<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عبدالستار, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/abdul-sattar/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:23:41 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>عبدالستار, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>لرزتی ،لڑکھڑاتی زندگیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%84%d8%b1%d8%b2%d8%aa%db%8c-%d8%8c%d9%84%da%91%da%a9%da%be%da%91%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%84%d8%b1%d8%b2%d8%aa%db%8c-%d8%8c%d9%84%da%91%da%a9%da%be%da%91%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالستار]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 17 Sep 2015 15:28:34 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12645</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">جسم میں جب جان  نہ رہے،ہمت  ساتھ چھوڑنے لگے جب جوانی ماضی کی  حسین یاد بن کر بار بار ستائے،سانس لینے سے کئی درد جسم  میں ابھر آئیں،چلنا دشوار ہو زندہ رہنا جب کسی اذیت سے کم نہ ہو۔۔۔۔بڑھاپا شائد زندگی کا وہ حصہ ہے کہ  جب اپنےجنہیں کبھی اپنے ہاتھوں سے پالا ہوتا ہے وہ بھی رخ موڑ لیتے  ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%d8%b1%d8%b2%d8%aa%db%8c-%d8%8c%d9%84%da%91%da%a9%da%be%da%91%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba/">لرزتی ،لڑکھڑاتی زندگیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">جسم میں جب جان نہ رہے،ہمت ساتھ چھوڑنے لگے جب جوانی ماضی کی حسین یاد بن کر بار بار ستائے،سانس لینے سے کئی درد جسم میں ابھر آئیں،چلنا دشوار ہو زندہ رہنا جب کسی اذیت سے کم نہ ہو۔۔۔۔بڑھاپا شائد زندگی کا وہ حصہ ہے کہ جب اپنےجنہیں کبھی اپنے ہاتھوں سے پالا ہوتا ہے وہ بھی رخ موڑ لیتے ہیں۔دوست کچھ اس جہاں کو چھوڑ گئے اور کچھ ایسی ہی کسمپرسی کی حالت میں نجانے کہاں ٹھوکریں کھا رہے ہوں۔دنیااس قدر بدل جاتی ہے کہ کچھ بھی تو اپنا نہیں لگتا۔بھوک،بیماری ،درد اور اس سے بڑھ کر اپنوں کی بے اعتنائیاں ،یہ زندگی ہے کہ جس میں موت دبوچنے سے پہلے بہت عرصہ ساتھ ساتھ چلتی ہے ایک خوف بن کر، ایک اذیت بن کر ۔<br>
بڑھاپا ویسےتو کوئی عذاب نہیں مگر سماج اور معیشت جس ڈگر اور بنت پے ہیں وہاں ضعیف افراد کو بوجھ سمجھناعام ہے۔ معمر اور ضعیف افرادکے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے وہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں۔یہ ظلم شائد اتنے ڈھکے چھپے انداز میں ہوتا ہے اور اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ظلم لگتا ہی نہیں۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ اس ظلم کی وجہ اپنے جگر کے ٹکڑے ہی ہوتے ہیں جوا نجانے میں ایسے رویوں کی آبیاری کر تے ہیں جن کابہت جلد وہ خود شکار ہونے والے ہیں۔یہ ظلم وہ کر رہے ہیں جنہیں ان کے بزرگوں نے اپنی خواہشات کا خراج دے کر پالا ہوتا ہے۔ مگر ان پرجوانی اور قوت کا اس قدر نشہ ہے کہ انہیں اپنے ضعیف ما ں باپ دکھائی ہی نہیں دیتے۔</div>
<div class="leftpullquote">عام طور پہ سماج میں بوڑھے شخص کی صحت اور زندگی کو بچوں اور نوجوانوں کی صحت اور زندگی سے کم تر اہمیت دی جاتی ہے۔</div>
<div class="urdutext">بڑھاپا آج سماج میں ایک ایسا روگ بن گیا ہے جہاں زندگی ضعیف لوگوں کو ایک پل گلے سے لگاتی ہے تو اگلے پل سوتیلی ماں کی طرح دھتکارکے جھٹک دیتی ہے۔عمر کےاس حصے میں انہیں صحت کے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بڑھاپے میں صحت کے مسائل فطری امر ہیں مگر اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ بزرگوں کو ان کے حال پہ چھوڑ دیا جائے۔عام طور پہ سماج میں بوڑھے شخص کی صحت اور زندگی کو بچوں اور نوجوانوں کی صحت اور زندگی سے کم تر اہمیت دی جاتی ہے۔ان کی خراب صحت کو فطری عمل سمجھ کر یا موت کی طرف ان کی پیش قدی سمجھ کر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے تنہائی سے بھری ان کی زندگی میں کانٹوں کا مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔اسپتالوں اور مراکز صحت کا ماحول بھی ان کے لیےآرام دہ نہیں ہوتا۔اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں سہولیا ت کا فقدان ہوتا ہے ،ایسے میں معمر لوگوں کے لیے خصوصی سہولیات کا خواب تو شائد کوئی دیوانہ ہی دیکھ سکے،اور خواب بھی وہ جس کی تعبیر کی کوئی سبیل بظاہر نظرنہیں آتی۔<br>
صحت کے ساتھ ساتھ معاشی طور پہ بھی ان کا انحصار کسی سہارے پرہوتا ہے۔ موجودہ معاشی نظام تو انہیں بھی تڑپا تڑپا کے زندہ رکھے ہوئے ہے جو اس معیشت کا فعال حصہ ہیں تو ایسے میں معمر لوگ جو کام نہیں کر سکتے ان کے لیے یہ معیشت کیا خاک سہارا بنے گی۔ بڑھاپے میں ریٹائرمنٹ کے بعد جسمانی کم زوری اور صحت کی آنکھ مچولیاں کام کی اجازت نہیں دیتیں ایسے میں سرکاری ملازمین کو بس ایک پنشن کا سہارا ہی میسر ہوتا ہے۔ غیر روایتی معیشت میں کام کرنے والوں کو تو سالوں سال کام کرنے کے بعد پنشن یا گریجویٹی کاآسرا بھی نہیں ہوتا ۔ یہ ظلم ہم اپنی آنکھوں سےہر روز دیکھتے ہیں کہ وہ بے بسی کے عالم میں سڑکوں اور چوراہوں پر بھیک مانگنےپرمجبور ہیں۔جس سماج میں زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے معمر لوگوں کو بھیک مانگنی پڑے اسے مہذب کہتے ہوئے میری زبان لڑکھڑائے نہ تو کیا کرے؟</div>
<div class="leftpullquote">بڑھاپا شائد فطرت کے سب سے بڑے امتحانوں میں سے ایک امتحان ہے مگر افسوس کہ بہت ہی کم لوگ اس آزمائش سے گزرنے والوں کا سہارا بنتے ہیں۔</div>
<div class="urdutext">حکومتوں کی ترجیحات میں ایسے کمزور طبقات کہاں؟ان کو تو میٹرو اور اس جیسے بڑے بڑے منصوبوں سے ہی فرصت نہیں ملتی۔معاشرے میں بھی ان کی بہتری کے لئے کوئی منظم تحریک نہیں پائی جاتی،انفرادی طور پر بہرحال کچھ لوگ کام کر رہے ہیں جو یقیناَقابل ستائش ہے۔ غیر سرکاری تنظیموں کا رجحان بھی اس طرف انتہائی کم ہے۔ ہمارے ہاں معمر افراد کے لیے اقامت گاہیں بنانے کا رحجان بھی نہیں بلکہ اس حوالے سے معاشرے میں طرح طرح کے مغالطے پائے جاتے ہیں۔عام طور طور پر مغربی ممالک میں بوڑھوں کی اقامت گاہوں کے رجحانات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایاجاتا ہے اور بہت طنزیہ انداز میں کہا جاتا ہے کہ وہ لوگ تو اپنے بزرگوں کو ‘اولڈہومز ‘میں بھجوادیتے ہیں۔یقیناَ وہ لوگ اپنے معمر لوگوں کو اولڈ ہومز میں داخل کروادیتے ہیں مگر ہماری طرح ان کو بھیک مانگنے کے لیے سڑکوں اور چوراہوں پر نہیں چھوڑتے۔<br>
یاد رکھیں یہ لرزتی اور لڑکھڑاتی زندگیاں جنہوں نے ایک نسل کو پروان چڑھایا منتظر ہیں کہ آج کی نسل ان کا سہارا بنے۔یہ ان پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق ہےکہ انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا جائے،ان کہ ناز اٹھائے جائیں،ان کی محنت کوسراہا جائے، اور انہیں بھرپور زندگی کا احساس دلایا جائے ۔بڑھاپا شائد فطرت کے سب سے بڑے امتحانوں میں سے ایک امتحان ہے مگر افسوس کہ بہت ہی کم لوگ اس آزمائش سے گزرنے والوں کا سہارا بنتے ہیں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%84%d8%b1%d8%b2%d8%aa%db%8c-%d8%8c%d9%84%da%91%da%a9%da%be%da%91%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba/">لرزتی ،لڑکھڑاتی زندگیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%84%d8%b1%d8%b2%d8%aa%db%8c-%d8%8c%d9%84%da%91%da%a9%da%be%da%91%d8%a7%d8%aa%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c%d8%a7%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>’پارساوں‘کے نام</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%88%da%ba%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%88%da%ba%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالستار]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 26 Aug 2015 12:44:45 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ایان علی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12207</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">گزشتہ دنوں  ایان علی  نے جامعہ کراچی میں  طلبہ کی  ایک تقریب   سے خطاب کیا  جس کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%88%da%ba%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/">’پارساوں‘کے نام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">گزشتہ دنوں ایان علی نے جامعہ کراچی میں طلبہ کی ایک تقریب سے خطاب کیا جس کا سوشل میڈیا پر خوب چرچا ہوا۔خطاب کے فوراً بعد ثقافتی اقدار کے نام نہاد خود ساختہ علمبرداروں نے اخلاقیات کو پاوں تلے روندتے ہوئے ایان علی کے کردار اور ذات پہ پر رقیق حملے شروع کر دیئے۔پھر یوں ہوا کہ کسی کو اپنی ثقافت یاد آئی تو کسی کواپنی تہذیب ،کسی نے جامعہ کراچی کی انتظامیہ پہ دشنام طرازی شروع کی تو کو ئی سماج میں پھیلی ہوئی ‘بےضمیری’ اور ‘بے حیائی’ کو کوسنے لگا۔اپنے دبے ہوئے شہوانی جذبات اور مردانگی کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا خوب استعمال ہوا۔</div>
<div class="leftpullquote">ایان علی کو برا بھلا کہنے والے اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو کوسنے والے ہماری اقدار کے خودساختہ علمبرداروں سے بھی چند سوالات پوچھے جانے چاہیئں</div>
<div class="urdutext">سوال یہ ہے کہ کیا ایان علی اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟اس معاملے میں ایان علی کو برا بھلا کہنے والے اور جامعہ کراچی کی انتظامیہ کو کوسنے والے ہماری اقدار کے خودساختہ علمبرداروں سے بھی چند سوالات پوچھے جانے چاہیئں۔اس ملک نے پچھلے چند سالوں میں دل دہلا دینےوالے کئی واقعات کا سامنا کیاہے۔ہمارے بازاروں، مساجد،امام بارگاہوں،گرجاگروں اور مزاروں کو خون سےنہلا دیا گیا،ہمارے 60ہزار سے زائد شہریوں کو دہشت گردی کا اژدہا نگل گیا، پشاور میں ہمارے معصوم بچوں کوہولناک انداز میں شہید کیا گیا،کیا یہ لوگ یہ بتانا پسند کریں گے کہ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف کتنے احتجاج کیے؟کیا ہم ایسے واقعات کو بہت جلد بھو ل جانے کہ عادی نہیں ؟ہمارے ہاں تو ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ دہشت گردی کے ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے الفاظ جن کے حلق میں اٹک جاتے ہیں اور ان کا دل ان کی زبان کا ساتھ دینے سے کتراتا ہے۔<br>
کیا ہم کوٹ رادھا کشن میں ایک جوڑے کو زندہ جلانے والے واقعے کو بھو ل نہیں چکے؟ایان علی کے اس خطاب پہ سوشل میڈیا پہ تہلکہ مچا نے والوں میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس واقعہ کی یاد دہانی کے لیے کوئی پوسٹ کی ہو؟اسی ملک میں300 کے لگ بھگ مزدوروں کوزندہ جلا دیا گیا تھا ، کیا یہ واقعہ بھول جانے والا تھا؟کیا آپ ان مزدوروں کی ہلاکتوں کے معاملے کو زندہ رکھنے کے لیے کبھی اتنا بے چین ہوئے جتنا بے چین آپ کو ایان علی کے ایک خطاب نےکر دیا ؟ کتنے لوگ ہیں جو کارخانوں میں مزدوروں اور کھیتوں میں کسانوں اور ہاریوں کے زبردست استحصال کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں؟ ان غیرت مند وں کی غیرت کہاں آرام فرما رہی ہوتی ہے جب اس ملک میں جبری مشقت جیسے سنگین اور غیر انسانی واقعات سامنے آتے ہیں؟ قصور میں بچوں کہ ساتھ دل دہلا دینے والے واقعات ی آپ نے کوئی پوسٹ کی؟ّایان علی کہ اس خطاب پہ سراپا احتجاج ‘پارساوں’ سے پوچھا جانا چاہیئےکہ قصور واقعہ پر آپ نے کتنااحتجاج کیا۔جامعہ کراچی میں اس ایک خطاب پر چیخ و پکار کرنے والوں سے سوال ہے کہ جامعات کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار،حقیقی تحقیق کے فقدان، علمی مباحث پر عائد پابندیوںا ور انتہاپسندی کہ رجحانات پر بھی کبھی آپ کےضمیر نے آپ کو ملامت کرنے کی زحمت کی؟</div>
<div class="leftpullquote">جامعات کے گرتے ہوئے تعلیمی معیار،حقیقی تحقیق کے فقدان، علمی مباحث پر عائد پابندیوںا ور انتہاپسندی کہ رجحانات پر بھی کبھی آپ کےضمیر نے آپ کو ملامت کرنے کی زحمت کی؟</div>
<div class="urdutext">ہمارے معاشرے میں اور بھی اہم مسائل ہیں جو ہماری توجہ کے طالب ہیں۔اپنی پارسائی کے زعم میں کسی کی تذلیل اور گالم گلوچ سے آپ کا مرتبہ بھی کچھ اونچا نہیں ہوتا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں سینکڑوں ایسے مسائل ہیں جن پر سوشل میڈیا اوردیگر ذرائع ابلاغ پر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے مگر ہم دانستہ یا غیر دانستہ طور پے خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں۔ ہم خود بھی غیر اہم موضوعات پر بحث میں الجھے رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی ان میں الجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال کر ایان علی کے خطاب جیسے موضوعات کےہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جانے والوں کوچندفکری مغالطے بھی لاحق ہیں۔یہ وہ بیمار ذہنیت ہے جو ہمیشہ عورت کو موضوع بنا کر اپنی پارسائی کا اظہار اوراپنے دبے ہوئے جذبات کی تسکین کرتی ہے۔اس بات سے کسی کو بھی اختلاف نہیں کہ اگر ایان علی پر عائد الزامات ثابت ہو جائیں تو اسے سزا ملنی چاہیئے۔مگر ان الزامات کی سنگینی سےصرف نظر کر تے ہوئے اس کے بناو سنگھار،بالوں کے انداز اورکپڑوں کو موضوع بنانا اورطرح طرح سے تذلیل کرنا کہاں کی اخلاقیات ہے؟ اس سارے تناظر میں ہم ان الزامات کی اہمیت کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر چکے ہیں۔ اس غفلت کا سہراہمارے میڈیا،کیمرا مینوں اور تجزیہ نگاروں کے سر ہے جن کہ لیےایان علی پر قائم مقدمات سے زیادہ ایان علی کی ذاتی زندگی زیادا اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ ان کی دکانداری اسی پر چلتی ہے ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%88%da%ba%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/">’پارساوں‘کے نام</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%be%d8%a7%d8%b1%d8%b3%d8%a7%d9%88%da%ba%da%a9%db%92-%d9%86%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>نصف ایمان کے محافظ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b5%d9%81-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b5%d9%81-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالستار]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 21 Aug 2015 14:25:42 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[ایمان]]></category>
		<category><![CDATA[سماجی رویے]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12217</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">وہ صبح سویرے اٹھتے ہیں جب سورج کی کرنیں ابھی اس دنیا سے کہیں دوراپنے نمودار ہونے کی منتظر ہوتی ہیں اور ہم نیند کی گود میں اپنے اپنے شبستانوں میں محو خواب ہوتے ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b5%d9%81-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8/">نصف ایمان کے محافظ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">ان کے بچے،عورتیں اور مرد اپنے اپنے جھاڑو اور ضروری سامان لے کر گلی، محلوں اور سڑکوں پرنکل ٓاتے ہیں تاکہ انسانوں کی پھیلائی ہوئی گندگی صاف کر سکیں۔</div>
<div class="urdutext">وہ صبح سویرے اٹھتے ہیں جب سورج کی کرنیں ابھی اس دنیا سے کہیں دوراپنے نمودار ہونے کی منتظر ہوتی ہیں اور ہم نیند کی گود میں اپنے اپنے شبستانوں میں محو خواب ہوتے ہیں۔ ان کے بچے،عورتیں اور مرد اپنے اپنے جھاڑو اور ضروری سامان لے کر گلی، محلوں اور سڑکوں پرنکل ٓاتے ہیں تاکہ انسانوں کی پھیلائی ہوئی گندگی صاف کر سکیں۔ ہمارے اٹھنے ، دفاتر،بازاروں اور درس گاہوں کو روانہ ہونے سے پہلے وہ گلیوں ، محلوں، چوراہوں اور سڑکوں کی صفائی کر چکے ہوتے ہیں۔ وہ یہ سب کچھ ہمارے لیے کرتے ہیں کہ ہماری صحت اور طبیعت پر اچھے اثرات مرتب ہوں اور ہم اچھا محسوس کر سکیں۔مگر ہم اپنے معمولات میں اتنے مصروف رہتے ہیں کہ شاید ہی کبھی ان سینیٹری ورکرز کی زندگیوں پر غور کرنے کے لیے وقت نکالا ہو ۔اس نام نہاد مصروف زندگی سے چند لمحے نکالنا ہماری طبعیتوں پر گراں گزرتا ہے۔ہم ان کے لیے تھوڑا سا وقت نکالنا اوریہ دیکھنا کہ ہمارے ماحول کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھنے والوں کو کن مسائل کا سامنا ہے گوارا نہیں کرتے۔ ہم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کہ کہ وہ کن حالات میں زندگی کی گاڑی دھکیل رہے ہیں، ان کو اتنے مشکل کام کے بدلے کیا ملتا ہے،انہیں اجرت وقت پہ ملتی بھی ہے کہ نہیں،ان کی صحت پر اس کام کے کیا اثرات ہوتے ہیں۔ ہم سب انجان راستوں کی طرف تیز دوڑتی ہوئی زندگی سے وقت ہی نہیں نکال پاتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ہمارے نصف ایمان کے محافظ ہیں مگر ان کی تکالیف اور دکھوں کا ہمیں ذرا بھی ادراک نہیں ۔</div>
<div class="leftpullquote">سماجی پستی کا یہ عالم ہے کہ انہیں محتلف حقارت ٓامیز ناموں سےپکارا جاتا ہے ۔جب وہ صفائی کر رہے ہوں تو لوگ ان سے اپنا دامن بچا کے چلتے ہیں</div>
<div class="urdutext">سینیٹری ورکرز کا تعلق عموماً غیر مسلم اقلیتوں سے ہوتا ہے اور یہ نہایت پسماندہ طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ایک تو اقلیت، دوسرا انتہائی نچلے طبقے سے تعلق اورتیسراا ن کے کام کو سراہنے کی بجائے انہیں نہایت حقارت سے دیکھا جاتا ہے ؛ایسے میں ان کی معاشی اور سماجی حالت کا انداز ہ ا ٓپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ان کے لیے ہمارے سماجی رویے انتہائی پست اور غیر انسانی ہیں ۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر وہ ایک دن اپنا کام روک دیں تو ہم گلی، محلّوں اور سڑکوں پر چلنے کے قابل نہ رہیں۔ سماجی پستی کا یہ عالم ہے کہ انہیں محتلف حقارت ٓامیز ناموں سےپکارا جاتا ہے ۔جب وہ صفائی کر رہے ہوں تو لوگ ان سے اپنا دامن بچا کے چلتے ہیں۔اگر وہ کسی کے گھر یا کسی گلی محلے میں صفائی کرتے ہوئے کسی سے پانی یا چائے مانگ لیں توصاف انکار کر دیا جاتا ہے۔اور اگر کسی کے دل میں کچھ رحم آ بھی جا ئےتو گھر کے کونے کھدرے میں پڑے کسی برتن میں انہیں چائے پانی دیا جاتا ہے اور بعد میں یا تو وہ برتن پھینک دیا جاتا ہے یا کئی کئی بار دھویا جاتا ہے۔ جس چیز کو وہ ہاتھ لگا لیں اسے ناپاک سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ ناپاک وہ برتن نہیں بلکہ ناپاکی ان بیمار ذہنوں میں ہے جو ان برتنوں کو ناپاک سمجھتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">حفاظتی سامان اور اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے سینیٹری ورکرز میں ایڈز، ہیپا ٹائٹس، ٹی بی، دمہ، ٹائیفائڈ اورجلدی بیماریاں عام ہیں۔ سیوریج کی بند لائینں اور گٹر کھولتے ہوئے زہریلی گیسوں کی وجہ سے ان کی اموات عام ہیں۔</div>
<div class="urdutext">ان کی معاشی حالت بھی نہایت ناگفتہ بہ ہوتی ہے۔ان کی تنخواہیں انتہائی کم اور ان کی ادائیگی میں تاخیر بھی معمول کا حصہ ہے۔ان کی رہائش گاہوں کی حالت بھی انتہائی خراب ہوتی ہے۔ان میں اکثر و بیشتر تو یومیہ اجرت پرکام کرتے ہیں ۔انہیں جب کام سے نکا ل دیا جاتا ہے تو ان کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست بھی مشکل ہو جاتاہے۔ ان کے ساتھ ان کے افسران بالا کا رویہ بھی انتہائی تضحیک ٓامیز ہوتا ہے۔ افسران کی گالیاں سننا تو ان کی زندگی کا مستقل حصہ ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اس کام میں ٹھیکیداری جیسا استحصالی نظام بھی ان کی معاشی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس نظام کی آڑ میں ان پر سرکاری نوکریوں کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ مسلم سینیٹری ورکرز کی نسبت غیر مسلم سینیٹری ورکرز کے لیے حالات کہیں زیادہ مشکل ہیں۔مسلم سینیٹری ورکرز عموماً گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں جبکہ کام غیر مسلم اہلکاروں سے لیا جاتا ہے۔<br>
خاکروبوں کو صحت کے سنگین مسائل کا سامنا رہتاہے۔ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق وہ اپنے کام کی وجہ سی محتلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ حفاظتی سامان اور اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے سینیٹری ورکرز میں ایڈز، ہیپا ٹائٹس، ٹی بی، دمہ، ٹائیفائڈ اورجلدی بیماریاں عام ہیں۔ سیوریج کی بند لائینں اور گٹر کھولتے ہوئے زہریلی گیسوں کی وجہ سے ان کی اموات عام ہیں۔<br>
ہمیں معا شرے کے دوسرے کمزور طبقات کی طرح ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا بھی ضروری ہے۔ معاشرے اور ریاست کو ان کا معیار زندگی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ حکومت،میڈیا اور سول سوسائٹی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس کمزور اور پسماندہ طبقے کی دادرسی کریں اور ان کو معاشرے میں ان کا جائز حق دلوائیں۔ اس ضمن میں اقلیتی اور مزدور نمائندے بھی نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جو کہ ان کے نام پر طاقت کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔اس حوالے سے بہتر سماجی رویے اپنانے کی بھی ضرورت ہے ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b5%d9%81-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8/">نصف ایمان کے محافظ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d8%b5%d9%81-%d8%a7%db%8c%d9%85%d8%a7%d9%86-%da%a9%db%92-%d9%85%d8%ad%d8%a7%d9%81%d8%b8/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>خواجہ سراؤں کی زندگی</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالستار]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 27 Jul 2015 13:55:16 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تبصرہ]]></category>
		<category><![CDATA[حقوق]]></category>
		<category><![CDATA[خواجہ سرا]]></category>
		<category><![CDATA[غیر انسانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11950</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">خواجہ سراوں کی زندگی  دہکتے انگاروں پر گھسٹتی  ہے ۔شاید ہم  اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان  تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں  بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش  بڑھانے کا سبب بن رہے  ہیں۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/">خواجہ سراؤں کی زندگی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="urdutext">خواجہ سراوں کی زندگی دہکتے انگاروں پر گھسٹتی ہے ۔شاید ہم اس قدر بے حس ہو گئے ہیں کہ ہمیں ان تڑپتی زندگیوں کے دکھ درد کا ادراک ہی نہیں بلکہ ہم کسی نہ کسی طرح ان انگاروں میں تپش بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ بالکل ہماری ہی طرح کے انسان ہیں، ہماری ہی طرح سوچتے اورمحسوس کرتے ہیں لیکن انہیں انسان سمجھا نہیں جاتا۔ وہ جیتے تو ہیں مگر مر مر کے،سانس تو لیتے ہیں مگر گھٹ گھٹ کے،انہیں جینے کا حق تو ہے مگر اس کے لیے انہیں بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ان کے رنگ برنگے لباس،چمکتے زیورات،روشن ورنگین چہرے،کھنکتے پائل اورلڑکھڑاتے بل کھاتے بدن میں زندگی گھسٹتی تو ہے مگر دہکتے انگاروں پہ۔ان کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے نجانے کتنی اندوہناک کہانیاں ہیں جنہیں سننے کی سکت شاید ہم میں نہ ہو۔ ہو سکتا ہے ہماری روح ان کہانیوں کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دے۔ایسی کہانیا ں اسی دنیا میں ہمارے ارد گرد موجود ہیں مگر شاید غم کے ان جھروکوں میں جھانکنے کی ہم میں ہمت نہیں یا ان کی طرف غور کرتے ہوئے ہمارے پر جلتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا</div>
<div class="urdutext">خواجہ سرا ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا اور کمزور طبقہ ہے جس کی کمزوریوں ، پریشانیوں اور دکھوں کا ہمیں احساس تک نہیں۔وہ پیدائش سے لے کر مرگ تک کس کرب سے گزرتے ہیں ہم اس پہ غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے لیے عذاب سے کم نہیں۔ یہ تو وہ محروم طبقہ ہے جسے اپنے حتیٰ کہ ان کےماں باپ بھی اپنانے سے ڈرتے ہیں۔اپنوں اور بیگانوں کی بے اعتنائیاں اور بے وفائیاں سینوں میں لیے مٹکتے ، ہاتھوں پہ ہاتھ مارتے اور لوگوں میں مسکراہٹ بانٹتے ان خواجہ سراوں کے حوصلےکی دادکون نہیں دے گا ۔ ان میں سے ایک ایک کی ایسی درد بھری کہانی ہے کہ سن کرشایدہی کوئی دردمند اپنے ٓانسو اور ہچکیاں روک سکے۔<br>
خواجہ سرا ہمارےغلط معاشرتی رویوں اور رجحانات کا شکار ہیں۔وہ پیدا ہوتے ہیں، بلوغت تو کیا شاید ابھی پہلی سانس بھی نہیں لے پاتے کہ ان سے نفرت کا آغاز ہوجاتا ہے۔طرح طرح کے حیلے بہانوں کے ذریعے ان سے جان چُھڑانے کے راستے نکالے جاتے ہیں۔ ذرا بڑے ہوں تو معاشرے، بہن بھائیوں اور والدین کا امتیازی اور دردناک رویہ انہیں ان “مکمل” انسانوں کی نام نہاد مہذب دنیا چھوڑ کر اپنے جیسے “نامکمل” لوگوں کے ساتھ شہرکےکسی کونے میں رہنے پر مجبور کردیتا ہے۔ رشتوں کے ٹوٹنے پہ انہیں بھی اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی دوسرے لوگوں کو،ان کے بہن بھائی ان سے رابطہ رکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ انہیں اپنے ماتھے کا کلنک سمجھتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس معاشرے کے ماتھے کا کلنک خواجہ سرا نہیں بلکہ وہ بہن بھائی اور والدین ہیں جو معاشرے کے خوف سے انہیں خود سے جدا ہونے پہ مجبور کرتے ہیں۔</div>
<div class="leftpullquote">بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے</div>
<div class="urdutext">بیمار ہو جائیں تو ان جیسے خواجہ سراوں کے علاوہ کوئی ان کی مدد کو نہیں آتا، مر جائیں تو ان کی لاش تک وصول کرنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔باہر نکلیں تو طرح طرح کے طعنوں سے ان کا جینا دوبھر کیا جاتا ہے۔نوجوان اپنی جوانی کے زعم میں ان پر آوازیں کستے ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی کچھ متوالوں کا ضبط اور ظرف ان کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان تماش بینوں کی سیٹیوں سے ان کی “تہذیب” چھلکنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور تو اور چھوٹے بچےبھی ان کے گرد اس طرح طواف کرتے ہیں جیسے انہیں مفت کے کھلونے مل گئے ہوں۔ مگرکوئی اس محروم اور مظلوم طبقے کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ٓاتا۔ حکومت کے ایجنڈہ پریہ نہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کا بھی ان کی فلاح پر زیادہ زور نہیں،میڈیا کے پاس ایان علی اور دھرنوں جیسے “اہم” موضوعات کے سوا کسی “غیراہم” اور غیر منافع بخش موضوع کے لیے وقت نہیں۔ اور پھر ایسے موضوعات پہ ریٹنگ بھی تو نہیں بڑھتی۔ صبح شام نیکی کی تبلیغ کرنے والوں سے بھی کبھی خواجہ سراوں کے حقوق کی بات نہیں سنی۔ کوئی انہیں بتائے کہ ان کے حقوق پہ بات کرنا بھی تونیکی ہے۔<br>
معاشرے کے تلخ اور غیر انسانی رویوں کے ساتھ ساتھ خواجہ سراوں کی معاشی حالت بھی نہایت نا گفتہ بہ ہے۔ہمارے سماجی رویوں کی وجہ سے نہ وہ کسی ادارے میں کام کر سکتے ہیں اور نہ ہی تعلیم ان کا مقدر بن پاتی ہے ۔معاشی طور پرانہیں کنارے سے لگا دیا گیا ہے ۔ پہلے شادی بیاہ کی تقریبات، بچوں کی پیدائش یا کسی اور اہم دن پے یہ اپنے فن کا مظاہرہ کر کے اور ناچ گا کے کچھ کما لیا کرتے تھے مگر اب ان رجحانات میں کمی کی وجہ سے ان کا یہ اہم ذریعہ معاش بھی تقریباَ ختم ہو گیا ہے۔حکومت کی طرف سے بھی ان کی معاشی بہتری کے لیے اقدامات نہیں کیے جاتے۔ ان کی تربیت اور تعلیم کے ایسا مراکز بھی نہیں جہاں یہ کوئی ہنر سیکھ کر اپنا معاش کما سکیں۔ایسے میں ان کے پاس بھیک مانگنے اور سیکس ورکرز کے طور پر کام کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔ معاشرے کا یہی رویہ ان کے بدترین استحصال کا باعث بنتا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے</div>
<div class="urdutext">خواجہ سرا معاشرے کا وہ طبقہ ہے جن کے مسائل پہ بہت کم ہات ہوتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیئے کہ وہ بھی مکمل انسان ہیں اور ہمیں ان کی طرف اپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔انہیں برابر کے حقوق اور معاشرے میں باوقار مقام دینے کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیئے ان کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کرے اوران کی فلاح و بہبود کے لیے بہتر سے بہتر قوانین متعارف کرائے۔غیر سرکاری تنظیموں کو ان کے مسائل پر ترجیحاً توجہ دینی چاہئیے۔ ہمیں چاہئیے کہ ان کے لیے تربیتی مراکز کا انتظام کریں اور ان کے حقوق کے لیے منظم جدوجہد کریں ۔شاید ہم سب مل کر اندھیروں میں گھری ان زندگیوں میں کچھ روشنی لے ٓائیں ۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/">خواجہ سراؤں کی زندگی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%ac%db%81-%d8%b3%d8%b1%d8%a7%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%b2%d9%86%d8%af%da%af%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>!تبدیلی ٓا گئی ہے</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%93%d8%a7-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%93%d8%a7-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالستار]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 08 Jul 2015 13:52:06 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[انتخاب]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[تحریک انصاف]]></category>
		<category><![CDATA[عمران خان]]></category>
		<category><![CDATA[نوجوان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=11781</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا  پارٹی کی رکنیت سازی  مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%93%d8%a7-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/">!تبدیلی ٓا گئی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<div class="leftpullquote">پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں</div>
<div class="urdutext">مجھے یاد ہے کہ 2006 میں سیالکوٹ میں دو نوجوان بھرے بازار میں تن تنہا پارٹی کی رکنیت سازی مہم کے دوران لوگوں کو روک روک کر تبدیلی کے سفر کا مسافر بنا رہے تھے۔لوگوں کا ردعمل بہت حوصلہ افزا نہیں تھا مگر لوگوں کی لاپروائی اور عدم دلچسپی ان کے حوصلے پست نہیں کر پا رہی تھی۔ان کی آنکھوں کی چمک مجھےآج بھی یاد ہے۔پچھلے دنوں میری ملاقات ان میں سے ایک نوجوان سے ہوئی،وہ اپنی جماعت کے ساتھ وابستہ تو تھا مگر اس کی آنکھوں میں اب وہ چمک تھی نہ دل میں تبدیلی کے لیے وہ تڑپ۔ وہ اب بہت سے سوالات اور شکووں کا بوجھ لیے پھرتا ہے ، اک ایسے نامراد عاشق کی طرح جسے اس کے محبوب نےبڑی بےرحمی سے دھوکہ دیا ہو۔اس کا اترا ہوا چہرا بتا رہا تھا کہ اس کا عشق نیلام ہو گیا،اسکا جنون بک گیا۔</div>
<div class="urdutext">تحریک انصاف میں ایک دفعہ پھر سیاست کے پرانے اور روایتی کھلاڑیوں کی ٓامد بڑے زورو شور سے جاری ہے،۔پہلے ق لیگ کے لوگ بڑی تعداد میں تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اب پی ٹی ٓائی پنجاب میں لٹی پٹی پی پی پی کو مال غنیمت سمجھ کر اس پر ہاتھ صاف کرنے کے چکر میں ہے۔پیپلزپارٹی کے بہت سے رہنما یہ بھانپتے ہوئے کہ ان کی جماعت پنجاب میں ایک قابل عمل سیاسی قوت نہیں رہی اپنی سیاست کی ڈوبتی ہوئی ناو کو سہارا دینے کے لیے تحریک انصاف کا رخ کر رہے ہیں۔ جو لوگ9 سال مشرف اور5 سال پی پی کی حکومت میں رہ کر نیا پاکستان نہیں بنا سکے اب وہ تحریک انصاف میں شامل ہو کر نیا پاکستان بنا نے کے لیے پنجہ آزمائی کریں گے۔<br>
تحریک انصاف بلکہ عمران خان کی سیاست کی اٹھان ہی تبدیلی،روایتی سیاست اور جمودکوتوڑنے پہ تھی۔اس کے لیے خان صاحب نے روایتی سیاستدانوں،وڈیروں،جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی بجائے نوجوانوں کو اپنا مخاطب بنایا۔تبدیلی اور نئی فکر کو کھلے دل سے قبول کرنے والے نوجوانوں نے عمران خان پر بھر پور اعتماد کرتے ہوئےان کی آواز پر لبیک کہااور دیکھتے ہی دیکھتے تبدیلی کا یہ نعرہ جنون کی شکل اختیار کرنے لگا۔عمران خان نے نوجوانوں کو بڑے بڑے خواب دکھائے اور نوجوان ان خوابوں کو لے کر میدان سیاست میں کود پڑے۔وہ بے لوث جنون تھا جسے لوگوں نے طرح طرح کے طعنے دیے مگر کپتان اور اس کے کھلاڑی میدان میں کھڑے رہے۔ کوئی تحریک انصاف کو تانگہ پارٹی کہتا،تو کوئی دیوانے کا خواب،کسی نے اسے نوجوانوں کے جذبات کا ابال کہا تو کسی نےبرگر پارٹی کا طعنہ کسا،مگر زمانے کی یہ ستم ظریفیاں اور طعنے نوجوانوں کے پیروں کی زنجیرنہ بن سکے۔ان کے جنون نے ایک لمحہ کے لیے لغزش نہ دکھائی،وہ کپتان پر فریفتہ رہے،کپتان سے لازوال محبت ان کا اثاثہ تھی اور وہ کپتان کے ایک اشارے پر مر مٹنے کے لیے تیار رہتے۔کپتان کو دیکھ کر ان کے چہرے تمتاہ اٹھتے اور ٓانکھیں روشن ہو جاتیں۔نیا پاکستان انہیں بہت قریب دکھائی دیتا۔ نوجوان کپتان کا پیغام لے کر گھر گھر گئے،رکنیت کے فارم پر کروائے،لوگوں کو کپتان کے پیغام کے حوالےسے دلائل دیے،گھر والوں کی جھڑکیں سنیں،اشتہار لگائے،ماریں کھائیں غرضیکہ دیوانہ وار کام کیا۔اس وقت تک کپتان تھا اور نوجوانوں کا جنون تھا۔ بڑے کھلاڑی پی ٹی آئی سے دور رہے کیوں کہ ان کے نزدیک یہ جماعت ایک قابل عمل سیاسی انتخاب نہیں تھی اور نہ ہی تبدیلی اور نئے پاکستان کے لیے آج کل کی طرح انہیں ابھی تک شرح صدر ہوئی تھی۔<br>
پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے،مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے۔وہ جماعت جو محض دیوانے کا خواب تھی اب ایک قابل ذکرسیاسی قوت بن چکی تھی۔نوجوانوں نے اپنے خلوص،اپنی لگن اور اپنے جنون سے اپنی جماعت کو منوا لیا ۔اب تحریک انصاف میں شمولیت کے لیے گھاگ انتخابی امیدواروں کی قطاریں لگ گئیں۔ روایتی سیاستدانوں کو بھی تبدیلی کے خواب آنے لگےاوروہ اپنے ہی قائم کردہ جمود سے بھی اکتائے اکتائے لگنے لگے۔</div>
<div class="leftpullquote">پھر یوں ہوا کہ 30 اکتو بر 2011 کو تحریک انصاف کے جلسہ نے پاکستان کی سیاست کی کایا پلٹ دی۔ نوجوانوں نے لاہور میں وہ طوفان کھڑا کیا کہ بڑے بڑے سیاسی کھلاڑیوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے، مفاد پرست سیاستدانوں کے دل للچانے لگے</div>
<div class="urdutext">لوگ اس جلسہ کو تحریک انصاف کا عروج سمجھتے ہیں مگر میرے خیال میں یہیں سے اس کا زوال شروع ہوا۔اس کے بعد عمران خان کی سوچ اور حکمت عملی میں بہت تبدیلی ٓائی،بہت بڑی تبدیلی۔۔۔۔یہ وہی تبدیلی تھی جس کی وجہ سے سیاست کے روایتی کھلاڑیوں کا جماعت میں اثرونفوذ بڑھنے لگا اور تحریک انصاف کی اصل قوت نوجوانوں کو پیچھے دھکیلا جانے لگا اوران پر طرح طرح کی قدغنیں لگائی جانے لگیں۔نوجوان جنہوں نے اس جماعت کو خون پسینہ سے سینچاتھا کو کھڈے لائن لگایا جانے لگا۔رہی سہی کسر جماعتی انتخابات نے نکال دی؛اثرورسوخ چلا،دھونس ہوا،دھاندلی ہوئی،کھلی بے ضابطگیاں ہوئیں اور پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو پوری قوت کے ساتھ پیچھے دھکیلا گیا۔ 2013کے انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی پرانے کارکنان اور نوجوانوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا جس کا خمیازہ تحریک انصاف کو انتخابات میں ہار کی صورت میں بھگتنا پڑا۔پھر دھرنے ہوئے جس کی نہ قوم کو سمجھ ٓائی نہ نوجوان کارکنان کو مگر نوجوان پھر بھی اپنے کپتان سے جڑے رہے،اپنے کپتان کا دفاع کرتے رہے۔ دوستوں کی گفتگو ہویا کوئی بحث ہو،فیس بک ہو یا ٹوئٹر ،میں نے نوجوانوں کو کپتان کے لیے ہر مخاذ پر لڑتے دیکھا۔کپتان کی محبت سر چڑھ کر بولتی رہی۔<br>
مگر افسوس، صد افسوس کہ تبدیلی آ چکی ہے؛کپتان کی فکر اور حکمت عملی میں روایتی سیاست کی پھپھوندی لگنے کی تبدیلی۔ کپتان اب نو جوانوں کے جنون سے زیادہ روایتی سیاستدانوں،جاگیرداروں،سرمایاداروں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں۔روایتی سیاستدانوں کی زوروشور سے تحریک انصاف میں شمولیت کے باعث نظریاتی کارکن اور رہنما پس منظر میں چلے گئے ہیں۔جن نو جوانوں نے پی ٹی آئی کو اپنے جنون،خلوص اور جذبے سے ایک بڑی جماعت بنایا، عمران خان کو عمران خان بنایا وہ اب مایوس ہو رہے ہیں۔ جب عمران خان کی پارٹی کو لوگ تانگہ پارٹی کہتے تھے تب ان نوجوانوں نے ہی کپتان کو اپنے کندھوں پہ بٹھایا۔ ان نوجوانوں کی جماعت کو اب روایتی سیاست دان روایتی انداز میں چلائیں گےکیوں کہ جنون بک چکا ہے،تبدیلی کے خوابوں کی بولی لگ چکی ہے۔ اوریہ وہ تبدیلی ہے جو آ نہیں رہی بلکہ آ گئی ہے۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%93%d8%a7-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/">!تبدیلی ٓا گئی ہے</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%a8%d8%af%db%8c%d9%84%db%8c-%d9%93%d8%a7-%da%af%d8%a6%db%8c-%db%81%db%92/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
