست ذاتی کلام ہے اور اس کے کونیاتی و سماجی احکام کی نوعیت بھی اٹل ہے۔ اپنے تاریخی تجربے میں بھی اسلام نے ریاست و معاشرے میں اپنے اثر کو برقرار رکھںا چاہا ہے جو ایک ایسی دنیا میں تو ممکن ہے جہاں اسلامی کونیات کا علمی جواز موجود ہو مگر اس کے سوا نہیں۔ مسلم کلام نے سائںسی کونیات پر کوئی گراں قدر کام نہیں کیا۔ ہمارے بزرگ کئی سوسال سے زمین کی گردش کے انکار، چھت جیسے آسمان کے وجود پر اصرار، نظریہ ارتقاء کی ایک طویل عرصہ تضحیک کے بعد بے جا تاویلات جیسے کام ہی کرتے آئے ہیں جن کی علمی افادیت صفر بھی نہیں جبکہ دوسری طرف اسلامی سیاسی نظام، اسلامی معاشی نظام، اسلامی عدالتی نظام وغیرہ پر جتنا کام موجودہ دور میں ہوا ہے شاید کسی دور میں نہ ہوا ہو۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">۲۔ اس صورتِ حال کا ایک منفی نتیجہ فرد کے مسئلے سے نظر پوشی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے جو اپنی اہمیت کے لحاظ سے مذہب کے اہم ترین سوالوں کا جوہر ہے۔ مذہبی عقیدے کا فرد کے داخلی وجود سے تعلق اہلِ مذہب کے مباحث میں صدیوں سے موجود رہا ہے لیکن اسلامی دینیاتی فکر کی زیادہ تر توانائی معروضی احوال پر صرف ہونے کے باعث فرد کا مسئلہ نظر انداز ہوا ہے۔ یہاں کچھ باتیں جو باہم متعلق ہیں نہایت اہمیت کی ہیںَ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="leftpullquote">کیرکیگارڈ کے نزدیک فرد کو عرفانِ ذات کی روشنی میں مذہبی سچائی کے غیرمتزلزل اور قدر آفریں منبع کو تجربے میں لاتے ہوئے اپنے افعال کے اختیاری چناو کی صورت اپنی خودی کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہونا گا۔</div>
<div class="urdutext">جدید مغربی فکر میں کیرکیگارڈ نامی ایک فلسفی ہو گزرا ہے جسے وجودیت کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔ مذہب اور انسانی وجود کے داخلی جوہر کے تعلق پر اس کے مباحث یادگاری حیثیت کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی کے یورپ کی اجتماعی زندگی فکری و تاریخی انقلابات اور بحرانوں کا شکار رہی۔ یہ نطشے کی تاریک دور کے آنے کی بشارت اور اسپینگلر کے زوال مغرب لکھنے سے پہلے کی بات ہے جب کیرکیگارڈ نے اس تہذیبی بحران کی نبض پر ہاتھ رکھا جو نصف صدی میں ہی عظیم جنگوں کی صورت سامنے آیا۔ کیرکیگارڈ کے نزدیک فرد کو عرفانِ ذات کی روشنی میں مذہبی سچائی کے غیرمتزلزل اور قدر آفریں منبع کو تجربے میں لاتے ہوئے اپنے افعال کے اختیاری چناو کی صورت اپنی خودی کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہونا گا۔ اس نے اپنے زمانے کے کلیسا پر بھرپور تنقید کی اور ریاستی مفادات کے لئے مذہب کے آلہٗ کار بن جانے کو عیسائیت کے اس سچے احساس کی تباہی قرار دیا جو محض فرد کے تجربے میں ہی آسکتا ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">ریاست کے لئے مذہب سے دوری کی بات تو کئی مفکرین نے کی ہے لیکن کیرکیگارڈ معدودے چند مذہبی مفکرین میں سے ہیں جنہوں نے اسے خود مذہب کے لئے مضر سمجھا۔ جدید فکر کے اس اہم ترین فلسفی نے دینیات کو جواز کا ایک نیا علاقہ عطا کیا اور مذہبی سچائی کو فرد کے داخلی تجربے سے پھوٹتے اعمال میں دیکھا۔ کیرکیگارڈ اور سرسید ہم عصر ہیں اور یہی دور ہمارے جدید کلام کے آغاز کا دور بھی ہے۔ ہرچند تحریکِ پاکستان کے دوران مسلمانوں کے اجتماعی اضطراب کے دنوں کی وجودی کشمکش اقبال کے تصور خودی میں کہیں کہیں نظر آتی ہے تاہم فرد اقبال کی دینیاتی فکر کا بنیادی موضوع نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس دروان سوشلزم کے ظہور نے نئی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی اور مسلم فکر نے اسلام کے سیاسی، معاشی اور ریاستی نظام کی تشریح و توضیح پر پورا زور لگا دیا۔ یاد رہے کہ یہ سب مذہب کے معروضی جواز کا سماجی اظہار تھا جس کی بنیاد میں موجود تضاد سطورِ بالا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ ہمارے سماج میں جس منظم طریقے سے مذہب کو ریاست سے ملا کر اقتدار کی سازشوں اور طاقت کی پالیسیوں کا حربہ بنایا گیا وہ نہ صرف کیرکیگارڈ کے اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ اس سے خود مذہب کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ یہ بات بھی واضح کرتا ہے کہ آخر کیوں انبوہ در انبوہ مذہبی شدت پسند اپنی داخلی زندگی میں کسی گہرے مذہبی وجدان کے نا ہونے کے باوجود مذہب کے نام پر کسی کو بھی قتل کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا نظریہ جس کی حتمی بنیاد ہی فرد کے داخلی احساس پر ہو اگر فرد کی زندگی سے بیگانہ ہو کر سیاسی طاقت اور متشدد سماجی تنظیم کی شکل اختیار کر لے تو وہ اپنے بنیادی جواز کی خود ہی نفی کر دیتا ہے۔ یہی نفی موجودہ مسلم دنیا کو زندگی کے اکثر میدانوں میں درپیش ہے اور اگر مسلم دینیاتی فکر نے اسے سلجھانے کی فوری کوشش نہ کی تو شاید تاریخ کو اس کشمکش سے خود ہی باہر نکلنا پڑے مگر ایسی صورت میں ہمارا بہت کچھ ہم سے چھن جائے گا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81/">مسلم دینیاتی فکر کا المیہ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%85%d8%b3%d9%84%d9%85-%d8%af%db%8c%d9%86%db%8c%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d9%81%da%a9%d8%b1-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d9%85%db%8c%db%81/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>The Outsider</title>
		<link>https://laaltain.pk/the-outsider/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/the-outsider/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 05 May 2015 21:10:18 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آدمی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=10969</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">تمام آدمیت متحد ہے اس ایک انسان کے خلاف جو ان میں سے نہیں ہے اور اس اتحاد کے سب روپ مقدس مکر ہیں جو کبھی مذہب تو کبھی علم اور کبھی اخلاق کے روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ سب اسی ایک مکر کے روپ ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/the-outsider/">The Outsider</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext"><strong>(کولن ولسن کی کتاب The Outsiderسے متاثر ہو کر لکھا گیا ایک انشائیہ)</strong></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تمام آدمیت متحد ہے اس ایک انسان کے خلاف جو ان میں سے نہیں ہے اور اس اتحاد کے سب روپ مقدس مکر ہیں جو کبھی مذہب تو کبھی علم اور کبھی اخلاق کے روپ دھار لیتے ہیں۔ یہ سب اسی ایک مکر کے روپ ہیں۔ وہ مکر جو آدمیت کے اتحاد کا اظہار ہے اس اتحاد کا جو اس انسان کے خلاف ہے جو ان سب میں سے نہیں۔<br>
آدمی! اے سب آدمیوں سے باہر کے آدمی! تیرے پاس کیا ہے؟<br>
اگر تو دیکھ تو تیرے پاس محض تو ہے۔<br>
وہ تو جو نہ مذہب اور نہ ہی علم کا ہے۔<br>
تیرے پاس صرف اور صرف تو ہے۔<br>
تو کیا چاہتا ہے اور اس سے بھی اہم کہ کس سے چاہتا ہے؟<br>
لیکن آدمیت متحد ہے۔ تیرے خلاف بھی اور تیری چاہ کے خلاف بھی۔<br>
وہ کہتے ہیں تو بے حیا ہے۔ تو بد اخلاق ہے اور جب شدید تر ہوتے ہیں تو کہتے ہیں تو بے علم ہے۔<br>
لیکن کیا حیا کہاں کا اخلاق اور کس کا علم؟<br>
وہی حیا وہی اخلاق اور وہی علم جو سب آدمیت کے اتحاد کے رنگ ہیں۔ وہ اتحاد جو صرف تیرے خلاف ان سب کو اکٹھا کرتا ہے۔ وہ سب کہ تو جن میں سے نہیں ہے۔<br>
آدمی! اے سب آدمیوں سے باہر کے آدمی ! بتا اب تیرے پاس کیا ہے؟<br>
ان زنجیروں کو دیکھ۔ ان ملائم زنجیروں کو دوبارہ دیکھ۔ وہ زنجیریں کہ تو ہمیشہ جنہیں اوپر چڑھنے کی رسی سمجھتا آیا ہے۔<br>
یہ مت دیکھ کہ اوپر آخر کیا ہے یہ سوچ کہ کیا یہ اوپر تیرا ہے؟<br>
وہی اوپر جو ان سب انسانوں کا اوپر ہے کہ تو جن میں سے نہیں۔<br>
آدمی! اے سب آدمیوں سے باہر کے آدمی ! پھر تیرے پاس کیا ہے؟<br>
کیا تیرا مقصد بھی تیرا ہے؟ کیا تیرا مقصد آدمیت کی پیمانوں سے گزر کر تجھ تک پہنچا ہے؟ اگر ہاں تو یہ تیرا مقصد نہیں ہے۔ یہ بھی وہی مکر ہے۔ وہی جو ان سب انسانوں نے تیرا ساتھ رچا رکھا ہے۔ وہ سب انسان کہ تو جن میں سے نہیں۔<br>
تو سب کو پیچھے رکھ۔ خود کو دیکھ۔ خود کو اپنی آنکھوں سے دیکھ۔ کیا تیرے رنگ تیرے ہیں؟ یا تو اپنے آپ کو وہی دیکھ پاتا ہے جو تجھے سب بتاتے ہیں کبھی زبان سے تو کبھی مکر سے۔<br>
تیرا کیا ہے؟ آدمی ! اے سب آدمیوں سے باہر کے آدمی؟<br>
تو دوبارہ دیکھ ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/the-outsider/">The Outsider</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/the-outsider/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>احتلام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%85/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 09 Mar 2015 11:39:02 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[کہانیاں]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9872</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی   اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا  افق ٹیڑھا ہو گیا  تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%85/">احتلام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔ میرے کان آج کی شام کا یہ شکوہ سن کر پک چکے تھے کہ کبھی کبھی تو نہ مٹ سکنا بھی اذیت ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">رات گئے تک شام ڈھلنے میں نہیں آئی تھی اور آتی بھی کس طرح کہ آج کے دن کا افق ٹیڑھا ہو گیا تھا جس کے کسی کونے میں سورج کچھ اس طرح پھنسا کہ دوبارہ ابھرنے کے تمام ارادے ڈوبے مگر وہ نہ ڈوب پایا۔</div>
<div class="urdutext">میز پر ورق تو بستر پر سلو ٹیں بکھری پڑی ہیں اور کھڑکی سے جھانک جھانک کر اندر آنے والی ہوا مجھ سے کہتی ہے کہ کچھ تو کہہ۔<br>
نہیں ابھی کھیل تو ختم نہیں ہوا۔ نجانے کس لمحے کا اختتام اس خیال پر ہوا تھا۔<br>
میں بہت اداس ہوں مگر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دوبارہ سے کہو۔ میں بہت اداس ہوں اتنا اداس کہ اداس تک نہیں ہوں۔<br>
اور یہ سچ ہے کہ آج وہ بہت اداس تھا۔ اگرچہ وہ آئے روز اداسی کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیا کرتا تھا مگر آج کا الم تو اپنے بہانے سے بھی بہلنے کو تیار نہیں تھا۔ بہت دیر سے وہ اپنے کمرے میں بند بیٹھا کچھ بھی نہ سوچنے کی حالت میں بس اداس ہونے کے سہارے موجود تھا۔<br>
وہ ایک خوش باش نوجوان ہے جسے بظاہر کوئی پریشانی نہیں ہے۔ تنہا رہتا ہے اور کبھی کبھی اپنے والدین سے بھی ملتا ہے۔ اچھی آمدنی نے اسے ایک آسان زندگی عنایت کی ہے جسے اس نے کتاب اور شراب سے بھر لیا ہے۔ دن بھر دفتر میں کام کرتا ہے اور شام کو اپنے پالتو کتے کو ساتھ لیے پارک میں چہل قدمی کرنے جاتا ہے۔ اس نے زندگی کو گزارنے سے زیادہ سوچنے کے لئے برتا ہے اور اب بھی وہ ایسے ہی کیے جا رہا ہے۔ اس کا حلیہ فرانس کے ناول نگاروں جیسا ہے ۔ اوور کوٹ پہننے کا عادی ہے اور عموماً کسی سے بات نہیں کرتا مگر جو بات اسے سب سے منفرد بناتی ہے وہ اس کا ایک طبع زاد اور بہترین فحش نگار ہونا ہے۔ فحش کہانیاں لکھنا اس کا واحد مشغلہ ہے جسے اس نے کسی تکان کے بغیر جاری رکھا ہوا ہے ۔ شہر میں فحش نگاروں کی ایک خفیہ انجمن ہے جس کا ماہانہ اجلاس ہوا کرتا ہے جہاں تمام فحش نگار اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔ وہ اس حلقے کا سر کردہ اور معزز ترین رکن ہے کیونکہ اس کی فحش نگاری حقیقت سے بھی زیادہ بیساختہ ہے۔ اس نے اپنے فن کی داد تمام اہل ِ فن سے پا رکھی ہے اور فحش نگاری اس کی زندگی کا آزمودہ تر ین رویہ ہے۔<br>
مگر آج رات وہ بہت اداس ہے۔ کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی سے میز پر پڑے ورق نیم روشن ہیں سو دور سے ہی ان کا خالی ہونا صاف دکھائی دیتا ہے۔ وہ بہت دیر سے کرسی پر بیٹھا سگریٹ پیے جا رہا ہے۔ کچھ یاد کرنے کے لئے آنکھیں موند لیتا ہے اور نتیجہ جو بھی ہو کچھ لمحے بعد بہر حال اپنی آنکھیں ضرور کھول لیتا ہے اور سارے کمرے کو ایک بار پھر نئے سرےسے دیکھتا ہے۔ اس مسلسل مشقت کے باوجود کمرے کی ظاہری کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوپاتی۔ ٹہلنے لگتا ہے مگر اس آسان کام میں بھی الجھ جاتا ہے اور پھر سے کرسی پہ جم جاتا ہے۔ وہ آج بہت اداس ہے۔<br>
یہی سب ہو رہا ہوتا ہے کہ اسے یونہی ایک خیال آتا ہے۔<br>
“کچھ لمحوں تک یہ اداسی واقعی اداس کرنا شروع کر دے گی”۔<br>
مجھے آج ایک نئی کہانی لکھنی چاہیے ۔ مجھے آج ایسی فحش نگاری کرنی چاہیے کہ جسے پڑھ کر خود میں بھی شرما سکوں۔<br>
وہ میز کے قریب آ کر بیٹھ گیا اور بہت دیر لکھنے کی کوشش کرتا رہا مگر کچھ بھی نہ لکھ پایا۔ شاید آج میں لکھ نہ پاؤں گا۔ آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنی چاہئیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اپنے وقت کا بہترین فحش نگار ہوں؟ میری ہوس جب تخیل کی سیاہی میں گھلتی ہے تو میرے قاری شدت ِ احساس سے پھٹے جاتے ہیں۔ میرے الفاظ عریانی کی با وقار تر ین شرح ہیں اور میرے کردار زفافِ خیال کی تمام رنگینوں کی سرخی سے تابندہ ہیں۔ ہاں آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنا چائیں۔ کیا میرا خلا میری تخلیق جتنا وزنی ہے؟<br>
یہ سوچتے ہی وہ اٹھا اور الماری سے ایک موٹی سی فائل اٹھا ئی اور اس میں سے صفحات کے مجموعے علیحدہ کرنے لگا۔ یہ سب وہ کہانیاں تھیں جو اس نے انجمن کے پچھلے سات ماہ کے اجلاسوں میں سنائی تھیں۔ ان میں اکثر کہانیاں تو بہت پسند کی گئی تھیں۔</div>
<div class="leftpullquote">آج مجھے اپنی ہی کہانیاں پڑھنی چاہئیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ میں اپنے وقت کا بہترین فحش نگار ہوں؟ میری ہوس جب تخیل کی سیاہی میں گھلتی ہے تو میرے قاری شدت ِ احساس سے پھٹے جاتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">صفحے پلٹ کر اس نے پڑھنا شروع کر دیا اور تسلسل سے پڑھتا رہا۔ اسے کچھ بھی اچھوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بہت دیر تک وہ ایک کے بعد دوسری کہانی پڑھتا گیا مگر اس کی کوئی بھی تحریر اسے مطمئن نہ کر پائی۔ جوں ہی ایک کہانی ختم ہوتی تو وہ اسے دوبارہ فائل میں رکھنے کی بجاۓ بے دھیانی سے فرش پر پھینک دیتا۔ یونہی وہ بہت دیر تک پڑھتا اور پھینکتا رہا مگر کہیں بھی اسے رمق بھر لذت بھی نصیب نہ ہوئی یہاں تک کہ فائل کی تمام کہانیاں ختم ہو گئیں۔<br>
یہ کیا حماقت ہے ؟ کیا میری کہانیاں مجھے ہی لذت نہیں دے سکتیں؟ کیا میں اتنا ہی فضول لکھتا ہوں ؟ تو کیا یہ سب پاگل ہیں جو مجھے عظیم فحش نگار سمجھتے ہیں۔ اف یہ حالت کس قدر جھنجلا دینے والی تھی۔ وہ اٹھا اور اپنے سرہانے پڑے وہ مسودے اٹھا لایا جو وہ ان دنوں میں مکمل کر رہا تھا۔ اب اس نے ایک ایک کر کے ان مسودات کو پڑھنا شروع کر دیا۔ اس صفحے کی امید پر کہ جس کی کسی سطر میں اسے اپنا ہی تخیل کسی قدر بیگانہ اور نئی صورت میں ملے کہ وہ لذت لے سکے۔ مگر ایسا بھی نہ ہوا۔ اس سے اپنے سر کے بال نوچے اور دل ہی دل میں کہا۔<br>
آج کل تو مجھے لکھنا ہی نہیں چاہیے۔<br>
اداسی کا تسلسل مزید اداسی نے توڑا تو اس نے ایک نیا سگریٹ سلگا لیا اور کرسی سے سر ٹیک کر آنکھیں موند لیں۔ اب وہ اس بات سے بھی اداس تھا کہ وہ بہت بے کار کہانیاں لکھتا رہا ہے۔ مجھے کہانیاں لکھنا ہی نہیں چائیں۔ میں کبھی وہ کہانی نہیں لکھ سکتا جو مجھے لذت دے سکے۔ جس کا پلاٹ میرے اندرون کی تجسیم ہو جس کے تمام کردار میری الجھنوں میں لپٹی شہوت کو اماں دے سکیں۔ آہ ! میں قطعا” ایک عظیم فحش نگار نہیں ہوں۔<br>
کھڑکی میں آ کر اس نے شہر پر اتنی نگاہ ضرور ڈالی کہ کہیں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ خود اس کے سوا کسی کو بھی اس کے عظیم فحش نگار نہ ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔<br>
آہاں ! اچانک اسے یاد آیا کہ اس کے ناقابل ِ اشاعت کلیات تو ابھی تک کسی نے بھی نہیں پڑھے۔ ان میں موجود کسی کہانی پر کسی قاری کی لذت آمیز داد کی تحریف نہیں ہو پائی۔ ہاں مجھے وہ سب آج رات پڑھنا چاہیے۔ وہ میری بہترین کہانیاں ہیں۔<br>
تیزی سے وہ الماری کی طرف کی طرف بڑھا اور غلاف میں لپٹی کاغذوں کی ایک دبیز تہہ اٹھا لایا۔ چشمہ درست کر کے وہ میز پر بیٹھا اور نہایت امید سے اپنی کلیات میں سے ایک کہانی نکالی اور پڑھنا شروع کر دی۔ پڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ ختم ہو ئی اور فرش پر بکھرے اوراق کے ڈھیر میں شامل ہو گئی۔ کوشش کر کے اس نے اپنی امید بحال کی اور دوسری کہانی شروع کی۔ اب وہ دوسری کہانی پڑھ رہا ہے۔ کہانی جاندار ہے مگر پڑھتے ہوۓ اسے خیال آتا ہے کہ اس سے کرداروں کے چناؤ میں غلطیاں ہوئی ہیں جس سے کہانی کی تکمیل نہیں ہو پائی۔ تیسری کہانی شروع ہوئی مگر اس کے پلاٹ میں کہیں کہیں جھول پڑتا ہے جو لذت آزمائی پر پانی پھیر دیتا ہے۔<br>
میری مکمل ترین کہانی کہاں ہے ؟ میرا وہ تخیل کہاں ہے جو مجھے مطمئن کر سکے؟ میری تکمیل محض میرے قلم سے ہی سر زد ہو سکتی ہے۔ وہ کہاں ہے؟<br>
اب تو اس پر پاگل پن کا دورہ پڑ چکا ہے۔ صفحے بہت تیزی سے الٹے جا رہے ہیں مگر ہر کہانی میں کوئی نقص نکل آتا ہے۔ میری کہانی کہاں ہے؟ میری مکمل کہانی کہاں ہے ؟ کلیات تمام ہوئی اور فرش پر صفحات کا اژدھا م لگ گیا۔<br>
میں نے زندگی میں کبھی مکمل کہانی نہیں لکھی ! میرا تخیل کبھی میرا ہی ہمسر نہیں ہوا۔ میں کس قدر تنہا ہوں کہ مجھے اپنا سہارا بھی نہیں ہے۔<br>
وہ میز کے سامنے دھری کرسی پر ہی پڑا یہ سب سوچ رہا ہے۔ آج کا دکھ کس قدر ناقابل ِ تحریر ہے۔ یہ میری کسی کہانی کے کسی باب میں نہیں آیا۔<br>
رات بیتی جا رہی ہے اور وہ یہ سب سوچتے سوچتے نجانے کب سو گیا۔<br>
خواب میں وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک بہت بڑا آڈیٹوریم جس میں کچھا کھچ لوگ بھرے ہیں اور سامنے اسٹیج پر ایک بڑے سے میز کی ایک سمت میں کاغذوں کا کافی بڑا پلندہ پڑا ہے اور میز کے دوسرے کنارے سفید موٹی کنپٹیوں اور سپاٹ چہرے کا ایک بوڑھا کچھ پڑھے جا رہا ہے۔ لوگ اتنے انہماک سے سن رہے ہیں کہ بوڑھے کے الفاظ پورے ایوان میں گونج رہے ہیں۔ وہ سب لوگوں کو حیران ہو کے دیکھتا ہے کیونکہ وہ کسی کو بھی نہیں جانتا۔ اسٹیج پر روشنی زیادہ ہے جب کہ باقی حصے میں مدھم ہے۔ اتنی دیر میں سب تالیاں بجانے لگتے ہیں اور وہ بوڑھے کی طرف دیکھتا ہے جو تالیوں کے وقفے کے بعد کچھ یوں کہہ رہا ہے۔<br>
” بہت شکریہ معزز لکھاریو ! یہ کہانی ساتویں صدی قبل مسیح کے ایک مصری فحش نگار کی تخلیق تھی۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ آج یہاں تاریخ کے تمام فحش نگار جمع ہیں اور آپ باری باری ان سب کی تخلیقات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ”<br>
یہ کہہ کر بوڑھا کاغذوں کے پلندے سے ایک اور کہانی نکالتا ہے اور سنانا شروع کرتا ہے ۔ ایک کے بعد ایک کہانی شروع ہوتی ہے اور تالیوں کی گونج پر ختم ہو جاتی ہے۔ اب اسے ماحول سے کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہو رہی بلکہ وہ بھی بوڑھے کو سن رہا ہے مگر وہ کسی بھی کہانی میں اپنی دلچسپی اور توجہ برقرار نہیں رکھ پاتا۔ ساتویں صدی قبل مسیح سے شروع ہو کر اور مصر و نینوا ، یونان و روم ، عرب و ایران اور ہند و چین کے تمام فحش نگاروں کا کلام مسلسل پڑھا جا رہا ہے مگر وہ اپنے خیالوں میں گم ہے یہاں تک کہ وہ بوڑھے کے اس اعلان پر چونک اٹھتا ہے کہ اب آپ کے سامنے فلاں دور کے فلاں فحش نگار کی کہانی پیش کی جاتی ہے۔ چونک اٹھنے کی بات یہ ہے کہ اس کا نام لیا گیا ہے اور اس کی کہانی پڑھی جانے والی ہے۔ وہ متوجہ ہو کر کرسی پر اکڑوں بیٹھ جاتا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">وہ سنتا رہا اور اپنی لذت کی سرشاری میں اس تکمیل سے حظ اٹھاتا رہا جو تمام تر کہانی کا موضوع بنی رہی۔ ایک دم سے اس کی سانسیں تیز ہونا شروع ہوئیں اور تمام بدن کانپنے لگا ، یقیناً وہ اپنی کہانی میں داخل ہو چکا تھا۔</div>
<div class="urdutext">کہانی شروع ہوتی ہے مگر اسے صحیح طرح یاد نہیں کہ یہ کہانی اس نے کب لکھی تھی۔ تمام ایوان پر سکوت طاری ہے اور بوڑھے کی آواز میں اس کی کہانی اس طرح آگے بڑھتی جا رہی ہے کہ کرسی کے بازوؤں پر اس کی گرفت کی ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور ٹانگیں نیم دراز ہو جاتی ہیں۔ آنکھیں پھٹنے کو آرہی ہیں اور تعجب کسی آن کم نہیں ہو پاتا۔ کرداروں کی تقسیم ، پلاٹ کی ترتیب اور مکالمات کی برجستگی اسے بہت لذت دے رہی ہے۔ اف یہ کس قدر مکمل کہانی ہے۔<br>
ایوان میں موجود لوگ کہانی میں یوں گم ہیں کہ گویا موجود ہی نہیں۔ بوڑھا پڑھتا جا رہا ہے اور کہانی سے اس قدر لذت ٹپک رہی ہے کہ پہلی بار اس کی آواز بھی کہیں کہیں کانپ جاتی ہے۔<br>
لیکن وہ نجانے کہاں گم ہے۔ اس کی نگاہوں سے سب لوگ ہٹ گئے ہیں اور ایوان کی دیواریں ایک دم جیسے غائب ہو گئی ہوں۔ بس اب ایک آواز رہ گئی ہے جو کہانی کی مسلسل تلاوت کیے جا رہی ہے اور کچھ دیر بعد یہ آواز بھی گم ہو جاتی ہے اب بس ایک کہانی ہے جو چل رہی ہے۔ وہ سنتا رہا اور اپنی لذت کی سرشاری میں اس تکمیل سے حظ اٹھاتا رہا جو تمام تر کہانی کا موضوع بنی رہی۔ ایک دم سے اس کی سانسیں تیز ہونا شروع ہوئیں اور تمام بدن کانپنے لگا ، یقیناً وہ اپنی کہانی میں داخل ہو چکا تھا۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کرسی پر نیم دراز ہے اور اسے انزال ہو چکا ہے۔ خواب میں بوڑھے کی زبانی اس کی تحریر کردہ کہانی شاید مکمل نہیں ہوئی تھی۔ وہ تیزی سے اٹھتا ہے اور فرش پر پڑے تمام کاغذ اکٹھے کر کے کھڑکی سے باہر پھینک دیتا ہے۔ دراز سے نیا کاغذ نکالتا ہے اور لکھنا شروع کر دیتا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%85/">احتلام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a7%d8%ad%d8%aa%d9%84%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>فنون لطیفہ میں اختلال ذہنی کی مختصر تاریخ</title>
		<link>https://laaltain.pk/funoon-e-latifa-mein-ikhtalal-e-zehni-ki-mukhtrasir-tarikh/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/funoon-e-latifa-mein-ikhtalal-e-zehni-ki-mukhtrasir-tarikh/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 13 Feb 2015 14:54:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[عکس و صدا]]></category>
		<category><![CDATA[فنون لطیفہ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=9439</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">فنون لطیفہ نے ذہنی عارضے کو  نامانوس اور حقارت آمیز جاننے کی بجائے اسے  انسانی حالت کا ایک حصہ سمجھنے کی راہ ہموار کی ہے یہاں تک کہ اسے مثبت اور کارآمد بھی سمجھا گیا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/funoon-e-latifa-mein-ikhtalal-e-zehni-ki-mukhtrasir-tarikh/">فنون لطیفہ میں اختلال ذہنی کی مختصر تاریخ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جوناتھن جونز کا یہ مضمون <a href="https://www.theguardian.com/society/christmas-charity-appeal-2014-blog/2015/jan/13/-sp-a-short-history-of-mental-illness-in-art" target="_blank" rel="noopener noreferrer">دی گارڈین میں شائع ہوا تھا</a>۔ لالٹین قارئین کے لیے اسے اردو قالب میں ڈھالنے کا فریضہ ابو بکر وجودی نے سرانجام دیا ہے ۔</p>
<div class="urdutext"><strong>ترجمہ: ابوبکر وجودی</strong></div>
<div class="urdutext">فنون لطیفہ نے ذہنی عارضے کو نامانوس اور حقارت آمیز جاننے کی بجائے اسے انسانی حالت کا ایک حصہ سمجھنے کی راہ ہموار کی ہے یہاں تک کہ اسے مثبت اور کارآمد بھی سمجھا گیا ہے۔ فنون ِ جدید میں تو ذہنی عارضے نے تخلیقی مہم جوئی کی سی پذیرائی حاصل کی ہے۔ نفسیاتی جدیدیت کا یہ باب ونسنٹ وین گوخ کی “دیوانگی” سے شروع ہوتا ہے جس میں بعد ازاں مریضوں کی تخلیقات کو نئی قسم کا فن سمجھا گیاتاہم اس جدیدیت کی تاریخی وجوہ اس سے گہری ہیں۔ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے مصوروں اور رومانوی مصوروں کو بھی خبطی قرار دیا جاتا رہا ہے ،البریخت ڈیورر نے “نابغے” کا خاکہ ایک سوادئی کی صورت میں بنایا۔<br>
یہ جاننا شاید چنداںمشکل نہیں کہ فن کاروں نے اس امر سے جسے معاشرہ بیماری سمجھتا ہےہمدردی کا اظہار اس لیے کیا ہے (کیوں کہ) تمام تخلیق غیر عقلی پرواز ہے ۔ خود سے ماورا ہو کر ہر شے کو ایک نئے انداز سے دیکھنا کا خیال شاید اتنا ہی پرانا ہے جتناکہ غاروں میں بسنے والے مصوروں کامشعلوں کی روشنی سے فروزاں تخیل۔ یونانی فلسفی افلاطون نے شاعرانہ سرمستی کو الوہی سچائی کا واحد منبع سمجھتے ہوئے کہا؛ “دیوانگی خدا کا تحفہ ہے”۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>1۔ ویتورے کارپاچیو — ریالٹو (پل) پر آسیب زدہ کی مسیحائی(c. 1496)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/2.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9443" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/2.jpg" alt width="800" height="751"></a></p>
<div class="urdutext">پندرہویں صدی عیسوی کے وینس کی روزمرہ زندگی کو واضح کرتی یہ تصویر ظاہر کرتی ہے کہ زمانہ وسطیٰ میں ذہنی عارضے کو کیسے سمجھا اوراس کا کیوں کر علاج کیا جاتا تھا۔ اس تصویر کو کبھی کبھی “دیوانے کا علاج (اندمال)” بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن ذہن کے بارے میں عصری نظریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے دیوانے کی بجائے معمول ( آسیب زدہ) سمجھا جانا چائیے۔ تصویر میں ایک پادری ریالٹو پُل کے انسانی ہنگام کے بیچ ایک آسیب زدہ شخص کی معجزانہ مسیحائی کر رہا ہے اس لیے اس شخص کا مرض نہ تو طبی نوعیت کا ہےاور نہ ہی سماجی بلکہ ایک مذہبی تجربہ ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>2۔ متیا س گرونیوالڈ- سینٹ انتھونی کو بہکایا جانا۔(1512–16)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/31.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9446" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/31.jpg" alt="3" width="800" height="716"></a></p>
<div class="urdutext">عہد وسطیٰ کے متاخر فن کار عیسائیت کے دور اول کے راہب سینٹ انتھونی کی اس کہانی سے بہت مسحور تھے جس میں شیاطین راہب کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گرونیوالڈ کے ہاں یہ خیال ہوش و حواس کھو دینے کے خطرے سے دوچار آدمی کی صورت میں ایک ذاتی اور نفسیاتی خوف میں بدل جاتا ہے۔ تصویر میں شیاطین کی نہایت خوفناک شکلیں بگڑے ہوئے خیالات کے مانند ہیں۔ یہ تصویر رحمدلانہ جذبے سے ایسن ہائیم کی قربان گاہ کے لیے بنائے گئے فن پاروںکا حصہ ہے جسے ایک ایسے خانقاہی ہسپتال میں لگایا گیا جہاں بد ہئیت کرنے والے امراض کے شکار افراد کا علاج کیا جاتا تھا۔ متورم خاکستری جلد والے شیطان کی تصویر جو اسی سلسلے کے دیگر فن پاروں میں بھی ہے اس مرض کا تاثردیتی ہے جس کا یہاں علاج کیا جانا ہے۔ تو کیا تصویر کا یہ پر ہجوم منظر ہوش مندی کو شدید جسمانی تکلیف سے درپیش خطرے کی نشاندہی کرتا ہے؟ یہ تصویر جرمن علامتیت (Expressionism)پر اثر انداز ہوئی اور آج تک ایک خوفزدہ ذہن کا شاہکار عکس سمجھی جاتی ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">3 ۔ البریخت ڈیورر۔ شکستہ دلی (1514)</div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/4.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9447" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/4.jpg" alt="4" width="800" height="1021"></a></p>
<div class="urdutext">فن مصوری کا یہ نمونہ جہاں آج کل بیماری سمجھے جانے والے ذہنی عارضے (دل شکستگی/افسردگی)کی تشخیص ہے وہیں اس عارضے کے جراتمندانہ انداز سے منانے کا اظہار بھی ہے۔ قرون وسطیٰ(Middle ages) میں دل شکستگی (Melancholia) کو ذہن کی وہ تاریکی سمجھا جاتا تھا جو جسمانی رطوبتوں( خون،بلغم،زرد صفرااور سیاہ صفرا) کے عدم توازن سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ تاریکی ڈیورر کے بنائے افسردگی کی مریضہ کے سوچ میں ڈوبے چہرے پر واضح نظر آتی ہے۔ مریضہ کو اس کےاوزاروں کے باعث ریاضی ، علم ہندسہ(Geometry)اور فن تعمیر(Architecture) کا ماہر سمجھا جانا چاہیے جو نشاۃ ثانیہ میں کسی بھی نابغہ روزگار شخص کی خوبیاں سمجھی جاتی تھیں۔ ان علامات کے ذریعے ڈیورر اپنی داخلی زندگی کی خاکہ آرائی کرتا ہے اور ذہنی کشاکش پر اپنے وجدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کی نگاہ میں دل شکستگی ایک نابغہ روزگار شخصیت کی علامت ہے،جان سکنے کی خواہش اور تخلیق کرنے کی تمنا کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی اچانک قنوطیت اور نا امیدی سے دوچار ہو جائے۔ ڈیورر کے نزدیک نا آسودگی ایک اعلیٰ وصف ہے ۔ یہ تصویر بجا طور پر جدید نفسیات کا آغاز ہے۔</div>
<div class="urdutext"><strong>4۔ ولیم ہوگارتھ-پاگل خانے کی ایک جھلک (1733)</strong></div>
<div class="urdutext">شیکسپئیر اور کیروانٹس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ڈورر کے اس وجدان کی کہ ذہنی تاریکیاں بھی انسانی زندگی کا حصہ ہیں لندن کے بیتھلم ہسپتال کے بانیوں نے کچھ قدر نہ کی۔یہ بدنام زمانہ پاگل خانہ قرون وسطیٰ میں قائم ہوا اورشاید چودہویں صدی تک ذہنی امراض کے علاج میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔ اٹھارہویں صدی میں جب ہوگارتھ نے ایک نوجوان کاخاکہ بنایا جسے قمار بازی اور فضول خرچی نے یہاں لا چھوڑا تھا ،تب یہ ہسپتال ایک ایسی جگہ تھی جہاں لندن کے باسی آ جا سکتے تھے اور “پاگلوں” کو ملاحظہ بھی کر سکتے تھے۔ ہوگارتھ تصویر میں پاگل پن کے اس نظارے جہاں کوئی خود کو بشپ تو کوئی بادشاہ سمجھتا ہے سے لطف اندوز ہونے والی دو “ذی فہم” عورتیں دکھاتا ہے، بلاشبہ ہوگارتھ کے خیال میں ہوشمندی اور پاگل پن کے درمیان اتنی واضح حد ہرگز نہیں ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>5۔ فرانسسکو گویا لیوسینتیس- استراحتِ فہم عفریت پیدا کرتی ہے (1799)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/5.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9448" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/5.jpg" alt="5" width="800" height="1190"></a></p>
<div class="urdutext">گویا (Goya)نے اپنی “خوابیدہ شخص” ( فن کار) کی عکاسی میں جس پر رات کے عفریت حملہ کر چکے ہیں دراصل روشن خیالی کے نتیجے میں سامنے آنے والی عقلیت پسندی کے نقص کی عکاسی کی ہے۔ روشن خیالی اٹھارہویں صدی کی وہ عظیم تحریک تھی جس نے دنیا کو انسائیکلوپیڈیا ، سائنسی تشریح اور ابتدائی کار خانوں کے ذریعے بدلنا چاہا تھا۔ گویا کا قنوطی مگر دردمندانہ خیال یہ ہے کہ عقل ہمارے ذہن کے محض کچھ حصے کا ہی اختیار رکھ سکتی ہے،اسے ڈراؤ نے خوابوں کو بھی دنیا میں شریک کرنا ہوگا ۔ جدید دور کے آغاز پر بنائی جانے والی یہ تصویر نے سینٹ انتھونی کو بہکانے والی ان ترغیبات کی شبیہوں کی بازگشت بھی ہے جس پر حملہ کرنے والے شاید تاحال فنا نہیں ہو سکے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>6۔ تھیوڈور گیری کالٹ۔ دیوانے کا خاکہ(1822)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/6.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9449" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/6.jpg" alt="6" width="800" height="992"></a></p>
<div class="urdutext">رو مانوی عہد میں شدید حالت ِ ذہنی اور داخلی کرب شاعری اور آرٹ کا خام مال تھے۔ خودبینی (introspection) کا یہ مزاج گیری کالٹ (Gericault)کی تصویر “فاترالعقل” میں دماغی صحت پر نئے انداز سے روشنی ڈالتا نظر آتا ہے۔ اپنے دوست ڈاکٹرایٹین جین جارجٹ (Dr Etienne-Jean Georget) کے مریضوں کی عکاسی پر مشتمل گریکالٹ کی بنائی دس تصاویر میں سے پانچ اب بھی موجود ہیں۔زیر نظر تصویر میں ایک خاتون کے لئے دلی عزت اور انسانی ہمدردی ہے جس کا مرض اس کے چہرے کی گہری اداسی سے واضح ہے۔ موت اور تشدد سے متعلق فن پارے تخلیق کرنے والے اور خود کو دماغی عاضے کے قریب سمجھنے والے فن کار گریکالٹ نےاپنی تصاویر میں (اس دور کے) مروجہ مسبوکات (Stereotypes) اور تعصبات سے گریزکرتے ہوئے دماغی عارضے کو انسانی حالت کے ایک پہلو کے طور پر دکھایا ہے</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>7۔ گستاو کوربٹ ۔ ذاتی خاکہ ۔نراس شخص (c. 1843–45)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/7.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9450" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/7.jpg" alt="7" width="800" height="546"></a></p>
<div class="urdutext">کوربٹ (Courbet)نے رومانوی مسرت کے کسی لمحے میں اپنا خاکہ “دیوانے” کے طور پر بنایاجس کے چہرے سے وارفتگی اور خوف ظاہر ہے۔ اس کی نراسیت (Desperate) کسی شرمناک بیماری کی بجائے فنکارانہ غرور کاامتیازی نشان ہے۔ ڈیورر کی تصویر “دل شکستگی“سے شروع ہونے والی روایت رومانوی عہد میں مزید مستحکم ہو چکی تھی کے تسلسل میں کوربٹ نے ذکاوت کو دیوانگی کے مساوی لا کھڑا کیا۔ یہ نراس چہرہ انیسویں صدی کے فنکارانہ تجرباتی دانش کا چہرہ ہے جس نے اپنی دیوانگی اور بیماری کو خطرے میں ڈالنے یہاں تک کہ اس میں غرق کرنے کی حد تک شراب اور منشیات کے ساتھ بھی دیکھا۔ کوربٹ اپنی اس تصویر میں ایڈگر ایلن پو کی منظوم کہانیوں کا ایسا کردار معلوم ہوتا ہے جواپنی ذہن کے منکشف ہونے پر دور جدید کے اولین مصوروں ہی کی طرح حیران ہے۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>8۔ ونسنٹ وین گوخ۔ کان پر پٹی باندھے ذاتی خاکہ(1889)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/8.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9463" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/8.jpg" alt="8" width="800" height="979"></a></p>
<div class="urdutext">ونسنٹ وین گوخ انیسویں صدی کی ایک تصویر ” ہیوگو وین ڈر گوز کا پاگل پن” The Madness of Hugo van der Goes سے بہت متاثر تھا۔ اس تصویر میں عہد وسطیٰ کے ایک مصور ہیوگو وین ڈر گوزجسے ذہنی عارضے کے باعث ایک خانقاہ میں داخل کرایا گیا تھا کو انتہائی کرب میں دکھایا گیا ہے جب کے آس پاس کے لوگ اس کی اذیت میں کمی لانے سے قاصر ہیں۔ ونسنٹ وین گوخ نے لکھا کہ وہ کبھی کبھی اس تصویر میں اپنے آ پ کو دیکھتا تھا۔ اپنے کان کی لو کاٹنے کے بعد وہ اس تصویر میں اپنا جائزہ اسی تکلیف زدہ آدمی کے طور پر لے رہا ہے۔لیکن کیا ہ واقعی ایسا ہے ؟ ونسنٹ کی آنکھیں بالکل نیلی ہیں اور وہ نوکیلی اور چبھ جانے والی ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا ہے، وہ اپنے زخمی چہرے پر گہری سچائی کے ساتھ معروضی نظر ڈالتا ہے۔ نہ تو وہ دانا ہے اور نہ ہی دیوانہ بلکہ ایک عام انسان ہے جو ہم سے دوٹوک اور دیانت سے باتیں کرتا ہے ۔</div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext"><strong>9۔ ایڈورڈ منچ ۔ چیخ (1893)</strong></div>
<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/9.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-9464" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2015/02/9.jpg" alt="9" width="800" height="1200"></a></p>
<div class="urdutext">اس فن پارے میں جدید دور کی حالت کو پاگل پن کے طور پر دکھایا گیا ہے جو علت و معلول کے قضیے کی طرح واضح ہے۔ یہ “چیخ” آفاقی ہے۔ منچ (Munch)کے خیال میں آج کل زندگی ہمیں ایسی ہی محسوس ہوتی ہے۔کسی اذیت کیش کے برعکس لڑکھڑاتے ہوئے آسمان کے نیچے کرب اور تنہائی کے عالم میں چلا اٹھنا دراصل دنیا کی خرابی کا ایک معقول جواب ہے۔ منچ نے دماغی عارضے کی اس فنکارانہ تعبیر جو روشن خیالی کے دور کی پیداوار تھی کواپنے منطقی انجام تک پہنچایا یعنی دنیا کے سوا کوئی اور پاگل خانہ نہیں ہے ۔</div>
<div class="urdutext"><strong>10۔ جوزف فورسٹر ۔ پرنزہارن مجموعہ کی بے عنوان تصویر ( بعد از 1916)</strong></div>
<div class="urdutext">منچ اور وین گوخ نے پاگل پن کو جدید آرٹ میں ایک مثبت قدر اور تخیلاتی حقیقت کا راستہ سمجھا۔ اس سے کچھ ہی عرصہ بعد معالجین نے بھی نے آرٹ اور ذہن کے درمیان نئے رشتے تلاش کرنا شروع کیے۔ ڈاکٹر ہانس پرنز ہارن Dr Hans Prinzhorn نے 1933 میں اپنی وفات سے قبل دماغی مریضوں کی تخلیقات کا ایک مجموعہ مرتب کیا جو “خارجی مصوری”(Outsider art) کی ابتدا تھی۔ “پاگل پن“جسے کبھی مصور تصویر کیا کرتے تھے اب بذات خود طبع زاد فنکاری کا سبب بن چکا ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/funoon-e-latifa-mein-ikhtalal-e-zehni-ki-mukhtrasir-tarikh/">فنون لطیفہ میں اختلال ذہنی کی مختصر تاریخ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/funoon-e-latifa-mein-ikhtalal-e-zehni-ki-mukhtrasir-tarikh/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>داعش اور مسئلہ عراق</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 04 Jul 2014 10:02:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[البغدادی]]></category>
		<category><![CDATA[بعث پارٹی]]></category>
		<category><![CDATA[داعش]]></category>
		<category><![CDATA[شام]]></category>
		<category><![CDATA[عراق]]></category>
		<category><![CDATA[عراق کا بحران]]></category>
		<category><![CDATA[لبنان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=6246</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82/">داعش اور مسئلہ عراق</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">فٹ بال کے عالمی مقابلے اور شمالی وزیر ستان آپریشن نیز علامہ طاہر القا دری ایسی بلند قامت دیواروں کے پیچھے جو واقعہ ہماری نظروں سے مسلسل اوجھل ہو رہا ہے وہ ہے عراق کا بحران اور بین الاقو امی سیاسی منظر نامے میں اس کی غیر معمولی اہمیت۔ داعش کی برق رفتار فتوحات اور بغداد کے گرد ہر گزرتے دن کے ساتھ تنگ ہونے والا گھیرا یہ سمجھنے کو کافی ہے کہ عالمی سیاست کا دھارا اب مشرق وسطیٰ کا رخ کر چکا ہے۔ داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔2003 سے متحرک اس گروہ نے اس سال کے اوائل میں القا عدہ سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد اپنے طور پر سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ اس کے موجودہ امیر ابوبکر البغدادی ہیں جو عراق پر امریکی قبضے کے دوران قید میں بھی رہے۔ البغدادی نے بغداد یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے رکھی ہے اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اعلیٰ جنگی حکمت کے مالک ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">داعش بنیادی طور پر اسلامی شدت پسند جنگجوؤں کا ایسا جتھہ ہے جو عراق ، شام ، لبنان اور بعد ازاں ترکی کے علاقوں پر مشتمل اسلامی خلافت کے قیام کے لئے لڑائی کر رہے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">داعش کو کچھ لوگ عراق کے طالبان سمجھتے ہیں جو میرے خیال میں کچھ زیادہ درست نہیں ہے۔ صدام حسین کی برطرفی کے بعد عراق میں دبے ہوۓ شیعہ سنی مسئلے کا ابھر آنا داعش کی سرگرمیوں کو بڑھاوا ملنے کی ایک اہم وجہ ہے جو پاکستانی طالبان کے معاملے میں نہیں ہے۔ عراق کے موجود وزیر اعظم المالکی پر لگنے والے الزامات کہ وہ سنی اقلیت کے ساتھ تعصب کا رویہ رکھتے ہیں اور انہیں حکومت میں مناسب نمائندگی نہیں دی گئی۔ نیز عراق کے اندرونی معاملات میں ایران کا حد سے بڑھتا ہوا کردار بھی معاملے کو مزید گنجلک بنا دیتا ہے۔ چنانچہ عراقی سنی آبادی میں پائی جانی سیاسی محرومی سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوۓ داعش ان سب کو حکومت مخالف محاذ میں اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ اگرچہ سنی آبادی کا ایک معقول حصہ اب بھی داعش سے اشتراک کا قائل نہیں ہے مگر عراقی سرکاری افواج کی داعش سے مسلسل شکستوں کے بعد جب آیت اللہ سیستانی کی جانب سے شیعہ عوام سے یہ کہا گیا کہ وہ رضا کارانہ طور پر داعش کے خلاف لڑنے میں حکومت کا ساتھ دیں اور پھر مقتدیٰ الصدر کے فرمان پر مہدی آرمی کی بغداد میں فوجی پریڈ ایسے عوامل ہیں جنہوں نے عراقی سنی عوام میں یہ خدشہ پیدا کر دیا ہے کہ ان کی بقا داعش کے ساتھ ملنے میں ہے۔ عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔ آپ اس بیان سے مسئلے کی پیچیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اور شام اور اردن کی سرحدی چوکیوں کے بعد اب داعش بغداد سے محض ایک گھنٹے کی دوری پر ہے اور شاید بغداد پر حملے سے بھی پہلے داعش حدیثیہ کے ڈیم پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے گی اور ایسی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں عراق کی جنگ اپنے سنجیدہ اور خطرناک ترین حصے میں داخل ہو جاۓ گی۔</div>
<div class="leftpullquote">عراقی کردستان میں بغداد سے آنے والے سنی مہاجرین نے ایک صحافی کو یہ بتایا کہ ان کا المیہ یہ ہے کہ ان کے پاس عراقی حکومت یا داعش کے علاوہ کوئی تیسرا امکان نہیں بچا۔</div>
<div class="urdutext">کہا جاتا ہے کہ داعش میں صدام دور کے کئی فوجی افسران بھی شامل ہیں جنہوں سے بعث پارٹی کی حکومت کے دنوں میں سوویت یونین سے فوجی تربیت حاصل کی تھی اور داعش کی جنگی کامیابیوں میں ان افسران کا اہم کردار ہے۔ چند روسی تجزیہ کار اس امر کو فخریہ انداز میں جارجیا میں امریکی تربیت یافتہ افواج کی روسی فوج سے شکست کے ساتھ جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ جو چیز عراقی بحران کو شام کے بحران سے جدا کرتی ہے وہ صدام دور میں حکومتی سطح پر غالب رہنے والا سنی مسلمانوں کا وہ طبقہ ہے جسے صدام کے بعد عراقی منظر نامے سے غائب کر دیا گیا تھا جبکہ شام میں طویل عرصے سے کوئی سنی حکومت رہی ہی نہیں۔ شام اور عراق کے مسئلے کو اس انداز میں بھی جدا جدا دیکھا جا سکتا ہے کہ عراق میں داعش کے خلاف امریکہ اب تک عراق کا ایک محتاط اتحادی ہے جبکہ شام میں یہی امریکہ داعش اور اس جیسے دیگر حکومت مخالف دھڑوں کی حمایت میں سرگرم ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے کانگریس سے 50 کروڑ ڈالر کی رقم کا مطالبہ کیا گیا ہے جو شام میں قابلِ اعتماد باغیوں کی مدد میں استعمال ہو گی۔ اس امر کے امکانات بہت کم ہیں کہ امداد کی یہ رقم شفاف طریقے سے تقسیم کی جاسکے گی۔ امریکی حکومت نے عراق کے بارہا مطالبے کے باوجود اب تک عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی کاروائی نہیں کی جبکہ شام کی جانب سے عراق میں داعش پر بمباری اور روس کی جانب سے عراقی حکومت کو جنگی طیاروں کی کھیپ دئیے جانے کا عندیہ داضح طور پر بتا رہا ہے کہ امریکہ عراق میں داعش کے خلاف کھل کر فوجی کاروائی نہیں کرے گا اور بشار الاسد اور روس کا دیرینہ اتحاد عراق میں المالکی حکومت اور ایران کے اتحاد سے مل کر داعش کا مقابلہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس صورت حال میں یہ واضح ہے کہ امریکہ شام کے بحران کے تناظر میں ہی عراق میں کاروائی کرے گا۔ ایران کا امریکہ سے عراقی مسئلے پر متوقع اشتراک ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے امریکہ مخالف بیان کی وجہ سے تقریباً کھٹائی میں پڑ چکا ہے۔ مگر آیت اللہ کا یہ بیان کوئی رسمی بیان نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ المالکی کی جگہ عراق میں اپنی پٹھو حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ شاید ایران کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کی کاروائی شام کے بحران کو سامنے رکھے بغیر ممکن نہیں جہاں امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے شدید مخالف ہیں۔ نیز ایران یہ بھی جان چکا ہے کہ عراق میں امریکہ کسی بھی کاروائی کو حکومت میں سنی نمائندگی سے مشروط رکھنا چاہے گا جو مستقبل میں عراق میں ایرانی مفادات کے حق میں نہیں ہے۔ بغداد میں القدس فورس کے چیف سمیت ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ ” تہران عالمِ مشرق کا جنیوا بننے” کا خواب تنہا پورا کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن ایران کی حالیہ پالیسی عراق میں شیعہ سنی مسئلے کو بڑھاوا ہی دیتی آئی ہے اور اب خبر ہے کہ ہندوستان سے بھی شیعہ رضاکار عراق کی جنگ کا حصہ بننے کا تیار ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔</div>
<div class="urdutext">ہمارے لئے اس تمام بحران میں جو شے سب سے زیادہ قابلِ غور ہے وہ مسلم ممالک میں جمہوریت کی مسلسل ناکامی اور اس کی بڑی وجہ حکومتوں کا مذہبی ہونا ہے۔ تباہ حال عراقی شہری یہ گلہ بھی کرتے ہیں کہ صدام کے دور میں کم ازکم سیکورٹی کے ایسے سنگین مسائل تو نہیں تھے جو امریکی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی جمہوریت میں ہیں۔ مسلم ممالک کو یہ جان لینا چائیے کہ جمہوریت کی کامیابی سیکولرازم اپناۓ بغیر ممکن نہیں ہے۔ جب عوام ہی حکومت کا چناؤ کرتے ہوں تو طاقت کا سر چشمہ بھی عوام کو ہی ہونا چائیے ناکہ کسی مذہبی عقیدے یا مافوق الفطرت خدا کو۔ عراق کا یہ مسئلہ کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اگر عقیدے کی بنا پر عوام کو طبقات میں تقسیم نہ کیا گیا ہوتا۔ مسلم ممالک بشمول پاکستان میں ہم آسانی سے دیکھ سکتے ہیں کہ جمہوریت اور مذہب کو جوڑ کر حکومت چلانے کے تجربے اکثر اسی بنا پر ناکام ہوۓ ہیں کہ جمہوریت تمام شہریوں کو ان کی شہریت کی بنیاد پر مساوی سمجھتی ہے جب کہ مذہب عوام کی ایسی تقسیم کا قائل ہے جو عقیدے کی بنیاد پر ہو۔ یہ واضح تناقض مسلم جمہوریتوں کی ناکامی اور سیکورٹی مسائل نیز بار بار کے مارشل لا ء کی بڑی وجہ ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82/">داعش اور مسئلہ عراق</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%af%d8%a7%d8%b9%d8%b4-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>” بزرگ گھڑیال ”</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%b2%d8%b1%da%af-%da%af%da%be%da%91%db%8c%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%b2%d8%b1%da%af-%da%af%da%be%da%91%db%8c%d8%a7%d9%84/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[ابوبکر]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 29 Jul 2013 10:15:07 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[afsaana]]></category>
		<category><![CDATA[afsana]]></category>
		<category><![CDATA[clocks]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[urdu short story]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=1935</guid>

					<description><![CDATA[<p>ابو محمد الوجودی میں ہر اتوار کی شام عجائب گھر کے باغیچے میں گزارتا ہوں۔ پہلے پہل جب میں اس شہر آیا تھا تو میں عجائب گھر کے اندر جا یا کرتا تھا اور نوادرات دیکھا کرتا تھا پر اب میں باغیچے میں ہی ایک بنچ پر کہ جس کے ساتھ بلب کا کھمبا لگا [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%b2%d8%b1%da%af-%da%af%da%be%da%91%db%8c%d8%a7%d9%84/">” بزرگ گھڑیال ”</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div style="font-family: Jameel Noori Nastaleeq; font-size: 18px; direction: rtl; line-height: 30px; text-align: right;">
<p><b>ابو محمد الوجودی</b></p>
<p><img loading="lazy" decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1941" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/abubakar_gharyal-2.png" alt="abubakar_gharyal-2" width="600" height="210"><br>
میں ہر اتوار کی شام عجائب گھر کے باغیچے میں گزارتا ہوں۔ پہلے پہل جب میں اس شہر آیا تھا تو میں عجائب گھر کے اندر جا یا کرتا تھا اور نوادرات دیکھا کرتا تھا پر اب میں باغیچے میں ہی ایک بنچ پر کہ جس کے ساتھ بلب کا کھمبا لگا ہے شام گزار دیتا ہوں۔سورج جب عجائب گھر کے برج کے پیچھے ڈھل رہا ہوتا ہے تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے کوئی کائناتی ہرکارہ سورج کو عجائب گھر کے گودام میں رکھنے کے لئے کھینچ کر لیے جا رہا ہو۔ میں ہر ہفتے کے بعد سورج کو یونہی گرفتار دیکھتا ہوں۔ برج پر لگا گھڑیال سورج کے پکڑے جانے پر یوں شور مچاتا ہے جیسے اسے بھی رات کا خوف ہو۔<br>
ایک شام جب میں اسی بنچ پر بیٹھا تھا اور سورج ڈھل چکا تھا تو گھڑیال اپنے مقررہ وقت سے ہٹ کر بجنے لگا۔ اندھیرا پڑ رہا تھا اور اس وقت باغیچے میں میرے علاوہ صرف ایک بلی ہی تھی جو مسلسل گھاس میں پنجے مار رہی تھی۔ شاید میں اسے وہم جانتا پر گھڑیال دوبارہ بجا اور اس نے کہا “نزدیک آؤ ،کیا تم مجھے سن سکتے ہو ؟” میں اٹھا اور برج کے قریب ہوا۔ گھڑیال کی بناوٹ بتا رہی تھی کہ وہ کافی پرانا ہے۔<br>
“بزرگ گھڑیال ’ تمہیں زبان کس طرح حاصل ہوئی ؟” میں نے متحیر انداز میں سوال کیا۔<br>
“کیا تم نہیں جانتے کہ جو پتھر چوٹیوں کے نہیں رہتے وہ کیسے گونج دار آواز کے ساتھ گھاٹیوں میں گرتے ہیں نوجوان دوست !” گھڑیال نے جواب دیا۔<br>
اتنا کہہ کر گھڑیال کا گھنٹہ بجا اور میری پیشانی پہ ایک قطرہ آن گرا۔ میں نے اسے انگلی سے صاف کیا اور اوپر دیکھا ۔ گھڑیال رو رہا تھا۔<br>
“کیا اپنے دوست کو تم اپنا المیہ نہیں بتاؤ گے بزرگ گھڑیال ؟” میں نے اداسی بھرا سوال کیا۔<br>
“مجھ پہ زمانہ بیت رہا ہے اور میں اپنی تکمیل کے اس سفر میں ہوں جس کی کوئی انتہا مجھے معلوم نہیں۔ کیا ہر گزرتے گھنٹے تم میرا نوحہ نہیں سنتے ؟ کیا تم میرے سینے کی خراشیں نہیں دیکھ رہے ؟یہ سب ان سوئیوں کا کیا دھرا ہے جو مجھے یہ جتا کر غم زدہ کرتی ہیں کہ میں ابھی ادھورا ہوں۔ ان کی یہ مسلسل حرکت کتنی اداس کر دینے والی ہے۔”<br>
“پر تمہاری تکمیل کیا ہے بزرگ گھڑیال ؟ کیا تم گھڑیال نہیں رہنا چاہتے ؟” مجھ سے ضبط نہ ہو سکا اور میں نے اس کی بات کاٹتے ہوۓ کہا۔<br>
“میں جانتا ہوں کہ تم اندر عجائب گھر کے سب کمروں میں پڑے نوادر سے واقف ہو۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ ان پہ وقت رک گیا ہے۔ کیسے ان کا تعارف ان کے وجود کے سرورق پہ آگیا ہے جیسے پانی پہ جھاگ آ ٹکتا ہے۔ وہ جو ہیں اسی سے پہچانی جاتی ہیں۔ اور میں ۔۔۔ میں خود پہ وقت بن کے گزر رہا ہوں۔ میں یہاں برج پر اسی سال سے مسلسل موسموں کی زد میں ہوں۔ مجھے یہاں سے شہر کا وہ کونہ بھی نظر آ رہا ہے کہ جہاں تک تمہیں پہنچنے میں گھنٹے لگ جائیں۔ میں شہر بھر کے واقعے کا شریک کار بن چکا ہوں۔ اف !! دیکھتے رہنے کا یہ ذمہ آخر میں نے اپنی مرضی سے تو نہیں اٹھایا تھا ۔”<br>
گھڑیال کی باتیں مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر رہی تھیں۔ تکمیل کا سودا ہر سر میں بھلا کیسے سما سکتا ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ جو یہ شوق پالتے ہیں وہ اسی کے ہو رہتے ہیں یہاں تک کہ گھڑیال کی طرح خود اپنی تصویر بن جانے کی خواہش کرتے ہیں۔<br>
“ایسی پرحالی کی بجاۓ تم کسی الماری میں کیوں سج جانا چاہتے ہو ؟” میں نے اپنی سوچ کو سوال کی صورت ادا کیا۔<br>
“ہاں تم اسے سج جانا ہی سمجھو گے حالانکہ یہ بچ جانا ہے۔ کیا یہ دقت تمہیں سمجھ آتی ہے کہ میں کبھی بھی رات سو نہیں سکتا کہ جنہیں سب سے اول صبح کا پتہ دینا ہو انہیں کسی رات بھی سونا نہیں چاہیے۔ میری صدا پر ایک نسل نے اپنے معمولات ترتیب دئیے ہیں اور میں شایداس کارندے جتنا مجہول ہوں جو ہر ملاقاتی کو اس کے وقت پر صاحبِ خانہ سے ملواتا ہے۔ یہ درمیانی ہونا آخر کب تک برداشت کیا جاۓ؟ میں ایسےکاموں سے فرار چاہتا ہوں جو محض مجھے درمیانی ہونے کی آزمائش میں ڈالے رکھتے ہیں۔ تم میری باتیں سمجھ رہے ہو نا ؟”<br>
میں اس کی باتوں میں گم تھا۔ “ہاں بزرگ دوست اگرچہ یہ مشکل ہے۔ تم اپنی بات مکمل کرو” سر جھٹکتے ہوۓ مجھ سے یہی جواب بن پایا۔<br>
“میں کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں کہ جس میں میں مکمل طور پہ کام میں آؤں۔ یہ درمیانی ہونا اب درمیان سے اٹھنا چائیے۔ مکمل گھڑیال کیسے ہی خوش صورت ہوتے ہوں گے۔ لیکن ایسا ہونا کم از کم میرے لئے تو ممکن نہیں۔ میرا گمان تو بس وقت کے اس برج پر ہی پھانسی چڑھ جاتا ہےجس کی انتہا پر شاید کوئی مکمل گھڑیال اپنی تمام رعنائی سمیت موجود ہو۔ میرا ہونا بھی کیا المیہ ہے۔ میں سب کو منزلوں کی خبر دیتا ہوں مگر خود اس حالت میں ہوں کہ اپنی راہ ہی مکمل نہیں ہو سکتی۔ میں الماری میں پناہ چاہتا ہوں۔جہاں میں اپنی خبر بن کے رہ جاؤں اور لوگوں کو تا ابد اپنے ان دنوں کی داستاں سناتا رہوں کہ جب میں حالتِ وجود میں تھا۔ ”<br>
اتنی بات کرنے کے بعد گھڑیال زور سے بجا اور میرے خیالات کا تانتا عجائب گھر کے محافظ کی سیٹی سے ٹوٹا۔ وہ تیز قدموں سے میری جانب ہی چلتا آ ر ہا تھا۔ گھڑیال سے باتیں کرتے ہوۓ مجھے وقت کا مطلق احساس نہ ہوا تھا اور اب جب خیال کیا تو رات پڑنا شروع ہو چکی تھی۔<br>
محافظ مجھ تک آ پہنچا اور مجھے فوراً وہاں سے جانے کو کہا۔ میں جلدی جلدی وہاں سے نکلا کیونکہ مجھے کافی دور جانا تھا۔ مڑ کے دیکھا تو بلب کی تیز روشنی میں گھڑیال چمک رہا تھا۔ یہ گھڑیال کتنا پراسرار تھا ۔ میں یہی سوچتا ہوا گیٹ سے باہر نکلا اور بھاگتے ہوۓ ایک بس میں سوار ہو گیا۔ میں نے اپنی کلائی سےقمیص اوپر کی اور عادتاً گھڑی دیکھی۔ گھڑی ٹک ٹک چلتی جا رہی تھی۔ سات بج کر پندرہ منٹ ہوۓ تھے۔</p>
</div>
<hr style="width: 640px;" width="640">
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%b2%d8%b1%da%af-%da%af%da%be%da%91%db%8c%d8%a7%d9%84/">” بزرگ گھڑیال ”</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%a8%d8%b2%d8%b1%da%af-%da%af%da%be%da%91%db%8c%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
