<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>عبدالحئی, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/abdul-hayy/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:59:33 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>عبدالحئی, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>نواز شریف اورعمران خان؛ ایک سکے کے دو رخ</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88-%d8%b1%d8%ae/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88-%d8%b1%d8%ae/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالحئی]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 20 Oct 2015 15:09:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[انقلابی تحریک]]></category>
		<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
		<category><![CDATA[جنرل ضیا الحق]]></category>
		<category><![CDATA[حکومت]]></category>
		<category><![CDATA[نواز شریف اور عمران خان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=13084</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">جب ایشیا سرخ ہورہا تھا تو راولپنڈی کے اصلی حکمرانوں کو "سیاسی قبض" ہونے لگی۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88-%d8%b1%d8%ae/">نواز شریف اورعمران خان؛ ایک سکے کے دو رخ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">جب ایشیا سرخ ہورہا تھا تو راولپنڈی کے اصلی حکمرانوں کو “سیاسی قبض” ہونے لگی۔ یو ایس ایس آرکے عوامی انقلاب کے اثرات جب چین کی سرحد تک پہنچنے لگے، تو ملک پر قابض استحصالی قوتوں نے پاکستان میں جعلی کمیونسٹ پیدا کرنا شروع کردیئے جنہوں نے اشتراکی انقلاب کے نام پر عوام کو خوب بے وقوف بنایا۔ ان میں اکثر ایسے ‘کمیونسٹ’ بھی شامل تھے جو پہلے جنرل ضیا الحق سے بریفنگ لے کر ماسکو جاتے تھے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ نے صرف مجاہدین اور سیاسی لیڈر ہی پیدا نہیں کئے بلکہ اشتراکیت پسند اور حقیقی انقلابی تحریکوں کو کمزور کرنے کیلئےنام نہاد قوم پرست بھی پیدا کئے جن کا مقصد ان تحریکوں کو کھوکھلا کرنا تھا۔ انہی قوتوں کے کہنے پر ملک کی جمہوری اور حقیقی قیادت بشمول فاطمہ جناح پر غدار اور کافر کے ٹھپے لگانے کا کام شروع کیا تھا۔ جنوبی افریقہ کے قومی ہیرو نیلسن منڈیلا سے زیادہ عرصہ قومی و جمہوری حقوق کیلئے جیلوں میں گزارنے والے خان عبداالصمد خان اچکزئی اور خان عبد الغفار خان (جنہوں نے تیس اور تینتیس سال انگریز اور پاکستانی حکومتوں کی جیلوں میں گزارے) غدار ٹھہرے جبکہ وہ لوگ جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح ” کھوٹے سکے” کہا کرتے تھے وہ قومی ہیرو کے طور پر پیش کیے گئے۔<br>
جب افغانستان میں جمہور کی حکمرانی اور بعد میں نور محمد ترکئی کی سربراہی میں عوامی انقلاب آیا تو اس انقلاب سے پاکستان کے عوام اور نوجوان بھی متاثر ہوئے۔ افغانستان میں سوویت اثرونفوذ اور پاکستانی نوجوانوں میں بائیں بازو سے وابستگی کم کرنے کے لیے مجاہدین اور ملا بنائے گئے۔ افغانستان میں ثور انقلاب کے اثرات پاکستانی پشتونوں پر بھی ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پشتون علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کردیئے۔ یہ ثور انقلاب کے ہی ثمرات تھے کہ ان علاقوں میں پہلی بارہماری حکومت نے بجلی کے کھمبے اور تار بچھانے شروع کیے۔ ساتھ ہی ساتھ یہاں سے افغان انقلاب کے خلاف سازشوں اور مجاہدین کی شکل میں مداخلت کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا۔ اس خطے میں سیاسی شعور کا راستہ روکنے کےلیے مقتدر قوتوں نے تعلیم، سیاسی عمل اور تاریخ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔</div>
<div class="leftpullquote">افغانستان میں ثور انقلاب کے اثرات پاکستانی پشتونوں پر بھی ہوئے جس کی وجہ سے پاکستان کے اس وقت کے حکمرانوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار پشتون علاقوں میں ترقیاتی کام شروع کردیئے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">.ملک کے اندر انقلاب کا راستہ روکنے کےلیے جی ایچ کیو نے سیاستدانوں کی نرسریاں لگائیں۔ سندھی قوم پرستوں کو کمزور کرنے کے لیے سندھ میں ایم کیو ایم، جنوبی پنجاب میں جعلی کمیونسٹ، بلوچوں میں نواب اور سرداری نظام کی سرپرستی اور پشتونوں میں رائیونڈ کے تبلیغی، مدرسہ اور مولوی مختار کُل بنا دیئے گئے۔ بنگلہ دیش اور ملک کی دیگر اقوام بالخصوص سندھی قوم پرست سیاست کو کمزور کرنے کےلیے سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو جو ایوب خانی مارشل لاء کی پیداوار تھے، کی سربراہی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور نیا پاکستان کی طرح اُس وقت بھی “روٹی، کپڑا اور مکان: کا خوشنما نعرہ لگایا گیا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پیپلز پارٹی اور سندھی نیشنلزم کو قابو کرنے کیلئے مہاجروں کا خوب استعمال کیا گیا۔ لیکن ارباب اختیار نے اپنے ہی تراشے ہوئے مہروں کو بعدازاں اپنے مفادات کے لیے ہی نظرانداز کرنا شروع کردیا۔ 1992 میں مہاجروں پر اتنے مطالم ڈھائے گئے کہ وہ پہلے سے زیادہ مظلوم اور محروم طبقہ بن گئے۔ مہاجروں کی طرح پشتونوں کی قومی سیاست کو پارہ پارہ کرنے کیلئے تخت لاہور کے وارث عسکری حکمرانوں نے جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو مسجد سے نکال کر مسلط کردیا تاکہ قوم پرست سیاست کے اثرات دور کیے جا سکیں۔ اسی طرح پوری پشتون معاشرہ ان مذہبی ٹھیکے داروں کے حوالے کردیا گیا۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">جرگہ،مسجد ، حجرا حتٰی کہ کھیل کے میدان استعماری مقاصد کے حصول کےلیے تباہ کیے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ سیاسی و قبائلی لیڈروں اور کارکنوں کا مذہب اور دہشت گردی کے نام پر قتل عام کیا گیا، سوات اور فاٹا کے بیس لاکھ سے زائد لوگوں کو پہلے مہاجر بنایا گیا بعد میں اُن کے گھر مسمار کرکے انہیں ہمیشہ کےلیے اپنا محتاج بنادیا گیا ہے۔ آج ایک بار پھر تخت لاہور والوں نے عمران خان اور نواز شریف کے درمیاں ایک جعلی سیاسی مقابلہ شروع کیا ہواہے جس کے نتیجے میں مستقبل میں پاکستان پر حکمرانی کرنے والےاور حزب اختلاف کا کردار ادا کرنے والے دونوں تخت لاہور سے ہوں گے۔ اس طرح سیاست کو بدنام کرنے اور لوگوں کو سیاست اور سیاست دانوں سے بدظن کرنے کےلیے پی ٹی آئی کے ذریعے گالی گلوچ کا کلچر متعارف کرایا۔</div>
<div class="leftpullquote">مہاجروں کی طرح پشتونوں کی قومی سیاست کو پارہ پارہ کرنے کیلئے تخت لاہور کے وارث عسکری حکمرانوں نے جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کو مسجد سے نکال کر مسلط کردیا تاکہ قوم پرست سیاست کے اثرات دور کیے جا سکیں</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">اس ملک میں کسی زمانے میں منٹو جیسے ادیب، حبیب جالیب جیسے شاعر، باچا خان، مولانا بھاشانی، عبدالصمد خان اچکزئی، جے ایم سید، پنجاب سے محمود قصوری، خیر بخش مری جیسے سیاست دان ہوتے تھے۔ یہ لوگ اصولوں کے پکے، اخلاق کے علمبردار اور عوام کے سچے نمائندے تھے۔ اب قحط رجال کا یہ عالم ہے کہ آئی ایس آئی کے گملوں میں پھلنے پھولنے والے دو نمبر سیاستدان اپنے سیاسی قبلے کے تعین کے لیے بھی امپائر کی طرف دیکھتے رہتے ہیں۔ نیا پاکستان کا نعرہ بھی انہی مقتدر حلقوں کے سیاسی پراجیکٹ کا تسلسل ہے یعنی جب پاکستان کے موجودہ نظام میں نئی نسل گھٹن محسوس کرے تو انہیں ایک اور کھلونا تھما دیا جائے۔ نوجوان نسل میں احساس محرومی بڑھ رہا تھا، پاکستانی عوام فوج اور اُن کے پیدا کردہ سیاسی، مذہبی اور دیگر قوتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلیے کسی سیاسی متبادل کے منتظر تھے تو انہیں نئے پاکستان کی راہ دکھا دی گئی۔ لوگ یہ چاہتے تھے کہ کسی متبادل سیاسی قوت کی سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں ملک میں حقیقی جمہوری انقلاب رونما ہوگا اور تبدیلی آئے۔ تبدیلی کی اس خواہش اور حقیقی عوامی انقلاب روکنے کےلیے راولپنڈی کے ‘حقیقی’ حکمرانوں نے پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں نیا پاکستان اور انقلاب کے نعرے لگوائے۔ عسکری ارباب اختیار نےسدھائے ہوئے میڈیا کے ذریعے اس نعرے اور پی ٹی آئی کو اتنا مقبول بنایا کہ نوجوان جو مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور قوم پرست سیاسی جماعتوں سے نالاں تھے بڑے پیمانے پر منظم ہونے کی بجائے پی ٹی آئی کے خوشنما نعرے کا شکار ہو گئے۔ میرے خیال میں نیا پاکستان پرانے پاکستان سے زیادہ استحصالی اور نظرانداز شدہ قومیتوں کے لیے زیادہ تنگ نظر ہے۔</div>
<div style="font-family: Sujag-Urdu; font-size: 34px; font-weight: 600; direction: rtl; line-height: 60px; text-align: right;"></div>
<p>&nbsp;</p>
<div class="urdutext">تحریک انصاف کا یہ دعویٰ کہ نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ ہیں پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا بھی ضروری ہے۔ عالمگیریت اور پاکستانی استعماری پالیسیوں کے وجہ سے جوانوں میں احساس محرومی بڑھنےکے باعث تبدیلی کا خواب پاکستانی نوجوان بھی دیکھ رہے تھے۔ مصر، تنزانیہ اور دیگر عرب ملکوں میں عرب بہارنے پاکستانی نوجوانوں میں بھی انقلابی جدوجہد کے امکانات روشن کر دیئے بالخصوص پشتون نوجوانوں میں جو ریاست کی پشتون دشمن پالیسیوں سے نالاں نظر آ رہے تھے۔ سوات، پشتونخوا اور کراچی میں اسٹیبلشمنٹ کے پیدا کردہ اچھے اور برے طالبان، مدرسہ کلچر اور مذہبی انتہا پسندی سے تنگ یہ جوان کسی حقیقی انقلاب اور قائد کی تلاش میں تھے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی بجائے پشتون قوم پرست جماعتوں نے مکمل غیر ذمہ داری اور نااہلی کا مظاہرہ کیا۔ لیکن اس صورتحال سے اسٹبلشمنٹ نے فائدہ اٹھایا اور پاکستان تحریک انصاف کی سرپرستی شروع کر دی اور نوجوانوں کی ذہنیت کے مطابق “تبدیلی“اور“نیا پاکستان” جیسے پُرکشش نعرے دیئے۔ اس طرح نوجوان ایک بار پھر حقیقی انقلاب کی بجائے جعلی و خوشنما نعرے لگانے والوں کے نرغے میں آگئے اورپاکستان میں حقیقی جمہوری انقلاب ایک بار پھر کھٹائی میں پڑگیا۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88-%d8%b1%d8%ae/">نواز شریف اورعمران خان؛ ایک سکے کے دو رخ</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d9%86%d9%88%d8%a7%d8%b2-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d9%81-%d8%a7%d9%88%d8%b1%d8%b9%d9%85%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%ae%d8%a7%d9%86%d8%9b%d8%a7%db%8c%da%a9-%d8%b3%da%a9%db%92-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88-%d8%b1%d8%ae/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>جنتی وصال</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b5%d8%a7%d9%84/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b5%d8%a7%d9%84/#comments</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[عبدالحئی]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 01 Sep 2015 14:29:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نقطۂ نظر]]></category>
		<category><![CDATA[پشاور]]></category>
		<category><![CDATA[جنرل]]></category>
		<category><![CDATA[حمید گُل]]></category>
		<category><![CDATA[طالبان]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12374</guid>

					<description><![CDATA[<div class="urduexcerpt">لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ  برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے  اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔ </div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b5%d8%a7%d9%84/">جنتی وصال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png"><img decoding="async" class="aligncenter size-full wp-image-1786" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2013/07/youth-yell-featured1.png" alt="youth-yell-featured" width="250" height="150"></a></p>
<div class="urdutext">لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔ مرحوم کی وفات سے جہاں اُن کے دو بچے یتیم ہوئے، وہیں مولانا سمیع الحق (المعروف مولانا سینڈویچ)، مولانا فضل الرحمان( عرف مولانا ڈیزل)، مولانا منور حسن (قتال فی سبیل اللہ والے)، گلبدین حکمت یاراور سراج الحق کے ساتھ ساتھ ہزاروں معلوم اور نامعلوم مجاہدین، اچھے اور بُرے طالبان اور درجنوں خُودکُش حملہ آور یتیم ہوگئے ہیں ( اگرچہ حقیقت میں ان کے سرپرست اب بھی وطن عزیز میں موجود ہیں)۔ خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی۔</div>
<div class="leftpullquote">خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی</div>
<div class="urdutext">حمید گل کی اس ‘خبرناک’ موت پر کچھ سیاست دانوں کو دلی صدمہ پہنچا اسی لیے تو جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے حمید گُل کے موت کو قومی سانحہ قرار دیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں جناب عمران خان صاحب تو دکھ میں یہاں تک کہہ گئے کہ “حمید گل سب سے عظیم محب وطن تھے”۔ لیکن افغانستان اور پاکستان کے ‘نادان’ پشتونوں کے پاس اس ‘مرد مجاہد’ کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ حمید گل کی قدر اور اہمیت سے بے خبر کچھ نوجوان قندھار، کوئٹہ، کابل اور پشاور میں سڑکوں پر نکل آئے اور جنرل صاحب کی موت کی خوشی میں ڈھول کی تاپ پر اتن ا ور دیگر رقص کرتے رہے۔<br>
روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑنے والے جنرل حمید گل کا سفر آخرت بھی دیدنی تھا۔ قبر میں اترتے ہی منکر نکیرموصوف کو جنت کی طرف لے گئے جہاں کئی جواں سال حوریں اسی کی دہائی سے اپنے محبوب جرنیل کی منتظر تھیں۔ جنت کے دروازے پر کئی حوروں نے اُن پر پھول نچھاور کیے ۔ مرحبا مرحبا کہتے کئی غلمان ان کی خاطر داری کو لپکے اور اپنے نرم و ملائم ہونٹوں سے جنرل صاحب کی پیشانی مبارک اورجہادی گالوں پر بوسے ثبت کیے۔<br>
اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں یہاں تو وہی سماں تھا جس کا نقشہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اپنے خطبات میں بیان کرتے رہے تھے۔ جنت میں شراب اور شہد کی نہروں کے آس پاس مسندوں پر مجاہدین جلوہ افروزتھے جن کے ارد گرد بھرپور جسموں والی حوریں ان کے لبوں سے شراب کے جام مس کرتی نظر آئیں۔ جنرل صاحب قدرے آگے بڑھےتو ایک شخص کو چندغلمان کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ اس شخص کا سانس پھولا ہوا تھا، سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، سینے سے بارودی جیکٹ بندھی تھی اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتا اِدھر اُدھر دوڑ رہا تھا۔ اس بھاگ دوڑ میں جناب کی پگڑی کا ایک سرا گلے میں جبکہ دوسرا زمیں پر کھنچا جارہا تھا۔ جنرل صاحب کے استفسار پر فرشتوں نے بتایا کہ یہ کابل میں خودکُش حملہ کرنے والا طالب ہے جس نے حال ہی میں کابل میں خود کُش حملہ کرکے کئی افغانوں کو ‘جہنم واصل’ کیا تھا۔ اس لیے جنت میں آتے ہی یہ موج مستی میں مگن ہو گیا ہے۔</div>
<div class="leftpullquote">اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی</div>
<div class="urdutext">جناب ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ جنت کے ایک کونے سے قہقوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ استفسار کرنے پر جنرل صاحب کو بتایا گیا کہ یہ اسامہ بن لادن ہیں جنہوں نے ایبٹ آباد کے قریب امریکیوں کے ہاتھوں زندگی کی قید سے آزادی حاصل کی تھی۔ جب سے آئے ہیں اپنی حوروں کے درمیان بیٹھے جام لنڈھاتے رہتے ہیں۔<br>
جنت کی بالائی منزل سے بھی حوروں کے ہنسنے اور گنگنانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جنرل حمید گل کو یہ منظر دیکھنے کا تجسس ہوا۔ جونہی جنرل صاحب نے ارادہ کیا فرشتے آپ کو اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں اٹھا کر اوپر کی منزل پر لے گئے۔ سبحان اللہ! یہاں افغان جہاد کی سرخیل ہستیاں جنرل نصیر اللہ بابر، کرنل امام، بیت اللہ محسود اور کرنل امام اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے اپنی اپنی حوروں کے ساتھ مگن نظر آئے۔ ان کے ارد گرد کچھ حوریں ناچ رہی تھیں کچھ شراب کی بڑی بڑی صراحیاں ہاتھوں میں لیے جام بھر بھر کے اپنے آقاوں اورعظیم جہادیوں کو پلارہی تھیں۔ کچھ حوریں کرنل امام اور بیت اللہ محسود کی گود میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی۔ مولانا کا بیان اس قدر پراثر تھا کہ سننے والےاس ماحول تک پہنچنے کےلیے خودکُش حملے سےبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔<br>
کچھ آگے بڑھے تو جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمان شراب کے ایک حوض کے کنارے نشے میں لت پت اوندھے منہ پڑے نظر آئے۔ فرشتوں نے بڑےادب کےساتھ جنرل ضیا کو گود میں پکڑ کر اٹھایا ۔ حمید گل کو اپنے سامنے پا کر اُن کے چہرے پر مایوسی اور غصے کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ قاہرانہ انداز میں جنرل حمید گل سے مخاطب ہوئے،” مجھے پتہ تھا کہ تم آج آنے والے ہو”۔انہوں نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا،“میں نے جو ذمہ داریاں اپنے ‘فوجی اور سول شاگردوں’ کو سونپی تھیں اُن میں سے کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوسکا۔ جب میں زندہ تھا تو پوری دنیا بشمول امریکہ اور اسرائیل میرے ساتھ تھی اور ہم نے نہ صرف روس کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالی بلکہ افغانستان میں بھی اپنے پاوں گاڑ لیے تھے۔ ہم نے جہاد کی برآمد شروع کر ی تھی۔ لیکن تم اور میرے دوسرے شاگرد نکمے نکلے۔”</div>
<div class="leftpullquote">ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے</div>
<div class="urdutext">اسی اثنا میں امیر المومنین مُلا محمد عمر اپنی حوروں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے سلام دعا کیے بغیروہاں سے گزرے۔ جنرل صاحب نے پیچھے سے آواز دی مگر مُلا نے مڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اتنے میں جنرل ضیاالحق نے اپنے مصاحبین سے پوچھا،” کیا تمہیں معلوم ہے مُلا عمر نے تم سے سلام دعا کیوں نہیں کی؟ جنرل صاحب حیران رہ گئے اور سر انکار میں ہلا دیا۔ جس پر ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ کچھ پاکستانی جرنیل طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں۔ جنرل حمید گل نے جواب دینے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ جنرل صاحب نے مزید کہا ویسے بھی پاکستان میں میرے تمام جہادی شاگرد نالائق نکلے ہیں۔ نہ تو وہ افغانستان میں تزویراتی موجودگی برقرار رکھ سکے اور نہ ہی وہ پاکستان میں میرا جہادی کاروبار چلا سکے۔ اپنے مربی کی ناراضی اور مایوسی کو جان کر حمید گل صاحب کو نہایت افسوس ہوا۔ ادب سے اپنے آقا کے سامنے کھڑے رہے اور جب ضیا الحق نے اپنی بات ختم کی تو حمید گل اجازت مانگ کر کہنے لگے،“سر! شاید یہاں آنے کے بعد آپ کو ہمارے کارناموں کاعلم نہیں ہے”۔ پھر اُس نے جنرل ضیا کی موت کے بعد اپنے جہادی ساتھیوں کے اسلام آباد کی سر بلندی کےلیے اپنے اور اپنے شاگردوں کے کارناموں پر ایک لمبی چوڑی تقریر کی ۔ جنرل حمید گل نے کہا ہم نے تو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اپنے جہادی بھائیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جنرل صاحب آپ نے کہا ‘کابل کو جلنا ہوگا’ اور ہم نے یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے کابل فتح کرنے کے بعد وہاں شکرانے کی نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، یہ خواہش آپ کے سیاسی شاگرد وزیراعظم میاں نواز شریف نے اُس وقت پوری کی جب ڈاکٹر نجیب اللہ کو حکومت سے ہٹانے کے بعد مجاہدین کو کابل کی تخت پر بٹھایاگیا تھا۔ آپ کی جگہ نواز شریف نے کابل جاکر شکرانے کے دو رکعت نفل ادا کیے۔<br>
افغانستان میں مجاہدین کی پہلی حکومت ہماری مرضی سے بنی اور جب مجاہدین نے ہیرا پھیری شروع کی تو ہم نے طالبان کے نام سے وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر نجیب کوکابل میں سرعام لٹکایا۔ آپ نے ماضی میں شعیہ سنی کی جس تقسیم کا بیج بویا تھا ہماری وجہ سے آج اس کی فصل جنوبی پنجاب سے لے کر کوئٹہ تک ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ہے۔<br>
جنرل حمید گل کی کارگزاری سن کر جنرل ضیا الحق کی مینڈک جیسی انکھوں میں چمک آگئی اور حمید گل کو گلے لگا کر کہنے لگا،” مجھےتم پر فخر ہے،شاگرد ہو تو تم جیسا، آج میں اپنی حوروں کے درمیان سرخرو ہوکر بیٹھ سکوں گا۔ تم نے جو کیا وہ میری توقعات سے بڑھ کر ہے”۔ پھر اچانک ان کے چہرے پر غم اور مایوسی کے سائے لہرانے لگےوہ حمید گل سے کہنے لگے،” مگر اب تم وہاں نہیں ہو تو کہیں ہماری پچاس سالہ محنت ضائع نہ ہوجاے؟” اس پر حمید گل نے ایک معنی خیز قہقہہ لگاکر کہا،“جنرل صاحب ! رائیونڈ کی تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے ہوتے ہوئے آنے والی کئی نسلوں تک طالبان کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں کھولے گئے مدرسے جہاد کی نرسریاں ہیں۔ ہمارا بنایا ہوا نصاب اس قوم کو تاقیامت پسماندہ، جاہل اورشدت پسند بنائے رکھے گی۔ اور ان میں کبھی بھی امان اللہ خان، باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے قوم پرست رہنما پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ ان مدرسوں کے طالب علم ہمارے دست راست اور اثاثہ ہیں۔ اب چاہے ہم انہیں امریکہ کے لیے یا امریکہ کے خلاف استعمال کریں ،یا پھر ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کو ان کے ذریعے ڈراتے رہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔<br>
( دونوں کے زوردار قہقہوں شے جنت کی فضاگونج اٹھی۔ خوشی مناتے ہوئےانہوں نے جام ٹکرائے اور لبوں سے لگا لیے)۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b5%d8%a7%d9%84/">جنتی وصال</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/%d8%ac%d9%86%d8%aa%db%8c-%d9%88%d8%b5%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>1</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
