<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>آج, Author at Laaltain</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/author/aaj/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 09 Oct 2025 08:49:59 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>

<image>
	<url>https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2024/04/Laaltain-Black-1.png</url>
	<title>آج, Author at Laaltain</title>
	<link>https://laaltain.pk</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>علامات اور نشانیاں</title>
		<link>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 05 Oct 2025 19:05:47 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آج 126]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[روسی ادب]]></category>
		<category><![CDATA[عالمی ادب کے اردو تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[ندیم اقبال]]></category>
		<category><![CDATA[ولادیمیر نابوکوف]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33861</guid>

					<description><![CDATA[<p>ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/">علامات اور نشانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>ولادیمیر نابوکوف<br>
<a href="https://www.newyorker.com/magazine/1948/05/15/symbols-and-signs" target="_blank">انگریزی</a> سے ترجمہ: ندیم اقبال</strong></p>
<p>ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</p>
<figure id="attachment_33863" aria-describedby="caption-attachment-33863" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126.jpeg"><img fetchpriority="high" decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-1024x1024.jpeg" alt width="800" height="800" class="size-large wp-image-33863" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-1024x1024.jpeg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-300x300.jpeg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-150x150.jpeg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126-768x768.jpeg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-126.jpeg 1200w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33863" class="wp-caption-text">ولادیمیر نابوکوف کی یہ کہانی آج کے شمارہ 126 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</figcaption></figure>
<p>گزشتہ چار برسوں میں اب چوتھی مرتبہ انھیں وہی مسئلہ درپیش تھا کہ ایک ایسے نوجوان کے لیے سالگرہ کا کون سا تحفہ لے کر جایا جائے جو ناقابلِ علاج حد تک مخبوط الحواس یا پاگل ہو چکا تھا۔ اسے کسی قسم کی کوئی خواہشات نہ تھیں۔ انسانی ہاتھ سے بنائی ہوئی اشیا اس کے لیے یا تو بدی کے چھتے جیسی تھیں اور ایسی ہلاکت خیز سرگرمی سے لرزاں اور فعال تھیں جسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا، یا پھر مجموعی انسانی زندگی کی ایسی کثیف آسائشیں تھیں جن کا اس کی مجرّد زندگی میں کوئی مصرف نہ تھا۔ ایسی بےشمار اشیا کو مسترد کرنے کے بعد، جو اُسے ناراض یا دہشت زدہ کر سکتی تھیں (مثلاً کل پُرزوں یا چابی سے چلنے والی کوئی بھی شے ممنوع تھی)، اس کے والدین نے لذیذ اور تازہ پھلوں کے مربے کا انتخاب کیا۔ دس مختلف پھلوں کے یہ مربے، دس چھوٹے چھوٹے خوبصورت مرتبانوں میں بند، ایک نفیس سی ٹوکری میں رکھے ہوے تھے۔</p>
<p>اس کی پیدائش کے وقت تک ان کی شادی کو ایک طویل عرصہ گزر چکا تھا اور اب وہ کافی بوڑھے ہو چکے تھے۔ خاتون کے رُوکھے مٹیالے بال لاپروائی سے ایک جوڑے میں باندھے گئے تھے۔ وہ سیاہ رنگ کے سستے ترین لباس پہنا کرتی تھی۔ اپنی ہم عمر عورتوں کے برعکس (مثلاً  مسز سول، ان کے سامنے والی پڑوسن، کا چہرہ میک اپ سے ہر وقت گلابی اور ارغوانی رہا کرتا تھا اور جس کے ہیٹ پر مصنوعی پھولوں کا ایک گچھا سجا رہتا تھا) اس کا سفید برفیلا چہرہ، موسمِ بہار کی عیب جُو روشنی میں بالکل سپاٹ اور پھیکا دکھائی دیتا تھا۔ اس کا شوہر، جو اپنے پرانے ملک میں ایک کامیاب کاروباری شخص تھا، اب یہاں نیویارک میں مکمل طور پر اپنے بھائی اضحاک کے سہارے زندگی گزار رہا تھا جو چالیس برس کے عرصے میں اب ایک حقیقی امریکن بن چکا تھا۔ اضحاک سے ان کی ملاقات شاذ و نادر ہی ہوا کرتی تھی اور انھوں نے اس کا نام شہزادہ رکھ چھوڑا  تھا۔</p>
<p>اس جمعے کو، جو اُن کے بیٹے کی سالگرہ کا دن تھا، ہر چیز غلط ہوتی چلی گئی۔ سب وے ٹرین میں دو سٹیشنوں کے درمیان خرابی پیدا ہو گئی اور اگلے پندرہ منٹ تک انھیں سواے اپنے تابعدار دل کی دھڑکنوں اور اخبارات کے صفحات پلٹنے کی آوازوں کے، کوئی اَور آواز سنائی نہ دی۔ ٹرین سے اتر کر انھیں جس بس میں سوار ہونا تھا، اس کے آنے میں تاخیر ہو گئی اور انھیں کافی وقت تک ایک گلی کے کونے پر اس بس کا انتظار کرنا پڑا اور بالآخر جب وہ بس آئی تو ہائی سکول کے باتونی بچوں سے ٹھساٹھس بھری ہوئی تھی۔ جب انھوں نے اس بھورے مٹیالے راستے پر چلنا شروع کیا جو ذہنی صحت کے ہسپتال کی طرف جاتا تھا تو بارش شروع ہو گئی۔ وہاں پہنچ کر انھیں مزید انتظار کرنا پڑا اور ان کے بیٹے کے بجاے (جو عموماً تیز تیز چلتا ہوا کمرے میں داخل ہوتا تھا، بڑھی ہوئی شیو، پریشاں حال، مہاسوں اور پھنسیوں بھرے چہرے پر خفگی اور آزردگی کا تاثر لیے) ایک نرس داخل ہوئی جسے وہ دونوں جانتے تھے مگر کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے تھے، اور چمکتے چہرے کے ساتھ انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے نے ایک مرتبہ پھر اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے۔ ویسے وہ ٹھیک تھا، اس نے مزید بتایا، مگر والدین سے ملاقات شاید اس کے ذہنی اختلال میں اضافہ کر کے مزید مضطرب کر دے گی۔ وہ جگہ ویسے بھی شکستہ حال اور ذلت آمیز حد تک عملے کی کمی کا شکار تھی اور وہاں چیزوں کو کبھی غلط جگہ رکھ کر بھول جانا اور کبھی بری طرح گڈمڈ کر دینا عام سی بات تھی، لہٰذا انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنا تحفہ وہاں دفتر میں نہیں چھوڑیں گے بلکہ اگلی مرتبہ اس سے ملاقات کے لیے آتے ہوے اپنے ساتھ لیتے آئیں گے۔</p>
<p><iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/Gqgtoc2vIBI?si=tYzcqn70dNDzjOS1" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe></p>
<p>عمارت سے باہر نکل کر عورت نے پہلے انتظار کیا کہ اس کا شوہر اپنی چھتری کھول لے، اور پھر اس کا بازو تھام لیا۔ وہ بار بار کھنکھار کر اپنا گلا صاف کر رہا تھا۔ وہ ایسا اُس وقت کیا کرتا تھا جب وہ پریشان ہوتا تھا۔ وہ دونوں سڑک کی دوسری جانب بنے ہوے بس اسٹاپ کی چھت کے نیچے آکھڑے ہوے اور اس کے شوہر نے اپنی چھتری بند کر لی۔</p>
<p>چند قدم دور ہوا میں لہراتے اور پانی ٹپکتے ہوے ایک درخت کے نیچے، ایک ننھا سا، بے پروبال پرندہ، پانی کے ایک چھوٹے سے گڑھے میں بےبسی سے پھنسا ہوا پھڑپھڑاتے ہوے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ بس سے سب سٹیشن تک کے لمبے سفر کے دوران اس کے اور اس کے شوہر کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ ہر مرتبہ جب بھی اس کی نظر اس کے سِن رسیدہ ہاتھوں پر پڑتی جو چھتری کے دستے کو گرفت میں لیے اینٹھے ہوے تھے، اور ان کی پھولی ہوئی رگیں اور جلد پر پڑے بھورے دھبے نظر آتے تو اسے اپنے آنسو روکنا مشکل ہو جاتا تھا۔ جب اس نے اپنے ذہن کو کسی اَور خیال میں لگانے کے لیے اِدھر اُدھر دیکھا تو اسے یہ دیکھ کر ایسا صدمہ ہوا جس میں رحم، ترس، دردمندی اور حیرت کی آمیزش تھی کہ ایک مسافر لڑکی جس کے بال گہرےکتھئی تھے اور پیروں کے سرخ ناخن انتہائی غلیظ تھے، ایک عمررسیدہ عورت کے کاندھے پر سر رکھے رو رہی تھی۔ اس بوڑھی عورت کی شکل کس سے مشابہ تھی؟ اس کی شکل ربیکا بوری سوونا سے ملتی تھی جس کی بیٹی نے برسوں  پہلے، مِنسک میں، سولوویشک خاندان کے ایک فرد سے شادی کرلی تھی۔</p>
<p>پچھلی مرتبہ جب اس لڑکے نے یہ کوشش کی تھی تو، ڈاکٹر کے بقول، اس نے جو طریقہ اختیار کیا تھا وہ قوتِ اختراع کا ایک شاہکار تھا۔ وہ تو کامیاب بھی ہو گیا ہوتا اگر ایک حاسد مریض نے یہ نہ سوچا ہوتا کہ وہ اُڑنا سیکھ رہا ہے، اور بروقت اسے پکڑ کر روک نہ لیا ہوتا۔ دراصل وہ اپنی دنیا میں ایک شگاف پیدا کر کے فرار ہونا چاہتا تھا۔ اس کے فریبِ خیال اور فکری مغالطوں کا پورا ایک نظام تھا جو ایک ماہانہ سائنسی جریدے میں شائع ہونے والے تفصیلی مضمون کا موضوع بھی رہا تھا اور جو ذہنی صحت کے اس ہسپتال کے ڈاکٹر نے اُن دونوں کو پڑھنے کے لیے بھی دیا تھا، لیکن وہ اور اس کا شوہر، بہت عرصہ پہلے ہی، گہرے سوچ بچار کے بعد، اپنی حد تک، اسے سمجھ چکے تھے۔ اس مضمون کا عنوان ’ایک سے زائد حوالہ جات والا مالیخولیا‘(Referential mania) تھا۔ اس انتہائی غیرمعمولی مرض میں مریض یہ تصور کر لیتا ہے کہ اس کے گرد رونما ہونے والی ہر بات مخفی طور پر اس کے وجود اور شخصیت سے متعلق ہے۔ وہ حقیقی لوگوں کو تو اس سازش سے خارج کر دیتا ہے کیونکہ وہ خود کو دیگر لوگوں سے بےپناہ ذہین سمجھتا ہے؛ وہ جہاں جہاں جاتا ہے مظاہرِ قدرت سایہ بن کر اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ گھورتے ہوے آسمان پر چھائے بادل، سست رو نشانیوں کے ذریعے، ایک دوسرے کو اس کے متعلق ناقابلِ یقین حد تک تفصیلی معلومات بھیجتے ہیں۔ شام ڈھلے، درخت، سادہ ترین حروفِ تہجی میں، پُراسرار اشاروں یا حرکات کے ذریعے اس کے عمیق ترین خیالات پر گفتگو کرتے ہیں۔ بلور، داغ دھبے اور سورج کی کرنیں ایسے نقش بناتی ہیں جو انتہائی ہولناک ہوتے ہیں، اور ان نقوش میں ایسے پیغامات مخفی ہوتے ہیں جنھیں اسے لازماً ایک خفیہ عبارت میں پڑھنا اور سمجھنا ہوتا ہے۔ ہر شے ایک رمز ہے اور ہر شے کا موضوع اس کی ذات ہے۔</p>
<p>اس کے اردگرد ہر جگہ جاسوس پھیلے ہوے ہیں جن میں سے کچھ تو صرف غیرمتعلق نگران ہیں، مثلاً شیشے کی اشیا کی سطحیں اور ساکن تالاب، جبکہ دوسرے، جیسے دکانوں میں لٹکے کوٹ، متعصب اور بدظن، نظر رکھنے والے ہیں جو دلی طور پر اسے جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ کئی اَور، مثلاً بہتا پانی، طوفانِ باد و باراں وغیرہ، پاگل پن کی حد تک ہسٹیریا کا شکار ہیں اور اس کے متعلق ایک انتہائی مسخ شدہ رائے رکھتے ہیں اور مضحکہ خیز حد تک اس کی سرگرمیوں کی تشریح اور توضیح کرتے رہتے ہیں۔ اسے ہمیشہ چوکنا رہنا ہو گا اور اپنی زندگی کے ہر لمحے اور ہر دور میں اشیا کی لہردار حرکتوں میں مخفی خفیہ پیغامات کو پڑھنا ہو گا۔ وہ ہوا جو وہ سانس کے ذریعے اپنے بدن میں لیتا ہے وہ تک نشان زد ہوتی ہے اور درجہ بندی کرکے محفوظ کر دی جاتی ہے۔ اگر تو یہ تمام تر اشتیاق اور تعلق اس کے گِردوپیش تک ہی محدود رہتے تو کوئی بات نہ تھی مگر غم تو یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے! ہر بڑھتے فاصلے کے ساتھ ساتھ، وحشیانہ بدنامی اور رسوائی کے تیز رو دھارے اپنے حجم، مقدار اور طرّاری میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ اس کے خون کے خلیوں کے تاریک سائے، جو اپنے ناپ سے لاکھوں گنا بڑے کر دیے جاتے ہیں، بڑے بڑے میدانوں میں اُڑتے پھرتے ہیں اور ان سے بہت پرے سنگِ  خارا کی سی سختی، مضبوطی اور اونچائی والے پہاڑ اور کراہتے ہوے صنوبر کے اونچے درخت، باہم مل کر اس کے وجود کی مطلق سچائی کو بیان کرتے ہیں۔</p>
<p>……….</p>
<p>جب وہ سب وے کی گڑگڑاہٹ اور بدبودار فضا سے باہر آئے تو  دن کی آخری تلچھٹ سڑک کی روشنیوں سے گڈمڈ ہو رہی تھی۔ وہ رات کے کھانے کے لیے مچھلی خریدنا چاہتی تھی لہٰذا اس نے مربے کے مرتبانوں والی ٹوکری شوہر کے حوالے کی اور اسے گھر جانے کے لیے کہا۔ جب وہ اپنے کرائے پر لیے گھر پہنچا اور تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھ کر اپنے دروازے کے سامنے پہنچا تو اسے یاد آیا کہ چابیاں تو وہ دن میں کسی وقت بیوی کو دے چکا تھا۔ وہ خاموشی سے سیڑھیوں پر بیٹھ گیا اور خاموشی ہی سے اُس وقت اٹھ کھڑا ہوا جب دس منٹ کے بعد اس کی بیوی بہ دقّت سیڑھیاں چڑھتی اوپر پہنچی۔ وہ پژمردگی سے مسکرا رہی تھی اور اپنی بےوقوفی پر خود کو ملامت کرتے ہوے تاسّف سے سر ہلا رہی تھی۔ وہ دونوں اپنے دو کمروں کے فلیٹ میں داخل ہوے۔ وہ فوراً آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ دونوں انگوٹھوں کی مدد سے، اپنے منھ کو زور لگا کر کھولتے اور ایک مضحکہ خیز شکل بناتے ہوے اس نے اپنی مایوسانہ حد تک تکلیف دہ مصنوعی بتیسی باہر نکالی۔ جب تک عورت نے میز پر کھانا لگایا، وہ اپنا روسی زبان کا اخبار پڑھتا رہا۔ یونہی اخبار پڑھتے ہوے وہ پتلا دلیہ بھی کھاتا رہا جس کے لیے دانتوں کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ وہ اس کی مزاج آشنا تھی اس لیے خاموش رہی۔</p>
<p>جب وہ سونے کے لیے چلا گیا تب بھی وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہی اور میلی کچیلی تاش کی گڈیاں اور پرانے فوٹوؤں کے البم دیکھتی رہی۔ عمارت کے احاطے کے اُس پار جہاں بارش کی بوندیں دھات پر گر کر ٹن ٹن کی آواز پیدا کر رہی تھیں، کھڑکیاں خوب روشن تھیں اور ایک کھڑکی سے ایک شخص سیاہ پتلون پہنے، دونوں ہاتھ سر کے نیچے باندھے، کہنیاں اٹھائے، کمر کے بل ایک بےترتیب بستر پر لیٹا، دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے پردہ برابر کر دیا اور تصویروں کا معائنہ شروع کیا۔ اس کا بیٹا، نوزائیدہ، دیگر بچوں کے مقابلے میں زیادہ حیران دکھائی دے رہا تھا۔ اچانک ایک تصویر البم سے باہر گر پڑی جو اس جرمن خادمہ اور اس کے پھولے پھولے گالوں والے منگیتر کی تھی جو لیپزگ میں ان کے گھر ملازم تھی۔ وہ البم کے صفحات پلٹتی چلی گئی: مِنسک، انقلاب، لیپزِگ، برلن، دوبارہ لیپزگ، ایک ڈھلوان چھت والے مکان کا اگلا حصہ، بری طرح دھندلائی ہوئی تصویر۔</p>
<figure id="attachment_33869" aria-describedby="caption-attachment-33869" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1.jpg"><img decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-1024x758.jpg" alt width="800" height="592" class="size-large wp-image-33869" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-1024x758.jpg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-300x222.jpg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1-768x568.jpg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/vladimir-nabokov-1.jpg 1500w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33869" class="wp-caption-text">روسی نژاد امریکی ادیب ولادیمیر نابوکوف زبان، یادداشت، اور احساسات کی باریکیوں کو غیر معمولی مہارت سے فکشن میں برتنے کے لیے مشہور ہیں۔</figcaption></figure>
<p>اس تصویر میں لڑکا، جب اس کی عمر چار برس تھی، شرمیلے انداز میں، پیشانی پر شکنیں، ایک جوشیلی گلہری سے نظریں چُراتے ہوے، جیسا کہ وہ کسی بھی اجنبی سے ملتے ہوے کیا کرتا تھا۔ یہ تصویر آنٹی روزا کی، ہر بات میں مین میخ نکالنے والی، استخوانی چہرے اور غصیلی آنکھوں والی عمررسیدہ عورت جو بُری خبروں، دیوالیہ پن، ٹرین کے حادثات اور سرطان کی رسولی کے خوف و اضطراب سے تھرتھراتی ایک دنیا میں اس وقت تک زندہ رہی جب تک کہ جرمنوں نے اسے ان تمام لوگوں سمیت، جن کی اسے ہمیشہ فکر رہا کرتی تھی، موت کے گھاٹ نہ اتار دیا۔ لڑکا، عمر چھ سال، یہ اُس وقت کی تصویر ہے جب وہ انسانی ہاتھ پاؤں رکھنے والے پرندوں کی حیرت انگیز تصویریں بنایا کرتا تھا اور کسی عمررسیدہ شخص کی طرح نیند نہ آنے کی بیماری کا شکار تھا۔ یہ اس کا کزن ہے جو اَب شطرنج کا ایک مشہور کھلاڑی ہے۔ ایک اَور تصویر، لڑکے کی عمر آٹھ برس، یہ وہ وقت تھا جب اسے سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ وہ دیوار پر چسپاں نقشیں کاغذوں اور ایک کتاب میں ایک خاص  تصویر سے خوفزدہ ہو جاتا تھا جس میں صرف ایک دیہی منظر میں ایک چھوٹی پہاڑی، چند چٹانیں اور ایک ٹُنڈمُنڈ درخت پر لٹکا بیل گاڑی کا ایک پہیہ دکھایا گیا تھا۔ ایک اَور تصویر، جب وہ دس برس کا تھا، جس برس انھوں نے یورپ چھوڑا تھا۔ عورت کو اس سفر کی خِجالت، خواری، ندامت، ترس، تاسف اور ذلت بھری دشواریاں بھی یاد تھیں اور وہ گھٹیا، پست، کندذہن اور کمینے بچے بھی یاد تھے جن کے ساتھ لڑکے کو امریکہ میں آمد کے بعد ایک خصوصی سکول میں رکھا گیا تھا، اور پھر اس کی زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب نمونیا کے بعد ہونے والی ایک طویل صحت یابی کے دوران، اس کے وہ غیرمنطقی اور حد سے بڑھے ہوے خوف اور اوہام — جنھیں اس کے والدین نے سختی سے یہ کہہ کر مسترد کر دیا تھا کہ یہ ایک خداداد قابلیت کے حامل، انتہائی ذہین بچے کا ایک غیرمعمولی، حیرت انگیز اور نرالا، عمومی کردار سے مختلف ایک تلوّن ہے — شدت اختیار کرتے چلے گئے اور ایسی ٹھوس پیچیدہ گتھیوں میں الجھتے اور باہمی مربوط التباسات اور فریبِ نظر میں ڈھلتے چلے گئے جو اپنی اس صورت میں عام اذہان کی سمجھ سے ماورا تھے۔</p>
<p>عورت یہ سب کچھ، اور اس سے بھی سوا جو کچھ ہوا، قبول کرتی چلی گئی کیونکہ بہرحال زندہ رہنے کا مطلب ایک کے بعد ایک خوشی، مسرت اور شادمانی  سے محروم ہوتے چلے جانا اور نقصان کو برداشت کیے جانا بھی ہے؛ بلکہ اس کے معاملے میں تو کوئی خوشی ہی نہیں تھی ، فقط ممکنہ طور پر کسی بہتری کے امکانات کی امید ہی رہی تھی۔ اس نے بار بار پلٹ کر آنے والی درد کی ان لہروں کو یاد کیا جو اس نے اور اس کے شوہر نے کسی نہ کسی طور پر برداشت کی تھیں۔ اس نے ان غیرمرئی عفریتوں کے بارے میں سوچا جو اُن کے بیٹے کو ناقابلِ تصور انداز سے ذہنی اور جسمانی ایذا پہنچا رہے تھے، دنیا میں موجود ناقابلِ پیمائش محبت اور نرم دلی کو یاد کیا، اس رحم دلی کی تقدیر کو یاد کیا جسے یا تو کچل دیا جاتا ہے، ضائع کر دیا جاتا ہے یا پھر دیوانگی اور پاگل پن کا روپ دے دیا جاتا ہے، ان نظرانداز کردہ بچوں کو یاد کیا جو غلیظ کونے کھدروں میں چھپے اپنے آپ سے باتیں کرتے اور منمناتے رہتے ہیں، ان خوبصورت، خودرو جڑی بوٹیوں کو یاد کیا جو کسان کی نگاہ سے چھپ نہیں سکتی ہیں۔</p>
<p>…………</p>
<p>آدھی رات گزر چکی تھی جب اسے خواب گاہ سے اپنے شوہر کے کراہنے کی آواز سنائی دی اور پھر فوراً ہی وہ ڈگمگاتا ہوا نشست گاہ میں داخل ہوا۔ اس نے اپنے شب خوابی کے گاؤن کے اوپر وہ پرانا اوورکوٹ پہن رکھا تھا جس کا کالر استراخانی اُون سے بنا ہوا تھا اور جو اسے اپنے نیلے رنگ کے عمدہ جامۂ غسل  سے بھی زیادہ بڑا تھا۔</p>
<p>’’مجھے نیند نہیں آرہی ہے،‘‘ وہ چلّایا۔<br>
’’تمھیں نیند کیوں نہیں آ رہی؟‘‘ عورت نے پوچھا۔ ’’تم تو اس قدر تھکے ہوے تھے۔‘‘<br>
’’مجھے نیند اس لیے نہیں آ رہی کہ میں مرنے والا ہوں،‘‘ اس نے کہا اور کاؤچ پر لیٹ گیا۔<br>
’’کیا تمھارے معدے میں درد ہے؟ کیا میں ڈاکٹر سولوو کو فون کروں؟‘‘<br>
’’کوئی ڈاکٹر نہیں چاہیے،‘‘ وہ کراہا۔ ’’لعنت ہو ان ڈاکٹروں پر!‘‘<br>
’’ہمیں فوراً اسے وہاں سے نکال لینا چاہیے، ورنہ ہم ذمےدار ہوں گے۔۔۔۔ ہم ذمےدار ہوں گے!‘‘ اس نے ہمت کی، اٹھ کر بیٹھ گیا اور دونوں پاؤں فرش پر رکھے، بند مٹھیوں سے اپنی پیشانی پر ضرب لگانے لگا۔<br>
’’ٹھیک ہے،‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔ ’’ہم کل صبح اسے گھر لے آئیں گے۔‘‘<br>
’’مجھے چائے مل جائے تو کیا ہی بات ہے،‘‘ اس کے شوہر نے کہا اور غسل خانے چلا گیا۔ عورت نے دشواری سے جھکتے ہوے تاش کے کچھ پتّے اور فرش پر گری ہوئی دو تین تصویریں اٹھائیں… حکم کا غلام، حکم کا اِکّا، خادمہ ایلسا اور اس کا بدکار معشوق۔</p>
<p>وہ غسل خانے سے واپس آیا تو ہشاش بشاش تھا۔ وہ بلند آواز میں کہنے لگا، ’’میں نے اس مسئلے کا حل سوچ لیا ہے۔ ہم اسے خواب گاہ والا بستر دے دیں گے اور دونوں باری باری رات کا کچھ حصہ اس کے پاس گزاریں گے اور بقیہ وقت اس کاؤچ پر گزار لیں گے۔ ہم کوشش کریں گے کہ ڈاکٹر ہفتے میں کم از کم دو مرتبہ اس کا معائنہ کرے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ شہزادہ کیا کہتا ہے؛ ویسے بھی اس کے پاس کہنے کے لیے کچھ زیادہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ سب ہمیں ویسے بھی سستا پڑے گا۔‘‘<br>
فون کی گھنٹی بجی۔ یہ فون کی گھنٹی بجنے کا ایک غیرمعمولی وقت تھا۔ وہ کمرے کے وسط میں کھڑا اس چپل میں پیر ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جو پاؤں سے نکل گئی تھی اور دانت نہ ہونے کے باعث، بچکانہ انداز میں منھ کھولے، بیوی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ چونکہ اس سے زیادہ انگریزی جانتی تھی لہٰذا فون کا جواب بھی ہمیشہ وہی دیا کرتی تھی۔</p>
<p>’’کیا میں چارلی سے بات کر سکتی ہوں؟‘‘ ایک لڑکی کی بیزار کن آواز سنائی دی۔<br>
’’تم نے کس نمبر پر فون کیا ہے؟… تم نے غلط نمبر پر فون کیا ہے۔‘‘<br>
اس نے آہستگی سے فون کریڈل پر واپس رکھ دیا اور ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھ لیا۔ </p>
<p>’’اس فون نے تو میری جان ہی نکال لی تھی!‘‘ وہ ذرا سا مسکرایا اور پھر اپنی جوشیلی خودکلامی دوبارہ شروع کر دی۔ دن نکلتے ہی وہ دونوں اسے گھر لے آئیں گے۔ اس کی ذاتی حفاظت کی خاطر، وہ گھر کے تمام چاقو چھریاں ایک دراز میں تالا لگا کر رکھیں گے۔ اپنی بدترین کیفیت میں بھی دوسروں کو اس سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔<br>
فون کی گھنٹی دوسری مرتبہ بجی۔</p>
<p>وہی بےکیف آواز چارلی کا پوچھ رہی تھی۔</p>
<p>’’تم غلط نمبر پر فون کر رہی ہو۔ میں بتاتی ہوں تم کیا کر رہی ہو۔ تم شاید زیرو کے بجاے ’او‘ کا حرف ڈائل کر رہی ہو۔‘‘ اس نے فون دوبارہ کریڈل پر رکھ دیا۔</p>
<p>وہ نصف شب کو اپنی غیرمتوقع اور دعوت جیسی چائے پینے لگے۔ وہ زور زور سے آواز نکالتے ہوے چائے کی چسکیاں لے رہا تھا۔ اس کا چہرہ سرخ تھا۔ وہ رہ رہ کر اپنا گلاس ہوا میں بلند کرتا اور اسے ایک دائرے میں گردش دیتا تاکہ شکر خوب اچھی طرح حل ہو جائے۔ اس کے گنجے سر کے ایک جانب ایک پھولی ہوئی رگ بہت نمایاں نظر آ رہی تھی اور ٹھوڑی پر سفید کھونٹیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ سالگرہ کا تحفہ میز پر رکھا ہوا تھا۔ جب عورت نے دوسری مرتبہ اس کے گلاس میں چائے انڈیلی تو مرد نے عینک لگائی اور مسرت اور انبساط سے ایک بار پھر اُن چمکیلے، زرد، سبز اور سرخ رنگ کے مرتبانوں کا جائزہ لیا۔ اس کے بےڈول اور مرطوب ہونٹ ان مرتبانوں پر لکھی خوشنما عبارت پڑھنے لگے۔ خوبانی، انگور، آلو بخارا، سنگترہ… ابھی وہ جنگلی سیب تک ہی پہنچا تھا کہ فون ایک بار پھر بج اٹھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/">علامات اور نشانیاں</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/alamaat-aur-nishanian-aaj-126/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>سنو پِتاجی!</title>
		<link>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 04 Oct 2025 07:30:36 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[تراجم]]></category>
		<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[آج 127]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[جیا جادوانی]]></category>
		<category><![CDATA[محمد ابوالحسن عسکری]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33847</guid>

					<description><![CDATA[<p>مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/suno-pita-ji/">سنو پِتاجی!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>جیا جادوانی<br>
ہندی سے ترجمہ: محمد ابوالحسن عسکری</strong></p>
<p><strong>جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</strong></p>
<figure id="attachment_33851" aria-describedby="caption-attachment-33851" style="width: 800px" class="wp-caption aligncenter"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127.jpeg"><img decoding="async" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-1024x1024.jpeg" alt width="800" height="800" class="size-large wp-image-33851" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-1024x1024.jpeg 1024w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-300x300.jpeg 300w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-150x150.jpeg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127-768x768.jpeg 768w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2025/10/Aaj-127.jpeg 1200w" sizes="(max-width: 800px) 100vw, 800px"></a><figcaption id="caption-attachment-33851" class="wp-caption-text">جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</figcaption></figure>
<p>انتہائی قابلِ احترام پتاجی،</p>
<p>آج میں بے حد ادب کے ساتھ آپ کو شردھانجلی پیش کرنا چاہتی ہوں۔ میں جو کچھ بھی ہوں وہ نہ ہوتی، اگر آپ ویسے نہ ہوتے جیسے تھے۔</p>
<p>آپ کو ٹائم خراب کرنا سخت ناپسند ہے، سو جلدی اصل بات پر آتی ہوں۔ پچھلے مہینے میرے دونوں بھائیوں کا پیغام آیا میرے پاس کہ میں اپنے حصے کی موروثی جائیداد ان کے نام لکھ دوں، نہیں تو وہ مجھ سے ’تعلق‘ نہیں رکھیں گے اور مجھے’دیکھ‘ لیں گے۔ میں جانتی ہوں، مجھے ’دیکھ‘ لینے کے چکر میں وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ وہ بھی اسی پدرشاہی نظام کا حصہ ہیں جس کے آپ رہے۔ آپ کو بھی پسند نہیں تھا کہ کوئی عورت اپنے حق کی بات کرے یا سوچے بھی۔ آپ نے یہ اجازت نہ ماں کو دی، نہ مجھے۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ میرے ذرا سے جواب دینے پر پورا گھر مجھ پر ٹوٹ پڑتا تھا:  ’’یہ وکیلوں والی جرح اپنی ساس سے کرے گی تو وہ ’بیچاری‘ تو اپنی چھاتی کُوٹ لے گی‘‘۔ ساس نے چھاتی کُوٹی ضرور، پر میرے جواب دینے سے نہیں، میرے پڑھنے لکھنے سے۔ وہ بھی ’بےچاری‘ اسی پدرشاہی نظام کا حصہ بنی رہی جو سمجھتا ہے کہ لڑکیاں پڑھنے لکھنے سے بگڑ جاتی ہیں— بالکل صحیح سوچتے ہیں، میرے بگڑنے کی شروعات بھی یہیں سے ہوئی۔</p>
<p>چار سال ہو گئے ہیں آپ کو گئے ہوے اور شاید ہی کبھی میں نے آپ کو اس شدت سے یاد کیا ہو۔ گاہے بگاہے کوئی مجھے آپ کی یاد دلا بھی دیتا تھا، یہ کہتے ہوے کہ تمھیں دیکھ کر تمھاری عمر کا اندازہ نہیں ہوتا، تم اپنی عمر سے بیس سال چھوٹی لگتی ہو، تو میں بے حد انکسار سے جواب دیتی تھی کہ میں اپنے پِتا پر پڑی ہوں۔ آپ تو نوّے کی عمر میں بھی ساٹھ سے زیادہ کے نہیں لگتے تھے۔ لوگ کہتے تھے، آپ کی ٹانگیں کاٹھ کی بنی ہیں، تھکتیں ہی نہیں۔ آپ کبھی رکتے نہیں تھے پتاجی، ہمیشہ چلتے رہتے تھے۔ اتنا چلے کہ بہت دور نکل گئے، ہماری پہنچ سے پرے۔ ہمارے لیے تو آپ پِتا نہیں، دور سیاروں سے آیا کوئی شکتی شالی آدمی تھے جس سے ہم سدا ڈرتے رہتے تھے۔ ہمارے ننھے ہاتھوں نے کبھی آپ کا ہاتھ نہیں پکڑا۔ آپ کا گھر میں گھسنا ہمارے خوف کا سبب ہوتا تھا۔ آپ کے آنے کی آہٹ پاتے ہی ہم اپنی کوئی بھی کتاب کھول اس میں اپنا سر ڈال دیتے تھے تاکہ کسی بھی طرح آپ کی آنکھوں سے اوجھل رہ سکیں۔ جو آپ کے سامنے پڑا، وہ گیا۔ پڑنا تو ماں کو پڑتا تھا، اور وہ یہ قہر اپنے دل اور جسم پر جھیلتی تھیں۔ چھلنی ہو گئے ہوں گے دونوں، جب وہ اوپر گئی ہوں گی۔ عورت کے جیون کی اتنی دشواریاں جھیل لیں انھوں نے کہ سب کچھ چتھڑا چتھڑا ہو گیا۔’جیوں کی تیوں دھر دینی چدریا‘، کبیر کہتے ہیں۔ کیا سچ مچ کوئی عورت ایسا کر پاتی ہے؟ ان کی ’چدریا‘ کے تار تو دور سے بھی ٹوٹے پھوٹے دکھائی دیتے تھے۔ آتما کو بھی اس میں رہتے شرم آنے لگی تھی۔</p>
<p>اب دیکھیے نا، بھائیوں کے فون کے ساتھ ہی رشتےداروں کے فون بھی آنا شروع ہو گئے اور وہ مجھے’شائستگی‘ سے یہ سمجھانے کی کوشش کرنے لگے کہ ’بھگوان کا دیا ‘ سب کچھ میرے پاس ہے، سو میں بھائیوں سے ’پنگا‘ لینے کی کوشش نہ کروں، نہ سوچوں۔ نہیں تو میں وہ ’گھر‘ [میرا مائیکا] کھو دوں گی۔ یہ سن کر بھی مجھے بہت زور سے ہنسی آتی رہتی ہے۔ یہ وہی رشتےدار ہیں جو آپ کے رہتے گھر میں گھسنے سے بھی ڈرتے تھے۔ آپ نے انھیں ہمیشہ اپنے گھر سے باہر رکھا، اور اب آپ کی غیرموجودگی میں دیکھیے کیسے گھسے چلے آ رہے ہیں! اور رہی اس ’گھر‘ کی بات تو وہ ’گھر‘ تو میرا پِتاجی، آپ کے رہتے بھی نہ تھا۔ آپ نے کبھی اس کا احساس ہی نہ ہونے دیا۔ جو ’گھر‘ ستر سال کی ماں کا نہ ہو سکا تو بھلا سولہ سال کی لڑکی کا کیا ہوگا؟ وہ گھر صرف آپ کا تھا، پِتاجی۔ وہاں تو ہر دن یہی سنائی دیتا تھا: ’’جا اپنے گھر تو ہمیں تجھ سے چھٹکارا ملے!‘‘ ہم لڑکیوں سے زیادہ تو آپ لوگ گھر کی گایوں کا سمّان کرتے تھے— تب تک جب تک وہ دودھ دیتی تھیں۔ بوڑھی ہو جانے پر آپ انھیں دان میں دے دیتے تھے۔ ہم بھی ہاڑتوڑ محنت کرتی تھیں، پِتاجی، میں اور میری چاروں بوائیں (پھپھیاں)، تاکہ ہم خود پر ہونے والے خرچ کے قرض کی بھرپائی کر سکیں۔ اگر وہ سب آپ کو دِکھا نہیں تو بھی کوئی بات نہیں پِتاجی، ’دِکھنے‘ لائق کچھ تھا بھی نہیں۔</p>
<p>بواؤں کی جیسے تیسے شادی کر کے انھیں ان کے نام نہاد ’گھر‘ بھیج کر، آپ نے مجھے گھر میں قید کرنے کے تمام جتن کیے۔ اس بندی خانے کو کتابوں سے بھر دیا کہ اسی میں الجھی رہوں، اور میں شبدوں کی پیٹھ پر سوار، اپنا جسم وہیں دھرے، اُڑ جاتی۔ آپ نے یہ بڑے ثواب کا کام کیا، پِتاجی۔ کتابوں نے مجھے وہ وہ دیا جو آپ دینے کا سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ میں دھیرے دھیرے آپ کے خلاف کھڑی ہونے لگی تھی۔ پھر ایک دن جب میری ماں پٹی، میں آپ دونوں کے بیچ کھڑی ہو گئی۔</p>
<p>ہم آپ کو بہت پیار کرتے تھے، پِتاجی۔ گھر کی ہر اچھی چیز پر آپ کا ہی ادھیکار رہتا تھا، پھر آپ کے بیٹوں کا، چاہے وہ ماں کے ہاتھ کا بنا لذیذ کھانا ہو یا کچھ اَور۔ کھانا بنتے ہی ماں تھالی پروس کے آپ کے لیے الگ رکھ دیتی تھیں، پھر ہم بچوں کو کھلاتی تھیں، اور آخر میں سامنے رکھی کڑھائی کو پونچھ پونچھ کر اپنی روٹیاں ختم کر ایسی تسکین سے اٹھتیں جو آپ کو بھی وہ سپیشل تھالی کھاکر نہ ملتی ہوگی۔ مجھے یاد ہے، آپ اپنے کانوں میں مہنگے عطر کا پھاہا رکھتے تھے۔ آپ کے گھر سے نکلتے ہی ہم بھائی بہن آپ کے تکیے کو سونگھنے کے لیے ٹوٹ پڑتے تھے۔ کبھی ایک گِرے ہوے پھا ہے کے لیے ہم لڑ مرتے تھے۔ ہم کتنے بھی نالائق ہوں، پر کیا ہوتا پِتاجی، اگر ایک پھاہا آپ ہمارے کانوں میں بھی رکھ دیتے؟ ہم تمام عمر آپ کی یاد سے مہکتے رہتے۔</p>
<p>مجھے خود پر بڑی شرم بھی آتی ہے کہ مجھے وہ وہ چیزیں یاد نہیں ہیں جو مجھے آپ سے ملیں: حوصلہ، خودداری، اکیلے جوجھنے کی فولادی طاقت، خوداعتمادی، اَور بھی بہت کچھ۔ اس سنگھرش نے میرے وجود کو ایک دھار دی۔ نہیں، صرف اسی سنگھرش نے نہیں، اُس دوسرے سنگھرش نے بھی جو اُس دوسرے گھر کی دین تھا جہاں آپ نے شادی کے نام پر مجھے بھیجا تھا۔ کتنا آزاد محسوس کیا ہوگا آپ نے یہ کہتے ہوے کہ ’’جا، اب اِس طرف پیٹھ کرکے سونا‘‘۔ اس گھر میں تو ہم کھارے پانی سے کبھی کبھی روبرو ہوتے تھے کیونکہ یہاں ماں تھیں، اُس گھر میں تو میں روز کھارے پانی سے سنان کرنے لگی کیونکہ وہاں ساس تھیں۔ ہم پیدائشی بےگھر لڑکیاں ایک گھر کی تلاش میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتی ہیں، اور داؤ پر لگانے کے لیے ہمارے پاس ہوتا ہی کیا ہے اس جسم کے سوا؟ پر میں نے آپ سے کبھی کوئی شکایت نہیں کی، نہ کبھی اپنا کوئی دکھڑا رویا۔ وہ میرا نصیب تھا جس سے مجھے خود ہی بھڑنا تھا۔ آپ نے مجھے ’چیز‘ بنایا، سسرال مجھے ’اچھی چیز‘ بنانے پر مُصر تھا۔<br>
ہم پریم سے اُپجی اولاد نہیں تھیں، پر اولاد تو تھیں۔ میں آپ سے، آپ کے سامنے پیدا ہوئی، پلی بڑھی، جوان ہوئی، لڑی جھگڑی، پر گھر میں کسی کو سمجھ میں نہیں آئی، یہاں تک کہ ماں کو بھی نہیں۔ ان پر معاشی بوجھ تو تھا ہی، اپنی اور بچوں کی حفاظت کا بھی بوجھ تھا۔ صبح تین بجے اٹھ کر رات گیارہ بجے تک وہ عورت ہاڑتوڑ محنت کرتی تھی۔ آج کی عورتوں کو جب دیکھتی ہوں، کہ کس طرح وہ بازار میں اور بازار اُن میں ناچ رہے ہیں، وہ لگی ہیں مرد کو ’خالی‘ کرنے اور اپنے لالچ ’جی‘ لینے میں، تو حیرانی نہیں ہوتی۔ وہ اپنا پچھلا بدلہ چکا رہی ہیں۔ مجھے ماں پر غصہ آتا تھا۔ تمام وقت وہ تمھارے اور تمھارے بیٹوں کے لیے برت رکھتی تھیں، آنولے کے پیڑ کو گول گول گھومتے ہوے لال دھاگے باندھتی تھیں، اور ہولیکا دہن یا دوسرے تیوہاروں میں تمھارے لیے انگاروں پر میٹھے روٹ سینکتی تھیں۔ تم نے ہمیں دو حصوں میں توڑ دیا تھا: کمر سے نیچے اور اوپر۔ یہ دونوں تمھارے ہی لیے کام کرتے تھے۔ نیچے کا دھڑ مزاحمت کرتا ہے تو اسے سرسنبھالتا ہے، سر بغاوت کرتا ہے تو دھڑ سنبھالتا ہے۔ تم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ تمھارے اقتدار سے الگ بھی میں اور ماں کچھ ہو سکتے ہیں، کہ ہمارے پاس بھی اپنا دماغ اور شعور ہے۔ یہ ہمیشہ تم ہی طے کرتے تھے کہ ہمیں کیا اور کتنا دینا چاہیے۔ اور دیا بھی۔</p>
<p>آپ تو اپنے ناکارہ بیٹوں کے ہر سکھ دکھ میں کھڑے ملے، پِتاجی۔ وہ آپ کی کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہوں گے، یہ بات آپ کو بےحساب خوشی دیتی تھی۔ وہ پڑھنا نہیں چاہتے تھے، آپ ان کو مار مار کر پڑھاتے تھے۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، آپ نے میری پڑھائی چھڑوا دی۔ آپ ان پر فضول خرچ کرتے تھے پر مالی مشکلات کی شکار اپنی بہنوں کو سو روپلّی دیتے ہوے کہتے تھے، ’’میرے پاس ہے کہاں بہنا، بس کام چلا رہا ہوں۔‘‘ اپنے جس نام کو ’روشن‘ کرانے کا آپ کو بےپناہ لالچ تھا، اسی ’نام‘ کو آپ کے بیٹوں نے ’ڈبو‘ دیا۔ پر کوئی بات نہیں پِتاجی، جس سورگ میں آپ ہیں، وہ بھی آپ جیسوں کا ہی جماؤڑا ہے، وہاں بھی سارے دیوتا ایک دوسرے کی تعریفیں گاتےگواتے ہیں، دیویوں کو بھی انھوں نے اپنے حساب سے گڑھ رکھا ہے، سو مجھے امید ہے، اوپر آپ کے نام کا جھنڈا ضرور لہرا رہا ہوگا۔ پر ایک بات اَور بتائیے پِتاجی، کیا آپ کا ’نام‘ اور ’شان‘ کچھ سطحی چیزوں پر نہیں ٹکا تھا؟ میں سر پر دوپٹہ نہیں لیتی تھی تو آپ چیختے تھے: ’’بےنظیر بھٹو کو دیکھو، سر پر دوپٹہ لے کر تقریر کرتی ہے۔ ایک تم ہو! لوگ کیا کہیں گے؟‘‘ یا، ’’ لتا منگیشکر کو دیکھو، اس نے کتنا اپنے باپ کا نام روشن کیا ہے، ایک تم ہو!‘‘ میرے ہر کام میں، یہاں تک کہ میری شکل صورت میں بھی آپ کو ہزار نقص دکھتے تھے۔</p>
<p>’’دیکھو تو، کیسے چلتی ہے! دھپ دھپ کرکے۔ کون اس سے شادی کرے گا؟‘‘<br>
’’قد دیکھو، کیسے نکلتا جا رہا ہے! لڑکیاں چھوٹی اچھی۔‘‘<br>
’’اتنی زور سے ہنسنے کی کیا ضرورت ہے؟ لڑکیاں ہنستی ہوئی اچھی نہیں لگتیں۔‘‘</p>
<p>آپ ٹھیک تھے پِتاجی، لڑکیاں صرف روتی ہوئی اچھی لگتی ہیں، کیونکہ تب ان پر ترس کھایا جا سکتا ہے، ان پر مہربان ہوا جا سکتا ہے۔ اچھا ہوا آپ کو پتا نہیں چلا، کتنے امکانات کے بیج آپ نے اپنے الفاظ کے سفاک پیروں تلے کچل دیے۔ ہمارے سیلف کانفیڈنس کو مٹی میں ملا دیا۔ ہم ’کچھ نہیں‘ تھے ،اور یہ آپ کبھی نہیں جان پائے کہ ’کچھ نہیں‘ سے ’کچھ‘ ہونےکا جان لیوا سفر کرنے میں مجھے کتنے برسوں اور کتنے دردوں سے گزرنا پڑا۔ اپنی مٹی سے پرانے کانٹوں کی فصل اکھاڑنا، مٹی کو دوبارہ اُپجاؤ بنانا، نئے بیج لگانا، پھر بارش اور فصل کا انتظار کرنا۔ میں آپ کو دھنے واد دیتی ہوں پِتاجی، کہ آپ نے مجھے سر نہیں چڑھایا۔ آپ کے سر چڑھائے بیٹوں کا انجام میں دیکھ رہی ہوں جنھیں اپنے بُوتے دو قدم چلنا نہیں آیا۔</p>
<p>بےنظیر بھٹو بھی ڈری سہمی گھومتی ہوگی کہ وہ آپ جیسوں کی ذہنیت والوں کا شکار نہ ہو جائے، اور وہ ہو گئی۔ آپ لوگ ایک قدآور عورت کو گھروں میں بھی برداشت نہیں کر پاتے، سڑکوں اور اونچے عہدوں پر تو کوئی سوال ہی نہیں۔ برداشت کرنا بھی نہیں چاہیے پِتاجی، یہ زنانہ فوج گھر سے نکل آئی تو پھر بچے کون پالے گا؟ اِن کو اِن کی اوقات بتانا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>پر میری ایک درخواست ہے، اپنے بچوں کو ’بنا‘ دینے کی ذمےداری کسی باپ کی نہیں ہوتی۔ پلیز اس سے باز آئیے۔ آپ وہی بنا سکتے ہو جو آپ خود ہو۔ آپ تو بس اتنا پیار اور سمّان دو کہ وہ خود کو بھی وہی دے سکے، خود اپنی مٹی سے اٹھ، تن کر کھڑا ہو سکے۔ ہم عورتوں کو بھرپور صحت مند رشتے کہاں ملتے ہیں؟ ہمیں تو ملتے ہیں چیزوں کے ڈھیر۔ ہم انھی سے چپکتے، انھی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہمیں تو وہ مرد ملتا ہی نہیں جو ہمیں ہمارے مکمل ہونے کا شعور کرا سکے۔ اکثر ہم ایک بےتسکینی بھرے بھٹکاؤ میں ہی جیون گزار دیتی ہیں۔ ہاں، کبھی کبھی کوئی بےخوف، دبنگ، بےباک اور بیہڑ عورت مردانہ اقتدار کے خلاف آواز اٹھاتی ہے اور اس کی چُولیں ہلا دیتی ہے۔ خود کو اپنی زبان سے کہتی ہے، اپنے ہونے کا اعلان کرتی ہے۔ پر پھر کیا ہوتا ہے؟ یہ اقتدار تیور بدل کر بات کرتا ہے اور آخرکار اسے ٹھکانے لگا دیتا ہے۔</p>
<p>آپ نے اپنی بہنوں پر بھی اتنی زیادتیاں اور بےعزتیاں کیں کہ انھوں نے آگے ہونے والی بےعزتیوں کو بھی اپنا نصیب مان لیا۔ اب آپ کی جگہ ان کے شوہروں اور بیٹوں نے لے لی ہے۔ پر آپ بھی کیا کیا کرتے پِتاجی، اب سب کی ذمےداری آپ نے تھوڑا ہی لے رکھی ہے! ایک مَیں ہی اُن کی طرح نہیں بن پائی۔ آپ نے تو ہم سب کو بےچہرہ ہی بنا رکھا تھا، پر میں نے اپنے بھیتر سے اپنا نیا چہرہ اُگا لیا۔ یقیناً اس کا بھی کریڈٹ آپ ہی کو جاتا ہے۔ اب بتائیے، جو کتابیں آپ مجھے اپنی قید میں بنے رہنے کے لیے دیتے تھے، انھی نے میرا بیڑا غرق کر دیا۔ ماں یہ بات ضرور سمجھتی ہوں گی، تبھی تو وہ کتابیں جلا دیتی یا چھت پر پھینک دیتی تھیں۔ کہتی تھیں، ’’لڑکیوں کو زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے، بھلا گھرگرھستی چلانے میں پڑھائی کا کیا کام؟ سلائی کڑھائی سیکھو، پاپڑبڑیاں، گھجیے کچری بناؤ، رضائی گدّےجھولے بناؤ، سندھی کڑھائی سیکھو، گُرمکھی سیکھو، دھارمک گرنتھ پڑھو، اچھی پتنی، اچھی بہو بننے کے گُن سیکھو، نہیں تو لوگ ہم پر تھوکیں گے کہ تم نے اپنی بیٹی کو کیا سکھایا؟‘‘ اب بتائیے، ہمارے دیش میں تو لوگ کہیں بھی تھوک دیتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے؟ پھر میری جبراً شادی کر دینے پر انھوں نے سمجھائش دی، ’’روز صبح جلدی اٹھ کر گھر کے سارے کام کرنا۔ ساس سسر کے روز پیر چھونا۔وہ جو بھی کہیں، کبھی پلٹ کر جواب مت دینا۔ اگر وہاں سے کوئی شکایت آئی تو سمجھ تُو ہمارے لیے مر گئی۔‘‘ پتاجی، کیا میں آپ کو بتا پاؤں گی کہ جینے کے لیے ایک لڑکی کو کتنی بار مرنا پڑتا ہے؟ میں نے وہ سب کرنے کی بھرپور کوشش کی جو مجھ سے کہا جاتا رہا، پر میں کیا کرتی؟ میری زمین پھوڑ کر تب تک ایک نئی عورت نکل آئی تھی اور اس نے پرانی کی جان ہی لے لی۔</p>
<p>میں ماں کو کبھی سمجھا نہیں پائی کہ تم جن کی طاقت کو کوستی اور کراہتی ہو، انھی کو دراصل پالتی پوستی بھی ہو۔ ماں آپ سے نفرت بھی کرتی تھیں اور ایک عجیب سوامی بھکتی بھی تھی ان میں۔ ان کے وجود کے معنی اپنے ’سوامی‘ (پتی) سے ہیں، اور وہ اس وجود کو ہی بےمعنی مانتا ہے۔ وہ ہمیشہ چڑچڑی، غصیل اور بےچین رہتی تھیں۔ ان کا بےبس غصہ ہم پر پھوٹ کر ٹوٹے کانچ سا ہر وقت گڑتا رہتا تھا۔ یہ خودبخود نہیں ہوا کہ ان کی موت دل کی دھڑکن رکنے اور یونی میں کیڑے پڑنے سے ہوئی۔ پر اس میں آپ کا کیا قصور؟ یہ تو قسمت ہوتی ہے ہر مورکھ عورت کی۔ آپ ہی تو کہتے تھے، ’’عورتیں ڈنڈے کی نوک پر سیدھی رہتی ہیں۔‘‘</p>
<p>مجھے لگتا تھا کہیں نہ کہیں جاکر اس سے آزادی پانا ممکن ہے، پر میں غلط تھی۔ عورتیں بوڑھی ہونے کے بعد بھی آزاد نہیں ہوتیں، صرف ان کے مالک بدلتے ہیں۔ ہر لمحے مردانہ طاقت سے اپنی حفاظت کرتے رہنے کا ڈر ہمیشہ ان کے شعور پر حاوی رہتا ہے۔ اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے مرد کے مقابلے میں انھیں چوگنا سنگھرش کرنا پڑتا ہے۔ دیکھیے نا، میں ابھی تک کر رہی ہوں۔</p>
<p>آپ تو اتنے گیان وان تھے پِتاجی، کہ آپ کو بھولے اور بھوندو شوہر پسند ہی نہیں آتے تھے کیونکہ ان میں عورتوں کو دابے رکھنے کا ہنر نہیں ہوتا۔ شاید اس لیے آپ کو اپنے پِتا ناپسند تھے، کیونکہ ان میں آپ کی ماں کو دابنے کا ہنر نہیں تھا۔ تو آپ نے اپنے بیٹوں کو بھی غور سے دیکھا ہی ہوگا۔ کون کس کو داب رہا ہے؟ آپ کو اپمان اور دکھ ہوتا ہوگا، پر وقت اب تھوڑا سا بدل گیا ہے۔ آپ کو تو اپنی بدزبان اور اَن پڑھ ماں بھی اچھی نہیں لگتی تھیں۔ آپ چاہتے تھے، عورت ’سمجھدار‘ بھی ہو اور اپنی ’حد‘ میں بھی رہے، ’عقل‘ اور ’فیصلے کی قوت‘ ہو پر وہ اس کا استعمال نہ کرے۔ اب ایسی عورتیں تو صرف کتابوں میں ملیں گی پِتاجی!</p>
<p>آپ سے اس ساری بدتمیزی کے لیے مجھے بے حد افسوس ہے، قابلِ احترام پِتاجی۔ جیسی بھی ہوں، آپ کی اُپج ہوں۔ نہ میں آپ کے ہونے سے انکار کرتی ہوں، نہ آپ کو مٹانا چاہتی ہوں نہ جھکانا۔ بس اتنا چاہتی ہوں، آج ذرا برابری کے لیول پر بات ہو جائے۔ دیکھیے نا، آپ نے مجھے بولنے کا کبھی موقع نہیں دیا، آج میں جی بھر کر بول رہی ہوں۔ آپ نیچے ہوتے تو ضرور مجھے اپنی چھتری سے مارتے۔ چھتری کی مار مجھے کبھی بری نہیں لگی، پِتاجی، بس شبدوں کی مار ذرا زور سے لگتی ہے۔ پر کوئی بات نہیں، یہ آپ کا پیدائشی حق تھا۔ آپ بات بات پر کہتے تھے، ’’میں نہ ہوتا تو کیا ہوتا تم لوگوں کا؟ دانے دانے کو محتاج ہو جاتے!‘‘ مجھے نہیں پتا کیا ہوتا، پِتاجی۔ پر اگر آپ نہ ہوتے تو ہم ضرور اپنے بھیتر کھوئی عقل، حوصلے اور خودشعوری کو جگا ہی لیتے۔</p>
<p>آج اتنے برسوں بعد اتنی دور کھڑے ہوکر میں آپ کی ذہنیت کی دھجی دھجی اُدھیڑنے کے لیے آپ سے معافی مانگتی ہوں، پِتاجی۔ جانتی بھی ہوں، کہ درحقیقت یہ آپ کا چناؤ نہیں، کنڈیشننگ ہے جو آپ کے ریشے ریشے میں سما گئی ہے۔ جو مرد اس سے آزاد نہیں ہو پاتے، مجھ جیسی عورتیں ان سے آزاد ہو جاتی ہیں۔</p>
<p>عورت کی غلامی مرد کے وجود کی مانگ ہے، عورت کی آزادی اس کی آتما کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اور یہ سب آج میں آپ کو کیوں کہہ رہی ہوں؟ کیونکہ بھائی بھی وہی کر رہے ہیں جو انھوں نے اس روایت سے سیکھا ہے۔ ہم عورتوں کو تمھاری جائیداد محفوظ رکھنے کا حق تو ہے، اس کا استعمال کرنے کا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں میں ’پھوکٹ‘ میں ان کا ٹائم خراب نہ کروں، اپنی ’اوقات‘ میں رہوں، چپ چاپ اپنا راستہ ناپوں، دفع ہوؤں ان کی زندگیوں سے۔ میں تو کب کی دفع ہو چکی ہوں، پِتاجی۔ میں کسی کے اندر زندہ نہیں ہوں، پر میرے اندر سب زندہ ہیں۔ اب اس حق سے مجھے محروم کرنے کے لیے انھیں بہت پاپڑ بیلنے پڑیں گے، ویسے ہی پاپڑ جنھیں ٹھیک سے نہ بیل سکنے پر آپ لوگ میری انگلیاں توڑتے تھے۔ مجھ میں آپ کا مقدس خون ہے پِتاجی، اس لڑائی میں ہار کر میں آپ کو شرمندہ ہونے کا موقع ہرگز نہیں دوں گی۔ اس جرم کی معافی کی درخواست کبھی کی ہو تو واپس لیتی ہوں۔</p>
<p>آپ کی سرکش بیٹی۔</p>
<p>(نام نہیں لکھ رہی۔ آپ کا دیا نام پیچھے چھوڑ آئی ہوں۔ نیا جان کر آپ کیا کریں گے ؟)</p>
<p><strong>جیا جادوانی کی یہ کہانی آج کے شمارہ 127 میں شامل ہے، خریدنے کے لیے اس نمبر پر وٹس ایپ کیجیے: 03003451649</strong></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/suno-pita-ji/">سنو پِتاجی!</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/suno-pita-ji/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دُم</title>
		<link>https://laaltain.pk/duum/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/duum/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 26 Jul 2025 07:15:01 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[آج کی کتابیں]]></category>
		<category><![CDATA[دُم]]></category>
		<category><![CDATA[ریت پر لکیریں]]></category>
		<category><![CDATA[محمد خالد اختر]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=33706</guid>

					<description><![CDATA[<p>اگر انسانوں کی دُمیں ہوتیں تو جینا کس قدر پُر لطف ہوتا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/duum/">دُم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>محمد خالد اختر کی یہ تحریر ان کے مجموعے کی پانچویں جلد ریت پر لکیریں میں شامل ہے جو جلد ہی آج کی کتابیں کے زیر اہتمام شائع ہونے والی ہے اور <a href="https://aajkikitabain.com/" target="_blank">آج کی کتابیں</a> کی ویب سائٹ پر دستیاب ہو گی۔</strong></p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔<br>
<span style="color: #000000;">ہم تین دوست— جرمن ریٹرنڈ، سجیلا، خوش وضع ’ک‘، تُرت پھرت ’ر‘ اور میں— نومبر کے دنوں کی زریں دھوپ میں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے مال روڈ پر ٹہل رہے تھے کہ دو کالج کی لڑکیاں، جن کے بال انگریزی طرز کے ترشے تھے، اٹکھیلیاں کرتی ہوئی ہمارے پاس سے گزریں۔ ’ک‘ اور ’ر‘ کے رومانی اور ابھی تک جوان دل ایسے نظاروں سے فوراً اثر پذیر ہوتے ہیں۔ (اپنے باون تریپن سن کی عمروں کے باوجود ان کا دل اٹھارہ سال کے لڑکے کا ہے اور وہ لولیتائوں کو— خواہ وہ ترشے ہوے بالوں والی ہوں یا ربن بندھی گیکتڑی والی— ترجیح دیتے ہیں۔) وہ دونوں ٹھٹکے اور پھر ان کے پیچھے مسرت، خباثت اور حسرت کے ملے جلے جذبات سے دیکھنے لگے۔ میرے ساتھی لڑکیوں کے چہروں کے بجاے ان کے پچھاووں کو زیادہ دلچسپ پاتے ہیں۔ وہ دونوں ایک بس میں سوار ہو گئیں۔ میرا خیال ہے کہ اُس وقت ’ک‘ کو، جس میں مضحک پہلو کی تیز حس ہے، یہ عجیب خیال سوجھا کہ اگر انسانوں کی دُمیں ہوتیں تو جینا کس قدر پُر لطف ہوتا۔ ذرا سوچو کہ مال پر چلتے ہوے ان سب سنجیدہ، خوش قطع مردوں اور عورتوں کے پیچھے ان کی دُم بل کھاتی یا لٹکتی ہو— وہ کیسے نظر آئیں گے؟</span></p>
<p><span style="color: #000000;">دُموں والا خیال ہم سب کو اتنا تماشے کا، اس قدر فرحت بخش لگا کہ ہمارا ہنستے ہنستے برا حال ہو گیا۔ میں تو فی الواقع پیٹ پکڑ کر بیٹھ رہا اور آنسو میری آنکھوں میں آگئے۔ کئی ایک معقول پُرمتانت شخص ہمارے نامعقول، کھلکھلاتے ہوے تگڈم کو ناپسندیدگی سے دیکھنے لگے۔ بہترین اور قدرتی ہنسی اسی طرح ہمیں بےطرح آ لیتی ہے اور (میرے خیال میں) چارلی چیپلن، لارل اینڈ ہارڈی، پیٹر سیلرز اور ہمارے ماجد جہانگیر، اسمٰعیل تارا اور عرفان کھوسٹ جیسے قدرتی مسخروں کی شکلوں اور حرکات میں بھی یہی مضحک حس ہے، کہ ان کو دیکھتے ہی باچھیں کھل جاتی ہیں اور ہم ہنسی کے مارے لوٹ پوٹ ہوجاتے ہیں۔ (ایسے مسخرے بنی نوع انسان کے اصل محسن ہیں اور ہم ان کے جتنے شکرگذار ہوں کم ہے۔)</span></p>
<p><span style="color: #000000;">ہم پھر مختلف آدمیوں اور عورتوں کے— جن میں ہمارے دوست، فلم ایکٹر اور ایکٹریسیں، گانے والے اور گانے والیاں،اعلیٰ افسران اور قوموں کے سربراہ شامل تھے— دُموں کے ساتھ خیالی نقشے کھینچنے لگے۔ اس کارپوریشن کا چیئرمین جس میں میں اور ’ک‘ کام کرتے تھے، اپنے دفتر کی خصوصی میٹنگ میں اپنے جنرل منیجروں کو جھاڑ پلا رہا ہے۔ اس کی اٹھی ہوئی، بو سے سجی سجائی دُم غضبناکی سے بپھر اور لہرا رہی ہے۔ جنرل منیجر چپ چاپ میز کے کاغذ پر آنکھیں نیچی کیے، اسے سن رہے ہیں۔ ان کی دُمیں بھیگی ہوئی رسیوں کی طرح نیچی لٹکی ہیں اور ان کے سرے قالین کو چھو رہے ہیں۔ ملکۂ ترنم نور جہاں بڑےٹھسّے سے اپنی بھاری دُم کو ترغیب انگیز انداز میں لہراتی ایک سٹور سے نکل رہی ہے— اپنے نئے نویلے، نو عمر شوہر کو، جس نے شاپنگ کے بنڈل تھام رکھے ہیں، اپنے سے دس قدم پیچھے رکھے۔ اس بے کس شخص کی دُم دبی ہوئی ہے۔ روزنامہ آوازۂ نفرت کا چھوٹا گل گوتھنا ایڈیٹر اپنے دفتر میں اپنے گنجے، نرم رو اداریہ نویس کو اگلے روز کے اداریے کی ’گائیڈ لائنز‘ دے رہا ہے جو حسبِ معمول نظریۂ پاکستان اور مہیب صہیونی سازش کے بارے میں ہے۔ پریزیڈنٹ ریگن، کامریڈ بریژنیف اور اندرا گاندھی کو تنبیہ کرتے ہوے اس کا کبوتر کا سینہ تن جاتا ہے اور اس کی دُم جوش و خروش سے ہلنے اور لال پیلی ہونے لگتی ہے۔ اداریہ نویس ’جی ہاں‘، ’بہت بہتر جناب‘ کی رٹ لگائے اپنے پیڈ پر ان پوائنٹس کو درج کر رہا ہے۔ اس کام کی تکمیل کے بعد وہ اپنے ایڈیٹر سے اپنی تنخواہ میں پچاس روپے اضافے کی بات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس کی دُم ابھی سے ڈھیلی ہو کر کپکپا رہی ہے۔ پھر ہم نے سکندر اعظم، چنگیز خان اور نپولین بوناپارٹ کا تصور باندھا کہ اپنی دُموں کے ساتھ وہ اپنے درباریوں اور جرنیلوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرتے اور ملکوں میں گدھے کے ہل پھراتے کیسے لگتے!</span></p>
<p><span style="color: #000000;">سکندر کی دُم شیر کی دُم کی طرح کسی ہوئی اور سمارٹ ہے جب وہ شکست خوردہ پورس سے (جس کی دم بھی شکست خوردہ ہے) اس کے محل میں یہ سوال کرتا ہے: ’’بتائو تم سے کیا سلوک کروں؟‘‘ پورس کی دُم تھر تھر کانپ رہی ہے مگر وہ غرور سے سر اٹھا کر جواب دیتا ہے: ’’وہ سلوک جو بادشاہ بادشاہوں سے کرتے ہیں۔‘‘ الھڑ سکندر بیچارے کو یہ نہیں معلوم کہ بادشاہ بادشاہوں سے کیا سلوک کرتے ہیں کیونکہ اس کی ذاتی رائے میں بادشاہ مفتوح بادشاہوں اور ان کے اعزا و اقربا کے سر قلم کرادیتے ہیں۔ سکندر کی ہڑبڑاہٹ کو دیکھ کر پورس اپنی دُم کو مدبرانہ انداز میں ہلاتے ہوے اسے نصیحت کرتا ہے کہ بزرگوں کے منھ نہیں آتے۔ وہ یونانی لڑکے کو سمجھاتا ہے کہ اسے قطعاً شکست نہیں ہوئی اور ہاتھیوں کا میدانِ جنگ سے اپنے لشکر کو روندتے ہوے بھاگ پڑنا محض حادثہ تھا۔ یہ بات سکندر کی سمجھ میں آجاتی ہے،کیونکہ آخر کو وہ افلاطون کا شاگرد تھا، اور وہ منچلے طریق سے پورس کے چرن چھو لیتا ہے۔ (اس کی دُم کی جھالردار نوک اس کی آہنی خود کو چھو رہی ہے۔)</span><br>
<span style="color: #000000;">ہم نے اس سے اتفاق کیا کہ چنگیز خان (وہ شخص نہیں جسے ہم نے حال ہی میں ٹی وی پر دیکھا تھا اور جو کئی سالوں کا بے غسل جلالی فقیر لگتا تھا) کی دُم گھوڑے کی دُم کی طرح بالوں بھری پونچھ ہوتی اور اس وقت اس کے جسم سے زاویۂ قائمہ بناتی جب وہ اپنے گھوڑے کو کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے ارادے سے اُڑائے لیے جارہا ہوتا۔ نپولین بوناپارٹ کی دم اینٹھی ہوئی اور طرح دار، اس کی کمر تک اونچی اٹھی ہوئی تھی مگر واٹر لُو کے بعد نیچی ہوکر اس کی ’بریچز‘ میں دب گئی یہاں تک کہ وہ بمشکل دکھائی دیتی تھی، اور بہت سے لوگ کہتے پھرتے تھے کہ شہنشاہ نے اپنی دُم کٹوادی ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">فرداً فرداً موجودہ بادشاہ اور سربراہانِ مملکت بھی (ارنڈی برنڈی کے ٹنکو سے لے کر ریاست ہاے متحدہ امریکہ کے پریزیڈنٹ تک) اپنی دُموں سمیت ہمارے جائزے میں آئے۔ ہم نے ان کی دموں کی رنگت، شکل اور اٹھنے بیٹھنے کا تصفیہ کیا جس کے دوران ہم پر ہنسی کے کئی دورے پڑے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">بعد میں گھر آکر میں نے دُم کے مسئلے پر سنجیدہ خور و خوض کیا، کیونکہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ انسانی ارتقا کا کوئی بھی طالبعلم تمھیں بتائے گا کہ انسان کی دم نہ ہونا محض اتفاق ہے، اوراس کے نہ ہونے سے ہم نظامِ قدرت میں عجوبہ بن گئے ہیں۔ علم الانسان کے سب ماہرین اور حیاتیاتی ایک مدت سے حیران ہیں کہ آخر انسان کے دُم کیوں نہیں اور اپنے ارتقا کی کس منزل میں اس نے اس مفید عضو کو اپنے سے خارج کردیا۔ ڈارون، جس نے Origin of Species لکھی، اس گتھی کو نہیں سلجھا سکا۔ ان ماہرین کی رو سے بادی النظر میں اس بات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ہماری دُمیں کیوں نہیں، حالانکہ دُم کو جوڑنے کی ہڈی ہر انسانی جسم میں باقاعدہ مہیا کردی گئی ہے۔ یہ بنی نوع انسان کا المیہ، جس کے باعث حیوانات ہم سے برگزیدہ ہوگئے، کیونکر اور کیسے وقوع پذیر ہوا، کوئی نہیں جانتا۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">آئو اب ذرا سوچیں کہ دموں کے ہونے سے اس کُرے پر ساری انسانیت کی تاریخ، معاشرت، رہن سہن، چال ڈھال، وضع قطع آج سے کتنی مختلف اور زیادہ دلچسپ ہوتی۔ لباسوں کی تراش خراش مختلف ہوتی۔ قومیں اپنی دُم کی شکل کی بنا پر معرض وجود میں آتیں نہ کہ نسل، رنگ اور زبان کی وجہ سے۔ اور ملکوں کی موجودہ سرحدیں — جو بادشاہوں اور فرما نروائوں نے اپنی حشمت اور شیخی کے لیے متعین کی ہیں — کچھ اَور ہوتیں۔ ایک ہی شکل کی دُم کے انسان ایک دوسرے کے بھائی بند ٹھہرتے اور اسی ڈھنگ سے قومیں اور ملک بھی بنتے، کیونکہ صحیح طور سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ دنیا کے سب انسانوں کی دُموں کی شکلیں ایک سی نہ ہوتیں۔ ہر کوئی بچے کھچے درندوں، گھریلو جانوروں، چرندوں، پرندوں اور دیگر حشرات الارض کی وضع کے مطالعے سے جانتا ہے کہ سب دُمیں ایک ہی نمونے اور سانچے سے تشکیل نہیں پاتیں۔ دنیا پر بھانت بھانت کی دُموں کے انسان چلتے پھرتے نظر آتے — رسی کی طرح لمبی لچکیلی دُم والے، چھوٹی، مشت بھر دُم والے، اوپر اٹھی ہوئی، سروں پر دائرہ بناتی دُم والے، شیر ببر کی طرح پھندنے سے سجی دُم والے، بلے کی چھوٹی روئیں دار دُم والے، پنکھے جیسی دُم والے جیسے اکثر پرندوں کی ہوتی ہے، گھوڑے جیسی لٹکی ہوئی جھاڑی کی قسم کی دُم والے…</span></p>
<p><span style="color: #000000;">امکان ہے کہ ایسے انسان بھی ہوتے جن کا بیشتر حصہ دُم ہوتی۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">ذاتی طور پر میں اپنے لیے شیر ببر کی کسی ہوئی پھندنے دار دُم کو پسند کرتا ہوں۔ ایسی دُم کے ساتھ میں کتنا طرح دار، پُر جلال نظر آئوں گا۔ ہر ایک کی پسند اپنی اپنی ہوتی ہے اور ممکن ہے تم اپنے لیے گھوڑے کی جھاڑ دار دُم پسند کرو جو میری نظر میں کافی بدنما اور محیر العقول ہے، گو بعض مقاصد کے لیے جو گھوڑا پورا کرنا چاہتا ہے، کافی کارآمد۔ تمھاری مرضی! بعض لوگوں کے مذاق کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ دُم کھودینے کے بعد دُم حاصل کرنے کی خواہش ہر مرد و زن کے لاشعور میں کہیں نہ کہیں ضرور ہوگی— ورنہ بیضوی دُم والے ’ٹیل کوٹ‘ کا رواج کیوں ہوتا جسے کئی سفیر، وزیر، درباری موقعوں پر اب بھی بٹن ہول میں پھول کے ساتھ پہنتے چلے جاتے ہیں۔ یورپی لوگوں کی شادی پر دلہن کے ویڈنگ گائون کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا وہ ایک دُم نہیں جسے بہت سے چھوٹے براتی بچے اٹھائے ہوتے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے ؟مارواڑی سیٹھوں اور کئی ہندوئوں کی گھٹنوں تک بندھی دھوتیوں کا ڈیزائن بھی دُم کا لحاظ رکھتا ہے، البتہ یہاں دُم پیچھے کے بجاے آگے نکلتی ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">اپنے اس تھیسس کو ثابت کرنے کے بعد میں ملکی پروفیسروں، ڈاکٹروں اور دوسرے محققوں کو دعوت دوں گا کہ وہ اس سارے معاملے پر باقاعدہ طویل تحقیقی مقالے لکھیں کیونکہ ہماری بدبختی کہو کہ اس اہم مسئلے کو ابھی تک نظر انداز کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ ’’معاشرت و ثقافت میں اونٹوں کا کردار‘‘ جیسے بےمقصد موضوعات پر دقیق مضامین اخباروں کے اداریوں اور ادبی پرچوں میں دھڑا دھڑ اشاعت پذیر ہوتے ہیں اور بال کی کھال اتاری جاتی ہے۔ دُم کھو کر اسے دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش کی نفسیات نے ہمارے ملکی ادب اور آرٹ پر جو پیچیدہ اثر ڈالا ہے اس کی وضاحت کوئی کیوں نہیں کرتا؟ ہندی کی چندی کیوں نہیں کی جاتی؟ دُمیں ہوتیں تو ادبی صورتحال کیا شکل اختیار کرتی؟ کیا جدید علامتی افسانے اور نثری شاعری کا دور دورہ اس شدومد، اس طمطراق سے ہماری زبان میں ہوتا اور پڑھنے والوں (یعنی قارئینِ ادبیات) کے سینوں پر متواتر یوں مونگ دلے جاتے؟ کیا ان سوالات کا جواب اور حل تلاش کرنا ہمارے محققین کا فرض نہیں؟ وہ اس سے اغماض کیوں برتتے ہیں؟ کہاں چھپے بیٹھے ہیں؟</span></p>
<p><span style="color: #000000;">پہلے تو یہ کہ ہمارے لباس پہناوے مختلف ہوتے۔ شلوار یا پتلون میں ایک سوراخ کیا جاتا جس میں سے دُم نکل کر لہراتی اور اٹکھیلیاں لیتی۔ (پرانے خیالات کے لوگ البتہ اسے بے حیائی اور بےراہ روی قرار دیتے ہوے دُم پر ریشمی غلاف چڑھاتے۔) خواتین اپنی دُموں کا باقاعدہ سرخی پائوڈر سے میک اپ کرتیں، ان کے سِروں پر موتیوں کی جھالریں ٹانکتیں۔ دو بچھڑے ہوے عاشق سرِ بازار ملتے تو فرطِ مسرت سے دُم ہلاتے، دُموں کو باہم لڑاتے۔ ہمارے کمروں کے فرنیچر دُم کی سہولت کے لیے قطعاً مختلف ڈیزائن کا ہوتا۔ لوگوں کے ایک دوسرے کی دُم پر بیٹھ جانے کے امکان کے پیشِ نظر صوفے کے پیچھے یا نیچے ایک چوڑی ربڑ یا پلاسٹک کی نلکی بنائی جاتی جس میں دُم آرام و اطمینان سے سستا سکتی۔ ٹی وی پر ’’نیلام گھر‘‘ اور ’’فروزاں‘‘ جیسے پروگرام کہیں زیادہ دلچسپ ہوتے۔ ان سب فیشن ایبل مردوں اور عورتوں کا دُموں کے ساتھ تصور کرو! — طارق عزیز (دُم کے ساتھ) ’’جواب درست ہے! ‘‘ کہتا ہوا… کوئی خاتون شرمائی لجائی، دُم دبائے… فیاض دل طارق عزیز سے (دُم کے ساتھ) گڑبڑ واٹر کولر بنانے والوں کے تحفے سمیٹتی ہوئی…</span></p>
<p><span style="color: #000000;">بعض ملکوں اور قوموں میں ہاتھ ملانے کے بجاے دُمیں ملائی جاتیں، اور بعض دوسری قوموں میں اس طریقے کو حد درجے کی عریانی اور بے شرمی قرار دیا جاتا۔ تقریر کرتے ہوے لیڈروں کی دُمیں جوشِ خطابت سے اچھلتیں، بپھرتیں، تھرتھراتیں، اور سامعین اپنے ردِ عمل کے مطابق اپنی دُموں کو لہراتے یا داب لیتے یا دُم کا رخ لیڈر کی طرف کرکے بیٹھ جاتے۔ دُموں کے پالش، بنائو سنگھار، غلاف وغیرہ کے لیے نت نئی صنعتیں قائم کی جاتیں، اور جس طرح آج کل بازاروں میں ہیئر کٹنگ سیلون ہیں، اسی طرح دُم کو سنوارنے اور چمکانے والے مالشیوں کے ’ٹیل ڈریسنگ سیلون‘ ہوتے۔ اخباروں، فلموں، دیواروں پر اشتہار ہوتے: ’اپنی دُم کی حفاظت کیجیے۔ چکربتی کا تیل، پاؤڈر دُم کو چمکداراور خوبصورت بناتاہے۔ ‘ اور دُموں کی بیماری کے علاج کے سپیشلسٹ ڈاکٹر ہوتے اور فی وِزٹ سو روپے فیس لیتے۔ دُم کٹے آدمی کو کوئی منھ نہ لگاتا اور سب اس پر پھبتی کستے— اس کی پوزیشن سوسائٹی میں وہی ہوتی جو میری یا تمھاری ہوگی اگر کوئی ہماری ناک کاٹ لے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">مختصراً، ان گنت تبدیلیاں اور حالات گنائے جاسکتے ہیں۔ تم ان کا کسی فارغ وقت میں تصور کرو۔ دُم ہونے سے ہمارے حیوانات سے تعلقات بہت بہتر ہوجائیں گے۔ اب ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ان سے برتر مخلوق ہیں اور حیوانات سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے برتر مخلوق ہیں۔ فریقین کی اس خوش فہمی سے وہ آپس میں گھل مل کر نہیں بیٹھتے۔ سوشل انٹرکورس ایک حد سے زیادہ نہیں بڑھ پاتا۔ اب مجھے گھوڑے اچھے نہیں لگتے۔ گھوڑے بھی اپنی جگہ میری طرف یہی جذبۂ کدورت رکھتے ہیں اور جب میں نے ایک دو بار بے دلی سے ان پر بیٹھنا گوارا کیا، انھوں نے مجھے اپنی پیٹھ پر سے سرکانے کی بھرپور کوشش کی۔ اب اگر میری گھوڑے کی طرح دُم ہوتی تو حالات مختلف ہوتے۔ ہم ایک دوسرے کے ہم دم اور جگری یار بن جاتے۔ گھوڑے مجھے دیکھ کر خوشی سے ہنہناتے اور میرے ان کی پیٹھ پر بیٹھنے پر معترض نہ ہوتے۔ اسی طرح میرا ایک السیشیئن کتا ہے، ایک آشفتہ مزاج، سنکی حیوان۔ جب سے میں نے اس کی چند عادات کی وجہ سے بید سے اس کی پٹائی کی، اس نے مجھ سے روگردانی کرلی ہے اور میری صحبت پر اپنے ہمجولی کتوں کی صحبت کو ترجیح دیتا ہے (اپنی بڑھیا نسل کے باوجود)۔ اگر میری اس کی طرح دُم ہوتی تو مجھے یقین ہے ہم اکٹھے چوکڑیاں بھرتے اور جھوٹ موٹ کشتی کے دائو پیچ آزماتے۔ شیر کو آدمی دُم نہ ہونے کی وجہ سے ایک آنکھ نہیں بھاتا اور میرے شکاری دوست رائو تہوّر علی خاں کا کہنا ہے کہ دو شیروں نے سندر بن میں ان کو کھانے کے ارادے سے ان کا پیچھا کیا۔ ہاتھی — چلو چھوڑو … کہاں تک مثالیں دی جائیں۔ لیکن سوچو، اگر حیوانات اور انسان شیر و شکر ہوسکتے اور بے تکلفی سے مل بیٹھتے تو زندگی کتنی خوشگوار اور بامعنی ہوجاتی۔ اس وقت اس ملک میں ٹیلیویژن کی لگاتار موعظت کے باوجود زندگی اس لیے بے معنی ہے کہ ہم حیوانات سے دل نہیں بہلا سکتے۔ بہلائیں کیسے؟ ان کی دُمیں موجود ہیں اور ہم اس نعمت سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">میں اس مضمون میں مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا۔ عاقلاں را اشارہ کافی است۔ اب جبکہ سب فیشن اور کرتب آدمی کی بدنی اور روحانی اصلاح کے لیے برتے جا چکے ہیں تو تمھارا ایک مصنوعی دُم لگانے کے متعلق کیا خیال ہے؟ یہ دُم پلاسٹک اور ربڑ کی مختلف ڈیزائنوں اور رنگوں میں آسانی سے تیار ہوسکتی ہے۔ خود سوچو— جینے میں کتنا مزہ آئے گا۔ دائمی مسرت اور سیٹیاں بجانے کا راز صرف ایک دُم میں پنہاں ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">اوپر میں نے ادب اور آرٹ کا ذکر کیا ہے جس پر بہت سے لوگ اُدھار کھائے ہوئے ہیں۔ وہ اس کے علاوہ کوئی اَور بات نہیں کرتے اور خواہ مخواہ اپنے اپنے نظریے کو جان سے لگائے ایک دوسرے کے منھ کو آتے ہیں۔ حیوانات، چرند پرند کو، جہاں تک میں جانتا ہوں، ادب اور آرٹ سے کوئی لگائو نہیں۔ ان کے لیے ’ادب اور آرٹ‘ فطرت کی رنگینیاں، نیلے آسمان تلے اڑانیں اور جھاڑیوں میں نغمہ سرائیاں ہیں۔ کسی صبح سامنے باغ میں بلبل کی ’جگ ترو ترو… جگ ترو ترو‘ کی الاپ تمھارے کسی پروفیسر یا ڈاکٹر کے ٹھوس ادبی مقالے سے بہتر ہے۔ یہ بیتھوون کی سمفنی سے بہتر ہے اور روح کو اس طرح ابھارتی ہے جس طور بیتھوون کی سمفنی نہیں ابھار سکتی۔ ہاں ادب اور آرٹ! میں نے آج ایک مشہور خاتون کا افسانہ پڑھا۔ اگر انسانوں کی دُمیں ہوتیں تو وہ افسانہ کچھ اس طرح ہوتا :</span></p>
<p><span style="color: #000000;">فریحہ نے نہا دھوکر اپنے بال سنوارے، لپ سٹک لگائی، دُم پر برش پھیرا اور تیار ہوکر ڈرائنگ روم کے صوفے پر بیٹھ کر انیل بھائی کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔ انیل بھائی صبح کی پرواز سے نیو یارک سے آرہے تھے اور فریحہ کے والد، جو انیل کے چچا تھے، اپنی ٹویوٹا میں انھیں لینے گئے تھے۔ چچی (انیل کی چچی) نہیں جاسکتی تھیں کیونکہ ان کی دُم کا پچھلا حصہ تیل کے چولھے پر کھانا گرم کرتے وقت جل گیا تھا۔ ڈاکٹر نے اس پر برنال کا لیپ کرکے دُم کو مکمل آرام دینے کی ہدایت کی تھی ۔</span><br>
<span style="color: #000000;">حویلی کے باہر فریحہ کے ابا کی کار کا ہارن بجا اور چند منٹ بعد اس کے ابا اور انیل اندر ڈرائنگ روم میں داخل ہوے۔ انیل بھائی کتنے بدلے ہوئے تھے۔ مریل، دبلے پتلے لڑکے کی جگہ، جس کی ناک ہمیشہ بہتی رہتی تھی اور دُم بے سدھ لٹکی رہتی تھی ، فریحہ کے سامنے ایک وجیہہ، ہینڈسم، جامہ زیب نوجوان کھڑا تھا… انیل، فریحہ نے سوچا، اپنے نسواری، ڈبل بریسٹ سوٹ میں کتنے سمارٹ لگ رہے تھے اور ان کی دُم کتنی شاندار ہوگئی تھی— خود اعتمادی سے اینٹھتی ہوئی اور مسرت سے جھومتی ہوئی۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">’واٹ اے چینج!‘ فریحہ نے سوچا۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">فریحہ نے شرما کر دم کی جھالر کو سمیٹتے ہوے انیل کو آداب کہا۔ پھر انیل — اس کے انیل— اس کے ساتھ صوفے پر آ بیٹھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے۔ اس کے ڈیڈی انھیں چھوڑ کر ماما کو دیکھنے چلے گئے جن کے کراہنے کی آوازیں ڈرائنگ روم میں آرہی تھیں۔ فریحہ نے شرما کر پوچھا، ’’انیل بھائی، کافی پییںگے یا چائے؟‘‘ انیل بھائی بولے، ’’بھئی کافی پلوادو۔ گرما گرم، اپنے ہاتھ سے بنی ہوئی…‘‘</span></p>
<p><span style="color: #000000;">’’ابھی لے کر آتی ہوں انیل بھائی۔ آپ چھیڑ خانی سے باز نہیں آتے…‘‘</span></p>
<p><span style="color: #000000;">وہ اٹھنے لگی تو اسے محسوس ہوا کہ اس کی دُم انیل بھائی کے نیچے آگئی تھی۔ اب وہ کس منھ سے کہے کہ انیل بھائی اٹھیے، میری دُم چھوڑیے۔ پھر وہ سوچنے لگی کہ کیا انیل بھائی جان بوجھ کر اس پر بیٹھے ہوں گے؟ اور یہ خیال آتے ہی اس کاحسین چہرہ تمتما اٹھا۔ فریحہ کی دُم انیل کے نیچے کسمسانے لگی جس سے انیل بھائی کو، جنھوں نے اپنی دُم صوفے کے پیچھے نلکی میں سنبھال لی تھی، احساس ہوا کہ فریحہ کی دُم ان کے نیچے آگئی تھی…</span></p>
<p><span style="color: #000000;">مگر مشہور خاتون افسانہ نگار کا افسانہ بے حد لمبا ہے۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">یہ صورت تو افسانوں اور ناولوں کی ہوئی۔ شاعری میں میر، غالب، علامہ اقبال، جوش، فیض اور ندیم دُم کی کیفیات کو کن کن پیرایوں سے باندھتے، تم اس کا تصور کر سکتے ہو۔</span></p>
<p><span style="color: #000000;">دیکھا، ادب و آرٹ اب سے کتنے مختلف ہوتے !</span></p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/duum/">دُم</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/duum/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک غلام نیویارک میں (تحریر: ولیم فنیگن، انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال)</title>
		<link>https://laaltain.pk/ek-ghulam-newyork-mein/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/ek-ghulam-newyork-mein/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 28 Jun 2020 16:01:29 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[Slavery]]></category>
		<category><![CDATA[William Finnegan]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[غلامی]]></category>
		<category><![CDATA[ولیم فنیگن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25361</guid>

					<description><![CDATA[<p>یوں لگتا تھا جیسے افریقی دوستانہ پن کے ایک چھوٹے سے حفاظتی بادل میں لپٹا ہوا طیب اپنے کمرے سے نکل کر اس سخت زندگی والے محلے کی گلیوں سے تیرتا ہوا گزر رہا ہو۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-ghulam-newyork-mein/">ایک غلام نیویارک میں (تحریر: ولیم فنیگن، انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>ولیم فنیگن</strong> “دی نیویارکر” کے لیے 1984 سے لکھ رہے ہیں۔ آپ افریقہ، وسطی امریکہ، جنوبی امریکہ، بلقان، میکسیکو، آسٹریلیا اور امریکہ سے متعلق رپورٹنگ کرتے رہے ہیں۔ آپ متعدد صحافتی اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ اس مضمون کا ترجمہ آج کے شمارہ نمبر 30 میں 2000ء میں شائع ہوا تغا۔</p>
<p><strong>اجمل کمال</strong> گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔</p>
<p>یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ تحریر اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ سہ ماہی “آج” کا یوٹیوب چینل اب مختلف صداکاروں اور مصنفین کی آواز میں تحاریر کی آڈیو ریکارڈنگز اپ لوڈ کر رہا ہے۔ آج کے <a href="https://www.youtube.com/channel/UCenpBcS2okUzVHYiKKEijyQ" target="_blank" rel="noopener noreferrer">یوٹیوب چینل</a> کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔</p>
<p>سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:<br>
03003451649<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>مفرور غلاموں کو پناہ دینے کے سلسلے میں نیویارک شہر کی تاریخ ملی جلی رہی ہے۔ انقلابی جنگ کے دوران مفرور غلاموں سے پورا شہر بھرا ہوا تھا۔ پھر جارج واشنگٹن نے، اپنی فتح کے بعد، کوشش کی کہ انہیں ان کے سابق مالکوں کے پاس واپس بھجوا دیا جائے۔ انڈرگراؤنڈ ریل روڈ کے عروج کے دنوں میں سیکنڈ ایوینیو پر ایک چھوٹا سٹیشن ہوا کرتا تھا۔ سول وار کے خاتمے تک مفرور غلاموں کو پکڑنا ایک خاصا فعال مقامی کاروبار تھا۔</p>
<p>مختار طیب، موریتانیہ سے بھاگا ہوا ایک غلام، اب سے چار سال پہلے 1996 — میں — یہاں پہنچا۔ “یہ سب کچھ بہت خوبصورت تھا،” اس نے حال ہی میں مجھے بتایا، “آزادی، امریکہ۔۔۔ آپ تصور نہیں کر سکتے۔” میرا خیال ہے یہ سب کچھ بہت دشوار بھی تھا۔ طیب اور میں ٹرینٹی چرچ کے قریب، زیریں براڈوے پر، گویا جغرافیائی اعتبار سے عین جارج واشنگٹن کے نیویارک میں، چل رہے تھے کہ اس نے ایک عمارت کو پہچان لیا۔ “ارے!” وہ بولا، “امریکہ میں میرا پہلا ہفتہ تھا جب میں یہاں گیا تھا۔ یا شاید دوسرا ہفتہ۔ میرے پاس پیسے نہیں تھے۔ مجھے انگریزی نہیں آتی تھی۔ کسی نے بتایا، وہاں کوئی دفتر ہے جو میری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن مجھے وہ دفتر نہیں ملا۔”</p>
<p>یہ ایک خوفزدہ کر دینے والا منظر تھا — ایک دبلا، ڈرا ہوا سیاہ فام شخص، کھویا ہوا اور گفتگو سے قاصر، نیویارک کے کاروباری علاقے کی سرد اور چکرا دینے والی سڑکوں پر بھٹکتا ہوا — لیکن اس یاد نے بظاہر طیب کو پریشان نہیں کیا۔ ہم وال اسٹریٹ پر مڑ گئے، اور اس نے نیویارک سٹاک ایکسچینج کے پیش رُخ کی طرف اشارہ کیا۔ “کیا یہ گرجاگھر ہے؟”</p>
<p>“ہاں،” میں نے کہا، “دولت کا گرجاگھر۔”</p>
<p>وہ خوش ہو کر ہنسا۔</p>
<p>نیویارک میں طیب کی زندگی اب بھی دشوار ہے۔ وہ اب بھی مفلس ہے اور اب بھی اپنی راہ کی تلاش میں ہے۔ جب میں نے پچھلے سال کے آغاز میں اس سے ملنا شروع کیا تب وہ برونکس کے علاقے میں ایسٹ ٹریمونٹ ایوینیو کے قریب، ایکو پلیس کے گراؤنڈ فلور پر ایک کمرے میں رہتا تھا۔ فطری طور پر مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ آخر یہ کس طرح ہوا کہ بیسویں صدی کے اختتام پر وہ ایک مفرور غلام ہے۔</p>
<p>“میں ہنگامہ کرنے والا آدمی ہوں،” اس نے سادگی سے کہا۔ “وہ لوگ یہی کہتے ہیں۔” جب سے میں نے طیب کو دیکھا ہے، سیاہ آنکھوں، نرم لہجے اور گہری شائستگی کا حامل یہ شخص مجھے ہنگامہ پسند آدمی کا بالکل متضاد معلوم ہوا ہے۔ یوں لگتا تھا جیسے افریقی دوستانہ پن کے ایک چھوٹے سے حفاظتی بادل میں لپٹا ہوا طیب اپنے کمرے سے نکل کر اس سخت زندگی والے محلے کی گلیوں سے تیرتا ہوا گزر رہا ہو۔ لیکن جو فاصلہ وہ طے کر کے آیا ہے — مشرقی موریتانیہ کے دیہی علاقے سے، جہاں وہ بڑا ہوا تھا، مغربی افریقہ اور مغرب کے خطے کے مختلف ملکوں سے ہوتا ہوا امریکہ تک — اسے رسمی مِیلوں میں نہیں بلکہ صدیوں میں ناپا جانا چاہیے۔ اور نیویارک میں ایک اُکھڑے ہوے مفلس، بےوطن شخص کی زندگی کی گمنامی یقیناً ایک ایسے آدمی کی شخصیت میں جھانکنے کے لیے ایک ناموزوں کھڑکی ہے جو جنوبی صحارا کے ایک بربر گاؤں میں پیڑھیوں سے آشنا ماحول میں کبھی رہا ہو گا۔</p>
<p>“میرے گاؤں میں ہر ایک، آقا اور غلام، یہ کہتا تھا کہ میں عجیب ہوں، پاگل ہوں، گناہگار ہوں،” طیب نے کہا۔ “وہ مجھے کافر تک کہتے تھے۔ موریتانیہ میں کسی کے لیے اس سے بدتر کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن میں ہمیشہ سوال کرتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہیں کچھ ضرور غلط ہے۔”</p>
<p>طیب کے ذہن کو جو بات غلط معلوم ہوتی تھی وہ یہ تھی کہ وہ 1959 میں ایک “عبد”، ایک غلام، پیدا ہوا تھا۔ زیادہ مخصوص طور پر یہ کہ جب وہ بڑا ہوا تو اسے کلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہ تھی۔ بچپن میں اس کے کاموں میں ہر صبح اپنے مالک کے بچوں کو اونٹ پر سوار کر کے سکول تک پہنچانا اور پھر اونٹ کو واپس گاؤں لانا بھی شامل تھا۔ جب کم عمر طیب سکول میں رکنے کی کوشش کرتا، کہ اسے کھڑکی میں سے کلاس روم کی آوازیں ہی سنائی دے سکیں، تو اسے بھگا دیا جاتا۔ گاؤں کے مدرسے سے بھی، جہاں قرآن کی تعلیم ہوتی تھی، اسے واپس لوٹا دیا گیا۔ جب اس نے ضد کی تو اس کے آقا نے طیب کی ماں سے اس کی پٹائی کرنے کو کہا۔ ماں نے اس کی پٹائی کی، جس کے زخم کا نشان اس کے داہنے ہاتھ پر اب بھی باقی ہے۔ “ہراتین کے لیے،” طیب نے وضاحت کی، “جنت آقا کے قدموں کے نیچے ہے۔ بیدان لوگ یہی کہتے ہیں، اور ہراتین بھی یہی کہتے ہیں۔”</p>
<p>بیدان، جنہیں “وائٹ مُور” بھی کہا جاتا ہے، موریتانیہ کی حکمران نسل ہیں۔ یہ عرب بربر قبائلی ہیں جن کے اجداد نے سترہویں صدی میں اس علاقے پر تسلط حاصل کیا تھا۔ ہراتین، جو “بلیک مُور” بھی کہلاتے ہیں، مغربی افریقہ کے سیاہ فام باشندوں کی نسل سے ہیں جنھیں صدیوں پہلے بیدانوں نے مفتوح کر لیا تھا۔ اگرچہ بعض ہراتین نے اب آزادی حاصل کر لی ہے، لیکن بیشتر اب تک غلام ہیں۔ طیب بھی ہراتین میں سے ہے لیکن جب میں نے پوچھا کہ اس کا باپ کس نسل سے تعلق رکھتا تھا، تو وہ بولا، “آپ یہ بات نہیں سمجھیں گے۔ میرے باپ کی کوئی نسل نہیں تھی۔ وہ ایک نسل کی ملکیت تھا، جیسے مویشی کسی کی ملکیت شمار ہوتے ہیں۔ ہم ایک عرب قبیلے اولد ناصر کے غلام ہیں جو بہت طاقتور قبیلہ ہے۔ اس کے پاس بہت زمینیں ہیں، جن پر کھجور کے پیڑ لگے ہیں۔ میرا حال بھی میرے باپ کی طرح ہے۔ میرا کوئی نسلی گروہ نہیں ہے، کوئی نام نہیں ہے۔ میں صرف فلاں کے غلام کے طور پر پہچانا جاتا ہوں۔”</p>
<p>طیب کے بچپن میں موریتانیہ کے باشندے خانہ بدوشی یا نیم خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ (بعد میں آنے والی ایک ہولناک خشک سالی نے ملک کی بیشتر چراگاہوں کو برباد کر ڈالا جس کے باعث بہت سے خانہ بدوش مجبور ہو کر شہروں میں آ گئے۔) اس کی اولین یادیں قبیلے کے گلّوں — مویشیوں، اونٹوں اور بکریوں — کے ساتھ لمبی لمبی مسافتیں طے کرنے اور ایسے خطّوں سے گزرنے کی یادیں ہیں جہاں لگڑبگھے، گیدڑ اور ریچھ ہوتے تھے۔ “ہم گھاس کے ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ بیدان لوگ اونٹوں پر سفر کرتے لیکن ہم پیدل چلتے تھے یا گایوں پر سوار ہوتے تھے۔ کسی بیدان کے لیے گائے پر سوار ہونا شرم کی بات ہے۔ ان کے باقاعدہ اون کے بنے خیمے تھے جو اپنی دو چوٹیوں کے ساتھ سیدھے کھڑے ہوتے تھے۔ ہمارے، ہراتین کے خیمے، بہت ابتدائی شکل کے، پھٹی پرانی گدڑیوں کے بنے ہوتے تھے اور ان میں بہت بھیڑ ہوتی تھی۔ سارے کام — پانی بھرنا، ڈھول بجانا — جن کا کرنا بیدانوں کے لیے شرم کی بات تھی، ہراتین کے ذمے تھے۔ اور جب ہم بھیڑیں ذبح کرتے تو ہراتین کو کھانے کے لیے صرف اوجھڑی اور گردن ملتی۔ باقی سب بیدانوں کا حصہ تھا۔” طیب کو، جو ایک کمزور لڑکا تھا، گھریلو نوکر کے طور پر تربیت دی گئی۔ “میں اپنے آقا اور اس کے مہمانوں کے ہاتھ دھلاتا۔ اس کے بچوں کے کپڑے دھوتا۔ میں نے چائے بنانا سیکھا۔” ایک بار ،اس نے بتایا، اسے ایک تجارتی کارواں کے ساتھ بھیجا گیا جس میں شامل بیس یا تیس اونٹ جھیل کی تہہ کا نمک لاد کر مالی لے جا رہے تھے جسے دے کر بدلے میں شورگم لیا جانا تھا۔</p>
<p>طیب خوابناک، سوچتے ہوے لہجے میں مجھے ان قدیم صحرائی مناظر کا حال سناتا رہا، جیسے وہ ان مناظر کا انگریزی زبان میں پہلی بار تصور کر رہا ہو۔ باہر برف پڑ رہی تھی، لیکن اس کا کمرہ گرم تھا۔ ایک خوشبودار موم بتی جل رہی تھی۔ ہمارے درمیان رکھی ایک ٹرے پر میٹھی چائے گلاسوں میں پڑی پڑی ٹھنڈی ہو رہی تھی۔ میں نے عربی کے کچھ الفاظ کے بارے میں دریافت کیا جو دیوار پر ٹیپ سے چپکائے گئے تھے۔ یہ قرآن کی ایک آیت ہے، طیب نے بتایا۔ اس نے آیت کا ترجمہ کر کے بتایا جو کچھ یوں تھا کہ اﷲ اپنے بندوں کو بلاسبب ہرگز سزا نہیں دیتا۔</p>
<p>میں نے غلاموں کی بغاوتوں کے بارے میں سوال کیا۔</p>
<p>طیب نے بتایا کہ ایسی بغاوتیں بہت کم، تقریباً نامعلوم ہیں۔ “ہراتین کو قابو میں رکھنے کے لیے عموماً جسمانی طاقت کی ضرورت نہیں ہوتی،” اس نے کہا۔ “کبھی کبھی تو وہ اپنے آقا سے الگ کسی اور جگہ رہ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ کہیں بھی رہیں، آقاؤں سے ان کا رشتہ برقرار رہتا ہے۔ وہ غلام ہی رہتے ہیں۔ ان کا آقا انھیں کبھی بھی طلب کر سکتا ہے اور ان کو آنا ہوتا ہے۔ آقا ان کے بچے لے سکتا ہے۔ وہ ان کے بچے اپنے کسی رشتے دار یا دوست کو ہدیہ کر سکتا ہے۔ غلامی ایک ذہنی حالت کا نام ہے، اور بیشتر ہراتینوں کو یقین ہے کہ غلامی کا نظام اﷲ کے احکام کا حصہ ہے۔ وہ کسی اور قسم کی زندگی سے واقف نہیں ہیں۔ یہاں امریکہ میں اطلاعات کے اتنے سارے ذریعے ہیں: کتابیں، اخبار، ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ۔ وہاں ہمارے پاس صرف پرندے ہوتے ہیں، جو ہمیں بتاتے ہیں کہ پانی کہاں مل سکتا ہے، یا پھر بیدان ہوتے ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کام کرنا ہے۔ اگر کوئی ہراتین اپنے آقا کا حکم نہ مانے تو، ہاں، اسے سزا دی جا سکتی ہے، قید کیا جا سکتا ہے، ہلاک بھی کیا جا سکتا ہے۔”</p>
<p>مجھے “اونٹوں والا علاج” یاد آیا جس کے بارے میں میں نے پڑھا تھا؛ یہ اذیت دینے کا ایک طریقہ تھا جو سرکشی پر آمادہ غلاموں کے لیے مخصوص تھا۔ موریتانیہ کے بارے میں ہیومن رائٹس واچ نامی تنظیم کی ایک رپورٹ میں اس طریقے کی تفصیل بیان کی گئی تھی: “غلام کی ٹانگیں ایک ایسے اونٹ کے پہلو سے باندھ دی جاتی ہیں جسے کوئی دو ہفتوں تک پانی سے محروم رکھا گیا ہو۔ پھر اونٹ کو پانی پینے کے لیے لے جایا جاتا ہے، اور جوں جوں اونٹ کا پیٹ پھولتا ہے غلام کی ٹانگیں، رانیں اور جانگھیں آہستہ آہستہ چرتی چلی جاتی ہیں۔” رپورٹ میں ایک مقامی اطلاع دہندہ کے حوالے سے کہا گیا تھا: “میں ایک ایسے غلام سے واقف ہوں جو بوغے کے مغرب میں شرت کے مقام پر 1988 میں اس اذیت سے گزرا تھا۔ اس کے آقا کو شک تھا کہ وہ فرار ہونا چاہتا ہے، کیونکہ وہ ایک سڑک پر دیکھا گیا جہاں اس کا کوئی کام نہ تھا۔ علاوہ ازیں، وہ منھ پھٹ جوان آدمی تھا جو اپنے آقا اور اس کے گھروالوں کو جواب دیتا تھا اور اس نے صاف کہہ دیا تھا کہ اسے غلاموں والی زندگی پسند نہیں۔ اسے پکڑ کر اونٹوں والے علاج سے گزارا گیا۔ اُس وقت اس کی عمر سولہ سال تھی۔ وہ اب بھی اپنے آقا کے خاندان کے ساتھ رہتا ہے، لیکن اب اتنا اپاہج ہو چکا ہے کہ کوئی کام کرنے کے قابل نہیں رہا۔”</p>
<p>طیب بھی ایسے واقعات سے واقف ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ ایسی انتہائی درجے کی بہیمیت موریتانیہ میں آقا اور غلام کے رشتے میں استثنائی صورتوں ہی میں پائی جاتی ہے۔ “یہ ایک باقاعدہ نظام ہے،” اس نے کہا۔ “اس کا آغاز بچپن ہی سے ہو جاتا ہے۔ اگر تم بیدان ہو تو ہمیشہ کوئی ہراتین بچہ تمھاری خدمت کر رہا ہو گا۔ اگر تم ہراتین ہو تو تمھارا کوئی باقاعدہ نام تک نہ ہو گا۔ اگر تمھارا نام محمد ہے، تو اسے توڑ کر ممّد کر لیا جائے گا۔” اس نے بلند آواز میں بگڑا ہوا نام پکار کر بتایا۔ “اگر کوئی ہراتین کتاب پڑھنے کی کوشش کرے، یا گھڑی باندھے یا کسی عمدہ گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ ہمارے ادب میں ایسی بہت سی کہانیاں ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح کسی ہراتین نے قرآن کی کوئی آیت سیکھ لی، جس پر اس کی اس قدر تضحیک کی گئی کہ آخرکار اسے اپنے آپ سے نفرت ہو گئی۔” طیب کہتے کہتے رکا۔ اس کے چہرے پر ایسا تلخ تاثر تھا جو عموماً نہیں ہوتا تھا۔ “اپنے آپ سے نفرت ہو گئی!” اس نے دھیمی آواز میں دہرایا۔</p>
<p>“یہ نظام نہایت مکمل ہے،” اس نے کہا۔ “میرا آقا بہت دولت مند نہیں ہے، لیکن وہ ایک بڑا سردار ہے۔ اور اس کا ایک بھائی سفارت کار تھا — تعلیم یافتہ آدمی۔ لیکن وہ یہاں، امریکہ میں بھی، اپنے غلام ساتھ لے کر آیا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بیدانوں کو وہ کھانا پسند نہیں آتا جو کسی غلام کے ہاتھ سے تیار نہ ہوا ہو۔ ان کو یقین ہے کہ ہر اہم آمی کے اردگرد غلام موجود ہونے چاہییں تاکہ ان کے مالدار ہونے کا اظہار ہو سکے۔ اور وہ جسمانی کام کرنے کو شرمناک بات سمجھتے ہیں۔ ان میں جو لوگ تعلیم یافتہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ دنیا غلامی کو پسند نہیں کرتی۔ وہ اپنے غلاموں سے کہتے ہیں کہ غیرملکیوں کو بتائیں کہ وہ ملازم ہیں، کہ ان کو اجرت ملتی ہے۔ اور اگر ہم اس پر احتجاج کریں تو ہم سے کہتے ہیں: تم ہماری مخالفت کیوں کرتے ہو؟ یہ غیرملکی اسلام کے مخالف ہیں۔ مذہب اس نظام کا بہت بڑا حصہ ہے۔ غلام کی مخالفت کو مذہب کی مخالفت قرار دیا جاتا ہے۔”</p>
<p>طیب اپنے بستر پر، جو کمرے کے بڑے حصے پر محیط تھا، آلتی پالتی مارے بیٹھا تھا۔ پاس ہی سبز جھالر والی ایک جانماز رکھی تھی۔ جب میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا تو طیب نے بتایا کہ وہ اسے اس وقت استعمال کرتا ہے جب اس کے پاس مسجد جانے کا موقع نہ ہو۔ اس نے بتایا کہ وہ دن میں پانچ وقت نماز پڑھتا ہے۔ کمرے مں موجود واحد میز کتابوں سے بھری ہوئی تھی: افلاطون کے مکالمات، اور فرانز فینن کی افتادگان خاک اور A 2nd Helping of Chicken Soup for the Soul۔</p>
<p>طیب نے بتایا کہ جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اور تعلیم چھوڑنے سے انکار پر قائم رہا، آقاؤں کے ساتھ اس کے جھگڑے بڑھتے گئے۔ وہ احکام پر تذبذب کے ساتھ عمل کرتا تھا، اور تیرہ برس کی عمر میں سرکشی کے باعث اپنا بازو تڑوا بیٹھا۔ اس کی ماں بہت ناراض ہوئی۔ “وہ ہمیشہ کہتی: ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہمارے باپ داد بھی اسے تسلیم کرتے تھے۔ اﷲ کی یہی مرضی ہے۔ اور پھر اس میں برائی کیا ہے؟ وہ سمجھتی ہے کہ میں باغی ہوں۔”</p>
<p>طیب کے باپ کا خیال مختلف تھا۔ اگرچہ اس کا کوئی نسلی گروہ نہ تھا، لیکن وہ ایک ایسے خاندان کا فرد تھا جس کی ننھیالی اور ددھیالی دونوں شاخوں کی آبائی یادداشت میں وہ وقت محفوظ تھا جب غلامی کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ وہ پولار اور وولوف زبانیں تھوڑی بہت جانتا تھا، جن کا تعلق جنوبی خطے سے تھا، اور اس کے خاندان کو، ہراتین ہوتے ہوے بھی، بیدان امارتوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں حصہ لینے کی بنا پر شجاعت کی نیک نامی حاصل تھی۔ “چنانچہ وہ کبھی مکمل طور پر مطیع ہونے پر آمادہ نہ ہوا،” طیب نے کہا۔ اس کا باپ جب آقا کے ریوڑ نہ چرا رہا ہوتا تو اینٹیں اور کوئلہ بنایا کرتا تھا اور کبھی کبھی وہ اینٹیں فروخت بھی کرتا تھا — جو اس کی غلام کی حیثیت سے ایک طرح کی بغاوت تھی۔ آخرکار 1970 کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں مویشیوں کو ٹرک میں دور لے جانے کے دوران وہ موقع پا کر سینیگال فرار ہو گیا۔</p>
<p>طیب کو بھی اس کے نقشِ قدم پر چلنے کی خواہش تھی۔ لیکن اس کی تیاری راستوں کے نقشے بنانے اور حیلے ایجاد کرنے پر مشتمل نہ تھی۔ اس کے بجاے وہ چھپ چھپ کر پڑھنا سیکھتا رہا۔ وہ سکول میں آقا کے بچوں کو پڑھائے جانے والے سبق یاد کر لیتا۔ اس نے قرآن کی لمبی لمبی سورتیں حفظ کر لیں۔ سترہ برس کی عمر میں اسے تحریر سکھانے والی کچھ کتابیں ہاتھ آ گئیں اور اس نے خود کو لکھنا سکھانا شروع کر دیا۔</p>
<p>ایک کہاوت ہے کہ پڑھے لکھے آدمی کو غلام بنانا ناممکن ہے، اور طیب کو بچپن ہی سے کسی نہ کسی طرح اس بات کی سمجھ حاصل ہو گئی تھی کہ خواندگی، اور مویشیوں اور چیزوں کی سی غلامی کے درمیان بنیادی نوعیت کا تضاد موجود ہے۔ اس کے لیے تعلیم حاصل کرنا اور انسانیت کا درجہ پانا لازم و ملزوم ہوتے گئے۔</p>
<p>1977 میں طیب نے اپنے آقا کے خاندان کے سامنے نرم لہجے میں اپنے ارادے کا اعلان کیا کہ وہ استاد بننا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ آقا کی بیوی کے ساتھ، جس کے نزدیک طیب کا یہ خواب قابلِ تحقیر تھا، ایک ذلت آمیز تنازعے کی صورت میں نکلا۔ اس کے آقا نے اسے دارالحکومت نواکشوت میں ایک گھر میں کام کرنے کی غرض سے بھجوا دیا۔ لیکن شہر کی غلامانہ زندگی میں ایک دورافتادہ گاؤں کی غلامانہ زندگی کی نسبت نگرانی کچھ کم سخت تھی، اور طیب کو احساس ہوا کہ یہاں اسے فرار کا موقع مل سکتا ہے۔ جولائی 1978 میں وہ بھاگ نکلا اور ایک ٹرک میں لفٹ لے کر سرحد پر دریاے سینیگال کے قریب پہنچ گیا۔ ایک دوست سے حاصل کی ہوئی رقم سے اس نے سرحد پر متعین محافظوں کو رشوت دے کر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ اسے کاغذات کے بغیر موریتانیہ سے باہر نکلنے دیں۔</p>
<p>اس نے اپنے باپ کو وسطی سینیگال میں کاؤلاک کے مقام پر پایا۔ “میرا باپ پڑھنا نہیں جانتا تھا لیکن وہ میری تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کو سمجھ سکتا تھا۔ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا تھا۔” یہ سن کر کہ آئیوری کوسٹ میں تعلیمی مواقع بہتر ہیں، طیب اور اس کا باپ مالی کے راستے وہاں روانہ ہو گئے۔ “یہ ایک دشوار سفر تھا،” طیب نے کہا۔ اس کی آواز گھٹ سی گئی۔ “ہم متعدد بار گرفتار ہوے۔” وہ رک گیا اور خاموشی سے موم بتی کے شعلے کو دیکھنے لگا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی گفتگو کا سلسلہ جوڑا۔ “آخرکار ہم آئیوری کوسٹ پہنچ گئے،” وہ بولا۔ “اور وہاں بائیس سال کی عمر میں پہلی بار، مجھے ایک کلاس روم میں بیٹھنے اور استاد سے نگاہ ملانے کی اجازت حاصل ہوئی۔”</p>
<p>جب امریکہ کے لوگ غلامی کا تصور کرتے ہیں تو ان کے ذہن میں صرف ان غلاموں کا خیال ہوتا ہے جن سے فصلوں پر کام لیا جاتا ہے۔ لیکن غلامی، پوری انسانی تاریخ میں، بیشتر انسانی معاشروں میں بہت سی مختلف شکلوں میں موجود رہی ہے — اس اعتبار سے یہ ایک “عجیب وغریب ادارے” سے بہت مختلف چیز ہے — اور عرب دنیا، جہاں غلامی کی بنیادیں اسلام کے آغاز سے مدتوں پہلے سے مستحکم تھیں، فصلوں پر کام کی غرض سے غلامی کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ غلام، جو عموماً جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے تھے، سپاہیوں اور گھریلو ملازموں کے طور پر استعمال میں لائے جاتے تھے۔ متمول طبقوں میں غلام عورتوں پر مشتمل حرم عام تھے۔ داشتائیں رکھنے کے مقبول رواج کے باعث غلام عورتیں عام طور پر غلام مردوں کی نسبت زیادہ قیمت پر فروخت ہوتی تھیں — بجز اس کے کہ غلام مردوں کا جنسی عضو کاٹ ڈالا گیا ہو، جیساکہ ان کی ہولناک حد تک زیادہ تعداد کے ساتھ ہوتا تھا، اس حد تک کہ غلاموں کی تجارت کی بڑی شاہراہوں کے پاس خواجہ سرا تیار کرنے کے باقاعدہ قصاب خانے قائم تھے۔</p>
<p>اسلام کی تعلیمات میں آقاؤں سے کہا گیا کہ وہ اپنے غلاموں سے بدسلوکی نہ کریں، بلکہ انھیں آزاد کرنے کے امکان پر بھی غور کریں۔ اور مسلمان عالموں اور فقیہوں کے درمیان اُس وقت سے اب تک اس موضوع پر بحث مباحثہ جاری ہے کہ کون کس کو غلام رکھ سکتا ہے اور کن حالات میں۔ اصولی طور پر مسلمان مسلمان کو غلام نہیں بنا سکتے۔ لیکن اسلام کے عرب سے باہر مختلف جغرافیائی خطوں میں پھیل جانے کے دوران یہ اصول بیچ میں کہیں گم ہو گیا، اور بہرحال اس اصول پر عمل کا انحصار مقامی تعبیرات پر ہوتا تھا۔ قرون وسطیٰ میں مشرقی یوروپ نے عرب دنیا کو بڑی تعداد میں سفیدفام غلام فراہم کیے — مسیحی، یہودی، اور دوسرے — لیکن سیاہ فام افریقیوں کی تجارت نے — جن کی نقل وحمل صحارا کے راستے یا دریاے نیل کے ساتھ ساتھ قافلوں کی شکل میں کی جاتی تھی — رفتہ رفتہ غلاموں کی مجموعی عرب تجارت پر غلبہ حاصل کر لیا۔ اگرچہ تاریخی شواہد بہت کم دستیاب ہیں لیکن بہت سے تاریخ نگاروں کا خیال ہے کہ سیاہ فاموں کی جتنی بڑی تعداد کو شمال کی سمت عرب دنیا میں غلام بنا کر پہنچایا گیا وہ ایک کروڑ غلاموں کی اس تعداد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھیں بحراوقیانوس کے راستے نئی دنیا (امریکہ) لایا گیا۔</p>
<p>مغربی دنیا میں نشاۃ ثانیہ کے دور کے بعد غلامی کے خاتمے کی جو تحریکیں چلیں، اس قسم کی تحریکوں کی کوئی مثال عرب دنیا میں نہیں ملتی۔ اخلاقی موقف رکھنے والے مسیحی فرقوں مثلا کویکر، میتھوڈسٹ یا یونی ٹیرین، جیسے فرقے بھی اسلام میں نہیں ابھرے، اور مسلمان فرمانرواؤں نے یوروپی نوآبادیاتی طاقتوں کے متواتر دباؤ کے زیرِاثر ہی غلاموں کی کھلے عام تجارت پر پابندیاں عائد کرنا شروع کیا۔ صحارا کے راستے آنے والا غلاموں کا آخری قافلہ 1929 میں لیبیا پہنچا تھا۔ خود غلامی آخرکار ہر جگہ قانوناً ممنوع قرار پائی — حتیٰ کہ سعودی عرب نے بھی اس پر 1962 میں پابندی لگا دی — لیکن ان کوششوں کو بجا طور پر مسلم سماجی ڈھانچے پر حملہ تصور کرتے ہوے نسبتاً زیادہ قدامت پرست ملکوں میں ان کی سخت مزاحمت کی جاتی رہی، اور عملی طور پر غلامی کے امتناع کو کسی بھی اعتبار سے مکمل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 1960 کی ایک برطانوی پارلیمانی رپورٹ کے مطابق مختلف ملکوں سے حج کے لیے مکہ پہنچنے والے حاجی اپنے ساتھ غلام لے کر آتے تھے جو “جاندار ٹریولرز چیکس” کی حیثیت رکھتے تھے، یعنی ضرورت پڑنے پر ان کو فروخت کر کے سفر کے اخراجات پورے کیے جا سکتے تھے۔</p>
<p>موریتانیہ میں سرکاری طور پر غلامی کو تین بار ممنوع کیا گیا، جن میں تازہ ترین 1980 میں کیا جانے والا امتناع ہے۔ لیکن جو قوانین اس امتناع کو عملی طور پر نافذ کر سکتے تھے انھیں کبھی وجود میں نہیں لایا گیا۔ 1980 کے امتناع میں آقاؤں کو — غلاموں کو نہیں — معاوضے کا مستحق قرار دیا گیا، لیکن اس میں ایسا کوئی طریق کار طے نہیں کیا گیا جس کے مطابق معاوضے کی ادائیگی، یا اس قانون کا نفاذ کیا جا سکے، یا کم از کم اس خوشخبری کو ان آزادکردہ افراد کے کانوں تک پہنچا جا سکے جن میں سے بیشتر اب بھی غلام ہیں۔ (موریتانیہ میں غلاموں کی کل تعداد کے بارے میں کوئی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس تعداد کا تخمینہ نوے ہزار سے تین لاکھ تک لگایا جاتا ہے۔) موریتانیہ جیسے غریب، پسماندہ اور مکمل طور پر اسلامی ملک میں جدید، سکیولر قوانین کی اہمیت براے نام ہی ہے۔ حاکمیت کی دیگر ہیئتیں — روایتی قانون، اور خصوصا مذہبی قانون جس کی تعبیر کرتے ہوے موریتانیہ کی شرعی عدالتوں نے روایتی طور پر ہمیشہ غلام رکھنے والے آقاؤں کے ملکیت کے حق کو درست ٹھہرایا ہے — عموماً مغربی طرز کے تحریری قوانین سے کہیں زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں۔ 1960 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے موریتانیہ یوں بھی بہیمانہ بیدان فرمانرواؤں کے زیرِتسلط رہا ہے جن کے نزدیک قانون کی حکمرانی جیسے تصورات کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔</p>
<p>تاہم بیدان حکمرانوں کو سب سے بڑا خطرہ بیدانوں کے غلام اور ملازم ہراتینوں کی طرف سے نہیں بلکہ ملک کے تیسرے بڑے گروہ کی طرف سے درپیش ہے: یعنی جنوبی خطے کے سیاہ فاموں کی طرف سے جنھیں کبھی غلام نہیں بنایا جا سکا اور جنھیں موریتانیہ میں “نیگرو افریقی” کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ مردم شماری کے اعدادوشمار ناقابلِ اعتبار ہیں، کیونکہ بیدانوں کی تعداد کو زیادہ کر کے ظاہر کرنے سے حکومت کا اپنا مفاد وابستہ ہے، لیکن اندازہ ہے کہ تینوں گروہ ملک کی آبادی میں تقریباً برابر کا تناسب رکھتے ہیں۔ (ملک کی کل آبادی بیس لاکھ سے تیس لاکھ تک ہے۔) نیگرو افریقی مقامی زبانیں — پولار، وولوف، سوننکے، بمبارا — بولتے ہیں اور لنگوافرانکا یا رابطے کی زبان کے طور پر فرانسیسی، نہ کہ عربی جو ملک کی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انھوں نے بھی صدیوں پہلے اجتماعی طور پر اسلام قبول کر لیا تھا، ان کا تہذیبی رشتہ اپنے ہم وطن موریتانیائیوں کی بہ نسبت جنوب میں آباد دوسرے فرانسیسی گو افریقیوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ حکمران بیدانوں کا سب سے بڑا سیاسی مقصد یہ ہے کہ ملک کی ان دونوں سیاہ فام آبادیوں — ہراتینوں اور نیگرو افریقیوں — کو ایک دوسرے سے الگ تھلگ رکھا جائے۔</p>
<p>“جب میں بچہ تھا تو بیدان لوگ ہمیشہ بتایا کرتے تھے کہ نیگرو وحشی جانور، شیر یا ریچھ، میں منقلب ہو سکتے ہیں،” طیب نے بتایا۔ وہ خوش دلی سے ہنسا۔ “ہمیں بتایا جاتا تھا کہ جنوب کے نیگرو لوگ انسانوں کو کھاتے ہیں۔ اور آئیوری کوسٹ اور ٹوگو جاتے ہوے راستے میں میرے ذہن میں باربار یہی خیال آتا رہا۔”</p>
<p>موریتانیہ سے نکلنے سے پہلے طیب غلامی کے خلاف چلائی جانے والی ایک زیرِزمین تحریک “الحُر” کا رکن بن چکا تھا، اور آج تک اس تنظیم میں عملی طور پر سرگرم ہے۔1974 میں قائم کی گئی الحر تنظیم بیشتر سابق یا مفرور غلاموں پر مشتمل ہے، اور ان میں سے جو لوگ موریتانیہ میں رہتے ہیں وہ سخت جبر کا شکار ہیں۔ جس اتحاد سے بیدان سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں — یعنی نیگرو افریقیوں کی حکومت مخالف تحریکوں اور ہراتینوں کی الحر جیسی تنظیموں کے درمیان اتحاد — وہ اب تک وجود میں نہیں آ سکا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ ہیں، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیدان حکمرانوں کی طرف سے جنوبی آبادیوں کے خلاف تادیبی کارروائیوں میں بڑی ہوشیاری سے ہراتین سپاہیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ 1989 میں اس قسم کی ایک تادیبی مہم میں دسیوں ہزار نیگرو افریقی کسانوں کو ان کی زمینوں سے جبراً بےدخل کر دیا گیا، اور ان میں سے بہت سوں کو کھدیڑ کر سینیگال میں جلاوطن کر دیا گیا۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوے اور ہزاروں گرفتار۔ اور سرکوبی کی اس مہم میں ہراتین سپاہیوں نے جو کردار ادا کیا اس کی تلخ یادیں اب بھی تازہ اور گہری ہیں۔</p>
<p>تاہم طیب جیسے ہراتین کارکن سمجھتے ہیں کہ ان دونوں سیاہ فام گروہوں کے درمیان بےاعتمادی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی نیگرو افریقیوں نے ہمیشہ غلامی کے مسئلے پر غیرجانبدارانہ موقف اختیار کیے رکھا ہے۔ “اب جبکہ ان کو محسوس ہوا ہے کہ غلامی کی مخالفت سے انھیں بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکتی ہے، تو وہ ایسا ظاہر کرنے لگے ہیں گویا وہ ہمیشہ سے غلامی کے مخالف رہے ہیں،” اس نے کہا۔ “اس سے پہلے ان کو اس مسئلے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔” طیب نے کہا کہ وہ بیدان افراد بھی جو کسی وجہ سے حکومت کے عتاب میں آ گئے ہوں، مغرب میں سیاسی پناہ مانگتے وقت یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں غلامی کے خلاف تحریک چلانے کے نتیجے میں موریتانیہ میں خطرات کا سامنا ہے۔ “میں ایسے کئی بیدانوں سے واقف ہوں،” وہ یوں بولا جیسے اس کے لیے یہ بات ناقابل یقین ہو۔ “خود ان کے گھروں میں اب بھی غلام موجود ہیں!”</p>
<p>پھر اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔ “آپ کو پتا ہے، ان میں سے کئی لوگ مجھے یہاں نیویارک میں ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہمیں عفو و درگزر سکھاتا ہے۔ میں ان سے کہتا ہوں: یہ عفو و درگزر کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ حقوق کا اور انصاف کا معاملہ ہے۔ اور یہ کوئی ماضی کی بات بھی نہیں ہے۔ یہ سب تو آج، اس وقت بھی ہو رہا ہے! وہ مجھ سے بحث کرنے لگتے ہیں۔ وہ بہت سی احمقانہ باتیں کہتے ہیں۔ لیکن میں اپنے آپ سے کہتا ہوں: مختار! صبر کرو۔ یہ تاریخ ہے، اور تاریخ زیادہ، بہت زیادہ وقت لیتی ہے۔”</p>
<p>طیب نے غور سے مجھے دیکھا۔ “یہ میرا مسئلہ ہے،” آخرکار وہ بولا۔ “اور میں اس سے چھٹی نہیں لیتا۔”</p>
<p>میں نے میز پر ایک ٹیپ ریکارڈر رکھا دیکھ کر دریافت کیا کہ آیا اس میں موریتانیہ کی کوئی مخصوص موسیقی ہے۔ وہ مسکرایا اور مشین میں ایک ٹیپ لگا دیا۔ ڈھول کی سست رو تال، اور عربی میں نوحے جیسی آواز، اور پیٹ کی گہرائی سے نکلتی ہوئی پکار سے کمرہ بھر گیا، اور آن کی آن میں ہمیں یوں محسوس ہونے لگا گویا ہم، برونکس سے کئی ہزار میل دور، صحارا میں کسی خیمے کے اندر بیٹھے ہیں۔ “یہ بہت خوبصورت گیت ہے،” طیب نے بےاختیار ہو کر کہا۔ “یہ بہت مشہور ہے، بہت مقبول ہے۔ ہم اسے غلام عورت کا کیسٹ کہتے ہیں۔” اس نے پُرزور انداز میں ٹیپ ریکارڈر کی طرف اشارہ کیا۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ میں نے اس کو کبھی اتنے جوش میں نہیں دیکھا تھا۔ “یہ بیدان ہے جو غلام عورت کو بتا رہا ہے کہ اسے کیوں بےعزت کیا گیا۔ اور اب یہ غلام عورت اسے جواب دے رہی ہے!” طیب خوشی سے بےحال تھا۔</p>
<p>جب ٹیپ ختم ہوا تو اس کی مسکراہٹ رفتہ رفتہ غائب ہو گئی۔ “موریتانیہ کی حکومت نے غلامی پر شرمندگی محسوس کرنا ابھی حال ہی میں شروع کیا ہے،” اس نے کہا۔ “لیکن حکومت ہمارے ادب کو، ان تمام گیتوں اور نظموں کو نہیں مٹا سکتی جن میں غلاموں اور ان کی غلامی کا ذکر موجود ہے — کیونکہ یہی وہ اصل زندگی ہے جسے ہم جیتے ہیں۔”</p>
<p>طیب برونکس کے کمیونٹی کالج میں ہفتے میں پانچ بار انگریزی کی رات کی کلاس میں جاتا ہے۔ ایک شام میں اس کے ساتھ وہاں گیا۔ طالب علموں نے پہلا گھنٹہ کمپیوٹر لیب میں گزارا۔ وہ سب The Great Gatsby پر الگ الگ مضمون لکھتے رہے۔ میں نے دیکھا کہ طیب کے پاس اس ناول کا جو نسخہ تھا، اس کے حاشیے عربی میں لکھے ہوے نوٹس سے بھرے تھے۔ یہ عموماً الفاظ کے معانی پر مشتمل تھے، نہ صرف ناول کے متن میں موجود الفاظ بلکہ انگریزی عربی لغت میں ان کے آس پاس لکھے ہوے دوسرے الفاظ بھی جو طیب کو دلچسپ محسوس ہوئے۔ نہ صرف Perpetuate کے عربی معنی بلکہ Peripatetic کے مفہوم کے بارے میں بھی ایک مفصل نوٹ؛ نہ صرف Veteran بلکہ Vex بھی۔ یہ مجھے انگریزی سیکھنے کا ایک دلیرانہ، پُرشوق اور ادبی طریقہ معلوم ہوا۔ جو بات میں اصل میں جاننا چاہتا تھا وہ یہ تھی کہ طیب خود اس ناول کے کرداروں جے گیٹسبی اور ڈیزی بوکانن کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ لیکن وہ کمپیوٹر پر انگریزی کے ایک ایسے سافٹ ویر کے ساتھ جدوجہد میں مصروف تھا جو اسے اپنی لغت سے باہر کے الفاظ (بشمول “گیٹسبی”) ٹائپ نہیں کرنے دے رہا تھا۔</p>
<p>طیب کی انگریزی کلاس کے باقی سارے لوگ لاطینی امریکی تھے۔ اور کلاس شروع ہونے سے پہلے کی گفتگو سے میں نے جانا کہ ان میں سے بیشتر ڈومینیکن، اور سب کے سب ہائی سکول پاس تھے۔ ان میں سے اکثر نے نیویارک کے ہائی سکولوں میں تعلیم مکمل کی تھی — سواے انگریزی کی مہارت کے امتحان کے، جو یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ضروری تھا۔ یہ ایک خوش باش اور زندہ دل گروہ تھا۔ ان میں سے تین چار تختۂ سیاہ پر بیک وقت، ایک دوسرے کے آگے اور پیچھے سے ہاتھ نکال کر، گرامر کے جملے لکھنے میں مشغول تھے، جبکہ ڈیسکوں پر بیٹھے ان کے ہم جماعت انھیں بلند آواز سے مشورے دے رہے تھے اور کلاس کی آخری بنچوں پر ایک لسانی بحث (زیادہ تر ہسپانوی زبان میں) جاری تھی جس کا دھیما شور پس منظر میں مسلسل سنائی دے رہا تھا۔</p>
<p>طیب ان سب لوگوں سے الگ دکھائی دیتا تھا، صرف اس باعث نہیں کہ وہ کلاس کا واحد افریقی طالب علم تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ پوری کلاس میں سب سے زیادہ رسمی لباس پہنے تھا: پرل گرے رنگ کا تھری پیس سوٹ، اور گرے رنگ کی نکٹائی جس کی گرہ نہایت عمدگی سے بندھی ہوئی تھی، جبکہ اس کے اردگرد سب لوگ ٹی شرٹ، سویٹ شرٹ اور ڈینم کی جینز پہنے ہوے تھے۔ وہ ہلکی سی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ احتیاط سے نوٹس لینے میں مصروف تھا، لیکن اس نے کلاس میں ہونے والی بحث میں کوئی حصہ نہ لیا اور اس کی سنجیدگی اس کے گرد ایک ٹھوس، شفاف مخروطی حصار بنائے معلوم ہوتی تھی۔</p>
<p>تعلیم حاصل کرنے کا عزم طیب کے لیے رہنما ستارے کی طرح رہا تھا جس پر نظر جمائے ہوے اس نے موریتانیہ سے فرار ہونے کے بعد سینکڑوں طوفانوں کا مقابلہ کیا۔ آئیوری کوسٹ میں فرانسیسی زبان سیکھنے کے بعد طیب، نہایت اداسی کے ساتھ، اپنے باپ سے جدا ہو کر گھانا روانہ ہو گیا۔ وہاں سے پانچ بار کوشش کرنے کے بعد آخرکار ٹوگو میں داخل ہوا جہاں اس نے فرانسیسی سفارتخانے کو ایک تصدیق نامہ جاری کرنے پر آمادہ کر لیا کہ وہ موریتانیہ کا شہری ہے۔ اس تصدیق نامے کی مدد سے اس نے لیبیائی تعلیمی وظیفوں کے ایک پروگرام میں داخلہ حاصل کیا جسے صدر معمر القذافی نے عرب لیگ میں شامل تمام ملکوں (بشمول موریتانیہ) کے طلبا کے لیے شروع کیا تھا اور جو بہت کم عرصے جاری رہا۔ اس طرح طیب مغربی افریقہ سے ایک طرف کے ٹکٹ پر جنوب مغربی لیبیا کے شہر صبحہ روانہ ہوا اور وہاں اس نے خود کو واحد سیاہ فام طالب علم پایا۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے باقی تمام طلبا بیدان تھے اور طلبا کی سیاست شدید عرب قوم پرستی پر مبنی تھی۔ طیب نے سخت محنت کی اور الیکٹریکل انجنیئرنگ کی سند حاصل کر لی۔ پھر وہ ایک اور وظیفے پر مراکش کے اسی نام کے شہر میں قائم اسلامی انسٹیٹیوٹ پہنچا اور وہاں ادب اور اسلامی قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وہ مراکش شہر کے اعلیٰ تعلیمی معیار پر بہت خوش ہوا اور اسے تیسرے سال میں ایک اہم تعلیمی انعام ملا۔ لیکن یہاں بھی دوسرے تمام موریتانیائی بیدان نسل کے تھے اور طیب کو سیاسی مسائل کا سامنا ہونے لگا، خاص طور پر جب دوسرے طلبا پر انکشاف ہوا کہ وہ الحر تنظیم کارکن ہے۔</p>
<p>اس نے لیبیا واپس آ کر بن غازی کی غریونس یونیورسٹی میں قانون کی ایک ڈگری کے لیے پڑھائی شروع کی۔ اس کی روزمرہ زندگی، شخصی اور سیاسی دونوں اعتبار سے، خطرات کا شکار رہی۔ اسے متواتر خطرہ تھا کہ اس کے ساتھ پڑھنے والے بیدان طلبا کہیں اس پر عرب مخالف ہونے کا الزام نہ لگا دیں — اور لیبیائی تعلیمی نظام میں اس کا کوئی واقف کار نہ تھا جو اسے تحفظ دے سکتا۔ “میں عرب دنیا میں اپنے مقام سے واقف ہوں،” اس نے کہا۔ “میں اس بات کی قدر کرتا ہوں کہ وہ مجھے تعلیم حاصل کرنے دیتے ہیں، لیکن اس سے آگے ہمارا بہت کم باتوں پر اتفاق ہے۔” طیب رفتہ رفتہ ایک سکالر بنتا جا رہا تھا۔ وہ مختلف جریدوں میں اپنے مضامین شائع کرانے لگا لیکن غلامی کے موضوع پر اس نے کچھ نہیں لکھا۔ گنتی کے چند افراد کے سوا، جو جنوبی سوڈان کے سیاہ فام طلبا تھے، کوئی شخص ایسا نہ تھا جس سے وہ تنہائی میں بھی غلامی کے موضوع پر بات کر سکتا (سوڈان بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں عرب باشندے سیاہ فاموں کو غلام بنائے ہوئے ہیں)۔ میرے سوال پر کہ اس نے بن غازی میں اپنے جسم اور جان کو کیونکر یکجا رکھا، اس نے کندھے اچکا دیے۔ “سب کچھ جدوجہد کا حصہ ہے،” وہ بولا۔ “غیرملکی طلبا کو نوکری کرنے کی اجازت نہ تھی۔ میں اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا کھاتا تھا، کبھی کبھار وہ بھی نہیں۔ کچھ لوگوں نے میری مدد کی۔ کتابیں حاصل کرنا دشوار تھا۔ اور کپڑے۔۔۔ میں اپنے کپڑوں کے بارے میں بہت محتاط ہوں۔ یہ سوٹ۔۔۔” طیب نے اپنے پرل گرے رنگ کے سوٹ کی طرف اشارہ کیا، “میں نے لیبیا میں خریدا تھا، بارہ سال پہلے۔” میری نظروں کو وہ سوٹ بالکل نیا معلوم ہوتا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ اس کے پاس ایک شاندار جلّابیہ بھی ہے جسے اس نے خاص موقعوں پر پہننے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ ان موقعوں کے سوا وہ کبھی اپنے کمرے سے سوٹ پہنے بغیر باہر نہیں نکلتا۔</p>
<p>طیب لیبیائی وکیلوں کی مہارت کا معترف ہے جو بحیرۂ روم کے کنارے آباد پڑوسی ملکوں کے ساتھ پیش آنے والے سامان کی نقل و حمل کے تنازعات کو بہت خوبی سے نمٹاتے تھے۔ اس نے بحری قانون میں اختصاص حاصل کیا اور جزیروں سے متعلق بین الاقوامی قانون کے موضوع پر مقالہ تحریر کیا۔ اس نے اپنی قانون کی ڈگری 1993 میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ تیونس گیا اور وہاں سے دوبارہ مراکش۔ لیکن اسے معلوم ہوا کہ پاسپورٹ کے بغیر اسے کہیں بھی کام نہیں مل سکتا۔ بالآخر اس نے موریتانیہ واپس جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ وہاں چھ ماہ ٹھہرا۔ اس کی صورت حال عجیب وغریب تھی۔ پولیس نے اس کے نواکشوت سے باہر جانے پر پابندی لگا دی تھی اور اسے وقتاًفوقتاً پوچھ گچھ کے لیے اٹھا لیا جاتا۔ لیکن اسے کبھی جیل میں نہیں ڈالا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ بعض موریتانیائی افسر کسی نہ کسی طور طیب کے — یا اس کے واقفکاروں کے — احسان مند تھے اور وہ تحفظ اور پاسپورٹ کے حصول کے لیے ان سے امید لگائے ہوے تھا۔ علاوہ ازیں اس کے آقا کو اسے دوبارہ حاصل کرنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ طیب کا دو بار نواکشوت کی سڑک پر اپنے آقا اور اس کے سفارتکار بھائی سے سامنا ہوا لیکن دونوں بار وہ طیب سے کنی کترا گئے۔ “وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اب میں تعلیم یافتہ ہوں،” اس نے وضاحت کی۔ “وہ جانتے تھے کہ اب میں بول سکتا ہوں۔”</p>
<p>وہ امید بھری کہاوت — کہ تعلیم یافتہ شخص کو غلام نہیں رکھا جا سکتا — آخرکار سچ ثابت ہوئی تھی۔ بلاشبہ ہراتینوں کی تعلیم کے سلسلے میں بیدانوں کی سخت مخالفت کے پیچھے یہی منطق کارفرما ہے۔ اور یہی منطق امریکہ کی ریاست ورجینیا میں 1831 میں منظورکردہ ایک قانون کی پشت پر بھی موجود تھی جس کی رو سے سیاہ فاموں کے لیے (خواہ وہ غلام ہوں یا آزاد) سکول کی تعلیم ممنوع قرار دی گئی، اور بعد میں نافذ ہونے والے ایک اور قانون کی بھی جس کی رو سے پڑھنالکھنا سیکھنے کے لیے ریاست ورجینیا سے باہر جانے والے کسی سیاہ فام کے دوبارہ ورجینیا میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔ (دوسری جنوبی ریاستوں میں بھی اسی قسم کے قوانین نافذ تھے۔) اگرچہ مختلف ادوار میں مختلف قسم کے تعلیم یافتہ غلاموں کا بھی وجود رہا ہے، لیکن ان کی تعداد مستثنیات سے آگے نہیں بڑھی۔ عرب دنیا میں “عبد” یا غلام ہونے کا مطلب، سماجی معنوں میں، انسانیت کے درجے سے کمتر ہونا ہے۔ ارتقائی حیاتیات کے ماہرین اس جسمانی تغیر کا تذکرہ کرتے ہیں جس سے پالتو بنائے جانے والے جانور گزرتے ہیں — رفتہ رفتہ اپنے بڑے دانتوں، لمبے جبڑوں اور اس جبلّی جارحیت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں جو ان کے وحشی اجداد میں موجود تھی۔ غلام بنانے والی نسلیں اپنے غلاموں میں اسی قسم کے تغیرات پیدا کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔ اور یہی وہ عمل ہے جس کی مزاحمت اور نفی میں طیب نے اپنی پوری زندگی صرف کی ہے۔ برونکس میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ اسے بیٹھا دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اس کی انفرادیت کا ایک عجیب اور ہیبت ناک پہلو یہ بھی ہے: کلاس روم میں موجود دوسرے لوگوں کے ساتھ اَور جو بھی ناانصافیاں ہوتی رہی ہوں، ان میں سے کسی کی پرورش کسی ایسے معاشرے میں نہیں ہوئی تھی جو اس کو باربرداری کے جانور میں منقلب کرنے پر مستعد اور منحصر ہو۔</p>
<p>علاوہ ازیں، اس کی جگہ کچھ اور بننا، انسان بننا، ایک کبھی نہ ختم ہونے والا عمل ہے۔ طیب جانتا ہے کہ مراکش میں اس کی تعلیم نے اسے ایک تعلیم یافتہ آدمی بننے میں مدد دی جو عربی ادب، تاریخِ عالم اور اسلامی قانون سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔ اس کے باوجود وہ کہتا ہے “یہ جاننا دشوار، بہت دشوار تھا کہ میں کون ہوں۔ کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ میں کتنی بڑی اذیت سے نکل کر آیا ہوں۔” وہ خاموش ہو جاتا ہے، شاید اس مقام — اس بڑی اذیت — کے بارے میں سوچنے لگتا ہے جہاں سے وہ نکل کر آیا ہے اور ان سب انسانوں کے بارے میں جو اَب تک وہاں ہیں۔</p>
<p>نواکشوت میں اپنے چھ ماہ کے قیام کے دوران اسے ایک بار دس دن کے لیے اپنی ماں کے پاس جانے کی اجازت دی گئی۔ (اس کا باپ 1989 میں، موریتانیہ کو دوبارہ دیکھے بغیر، مر چکا تھا۔) آخرکار طیب کو پاسپورٹ مل گیا، اور امریکہ کا ویزا بھی۔ وہ ہوائی جہاز سے نیویارک آیا جہاں اس کا ایک رشتےدار اپنے سفارتکار آقا (طیب کے آقا کے بھائی) کے ساتھ غلام کے طور پر آیا ہو اتھا۔ اگرچہ طیب کے اس رشتےدار کو اس کے آقا نے امریکہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے دی تھی، طیب نے کہا، “لیکن آقا اور غلام کا رشتہ بدستور قائم رہا۔” اس کے پاس ایک ٹیکسی تھی اور جب کبھی اس کا آقا یا اس کا کوئی مالدار بیدان دوست نیویارک آتا تو اسے اپنی ٹیکسی ان کی خدمت کے لیے وقف کرنی پڑتی تھی۔ طیب اپنے رشتےدار کے ساتھ ہارلم میں واقع فلیٹ میں ٹھہرا جہاں یہ دیکھ کر وہ ہیبت زدہ رہ گیا کہ اس نے دیوار پر سفارتکار اوراس کے خاندان والوں کی تصویریں لگا رکھی ہیں۔ اس نے ایک بار اپنے رشتےدار کو کسی مہمان سے یہ کہتے سنا کہ تصویروں میں دکھائے گئے گوری رنگت کے لوگ اس کے “عم زاد” ہیں۔ طیب اور اس کا رشتےدار ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ “وہ برین واش ہو چکا ہے،” طیب نے کہا، “بہت سے ہراتینوں کی طرح۔” جب طیب کو یمنی مالکوں کی دکانوں میں کام مل گیا تو وہ برونکس میں اپنی جگہ میں اٹھ آیا۔</p>
<p>اس کے فوری منصوبوں میں اپنی انگریزی کی استعداد کو بہتر بنانا شامل ہے تاکہ اسے یہاں کی کسی قانون کی درسگاہ میں داخلہ مل سکے۔ ہراتینوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیے مور یتانیہ واپس جانا اس کا خواب ہے، اور اس کا خیال ہے کہ شاید امریکہ سے حاصل کی ہوئی قانون کی ڈگری ایک ناخوش حکومت کو اس کے خلاف قدم اٹھاتے ہوے کچھ سوچنے پر مجبور کر سکے۔ تاہم امکان یہ ہے کہ اس ڈگری سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا: الحر تنظیم کے بہت سے ارکان اور رہنماؤں کو گرفتاری، تشدد اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس قسم کے کچھ دوسرے لوگوں کو زیادہ نرم برتاؤ کے ساتھ — یعنی سرکاری ملازمتیں دے کر — خاموش کر دیا گیا ہے۔</p>
<p>طیب اور میں مختصر سیروں کے لیے ساتھ شہر سے باہر جانے لگے۔ اس کے ساتھ امریکہ میں گھومتے ہوے مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے میں کسی دوسرے سیارے سے آئے ہوے پُرتجسس فرد کے ساتھ ہوں۔ ٹرین میں نیوانگلینڈ سے گزرتے ہوے ایک جنگلی قطعے میں بےترتیبی سے اِدھر اُدھر بنے ہوے مکان دیکھ کر وہ پوچھتا ہے، “یہ لوگ یہاں درختوں کے درمیان کیوں رہتے ہیں؟” مجھے اس کا کوئی جواب نہیں سوجھتا۔ (“شہروں کا پھیلاؤ؟”) پھر اسے کچھ متحرک مکان نظر آتے ہیں اور وہ ان کے بارے میں سوال کرتا ہے۔ یہ جان کر کہ ان کو کہیں اور تعمیر کیا گیا تھا اور اب ٹرک کے ذریعے سے مطلوبہ جگہ پہنچایا جا رہا ہے، وہ چلّا اٹھا: “بالکل خیموں کی طرح! لوگوں کو یہ مکان دکھائی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، کتنے اچھے خیمے ہیں، اور وہ ان میں رہنے لگتے ہیں۔” پنسلوینیا میں میکڈانلڈ کی ایک بہت بڑی دکان میں، جہاں بےشمار سکول کے بچے لنچ کھانے کے لیے جمع تھے، مجھے آرڈر دینے کے لیے کاؤنٹر پر پہنچنے میں سخت دقت ہو رہی ہے، اور ایک مہربان عورت مجھے پیچھے جا کر ڈرائیواَپ کھڑکی پر آرڈر دینے کا مشورہ دیتی ہے۔ یہ ترکیب کامیاب رہتی ہے اور طیب کہتا ہے، “اس خاتون کو میکڈانلڈ کا بہت تجربہ ہو گا۔ کیا یہ نیکی اس نے ایسٹر کے لیے کی تھی؟” مجھے معلوم نہ تھا کہ لوگ ایسٹر کے موقعے کے لیے نیکیاں کرتے ہیں۔</p>
<p>ایک موقعے پر بوسٹن میں جب ہم بہت دیر ایک نہایت وسیع و عریض زیرِزمین گیراج میں بھٹکنے کے بعد ایک لفٹ سے نکل کر راہداری میں آئے تو ایک دم ہمارا سامنا ورزش کر کے ہانپتے ہوے، پسینے میں شرابور، وحشت بھری آنکھوں والے سفیدفام لوگوں سے ہو گیا جن کے اور ہمارے بیچ محض ایک شیشے کی دیوار تھی اور وہ سب ہِپ ہاپ کی ایک تال پر اجتماعی ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ یہ منظر مجھے اپنی بصارت پر ایک حملہ محسوس ہوا اور میں نے کسی قدر خفیف ہو کر طیب کی طرف دیکھا۔ وہ میری طرف دیکھ کر بےاختیار مسکرایا اور انگوٹھا کھڑا کر کے زور سے بولا، “آزادی!”</p>
<p>مجھے اس سے یہ پوچھتے رہنے کی عادت ہو گئی ہے کہ وہ اس وقت کیا سوچ رہا ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں کہ اکثر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ وہ غلامی کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ زیرِزمین ٹرین میں مین ہیٹن آتے ہوے وہ کہتا ہے، “نیویارک غریب لوگوں سے، بےگھر لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ وہ ہمیں ہر وقت دکھائی دیتے ہیں۔ یہ بہت ہولناک بات ہے۔ لیکن بہرحال ان لوگوں کو پھر بھی کچھ نہ کچھ حقوق حاصل ہیں۔”</p>
<p>معلوم ہوتا ہے کہ مقدس کتابیں کبھی اس کے ذہن سے زیادہ دور نہیں ہوتیں۔ “میں یہودیوں اور سیاہ فاموں کے متعلق عربوں کے عجیب و غریب خیالات کے بارے میں سوچ رہا ہوں،” ایک اور موقعے پر وہ کہتا ہے۔ “آپ کو حضرت ابراہیم کا قصہ یاد ہے؟ ان کی بیوی سارا یہودی تھی۔ اس سے ان کی کوئی اولاد نہ ہوئی تو سارا نے ابراہیم سے کہا کہ ممکن ہے ان کی لونڈی ہاجرہ سے — جو مصر کی رہنے والی اور سیاہ فام تھی — ان کی اولاد پیدا ہو جائے۔ اور پھر ہاجرہ ان سے حاملہ ہو گئی۔ لیکن سارا کو اس سے حسد ہوا اور ہاجرہ گھر سے بھاگ گئی۔ سارے عرب ہاجرہ کے بیٹے اسمعٰیل کی نسل سے ہیں۔ اسی لیے عرب یہودیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ان کے ایسے عجیب خیالات ہیں۔ آپ کو معلوم ہے، انوار سادات کی ماں کون تھی؟ ایک سیاہ فام عورت۔”</p>
<p>ہم دریاے ہڈسن سے اوپر کی طرف واقع نیاک میں اس کے ایک دوست سے ملنے جاتے ہیں جو ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہے۔ سڑک کے کنارے سبزے کو دیکھ کر طیب خوش ہوتے ہوے کہتا ہے، “یہ جگہ بالکل گھانا میں عکرہ اور ٹوگو کی سرحد کے درمیانی علاقے جیسی لگتی ہے۔ میں اس علاقے سے کئی بار گزرا ہوں، جب میں ٹوگو میں داخل ہونے کی کوشش کررہا تھا۔ وہاں بہت ہریالی اور پہاڑیاں ہیں، پیڑ اتنے زیادہ نہیں ہیں۔ آپ بہت دور تک دیکھ سکتے ہیں۔ یہ اُس وقت کی بات ہے جب میں بالکل پاگل تھا: کوئی پیسہ نہیں، کھانے کو کچھ نہیں، اور تعلیم حاصل کرنے کی دُھن۔ میں ٹیکسی میں سفر کرتے ہوے باہر دیکھ کر کہا کرتا تھا: جنت یہی ہے!”</p>
<p>امریکہ میں غلامی مخالف گروپ نامی تنظیم کا بانی اور صدر چارلس جیکبس ہارورڈ کے جان ایف کینیڈی سکول آف گورنمنٹ کی ایک افسر سے بات کر رہا تھا۔</p>
<p>“وہ فریڈرک ڈگلس کی طرح ہے اور میں ولیم لائیڈ گیریسن کی طرح،” جیکبس نے کہا۔</p>
<p>ہم کیمبرج میں ایک ہوٹل کے بار میں بیٹھے تھے اور جیکبس کینیڈی سکول کو معاصر غلامی کے موضوع پر ایک پروگرام کے لیے مالی امداد فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں مختار طیب کو بھی شامل کیا جانا تھا۔ طیب، جس نے اس شام مضافات میں واقع بوسٹن ہائی سکول میں خطاب کیا تھا، تھکا ہوا لگ رہا تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ جیکبس کی بلندآہنگ گفتگو پر دھیان نہیں دے رہا ہے۔ لیکن اس نے اپنے خطاب میں موریتانیہ میں غلامی کا نقشہ کھینچ کر طالب علموں کو حیران کر دیا تھا اور کینیڈی سکول کی افسر بھی اس منصوبے میں دلچسپی لیتی معلوم ہوتی تھی۔</p>
<p>جیکبس ایک سابق انتظامی کنسلٹنٹ ہے۔ وہ پچاس کے لگ بھگ عمر کا ایک لمباچوڑا، پُرجوش آدمی ہے اور خود کو زمانۂ حال میں غلامی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والا مجاہد قرار دیتا ہے۔ اس کے خود کو گیریسن سے، جس نے انیسویں صدی میں امریکہ میں غلامی کے خاتمے کے لیے بہت کام کیا تھا، تشبیہ دینے کا یہی سبب ہے۔ اس کی تنظیم کا پہلا دفتر اس کے اپنے گھر کے ایک کمرے میں قائم ہوا تھا۔ اس کا گھر بوسٹن کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک قدیم اور احتیاط سے رکھی گئی وکٹورین کوٹھی ہے۔ (اب یہ محلہ مضافات کے بجاے شہر کا مرکز بن چکا ہے۔) جب تک جیکبس کی طیب سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس کی تنظیم کی سرگرمیاں سودان پر مرکوز تھیں۔ طیب سے مل کر اسے محسوس ہوا کہ وہ اس کی تنظیم کا ایک بہت موثر ترجمان بن سکتا ہے اور تب سے وہ زیادہ سے زیادہ امریکیوں کو موریتانیہ میں دلچسپی لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چند ہفتے پہلے وہ اور طیب لاس اینجلس گئے تھے جہاں طیب نے ایک کانفرنس میں، جو سائمن وائزنتھال سنٹر کے زیرِاہتمام منعقد ہوئی تھی، حاضرین کو اپنی تقریر سے بےحد متاثر کیا تھا۔</p>
<p>لیکن یوں عوامی اجتماعات میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا طیب کے لیے خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔ اسے ابھی سے بہت سے بیدان افراد کی طرف سے دھمکیاں ملنے لگی ہیں جو ان باتوں پر ناراض ہیں جو وہ موریتانیہ کے بارے میں امریکیوں کو بتا رہا ہے۔ “حکومت مزید کمیسار بھیج رہی ہے،” اس نے کہا۔ “سکیورٹی ایجنٹ۔ سخت گیر لوگ۔ ہمیں محتاط رہنا ہو گا۔” اس نے بتایا کہ الحر تنظیم حالات کی نگرانی کر رہی ہے لیکن اس ملک میں اس کا اطلاعات حاصل کرنے کا نظام کمزور ہے۔ اب تک یہ تنظیم اسی بات پر مطمئن ہے کہ اس کا پیغام امریکہ میں پھیل رہا ہے، اور طیب بھی اس کا پیغام پھیلانے کے کام سے خوش ہے۔ اس شام بوسٹن ہائی سکول کے طلبا نے موریتانیہ کے بارے میں بتائی گئی باتوں کو اپنے ذہن میں بٹھانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی۔ ان کے سوالات کچھ اس قسم کے تھے:<br>
“کیا عرب بچوں کو نہیں سمجھایا جا سکتا کہ غلامی اچھی چیز نہیں ہے؟”</p>
<p>“کیا آپ لوگ پیسے ادا کر کے آزاد نہیں ہو سکتے؟”</p>
<p>“اگر آپ امریکی شہری بن جائیں تو؟”</p>
<p>طیب کی کوشش تھی کہ موریتانیہ میں غلامی کے نظام کی نفسیاتی گہرائیاں سننے والوں کی سمجھ میں آ سکیں اور ان کی توجہ طیب کی انفرادی صورتحال سے ہٹ کر تمام ہراتین لوگوں کی مصائب کی طرف منعطف ہو سکے۔ “یہ کسی فرد کا مسئلہ نہیں ہے،” اس نے کہا۔ ایک اور نکتے پر اس نے کہا، “میں ایک ایسا شخص ہوں جو دو دنیاؤں کے بیچ پھنسا ہوا ہے۔ یہاں بوسٹن میں میں آزاد ہوں۔ مگر ساتھ ہی ساتھ میں غلام بھی ہوں۔”</p>
<p>امریکیوں — نوجوانوں اور بڑی عمر والوں، سیاہ فاموں اور سفیدفاموں — کے سامنے طیب کو غلامی کے موضوع پر بولتے ہوے سننا بہت انکشاف انگیز ثابت ہوتا ہے۔ غلامی کے بارے میں، اس موضوع پر لکھنے والے مورخوں تک کے درمیان، مجموعی طور پر دو نقطۂ نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ غلامی “سماجی موت” کے مترادف ہے، یعنی ایک مطلق حالت ہے، جس کا خلاصہ ایک شمالی افریقی کہاوت کے ذریعے بخوبی کیا جا سکتا ہے: “اگر آقا نہ ہو تو غلام کا کوئی وجود نہیں۔” دوسرا نقطۂ نظر رکھنے والے غلامی کو ایک تدریجی حالت قرار دیتے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غلامی کی صورتیں بےشمار اور ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں، اور یہ صورتیں بھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں، اور پھر یہ کہ غلاموں کو جو تھوڑی بہت سماجی قوت حاصل ہوتی ہے اس کو استعمال کر کے وہ اپنی حالت کو مستحکم بلکہ بہتر بھی کر سکتے ہیں۔ طیب، غلامی کی لعنت کے خلاف آزادی سے محبت رکھنے والوں کے جذبات بیدار کرنے کے لیے مطلق حالت والے موقف کا اظہار کرنے کے باوجود، ذاتی طور پر غلاموں اور آقاؤں کے درمیان طاقت کے رشتوں کو اہمیت دینے والے دوسرے موقف کا قائل ہے۔ اس کے امریکی سامعین عموماً پہلا یعنی مطلق حالت والا نقطۂ نظر رکھتے ہیں، جن کے لازمی اجزا میں زنجیروں، کوڑوں اور بدترین سفاکیوں کے تصورات شامل ہوتے ہیں۔</p>
<p>لیکن امریکی شہری طیب کی بات پر مختلف زاویوں سے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔ ایک افریقی نژاد امریکی آرتھر فلر نے، جو کنکٹی کٹ کے ایک مڈل سکول میں ریاضی کا استاد تھا، طیب کی کہانی کے بارے میں ایک سی ڈی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کا سکول ایک متموّل بستی میں قائم ہے، لیکن وہ اندرون شہر کے ایک پسماندہ محلے کے سکول میں بھی کام کرتا ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ طیب کی کہانی غریب سیاہ فام طالب علموں کو محنت پر اکسانے کے لیے بےپناہ امکانات رکھتی ہے۔ “یہ ایک نہایت مثبت کہانی ہے،” فلر نے مجھے بتایا۔ “دیکھو، یہ شخص غلام پیدا ہوا تھا۔ اب اس کے پا س قانون کی ڈگری ہے۔ اس لیے تمھارے پاس — خواہ تمھاری صورت حال کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو، تم کتنے ہی بدحال محلے سے کیوں نہ آئے ہو — کامیاب نہ ہونے کا کوئی جواز نہیں۔ کوئی بہانہ نہیں!” فلر نے زور دار، خوشی سے بھر پور قہقہہ لگایا۔ اس کا ارادہ ہے کہ اس سی ڈی کا نام “علم کی جستجو” رکھے۔</p>
<p>کینیڈی سکول کی افسر نے کہا، وہ غلامی کے بارے میں اس پروگرام کی تجویز اپنے دفتر والوں کے سامنے رکھے گی۔ اس نے اور چارلس جیکبس نے ایک دوسرے سے ملاقاتی کارڈوں کا تبادلہ کیا۔ بعد میں، اپنے گھر لوٹ کر، جیکبس نے خیال ظاہر کیا کہ ملاقات اچھی رہی اور کچھ نہ کچھ مثبت نتیجہ نکلنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ “لیکن سودان کے سلسلے میں مدد حاصل کرنا اس سے کہیں زیادہ آسان ہے،” اس نے ٹھنڈی سانس لی۔ “معلوم ہے کیوں؟ اس لیے کہ وہاں غلامی کا نشانہ بننے والے لوگ مسیحی ہیں۔ چنانچہ ہمیں یہاں اور یوروپ دونوں جگہ کے مسیحی گروپوں کی طرف سے بہت مدد مل جاتی ہے۔ جب غلام بنائے جانے والے لوگ مسلمان ہوں تو ایسا کوئی گروہ نہیں جو فطری طور پر ان کے ساتھ ہو۔ فراخان اور نیشن آف اسلام نے اس مسئلے پر خود کو بالکل بے وقت ثابت کیا ہے۔ لیکن اگر ہم اس بات کی طرف اشارہ کریں تو وہ فوراً کہیں گے کہ میں یہودی ہوں۔”</p>
<p>سودان میں غلام رکھے جانے والے بیشتر لوگ بلاشبہ مسیحی نہیں بلکہ قدیم افریقی مذاہب کے پیرو ہیں۔ لیکن اگرچہ جیکبس نے افریقہ کا کبھی سفر نہیں کیا، پھر بھی اس کی بات درست ہے: اناجیلی مسیحی گروپوں نے سودان میں غلامی کے دوبارہ رواج پانے کے عمل کو سامنے لانے کے سلسلے میں بہت کام کیا ہے۔</p>
<p>طیب کے چند موریتانیائی دوست ہیں جو واشنگٹن ڈی سی میں رہتے ہیں۔ ہم جا کر ان سے ملنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ میں، تاریخ سے اس کے شغف کے پیش نظر، گیٹس برگ کا راستہ اختیار کرتا ہوں۔ ہم اس عظیم میدان جنگ کی نرم، سرسبز پہاڑیوں پر چلتے ہیں اور اینگل نامی مقام پر آ کر، جہاں یونین کی فوج نے پکیٹ کا حملہ روک دیا تھا اور ایک گھنٹے کے اندر اندر پانچ ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ “غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے اتنا کچھ، اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوا،” طیب آہستہ سے کہتا ہے۔ بعد میں ایک یادگار کی دیوار پر، جو اس جگہ کے قریب تعمیر کی گئی ہے جہاں لنکن نے گیٹس برگ کا خطبہ دیا تھا، اس خطبے کا متن پڑھتے ہوے طیب مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ کر دیتا ہے۔ تمام نامانوس الفاظ، مفہوم کے اندر چھپے ہوئے معنی، سب اس کے لیے بےحد دلچسپی کا باعث ہیں۔ تفصیلات، امتیازات، پیچیدگی اور زبان اور حافظے کی مسلّم اہمیت کے لیے اس کے دل میں عالمانہ احترام ہے۔ اور تاریخ کا یہ احساس اپنی ہولناک سنگینی کے ساتھ، ایک اور روپ میں، اگلے ہی روز ظاہر ہوتا ہے۔ ہم گھومتے ہوے واشنگٹن میوزیم کے ایک حصے میں جا نکلتے ہیں جہاں اٹھارھویں صدی کے ایک سمندری جہاز کی باقیات رکھی ہیں جو کیپ کوڈ کے قریب ڈوب گیا تھا۔ پرانی توپوں اور چاندی کی اشیا کے درمیان ہم ایک زنگ لگی آہنی بیڑی کو دیکھ کر رک جاتے ہیں جو غلاموں کی تجارت کے سلسلے میں اس جہاز کے استعمال کی شاہد ہے۔ طیب اس بیڑی کو تکتا رہتا ہے۔ “انسانی تاریخ بہت طویل ہے،” وہ دھیمی آواز میں کہتا ہے، “اور ہمیں ایک ایک قدم کر کے چلنا ہو گا۔ ایک ایک قدم۔”</p>
<p>ہم مبراک نامی نوجوان کے ساتھ واشنگٹن کے آفس بلاک کے کنارے پر واقع ایک کم فرنیچر والے سٹوڈیو میں ٹھہرتے ہیں۔ اگرچہ طیب کا گرمجوشی سے خیرمقدم ہوتا ہے، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ ہماری آمد غیرمتوقع ہے۔ “فکر مت کیجیے،” طیب مجھے بتاتا ہے۔ “یہ افریقیوں کا گھر ہے۔ ایک کھلا گھر۔ یہاں کون آئے گا، کون یہاں سوئے گا، اس پر کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ ہمیں آنے والوں کا خیرمقدم کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہم نومادی ہیں۔” اس لفظ پر میرے تاثر سے نہ سمجھ پانے کا اظہار ہوا ہو گا۔ طیب ہنستا ہے۔ “خانہ بدوش!”</p>
<p>مبراک فوراً گلاسوں میں چائے پیش کرتا ہے جو چھوٹے کالے ریچھوں کی شکل کے بنے ہوے ہیں جن کے سر ہلکے زرد رنگ کے ہیں۔ پھر وہ کھانے کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔ دو اور موریتانیائی بھی آ جاتے ہیں جو طیب کے دوست ہیں۔ تیز لہجے میں بولی جانے والی عربی اور بےتحاشا قہقہوں سے ساری فضا بھر جاتی ہے۔ طیب کی شخصیت حیران کن طور پر منقلب ہو گئی ہے، بالکل اسی طرح جیسے “غلام عورت کا کیسٹ” سنتے وقت ہوا تھا۔ انگریزی زبان بولتے وقت احتیاط اور تامّل سے بات کرنے والا طیب عربی بولتے ہوے پُرجوش اور پُراعتماد، بلکہ باتونی، بن جاتا ہے۔ اس کے لطیفے سن کر اس کے دوست بےاختیار قہقہے لگاتے ہیں۔ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ یہ لو گ کس بات پر ہنس رہے ہیں۔ مبراک بڑی سی قاب میں بھیڑ کے گوشت، پاستا، سلاد اور خس خس پر مشتمل کھانے لے کر آتا ہے اور اسے فرش پر کمرے کے بیچوں بیچ رکھ دیتا ہے۔ ہم سب مل کر ایک ہی قاب میں ہاتھوں سے کھاتے ہیں، اور گفتگو کی رفتار دھیمی ہونے پر میں اس کے کچھ حصے کی ترجمانی کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہوں۔</p>
<p>معلوم ہوتا ہے کہ طیب کے عوامی سطح پر مہم شروع کرنے کے بارے میں ملی جلی رائے پائی جاتی ہے۔ اس کے دوستوں میں سے کم ازکم ایک یہ جان کر خاصا فکرمند ہے — اور غالباً ناخوش بھی — کہ میں صحافی ہوں۔ اس گروپ کے تقریباً سب لوگ ہراتین نسل کے ہیں، اور سب کے سب، کسی نہ کسی سطح پر غلامی کے خلاف تحریک میں شامل ہیں۔ طیب واضح طور پر الحر تنظیم کا ایک سینئر رکن ہے لیکن دوسرے افراد اس میں اگر کوئی مقام رکھتے ہیں تو اس کی توضیح نہیں کی جاتی۔ ان میں سے ایک شخص ایک معروف آزاد ہراتین خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ درحقیقت اس کا چچا مختصر سی مدت کے لیے امریکہ میں موریتانیہ کا سفیر بھی رہ چکا ہے۔ اس واقعے کو تاسف آمیز ہنسی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ “حکومت تعلیم یافتہ ہراتینوں کی تلاش میں رہتی ہے تاکہ دنیا کو دکھا سکے کہ ہم لوگ اب غلام نہیں ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “اس طرح انھوں نے نے ایک ہراتین کو سفیر بنا کر یہاں بھیج دیا۔ یہ ان کے لیے بہت عمدہ پروپیگنڈا تھا۔ مگر پھر وہ نافرمان ہو گیا۔ امریکی اخباروں سے غلامی کے بارے میں بات کرنے لگا! حکومت نے سال پورا ہونے سے پہلے اسے ہٹا دیا۔”</p>
<p>اس گروپ کا ہر شخص، کم ازکم جزوقتی طور پر، طالب علم ہے اور ان مواقع پر اور اس آزادی کے بارے میں جو ان کو یہاں دستیاب ہے، واضح طور پر پُرجوش ہے۔ لیکن موریتانیہ کے بارے میں امریکی پالیسی کا معاملہ دوسرا ہے۔ ایک وقت میں، مجھے بتایا جاتا ہے، امریکہ موریتانیہ میں غلامی کے رواج کی متواتر مذمت کرتا تھا، اور وہاں کی حکومت کو باقاعدگی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم ٹھہراتا تھا۔ اقتصادی دباؤ بھی ڈالا گیا اور غلامی مخالف تحریک کو محسوس ہونے لگا کہ اسے امریکی حمایت حاصل ہے۔ پھر یہ ہوا کہ وہاں کی حکومت نے، جو مدتوں سے صدام حسین کے نزدیک رہی ہے، بلکہ خلیج کی جنگ کے دوران عراق کی حمایت بھی کر چکی ہے، 1995 میں یکایک یہ فیصلہ کیا کہ اسے امریکی امداد کی ضرورت ہے اور اس نے اقوام متحدہ کے اجلاسوں میں امریکہ کی حمایت اور صدام حسین کی مخالفت میں ووٹ دینا شروع کر دیا۔ “بلاشبہ صدام کے ہم بھی خلاف ہیں،” طیب کہتا ہے، “ہم بھی مشرق وسطیٰ میں امن کے خواہاں ہیں۔ مگر اب اچانک امریکی محکمۂ خارجہ نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ موریتانیہ میں غلامی کا کوئی وجود نہیں، صرف غلامی کی باقیات موجود ہیں۔” مبراک اور اس کے دوست منھ بنا کر تلخی سے “باقیات” کا لفظ بڑبڑاتے ہیں۔ “یہ موریتانیہ کی حکومت کے لیے صدام کی مخالفت کرنے کا انعام ہے۔”</p>
<p>پس منظر میں ٹی وی چل رہا ہے۔ جب گفتگو دوبارہ عربی میں شروع ہو جاتی ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ ٹی وی پر نکولس کیج اور لارا ڈرن ایک قدیم زمانے کی کنورٹیبل میں لہراتے پھر رہے ہیں، ہر چند منٹ بعد مباشرت کرتے ہیں، اور جب مباشرت نہ کر رہے ہوں تو اپنی مباشرت کی شعریات اور مابعدالطبیعیات پر گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ مبراک کے کمرے میں موجود کوئی اور شخص ٹی وی کی طرف نگاہ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ ان کے لیے یہ محض مغربی لذت پسندی ہے جس کے دلکش، بےباک مناظر ہمیشہ کچھ دوری پر دکھائی دیتے رہتے ہیں۔</p>
<p>یا شاید یہ مناظر اتنے دلکش بھی نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ طیب نے مجھے بتایا تھا کہ کس طرح اسے ہارلم میں اپنے رشتےدار کے ساتھ رہتے ہوے رَیپ میوزک سے نفرت ہو گئی تھی کیونکہ وہ دن رات اونچی آواز میں بجایا جاتا تھا۔ “گندے الفاظ!” اس نے کہا تھا، “کوئی تہذیب نہیں، کوئی موسیقی نہیں۔” میں نے اس کے سامنے گینگسٹر رَیپ میوزک کی بہیمیت کی وہی توجیہہ پیش کی جو عموماً پیش کی جاتی ہے، یعنی یہ کہ یہ ایک بہیمانہ دنیا کا ایماندارانہ عکس ہے، وغیرہ وغیرہ۔ لیکن وہ اس توجیہہ سے مطمئن نہ ہوا۔ “دکھ اٹھا کر لوگ حسین موسیقی بھی تو پیدا کرتے ہیں،” اس نے کہا۔ “خود اس ملک میں غلامی نے خوبصورت موسیقی پیدا کی ہے — گوسپل، بلوز، جاز۔ یہ موسیقی خوبصورت نہیں ہے۔” افریقی انقلابی — کیونکہ طیب موریتانیہ کے تناظر میں ایک انقلابی ہے — تہذیبی اعتبار سے قدامت پسند بھی ہے، میں نے سوچا۔</p>
<p>اور اس کا وطن واپسی کا منصوبہ بھی کسی طرح عظیم الشان نہیں ہے۔ اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا، کہ وہ اعیون العطروس کے دیہی علاقے میں، جہاں وہ پیدا ہوا تھا، خاموش اور پُرسکون زندگی بسر کرنے کا خواہش مند ہے۔ وہ قانون کی پریکٹس کرنا چاہتا ہے تاکہ مفلس ہراتینوں کے مقدموں کی سول اور شرعی عدالتوں میں پیروی کر سکے، ان کو آزاد لوگوں کے حقوق دلوا سکے، جن میں ان زمینوں کے مالکانہ حقوق بھی شامل ہیں جن پر وہ محنت کرتے ہیں۔ وہ ایک چھوٹا سا مکان بنائے گا، اور اس میں بجلی کی فٹنگ خود کرے گا، اور اس کو کتابوں سے بھر دے گا۔</p>
<p>طیب اور اس کے دوستوں کو باتیں کرتا دیکھ کر مجھے اچانک خیال آیا کہ اگرچہ یہ لوگ یہاں بس کنڈکٹر، پلمبر اور ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں — یعنی امریکہ کے سماجی حفظِ مراتب میں تقریباً زیریں ترین مقام پر مشقت کرنے والے افریقی تارکینِ وطن میں شامل ہیں — ان سب کو ایک نہ ایک دن وکیل، تاجر یا انتظامی ماہر بن کر موریتانیہ واپس جانے کی امید ہے۔ لیکن ان کے ہراتین نسل سے تعلق کے باعث ان کی کامیابی کا سارا دارومدار وطن میں آنے والی سیاسی تبدیلیوں پر ہے۔ اور پھر ان میں سے ہر ایک طیب کی طرح شناخت کے قدیم جامد ساختوں کے خلاف کشمکش، یعنی اپنے ذہن سے صدیوں کی غلامی کے اثرات دور کرنے کی جدوجہد، میں بھی مصروف ہے۔ اب بھی طیب کو ہر صبح نیویارک میں یمنی مالکوں کی دکانوں پر انتہائی عامیانہ اور گہری عرب نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ “وہ اب بھی مجھے عبد کہتے ہیں،” اس نے ایک بار مجھے بتایا تھا۔ “وہ ناخواندہ ہیں۔ میں ان کے بہت سے ایسے کام کرتا ہوں جو وہ خود نہیں کر سکتے، لیکن وہ اب بھی تمام سیاہ فاموں کو غلام ہی سمجھتے ہیں۔”</p>
<p>سکرین پر ڈینس روڈمین کی شکل دکھائی دیتے ہی سب کی توجہ ٹی وی کی طرف ہو جاتی ہے۔ اس کی حرکات پر تعریفی ہنسی کا ردعمل ہوتا ہے۔ “موریتانیہ میں بھی اس قسم کے مسخرے ہوتے ہیں،” طیب وضاحت کرتا ہے۔ “وہ آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر چیز ان کی مخالف ہے، جبکہ درحقیقت وہ خود ہر چیز کے مخالف ہیں۔ یہ لوگ بہت مضحکہ خیز ہیں۔”</p>
<p>رفتہ رفتہ لوگ شب بخیر کہہ کر رخصت ہوتے جاتے ہیں۔ مبراک موبائل فون اور ٹی وی کا ریموٹ کنٹرول لے کر اپارٹمنٹ کے واحد بستر پر دراز ہو جاتا ہے۔ طیب کاؤچ پر لیٹ جاتا ہے، جو میرے لیے بہت چھوٹا ہے۔ میں ایک پتلا سا گدّا بچھا کر، جو مجھے کونے میں لپٹا ہوا دکھائی دیا تھا، فرش پر سو جاتا ہوں۔ صبح کے وقت، نیم بیداری میں، میں طیب کو، جو بہت سحرخیز ہے، اپنے معمول کے کاموں میں تیزرفتاری، خاموشی اور انہماک کے ساتھ مصروف دیکھتا ہوں۔ وہ نہاتا ہے، شیو کرتا ہے، کپڑے بدلتا ہے: بے داغ کوٹ اور ٹائی۔ پھر کونے میں جا کر خاموشی سے نماز پڑھتا ہے۔ اس کے بعد اپنے وِنائل کے سفری تھیلے میں سے دعاؤں کی سبز کتاب نکال کر آدھ گھنٹے تک اس کا مطالعہ کرتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی جیبوں اور اپنے بیگ سے بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے کاغذوں کے پرزے برآمد کرتا ہے اور انھیں کاؤچ پر اپنے چاروں طرف پھیلا کر ان کا بغور جائزہ لینے لگتا ہے۔ میرا تجسس بیدار ہو جاتا ہے اور میں نیم غنودہ آواز میں پوچھتا ہوں کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ “ووکیبلری!” وہ کہتا ہے۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>چارلس جیکبس چاہتا تھا کہ طیب مستقل طور پر بوسٹن منتقل ہو جائے اور غلامی مخالف گروپ میں کل وقتی مصروفیت اختیار کر لے۔ اس نے لوگوں سے کہنا بھی شروع کر دیا کہ طیب بوسٹن آنے والا ہے۔ طیب اس پر حیران رہ گیا۔ اس کا خیال تھا کہ جیکبس اس کے ساتھ ضرورت سے زیادہ بےتکلفی برت رہا ہے، اور کسی ہچکچاہٹ کے بغیر بےشمار لوگوں سے طیب کے ماضی (بطور غلام) اور مستقبل (بطور اس کی تنظیم کے ترجمان) کا تذکرہ کرتا پھر رہا ہے۔ جیکبس کو خود بھی مبہم سا ہی اندازہ تھا کہ طیب کا اس کی تنظیم میں قطعی طور پر کیا کردار ہو گا۔ طیب نے اسے اس کی پیشکش کی شرائط کاغذ پر لکھ کر دینے کو کہا: عہدہ، ذمے داریاں، تنخواہ وغیرہ۔ اب حیران ہونے کی باری جیکبس کی تھی۔ اس کے ذہن میں جو خیال تھا وہ خاصا غیررسمی نوعیت کا تھا۔ اور یہی وہ بات تھی جس کا طیب کو سب سے زیادہ خوف تھا۔ وہ بالکل غریب تھا اور اسے ان تقریروں کا معاوضہ درکار تھا جن کا انتظام جیکبس کر رہا تھا۔ اور وہ یہ بات بھی یقینی طور پر معلوم کرنا چاہتا تھا کہ امریکیوں کو اپنے غمناک بچپن کا حال سنانے کے علاوہ اس کی دوسری ذمےداریاں کیا ہوں گی۔ اس کی اس کہانی کو دہراتے رہنے کی خواہش محدود تھی۔ یہ ایک دردناک کہانی تھی، اور وہ خود ایک مفرور غلام کے علاوہ کچھ اور بھی تھا۔ وہ ایک وکیل، سکالر اور سیاسی کارکن تھا۔ علاوہ ازیں، خود اس کی تنظیم الحر کی پالیسی اپنے ارکان کو ان کی انفرادی کہانیوں پر زور دینے سے باز رکھنے کی تھی۔</p>
<p>جیکبس نے طیب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ امریکی حاضرین صرف انفرادی کہانیوں کو سن کر ہی متاثر اور کسی ناانصافی کے شکار لوگوں کی مدد پر آمادہ ہوتے ہیں۔ اگرچہ اپنے زخموں کی نمائش کرنے سے طیب کا احتراز قابل فہم ہے، لیکن اس طرح اسے غلامی کے خاتمے کے لیے مدد حاصل کرنے کا ایک ناقابل یقین موقع مل رہا ہے۔ جیکبس کی مدد سے یہ ممکن ہے کہ وہ اعلیٰ ترین حلقوں تک رسائی حاصل کر سکے اور وہاں اس کی بات سنی جائے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی اکیلے یہ کام انجام نہیں دے سکتا۔ طیب کے پاس محض ایک سیاسی کارکن ہونے سے کہیں آگے جانے کا موقع ہے۔ وہ گاندھی، فریڈرک ڈگلس اور کوامے نکروما کی طرح ایک مثالی کردار بن سکتا ہے۔</p>
<p>طیب نے جیکبس کے دلائل کو دلچسپی سے سنا لیکن یہ دلائل خود اس کے ان خیالات کو تبدیل نہ کر سکے کہ اسے اپنے لوگوں کی مدد کیونکر کرنی ہے۔ وہ بوسٹن منتقل نہیں ہوا۔ وہ اب بھی جیکبس اور اس کی تنظیم کے ساتھ کام کرتا ہے، اور عوامی مجمعوں سے خطاب بھی کرتا ہے، لیکن اپنی شرائط پر، اور شاید الحر کی شرائط پر۔ جیکبس نے جو بات دریافت کی وہ میرے خیال میں وہی تھی جس کا انکشاف اعیون العطروس میں طیب کے آقا پر ہوا تھا، یعنی یہ کہ طیب ایک انتہائی ضدی اور مشکل مخلوق ہے۔ (اگر وہ ایسا نہ ہوتا تو اب تک ایک ناخواندہ غلام کی زندگی گزار رہا ہوتا۔) اس میں تیسری دنیا کی آزادی کی تحریکوں کے وابستہ مثالی کرداروں — گاندھی اور نیلسن منڈیلا — کے ساتھ ایک طرح کی مشابہت موجود ہے: یہ دونوں بھی مضبوط ذہن والے وکیل تھے جو اپنے حریفوں کے ساتھ حددرجہ شائستگی سے پیش آتے تھے جس کی تہہ کے نیچے ایک فولادی عزم کی سختی چھپی ہوئی تھی۔ اور طیب کو آپ زیرِزمین ریل میں سفر کرتا دیکھ سکتے ہیں۔ وہ وہی دبلاپتلا، سیاہ رنگ والا تارک وطن ہے، پسماندہ لوگوں کے نیویارک میں تقریبا گمشدہ، جو اپنی قیمتی ووکیبلری پر نگاہ جمائے، اپنے کام پر جا رہا ہے جہاں دکان کے مالک اب بھی اسے “عبد” کہہ کر پکارتے ہیں۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/ek-ghulam-newyork-mein/">ایک غلام نیویارک میں (تحریر: ولیم فنیگن، انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/ek-ghulam-newyork-mein/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>قالین (تحریر: حنان الشیخ، ترجمہ: اجمل کمال)</title>
		<link>https://laaltain.pk/qaleen/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/qaleen/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 20 Jun 2020 12:23:17 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[Hanan al-Shaykh]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[حنان الشیخ]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25293</guid>

					<description><![CDATA[<p>میں نے ان کے بالوں کی مہک سونگھی جو ذرا بھی نہ بدلی تھی، اور مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میں نے ان کی جدائی کو کس قدر محسوس کیا تھا</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qaleen/">قالین (تحریر: حنان الشیخ، ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>حنان الشیخ</strong> نومبر 1945 میں بیروت لبنان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے کچھ عرصہ ‘النھار’ اخبار میں کام کیا۔ آپ کی تصانیف مشرق وسطیٰ کے قدامت پسند معاشرے میں خواتین کے روایتی کردار کو چیلنج کرتی ہیں۔ حنان الشیخ اب اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم ہیں۔</p>
<p><strong> اجمل کمال</strong> گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔</p>
<p>یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ کہانی اجمل کمال نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ طاہر رسول کی آواز میں اس کہانی کا آڈیو ورژن <a href="https://www.youtube.com/channel/UCenpBcS2okUzVHYiKKEijyQ/featured" target="_blank" rel="noopener noreferrer">“آج” کے یوٹیوب چینل</a> پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور گھنٹی کے نشان پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔</p>
<p>سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:<br>
03003451649<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>حنان الشیخ<br>
انگریزی سے ترجمہ: اجمل کمال</p>
<p>جب مریم میرے بالوں کو چھوٹی چھوٹی دو چوٹیوں میں گوندھ چکی تو اس نے انگلی منھ تک لے جا کر اس کے سرے کو زبان سے تر کیا، پھر اسے میری بھنووں پر پھیرتے ہوے آہستہ آواز میں کہنے لگی، “آہ، تمھاری بھنویں کیا خوب ہیں، پورا گھر ان کے سائے میں لگتا ہے۔” پھر وہ تیزی سے میری بہن کی طرف مڑی اور اس سے بولی، “جا کر دیکھو، کیا تمھارے ابا اب تک نماز پڑھ رہے ہیں۔” اس سے پہلے کہ میں جان سکوں، میری بہن جا کر واپس آچکی تھی اور سرگوشی میں کہہ رہی تھی، “ہاں، اب تک پڑھ رہے ہیں۔” اس نے ان کی نقل کرتے ہوے اپنے ہاتھ اٹھائے اور انھیں آسمان کی طرف بلند کیا۔ میں ہنسی نہیں جیسے ہمیشہ کرتی تھی۔ مریم بھی نہیں ہنسی۔ بجاے اس کے، اس نے کرسی پر سے اپنی اوڑھنی لی اور بالوں کو اس سے ڈھانپ کر جلدی سے اسے گردن کے گرد لپیٹ لیا۔ پھر بہت احتیاط سے الماری کھول کر اس نے اپنا تھیلا نکالا، اسے بغل میں دبایا اور اپنا ایک ایک ہاتھ ہم دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ ایک ہاتھ میں نے پکڑ لیا اور دوسرا بہن نے۔ ہم سمجھ گئے کہ ہمیں بھی اس کی طرح دبے پاؤں، سانس روک کر سامنے کے کھلے ہوے دروازے کی جانب چلنا ہے۔ سیڑھیوں سے اترتے ہوے ہم نے مڑ کر دروازے کو دیکھا، پھر کھڑکی کو۔ آخری سیڑھی تک پہنچ کر ہم دوڑنے لگے اور اس وقت تک نہ رکے جب تک گلی نظروں سے اوجھل نہ ہو گئی اور ہم نے سڑک پار نہ کر لی اور مریم نے ٹیکسی نہ روک لی۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/8sJbqmEEJ8E" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>ہمارے اس طرزِعمل کا سبب خوف تھا، کیونکہ آج ہم امی کے طلاق لے کر ابا کے گھر سے چلے جانے کے بعد پہلی بار ان سے ملنے جا رہے تھے۔ ابا نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ امی کو کبھی ہماری صورت نہیں دیکھنے دیں گے، کیونکہ طلاق کے چند ہی گھنٹوں بعد خبر پھیل گئی تھی کہ وہ اُس شخص سے شادی کرنے والی ہیں جس سے وہ، اپنے والدین کے مجبور کرنے پر ابا سے شادی کرنے سے پہلے، پیار کرتی تھیں۔</p>
<p>میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا، خوف سے یا دوڑنے کی وجہ سے نہیں بلکہ امی سے ہونے والی ملاقات کے اشتیاق اور گھبراہٹ کے احساس کی وجہ سے۔ میں نے خود پر اور اپنی شرم پر قابو پا رکھا تھا، پھر بھی میں جانتی تھی کہ خواہ کتنی ہی کوشش کروں، میں اپنی ماں کے سامنے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میرے اختیار سے باہر تھا کہ امی سے لپٹ جاؤں، انھیں بوسے دینے لگوں اور ان کا سر سینے سے بھینچ لوں، جبکہ بہن یہ سب بڑی بےساختگی سے کر سکتی تھی۔ جس وقت مریم نے مجھ سے اور بہن سے سرگوشی میں کہا تھا کہ ہم اگلے روز امی سے ملنے جانے والے ہیں، تبھی سے میں اس مستقل اور شدید فکر میں غرق تھی۔ میں نے تصور کرنا شروع کر دیا تھا کہ میں وہی کروں گی جو بہن کرے گی؛ میں اس کے پیچھے کھڑی ہو جاؤں گی اور اس کی حرکات کی نقالی کرنے لگوں گی۔ مگر میں اپنے آپ کو جانتی ہوں: میں نے خود کو خود پر حرف بہ حرف نقش کر رکھا ہے۔ میں کتنا ہی خود کو آمادہ کرنے کی کوشش کروں، کتنا ہی پہلے سے سوچ کر رکھوں، اصل صورت حال کا سامنا ہونے پر، فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑے ہوے، جبکہ میری پیشانی پر پڑے ہوے بل اَور گہرے ہو رہے ہوں گے، مجھے معلوم ہو گا کہ میں وہ سب کچھ بھول چکی ہوں جو میں نے طے کیا تھا۔ گو اس کے باوجود میں امید ترک نہیں کروں گی اور اپنے دہن سے ایک خفیف مسکراہٹ پیدا کرنے کی التجا ضرور کروں گی، جو، بہرحال، بےاثر ہی ثابت ہو گی۔</p>
<p>جب ٹیکسی ایک مکان کے دروازے کے سامنے رکی جہاں سرخ سنگی ستونوں پر دو شیر کھڑے تھے، تو میرا دل خوشی سے بھر گیا اور اندیشے میرے ذہن سے یک لخت محو ہو گئے۔ میں اس خیال پر مسرت سے مغلوب ہو گئی کہ امی ایک ایسے مکان میں رہ رہی ہیں جہاں صدر دروازے پر دو شیر کھڑے ہیں۔ میں نے بہن کی آواز سنی جو شیر کے دہاڑنے کی نقل اتار رہی تھی، اور رشک سے اس کی طرف دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اپنے پنجے پھیلا کر اشارے سے شیر کو گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میں نے دل میں کہا: یہ ہمیشہ پیچیدگی سے آزاد اور خوش طبع رہتی ہے۔ اس کی خوش دلی کبھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑتی، انتہائی نازک لمحوں میں بھی نہیں۔ وہ میرے سامنے تھی اور ہونے والی ملاقات کے بارے میں ذرہ بھر فکرمند نہیں تھی۔</p>
<p>لیکن جب امی نے دروازہ کھولا اور میری نظر ان پر پڑی تو میں نے خود کو بےصبر اور بےتاب پایا اور دوڑ کر بہن سے بھی پہلے ان سے لپٹ گئی۔ میری آنکھیں بند ہو گئی تھیں اور میرے بدن کے جوڑ اس آسائش سے اتنے دنوں تک محروم رہنے سے سُن ہو گئے تھے۔ میں نے ان کے بالوں کی مہک سونگھی جو ذرا بھی نہ بدلی تھی، اور مجھ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ میں نے ان کی جدائی کو کس قدر محسوس کیا تھا اور، اس کے باوجود کہ ابا اور مریم ہمارا اتنا خیال رکھتے تھے، میں نے کس قدر چاہا تھا کہ وہ لوٹ آئیں اور ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔ امی کی اُس وقت کی مسکراہٹ میرے ذہن سے محو نہ ہوتی تھی جب، ان کی خود پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا لینے کی دھمکیوں کے بعد اور مولوی کی دخل اندازی پر، ابا انھیں طلاق دینے پر رضامند ہو گئے تھے۔ میری تمام حِسیں ان کی خوشبو کے اثر سے کُند ہو گئی تھیں جو میرے حافظے میں اچھی طرح محفوظ تھی۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے ان کی جدائی کس قدر کھل رہی تھی، اس کے باوجود کہ جب وہ ہم دونوں کو بوسے دینے کے بعد، اپنے بھائی کے پیچھے تیز قدموں سے چلتی ہوئی، کار میں جا بیٹھی تھیں تو ہم دوبارہ گھر کے باہر گلی میں جا کر اپنے کھیل میں لگ گئے تھے۔ پھر جب رات آئی، اور ایک طویل عرصے بعد ہمیں امی کے ابا سے تکرار کرنے کی آواز سنائی نہ دی، تو ہمارے گھر پر امن اور سکون کی فضا چھا گئی جس میں صرف مریم کے رونے کی آواز مخل ہوتی تھی جو ابا کی رشتےدار تھی اور میری پیدائش کے وقت سے ہمارے ساتھ رہ رہی تھی۔</p>
<p>امی نے مسکراتے ہوے مجھے خود سے جدا کیا تاکہ بہن کو لپٹا کر پیار کر سکیں، پھر وہ مریم سے بھی بغلگیر ہوئیں جو رونے لگی تھی۔ امی کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے اور میں نے انھیں مریم کا شکریہ ادا کرتے سنا۔ انھوں نے آستین سے آنسو پونچھے اور مجھ پر اور بہن پر سر سے پاؤں تک نگاہ ڈالی اور کہا: “اللہ انھیں اپنی امان میں رکھے، دونوں کتنی جلدی بڑی ہو گئی ہیں۔” انھوں نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور بہن نے ان کی کمر میں منھ چھپا لیا، اور جب ہمیں احساس ہوا کہ اس حالت میں چلنا ہمارے لیے دشوار ہے تو ہم سب ہنسنے لگے۔ اندر کے کمرے میں پہنچ کر مجھے یقین ہو گیا کہ امی کے نئے شوہر گھر میں موجود ہیں، کیونکہ امی نے مسکرا کر کہا، “محمود کو تم دونوں سے بہت محبت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ تمھارے ابا تمھیں میرے سپرد کر دیں تاکہ تم ان کے بچوں کی طرح ہمارے ساتھ رہ سکو۔” بہن ہنسنے لگی اور جواب میں بولی، “اس طرح ہمارے دو ابا ہو جائیں گے۔” میں امی کے بازو پر ہاتھ رکھے ابھی تک گمشدگی کی کیفیت میں تھی، اور امی سے ملاقات کے لمحے میں اپنے بےساختہ برتاؤ پر نازاں تھی؛ کس طرح میں دوڑ کر ان سے لپٹ گئی تھی، جو مجھے ناممکن معلوم ہوتا تھا، اور کیسے آنکھیں بند کر کے انھیں چومنے لگی تھی۔ مجھے بلاکوشش، بندھے ہوے ہاتھوں کے ساتھ، اپنے آپ سے، شرم کے اس قیدخانے سے، رہائی پا لینے پر فخر محسوس ہو رہا تھا۔</p>
<p>امی کے شوہر گھر پر نہیں تھے۔ میری نظر فرش پر پڑی تو میں اپنی جگہ پر جم کر رہ گئی۔ میں نے بےاعتباری کے عالم میں فرش پر بچھے ہوے ایرانی قالین کو گھورا، پھر امی پر ایک طویل نظر ڈالی۔ میری نظر کی معنویت کو نہ سمجھتے ہوے انھوں نے ایک الماری کھولی اور اس میں سے ایک کڑھی ہوئی قمیص نکال کر میری طرف اچھال دی۔ پھر وہ فرش عبور کر کے سنگھارمیز کے پاس گئیں اور اس کی دراز میں سے ہاتھی دانت کی ایک کنگھی نکال کر، جس پر سرخ رنگ سے دل کی تصویر نقش کی ہوئی تھی، انھوں نے بہن کو دی۔ میں نے ایک بار پھر امی کی طرف دیکھا، اور اس بار انھوں نے میری نگاہ کو نازک تمنا کا اظہار سمجھا۔ اس لیے انھوں نے مجھے بانہوں میں لے لیا اور بولیں، “تم ہر روز آ جایا کرو، تم جمعے کو پورے دن میرے گھر رہا کرو۔” میں ساکت رہی۔ میری خواہش تھی کہ میں ان کے بازو اپنے گردن سے ہٹا دوں اور اس گوری کلائی میں دانت گاڑ دوں۔ میں نے ملاقات کے لمحے کے مٹ جانے کی خواہش کی اور چاہا کہ وہ لمحے دوبارہ پیش آئیں تاکہ جب وہ دروازہ کھولیں تو میں وہی کروں جو مجھے کرنا چاہیے تھا — یعنی فرش پر نظر گاڑے بےحرکت کھڑی رہوں۔</p>
<p>اس ایرانی قالین کے رنگ اور خطوط میرے حافظے پر نقش تھے۔ میں اس پر لیٹ کر اپنا سبق یاد کیا کرتی تھی۔ میں اتنے قریب سے اس پر بنے ہوے نقوش کو تکتی تھی کہ وہ مجھے سارے میں پھیلی ہوئی تربوز کی قاشیں معلوم ہونے لگتے تھے۔ مگر جب میں مسہری پر بیٹھ کر اسے دیکھتی تو مجھے محسوس ہوتا کہ تربوز کی ہر قاش باریک دندانوں والی ایک کنگھی میں بدل گئی ہے۔ اس کے کناروں پر چاروں طرف بنے ہوے پھولوں کے گچھے اُودے رنگ کے تھے۔ گرمیوں کے شروع میں امی اس پر اور دوسرے عام قالینوں پر کیڑے مار گولیاں ڈال دیتیں اور ان سب کو گول کر کے الماری کی چھت پر رکھ دیتیں۔ کمرہ خالی اور ویران نظر آنے لگتا، یہاں تک کہ خزاں آ جاتی جب وہ قالینوں کو چھت پر لے جا کر پھیلا دیتیں۔ وہ کیڑے مار گولیاں چُنتیں جن میں سے اکثر گرمی اور نمی سے گھل چکی ہوتی تھیں، پھر چھوٹی جھاڑو سے ان کی صفائی کر کے وہ قالینوں کو چھت پر ہی چھوڑ دیتیں۔ شام کو وہ انھیں نیچے لا کر اپنی اپنی جگہ پر بچھا دیتیں۔ ان کے بچھنے سے کمرے میں دوبارہ جان پڑ جاتی اور میرا دل خوشی سے بھر جاتا۔ مگر یہ والا قالین کئی مہینے ہوے، امی کی طلاق سے پہلے، گم ہو چکا تھا۔ اسے چھت پر دھوپ دینے کے لیے پھیلایا گیا تھا، اور سہ پہر کو امی چھت پر گئیں تو غائب تھا۔ انھوں نے ابا کو آواز دے کر بلایا تھا اور میں نے پہلی بار ابا کا چہرہ غصے سے سرخ دیکھا تھا۔ جب وہ دونوں چھت سے نیچے آئے تو امی طیش اور تعجب کے عالم میں تھیں۔ انھوں نے پڑوسیوں سے دریافت کیا جن میں سے ہر ایک نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے نہیں دیکھا۔ اچانک امی چلّا کر بولیں، “ایلیا!” سب لوگ خاموش کھڑے رہ گئے: ابا، بہن اور پڑوسی ام فواد اور ابوسلمان، کسی کے منھ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میں نے خود کو پکار کر کہتے ہوے پایا: “ایلیا؟ ایسی بات مت کہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا۔”</p>
<p>ایلیا ایک تقریباً نابینا شخص تھا جو محلے میں گھر گھر پھیری لگا کر بید کی کرسیوں کی مرمت کیا کرتا تھا۔ جب ہمارے گھر کی باری آتی تو میں اسکول سے واپسی پر اسے گھر کے باہر پتھر کی بنچ پر بیٹھا ہوا دیکھتی۔ اس کے سامنے بید کی لچھیوں کا ڈھیر پڑا ہوتا اور اس کے بال دھوپ میں چمک رہے ہوتے۔ وہ مہارت سے بید کے تار اٹھاتا اور وہ، مچھلیوں کی طرح تیرتے ہوے، جال کے اندر پھسلتے جاتے۔ میں اسے بےحد مشاقی سے ان کی گول گول لچھیاں بناتے اور پھر ان کے سرے باہر نکالتے دیکھا کرتی، یہاں تک کہ وہ کرسی کی گول نشست کو بُن کر پھر ویسا ہی درست کر دیتا جیسی وہ پہلے تھی۔ ہر چیز بالکل ہموار اور ٹھیک ہو جاتی: یوں لگتا جیسے اس کے ہاتھ مشین ہوں، اور میں اس کی انگلیوں کی پھرتی اور مہارت پر حیران رہ جاتی۔ جب وہ سر جھکائے مشغول بیٹھا ہوتا تو یوں معلوم ہوتا جیسے وہ اپنی آنکھوں سے کام لے رہا ہے۔ ایک بار مجھے شک ہوا کہ وہ اپنے سامنے دھندلی شکلوں سے کچھ زیادہ دیکھ سکتا ہے، اس لیے میں اس کے سامنے گھنٹوں کے بل بیٹھ گئی اور اس کے لال گلابی چہرے پر نظر جما کر عینک کے پیچھے چھپی ہوئی آنکھیں دیکھنے میں کامیاب ہو گئی۔ ان آنکھوں میں ایک سفید لکیر تھی جو میرے دل میں چبھنے لگی اور میں جلدی سے بھاگ کر باورچی خانے میں چلی گئی جہاں مجھے میز پر ایک تھیلی میں کھجوریں پڑی ملیں اور میں نے ایک رکابی میں تھوڑی سی کھجوریں رکھ کر ایلیا کو دیں۔</p>
<p>میں نظر جمائے قالین کو گھورتی رہی اور سرخ چہرے اور سرخ بالوں والے ایلیا کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے اُبھر آئی۔ مجھے اس کے کسی کی مدد کے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتے ہوے، زینے کے ہتھے پر اس کا ہاتھ محسوس ہوا؛ پھر میں نے اسے کرسی پر بیٹھتے ہوے محسوس کیا، اپنی اجرت طے کرتے ہوے، پھر جیسے وہ کھانا کھا رہا ہو اور اسے خودبخود پتا چل جائے کہ رکابی خالی ہو گئی ہے، آبخورے سے پانی پیتے ہوے جب پانی آسانی سے اس کے حلق میں اتر رہا ہو۔ ایک دوپہر کو، جب ابا کے سکھائے ہوے طریقے سے، کہ کیسے کسی مسلمان کے گھر پر دستک دینے سے پہلے بلند آواز میں اللہ کا نام پکارنا چاہیے کہ مبادا امی بےپردہ ہوں، وہ ہمارے دروازے پر آیا تو امی تیزی سے بڑھیں اور اس سے قالین کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے جواب میں کچھ نہ کہا، بس ایک سبکی سی لی۔ واپس جاتے ہوے اسے میز سے ٹھوکر لگی اور وہ پہلی مرتبہ الجھ کر گرا۔ میں اس کے پاس گئی اور ہاتھ پکڑ کر اسے اٹھایا۔ وہ مجھے میرے ہاتھ کے لمس سے پہچان گیا ہو گا، کیونکہ اس نے نیم سرگوشی میں مجھ سے کہا، “کوئی بات نہیں، بچی۔” پھر وہ جانے کے لیے مڑا۔ جب وہ جھک کر جوتے پہن رہا تھا تو مجھے خیال ہوا کہ میں نے اس کے رخساروں پر آنسو دیکھے ہیں۔ ابا نے اس سے یہ کہے بغیر اسے جانے نہ دیا کہ “ایلیا! اگر تم سچ کہہ دو تو اللہ تمھیں معاف کر دے گا۔” لیکن ایلیا جنگلے کا سہارا لیے چلتا گیا۔ ٹٹول ٹٹول کر سیڑھیاں اترنے میں اس نے بہت وقت لگایا۔ پھر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا اور ہم نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/qaleen/">قالین (تحریر: حنان الشیخ، ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/qaleen/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کھیل ختم ہوا (تحریر: غلام حسین ساعدی، ترجمہ: اجمل کمال)</title>
		<link>https://laaltain.pk/khel-khatam-hoa/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/khel-khatam-hoa/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 13 Jun 2020 13:46:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[Adbi Duniya]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[Gholam Hossein Sa'di]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[غلام حسین ساعدی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25238</guid>

					<description><![CDATA[<p>جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khel-khatam-hoa/">کھیل ختم ہوا (تحریر: غلام حسین ساعدی، ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p><strong>غلام حسین ساعدی</strong> معروف ایرانی دانشور اور مصنف غلام حسین ساعدی 1936 میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ نے چالیس سے زائد کتب تحریر ۔کیں۔ داریوش مھرجویی کی فارم “گاو” کے لیے لکھے گئے سکرین پلے کو ساعدی کا شاہکار خیال کیا جاتا ہے۔ یہ فلم جدید ایرانی سینما کا نقطہ آغاز سمجھی جاتی ہے۔ آپ ڈیموکریٹک سوشلسٹ پارٹی آف آزربائیجان سے بھی وابستہ رہے۔ 60 کی دہائی میں ایران میں ریاستی سنسنرشپ میں اضافے کے باوجود آپ نے لکھنا جاری رکھا۔ تاہم 1974 میں رضا شاہ پہلوی کے دور میں گرفتاری اور پھر ایک سال بعد رہائی کے نے آپ کو بری طرح متاثر کیا۔ انقلاب ایران کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بائیں بازو کی طرف رحجان رکھنے والی لبرل جماعت نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ میں شمولیت اختیار کیے رکھی۔ بعدازاں، آپ پاکستان کے راستے فرانس چلے گئے جہاں وہ 1985 میں اپنے انتقال تک مقیم رہے۔</p>
<p><strong>اجمل کمال</strong> اجمل کمال گزشتہ چار دہائیوں کے اردو ادب کا رخ متعین کرنے والوں میں سے ہے، لکھنے والوں اور پڑھنے والوں کی ایک نسل کے ذوق کی تشکیل آپ کے ہاتھوں ہوئی ہے۔ آپ اردو کے موقر ترین ادبی رسالے “آج” کے مدیر ہیں۔ آج کے اب تک 111 شمارے شائع ہو چکے ہیں جو اردو قارئین کے لیے نئے لکھنے والوں کے معیاری فن پاروں کے ساتھ ساتھ عالمی ادب کے شاہکار پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔</p>
<p>یہ ترجمہ اجمل کمال اور آج کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ غلام حسین ساعدی کی یہ کہانی اجمل کمال نے فارسی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔ اس کہانی کا آڈیو ورژن <a href="https://www.youtube.com/channel/UCenpBcS2okUzVHYiKKEijyQ/featured" target="_blank" rel="noopener noreferrer">“آج” کے یوٹیوب چینل</a> پر اپ لوڈ کیا جا چکا ہے۔ چینل کو سبسکرائب کیجیے اور بیل آئی کون پر کلک کیجیے تاکہ نئی ویڈیوز کا نوٹیفیکیشن مل جائے۔</p>
<p>سہ ماہی “آج” کو سبسرائب کرنے کے لیے عامر انصاری سے درج ذیل نمبر پر رابطہ کیجیے:<br>
03003451649<br>
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>غلام حسین ساعدی<br>
فارسی سے ترجمہ: اجمل کمال</p>
<p><strong> 1</strong></p>
<p>حسنی نے خود مجھ سے کہا تھا کہ رات کو اس کے جھونپڑے میں چلیں گے۔ میں اس کے ہاں کبھی نہیں جاتا تھا، نہ وہ کبھی ہمارے ہاں آتا تھا۔ میں اپنے بابا کے ڈر سے اسے نہیں بلاتا تھا، اور وہ اپنے بابا کے ڈر سے مجھے۔ وہ بھی اپنے بابا سے بہت ڈرتا تھا، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ ڈرتا تھا۔ مگر وہ رات دوسری راتوں کی طرح نہیں تھی۔ میں جانے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا، رنجیدہ ہوتا، سمجھتا کہ میں اس کا دوست نہیں رہا۔ بس اسی طرح میں چلا گیا۔ میں نے پہلی بار اس کے جھونپڑے میں قدم رکھا۔ ہم ایک دوسرے سے ہمیشہ گھر کے باہر ملتے تھے۔صبح کو میں اس کے جھونپڑے کے باہر پہنچ کر زور سے سیٹی بجاتا— یہ خوش آواز سیٹی بجانا اسی نے مجھے سکھایا تھا— اور اس طرح سیٹی بجا کر میں اسے پیغام دیتا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔”حسنی اپنی بالٹی اٹھا کر باہر نکل آتا۔ایک دوسرے کو سلام کرنے کے بجاے ہم دونوں مکابازی کرتے تھے۔خوب زور کے مکے لگاتے جن سے درد ہوتا تھا۔ ہمارا یہی طریقہ تھا۔ ایک دوسرے سے ملتے یا رخصت ہوتے ہوے مکے بازی ہوتی۔ سواے اس وقت کے جب ایک دوسرے سے ناراض ہوں یا کسی بات پر لڑائی ہو چکی ہو۔ پھر ہم ساتھ چل پڑتے اور جھگیوں جھونپڑوں میں سے گزر کر مُردے نہلانے والے مکان کے پاس کے گڑھے پر پہنچتے۔ شہرداری کے کوڑا اٹھانے والے ٹرک اپنا کوڑا یہیں پھینکتے تھے۔ ایک روز میں ٹین ڈبے جمع کرتا اور حسنی کانچ کے ٹکڑے، دوسرے دن وہ ٹین ڈبے چنتا اور میں کانچ کے ٹکڑے۔ کبھی کبھار ہمیں کوئی بہتر چیز بھی ہاتھ آ جاتی— بناسپتی گھی کا خالی کنستر، بچے کی چوسنی، ٹوٹی ہوئی گڑیا، کارآمد جوتا، یا سالم شکردان جس کے صرف دستے پر بال پڑا ہوتا، یا پلاسٹک کا لوٹا۔ ایک بار تو مجھے “و اِنّ یکاد…” کا تعویذ ہاتھ آ گیا تھا، اور ایک بار حسنی کو غیرملکی سگریٹ کا پورا بھرا ہوا ڈبا۔ جب ہم تھک جاتے تو کوڑے کے گڑھے کے دوسری طرف، بڑے سے میدان سے گزر کر، حاج تیمور کے اینٹوں کے پرانے بھٹے پر پہنچ جاتے جو بند پڑا تھا اور اب یونہی خدا کے نام پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ میدان میں اِدھر اُدھر ہر چند قدم پر گہرے کنویں کھدے ہوے تھے۔ اور دو چار نہیں، ایک دوسرے کی بغل میں کنویں ہی کنویں تھے۔ ایک بار ہم دونوں نے ارادہ کیا کہ ان کنووں کو گنتے ہیں، مگر پچاس تک پہنچ کر ہماری ہمت ٹوٹ گئی اور ہم نے گننا چھوڑ دیا۔ کنووں کے پاس پہنچ کر ہم خوب مزے سے کھیلتے۔ وہاں سو جاتے یا الٹے لیٹ کر سینے تک کنویں میں لٹک جاتے اور عجیب و غریب آوازیں نکالتے۔ آوازیں کنویں میں گھومتی ہوئی واپس آتیں۔ ہر کنواں ایک خاص طرح کی آواز نکال کر ہمیں جواب دیتا تھا۔ زیادہ تر ہم کنویں میں منھ ڈال کر قہقہے لگاتے اور جواب میں ہمیں رونے کی آوازیں سنائی دیتیں۔تب ہم ڈر جاتے۔ پھر ہنستے، زیادہ دیر تک اور زیادہ زور سے ہنستے، اور کنویں سے آتی رونے کی آوازیں بھی بڑھتی جاتیں، اونچی ہوتی جاتیں۔ میں اور حسنی وہاں زیادہ تر وقت اکیلے ہوتے۔ دوسرے بچے کوڑے کے گڑھے کی طرف کم آتے تھے۔ ان کی امائیں انھیں آنے نہیں دیتی تھیں۔ ڈرتی تھیں کہ کہیں کنویں میں نہ گر پڑیں یا کوئی اور بلا ان کے سر نہ آ جائے۔ لیکن میں اور حسنی بڑے ہو گئے تھے اور روز بھری ہوئی جیب لے کر گھر لوٹتے تھے، اس لیے ہماری امائیں ہم سے کوئی واسطہ نہ رکھتی تھیں اور ہمیں کچھ نہ کہتیں۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/wRrPaohUokA" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>اس دن، یعنی جس رات میں حسنی کے گھر گیا تھا اس دن سہ پہرکو حسنی بہت غمگین اور غصے کی حالت میں باہر آیا۔ اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں، آنکھوں سے لگتا تھا، بہت رویا ہے۔ اس میں کام کرنے کا حوصلہ نہ تھا۔ مردے نہلانے والے مکان کے باہر بنے گڑھے کے پاس پہنچ کر وہ بالکل کھویا ہوا اِدھر اُدھر بھٹکتا اور کوڑے کے ڈھیر کو لاٹھی سے کریدتا رہا۔ وہ اپنے بابا کو ماں بہن کی گالیاں دے رہا تھا۔ میں جانتا تھا کیا بات ہے۔ اس روز دوپہر کو اس کا باپ بہت غصے کے عالم میں گھر لوٹا۔ اس کا اپنے مالک سے جھگڑا ہوا تھا اور اس نے اسے نوکری سے نکال دیا تھا۔ گھر پہنچتے ہی اس نے حسنی پر اپنا غصہ اتارنا شروع کر دیا۔ ہمیں حسنی کے رونے چلّانے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ میری اماں نے حسنی کے بابا کو ملامت بھی کی تھی کہ کیوں بلاوجہ بے قصور بچے کو ادھیڑے دے رہا ہے۔ میں نے دیکھا، اس کی کمر اور کندھوں پر نیل پڑے تھے اورایک آنکھ بھی سوج کر نیلی ہو گئی تھی۔حسنی کا باپ ہر رات جھونپڑے میں گھستے ہی، کپڑے بدلنے یا منھ ہاتھ دھونے سے پہلے، حسنی کی ٹھکائی شروع کر دیتا تھا۔ جب تک تھک نہ جاتا، اسے مارتا رہتا۔ گھونسوں اور لاتوں سے، لکڑی، رسی، پیٹی، جو کچھ ہاتھ لگتا اس سے اسے پیٹنے لگتا، اور ساتھ میں زور زور سے گالیاں بھی دیتا جاتا۔ اس قدر دھنائی کرتا کہ حسنی کی چیخوں سے سارا محلہ گونج اٹھتا۔ پڑوس کے لوگ اس کی مدد کو پہنچتے اور اس کے باپ کے چنگل سے اسے چھڑاتے۔ حسنی کے باپ کا یہ روز کا معمول تھا، مگر میرا بابا مجھے ہفتے میں ایک یا دو بار مارتا تھا جب اس کا مزاج بگڑا ہوا ہوتا۔جب زیادہ پیسے نہ کمائے ہوتے تو میری اور احمد اور رضا کی جان کو آ جاتا اور خوب پٹائی کرتا۔ مگر میری اماں بیچ میں پڑ کر رونے چلّانے لگتی کہ “کیوں بچوں کو مارے ڈال رہے ہو؟ کیوں انھیں اپاہج کیے دیتے ہو؟”بابا پلٹ کر اماں پر پل پڑتا اور وہ چیخ کر ہم سے باہر نکل جانے کو کہتی۔ جب تک ہم واپس گھر میں آتے، ہمارا بابا ٹھنڈا ہو کر ایک کونے میں بیٹھا ہوتا یا اماں سے کہہ رہا ہوتا، “بچوں سے کہو، آ کر کچھ کھا پی لیں۔”</p>
<p>لیکن حسنی کے باپ کو اپنے باقی بچوں سے کچھ غرض نہ تھی، صرف حسنی کو پیٹتا تھا، باقی بچوں کو کچھ نہ کہتا۔ اور حسنی کی اماں بھی کبھی اسے باہر بھاگ جانے کو نہ کہتی۔اس لیے کہ حسنی کا بابا دروازے کو گھیرے کھڑا ہوتا اور وہیں سے حملہ کر کے حسنی کو لاتوں اور گھونسوں کی زد پر رکھ لیتا۔ بال پکڑ کر اس کا سر دیوار سے ٹکرانے لگتا۔ اس روز پہلی بار اس نے دوپہر کو گھر پہنچ کر حسنی کو پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ حسنی بہت بگڑا ہوا تھا۔ میں نے اسے معمول پر لانے کے لیے کہا، “چلو اوپر چلتے ہیں۔” کوڑے کے گڑھے کو پار کر کے ہم کنووں والے میدان میں پہنچ گئے اور ایک کنویں کے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے بہت کوشش کی مگر وہ ایک لفظ نہ بولا۔ آخر میں کنویں کے پاس لیٹ گیا اور اس میں سر ڈال کر گائے کی آوازیں نکالیں، کتے کی طرح بھونکا، قہقہے لگائے، رویا، جو کچھ مجھے آتا تھا سب کیا۔ لیکن حسنی جوں کا توں، منھ سُجائے، غمگین بیٹھا لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔ آخر میں نے سیٹی بجا کر اس سے پوچھا، “حسنی، کیا ہوا؟”</p>
<p>حسنی نے جواب نہ دیا۔ میں نے زور سے پکارکر کہا، “حسنی، او حسنی!”</p>
<p>اس پر اس نے پلٹ کر پوچھا، “کیا ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “یوں منھ پھلائے رکھنے سے کیسے چلے گا؟”</p>
<p>بولا، “نہ چلے، مجھے کیا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “خدا کے لیے، اب کڑھنا بند کرو۔”</p>
<p>بولا، “کیسے بند کروں؟ میرے ہاتھ میں ہے کیا؟”</p>
<p>میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس سے کہنے لگا، “چلو اٹھ جاؤ، اٹھو، کچھ کرتے ہیں جس سے تمھاری حالت ٹھیک ہو۔”</p>
<p>حسنی نے ایک بار پھر لاٹھی اپنی پنڈلی پر ماری اور پوچھا، “کیا کریں گے؟”</p>
<p>میں سوچ میں پڑ گیا۔ کچھ سمجھ میں نہ آیا، کیا کیا جائے کہ حسنی کی حالت ٹھیک ہو۔ میں نے کہا، “چلو سڑک پر جا کر گاڑیاں دیکھیں۔”</p>
<p>اس نے جواب دیا، “اس سے کیا فائدہ ہو گا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “اُس روز کی طرح میّت گاڑیاں گنیں گے۔ دیکھتے ہیں ایک گھنٹے میں کتنی گزرتی ہیں۔”</p>
<p>بولا، “جتنی بھی گزریں، گزرتی رہیں۔ مجھے کیا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “چلو پھر حاج تیمور کے بھٹے کی چھت سے پتھر پھینکیں۔”</p>
<p>بیزار ہو کر بولا، “میں نہیں جاتا۔ تمھارا جی چاہے تو جا کر پھینکنے لگو۔”</p>
<p>میں کوڑے کے ڈھیر پر بیٹھ گیا۔ وہ کسی طرح میری کوئی بات سننے کو تیار نہ تھا۔ میں نے کہا، “سب سے اچھا یہ کہ چوک میں چلتے ہیں، وہاں بڑے تماشے ہیں۔”</p>
<p>بولا، “کون کون سے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “سنیماگھر میں جا کر تصویریں دیکھتے ہیں، بعد میں سنگتراشوں کے چوک کے پیچھے جا کر درویش سگ دوست کا تماشا دیکھیں گے۔”</p>
<p>بولا، “چوک میں پہنچتے پہنچتے رات ہو جائے گی۔”</p>
<p>میں نے کہا، “گاڑی میں چلیں گے۔”</p>
<p>بولا، “پیسے کہاں ہیں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “میرے پاس بارہ ریال ہیں۔”</p>
<p>بولا، “انھیں اپنے پاس ہی رکھو۔”</p>
<p>میں نے کہا، “چلو چل کر کچھ کھاتے ہیں۔ ٹھیک ہے؟”</p>
<p>بگڑ کر کہنے لگا، “مجھے کچھ نہیں کھانا۔”</p>
<p>اب میں عاجز ہو گیا۔ یونہی سر اٹھا کر اِدھر اُدھر دیکھ رہا تھا کہ شکرائی کے باغ پر نظر پڑی۔ میں نے کہا، “اے حسنی، چل کر پھل چراتے ہیں۔”</p>
<p>اس نے جواب دیا، “ہاں، آج مجھے کم مار پڑی ہے کہ اب باغبان سے بھی پٹوانا چاہتے ہو؟”</p>
<p>کچھ دیر ہم دونوں چپ رہے۔ بھٹے کے دوسری طرف سے دو آدمی نکلے، کچھ دیر کھڑے ہمیں دیکھتے رہے، پھر باغ کی دیوار کود کر اندر چلے گئے۔ کچھ چیخیں سنائی دیں، پھر باغ سے کئی لوگوں کے قہقہے لگانے کی آوازیں آئیں۔ میں نے حسنی سے کہا، “مجھ سے کیوں ناراض ہو؟”</p>
<p>بولا، “تم سے ناراض نہیں ہوں۔”</p>
<p>ہم پھر چپ ہو گئے اور حسنی اسی طرح لاٹھی سے اپنی ٹانگ پر ضربیں لگاتا رہا۔</p>
<p>میں نے کہا، “اتنا مت مارو۔ پاگل ہو گئے ہو؟”</p>
<p>بولا، “ٹھیک ہے۔ مجھے درد نہیں ہوتا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “اچھا کوئی بات کرو۔”</p>
<p>بولا، “مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔”</p>
<p>آخر تنگ آ کر میں چلّایا، “بس کرو اب! بہت ہو گیا۔اٹھو، اٹھ جاؤ اب!”</p>
<p>ہم دونوں اٹھ کر چل پڑے۔ یونہی کنووں کے بیچ سے گزرتے ہوے میں نے کہا، “حسنی۔”<br>
بولا، “کیا ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “سچ بتاؤ، کیا چاہتے ہو؟ تم جو چاہو میں کروں گا۔ تمھارے لیے سب کچھ کروں گا۔”</p>
<p>بولا، “چاہتا ہوں اس بابا کتے کے بچے کی ایسی ٹھکائی کروں کہ بس۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ٹھیک ہے، پھر کرتے کیوں نہیں؟”</p>
<p>اس نے جواب دیا، “میں اکیلا کیسے کروں؟ مجھ میں اتنا زور نہیں۔”</p>
<p>میںنے کہا، “پتا ہے، تم میں اتنا زور نہیں۔”</p>
<p>وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “تم میرا ساتھ دو تو ہم دونوں مل کر اس سے حساب صاف کر سکتے ہیں۔”</p>
<p>میں سوچ میں پڑ گیا۔ مجھے اس کے بابا سے ڈر لگتا تھا، بہت ڈر لگتا تھا۔ سب بچے حسنی کے بابا سے ڈرتے تھے۔ حسنی کا باپ بچوں کا دشمن تھا؛ کوئی اس کے پاس نہ جاتا، کوئی اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھتا۔ وہ کسی کے سلام کا کبھی جواب نہ دیتا تھا، صرف مڑ کر گھورنے لگتا تھا۔ میرا بابا کہتا تھا کہ یہ مردود پاگل ہے، اس کا دماغ ٹھکانے پر نہیں ہے۔ اب میں بھلا کس طرح جا کر اس کی ٹھکائی کر سکتا تھا؟ لیکن اگر ایسا نہ کرتا تو حسنی مجھ سے ناراض ہو جاتا اور غصہ کرتا۔ اور میں نہیں چاہتا تھا کہ حسنی مجھ پر غصہ کرے۔ میں اسی سوچ میں تھا کہ حسنی نے کہا، “میری مدد نہیں کرنا چاہتے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “کیوں نہیں کرنا چاہتا، ضرور کرنا چاہتا ہوں۔”</p>
<p>وہ بولا، “پھر جواب کیوں نہیں دیتے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “آخر ہم اس کی ٹھکائی کیسے کر سکتے ہیں؟”</p>
<p>حسنی بولا، “تم رات کو میرے گھر آنا۔ دونوں اندر جا کر کونے میں چھپ جائیں گے۔ جیسے ہی وہ اندر گھسے گا، دونوں اس پر حملہ کر دیں گے۔ ٹانگیں کھینچ کر اسے زمین پر گرا دیں گے اور خوب پٹائی کریں گے۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “اور اس کے بعد کیا ہو گا؟”</p>
<p>اس نے کہا، “کچھ بھی نہیں ہو گا۔ بس اس کی سمجھ میں آ جائے گا کہ پٹائی کا مزہ کیسا ہوتا ہے۔ اور میرا دل ٹھنڈا ہو جائے گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “بہت اچھا۔”</p>
<p>اس طرح ہم دونوں رات کو اس کے جھونپڑے میں پہنچے۔ رات تو نہیں ہوئی تھی، مغرب کا وقت تھا جب اندھیرا چھانے لگتا ہے۔ حسنی کا بابا ابھی نہیں آیا تھا۔ حسنی کی اماں نے کہا کہ جاؤ، گھر کے لیے پانی بھر لاؤ۔ ہم پمپ کے پاس پہنچے، پانی بھرا اور پھر وہیں انتظار میں کھڑے ہو گئے۔ اتنی دیر تک اس ٹانگ سے اس ٹانگ پر وزن ڈالتے رہے کہ دور سے حسنی کا بابا آتا دکھائی دیا۔وہ کچھ جھکا ہوا چل رہا تھا اور کندھے پر ایک تھیلا اٹھائے ہوے تھا۔</p>
<p>حسنی بولا، “ آ گیا کتے کا بچہ۔”</p>
<p>ہم دوڑ پڑے اور جھونپڑوں کے بیچ میں سے ہو کر اس کے گھر آ چھپے۔ حسنی کی اماں باہر بیٹھی چولھے پر ٹماٹر پکا رہی تھی۔ حسنی کا چھوٹا بھائی اپنی اماں کے پاس بیٹھا بلک رہا تھا۔ ہم آنگن پار کر کے آگے بڑھے، پانی کا جگ کھڑکی میں رکھا اور اندر چلے گئے۔ اندر اندھیرا تھا۔ اس کی اماں نے باہر سے پکار کر کہا، “حسنی، او حسنی، بتی جلا دے۔”</p>
<p>حسنی نے بتی جلائی۔ اس کی چھوٹی بہن ایک کونے میں پڑی سو رہی تھی۔ میں نے کہا، “اب کیا کریں؟”</p>
<p>وہ بولا، “کچھ نہیں۔ بس دروازے کے پاس بیٹھ جاؤ۔ باقی مجھ پر چھوڑ دو۔” میں وہاں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔ حسنی بھی دوسرے کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔ ابھی تک کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>حسنی نے کہا، “یاد رکھنا، تمھیں اس کی ٹانگوں سے لپٹنا ہے۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “اور تم کیا کرو گے؟”</p>
<p>وہ بولا، “پہلے میں اس کی ٹھوڑی پر ایک گھونسا رسید کروں گا، اور پھر اس کے اوپر سوار ہو کر اسے زمین پر گرا لوں گا اور خوب کوٹوں گا۔”</p>
<p>مجھے ڈر لگ رہا تھا۔ معلوم نہیں اس کا کیا انجام ہو گا۔ ابھی میں انتظار میں بیٹھا تھا کہ باہر سے اس کے بابا کے چلّانے کی آواز آئی۔ پہلے اس نے زور کا نعرہ بلند کیا اور پھر چیخ کر کہنے لگا، “بدبخت عورت! میرے آنے سے بھی پہلے تو نے کھانا پکانا شروع کر دیا؟”</p>
<p>حسنی کی ماں نے جواب دیا، “تو اور کیا کرتی؟ گھر میں گھستے ہی تو تمھیں کچھ کھانے کو چاہیے ہوتا ہے۔”</p>
<p>حسنی کے بابانے چلّا کر جواب دیا، “صرف مجھے چاہیے ہوتا ہے؟ تجھے اور تیرے ان پلّوں کو نہیں؟”</p>
<p>پھر حسنی کی ماں کے چلّانے کی آواز آئی۔ “یا الٰہی! خدا کرے تیری ٹانگ ٹوٹ جائے!”<br>
حسنی نے کہا، “سنا؟”</p>
<p>میں نے پوچھا، “کیا؟”</p>
<p>حسنی نے کہا، “اماں کو لات ماری ہے۔ وحشی دیوانہ!”</p>
<p>دوبارہ حسنی کے بابا کی آواز بلند ہوئی۔ “یہ کتے کا بچہ یہاں کیوں سو رہا ہے؟”</p>
<p>اس کی ماں نے کہا، “تو پھر کہاں سوئے؟”</p>
<p>وہ چلّایا، “مجھے کیا معلوم؟ کسی اور جگہ۔ کسی کونے میں۔”</p>
<p>وہ صحن میں داخل ہوا اور اپنا بوجھا دروازے کے پاس اتار کر کھانسنے لگا۔ بہت دیر تک کھانستا اور اپنے سینے کی کثافت باہر تھوکتا رہا۔ پھر اس نے زیرلب دو تین گالیاں دیں، پانی کا برتن لے کر منھ دھویا اور دو تین گھونٹ پیے۔ اس کے بعد کمرے کی طرف بڑھا۔ اس کے جوتوں کی آواز سن کر میرا دل بیٹھنے لگا۔ جب وہ کمرے میں داخل ہوا تو حسنی بالکل ڈری ہوئی بلی کی طرح آدھا بیٹھا آدھا کھڑا پیچھے کو جانے لگا۔ اس کے بابا نے دانت پیسے اور غرایا۔ حسنی کی پیٹھ دیوار سے لگی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا، “کیا کرو گے؟”</p>
<p>اس کا باپ زہریلی ہنسی ہنس کر بولا، “کچھ نہیں۔تجھ جیسی مصیبت کے ساتھ کوئی کیا کر سکتا ہے۔”</p>
<p>اچانک وہ میری طرف متوجہ ہوا اور مجھے سر سے پاؤں تک دیکھ کر مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ میں، وحشت زدہ، بیٹھے بیٹھے پیچھے کو کھسکنے لگا۔ حسنی کے بابا نے کہا، “واہ وا! یہ موٹا ریچھ یہاں کیا کر رہا ہے؟”</p>
<p>حسنی بولا، “میرا دوست ہے، عبدل آقا کا بیٹا۔”</p>
<p>اس نے کہا، “کسی کا بھی ہو، میرے گھر میں کیا کر رہا ہے؟”</p>
<p>حسنی بولا، “اسے میں نے بلایا ہے۔”</p>
<p>ا س نے کہا، “کیوں؟ اس کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے؟”</p>
<p>حسنی بولا، “ہے کیوں نہیں۔ ہم سے اچھا ہے۔”</p>
<p>اس نے کہا، “تو پھر؟ یہاں کیوں آیا ہے؟”</p>
<p>پھر وہ میری طرف مڑ کر چلّایا، “دفع ہو جا یہاں سے۔ اٹھ، بھاگ!”</p>
<p>میں ڈر کر اٹھنے لگا، اور حسنی کا بابا اور بھی زور سے چیخا، “بھاگ!”</p>
<p>حسنی کمرے کے کونے میں تھا، وہاں سے بولا، “یہ نہیں جائے گا۔یہیں رکے گا۔”</p>
<p>حسنی کا بابا اس طرف مڑا اور گھونسا تان کر حسنی کی طرف بڑھنے لگا۔ دونوں بازو ہوا میں پھیلا کر کہنے لگا، “حرامزادے، تیری اتنی ہمت ہو گئی کہ اپنے باپ کو جواب دینے لگا!”</p>
<p>حسنی کی چھوٹی بہن کی آنکھ کھل گئی اور وہ خوفزدہ ہو کر روتی ہوئی کمرے سے باہر بھاگی۔ وہ اسی طرح گھونسا تانے آگے بڑھ رہا تھا کہ حسنی زور سے چلّایا، “مارو!”</p>
<p>میں نے حملہ کر دیا۔ اس کا بابا لپک کر بڑھا تو حسنی اپنی جگہ سے ہٹ گیا اور اس کا گھونسا دیوار سے ٹکرایا۔ میں نے جھک کر اس کی ٹانگ دبوچ لی۔ حسنی بھی پیچھے سے نکل آیا اور اس کی دوسری ٹانگ پکڑ لی۔ ہم دونوں نے زور سے کھینچا اور وہ چیختا چلّاتا اور ہانپتا ہوا ہمارے اوپر گر پڑا۔ پہلے اس نے میرے منھ پر گھونسا مارا، پھر حسنی کے منھ پر۔ پھر دونوں گھونسے ہم دونوں کے سروں پر ایک ساتھ رسید کیے۔ ہم دونوں نے زور لگایا اور اس بوڑھے آدمی کے نیچے سے نکل آئے۔ حسنی نے گالیاں بکتے ہوے اپنے بابا کے چوتڑ پر ایک زور کی لات ماری اور ہم دونوں بھاگ کر باہر آ گئے۔ حسنی کے بابا کے زور زور سے چیخنے چلّانے کی آوازیں آتی رہیں: “تجھے مار ڈالوں گا! تو اکیلا ہی کم مصیبت تھا کہ اس حرامزادے کو بھی لے آیا!”</p>
<p>یہ کہتے ہوے وہ ہمارے پیچھے لپکا۔ حسنی کی ماں ہراساں، چولھے سے لگی کھڑی تھی اور اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ ہم اس کے برابر سے دوڑتے ہوے نکل گئے اور طوفان کی رفتار سے دوڑتے ہوے بیچ کا رستہ لے کر مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کا رخ کیا۔ پیچھے سے حسنی کے بابا کی آوازیں سنائی دیتی رہیں کہ “پکڑو! پکڑو!”</p>
<p>وہ کچھ دور تک ہمارے پیچھے دوڑا اور پھر رک کر چلّانے اور گالیاں دینے لگا۔ اندھیرا ہو چکا تھا۔ وہاں کوئی نہ تھا جو ہمارے پیچھے دوڑے اور ہمیں پکڑنے کی کوشش کرے۔ ہم پمپ کے پاس سے نکل کر گڑھے پر پہنچ گئے۔ دونوں کا سانس پھولا ہوا تھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ حسنی کا بابا یا کوئی اور ہمارا پیچھا نہ کر رہا ہو۔ میں نے حسنی سے کہا، “بہتر ہو گا کہ گڑھے سے نکل کر اوپر چلیں۔”</p>
<p>حسنی بولا، “ہاں، ورنہ کچھ دیر میں وہ کتے کا بچہ ڈنڈا لے کر آئے گا اور ہمارا کام تمام کر دے گا۔”</p>
<p>ہم گڑھے سے نکل آئے اور ایک ٹیلے پر جا بیٹھے۔ جب میرا سانس درست ہوا تو میں نے حسنی سے کہا، “ہم اس کے ہاتھ سے خوب بچ نکلے۔”</p>
<p>حسنی بولا، “مگر افسوس کہ اس کی زیادہ مرمت نہ کر سکے۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “گھر کب واپس چلو گے؟”</p>
<p>حسنی بولا، “گھر واپس؟ مذاق کرتے ہو؟ وہ تو چاہتا ہی ہو گا کہ میں گھر پہنچوں اور وہ مجھے پکڑ کر تکابوٹی کر ڈالے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “پھر کیا کرنا چاہتے ہو؟”</p>
<p>حسنی بولا، “کچھ نہیں۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “رات کو کہاں جاؤ گے؟”</p>
<p>بولا، “کہیں بھی نہیں۔ کوئی جگہ ہی نہیں ہے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “میرے ساتھ چلو۔ میرے گھر۔”</p>
<p>بولا، “ہاں، تاکہ تمھارے بابا کے ہاتھ آ جاؤں۔ دونوں حرامزادے ایک جیسے ہیں۔ ان کے دل میں ذرہ بھر رحم نہیں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “اچھا اگر آج رات گھر نہیں بھی گئے تو کل کیا کرو گے؟ پرسوں کیا کرو گے؟ آخر تو واپس جانا ہی ہو گا۔”</p>
<p>حسنی بولا، “پتا نہیں۔ ہو سکتا ہے کہیں اور چلا جاؤں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “مثلاً کہاں؟”</p>
<p>بولا، “کہیں بھی۔”</p>
<p>میں نے کہا، “اور کرو گے کیا؟”</p>
<p>بولا، “کیا پتا۔ کچھ نہ کچھ کر ہی لوں گا۔ کسی کا شاگرد بن جاؤں گا، یا حمّالی کر لوں گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تم ابھی چھوٹے ہو۔ تمھیں کوئی نہیں رکھے گا۔”</p>
<p>بولا، “کیوں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “اس لیے کہ تمھیں کوئی کام نہیں آتا۔”</p>
<p>بولا، “کچھ نہیں آتا، پھر بھی دکانوں کے سامنے جھاڑو تو دے سکتا ہوں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “مگر کسی بڑے کے کہے بغیر تو تمھیں کوئی رکھے گا نہیں۔”</p>
<p>بولا، “اگر کچھ نہ ہوا تو ٹین ڈبے جمع کر کے بیچوں گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “اور رات کو سوؤ گے کہاں؟”</p>
<p>بولا، “کھنڈروں میں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “کوئی فائدہ نہیں، دو چار دن اس طرح رہنے کے بعد یا تو بھوکے مر جاؤ گے یا کوئی مصیبت سر پر آ پڑے گی۔”</p>
<p>کہنے لگا، “ناممکن۔ میں نہیں مروں گا۔ جا کے بھیک مانگ لوں گا اور زندہ رہوں گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ہاں، تم اسی خیال میں مگن رہو۔ تمھیں پکڑ کے گداخانے لے جائیں گے۔ اسدول کے بچے یاد نہیں رہے؟ اور رضا ترک کی بہن؟”</p>
<p>بولا، “تو پھر کیا کروں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “مجھے نہیں پتا۔ بہتر ہو گا کہ گھر واپس چلے جاؤ۔”</p>
<p>دونوں چپ ہو گئے۔ چاند نکل آیا تھا اور سارے میں روشنی پھیلی ہوئی تھی، سواے کنووں کے دائروں کے جنھیں کوئی بھی چیز روشن نہیں کر سکتی تھی۔ جھونپڑوں میں کہیں کہیں چراغ جلتے دکھائی دے رہے تھے۔ حسنی نے اپنے اردگرد نظر ڈالی اور بولا، “گھر واپس نہیں جا سکتا۔ اس بار تو وہ جان سے مار ڈالے گا۔”</p>
<p>ہم پھر خاموش ہو گئے اور جھینگروں کی آوازیں سننے لگے۔ حسنی اچانک اٹھ کھڑا ہوا اور بولا، “سنو، مجھے ایک ترکیب سوجھی ہے۔ تم ابھی دوڑتے ہوے جاؤ اور جھونپڑوں کے پاس پہنچتے ہی رونا چلّانا شروع کر دو اور سر پیٹ پیٹ کر سب سے کہو کہ حسنی کنویں میں گر گیا ہے۔”</p>
<p>میں بھی چونک کر اٹھ کھڑا ہوا۔ میرا دل ڈوبنے لگا۔ میں نے کہا، “کیا؟ تم کنویں میں گرنے والے ہو؟”</p>
<p>حسنی بولا، “میں گدھا ہوں کیا کہ کنویں میں گروں گا؟ بس تم ایسے ہی کہہ دو کہ کنویں میں گر گیا۔ تب دیکھنا بابا کا کیسا حال ہوتا ہے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “اور اس کے بعد؟”</p>
<p>بولا، “اس کے بعد کچھ نہیں۔میں کہیں جا کے چھپ جاؤں گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “وہ کنووں میں تلاش کریں گے۔”</p>
<p>بولا، “سب کنووں میں نہیں تلاش کر سکتے۔ ایک دو کنویں تھوڑی ہیں۔ آخر تھک جائیں گے اور سمجھ لیں گے کہ میں مر گیا ہوں۔ پھر سب ایک جگہ جمع ہو کر میرے لیے روئیں پیٹیں گے اور قرآن کا ختم کریں گے۔ بابا اور اماں بھی اپنا سر پیٹیں گے اور دہاڑیں ماریں گے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “حسنی، یہ کام ٹھیک نہیں ہے۔”</p>
<p>اس نے پوچھا، “کیوں؟ ٹھیک کیوں نہیں ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “فرض کرو تمھارا بابا صدمے سے مر جائے۔ یا تمھاری اماں۔پھر کیا کرو گے؟”</p>
<p>حسنی بولا، “یہ سب تمھارا خیال ہے۔ وہ ایسے نہیں ہیں۔ میں انھیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ لوگ مرنے والے نہیں۔ اور پھر جب وہ سینہ کوٹنے اور ماتم کرنے لگیں تو تم مجھے آ کے بتا دینا اور میں دوڑ کے گھر چلا جاؤں گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ میں صحیح سلامت ہوں اور کنویں میں نہیں گرا تو کس قدر خوش ہوں گے۔ پھر میرا خیال ہے بابا بھی ٹھیک ہو جائے گا اور مجھے مارنا پیٹنا چھوڑ دے گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “مگر”۔۔۔۔</p>
<p>بولا، “مگر کیا؟”<br>
میں نے کہا، “مجھے تمھارے بابا سے ڈر لگتا ہے۔ ہو سکتا ہے وہ یہ خبر سن کر مجھے ہی مار ڈالے۔”</p>
<p>بولا، “تمھیں میرے بابا سے کیا لینا دینا؟ تم تو بس جھونپڑوں کے پاس پہنچ کر چیخنے لگنا کہ حسنی کنویں میں گر گیا، حسنی کنویں میں گر گیا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “یہ کہتے ہوے تو رونا بھی پڑے گا۔ اگر رونا نہ آیا تو؟”</p>
<p>حسنی نے مجھے سر سے پاؤں تک دیکھا اور بولا، “عجیب گدھے ہو تم۔ اندھیرے میں کسی کو کیا پتا چلے گا کہ تم رو رہے ہو یا نہیں رو رہے ہو؟”</p>
<p>میں نے کہا، “اچھا، اور تم کیا کرو گے؟”</p>
<p>بولا، “میں جا کے بھٹے میں چھپ جاؤں گا۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “اور اگر بھوکے مر گئے؟”</p>
<p>تعجب سے پوچھنے لگا، “تو تم میرے لیے روٹی اور پانی نہیں لاؤ گے کیا؟ ہَیں؟ نہیں لاؤ گے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ہاں لاؤں گا۔”</p>
<p>بولا، “تو بس ٹھیک ہے۔ اب جاؤ۔”</p>
<p>میں ابھی تک دودِلا ہو رہا تھا، جاؤں یا نہ جاؤں، کہ حسنی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولا، “آؤ میں تمھیں دکھا دوں کہ میں کہاں چھپوں گا۔”</p>
<p>ہم حاج تیمور کے اینٹوں کے بھٹے کی طرف چل دیے۔ابھی کنووں کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ کچھ کتوں نے ہم پر حملہ کر دیا۔ میں نے اور حسنی نے پتھر مار کر انھیں بھگا دیا اور پھر بھٹے کے گرد چکر کاٹ کر آخری کوٹھڑی کے پاس پہنچے جس کی چھت گر چکی تھی اور کسی کو شبہ نہ ہو سکتا تھا کہ یہاں کوئی چھپا ہو گا۔ حسنی نے مجھ سے کہا، “میں یہاں چھپا ہوں گا، ٹھیک ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ٹھیک ہے۔”</p>
<p>بولا، “تو پھر اب کھڑے کیوں ہو، جاؤ۔ یاد رکھنا، تمھیں خوب زور زور سے چیخنا چلّانا ہے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ہاں، یاد ہے۔”</p>
<p>ابھی میں چلا ہی تھا کہ حسنی نے پھر پکارا۔ میں نے پوچھا، “کیا ہے؟”</p>
<p>بولا، “یہ بھی یاد رکھنا کہ میں بھوکا ہوں۔ صبح میرے لیے روٹی اور پانی ضرور لانا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ضرور لاؤں گا۔”</p>
<p>میں کوٹھڑی کا چکر لگا کر کنووں کے درمیان سے گزرتا ہوا مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس پہنچا جہاں کتے جمع تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر بھاگ گئے۔ میں گڑھے سے باہر نکلا اور پمپ کے پاس پہنچا۔ میرے حلق میں جلن ہو رہی تھی، اس میں گرد وغبار بہت چلا گیا تھا۔ میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور آگے چلا۔ اچانک مجھے یاد آیا کہ مجھے دوڑتے اور چیختے ہوے جانا ہے۔ میں دوڑتا اور چلّاتا ہوا جھونپڑوں کی طرف بڑھنے لگا۔ بہت سے لوگ جھونپڑوں کے باہر کھڑے تھے۔ مجھے کچھ خبر نہ تھی کہ کیا ہوا ہے، میں نے تو سر پیٹ پیٹ کر چلّانا شروع کر دیا جیسے حسنی سچ مچ کنویں میں گر گیا ہو۔ جو لوگ دور کھڑے تھے وہ بھی قریب آ گئے۔ میں نے اپنے بابا اور حسنی کے بابا کو دیکھا جو ایک دوسرے سے تکرار کر رہے تھے۔ میں ہچکیاں لیتے ہوے بولا، “حسنی! حسنی!”</p>
<p>حسنی کا باپ جو ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوے تھا، پوچھنے لگا، “حسنی کو کیا ہوا؟ ہیں؟ کیا ہوا اسے؟”<br>
میں نے کہا، “گر پڑا، گر پڑا۔۔۔۔” اور رونے لگا، سچ مچ رونے لگا، میرے آنسو خودبخود نکل کر چہرے پر بہنے لگے۔ حسنی کے بابا نے چیخ کر پوچھا، “کہاں گر پڑا؟ بول، میرا حسنی کہاں گر پڑا؟”</p>
<p>میں نے چیخ کر کہا، “کنویں میں۔۔۔کنویں میں گر پڑا۔”</p>
<p>پہلے تو سب لوگ ایک دم خاموش ہو گئے، پھر عجیب طرح کا ہمہمہ بلند ہوا۔ دور و نزدیک سے چیخنے چلّانے کی بکھری ہوئی آوازیں سنائی دینے لگیں۔”حسنی کنویں میں گر پڑا! حسنی کنویں میں گر پڑا!”</p>
<p>آدمیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کریں۔ جو لوگ اب تک جھونپڑوں میں تھے، باہر نکل آئے۔ کچھ لوگ لالٹین لے آئے اور سب لپکتے ہوے مردے نہلانے کے گڑھے کی طرف چل دیے۔ میں زمین پر پھسکڑا مارے بیٹھا رو رہا تھا۔ میرے بابا نے جھک کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا کر دیا۔ بولا، “اٹھو، چل کر بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے۔”</p>
<p>ہم دونوں بھی دوڑتے ہوے سب لوگوں کے پیچھے روانہ ہوے۔ ابھی سڑک سے آگے نہ نکلے تھے کہ کچھ لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور میرے اور بابا کے ساتھ ساتھ دوڑنے لگے۔ وہ دوڑتے ہوے پوچھتے جاتے تھے، “کون سا کنواں ہے؟ کون سے والے میں گرا ہے؟”</p>
<p>مردے نہلانے والے مکان کے گڑھے کے پاس سے گزر کر ہم کنووں کے پاس پہنچے۔ چاند اَور بلند ہو گیا تھا اور کنووں کے دائرے اَور زیادہ تاریک اور گہرے معلوم ہو رہے تھے۔ سب لوگ وہاں کھڑے تھے۔ حسنی کے بابا نے بید کی طرح لرزتے ہوے میرے کندھوں کو پکڑ لیا اور جھنجھوڑتے ہوے پوچھا، “کہاں ہے؟ کہاں ہے؟”</p>
<p>اور اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دوں، اس نے خود کو کوڑے کے ڈھیر پر گرا لیا اور اونچی آواز میں رونے لگا۔ دو تین آدمی اس کے پاس آ گئے اور عباس چرخی اسے تسلیاں دینے لگا کہ “گھبراؤ مت، ہم اسے ابھی باہر نکالے لیتے ہیں۔ کچھ نہیں ہوا، کوئی بات نہیں۔ روؤ مت۔ خود کو ہلاک مت کرو۔ ہم ابھی اسے تلاش کر لیں گے۔”</p>
<p>جب حسنی کا بابا چپ ہوا تو ایک اور ہمہمہ بلند ہوا۔ عورتیں روتی دھوتی آ پہنچیں اور ان میں آگے آگے حسنی کی اماں تھی۔ وہ اپنا سر اور منھ پیٹ رہی تھی اور رو رو کر پکار رہی تھی، “میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی، میرا حسنی!”</p>
<p>وہ کچھ اور بھی کہہ رہی تھی جو میری سمجھ میں نہ آیا۔ عباس چرخی آگے آیا اور مجھ سے پوچھنے لگا، “سنو بچے، بتاؤ کون سے کنویں میں گرا ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “مجھے نہیں معلوم۔”</p>
<p>حسنی کا بابا میری طرف جھپٹا اور بولا، “حرامزادے! سچ سچ بتا کہ میرے بیٹے کا کیا ہوا؟”</p>
<p>قادر آقا نے اسے روکا اور کہا، “ذرا ٹھہرو، اسے سوچ کر بتانے دو۔”</p>
<p>میں ہچکیاں لے لے کر روتا رہا اور بولا، “حسنی کے بابا نے ہم دونوں کو پکڑ کر خوب مارا تھا اور۔۔۔”</p>
<p>حسنی کا بابا بولا، “اچھا اچھا، یہ بتا کہ وہ گرا کہاں ہے؟”</p>
<p>میرے بابا نے بھی کہا، “ہاں، جلدی بتاؤ۔”</p>
<p>عباس چرخی نے کہا، “ارے اسے کچھ بولنے تو دو۔ یہ کیا طریقہ ہے!”</p>
<p>میں نے کہا، “ہم دونوں بھاگ کر یہاں آ گئے۔ حسنی مجھ سے کافی آگے تھا۔ ہم دونوں دوڑتے ہوے جا رہے تھے۔ حسنی ڈر رہا تھا کہ اس کا بابا آ کر ہم دونوں کو پکڑ لے گا۔ وہ مجھ سے بہت تیز دوڑ رہا تھا۔۔۔ بہت تیز۔ میں نے مڑ کر دیکھا کہ اس کا بابا تو نہیں آ رہا ہے۔ کوئی نہیں آ رہا تھا۔ میں نے حسنی کو آواز دی: حسنی، ٹھہرو! ٹھہرو! کوئی نہیں آ رہا! وہ بیچ میں پہنچا تھا کہ ایک دم چیخ ماری اور کنویں میں گر گیا۔”</p>
<p>حسنی کے بابا نے پوچھا، “کہاں گرا تھا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “میں تو سمجھا تھا زمین پر گرا ہے۔ میں نے ہر طرف آوازیں دیں۔ مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈا۔ کہیں نہیں ملا۔”</p>
<p>حسنی کے بابا نے پھر دہاڑ کر پوچھا، “کون سے کنویں میں گرا تھا؟”</p>
<p>عباس چرخی غصے سے بولا، “اسے کیا پتا ہو گا کہ کون سے والے میں گرا ہے؟ ہمیں خود ہی ڈھونڈنا ہو گا۔”</p>
<p>پھر وہ باقی مردوں کی طرف منھ کر کے بولا، “چلو ڈھونڈنا شروع کریں۔ احتیاط سے کام لینا!”</p>
<p>جب وہ آگے بڑھے تو ان کی آوازیں تھم گئیں۔ کوئی رو نہیں رہا تھا، نہ کوئی چیخ چلّا رہا تھا۔ صرف حسنی کی اماں سسکیاں لے رہی تھی اور دوسری عورتیں اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ “روؤ مت بہن! خاموش رہو۔ ابھی یہ لوگ اسے ڈھونڈ کر باہر نکال لائیں گے۔”</p>
<p>ان میں سے کوئی مسلسل “شش! شش!” کی آوازیں نکال رہا تھا، جیسے حسنی سو رہا ہو اور اسے ڈر ہو کہ اس کی آنکھ نہ کھل جائے۔</p>
<p>سب لوگ کچھ کنووں کے پاس سے گزرے۔ پھر حسنی کے بابا نے گائے کی سی اونچی آواز میں اسے پکارا، “حسنی! حسنی!” وہ اس قدر غصے اور جھنجھلاہٹ میں تھا کہ اگر حسنی کنویں میں کھڑا ہوتا اور باہر نکل آتا تو یہ اسے پکڑ کر اس کی خوب ٹھکائی کرتا۔ عباس چرخی نے کہا، “خاموش رہو، خاموش رہو، ہمیں کام کرنے دو۔”</p>
<p>کوئی اندھیرے میں بولا، “رسی اور لالٹین کی ضرورت ہو گی۔ خالی ہاتھ تو کنویں میں اتر نہیں سکتے۔”</p>
<p>کچھ لوگ دوڑتے ہوے بستی کی طرف چل دیے اور دو آدمی لالٹینیں لے کر آگے بڑھ آئے۔ عباس چرخی نے ایک لالٹین ہاتھ میں لی اور کنویں کی منڈیر پر جھک کر اسے اندر لٹکایا۔ سب لوگ کنویں کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے۔ عباس آقا، جس کا سر ابھی کنویں کے اندر تھا، گھٹی ہوئی آواز میں بولا، “میرا خیال نہیں ہے کہ اس کنویں میں گرا ہو گا۔”</p>
<p>پھر وہ دوسرے کنویں کی طرف چل پڑا۔ اس دفعہ مسیّب نے جھک کر لالٹین کو کنویں میں لٹکایا اور آواز کو بساطیوں کی طرح کھینچ کر پکارا، “کہاں ہو بچے؟ کہاں ہو؟”</p>
<p>جواب میں کوئی آواز نہ آئی۔ پھر وہ تیسرے کنویں کے پاس پہنچے۔ اس کے بعد چوتھے کنویں پر۔ پھر پانچویں پر۔ پھر چھٹے پر۔ پھر ان کی دو ٹولیاں بن گئیں۔ دونوں ٹولیاں اسی طرح الگ الگ کنووں پر جا کر تلاش کرنے لگیں۔ پھر تین ٹولیاں ہو گئیں، چار ٹولیاں ہو گئیں۔ پھر اَور لالٹینیں آ گئیں۔ سات آٹھ دس لالٹینیں، اور بہت سی رسی۔ کچھ لوگ رسی میں گرہیں ڈالنے لگے۔ سب لوگ آگے ہی آگے بڑھتے گئے لیکن حسنی کہیں نہ ملا۔ ان سب پر جھنجھلاہٹ سوار ہونے لگی اور وہ زور زور سے باتیں کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک کنویں پر پہنچ کر کسی نے سب کو آواز دی۔ یہ عباس آقا تھا۔ سب لپک کر اس کے پاس پہنچے اور اسے گھیر لیا۔ عباس آقا گھبرائی ہوئی آواز میں بولا، “مجھے لگتا ہے اسی کنویں میں ہے۔ مجھے کچھ آواز آئی ہے۔ جیسے کوئی کنویں کی تہہ میں کھڑا رو رہا ہو۔”</p>
<p>سب نے دم سادھ لیا۔ کچھ لوگ کنویں کے اندر جھکے اور کان لگا کر سننے لگے۔ پھر بولے، “ہاں واقعی، اسی کنویں میں ہے۔”</p>
<p>حسنی کے بابا نے پھر چیخنا چلّانا شروع کر دیا۔ “جلدی کرو، جلدی کرو! میرے بچے کو یہاں سے باہر نکالو۔ میرے بچے کو باہر نکالو۔”</p>
<p>مسیّب بولا، “نیچے کون جائے گا؟”</p>
<p>قادر نے کہا، “ پرانا کنواں ہے۔شاید دیوار جھڑتی ہو۔”</p>
<p>حسنی کے بابا نے کہا، “نہیں نہیں، بخدا! نہیں جھڑے گی۔ اندر جاؤ، جا کر اسے نکال لاؤ!”</p>
<p>سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس چرخی نے کہا، “کیا کوئی مرد نہیں؟ اچھا، میں خود جاتا ہوں۔ رسی اتارو۔”</p>
<p>عباس آقا کی بیوی عورتوں کے ہجوم میں سے چیخ کر بولی، “نہیں نہیں، تم نہیں اتر سکتے۔ تمھیں کنویں میں اترنا نہیں آتا!”</p>
<p>عباس آقا جھلا کر بولا، “چپ کر عورت! اپنے کام سے کام رکھ! میں نہیں دیکھ سکتا کہ اس کا بچہ اندر مر جائے۔”</p>
<p>عباس آقا کی بیوی بھیڑ کو چیر کر آگے بڑھ آئی اور دوڑتی ہوئی اس سے لپٹ گئی۔ “نہیں نہیں، میں تمھیں نہیں جانے دوں گی۔۔۔ نہیں جانے دوں گی۔”</p>
<p>عباس آقا نے اپنی بیوی کو ایک چانٹا رسید کیا اور بولا، “ہٹ یہاں سے دور ہو! کیسی عورت سے پالا پڑا ہے!”</p>
<p>اور پھر چلّا کر کہا، “رسی!”</p>
<p>رسی لائی گئی اور اسے کس کر عباس آقا کی کمر میں باندھ دیا گیا۔ پھر اس کی ایک ایک گرہ کو کھینچ کر دیکھا گیا۔ عباس آقا نے کہا، “احتیاط سے، کہیں بیچ میں چھوڑ نہ دینا۔”</p>
<p>کچھ لوگ بولے، “پریشان مت ہو۔ احتیاط سے کریں گے۔”</p>
<p>عباس آقا نے اترنے کے لیے تیار ہو کر لالٹین ہاتھ میں تھامی اور کنویں میں جھک کر تہہ کا جائزہ لیا۔ پھر لالٹین کسی اور کو پکڑا کر زور سے بسم اﷲ پڑھی۔ سب نے فوراً جواب میں صلوات پڑھی۔ حسنی کے بابا نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور کہا، “یا ارحم الراحمین! یا جدِ حسینِ مظلوم! یا جدِ فاطمہ زہرا! یا جدِ خدیجہ کبریٰ، میرے بچے کو بچا لیجیے! میرا حسنی زندہ نکل آئے!”</p>
<p>عباس آقا کنویں میں اترا اور دونوں کہنیاں کنویں کی منڈیر پر ٹیک کر بولا، “احتیاط سے کام لینا۔ رسی کو مضبوط پکڑنا۔ جب میں رسی کو جھٹکا دوں تو اوپر کھینچ لینا۔”</p>
<p>اس کی بیوی، جو ہمارے بالکل پیچھے کھڑی تھی، پھر زور زور سے رونے لگی۔ میری اماں اسے دلاسا دینے لگی۔ عباس آقا نیچے اتر گیا۔ رسی اسی طرح پانچ چھ لوگوں کی گرفت میں تھی جو اسے تھوڑا تھوڑا کر کے چھوڑ رہے تھے اور زیرلب کچھ بولتے بھی جا رہے تھے۔ حسنی کا بابا اپنے گرد چکر کاٹ رہا تھا اور ہونٹ دانتوں میں دبائے ہاتھ مل رہا تھا۔ وہ منھ ہی منھ میں کچھ بول رہا تھا اور خدا خدا کر رہا تھا۔ میرے ذہن سے بالکل فراموش ہو چکا تھا کہ حسنی بھٹے کی کوٹھڑی میں ہے۔ میرے دل میں کوئی کہہ رہا تھا کہ کاش حسنی اسی کنویں میں موجود ہو کہ عباس آقا خالی ہاتھ باہر نہ نکلے اور سب لوگ خوش ہو جائیں۔ کچھ وقت اسی طرح گزرا اور پھر میرے بابا نے، جو دوسرے لوگوں کے ساتھ رسی کو تھامے ہوے تھا، کہا، “اوپر کھینچو! اوپر کھینچو!”</p>
<p>رحمت نے پوچھا، “کیوں؟”</p>
<p>میرے بابا نے کہا، “دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے، اندھے ہو کیا؟”</p>
<p>سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔ حسنی کا بابا گردن اٹھا کر سب کے سروں کے اوپر سے دیکھ رہا تھا اور عباس آقا کے نمودار ہونے کا منتظر تھا۔ تب عباس آقا کے دونوں ہاتھ کنویں کی منڈیر کو پکڑتے دکھائی دیے۔ پھر اس نے کہنیاں ٹیکیں اور زور لگا کر اپنے جسم کو اوپر اٹھایا۔ زمین پر آ کر وہ سیدھا لیٹ گیا اور زور زور سے سانس لینے لگا۔ قادر نے پوچھا، “وہ اندر تھا؟ وہ اندر تھا؟”</p>
<p>حسنی کے بابا نے زور کی چیخ ماری اور رونے لگا۔ عباس آقا کروٹ لے کر آدھا اٹھ بیٹھا اور بولا، “لگتا تھا میرا دم گھٹ جائے گا۔”</p>
<p>قادر نے پوچھا، “مر گیا کیا؟”</p>
<p>عباس آقا نے کہا، “وہاں صرف ایک مرا ہوا کتا پڑا سڑ رہا تھا۔”</p>
<p>مسیّب نے کہا، “کہیں تمھیں مغالطہ نہ ہوا ہو۔”</p>
<p>عباس آقا بولا، “ابے احمق، کیا میں مرے ہوے کتے اور حسنی میں فرق نہیں کر سکتا؟”</p>
<p>وہ اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی کمر میں بندھی ہوئی رسی کھول دی۔ پھر سب دوبارہ جتھا بنا کر اگلے کنویں کی طرف گئے۔ پھر اس سے اگلے کنویں پر، اور پھر اس سے اگلے پر۔ وہ پھر دو ٹولیوں میں بٹ گئے، پھر چار ٹولیوں میں، اور لالٹین ہاتھ میں لیے ہر کنویں میں جھک جھک کر حسنی کو پکارنے لگے۔ تب ہی میں چپکے سے کھسک کر جھونپڑوں کی طرف بھاگ پڑا۔ میں کونوں کھدروں میں اندھیرے کی اوٹ لے کر چل رہا تھا تاکہ کسی کو پتا نہ چلے۔ میں نے پمپ سے پانی پیا اور پھر ٹین کی دیوار کے پیچھے سے گزر کر اپنے جھونپڑے میں پہنچ گیا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ میں نے ایک نان اور ایک ٹوٹے ہوے دستے والا آبخورہ اٹھا لیا۔ پھر میں دوڑتا ہوا باہر نکلا، پمپ سے آبخورے میں پانی بھرا، مردے نہلانے والے گڑھے کے پاس سے گزر کر سڑک کے کنارے کنارے لمبا چکر کاٹتا ہوا حاج تیمور کے بھٹے پر نکلا اور اس کوٹھڑی پر پہنچا جہاں حسنی چھپا ہوا تھا۔ میں نے گردن اٹھا کر دبی ہوئی آواز میں اسے پکارا۔ کوئی جواب نہ آیا۔ دوبارہ آواز دی۔ پھر جواب نہ آیا۔ میں نے اونچی آواز میں پکارا مگر کچھ نہیں۔ مجھ پر خوف چھا گیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ شاید اسے پتا نہ چلا ہو کہ یہ میں ہوں، سو میں نے سیٹی بجانا شروع کیا — وہی خوش آواز سیٹی جس کے ذریعے میں اسے پیغام دیتا تھا کہ “حسنی، آ جاؤ، کام کا وقت ہو گیا۔” ایک دم مجھے اپنے سر کے اوپر حسنی کے سیٹی بجانے کی آواز سنائی دی۔ وہ کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا۔ میں نے کہا، “اے حسنی!”</p>
<p>بولا، “چپکے سے اوپر آ جاؤ۔”</p>
<p>میں نے آبخورہ اسے تھمایا اور اینٹوں والی دیوار کا سہارا لے کر اوپر پہنچ گیا۔ دونوں آہستہ آہستہ رینگتے ہوے آگے بڑھے اور بھٹے کی چمنی کے پاس جا بیٹھے۔ میں نے کہا، “تمھیں تو کوٹھڑی کے اندر چھپنا تھا۔”</p>
<p>وہ بولا، “یہ دیکھنے اوپر آیا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے اگر وہ لوگ تمھیں دیکھ لیں تو کیا ہو گا؟”</p>
<p>بولا، “مشکل ہے۔ مجھے کوئی نہیں دیکھ سکتا۔” یہ کہہ کر وہ ہنسنے لگا۔</p>
<p>میں نے پوچھا، “ہنس کیوں رہے ہو؟”</p>
<p>بولا، “بابا کا سوچ کر ہنس رہا ہوں۔ اور باقی سب لوگوں کا۔ دیکھو ذرا، کیسے دوڑتے پھر رہے ہیں۔”</p>
<p>اس نے کنووں کی طرف اشارہ کیا۔ وہ لوگ لالٹین اٹھائے کبھی ایک کنویں کے پاس جاتے کبھی دوسرے کے۔ کوئی ٹولی کسی ایک کنویں کے پاس جم کر رہ گئی تھی اور وہاں سے ہلتی ہی نہ تھی۔</p>
<p>میں نے کہا، “ہم نے اچھا نہیں کیا حسنی۔”</p>
<p>بولا، “کیوں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھارا بابا خود کو مارے ڈال رہا ہے۔ تمھیں پتا نہیں اس کا کتنا برا حال ہے۔”</p>
<p>بولا، “فکر مت کرو۔ وہ خود کو نہیں مارنے کا۔ اماں کیا کر رہی ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “کیا کر رہی ہے؟ سر پیٹ پیٹ کر رو رہی ہے۔”</p>
<p>بولا، “رونے دو۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھیں پتا ہے، عباس آقا کنویں میں اترا تھا، اور تمھاری جگہ ایک مرا ہوا کتا نکال کر لایا تھا۔”</p>
<p>حسنی بولا، “اپنے باپ کی لاش لایا ہو گا۔”</p>
<p>ہم دونوں ہنسنے لگے۔ پھر میں نے نان نکالی اور آدھی آدھی توڑ کر دونوں نے کھائی۔ مجھے پیاس نہیں لگی تھی، لیکن حسنی نے کچھ گھونٹ پیے۔ میں نے کہا، “کیا کہتے ہو، اب نیچے ان لوگوں کے پاس چلیں؟”</p>
<p>بولا، “کیا ہو گا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “قصہ ختم ہو جائے گا۔ انھیں ایک ایک کنواں جھانکنا نہیں پڑے گا۔”</p>
<p>بولا، “ابھی سے؟ ابھی انھیں گھومنے دو۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ان میں سے کوئی کنویں میں گر کر مر گیا تو؟”</p>
<p>بولا، “فکر مت کرو۔ یہ سب کتے کی اولاد ہیں۔ اتنی آسانی سے مرنے والے نہیں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “لیکن ہم جو کر رہے ہیں وہ بہت برا ہے۔”</p>
<p>اس نے گردن موڑ کر مجھے غور سے دیکھا۔ بولا، “اور وہ جو ہماری ٹھکائی کرنے سے پہلے کھانا نہیں کھاتے، وہ اچھا کرتے ہیں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “خدا کے لیے حسنی، اب بس کرو۔ چلو ان کے پاس چلتے ہیں۔”</p>
<p>وہ بولا، “ میں تو نہیں جانے کا۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “مگر کیوں؟”</p>
<p>بولا، “واپس جا کے کیا کہیں گے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “کہہ دینا کہ شکرائی کے باغ میں پھل کھانے گیا تھا۔”</p>
<p>بولا، “پھر تو تمھارا جھوٹ پکڑا جائے گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “میں کہہ دوں گا، مجھے کیا پتا کہاں گیا، میں سمجھا تھا کنویں میں گر گیا۔”</p>
<p>بولا، “نہیں، وہ فوراً سمجھ جائیں گے، اور پھر ہماری شامت آ جائے گی۔”</p>
<p>میں نے کہا، “نہیں آئے گی، خدا کے لیے تم چلو۔”</p>
<p>بولا، “میں تو نہیں چلنے کا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تو ٹھیک ہے، میں جا کے بتا دیتا ہوں کہ حسنی کنویں میں نہیں گرا، حاج تیمور کی کوٹھڑی میں چھپا بیٹھا ہے۔”</p>
<p>اس نے گردن گھما کر مجھے بری طرح گھورا۔ “ٹھیک ہے۔ کہہ دو جا کے۔ اس کے بعد تم الگ اور میں الگ۔ پھر تمھیں میری شکل بھی نظر نہیں آئے گی۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “تو پھر کب واپس چلو گے؟”</p>
<p>بولا، “ختم والے دن۔ جس وقت میرے لیے قرآن ختم ہو رہا ہو گا، اس وقت ایک دم داخل ہو جاؤں گا۔ تب بڑا مزہ آئے گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “بکواس مت کرو۔ کیا مزہ آئے گا؟”</p>
<p>بولا، “پتا ہے، جس وقت وہ سب سینہ پیٹ پیٹ کر رو رہے ہوں گے، میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے بالکل بیچ میں پہنچ جاؤں گا اور زور سے سلام کروں گا۔ پہلے تو وہ سب بوکھلا جائیں گے، پھر ڈر جائیں گے۔ عورتیں چیخنے چلّانے لگیں گی۔ بچے بھاگ جائیں گے اور سوچیں گے کہ میں قبر سے نکل کر آیا ہوں۔ پھر جب وہ لوگ دیکھیں گے کہ میں سچ مچ زندہ ہوں، ہنس رہا ہوں، ہاتھ پیر ہلا رہا ہوں، تو سب کے سب خوش ہو جائیں گے۔ وہ ہوا میں چھلانگیں لگائیں گے، زمین پر گر جائیں گے، وہ مجھے لپٹا کر میرا منھ چومیں گے۔ تم کہتے ہو مزہ نہیں آئے گا؟ ہیں؟”</p>
<p>ہم نے پھر اپنی نظریں ان لوگوں پر جما دیں جو لالٹین ہاتھ میں لٹکائے کنووں کے درمیان اِدھر سے اُدھرگشت کر رہے تھے اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد مردوں اور عورتوں کے زور زور سے بولنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ میں نے کہا، “ٹھیک ہے، اب میں ان لوگوں کے پاس جاتا ہوں…”<br>
وہ بولا، “ٹھیک ہے، مگر انھیں بتانا مت۔”<br>
ہم چاروں ہاتھ پیروں پر رینگتے ہوے آگے بڑھے، دور دور تک غور سے دیکھا اور پھر نیچے اتر آئے۔ میں سڑک کے گرد لمبا چکر کاٹ کر مردے نہلانے کے گڑھے کے پاس سے گزرا اور پھر واپس اوپر کی طرف چلنے لگا۔ وہ سب اب تک ایک کنویں کے گرد دائرے میں جمع تھے۔ میں دوڑتا ہوا ان کے پاس جا پہنچا۔ میں نے اپنی اماں کو دیکھا جو سر پیٹ پیٹ کر اونچی آواز میں رو رہی تھی۔ مردوں نے رسی کو کنویں کی تہہ تک لٹکا رکھا تھا۔ میں لوگوں کی ٹانگوں میں سے نکل کر آگے کنویں کی منڈیر تک پہنچ گیا۔ وہاں میں نے عباس چرخی کو دیکھا جو کسی سے کہہ رہا تھا، “رسی ہلا رہا ہے۔ اوپر کھینچو، اوپر کھینچو!”</p>
<p>قادر نے پوچھا، “مگر کیوں؟”</p>
<p>عباس آقا نے کہا، “اندھے ہو کیا؟ دیکھتے نہیں رسی ہل رہی ہے؟”</p>
<p>سب خاموش ہو گئے اور رسی کو اوپر کھینچنے لگے۔حسنی کا بابا، جو میرے سر کے بالکل پیچھے کھڑا تھا، مسلسل سینہ پیٹتے ہوے کہہ رہا تھا، “یا خدیجہ کبریٰ، یا امام مصطفیٰ، یا غریب الغربا، یا سیدالشہدا۔”</p>
<p>تب میں نے اپنے بابا کو کنویں کی منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر باہر نکلتے دیکھا۔وہ سر سے پیر تک سیاہ ہو چکا تھا اور زور زور سے ہانپ رہا تھا۔ عباس آقا نے کہا، “لیٹ جاؤ، لیٹ جاؤ، اور لمبے لمبے سانس لو۔”</p>
<p>کچھ لوگوں نے بابا کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اسے زمین پر لٹا دیا۔</p>
<p>2</p>
<p>صبح ہوئی تو کوئی کام پر نہ گیا۔ سب بری طرح تھک کر اپنے اپنے جھونپڑے کو لوٹ گئے۔ حسنی انھیں نہیں ملا تھا۔ عباس آقا نے کہا تھا، “کوئی فائدہ نہیں۔ سارے کنووں میں نہیں ڈھونڈ سکتے۔”</p>
<p>وہ ان زیادہ گہرے کنووں پر پہنچ گئے تھے جو نیچے تہہ میں ایک دوسرے سے ملے ہوے تھے اور ان میں گندا پانی بہہ رہا تھا۔ان کنووں کے اندھیرے میں عجیب عجیب چیزیں دکھائی دیتی تھیں۔ اُستا حبیب کے سامنے اچانک گائے کے قد کا ایک جانور آ گیا تھا جس کی چار پانچ دُمیں تھیں اور جبڑوں میں ایک مرے ہوے آدمی کا سر لیے وہ اِدھر اُدھر چل پھر رہا تھا۔ سید کو کچھ ننگے اور کچھ اونی لباس پہنے لوگ دکھائی دیے تھے جو کنویں کی دیوار سے لگے کھڑے تھے۔ اسے دیکھتے ہی وہ لوگ گندے پانی میں کود کر غائب ہو گئے تھے۔ میر جلال نے اپنی آنکھوں سے بڑے بڑے کالے پر دیکھے تھے جو اِدھر سے اُدھر اڑتے پھر رہے تھے۔ ان سب کا کہنا تھا کہ کنویں کی تہہ سے عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی ہیں، جیسے بلیاں رو رہی ہوں اور نظر نہ آنے والی عورتیں قہقہے لگا رہی ہوں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگوں نے سَنج اور شِیپور کی آوازیں بھی سنیں، جیسی عاشورے کے دنوں میں نکلتی ہیں۔ انھیں اپنی پشت سے نوحے پڑھے جانے اور لوگوں کے گریہ کرنے کی آوازیں سنائی دی تھیں۔ عباس آقا نے کہہ دیا کہ اب کچھ فائدہ نہیں، دوڑ دھوپ سے کچھ نہیں ہو گا اور حسنی اب نہیں ملے گا۔ تب وہ سب، تھکن اور نیند سے چور، بستی کی طرف لوٹ آئے تھے اور اب سو رہے تھے۔ صرف حسنی کا بابا اب تک نہیں سویا تھا اور جھونپڑوں کے درمیان متواتر اِدھر اُدھر بھٹک رہا تھا اور اپنے سر کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے جھٹکتا جا رہا تھا۔ وہ رنج سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ مارتا اور کہتا، “دیکھا کیا ہوا! دیکھا میرا بچہ کیسے ہاتھ سے جاتا رہا! کیسے جوانی میں مر گیا!”</p>
<p>حسنی کے بابا کا رونا چلّانا اب تھم چکا تھا۔ اس کے بجاے اب اس کا دھیان عجیب و غریب چیزوں سے الجھ رہا تھا۔ جھونپڑوں کی چھتیں، مقبروں کے تاریک دروازے، دیوار کے ساتھ لگی ڈھکے ہوے پیپوں کی قطاریں، جھونپڑوں کے آگے لٹکے ٹاٹ کے پردوں پر پڑے دھبے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ رک کر زمین سے کوئی بیکار سی چیز اٹھا لیتا — ٹین کا ٹکڑا، یا ٹوٹی ہوئی پیالی، یا گھسا ہوا جوتا — اور کچھ دیر اس سے کھیلنے کے بعد اسے دور اچھال کر کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ وہ زیرلب بڑبڑاتا جا رہا تھا، “اب اسے کیڑے کھا رہے ہیں۔ سب ختم ہو گیا۔ میرا حسنی چلا گیا۔”</p>
<p>میں کئی بار اس کے پاس سے گزرا۔ اس کی حالت وہی رہی۔ اس نے مجھے نہیں دیکھا، یا دیکھا تو مجھ پر توجہ نہیں دی۔ کچھ دیر بعد مجھے اچانک یاد آیا کہ حسنی بھوکا ہو گا اور میرا انتظار کر رہا ہو گا۔ میں سیدھا اپنے جھونپڑے پر پہنچا۔ سب سو رہے تھے۔ میرا بابا نیند میں لڑھک کر ایک طرف کو ہو گیا تھا اور اس کے مٹی میں سَنے پیر باہر کو نکلے ہوے تھے۔ میں نے ایک نان اور مٹھی بھر شکر لی اور باہر نکل آیا۔ ہر طرف سناٹا اور ویرانی تھی۔ حسنی کا بابا ایک مکان کے پیچھے کھڑا تھا اور دیوار پر ناخن سے کھرچ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ سورج چڑھ آیا تھا اور روشنی ہر طرف پھیل گئی تھی۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے پانی پیا۔دور دور تک کوئی نہ تھا۔ میں مردے نہلانے والے کوڑے کے گڑھے میں اترا اور دوسری طرف نکل کر حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور اس کوٹھڑی کی طرف چلا جہاں مجھے معلوم تھا حسنی میرے انتظار میں بیٹھا ہے۔ وہ سو رہا تھا۔ جب میں نے آواز دی تو چونک کر اٹھ گیا اور گھبرا کر کہنے لگا، “کون ہے؟ کون ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ڈرو مت۔ میں ہوں میں۔”</p>
<p>وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اس کا چہرہ بدلا ہوا تھا۔ آنکھوں کے گرد گڑھے تھے اور ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ میں نے پوچھا، “کیا ہوا؟ ٹھیک تو ہو؟”</p>
<p>بولا، “میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کنویں میں گر گیا ہوں اور باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہوں مگر نکل نہیں پاتا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھارا اپنا قصور ہے۔ تم ہی یہ کھیل کھیلنا چاہتے تھے۔ تمھارے بابا کا دماغ چل گیا ہے۔”</p>
<p>وہ کچھ نہ بولا اور خود کو گھسیٹتا ہوا کوٹھڑی سے باہر لے گیا۔ ہم دونوں دھوپ میں بیٹھ گئے۔ میں نے نان اور مٹھی بھر شکر اسے دے دی۔ پانی ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ اس نے آبخورہ اٹھا کر چند گھونٹ بھرے اور تھوڑا سا پانی لے کر منھ پر چھینٹے مارے۔ جب اس کا حال کچھ ٹھکانے پر آیا تو مجھ سے پوچھنے لگا، “کیا ہوا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “سب کو یقین ہو گیا ہے کہ تم مر چکے ہو۔”</p>
<p>بولا، “تم نے کیا کیا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “میں نے کچھ نہیں کیا۔ کسی سے نہیں کہا۔”</p>
<p>کہنے لگا، “اب وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ابھی کچھ طے نہیں ہوا کہ کیا کریں گے۔”</p>
<p>اس نے پوچھا، “میرے لیے قرآن ختم نہیں کرائیں گے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “پتا نہیں۔ “</p>
<p>بولا، “میرا خیال ہے آج سہ پہر کو کرائیں گے۔”</p>
<p>میں نے پوچھا، “تمھیں کیسے پتا ہے؟”</p>
<p>بولا، “یاد نہیں جب بی بی کا پوتا مرا تھا تو اگلے دن ختم کرایا تھا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “اگر ایسا ہے تو آج کا دن تمھارا ہے۔”</p>
<p>بولا، “ہاں۔خدا کرے ایسا ہی ہو۔ اب مجھ میں اور حوصلہ نہیں۔”</p>
<p>میں نے کہا، “انشاء اﷲ ایسا ہی ہو گا۔”</p>
<p>کہنے لگا، “کہیں بھول نہ جانا۔ فوراً مجھے آ کر بتانا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “نہیں، بھول کیسے جاؤں گا؟ لیکن تم زبردست ٹھکائی کے لیے تیار رہنا۔”</p>
<p>بولا، “ٹھکائی نہیں ہو گی۔ سب لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہو جائیں گے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “تم یہی سمجھتے رہو۔ اصل بات تو شام کو معلوم ہو گی۔”</p>
<p>بولا، “شرط لگاتے ہو؟”</p>
<p>میں نے پوچھا، “کیسی شرط؟”</p>
<p>بولا، “اگر مجھے دیکھ کر غصے میں آ گئے کہ میں زندہ کیوں ہوں، مرا کیوں نہیں، اور میری پٹائی شروع کر دی تو تم جیتے، اور اگر مجھے دیکھ کر خوش ہوے تو میں جیتا۔ پھر تمھیں میرے ہاتھ سے پٹائی نوش جان کرنی ہو گی۔”</p>
<p>میں نے کہا، “بہت خوب! میں تمھارے لیے اتنی مصیبت اٹھا رہا ہوں، اور تم میری پٹائی کرو گے؟”</p>
<p>ہنسنے لگا۔ بولا، “مذاق کر رہا تھا۔ تمھیں آئس کریم خرید کے کھلاؤں گا۔”</p>
<p>میں نے کہا، “ہاں، یہ ٹھیک ہے۔”</p>
<p>اس نے نان کا ایک لقمہ توڑ کر منھ میں رکھا اور بولا، “اب کیا کریں؟”</p>
<p>میں نے کہا، “کچھ نہیں۔ تم جا کے کوٹھڑی میں چھپو اور میں بستی میں جا کے دیکھتا ہوں کہ کیا ہو رہا ہے۔”</p>
<p>بولا، “اگر سہ پہر کو ختم قران کی ٹھہرے تو مجھے آ کے بتاؤ گے نا؟”</p>
<p>میںنے کہا، “ہاں بتاؤں گا۔”</p>
<p>اور سہ پہر ہی کو ختم قرآن ہونا طے ہوا۔ حسنی کی فاتحہ۔ جھونپڑوں کے سامنے۔ عباس آقانے ایک بانس پر کالا کپڑا باندھ کر اسے میدان کے سرے پر گاڑ دیا تھا۔ سب گھروں سے باہر نکل کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عورتیں ایک طرف اور مرد دوسری طرف۔ دوسری بستیوں میں بھی اطلاع پہنچ گئی تھی اور لوگ ٹولیوں میں آ رہے تھے۔ یوسف شاہ کی گھاٹی، سرپیچ، شمس آباد کے بھٹے، شترخون اور ملا احمد کی بستی، ہر جگہ سے۔ وہ سب انجانے لوگ تھے، طرح طرح کے کپڑے پہنے تھے۔ جوں ہی کوئی ٹولی میدان میں پہنچتی، عورتیں حسنی کی اماں کے پاس چلی جاتیں جو کھرچے ہوے خون آلود چہرے کے ساتھ اپنے جھونپڑے کے سامنے بیٹھی تھی۔ وہ اب رو نہیں رہی تھی، بس سر کو اِدھر اُدھر ہلاتی اور سینہ پیٹتی جاتی تھی۔ عورتیں اس کے سامنے پہنچتے ہی رونے اور اپنا سر اور منھ پیٹنے لگتیں اور کہتیں، “خواہر جان، خواہر جان، یہ تم پر کیا افتاد پڑی!”</p>
<p>حسنی کا بابا ہمارے جھونپڑے کے سامنے بیٹھا تھا۔ بلکہ بیٹھا کیا تھا، زمین پر پڑا ہوا تھا۔ مبہوت سا اپنے سامنے تکے جا رہا تھا۔ ہر نئے آنے والے کو جیسے ہی پتا چلتا کہ مرنے والے کا باپ کون ہے، وہ اس کے پاس جا کر سلام کرتا۔ کوئی جواب سنے بغیر آنے والا ایک کونے میں بیٹھ جاتا۔ عباس آقا جوکھڑا ہوا تھا، اونچی آواز میں کہتا، “فاتحہ!”</p>
<p>مرد لوگ فاتحہ پڑھنے لگتے۔ اُستا حبیب ہاتھ میں پانی کا برتن لیے لوگوں میں گھومتا اور پیاسوں کو پانی پلاتا پھر رہا تھا۔ دو بوڑھے آدمی جو غریبا کی گھاٹی سے تمباکو کا بڑا سا تھیلا لے کرآئے تھے، جلدی جلدی اخبار کے کاغذ پھاڑ پھاڑ کر سگریٹ بناتے اور انھیں سینی میں رکھتے جا رہے تھے۔ اور بی بی کا بڑا بیٹا رمضان سینی اٹھائے لوگوں کو سگریٹ پیش کر رہا تھا۔ سب لوگ سگریٹ اور پانی پی رہے تھے، سواے حسنی کے بابا کے، جو نہ سگریٹ پی رہا تھا نہ پانی، بس تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور کبھی کبھی زمین کی طرف منھ کر کے تھوکتا تھا۔</p>
<p>کوئی گھنٹہ بھر گزرا ہو گا کہ سڑک کی سمت سے کچھ لوگ تیزتیز آتے دکھائی دیے۔سب گردن پھیر کر ان کی طرف دیکھنے لگے۔ عباس آقا نے زور سے کہا، “پیروں کی گھاٹی سے کالے خیموں والے آئے ہیں۔ جاؤ، انھیں یہاں لے آؤ۔”</p>
<p>کئی لوگ ان کی پیشوائی کو آگے بڑھے۔ کالے خیموں والے پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ دوڑتے لپکتے آ پہنچے۔ ان میں سے بہت سوں کے ہاتھوں میں علَم تھے۔ وہ ان سب کے آگے آگے چیتھڑے لگے کپڑے پہنے، غم اور پریشانی کی حالت میں سینہ زنی کرتے دوڑ رہے تھے۔ ان کے وسط میں ایک دبلاپتلا، لمبی گردن اور اونچے عمامے والا آخوند تھا۔ عورتیں دستے کے آخر میں تھیں، پابرہنہ اور خاک آلودہ۔ جب وہ لوگ چھوٹے میدان کے بیچ میں پہنچے تو صلوات کی آوازیں بلند ہوئیں۔عورتیں اورمرد الگ الگ ہو گئے۔ عورتیں چیخیں مارتی ہوئی حسنی کی اماں کی طرف چلی گئیں اور مرد آگے بڑھ آئے۔ بوڑھوں نے حسنی کے بابا کو سلام کیا۔ حسنی کے بابا نے جواب نہ دیا۔ علمداروں نے علم بچوں کے حوالے کیے اور بچے انھیں لے کر بڑوں کی پشت پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ تب آخوند جا کر ہمارے جھونپڑے کے باہر لگے پتھر پر بیٹھ گیا۔ اسمٰعیل آقا نے اونچی آواز میں کہا، “صلوات بھیجو! بلند آواز میں صلوات بھیجو!”</p>
<p>سب نے صلوات بھیجی۔ آخوند بھرائی، بیٹھی ہوئی آواز میں بولا، “بیٹھ جائیں، سب لوگ بیٹھ جائیں تاکہ ایک معصوم اور بیچارے نوجوان کی عزا میں روضہ ٔقاسم پڑھیں اور گریہ کریں۔”</p>
<p>پہلے اس نے کچھ عجیب و غریب دعائیں پڑھیں اور پھر روضہ خوانی شروع کی۔ اسی وقت گریہ وزاری کی صدا بلند ہوئی۔ سب رو رہے تھے۔ مرد رو رہے تھے، عورتیں رو رہی تھیں، بچے رو رہے تھے۔ یہاں تک کہ میں بھی رو رہا تھا۔ صرف حسنی کا بابا تھا جو نہیں رو رہا تھا۔ صرف پہلو بدل رہا تھا اور خشک ہونٹوں پر زبان پھیر رہا تھا۔ گریہ کرنے کی آوازیں جیسے جیسے بلند ہوتی گئیں، کالے خیموں والے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول دیے۔ آخوند بھی کھڑا ہو گیا اور اس نے بھی اپنا سینہ کھول دیا، اور اَور بھی زیادہ اونچی آواز میں بولا، “آؤ اب سید الشہدا کی اور اس بے گناہ نوجوان کی شادی میں سینہ زنی کریں۔”</p>
<p>یہ کہہ کر اس نے نوحہ پڑھنا شروع کیا۔ کالے خیموں والے ماتم کرنے لگے۔ دوسرے مرد بھی کھڑے ہو گئے اور اپنے سینے کھول کر ماتم کرنے لگے۔ عورتوں کی چیخ پکار میں اور زیادہ شدت آ گئی اور وہ ایک دوسرے کو لپٹا لپٹا کر زور زور سے رونے لگیں۔ مجھے اچانک خیال آیا کہ یہی وقت ہے۔ یہی وقت ہے کہ مجھے جاکر حسنی کو خبر کرنی چاہیے۔ مجھ پر کسی کی توجہ نہ تھی۔ کسی کی کسی پر بھی توجہ نہ تھی۔ میں چپکے سے وہاں سے نکل آیا۔ پہلے تو الٹے قدموں چلتا رہا، پھر مڑا اور آنکھوں سے آنسو پونچھتا ہوا تیزی سے چلنے لگا۔ پمپ پر پہنچ کر میں نے تھوڑا سا پانی پیا اور مردے نہلانے کے گڑھے میں اتر کر دوسری طرف پہنچ گیا۔ وہاں دور دور تک کوئی نہ تھا۔ تب میں نے دوڑنا شروع کر دیا۔ میں نے ہوا کی رفتار سے کنووں والے احاطے کا چکر لگایا اور آگے بڑھا۔ میرے حواس ٹھکانے نہ تھے۔ سر سے پیر تک پسینہ بہہ رہا تھا۔ اسی حالت میں دوڑتا ہوا میں حاج تیمور کے بھٹے میں پہنچا اور چکر لگا کر پیچھے کی کوٹھڑی کے سامنے آ گیا۔ حسنی کوٹھڑی کی چھت پر اوندھا لیٹا ہوا تھا۔ فوراً اٹھ کر نیچے آیا اور پوچھنے لگا، “کیا خبر ہے؟”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھارا ختم ہو رہا ہے۔”</p>
<p>اس نے پوچھا، “کیا کر رہے ہیں وہ لوگ؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ساری بستیوں اور گھاٹیوں سے لوگ آ گئے ہیں اور تمھارا ماتم کر رہے ہیں۔”</p>
<p>وہ کچھ دیر مجھے تکتا رہا۔ پھر بولا،’ ’تم کس لیے رو رہے ہو؟”</p>
<p>میں نے کہا، “تمھارے لیے۔”</p>
<p>بولا، “عجیب گدھے ہو! تمھیں تو پتا ہے کہ میں زندہ ہوں، مرا نہیں!”</p>
<p>میں نے کہا، “یہ سب اس آخوند کا قصور ہے جسے کالے خیموں والے لائے ہیں۔ اس نے سب کو رُلا دیا۔”</p>
<p>اس نے خوش ہو کر ہاتھوں کو آپس میں رگڑا اور کہا، “تو اب ٹھیک وقت ہے، ہے نا؟”</p>
<p>میں نے کہا، “ہاں تو۔ میرا خیال ہے یہی ٹھیک وقت ہے۔”</p>
<p>بولا، “اب دیکھتے ہیں کون شرط جیتتا ہے۔”</p>
<p>میں نے کہا، “خدا کرے تم ہی جیت جاؤ۔”</p>
<p>وہ ہنسنے لگا اور زور سے بولا، “تو چلو پھر، بھاگو!”</p>
<p>وہ فوراً اپنی جگہ سے دوڑ پڑا۔ میں اس کے پیچھے پیچھے تھا۔ ہم دونوں دوڑ رہے تھے لیکن حسنی تو بالکل ہوا کی مانند اڑ رہا تھا۔ کوئی بھی اسے پکڑنا چاہتا تو نہ پکڑ سکتا۔ میں نے دو ایک بار اسے پکارا، “حسنی! حسنی!”</p>
<p>اور حسنی نے جواب دیا، “ہوہو! ۔۔۔ ہوہو!”<br>
کہ اچانک، ایک دم پتا نہیں کیا ہوا… مجھے بالکل پتا نہیں کیا ہوا۔۔۔ کس طرح کہوں کہ کیا ہوا۔۔۔ کہ اچانک حسنی کا پیر کسی چیز میں پڑ کر رپٹا اور وہ سیدھا، بالکل سیدھا، کنویں میں جا گرا۔ میں نے سوچا، یعنی یہ نہیں سوچا کہ حسنی کنویں میں گرا ہے، بلکہ یہ سوچا کہ وہ زمین پر گرا ہے۔ میں آگے دوڑا۔ حسنی کہیں نہیں تھا۔ حسنی کنویں میں گر پڑا تھا۔ ایک بہت بڑے کنویں میں… اس کنویں میں جو سب کنووں سے بڑا تھا۔ میری زبان بند ہو گئی۔ میرے ہونٹ سل گئے۔ میں چاہتا تھا کہ زور سے چیخوں، چیخ کر کہوں: “حسنی!” مگر نہ چیخ سکا۔ میری آواز ہی نہ نکلی۔ منھ ہی نہ کھلا۔ میں نے بہت زور لگایا لیکن منھ سے حسنی کا نام ہی نہ نکلا۔ میں گھورے پر بیٹھ گیا اور اپنے دونوں کندھے زور سے پکڑ لیے۔ میرا سانس ہی رک گیا تھا۔ میں نے دو تین بار کوڑے کے ڈھیر پر اپنا سر مارا۔ پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ بلکہ خود کھڑا نہیں ہوا، گویا کسی چیز نے مجھے اٹھا کر پیروں پر کھڑا کر دیا۔ میں نے دوبارہ دوڑنا شروع کیا، ہمیشہ سے کہیں زیادہ تیز۔ حسنی سے بھی زیادہ تیز۔ میرا دل کرتا تھا، اُڑ کر کسی کنویں میں جا گروں۔ اسی وقت میں نے دیکھا کہ میں سڑک پر پہنچ گیا ہوں۔ پمپ کے پاس پہنچ کر میں نے سانس درست کیا۔ تب میری زبان کھلی اور میرے منھ سے نکلا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!”</p>
<p>جس وقت میں میدان میں پہنچا، سینہ زنی ختم ہو چکی تھی۔ سب لوگ دائرہ بنائے خاموش بیٹھے تھے۔ رمضان لوگوں میں سگریٹ تقسیم کر رہا تھا اور اُستا حبیب پانی کا برتن اٹھائے اِدھر اُدھر آ جا رہا تھا۔ میں نے اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “ حسنی! حسنی ! حسنی!” میں نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے سر پر ماریں اور زمین پر گر پڑا۔ سب لوگ اٹھ کر میرے گرد جمع ہو گئے۔ عباس آقا نے، جو سب کے آگے چلتا ہوا میرے قریب پہنچ گیا تھا، میرا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں خود کو نہ مار سکوں۔ اس نے پوچھا، “کیا ہوا؟ کیا ہوا؟”</p>
<p>میں نے چیخ کر کہا، “حسنی! حسنی کنویں میں گر پڑا!”</p>
<p>یہ کہہ کر میں زمین پر اوندھا ہو گیا اور مٹھیوں سے مٹی پکڑ لی۔ ہر طرف ایک ہمہمہ بلند ہوا۔ سب مجھے تسلیاں دیتے ہوے کہہ رہے تھے، “اچھا، اچھا، خدا رحمت کرے، تم خود کو زخمی مت کرو! صبر کرو!”</p>
<p>میرا بابا لوگوں کو ہٹاتا ہوا آگے آیا اور بولا، “چپ ہو جاؤ بچے! اس کے ماں باپ کے غم کو تازہ مت کرو!”</p>
<p>میں نے کہا، “گر پڑا! میری آنکھوں کے سامنے کنویں میں گر پڑا!”</p>
<p>بابا نے چیخ کر کہا، “میں کہتا ہوں چپ ہو جا! خاموش ہو جا گدھے کے بچے!”</p>
<p>میں اس سے بھی اونچی آواز میں چیخ کر بولا،”بخدا وہ کنویں میں گر پڑا! ابھی ابھی! ابھی گرا ہے!”</p>
<p>بابا نے مجھے سہارا دے کر کھڑا کیا اور ایک زوردار تھپڑ لگایا۔ اسمٰعیل آقا نے بابا کو ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا اور کہا، “مت مارو احمق آدمی! دیکھتے نہیں اس کا کیا حال ہو رہا ہے؟”</p>
<p>پھر اس نے مجھے سینے سے لگا کر کہا، “صبر کرو، صبر کرو!”</p>
<p>استا حبیب نے اسمٰعیل کو پانی دیا اور اسمٰعیل آقا نے پانی لے کر میرے منھ پر چھینٹے مارے۔ میں نے خود کو اس کے بازوؤں سے چھڑانے کے لیے بہت زور لگایا لیکن نہ چھڑا سکا۔ کچھ لوگ اور بھی زور لگا رہے تھے کہ میں بھاگ نہ نکلوں۔ میں نے ایک بار پھر اونچی آواز میں چیخ کر کہا، “حسنی گر پڑا! کنویں میں گر پڑا! حسنی! حسنی ! “ اسمٰعیل آقا نے اپنا بڑا سا ہاتھ میرے منھ پر رکھ کر مجھے چپ کرا دیا اور کھینچتا ہوا میرے جھونپڑے میں لے گیا۔ حسنی کے بابا کے سامنے سے گزرتے ہوے میں نے اس کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے کنویں کی سمت اشارہ کیا۔ اس نے میری طرف نہ دیکھا۔ خالی نظروں سے اپنے سامنے تکتا رہا۔ جب میں جھونپڑے میں داخل ہوا تو اسمٰعیل آقا نے کہا، “چپ ہو جاؤ بچے! سب جانتے ہیں کہ حسنی تمھارا دوست تھا۔ تم دونوں میں بہت یاری تھی۔ مگر اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ قضا اور قدر کے فیصلوں میں کسی کا کیا زور۔”</p>
<p>میں نے ایک بار پھر چیخ کر کہا، “ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے! ابھی گرا ہے!”</p>
<p>میں چاہتا تھا کہ دوڑ کر جھونپڑے سے باہر نکل جاؤں مگر نہ کر سکا۔ بابا نے کہا، “اب کیا کر سکتے ہیں؟ بولو؟ کیا کر سکتے ہیں؟”</p>
<p>اسمٰعیل آقا نے کہا،”یہ اپنے ہوش میں نہیں ہے۔ ہاتھ پیر باندھ دینے چاہییں۔”</p>
<p>انھوں نے میرے ہاتھ پیر کس کر باندھ دیے۔ میں نے پھر چیخنا شروع کیا۔ بابا نے کہا، “اس کے چیخنے کا کیا علاج کریں؟”</p>
<p>اسمٰعیل آقا نے کہا، “منھ بھی باندھ دیتے ہیں۔”</p>
<p>میرے منھ پر بھی کپڑا باندھ کر مجھے ایک کونے میں ڈال دیا گیا۔ بابا ہاتھ مل رہا تھا اور کہتا جا رہا تھا، “کیا کریں، خدایا! خداوندا، اگر یہ اسی طرح رہا تو کیا کریں گے!”</p>
<p>اسمٰعیل آقا نے کہا، “پریشان مت ہو۔ ابھی کالے خیموں والے آخوند سے کہتے ہیں کہ اس کے لیے دعا لکھ دے۔ پھر اس کی حالت ٹھیک ہو جائے گی۔”</p>
<p>اُستا حبیب بولا، “اگر ٹھیک نہ ہوا تو شاہ عبدالعظیم لے چلیں گے۔”</p>
<p>بابا متواتر رو رہا تھا اور بے چینی سے چکر لگاتے ہوے کہے جا رہا تھا، “یا امامِ زماں! یا امامِ زماں! یا امامِ زماں!”</p>
<p>اسمٰعیل آقا نے کہا، “بہتر ہے اسے کچھ دیر کے لیے تنہا چھوڑ دیں۔ شاید حالت بہتر ہو جائے۔”</p>
<p>وہ سب جھونپڑے سے باہر چلے گئے اور دروازہ بند کر دیا۔ جماعت کے صلوات پڑھنے کی آواز دوبارہ بلند ہوئی۔ اور پھر آخوند کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی جو دوبارہ روضہ ٔ قاسم پڑھ رہا تھا۔<br>
<br>
(فارسی عنوان: “بازی تمام شد”)</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/khel-khatam-hoa/">کھیل ختم ہوا (تحریر: غلام حسین ساعدی، ترجمہ: اجمل کمال)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/khel-khatam-hoa/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما — باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shata-rama-ch-12/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shata-rama-ch-12/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 08 Jun 2020 15:21:39 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25229</guid>

					<description><![CDATA[<p> ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم کمپنی کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shata-rama-ch-12/">شانتا راما — باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>” آپ نے بمبئی میں ‘مایا مچھندر’ دیکھی۔ اب بتائیے، وہ جیسی ہے ویسی ہی پیش کی گئی تو کیا لوگ اسے پسند کریں گے؟” فتےلال جی بڑی سنجیدگی سے سوال کر رہے تھے۔ دوسرے دن سویرے، داملے جی، فتےلال جی، دھایبرجی وغیرہ سب لوگ ہمارے ‘پربھات’ کے کارخانے میں بحث کر رہے تھے۔ تب بمبئی میں میرے کئے گئے فیصلے پر فتے لال جی نے شبہ ظاہر کیا۔ آج تک ایسا کبھی نہیں ہوا تھا۔ پھر آج ہی یہ بےیقینی کیوں؟</p>
<p>میں نے تڑاخ سےجواب دیا، “آپ کی رائے بھی گووندراؤ اور بابوراؤ جیسی ہی ہے تو جائیے، بمبئی تار دیجیے اور ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز آگے دھکیل دیجیے۔ اس کی کاپی یہاں واپس منگا لیجیے۔ اس میں جو بھی تبدیلی کرنی ہو، شوق سےکیجیے۔” سبھی چپ رہے۔ کسی نے کوئی بات نہیں کی۔</p>
<p>اس واقعے کے بعد دوسرےدن داملےجی اور فتےلال جی کے واقف ایک سجن بابوراؤ ٹول کسی سادھو بابا کو کمپنی میں لے آئے۔ ان باباجی کی عظمت کی انہوں نے تعریفیں کیں۔ ان کا نام تھا دادامہاراج۔ سبھی ساجھےدار ان کے چرن چھونے کے لیے لپکے۔ میں دور سے ہی تماشا دیکھتا رہا۔</p>
<p>بابوراؤ ٹول میرے پاس آ کر کہنے لگے، “شانتارام بابو، آگے بڑھیےاور آپ بھی چرن چھو آئیے۔ آپ کےمن میں جو بھی سوال ہو، پوچھ لیجیے۔”</p>
<p>“لیکن مجھے ان سے کوئی سوال نہیں پوچھنا ہے،” میں نے کہا۔</p>
<p>“اجی آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ وہ آپ کی کمپنی میں آئے ہیں۔ کمپنی میں آنے والے دوسرے لوگوں سے جس طرح ملتے ہو، نمسکار کرتے ہو، ویسا بھی نہیں کر سکتے آپ؟ محض ایک رسمی طور پر تو ملیے نا ان سے۔”</p>
<p>ٹول جی کی دنیاداری کچھ تو سمجھ میں آ گئی۔ ایک دم ہچکچاہٹ سے میں ان سادھو مہاراج کے سامنے گیا اور کھڑے کھڑےہی میں نے انہیں پرنام کیا۔</p>
<p>یہ دیکھ کر کہ پھربھی میں کچھ بول نہیں رہا ہوں، ٹول صاحب نے سادھو بابا سے کہا، “شانتارام بابو جاننا چاہتے ہیں کہ ان کی پربھات فلم کمپنی مستقبل میں کیسی چلےگی؟”</p>
<p>دادا مہاراج نے پوری سنجیدگی سے کہا، “انہوں نے ٹھیک سے چلائی تو ٹھیک ہی چلے گی۔”</p>
<p>مجھے اس بچگانے جواب پر زور کی ہنسی آ رہی تھی۔ بڑی مشکل سے میں نے اپنی ہنسی کو روکا۔</p>
<p>کچھ دیر بعد دادا مہاراج چلے گئے اور تب تک روکی رکھی میری ہنسی زور سے ابھر آئی۔ میں نے ہنستے ہنستے کہا، “بھئی خوب رہی! کہتے ہیں، ہم نے ٹھیک چلائی تو کمپنی ٹھیک چلےگی! لیکن یہ بتانے کے لیے ان سادھو بابا کی کیا ضرورت ہے؟”</p>
<p>میرا دادا مہاراج کی اس طرح کِھلی اڑانا دیگر لوگوں کو قطعی نہیں بھایا۔</p>
<p>‘مایا مچھندر’ بمبئی میں ریلیز ہو گئی اور اس نے بازی جیت لی۔ لوگوں کو ‘مایا مچھندر’ بہت ہی پسند آئی ہے، یہ خبر وضاحت سے دینے والا بابوراؤ پینڈھارکر کا تار آیا۔ فلم کے بارے میں میری چھٹی حس ایک دم صحیح ثابت ہوئی۔ بابوراؤ پینڈھارکر کولہاپور واپس آئے اور انہوں نے بِنا کچھ کہے میری پیٹھ تھپتھپائی۔ جن کی انگلی تھام کر میں نے اس فلمی دنیا میں پہلا قدم رکھا تھا، ان سے اس طرح خاموش شاباشی پا کر میں نے اپنے آپ کو خوش قسمت مانا۔</p>
<p>یہ فلم نہ صرف بمبئی میں، بلکہ سارے دیش، سبھی جاتی کے لوگوں کو بہت ہی پسند آئی۔ اس کا اینڈ دیکھ کر تو لوگ گدگدا جاتے تھے۔</p>
<p>گورکھ ناتھ اپنی غار میں واپس آتا ہے اور دیکھتا کیا ہےکہ اس کے گروجی مچھندر ناتھ وہیں سمادھی جمائے بیٹھے ہیں! تذبذب میں مبتلا گورکھ اپنے گروجی سے پوچھتا ہے، “ابھی کچھ لمحے پہلے تو آپ اس ستری (عورت) ریاست میں تھے اور ابھی آپ یہاں ہیں۔ تو سچ کیا ہے؟ وہ یا یہ؟”</p>
<p>گورکھ ناتھ کے اس سوال کا معقول جواب مکالمہ لکھتے وقت ہم میں سے کوئی نہیں کھوج پایا تھا۔ ہمارے ڈائیلاگ رائٹر نے اس پر لمبا بھاشن لکھ مارا تھا، لیکن اسے سننے کے لیے ناظرین تھئیٹر میں ہرگز نہ رُکتے۔ ہم سب نے کافی سوچا لیکن کوئی حل نہیں نکلا۔ آخر فلم میں گورکھ ناتھ کے اس سوال کو ویسا ہی لاجواب چھوڑ کر ہم لوگ باقی شوٹنگ میں جُٹ گئے۔ سوچا، شاید آگے چل کر اس کا جواب اپنے آپ اُبھر آئے گا۔</p>
<p>ساری فلم کی شوٹنگ پوری ہو گئی اور اب اس آخری سین کی شوٹنگ کا دن آ گیا۔ اب تو گورکھ ناتھ کےاس سوال کاجواب مزید ٹالا نہیں جا سکتا تھا۔ کیا کریں، کچھ سوجھ نہیں رہا تھا۔ آخر ہار کر میں نے مچھندر ناتھ کے منھ سے ‘چت بھی میری، پٹ بھی میری’ سٹائل میں گول مول جملہ کہلوایا :</p>
<p>گورکھ پوچھتا ہے،“گروجی، یہ سچ ہے، یا وہ سچ ہے؟”</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/GTq-HXM6jjs" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>“بیٹا گورکھ ناتھ، یہ بھی سچ ہے اور وہ بھی سچ ہے۔ تمہارے لیے یہ سچ، وہ مایا۔” مچھندر ناتھ بڑی گمبھیرتا سے جواب دیتا ہے۔ یہ جملہ مچھندر ناتھ سے کہلوایا۔ تب سوچا بھی نہیں تھا کہ میں نے کوئی بڑی بات کہلوائی ہے۔ لیکن ناظرین نے اس جملے میں مہان فلسفیانہ نظریہ پایا۔ کئی جذباتی ناظرین نے خط بھیج کر مجھےدلی مبارکباد دی کہ اتنا گہرا،سنجیدہ فلسفیانہ نظریہ میں نے بالکل آسان الفاظ میں آسانی کے ساتھ لوگوں کے سامنے رکھا۔</p>
<p>لگ بھگ اسی وقت، ‘پربھات’ کی طرف سے ہم نے ‘سیتا کلیانم’ نامی تمِل فلم بنائی۔ اس کی ڈائریکشن بابوراؤ پینڈھارکر نےکی۔ اس کام کرنے کے لیے سبھی لوگ مدراس سے لائے گئے تھے۔ کچھ ٹیکنیشین بھی وہیں سے آئے تھے۔ لیکن پروڈکشن ‘پربھات’ کی ہی تھی۔ یہ فلم مدراس صوبے میں کافی مقبول ہو گئی تھی۔</p>
<p>‘مایا مچھندر’ کا کام شروع ہونے سے کچھ دن پہلے اگفا کمپنی کے ہندوستان میں مشہور لائیڈن اور ریگے کولھاپور آئے تھے۔ رنگین فلم بنانے کا ایک نیا بائی پیک سسٹم انہوں نے تیار کیا تھا۔ انہوں نےاس سسٹم کی جانکاری دینے والی مشینری ہمیں دی۔ اس بائی پیک سسٹم میں کیمرے میں ایک ہی وقت میں نیگیٹو کے دو فیتے چلانے پڑتے تھے۔ ایک نیگیٹو نارنجی رنگ کے لیےاور دوسری نیلے رنگ کے لیے۔ دونوں نیگیٹوز کو ایک ہی ساتھ فلمانا پڑتا تھا۔ کیمیائی عمل تو بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹو پر جیسا ہوتا ہے، ویسا ہی کرنا پڑتا تھا۔ بعد میں ایک ہی پازیٹو فلم پر ایک طرف نارنجی اور دوسری جانب نیلے کے نیگیٹو کے پرنٹ اس طرح لینے پڑتے تھے اور اس طرح ریلیز کا پرنٹ تیار کیا جاتا تھا۔ اس سسٹم میں پیلا رنگ آزاد روپ میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔ نارنجی رنگ میں پیلی چمک آ جاتی تھی، اتنا ہی پیلا رنگ موجود ہوتا تھا۔ اس بائی پیک سسٹم کا استعمال کر جرمنی میں فلمایا ایک فلم رول بھی ہم نے پردے پر دیکھا۔ اس وقت تو ہم سب کو وہ بہت ہی پسند آیا۔</p>
<p>بھارت میں پہلی رنگین فلم بنانےکا یہ موقع نہ کھونے کا ہم نے فیصلہ کیا۔ کیمرے میں جڑواں فلم چڑھانے کا انتظام کرنے اور جرمنی سے رنگین نگیٹو آنے میں دو تین مہینے کا وقت لگنے والا تھا، لہٰذا اس بیچ خالی ہاتھ بیٹھے رہنے کے بجاے ہم لوگوں نے ایک فلم بنانے کا سوچا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کی ‘سنگھ گڈ’ خاموش فلم کافی مقبول ہو چکی تھی۔ اسی خاموش فلم کو بولتی فلم میں بدلنے کا ہم لوگوں نے ارادہ کیا۔ مشہور مراٹھی ناول نگار ہری نارائن آپٹے کے ناول ‘گڈ آلا، پن سنگھ گیلا’ کے مکمل حقوق ہم نے خرید لیے۔ اس فلم کو صرف مراٹھی میں ہی بنانے کا ہم نے فیصلہ کیا۔</p>
<p>اسی وقت کولہاپور میں مراٹھی ادبی کانفرنس ہوئی۔ اس کانفرنس میں ایک مشاعرے میں بیٹھے بیٹھے میرے من میں ایک وچار آیا۔ میں نے سبھی شاعروں کو اپنی کمپنی میں محبت سے مدعو کیا۔ کیشو کمار عرف اترے، شاعر یشونت، گریش (مراٹھی کے مشہور ناٹک کار وسنت کانیٹکر کے پتاجی)، سوپان دیو چودھری، مایدیو، سنجیونی مراٹھے وغیرہ مشہور شاعر ہمارے سٹوڈیو آئے۔ انہیں کیمرے کے سامنے کھڑا کر ہم نے ان سے ان کی کچھ نظمیں پڑھوائیں، اس کو فلما لیا اور ساؤنڈ ریکارڈنگ بھی کر لی۔ لیکن انہیں پردے پر جوں کا توں پیش نہیں کیا۔ ہمارے کلاکاروں سے مناسب بھیس میں ان نظموں کے مصرعوں کے مطابق خاموش اداکاری (مائم) کرائی۔ مثال کے لیے: شاعر یشونت کی نظم ‘نیاہاریچا وکھت جھالا میترنی بگی بگی چال’ پر ایک کسان لڑکی باجرے کی روٹیوں کی ٹوکری سر پر لیے اپنے پتی کو ناشتہ کرانے کے لیے بڑی لپک لچک کر کھیت کی طرف جا رہی ہے، ایسا سین ہم نے فلمایا۔ اسی طرح اترےکی ‘پرٹا، ییشل کدھی پرتون’- طنزیہ نظم پر ایک دھوبی اپنے گدھے پر میلے کپڑوں کی گٹھری لادے جا رہا ہے، ایسا منظر ہم نے فلمایا۔</p>
<p>اس مشاعرے کی ڈاکیومنٹری ہم نے ‘سنگھ گڈھ’ فلم کے ساتھ پیش کی۔ ناظرین نے اس نئے آئیڈیا کا اچھا استقبال کیا۔ نظم لکھتے وقت اہلِ نظر کے سامنے جو متاثرکن سین تھا، اسے فلمی پردے پر سچ دیکھ کر بہت لطف حاصل ہونے کی بات کی سبھی شاعروں نےخط لکھ کر ہمیں اطلاع دی۔</p>
<p>‘ایودھیا کا راجا’ ہماری پہلی ہندی بولتی فلم تھی۔ اسے استثنیٰ مان لیا جائے تو ہماری سبھی خاص فلمیں اچھی طرح کامیاب رہی تھیں۔ کمپنی میں خوشی اور جوش ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لیکن اب ہمیں ایک کمی ستانے لگی تھی۔ بمبئی میں سبھی سٹوڈیوز میں آج کل بجلی کے طاقتور بلبوں کی تیز روشنی میں شوٹنگ ہونے لگی تھی۔ ہم نے کولھاپور کی بجلی کمپنی کے اہلکاروں کے پاس جا کر پوچھ تاچھ کی کہ کیا فلم میکنگ کے لیے ضروری بجلی وہ ہمیں دے سکیں گے؟ لیکن انھوں نے ٹکا سا جواب دیا، “دوسرے زیادہ غیرمعمولی کاموں کے لیے بجلی کا استعمال کرنا ہے، اس لیے فلم کے لیے بجلی دینا ممکن نہیں ہو گا۔”<br>
ہم سب کے سامنے فیصلہ کن مشکل منھ کھولے کھڑی تھی: سورج کی کرنوں کو منعکس کرنے کے پرانے طریقے کے مطابق ہی شوٹنگ کرنے کے لکیر کے فقیر بنے رہیں، یا آج اور سب لوگوں کی طرح شوٹنگ کے لیے بجلی کا استعمال کرنا شروع کریں؟</p>
<p>دنیا سے پیچھے رہنا ہمارے لیے ناقابل برداشت تھا۔ من میں وچار آنے لگا کہ کولہاپور میں اگر بجلی کی سہولت میسر نہیں تو کیوں نہ ایسی جگہ چلا جائے جہاں وہ میسر ہو؟ بس، اپنی فلم کمپنی کو پُونا، بمبئی جیسے کسی شہر میں لے جانے کا ارادہ پکا ہونے لگا۔</p>
<p>اور اسی وقت ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے ہم نے اپنی ‘پربھات’ کمپنی کو دوسرے شہر لے جانے کا ارادہ پکا کر ہی ڈالا۔ بات یہ ہوئی کہ ایک دن کولہاپور کے راجا، راجارام مہاراج، ان کی بہن اکا صاحب مہاراج، ماتاجی آئی صاحب مہاراج وغیرہ، راج خاندان کے لوگ سٹوڈیو میں ہماری شوٹنگ دیکھنے کے لیے آئے۔ جاتے جاتے مہاراج نے مجھے راج محل آ کر ملنے کو کہا۔</p>
<p>میں راج محل پہنچا۔ مہاراج نے ہماری کمپنی کا حال پوچھا۔ ‘پربھات’ کے سبھی ساجھے داروں کے نام پوچھے۔ بعد میں باتوں باتوں میں انھوں نےکہا، “شانتارام بابو، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہےکہ کمپنی اچھی طرح چل رہی ہے، لیکن آپ کےساجھےداروں میں دو بامن ہیں، داملے اور کُلکرنی۔ بامن جاتی کی خاصیت ہے کہ وہ اپنے فائدے کے پرے دیکھ نہیں سکتی۔ آپ سب لوگ اوپر اٹھنے کی کوشش کیے جا رہے ہیں، تب تک تو یہ لوگ آپ سے ٹھیک طرح پیش آئیں گے۔ لیکن آپ کی پانچوں انگلیاں گھی میں آتے ہی آپ کا سر کڑاہی میں ڈالنے سے یہ لوگ کبھی نہیں چوکیں گے!”</p>
<p>مہاراج کے برہمن بیزار رویے کے بارے میں مَیں نے سنا تو تھا، اب بات سامنے آ گئی تھی۔ انہوں نے میرےساتھیوں کے بارےمیں جو نامناسب باتیں کہی تھیں، مجھے قطعی نہیں بھائیں۔ میں نےانھیں صاف کہہ دیا، “داملےجی اور کلکرنی جی برہمن بھلے ہی ہوں، آپ بتاتے ہیں، ویسے ہرگز نہیں ہیں!”</p>
<p>“میری بات آپ کو آج نہیں اچھی لگی شاید، لیکن کچھ سال بعد آپ خود تجربہ کریں گے اسے!”</p>
<p>مہاراج کی باتیں سن کر میرے من میں شُبہ جاگا کہ کہیں یہ ہم لوگوں میں پھوٹ ڈالنے کی تو کوشش نہیں کر رہے ہیں؟</p>
<p>میں کمپنی میں واپس آ گیا۔ راج محل میں ہوئی ساری باتیں ساتھیوں کو بتا دیں اور اپنا پیغام بھی واضح کر دیا۔ ایسی حالت میں مہاراج نے چاہا تو وہ ہماری کمپنی کو چٹکیوں میں تباہ کر سکتے تھے!</p>
<p>لہٰذا ہم سب نے مکمل باہمی رضامندی سے فیصلہ کیا کہ کولھاپور سے کمپنی کا بوریا بستر اٹھا کر بمبئی کےپاس پُونا شہر میں پربھات فلم کمپنی کو نئے سرے سے شروع کیا جائے۔</p>
<p>ڈھیلاپن اور سستی ہم لوگ جانتے ہی نہیں تھے۔ سٹوڈیو کے قابل جگہ کی کھوج کے لیے ہم نے بابوراؤ پینڈھارکر کو پُونا بھیجا۔ انہوں نے ڈیکن جمخانہ کے آگے ایرنڈونا رستے پر سردار ناتو کی ایک کافی بڑی کھلی جگہ پسند کی۔ جگہ لگ بھگ آٹھ ایکڑ تھی۔ بابوراؤ نے زمین کا سارا حال ہمیں لکھ بھیجا۔ جگہ پسند کرنے کے لیے ہم سب کو انھوں نے پونا بلا لیا۔</p>
<p>پُونا میں اس جگہ پر پہنچتے ہی ہم بہت مطمئن ہوئے۔ ‘پربھات’ کے قیام کے وقت سے ہی من میں ’پربھات نگر’ بسانے کی جو بات گہری پَیٹھ چکی تھی، اسے پورا کرنے کے لیے یہ جگہ بہترین تھی۔ پھر اس کے آس پاس بھی لگ بھگ سو دو سو ایکڑ زمین خالی پڑی تھی۔ آگے چل کر اسے بھی خریدا جا سکتا ہے اور پربھات نگر بسانے کا سپنا سچ کیا جا سکتا ہے، یہ وچار مجھ پر حاوی ہو گیا اور بِنا بھاؤتاؤ کیے ہی ہم نے وہ زمین خرید لی۔ پُونا میں ایک انجینئر تھے پَوار۔ انہیں سٹوڈیو اور دوسرے شعبوں کی پوری جانکاری دی اور اس کے مطابق پلان بنانے کے لیےکہا۔ ان کےکام پر داملےجی دیکھ ریکھ کرنے لگے۔ وہ بیچ بیچ میں پُونا جاتے اور سٹوڈیو کےتعمیری کام پر نظر رکھتے تھے۔</p>
<p>اب تک رنگین فلم کے لیے ضروری ساری مشینری اور سازوسامان، جڑواں نگیٹو وغیرہ ہمیں مل گئے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انگریزی میں معلوماتی کتابیں بھی آئی تھیں۔ ان سب کو میں نے پورے دھیان سے پڑھا اور ان میں دی گئی ہر بات کا باریکی سے مطالعہ کیا۔ پھر وہ ساری جانکاری میں نے مراٹھی میں دھایبر، فتے لال جی، داملےجی وغیرہ سب کو ٹھیک طرح سے سمجھا دی۔</p>
<p>رنگینی کاخیال کر کمپنی کےکلاکاروں کو پوشاکیں دیں، اور جانکاری کی کتابوں میں دی گئی ہر بات پر ٹھیک ٹھیک عمل کرتے ہوئے تجربے کی خاطر تھوڑی شوٹنگ کی۔ اس جڑواں نیگیٹو پر کیمیکل کا عمل پورا کر رنگین پرنٹ نکالنے کے لیے انہیں جرمنی بھجوا دیا۔</p>
<p>رنگین فلم کے روپ میں ایک نئی ست رنگی دنیا کا علاقہ ہمارے سامنے کھل گیا۔ رنگین فلم کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے ہم لوگوں نے فیصلہ کیا کہ کسی قدیم موضوع کو ہی لیا جائے۔ اس لیے ‘کیچک وَدھ’ کی حکایت کو ہم لوگوں نے چنا۔ مہابھارت کی اسی کہانی پر بابوراؤ پینٹر نے ایک فلم ڈائریکٹ کی تھی۔ اس کا مجھ پر بہت اثر پڑا تھا اور اسی لیے میں نے اس علاقے میں قدم رکھا تھا۔ اس کہانی کے ذریعے سے قدیم سیاسی سوالوں کو ڈھنگ سے پھر ایک بار عوام کے سامنے ابھارا جا سکتا تھا۔ آدرشی فلم بنانے کے میرے اپنےسٹائل میں بھی یہ درست بیٹھتا تھا۔ ہم نے بھی اس فلم کا نام ‘سیہ رنگھری’ رکھنا ہی طے کیا۔</p>
<p>میں نے ایڈیٹنگ شروع کی۔ رنگین پرنٹ کے لیے فلم کی لمبائی کتنی ہونی چاہیے، ٹھیک سے معلوم نہ ہونے کے کارن میں نے ہر سین کی علیحدہ ایڈیٹنگ کر اسے چھوٹی چھوٹی گراریوں میں باندھا۔ اس طرح کئی گراریاں بن گئیں۔ ہر چھوٹی گراری کا ہماری تجربہ گاہ میں ہی بلیک اینڈ وائٹ پرنٹ تیار کیا اور انہیں جوڑ کر ہم نے فلم کو تجرباتی روپ میں پردے پر دیکھا۔ ایک ہی رنگ کی ہونے کے کارن اس فلم پٹی پر نقش سین پردے پر صاف دکھائی نہیں دیے، لہٰذا فلم کا کُل اثر دیکھنے والوں پر کیا پڑے گا، ہم لوگ ٹھیک سے بھانپ نہ سکے۔</p>
<p>اب اس جڑواں نیگیٹو سے رنگین کاپی نکالنے کا وقت آ گیا تھا۔ آج تک اس کیمیائی عمل کا سارا کام داملےجی دیکھا کرتے تھے، لہٰذا اس کام کے لیے جرمنی جانےکی ذمےداری انھی کو سونپی گئی۔ وہ سفر کی تیاری میں جُٹ گئے۔ ان کا پاسپورٹ بن کر آ گیا۔</p>
<p>لیکن ایک دن سویرے ہی داملے جی میرے پاس آئے اور بولے، “شانتارام بابو، جرمنی آپ ہی جائیے۔ ادھر انگریزی میں باتیں کرنا مجھ سے ٹھیک سے نہیں ہو پائے گا!”</p>
<p>میں نے ہنس کر کہا، “میں بھی کون بچپن سے انگریزی بول پاتا ہوں؟ ویسے انگریزی بات چیت آپ کی بھی سمجھ میں آ جاتی ہے کافی کچھ۔۔”</p>
<p>فیصلے کے مطابق ان کو ہی جرمنی جانا چاہیے، ایسی درخواست میں نے کافی کی، لیکن داملے جی مانتے ہی نہیں تھے۔ شاید انھوں نے نہ جانے کا من ہی من فیصلہ کر رکھا تھا۔ آخر مجھے ہی جرمنی جانے کی تیاری کرنی پڑی۔</p>
<p>جرمنی پہنچنے پر جہاں تک ہو سکے بھارتی لباس میں ہی رہنے کے ارادے سے میں نے شیروانیاں، چوڑی دار پاجامے، طرح طرح کی ٹوپیاں وغیرہ کپڑے بنوا لیے۔ ماں، باپو، وِمل، میرےدونوں بچے، پربھات کمار اور دو برس پہلے جنمی لڑکی سروج میرے ساتھ بمبئی آئے۔ ان کے علاوہ پربھات فلم کمپنی میں میرے ساتھی بابوراؤ پینڈھارکر، ونائک، میرے تینوں چھوٹے بھائی کیشو، رام کرشن اور اودھوت وغیرہ سب لوگ بھی بس سے بمبئی آ گئے۔ بڑا بھائی کاشی ناتھ دادا بمبئی میں ہی رہتا تھا۔ وہ، اس کے گھر کے لوگ، بابوراؤ پینڈھارکر، تورنے اور باقی مِتر بھی بندرگاہ پر مجھے الوداع کہنے آ گئے تھے۔ ‘سیرندھری’ کی نگیٹو لے کر میں نے ‘لائڈ ٹرسٹنو’ کمپنی کے جہاز پر پاؤں رکھا۔ میں باہر ڈیک پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ بندرگاہ کے ساحل پر سارے خاندان والے کھڑے تھے۔ وہ سبھی ساتھی، متر ہاتھ ہلا ہلا کر مجھے الوداع کہہ رہے تھے۔</p>
<p>میں نے بھی اپنی جیب سے رومال نکال کر ہلایا۔ وِمل ہاتھ ہلا رہی تھی اور پلو سے آنکھیں بھی پونچھ رہی تھی۔ وِمل کے پاس ہی وِنائک کھڑا تھا۔ وہ بھی پاگل جیسا رو رہا تھا۔ دھیرج اور سنجیدہ سوبھاؤ کے بابوراؤ بھی بھر آئے آنسو رومال سے دھیرے سے پونچھ رہے تھے۔ میرے بچے پربھات کمار اور سروج تذبذب میں سارا حال دیکھ رہے تھے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ اپنے کام وام میں بہت زیادہ مصروف رہنے کے کارن میں نے بچوں کی طرف خاص کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔ نتیجتاً وہ میرے ساتھ کوئی خاص ہلے ملے نہیں تھے۔ پھر بھی اپنے دادا کو ‘با’ کہا کرتے تھے)، وہ بھی رونے لگے۔ میری بھی آنکھیں بھر آئیں۔</p>
<p>جہاز ساگر ساحل کو چھوڑ کر گہرے پانی میں دور دور جانے لگا۔ ساحل پر کھڑے سبھی مرد عورت چھوٹے چھوٹے دکھائی دینے لگے اور آخر میں اوجھل ہو گئے۔ تب تک میں رومال ہلا رہا تھا، اب میں نے رومال نیچے کیا اور جہاز کی ریلنگ پکڑ کر میں ڈیک پر کھڑا بندرگاہ کی سمت ایک ٹک دیکھتا گیا۔ میں سب کو چھوڑ کر کہیں دور چلا جا رہا ہوں، ایسا نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سب لوگ مجھے اکیلا چھوڑ کر کہیں دور چلے جا رہے ہیں، اور میں ایک دم اکیلا رہ گیا ہوں۔ پتا نہیں کتنی دیر میں یوں ہی ڈیک پر کھڑا کھڑا کسی غیرموجود خلا میں کھوئی کھوئی نظروں سے کیا دیکھتا رہا۔۔۔۔</p>
<p>جہاز پر کچھ بھارتی لوگ تھے۔ ہم نے آپس میں تعارف کر لیا اور چونکہ کرنے کے لیے اور کچھ بھی نہیں تھا، گپیں لڑانے بیٹھ گئے۔ کئی بار جہاز پر کچھ کھیل ہوتے تھے۔ ہم سب لوگ ان میں شامل ہوتے۔ جہاز پر گھڑدوڑ بھی ہوتی۔ لیکن یہ گھوڑے ایک فٹ اونچے اور لکڑی کے بنے ہوتے تھے۔ میں نے گھوڑوں کی اس ریس میں خود پیسہ لگا کر کبھی حصہ نہیں لیا۔ میں صرف ناظر بن کر کھیل اور لوگوں کا تماشا دیکھا کرتا تھا۔ کئی بار یہ سب لوگ تاش کھیلنےجم جاتے۔ تاش میں میری تو قطعی کوئی مہارت نہیں تھی۔ گدھاکوٹ جیسے معمولی کھیل میں بھی ہمیشہ گدھا بننے لائق ہی میرا تاش کا علم تھا! ایک بار ان سب لوگوں نے مجھے بِرج کھیلنے کا آگرہ کیا۔ مجھے بِرج کے معمولی رولز پتا تھے اور ان کے بل پر میں بِرج کھیلنے ایسے بیٹھا جیسے بڑا ماہر ہوں۔ لیکن بعد میں میرے نوسِکھیا کھیل کی وجہ سے میرا پارٹنر مجھ پر بہت بگڑ پڑا۔ میں نے تاش کے پتے پھینک دیے اور چپ چاپ ایک اور چل دیا۔</p>
<p>سفر میں تین ہفتے بیت گئے اور ہمارا جہاز بندرگاہ پر جا لگا۔ مجھے لینے کے لیے امریکن ایکسپریس کمپنی کا آدمی آیا ہوا تھا۔ اس نے میرے کپڑوں کا بڑا بیگ، نگیٹو کے صندوق وغیرہ سامان برلن پہنچانے کا بندوبست کیا۔ پھر بھی میرے ساتھ دو تین بیگ تھے۔ وہاں سے ٹرین سے میں برلن پہنچا۔ اسٹیشن پر سامان اتروانے کے لیے میں قلی کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن وہاں کوئی قلی وُلی نہیں آیا۔ آخر میں نے خود ہی اپنا سامان اتارا۔ اپنے بیگ بھی میں نے اٹھائے ہی تھے کہ اگفا کمپنی کے ڈاکٹر پیٹرسن مجھے لِوا لینے کے لیے وہاں آ گئے۔ پیٹرسن اگرچہ جرمن تھے، انگریزی اچھی بول لیتے تھے۔</p>
<p>میرے ٹھہرنے کاانتظام ایک بورڈنگ ہاؤس میں کیا گیا تھا۔ بورڈنگ ہاؤس کو وہاں ‘پانسیوں‘ (Pension) کہتے ہیں۔ جس پانسیوں میں ٹھہرایا گیا تھا وہ پہلی جنگ عظیم میں گزر گئے ایک فوجی کی بیوہ کا تھا۔ پیٹرسن نے اس عورت کو میرے آرام کا دھیان رکھنے کے لیے کہا۔ جاتے وقت انھوں نے کہا، “میں کل سویرے یہاں آؤں گا۔ یہاں سے ہم لوگ اُفا سٹوڈیوز کی افِیفا لیبارٹری میں جائیں گے۔ وہاں آپ اپنے نگیٹو کی ایڈیٹنگ کا کام شروع کیجیے۔” ڈاکٹر پیٹرسن جانے کو تیار ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور کہا، “آف ویدرزہن!” میں کچھ سمجھ نہیں پایا۔ پیٹرسن نے ہنس کر کہا، “ہم جرمن لوگ ایک دوسر سے وداع ہوتےوقت ‘گڈ بائی’ نہیں کہتے، آف ویدرزہن کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے، امید ہے پھر ملیں گے۔” اس کے بعد میں نے بھی انھیں ” آف ویدرزہن” کہا۔</p>
<p>کل سے کام شروع کرنا ہے، لہٰذا کام چلانے لائق جرمن زبان کے لفظ تو معلوم ہونے ہی چاہییں، یہ سوچ کر بمبئی سے جرمن انگریزی لغت خرید لایا تھا، اسے میں نے اپنے بیگ سے نکالا اور پڑھنے بیٹھ گیا۔ لیکن وہ تھی نری لغت، کوئی ناول تھوڑے ہی تھا! نہ کہانیوں کی کتاب تھی! دو چار لفظوں کو یاد کرتے کرتے میری آنکھیں جھپکنے لگیں۔ آخر، کل صبح اٹھتے ہی ‘ناشتہ’ لفظ کی ضرورت پڑےگی، سوچ کر میں بریک فاسٹ لفظ کا جرمن متبادل لغت میں ڈھونڈنے لگا۔ جرمن زبان میں بریک فاسٹ کو ‘فرشسٹک’ کہتے ہیں۔ لفظ کو رٹتے رٹتے میں گہری نیند سو گیا۔</p>
<p>سویرے پیٹرسن آئے۔ ان کے ساتھ میں افیفا لیباریٹری جانے کے لیے نکلا۔ راستے میں کچھ جرمن نوجوانوں کے دستے بڑے جوش خروش کے ساتھ حرکت کرتے جا رہے تھے۔ میں نے جوش سے پیٹرسن سے پوچھا، “یہ کون لوگ ہیں؟”</p>
<p>“نازی نوجوان ہیں”، انہوں نے بتایا۔ اس وقت جرمنی پر ہٹلر کے نازی وچاروں کا اثر پڑنے لگا تھا۔ ان نوجوانوں کی شرٹ کی آستین پر لال رنگ کے سواستِک بنے پٹّے تھے۔ ہاتھوں میں بندوقیں نہیں تھیں، لکڑی کے ڈنڈے تھے۔ وہ سارا منظر دیکھ کر من میں ماضی کی جنگ عظیم کی یاد تازہ ہو گئی۔ من بہت بےچین ہو گیا۔ ہماری گاڑی آگے نکلی۔ صاف ستھرا اور ایک دم سڈول برلن شہر دیکھ کر آنکھیں نہال ہو جاتی تھیں۔ ہم لوگ لیبارٹری پہنچے۔</p>
<p>وہاں جاتے ہی متعلقہ افسروں سے پیٹرسن نے میرا تعارف کرایا۔</p>
<p>بعد میں ایڈیٹنگ کے لیےمخصوص میرا کمرہ مجھے دکھایا گیا۔ میری سرپرستی میں کام کرنےجا رہی مددگار سے میرا تعارف کرایا گیا۔ یہ تمام شروعاتی رسمیں پوری کر لینے کے بعد میں نے فلم کے پہلے حصے کی جڑواں نگیٹو کی ایڈیٹنگ شروع کی۔ شام تک میں پہلی گراری تیار کر لوں تو ایک ہفتے بعد مجھے رنگین کاپی کا رزلٹ دیکھنے کو ملنے والا تھا۔</p>
<p>میں پہلے نمبر کی گراری کی نگیٹو کاٹ کر دیتا جا رہا تھا۔ میری مددگار جینی پاس میں بیٹھ کر جوڑوں کو ٹھیک ڈھنگ سے ایڈٹ کرتی جا رہی تھی۔ اسے کام کو سمجھا کر بتانا میرے لیے کٹھِن ہوتا جا رہا تھا۔ اسے انگریزی معمولی آتی تھی۔ اس دن انگریزی جرمن لغت اپنے ساتھ لانا میں بھول گیا تھا، لہٰذا کئی باتیں اشاروں کے سہارے ہی اسے سمجھانے کی کوشش مجھے کرنی پڑ رہی تھی۔ پہلی جڑواں گراری تیار ہو جانے پر میں نے جینی سے سامنے والی گراری پر نارنجی اور پیچھے والی پر نیلے رنگ کی فلم (Leaders) جوڑ نے کے لیے کہا۔ کیمیائی عمل کرنے والوں کو معلومات دینے کے لیے ایسا کرنا پڑتا تھا۔ یہ بائی پیک سسٹم جرمنی میں بھی نیا تھا۔ نتیجتاً جینی کو بھی وہ معلوم نہیں تھا۔ میں اسے سمجھانے لگا کہ نگیٹو کی سامنے والی گراری کون سی ہے اور پیچھے والی کون سی۔ “دِس از فرنٹ نگیٹو، دس از بیک نگیٹو۔”</p>
<p>لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ میرا منھ تاکتی رہی۔ پھر اسی نے پوچھا، “دِس واٹ؟”</p>
<p>میں نے اسے پھر وہی بات سمجھائی۔</p>
<p>اس نے ‘اب سمجھ گئی’ کی ادا سے دونوں گراریاں ہاتھوں میں لیں اور ایک کو آگے کرتی ہوئی بولی، “دِس؟”<br>
میں نے کہا، “فرنٹ نگیٹو” اور فوراً ہی دوسری گراری کی طرف انگلی دکھا کر اسے بتایا، “بیک نگیٹو۔”<br>
وہ الجھن میں پڑ گئی۔</p>
<p>میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، “دیکھو، اب تم میرے ‘سامنے’ کھڑی ہو” اور میں نے اپنے سینے پر انگلی رکھ کر ’میرے‘ لفظ پر زور دیا۔ میں آگے اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ جینی بول پڑی، “اوہ!” وہ ایک دم خوش دکھائی دی اور اسی خوشی خوشی میں جرمن بھاشا میں ‘اب سمجھ گئی’ جیسا کچھ بول گئی۔ پھر اس نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر بڑے ٹھاٹ سے کہا، “یو مین” اور وہی انگلی پھر اپنی چھاتی پر رکھ کر بولی، “آئی گرل۔”</p>
<p>میں نے اپنا سر پکڑ لیا اور کہا،“اس کا مجھے پتا ہے!”</p>
<p>اب اس کو ‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ لفظوں کا مطلب جرمن زبان میں کس طرح سمجھاؤں، میرے سامنےمسئلہ بن گیا۔ میں نے پھر کوشش شروع کی۔ جینی کے پیچھے کھڑا ہو کر میں نے اس سے پوچھا، “اب بتاؤ، تم کہاں کھڑی ہو اور میں کہاں کھڑا ہوں؟”</p>
<p>“زمین پر،” اس نے میری طرف مڑ کر ہنستے ہنستے جواب دیا۔<br>
تُنک کر میں نے کہا، “نو نو نو!” اور ہر لفظ پر زور دے کر زور سے بتایا،<br>
“یو فرنٹ اینڈ آئی بیک۔” میں نے اس کی طرح ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی کا استعمال کر سمجھانا چاہا۔</p>
<p>لیکن اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ وہ کمرے سے باہر گئی۔ میں نے سوچا، شاید انگریزی جرمن لغت لے کر آئے گی۔ لیکن لغت کے بجاے وہ اپنی طرح وہاں کام کرنے والی دو جرمن لڑکیوں کو ساتھ لے آئی۔ میری طرف سے منھ پھیرا اور وہ ان لڑکیوں کو جرمن بھاشا میں زور زور سے کچھ کہنے لگی اور وہ لڑکیاں کِھلکِھلا کر ہنسنے لگیں۔</p>
<p>اب پریشانی میں مَیں پڑا۔</p>
<p>ان میں سے ایک لڑکی آگے آئی اور میری طرف پیٹھ کیے کھڑی جینی کی طرف انگلی دکھا کر بولی، “جینی وہورڈسٹ پرنٹ۔ .پرنٹ۔ یو سٹینڈنگ روکین بیک۔ بیک۔”</p>
<p>میں نے جوش کے ساتھ کہا، “یس۔۔یس۔”</p>
<p>‘سامنے’ اور ‘پیچھے’ ان دو لفظوں کی وجہ سے کھڑا کٹھنائی کا پہاڑ ہم لوگ پار کر چکے تھے۔</p>
<p>دوسرے دن افیفا لیباریٹری جاتے وقت میں نے یاد سے لغت لی۔ اس کی مدد سے میں اور جینی آپس میں تھوڑا بہت بولنے لگے۔ ہم نے اگلے نمبر کی گراری جوڑنے کے لیے لی، لیکن میرا سارا دھیان کیمیکل روم میں تیار کیے جا رہے رنگین پرنٹ کے نتائج پر فوکس ہو گیا تھا۔ ہم نےرنگین فلم کا یہ جو تجربہ ہاتھ میں لیا تھا، اس کی طرف سارا ہندوستان آنکھیں لگائے بیٹھا تھا۔ میرے دل کی دھڑکن بڑھتی جا رہی تھی۔</p>
<p>ساتویں دن سویرے پیٹرسن میرے ایڈیٹنگ روم میں آئے۔ ان کا چہرہ سنجیدہ تھا۔ میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر انھوں نےکہا، “شانتارام، ویری سوری! بیڈ نیوز!”</p>
<p>لمحہ بھر کو ایسا لگا جیسے ساری دھرتی اور آسمان اچانک گول گھوم گئے ہیں۔</p>
<p>کوشش کر کے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پیٹرسن کی باتیں میں سننے لگا۔ وہ کہہ رہے تھے:</p>
<p>“تمہاری نیگیٹو ٹھیک طرح سے فلمائی نہیں گئی ہے۔ اس میں کافی غلطیاں ہیں اور اسی لیے اس کے رنگین پرنٹ ٹھیک سےنہیں آ پا رہے ہیں۔ اُفا کے خاص کیمیادان ڈاکٹر ولف نے تمھاری نگیٹو کے پرنٹس لینے کے لیے کئی طریقے اپنا کر دیکھ لیے، کئی تجربے بھی کیے، لیکن سب بےسود رہے! آئی ایم سوری مسٹر شانتارام!”</p>
<p>میرا تو گلا سوکھ گیا۔ زبان اندر ہی اندر کھنچتی چلی گئی۔ مشکل سے میں نے جیسے تیسے پیٹرسن سے پوچھا:</p>
<p>“تو کیا ہماری نیگیٹو کے رنگین پرنٹ بنیں گے ہی نہیں؟”</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shata-rama-ch-12/">شانتا راما — باب 12: رنگوں کی دنیا میں (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shata-rama-ch-12/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-11/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-11/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 05 May 2020 17:49:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[ajmal kamal]]></category>
		<category><![CDATA[Bollywood]]></category>
		<category><![CDATA[farwa shafqat]]></category>
		<category><![CDATA[shantarama]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[شانتا راما]]></category>
		<category><![CDATA[فروا شفقت]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25099</guid>

					<description><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-11/">شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوئے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطے کی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ “شانتاراما” میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: “ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی” (1946)، “امر بھوپالی” (1951)، “جھنک جھنک پایل باجے” (1955)، “دو آنکھیں بارہ ہاتھ” (1957)۔ “شانتاراما” کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p>‘ایودھیا کا راجا’ کے کس ورژن کو بمبئی میں ریلیز کیا جائے، اس پر ہمارے یہاں کافی بحث چھڑ گئی۔ بمبئی بہت سی زبانوں کا شہر ہے۔ وہاں کے مراٹھی بولنے والے ناظرین بھی ہندی فلموں کو اتنے ہی چاؤ سے دیکھنے جاتے ہیں۔ اس لیے پہلے چار ماہ ہندی ورژن پیش کرنا طےکیاگیااوربعدمیں مراٹھی۔ وہ دن تھا 6 فروری 1932۔</p>
<p>ناطرین تو پہلے شو سے ہی فلم کے ساتھ ہم آہنگی محسوس کرنے لگے تھے۔ غلاموں کے بازار کے سین میں ہرِیش چندر، تارامتی اور ان کا بیٹا روہِداس ایک دوسرے سےبچھڑ جاتے تھے۔ وہ سین دیکھ کر ناظرین کے آنسو تھامے نہیں تھمتے تھے۔ بمبئی میں ‘ایودھیا کا راجا’ دیکھنے والی ایک بار جاٹ ریاست کی راج ماتا آئی تھیں۔ بولتی فلم کے چلنے کے کچھ بعد وہ تھئیٹر سے باہر آ کر ایک بینچ پر بیٹھ گئیں۔ انھیں اس طرح باہر بیٹھا دیکھ کر مجھے لگا کہ ہو نہ ہو، راج ماتا دیکھتے دیکھتے اکتا گئی ہوں گی۔ میں نے پوچھا تو وہ بولیں، “نہیں نہیں، شانتارام بابو، ویسی کوئی بات نہیں ہے۔ غلاموں کے بازار میں ہرِیش چندر اور تارامتی کے بچھڑنے کا وہ سین میرےدل میں اتنا گہرا بیٹھ گیا کہ میں اپنی شدت سے آتی سسکیاں روک نہ سکی۔ بہت ہی برداشت سےباہر ہو گیا تو باہر آ کر بیٹھ گئی ہوں۔”</p>
<p>تبھی تھئیٹر میں ناظرین کا یکایک شور مچ گیا، سِیٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ ‘کودو کٹکو جیو نار کے لیے، بوڑھا دولہا کھلواڑ کے لیے’ گانا شروع ہو گیا تھا، اور ناظرین نےخوشی اور مسرت کے مارے سارا تھئیٹر سر پر اٹھا لیا تھا۔ اس طرح بولتی فلم کے سکھ اور دکھ کے منظروں کا ناظرین پر صحیح اثر ہو رہا تھا۔</p>
<p>ہفتہ در ہفتہ سنیماگھر ناظرین سے پورا بھر جاتا۔ ہر شو میں ایسا ہی ہوتا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ لوگوں کو اس فلم کی ٹکٹ ملنا مشکل ہونے لگی۔ ‘ایودھیچا راجا’ ہماری امید سے کہیں زیادہ جوش و خروش سے چلتی رہی۔ اس نے بارہویں ماہ میں قدم رکھا اور میجسٹک سنیما کے مالک نے ہمیں کہلا بھیجا کہ بارہویں ہفتے کے بعد ہماری بولتی فلم وہاں دکھانا بند کر دی جائے گی۔ ان کے فیصلے کا کارن ہماری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ بعد میں بابوراؤ پینڈھارکر سے معلوم ہوا کہ میجسٹک سنیما کے دو مالکوں میں ایک تھے ‘عالم آرا’ کے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر اردیشِر ایرانی۔ ان کی ‘عالم آرا’ بولتی فلم سے بھی زیادہ وقت ہماری فلم چلتی، تو کاروباری نقطۂ نظر سے ان کی ناک نیچی ہو جاتی۔ ممکن ہے اسی لیے انھوں نے یہ فیصلہ کیا ہو گا۔ ‘ایودھیچا راجا’ جس جوش و خروش کےساتھ مقبول ہوتی جا رہی تھی، اسے دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اگر اسے ویسا ہی چالو رکھ دیا جاتا تو یقیناً وہ اس وقت ریلیز کی گئی سبھی بولتی فلموں سے زیادہ ہفتےچل جاتی اور سب سے زیادہ وقت تک چلنے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیتی۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/-1PpxV7W4hc" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>مہاراشٹر کے گاؤں گاؤں میں یہ بولتی فلم دھوم مچا رہی تھی۔ آمدنی اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ اس نے توڑ دیے تھے۔ ‘ایودھیچاراجا’ کسی گاؤں میں لگتی تو آس پاس کے گاؤوں سے سو پچاس میل کا فاصلہ لوگ ریل یا بیل گاڑیوں سے کاٹ کر اس بولتی فلم کو دیکھنے آتے تھے۔ سنیماگھر کے باہر تو اتنی بھیڑ ہو جاتی کہ جیسےکوئی بڑا میلہ ہی لگا ہو۔ سینکڑوں ریل گاڑی میں کھڑے ہیں۔ بیل جگالی کر رہے ہیں۔ کھانے پینے اور میوہ مٹھائیوں کی دکانیں لگی ہیں۔۔ ایسا منظر دکھائی دیتا تھا۔ ناطرین کی تو ایسی بھیڑ اکٹھی ہو جاتی کہ طے شدہ تعداد سے زیادہ شو دکھانے پڑتے۔ اس پر بھی کئی لوگ ایسے ہوتے تھے، جنھیں بولتی فلم کے ٹکٹ نہیں مل پاتے تھے۔ یہ لوگ پھر اپنی اپنی بیل گاڑیوں میں یا پیڑوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیتے اور دوسرے دن فلم دیکھنے کے بعد ہی رات میں اپنے گاؤوں کو لوٹتے تھے۔</p>
<p>لیکن ہماری بولتی فلم کے مراٹھی ورژن کو جو بھاری کامیابی حاصل ہوئی وہ ہندی ‘ایودھیا کاراجا’ کو گجرات، ممبئی کےعلاوہ کہیں اور نصیب نہیں ہوئی۔ ہم نے ‘ایودھیا کا راجا’ کو اُتّر بھارت میں ریلیز کیا۔ ہماری کہانی مکمل طور پر قدیم کہانی کے مطابق نہیں، یہ الزام اُتر بھارت واسی ہم پر لگا رہے تھے۔ لیکن اس کی تہہ میں اصل بات یہ تھی کہ راجا ہریش چندر کے جیون پر مبنی ایک ناٹک اُتر بھارت میں بہت ہی مقبول ہو چکا تھا۔ ناٹک کو بےحد دلچسپ بنانے کے چکر میں اس کے لکھاری نے کہانی میں اپنی طرف سے کئی خیالی سین جوڑ دیے تھے۔ ناٹک دلچسپ بنا تو تھا، لیکن اس میں بیان کردہ منظروں کا عوامی ذہن پر کچھ اتنا زیادہ اثر چھا گیا تھا کہ لوگ ناٹک میں بیان کی گئی ہر بات کو حقیقی ماننے لگے تھے۔ سارے منظر قدیم تاریخ کے مطابق ہی ہیں، یہ سوچ بنا بیٹھے تھے۔ تارامتی اپنے گلے میں پہنا منگل سوتر بھی بیچ دیتی ہے، ایسا ایک سین ناٹک میں دکھایا گیا تھا۔ چونکہ ایسے سین ہماری ہندی بولتی فلم میں نہیں تھے، ہو سکتا ہے کہ اسی لیے اُتر بھارت واسی ہماری بولتی فلم پر ناراض ہو گئے ہوں۔ جو بھی ہو، ہمارا ہندی ورژن فیل ہو گیا۔ لیکن مجھے اس کا کوئی رنج نہیں تھا۔ آمدنی کی نظر سے مراٹھی ‘ایودھیچا راجا’ ہندی ورژن میں ہو رہے گھاٹے کی کہیں زیادہ پُورتی کرتی جا رہی تھی۔</p>
<p>اسی معاشی بدحالی سے نجات کی وجہ سے پھر ایک بار اپنے من کی سبھی خواہشات کے مطابق ایک بَڑھیا فلم بنانے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ اب اس نئی بولتی فلم کو میں پوری طرح اپنی ہی خواہشات کے مطابق پورا کرنے جا رہا تھا۔ چاہتا تھا کہ نئی فلم صرف بولتی فلم نہ ہو، نہ ناٹک ہو، بلکہ وہ ہر طرح سے ایک موشن پکچر ہو۔ اسی فیصلے سے میں نے کام کرنا شروع کیا۔ ایک وچار یہ آیا کہ نئی فلم میں مکالمے کم سے کم ہوں، گیت بھی بس گنے چنے ہی ہوں اور سین اور ایکٹنگ پر زیادہ زور دیا گیا ہو۔ اسی کے مطابق میں اپنی نئی فلم کے لیے کہانی طے کرنے لگا۔ کہانی کے بارے میں ایک آئیڈیا میں نے گووند راؤ ٹیمبے کے سامنے رکھا۔ وہ اچھے لکھاری بھی تھے۔ انھوں نے میرے خیال کےمطابق ایک اچھی سی کہانی لکھ دی۔ اس بار تو میں نے پکی ٹھان رکھی تھی کہ نئی فلم،خاص کر اس کا ہندی ورژن اتنا پُرکشش بناؤں گا کہ سارے ہندوستان میں کھلبلی مچ جائے۔</p>
<p>مووی کے ہندی ورژن کو میں نے ‘جلتی نشانی’ اور مراٹھی کو ‘اگِن کنکن’ نام دیا۔ خاص کردار وِنائک، لِلا بائی چندرگری، بابوراؤ پینڈھارکر اور کملا دیوی کو دیے۔ ہندی اور مراٹھی دونوں ورژن کی میوزک ڈائریکشن گووند راؤ ٹیمبے نےکی۔ فلم کی ڈائریکشن میں مَیں نے اپنا آج تک کا سارا تجربہ داؤ پر لگا دیا۔ اس فلم کی ڈائریکشن کی کچھ خاص ڈھنگ کی خوبیوں کو ناظرین اور ناقدین نے خوب سراہا۔ کچھ خوبیاں اس طرح تھیں:</p>
<p>رانی اپنے نوزائیدہ راجکمار کو بُرے وزیر کے چُنگل سے بچانے کے لیے راج پاٹ چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہے۔ وزیر کے سپاہی اس کا پیچھا کرتے ہیں۔ بھاگتے بھاگتے ہاری ہوئی رانی سڑک کے کنارے ایک گڑھے میں اپنے آپ کو چھپا لیتی ہے۔ تبھی وہ نوزائیدہ بچہ رونے لگتا ہے۔ حکمران کے سپاہی نزدیک آتے جا رہے ہیں۔ ظاہر تھا کہ راجکمار کے رونے کی آواز سے انھیں رانی کے چھپنے کی جگہ معلوم ہو جاتی۔ لہٰذا رانی اپنے بچے کا منھ بند رکھنے کے لیےہاتھ آگے بڑھاتی ہے، تاکہ سپاہیوں کو اس کے رونے کی آواز سنائی نہ دے۔ لیکن تبھی اس کا ہاتھ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ منھ دبانے سے کہیں راجکمار کا دم نہ گھٹ جائے۔ رانی سوچ میں پڑ جاتی ہے۔ سپاہی اب کافی نزدیک آ گئے ہیں۔ رانی فورا آگے بڑھ کر راجکمار کو چوم لیتی ہے اور اپنے منھ سے اس کا منھ بند کر اسے اپنے منھ سےسانس دینے لگ جاتی ہے۔ راجکمار کے رونے کی آواز سپاہی نہیں سن پاتے۔ وہ آگے نکل جاتے ہیں۔</p>
<p>اس منظر کو دیکھنے کے بعد ناظرین نے زور سے تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی اور کچھ شائقین، جو اب مجھے جاننے لگے تھے، چِلّا اٹھے، “واہ، شانتارام! واہ!”</p>
<p>آگے چل کر وہ رانی اپنے راجکمار کے ساتھ اونٹوں کے ایک غریب بوڑھے بیوپاری کی جھونپڑی میں رہنے لگتی ہے۔ راجکمار بڑا ہونے لگتا ہے۔ راجکمار بڑا ہوجائے تو اس کے لیے اپنا کھویا ہوا راج پاٹ پھر حاصل کرنےکی کوشش رانی کرتی ہے۔ ایک ایک سال گزرتاجاتا ہے۔ اپنی جدوجہد کی یاد برابر بنی رہے اس لیے ہر سال رانی جلتی سلاخ سے اپنے ہاتھ کو داغ لیتی ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہو جاتی ہیں۔ ایک تو رانی کے ہاتھ پر اٹھی جلتی نشانیوں کی تعداد سے ناظرین کو یہ پتا چلتا ہے کہ کتنےسال بیت چکے ہیں اور دوسرے، رانی کے اندر انتقام کا احساس کتنا شدید تھا، اس کا بھی اندازہ انہیں ہو جاتا ہے۔ رانی اپنے آپ کو اس طرح داغ لیتی ہے، یہ سین اتنا جاندار بن گیا تھا کہ اس وقت ناظرین بھی اپنی ‘آہ!’ سے سنیماگھر کو بھر دیتے تھے۔ رانی اپنے ہاتھ پر انیسواں داغ لگا رہی ہے، اس سین سے فلم کا آغاز ہوتا تھا۔ نتیجتاً منظروں کی شدت ایک دم پہلے سین سے ہی برابر بڑھتی جاتی تھی۔</p>
<p>اب تک رواج تو یہی تھا کہ فلم میں موقع بہ موقع من مانی تعداد میں گیت شامل کیے جاتے۔ ‘شیریں فرہاد’، ‘لیلیٰ مجنوں’ اور یہاں تک کہ ہمارے ‘ایودھیچا راجا’ میں بھی گیتوں کی بھرمار تھی۔ ‘جلتی نشانی’ میں ہم نے گیت ایک دم گنے چنے اور سین کے مطابق ہی رکھے تھے۔ اس میں ایک سین ایسا بھی رکھا تھا کہ اپنے باپ کو جسمانی تشدد سے بچانے کے لیے ہیروئن ولن کی زبردستی کی وجہ سے ایک غمگین گیت گاتی ہے۔</p>
<p>اس فلم کے بارے میں مجھے ایک طرح کا اعتماد تھا، اس لیے میں نے اس کا ہندی ورژن بمبئی میں پہلے ریلیز کیا۔ عام ناظرین نے تو اس فلم کو سر پر اٹھا ہی لیا، جانے مانے دانشمند مبصرین نے بھی رائے ظاہر کی کہ بولتی فلم کیسی ہو، یہ جاننے کے لیے ‘پربھات’ کی ’جلتی نشانی’ ضرور دیکھی جائے!</p>
<p>کلکتہ میں ایک نیا تھئیٹر ‘نیو سنیما’ بنا تھا۔ اس کا افتتاح ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم سے ہوا۔ نیو سنیما کے مالک تھے بنگال کے سلیبرٹی فلم میکر اور ‘نیو تھئیٹرز’ کے مالک بی این سرکار۔ بنگال میں ایک فلمی اخبار ‘فلم لینڈ’ نکلتا تھا۔ اس کا سارے ملک میں بول بالا تھا۔ اس فلمی میگزین میں ہماری ‘جلتی نشانی’ فلم کی بےحد تعریف شائع ہوئی۔ میگزین نے لکھا تھا، بنگالی فلم پروڈیوسر، ہدایت کار، فنکار، تکنیک کار وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اس فلم کو دیکھیں، بلکہ اس کا باریکی کے ساتھ مطالعہ بھی کریں۔ مجھے اخبار کی یہ بات کچھ مبالغہ آمیز لگی۔</p>
<p><iframe src="https://www.youtube.com/embed/XN8-6HUoh3o" width="560" height="315" frameborder="0" allowfullscreen="allowfullscreen"></iframe></p>
<p>کچھ سال بعد، پُونا میں ہماری پربھات کمپنی کا کام شروع ہونے کے بعد ‘نیو تھئیٹرز’ کی طرف سے ہی مشہور بنگالی ڈائریکٹر دیوکی بوس ایک بار پربھات میں آئے تھے۔ انہوں نے وقار کے ساتھ مجھ سے کہا تھا، “شانتارام، آپ کو پتا نہیں ہو گا شاید، میں نے آپ کی ‘جلتی نشانی’ فلم دس بارہ بار دیکھی اور اس کے ہر شاٹ کا ٹھیک ٹھیک مطالعہ کیا ہے۔ ڈائریکشن کی نظر سے مجھے اس کا بہت فائدہ ہوا!”</p>
<p>ایک سچے کلاکار نے اس طرح من سے مجھے داد دی، اور کیا چاہیے تھا؟ اس ملاقات سے پہلے دیوکی بوس کی ڈائریکٹ کی ہوئی ‘وِدیاپتی’ میں نے پُونا میں دیکھی تھی۔ مجھے وہ اتنی پسند آئی تھی کہ بوس جی سے کچھ بھی تعارف نہ ہوتے ہوئے بھی میں نے خود ان کوخط لکھ کر دلی مبارکباد دی تھی۔</p>
<p>‘جلتی نشانی’ کی غیرمتوقع کامیابی کی وجہ سے سٹوڈیو کےسبھی لوگ بہت خوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن میں اندر ہی اندر سنجیدہ ہوتاجا رہا تھا۔ ‘جلتی نشانی‘ کی لوگ کافی تعریف کیے جا رہے تھے۔ اسے دیکھنے کے لیے بھیڑ روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، لیکن اس کے ساتھ ہی ان کی امیدیں بھی بڑھ رہی تھیں۔ توقعات بھی کافی اونچی اٹھتی جا رہی تھیں۔ ‘پربھات’ کو پیار دینے والےان ناظرین کو اب اور نیا، اور اچھا دیں تو کیا دیں؟ اسی کی فکر میں میں کھو گیا تھا۔ باربار جی کرنے لگا کہ اب کی بار کوئی سماجی فلم بناؤں اور اس کے ذریعے سے کسی سُلگتی سماجی فکر کو پیش کروں۔</p>
<p>انھیں دنوں مراٹھی کے مقبول ڈرامہ نگار ماما وریرکر کا ‘وِدھوا کماری’ ناول میں نے پڑھا۔ مجھے وہ ناول بہت ہی پسند آیا۔ پھر تو وریرکرجی کے دیگر ناول اور ناٹک بھی میں نے پڑھ ڈالے۔ ان سب کا میرے من پر کافی اچھا اثر پڑا۔ میں نے انھیں بمبئی سے بلوا لیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ مجھے معاصر سماجی مسئلے پر ایک اچھی سی کہانی لکھ کر دیں۔</p>
<p>انہوں نے قبول کیا۔ کہانی لکھنا شروع بھی کیا۔ ایک مہینہ بیت گیا۔ بعد میں انھوں نے مجھے وہ کہانی سنائی۔ لیکن کہانی سن کر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ انھوں نے ناٹک کے اسلوب میں پوری کہانی مکالموں کی صورت پیش کی تھی۔ میں نے اس کہانی پر ان کےساتھ تفصیل سے بحث کی اور ایک فلم ڈائریکٹر کے طور پر میں صحیح صحیح کیاچاہتا ہوں، انہیں سمجھا کر بتا دیا۔ انہوں نے اگرچہ جتایا کہ انہیں میری بات سمجھ میں آ گئی ہے، پھر بھی وہ مجھ سے کچھ ناراض بھی ہو گئے، کیونکہ میں نے ان کی کہانی جوں کی توں قبول نہیں کی تھی۔ میں نے ماما صاحب سے کہا کہ جلدی کی کوئی بات نہیں ہے، وہ آرام سے ممبئی جا کر کہانی کو پورا کر سکتے ہیں۔</p>
<p>لگ بھگ اسی وقت ہمارے جنوبی بھارت کے ڈسٹری بیوٹر جنیتی لال ٹھاکر کولہاپور آئے۔ انہوں نے ہمیں یہ خوشخبری دی کہ بنگلور، مدراس وغیرہ سبھی شہروں میں ‘جلتی نشانی’ کا اچھا استقبال ہو رہا ہے۔ ہماری آئندہ فلم کون سی ہے، اس کی بھی انھوں نے پوچھ تاچھ کی۔ میں نے نئی کہانی کے بارے میں اپنی کٹھنائی انھیں بتا دی۔</p>
<p>انھوں نے یوں ہی باتوں باتوں میں بتایا کہ گووند راؤ ٹیمبے اپنی شِوراج ناٹک منڈلی کی طرف سے ‘سِدھ سنسار’ نامی ایک ناٹک پیش کیا کرتے تھے اور اس پر ایک اچھی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ چونکہ اصل ناٹک پر مبنی فلم بنانے کی میری کوئی خواہش نہیں تھی، میں نے ان کی باتوں کی طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ لیکن انہوں نے زبردستی اس ناٹک کی کہانی کا کچھ حصہ سنایا۔ یہ کہانی ناتھ برادری کے سادھوں کے گرو مچھندر ناتھ کے جیون کے ایک غیرمعمولی واقعے پر مبنی تھی۔</p>
<p>مچھندر ناتھ ستری(عورت) ریاست میں جاتا ہے۔ اس ستری (عورت) ریاست کی رانی کِلوتلا انسانوں سے نفرت کرنے والی ہوتی ہے۔ مچھندر ناتھ کو حاصل غیرفطری طاقتوں اور اس کے دکھائے جانے والے چمتکاروں کا اس پر اثر پڑتا ہے۔ کِلوتلا مچھندر ناتھ سے شادی کر لیتی ہے۔ مچھندر ناتھ اس ستری (عورت) ریاست میں رہنے لگتا ہے۔ اسے اس محبت کے جال سے مُکت کرانے کے لیے اس کا خاص شاگرد گورکھ ناتھ مرِدنگ بجانے والے کا بھیس بنا کر اس ستری(عورت) راج میں جاتا ہے۔ کِلوتلا اور مچھندر ناتھ جب بسنت تہوار کے رنگ میں رنگے ہوتے ہیں، گورکھ ناتھ مردنگ بجانا شروع کرتا ہے۔ مردنگ سے گمبھیر آواز نکلتی ہے، “چلو مچھندر، گورکھ آیا، چلو مچھندر، گورکھ آیا”- مردنگ کے ان بولوں کو سن کر مچھندر ناتھ بےچین ہو اٹھتا ہے۔ کَلوتلا اسے چھوڑتی نہیں، گورکھ ناتھ برہم ہو کر چلا جاتا ہے اور سیدھا مچھندر ناتھ کی غار میں جا پہنچتا ہے۔ وہاں دیکھتا کیا ہے کہ مچھندر ناتھ تو سمادھی جمائے بیٹھے ہیں۔ گورکھ ناتھ کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ حقیقت اس کی سمجھ میں آ جاتی ہے کہ یہ تو سب اپنے گرو کی مایا ہے۔</p>
<p>اس کہانی کو فلم کی نظر سے میں نے کافی مضبوط پایا۔ بس میں نے طے کر لیا کہ آئندہ فلم اسی کہانی پر بنائی جائے۔ اپنے ساتھیوں اور گووند راؤ کو میں نے یہ بات بتائی۔ ‘سدھ سنسار’ ناٹک کے مکمل حقوق گووند راؤ ٹیمبے کے پاس محفوظ تھے، انھوں نے ہی فورا پتر لکھ کر ناٹک کے حقیقی لکھاری سے فلم بنانے کے لیے اجازت حاصل کر لی۔ لیکن ناٹک کہیں بھی چَھپا ہوا نہیں تھا، لہٰذا اس کے مکالمے وغیرہ کیسے ہیں، معلوم کرنا مشکل تھا۔ لیکن یہ کٹھنائی بھی منٹوں میں دور ہو گئی۔ ہماری کمپنی کے میوزک ڈپارٹمنٹ میں راجارام بابو نامی ایک آرگن پلیئر تھے۔ وہ کسی زمانے میں شِوراج ناٹک منڈلی میں کام کیا کرتے تھے۔ انھیں یہ ناٹک پورا یاد تھا۔ ہم نے ان سے ‘سِدھ سنسار’ ناٹک منظم طور پر لکھوا لیا اور اس سکرپٹ سے میں نے فلم کی کہانی اپنے من سے لکھنی شروع کی۔</p>
<p>اس فلم کے لیے اداکاروں کا انتخاب شروع کیا۔ مچھندر ناتھ اور کلوتلا کا کردار کرنے کے لیے پھر ‘ایودھیچا راجا’ کے ہیرو ہیروئن کی جوڑی کو ہی پسند کیا۔ گووند راؤ ٹیمبے اور دُرگا بائی کھوٹے کو وہ کام دیے گئے۔ گورکھ ناتھ ونائک کو بنایا گیا۔ فلم کا نام رکھا ‘مایا مچھندر’۔ شوٹنگ شروع ہو گئی۔</p>
<p>اور ایک دن مجھے بخار ہو گیا۔ بات یہ ہوئی تھی کہ دو تین دنوں سے میں بخار میں ہی شوٹنگ کرتا رہا، جس کا نتیجہ تھا کہ اب بخارکچھ زیادہ ہو گیا تھا۔ ہمارے خاندان کے ڈاکٹر پادھیے نے میری صحت کو اچھی طرح سے دیکھا بھالا، معائنہ کیا اور تشخیص کی کہ ٹائیفائڈ ہے۔ اُن دنوں آج کے طرح ٹائیفائڈ کی اکسیر دوائیاں نہیں نکلی تھیں۔ یہ بیماری کافی لوگوں کی جان لے لیتی تھی۔ عام آدمی کے لیے تو یہ بیماری جان لیوا ہی مانی جاتی تھی۔ فطری طور پر گھر کے لوگوں کے تو ہوش اڑ گئے۔ کمپنی میں بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔ ‘مایا مچھندر’ کی شوٹنگ پورا کرنے کا کام میں نے دھایبر اور دیگر ساتھیوں کو سونپ دیا اور اس کے بعد کیا ہوا، میں نہیں جانتا۔</p>
<p>مجھے کچھ آرام ہو جانے کے بعد اپنی بیماری کا قصہ معلوم ہوا۔ میں کافی دن بےہوش پڑا تھا۔ ایسے میں ہی ایک دن تو میری صحت گمبھیر روپ سے گر گئی۔ ڈاکٹروں کو نبض کا پتا تک نہیں چل پا رہا تھا۔ سبھی بےحد فکرمند تھے۔ کمپنی کے سب لوگ میرے گھر کے باہر رات بھر جاگتے رہے تھے۔ لیکن وہ گھڑی ٹل گئی! دوسرے دن سےدھیرے دھیرے بخار کم ہونے لگا۔ لیکن میں بےحد کمزور ہو چکا تھا۔</p>
<p>کچھ صحت پکڑتے ہی میں پھر کمپنی میں جانے لگا اور ہمیشہ کی طرح جلدی جلدی کام نبٹانے میں لگ گیا۔ لیکن اب کمپنی میں میری باتوں کو لوگ مانتے نہیں تھے۔ دوپہر کے چار بجے نہیں کہ سب لوگ اپنا اپنا میک اپ اتار کر گھر جانے کی تیاری کرنے لگتے۔ دھایبر، فتے لال جی اور داملےجی کیمرا اور ساؤنڈ ریکارڈر بند کر دیتے۔ پھر تو میں مجبور ہو جاتا اور جلد ہی گھر لوٹ جاتا۔</p>
<p>میرے ہر دن کی غذا میں ثابت موٹھ، مٹر، چنے چھولے وغیرہ کی بہتات ہوتی تھی۔ یہ چیزیں مجھے بہت ہی مزےدار بھی لگتی تھیں۔ لیکن اب بیماری کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے وہ غذا لینے کو منع کر دیا تھا۔ ان کی اس مناہی پر بہت سختی سے عمل کیا جاتا تھا۔ کمپنی میں دوپہر میں ہم سب لوگ ایک ساتھ بھوجن کرنے بیٹھتے تھے۔ کسی کے ڈبے میں میرے من چاہے چٹپٹے چھولے، مٹر وغیرہ ہوتے تو گووند راؤ مجھے باربار ہدایت دیتے، “شانتارام بابو، آپ کو وہ کھانا منع ہے۔”</p>
<p>لیکن مجھے چھولے کھانا منع کرتے کرتے گووند راؤ کے منھ میں چھولے لفظ اس طرح بیٹھ گیا تھا کہ ایک دن شوٹنگ کرتے وقت ہمیں ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو کر شوٹنگ کو بیچ ہی میں روک دینا پڑا۔</p>
<p>اُس دن بسنت تہوار کے سین کی شوٹنگ چل رہی تھی۔ گورکھ ناتھ کےظاہر ہوتے ہی کِلوتلا غصے میں اس پر برس پڑتی ہے اور اس کی سمت دوڑ پڑتی ہے۔ تب مچھندرناتھ کہتا ہے، “کِلوتلے، تمھارا سوبھاؤ تو بس اچانک شعلہ برساتا ہے۔” لیکن گووند راؤ عادت سے لاچار ہو کر کہہ بیٹھے، “کِلوتلے، تمہارا سوبھاؤ تو بس اچانک چھولے برساتا ہے۔‘‘</p>
<p>اس طرح ہنستے ہنساتے، لیکن ہمیشہ کے برعکس کچھ دھیمی رفتار سے، ساری شوٹنگ مکمل ہو گئی۔ ایڈیٹنگ کے کام بھی پورے ہو گئے۔ بابوراؤ پینڈھارکر فلم کی ایک کاپی لے کر بمبئی سنسر کے پاس گئے۔ فلم کی پیشکش اس کے آٹھ دس دنوں بعد کی جانے والی تھی۔</p>
<p>بیماری کے بعد مجھے آرام کرنے کی ضرورت تھی، لہذا میں بمبئی نہیں گیا تھا۔ بابوراؤ پینڈھارکر اکیلے بمبئی گئے اور دوسرے ہی دن مجھے ان کا تار ملا: “شام کی گاڑی سے بمبئی چلے آؤ، ضروری کام آ پڑا ہے۔‘‘ تار کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ داملےجی سے پوچھا تو کہہ دیا، “آپ ہی جائیے، میں نہیں جاؤں گا۔” بات سمجھاتے ہوئے داملےجی نے کہا، “نہیں، جانا تو آپ ہی کو ہو گا، کیونکہ آپ کو بلایا ہے۔”</p>
<p>جیسے تیسے میں بمبئی جانے کے لیے تیار ہو گیا۔</p>
<p>بمبئی پہنچتے ہی میں اسی دن سویرے بابوراؤ پینڈھارکر کے دفتر گیا۔ وہاں ٹیمبے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ لوگ بہت ہی گمبھیر انداز میں بیٹھے تھے۔ سب سے میں نے اس طرح فوراً بمبئی بلانے کا کارن جاننا چاہا، لیکن ایک نے بھی صاف جواب نہیں دیا۔ پینڈھارکر نے کہا، “چلیے، پہلے ہم لوگ تھئیٹر میں جا کر ‘مایا مچھندر’ دیکھ لیتے ہیں۔‘‘</p>
<p>اُن دنوں تھئیٹروں میں صبح کے شو نہیں ہوا کرتے تھے۔ تھئیٹر جاتے جاتے راستے میں میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے پوچھا، “آخر یہ سب ماجرا کیا ہے؟ سب کے اس طرح منہ لٹکے ہوئے کیوں ہیں؟”</p>
<p>میری تنک مزاجی اور ہٹِیلے سوبھاؤ سے واقف ہونے کے کارن بابوراؤ نے کچھ جھجکتے ہوئے بتایا، “سب کی رائے ہے کہ اس فلم میں دو ایک اور اچھے سین اور ایک دو گیت ڈالےجائیں، اور بعد میں ہی اسے ریلیز کیا جائے۔ کل فلم دیکھنے کے بعد گووندراؤ ٹیمبے، دُرگا بائی، تورنے، بابوراؤ پینڈھارکر وغیرہ سب کی یہی رائے رہی۔ اس حالت میں فلم اثردار نہیں لگتی۔”</p>
<p>“لیکن میں اس رائے کو نہیں مانتا۔ میری رائے میں فلم آج جیسی ہے، ویسی ہی کافی اثردار ہے۔ یعنی آپ لوگوں کی رائے کا مطب یہ ہوا کہ میں نے بِنا سوچے سمجھے ہی فلم یہاں بھیج دی، کیوں؟”</p>
<p>بابوراؤ نے شانت رویے سے کہا، “آپ ‘مایامچھندر’ کو ایک بار پھر دیکھیے تو سہی، پھر ہم لوگ بیٹھ کر بحث کریں گے۔”</p>
<p>ممبئی کے ‘کرشن ناٹک گرہ’ کے سنیماگھرمیں تبدیلیاں کی جانے والی تھیں، اور نئے روپ میں اس سنیماگھر کا افتتاح ہماری ‘مایا مچھندر’ کی ریلیز سے ہونے والا تھا۔ ہم سب نے وہاں اپنی فلم دیکھنی شروع کی۔</p>
<p>فلم کے پہلے تین حصے دیکھنے کے بعد میں اٹھ کر باہر چلا آیا۔ باقی سب لوگ بھی میرے پیچھےپیچھے باہر آ گئے۔ میں نے بابوراؤ پینڈھارکر سے کہا، “ابھی اسی وقت اس فلم کو میجِسٹک سنیما میں دیکھنےکا بندوبست کیجیے۔”</p>
<p>بابوراؤ پینڈھارکر نے فوراً وہ بندوبست کر دیا۔</p>
<p>ہم لوگ میجسٹک میں ‘مایا مچھندر’ دیکھنے لگے۔ مجھے فلم اثردار معلوم ہو رہی تھی۔ اس کی کامیابی کے بارے میں یقین ہوتا جا رہا تھا۔ فلم ختم ہوئی۔ ہم سب لوگ باہر آ گئے۔ سب کی نظریں مجھ پر لگی تھیں۔ ان کی نظروں میں امید تھی، توقع تھی۔ میں نے سب سے سوال کیا، “آپ لوگوں نے یہ فلم پہلےکرشن سنیما میں اور اب یہاں میجسٹک سنیما میں دیکھی ہے۔ اب بتائیے، کچھ فرق لگا؟ اسی فلم کو اس تھئیٹر میں دیکھنے کے بعد آپ کو کیسا لگا؟”</p>
<p>سب نے گووندراؤ ٹیمبےکو جواب دینے کے لیے آگے کیا۔ گووند راؤ نے کہا، “یہاں ہم لوگوں کو فلم کے گیت اور مکالمے زیادہ اچھی طرح سنائی دیے۔ لیکن، شانتارام بابو۔۔۔”</p>
<p>ان کی بات کو بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر)، آپ تو سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ کرشن سنیما میں ساؤنڈ سسٹم اچھا نہیں ہے۔ وہاں کا ساؤنڈ سسٹم ُسدھارا نہیں جاتا، تب تک آپ ہماری فلم کو وہاں ریلیز نہ کریں۔ اور آپ سب لوگ اچھی طرح سے سُن لیں، میری رائے میں اس فلم میں نئے سین جوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں اس میں کچھ بھی جوڑتوڑ کرنے والا نہیں ہوں! اسے جیسی ہے ویسی ہی ریلیز کرنا ہو گا!” پھر بابوراؤ پینڈھارکر کو مخاطب کرتے ہوئے میں نے کہا، “بابوراؤ، آج شام کی گاڑی سے میرے کولہاپور لوٹنے کا بندوبست کروا دیجیے۔”</p>
<p>ہو سکتا ہے، میرے اس طرح کے بول سے میرے ساتھیوں کے دل کو ٹھیس لگی ہو، لیکن اسے سمجھنے کی کوشش میں نے نہیں کی۔</p>
<p>جس دن صبح بمبئی پہنچا تھا، اسی دن شام کی دکن کوئین پکڑ کر میں بمبئی سے کولہاپور کی جانب چل دیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر (ڈسٹری بیوٹر) اور پینڈھارکر دونوں مجھے رخصت کرنے کے لیے اسٹیشن پر آئے تھے۔ دونوں میرا منہ تک رہے تھے۔ میں اپنے ہی خیالوں میں کھو گیا تھا۔ گاڑی چل پڑی۔ میں ان کی طرف دیکھ کر سوکھا سا مسکرا دیا۔ وہ بھی عجیب کشمکش میں پڑ کر محض ہنس دیے۔ صبح کے سین کو لے کر میرے من میں وچاروں کا طوفان برپا ہو گیا تھا۔ میری ضد کیا صحیح تھی؟ ٹھیک تھی؟ کیا مجھے سب کی رائے مان نہیں لینی چاہیے تھی؟ میری اس ہٹ دھرمی کے کارن کل کو ‘مایا مچھندر’ نہیں چلی تو؟ کیا میرے ساجھےدار اور یہی سب لوگ میری ہٹ دھرمی کو ہی دوش نہیں دیں گے؟ اس ناکامی کا دوش میرے ہی متھے مڑھا جائےگا۔ کیا واقعی میں یہ ضدی پن یا ہٹ دھرمی تھی؟ اگرچہ نہیں! وہ تو میرے اپنے خیال میں اٹوٹ اعتماد کی علامت تھا۔ دوسروں کی بات پر میں اپنے فیصلوں کو بدلنے لگ جاؤں، تو میں اپنی خوداعتمادی کھو بیٹھوں گا اور ہمیشہ کے لیے ذہنی اپاہج پن کا شکار ہو جاؤں گا۔ خوداعتمادی کے ساتھ راستے پر چلتے چلتے ٹھوکر کھا جاؤں تو بھی ہرج نہیں، لہولہان ہو جاؤں تو بھی پروا نہیں، لیکن دوسروں کی رائےکی بیساکھیاں لے کر میں کبھی نہیں چلوں گا۔ اس کارن ‘مایا مچھندر’ کی ناکامی کا دوش میرے متھے مڑھا جانے والا ہو تو مڑھا جائے، اپنی بلا سے!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-11/">شانتا راما باب 11: ان چاہی رانیوں کی گھرگرہستی</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-11/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>وی شانتا راما — باب 7: پربھات (ترجمہ: فروا شفقت)</title>
		<link>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-7/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-7/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 20 May 2019 20:16:11 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[نان فکشن]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24607</guid>

					<description><![CDATA[<p>جی کرتا تھا اس چنوتی کو قبول کر لوں، ہاں کہہ دوں۔ لیکن ہماری کمپنی کی آج تک کی سبھی فلموں کی ڈائریکشن بابوراؤ پینٹر نے کی تھی، لہٰذا میرے اِس طرح ’ہاں‘کہہ دینے سے انھیں کیا لگے گا، اِس تذتذب میں جب میں نے اُن کی طرف دیکھا، تب پھر نیسریکرجی کے الفاظ سنائی [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-7/">وی شانتا راما — باب 7: پربھات (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>جی کرتا تھا اس چنوتی کو قبول کر لوں، ہاں کہہ دوں۔ لیکن ہماری کمپنی کی آج تک کی سبھی فلموں کی ڈائریکشن بابوراؤ پینٹر نے کی تھی، لہٰذا میرے اِس طرح ’ہاں‘کہہ دینے سے انھیں کیا لگے گا، اِس تذتذب میں جب میں نے اُن کی طرف دیکھا، تب پھر نیسریکرجی کے الفاظ سنائی دیئے، ’’کیوں؟ آپ چُپ کیوں ہیں؟ ڈائریکشن کرنے سے ڈرتے ہیں کیا؟‘‘</p>
<p>’’نہیں جی، ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ سیٹھ اجازت دیتے ہیں، تو ہم ڈائریکشن ضرور کرسکیں گے۔‘‘ اتنا کہہ کر میں پھر پینٹرجی کی طرف دیکھنے لگا۔ انھوں نے ہمیشہ کے مطابق رُک رُک کر کہا، ’’ارے کرو! ڈائریکشن کرو! بنا لو ایک فلم۔‘‘</p>
<p>میں نے فوراً پینٹر جی کے قدموں میں سر جھکایا اور خوداعتمادی کے ساتھ نیسریکر جی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’میں تیار ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر میں کمرے سے باہر چلا آیا۔ بابوراؤ پینٹر نے اجازت دیتے وقت ایسا غیرمتغیر چہرہ بنایا تھا، اُن کی ہاں اتنی بےجان تھی کہ میرے من میں کہیں اندر ہی اندر ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔ من میں شبہ جاگ گیا تھا کہ مجھے اور کیشوراؤ کو آزاد ڈائریکشن کا یہ جو موقع حاصل ہوا تھا، کہیں بابوراؤ جی کو ناپسند تو نہیں؟ جو بھی ہو، ہاتھ آیا موقع نہ کھونے کا فیصلہ پکا کر کے میں گیٹ پر کیشوراؤ کا انتظار کرنے لگا۔</p>
<p>سکون، ڈر، اضطراب، بےچینی وغیرہ، ایک سے زیادہ احساسات من میں اٹھنے لگے تھے۔ یوں دیکھا جائے تو محنت سے میں کبھی ڈرتا نہیں تھا۔۔ اُس کی مجھے عادت تھی۔ آج تک کمپنی کا ہر کام میں نے جی جان کی بازی لگا کر بڑی محنت سے کیا تھا۔ کئی بار بابوراؤ پینٹر کے کہنے پر میں نے کچھ منظر بھی فلمائے تھے۔ لیکن ایک پوری فلم کی ذمہ داری۔۔ کیا میں یہ کام سب کی، خصوصاًپینٹر جی کی پسند کے لائق کر سکوں گا؟ اس فلم کے لیے آخر موضوع کون سا لیا جائے؟</p>
<p>انہی سوچوں میں ڈوبا تھا کہ تبھی سامنے سے کیشوراؤ دھائبر آتے دکھائی دیے۔ میں نے انھیں یہ مبارک خبر دی۔ انھیں بھی کافی خوشگوارحیرت ہوئی۔ ہم دونوں فوراً ہی پلاٹ کا سوچنے بیٹھ گیے۔ لوگوں کو شِوکالین تاریخی فلمیں خاص پسند تھیں۔ ایسی فلموں کے لیے ضروری سبھی مواد بھی کمپنی میں دستیاب تھا، خرچ کم آئے گا، یہی سب سوچ کر ہم نے پہلا فیصلہ تو یہی کیا کہ ہماری فلم تاریخی ہی ہو گی۔ شِواجی کے ایک لڑاکا لیڈر نیتاجی پالکر کی زندگی کے ایک تاریخی واقعے پر کہانی بھی لکھ لی۔</p>
<p>پھر ہم دونوں بابوراؤ پینٹر کے پاس گئے اور ان سے فلم کی کہانی سننے کی درخواست کی۔ وہ ہمیشہ کی طرح پینٹنگ کے کام میں لگے تھے۔ پینٹنگ کا کام جاری رکھتے ہوئے ہی انھوں نے ہماری فلم کی کہانی سُنی۔ میں نے کہانی ختم کی۔ ہم دونوں کافی دیر تک چُپ چاپ کھڑے رہے۔ تاثرات جاننے کے مشتاق تھے۔ آخر بےقرار ہو کر میں نے پوچھا، ’’کیسی لگی کہانی؟‘‘</p>
<p>ہماری طرف بغیر دیکھے ہی انھوں نے صرف ’’ہوں‘‘ کہہ دیا۔ پھر وہی بےجان داد! میں اور کیشوراؤ بھاری دل سے بابوراؤ کے کمرے سے باہر چلے آئے۔ شوٹنگ کا کام ہم نے شروع کر دیا۔ فتے لال اور داملے بھی کافی چاؤ سے مناظر سین کے اسکیچ بنانے میں جٹ گئے۔ کرداروں کا منصوبہ پکا ہو گیا۔ بالا صاحب یَادَو کو لیڈر کا پارٹ دیا گیا۔</p>
<p>اسٹوڈیو کے اندر کی شوٹنگ شروع ہو گئی۔ وہ کام فتے لال جی کر رہے تھے۔ اسٹوڈیو کے اندر کچھ سین فلمانے کے بعد ہم لوگ باہر فلمانے کے لیے کولھاپور سے تھوڑی ہی دور شنیگناپور نامی گاؤں گئے۔ دیگر تاریخی فلموں کی طرح اِس فلم میں باہر شوٹنگ کے کافی سین تھے۔ ہم لوگ شوٹنگ کافی تیزی کے ساتھ کیے جا رہے تھے۔ شوٹنگ کے لیے آئے سبھی لوگوں کا رہن سہن، کھانا پینا، ایک دم سادہ ہوتا تھا۔ دوپہر کے کام کے وقت کھانے کے لیے باجرے کی روٹی اور پیاز کا سالن اور رات کے کھانے کے لیے ساری چیزیں کچھ زیادہ منظم، پھر بھی سادی ہوئی ہوتی تھیں۔</p>
<p>شاید کام شروع ہوئے پندرہ دن ہوئے ہوں گے کہ ایک دن بابا گزبر کولھاپور سے شنیگنا پور آپہنچے۔ دن بھر ہمارا بہت ہی تیزی سے جاری کام انھوں نے دیکھا، پھر بھی شام کو لوٹتے وقت مجھ سے اور کیشو راؤ سے کہنے لگے، ’’سیٹھ کا کہنا ہے کہ تم لوگوں کی یہ شوٹنگ بہت وقت لے رہی ہے۔ خرچہ بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا جلدی نمٹاؤ۔ ورنہ کھانے کے لیے آپ لوگوں کے لیے کولھاپور سے دال روٹی کے بجائے چنا کُرمُری بھیجنے کی نوبت آئے گی!</p>
<p>حقیقت میں ہم سب لوگ بہت ہی ایمانداری سے محنت کر رہے تھے۔ ہمیں شاباشی دینے کے بجائے بابا گزبر کے ذریعے بابوراؤ پینٹر نے اس طرح کا پیغام بھجوایا، اِس کا ہم لوگوں کو بہت دکھ ہوا۔ پھر بھی یہ سوچ کر کہ کچھ بھی سنانے کا انھیں حق ہے، ٹھیس لگے من کو راحت دلانے کی کوشش کی اور ہم لوگ پھر کام میں جُٹ گئے۔ میری یہ پہلی ہی فلم تھی، لہٰذا ڈائریکشن میں کچھ لکیر سے ہٹ کر کئی دوسرے منظروں کے فلمانے کو جی کر رہا تھا۔ اِس فلم میں رات میں ہونے والی لڑائی کے سین فلمائے جانے والے تھے۔ آج تک سبھی تاریخی فلموں میں ایسے منظروں کو آتش بازی کی بارود کی روشنی میں ہی فلمایا گیا تھا۔ میں نے سوچا، توپوں کی روشنی میں انھیں فلمایا جائے۔ رات کے اندھیرے میں جب دونوں فریق گھمسان لڑائی میں بِھڑ گئے ہیں، توپیں داغی جائیں اور توپوں سے ایک کے بعد ایک گولے اڑیں گے، اُن کی روشنی میں منظروں کو فلمایا جائے۔</p>
<p>لڑائی کے منظروں کی شوٹنگ اِس طریقۂ کار سے کرنے کی وجہ سے پردے پر اُن منظروں میں اندھیرے اور آسمان کا بڑا ہی مزیدار کھیل دکھائی دیتا تھا۔ یہ طریقہ اتنا کامیاب رہا کہ لڑائی کے وہ سین میری فلم کی اہم خصوصیت بن گئے تھے۔</p>
<p>دیگر فلموں کی طرح ’نیتاجی پالکر‘ بھی سبھی عملوں سے گزرنے کے بعد بمبئی میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔ میں اور کیشوراؤ جانا تو بہت چاہتے تھے، لیکن کسی نے ہم لوگوں کو ’’ہاں آؤ‘‘ نہیں کہا۔ اکیلے بابوراؤ پینڈھارکر ہی فلم لے کر بمبئی گئے۔ فلم لوگوں کو بہت پسند آنے کی خبریں آئیں۔ کچھ دنوں بعد ایک اور مبارک خبر آئی کہ بمبئی کے کسی ادارے نے ’’نیتاجی پالکر‘‘ کو طلائی تمغہ دے کر اُسے خراجِ تحسین پیش کرنا طے کیا ہے۔</p>
<p>طلائی تمغہ لوگوں کی تقریب میں دیا جانے والا تھا۔ اُس کے لیے دن طے ہو گیا۔ جیسے ہی وہ دن آ گیا، بابوراؤ پینٹر نے تقریب میں جانے کی تیاری کر لی۔ ہم بڑی اُمید لگائے بیٹھے تھے، بیٹھے ہی رہ گئے۔ بابوراؤ پینٹر نے ہمیں ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہا۔ وہ اکیلے ہی بمبئی گئے اور طلائی تمغہ انھوں نے مہاراشٹر فلم کمپنی کی طرف سے قبول کیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ تقریب میں انھوں نے ہمارے ناموں تک کا ذکر تک نہیں کیا۔ یہی نہیں، واپس کولھاپور لوٹ آنے پر انھوں نے وہ طلائی تمغہ ہمیں دکھایا بھی نہیں۔ پھر بھی ہم لوگ اپنے آپ کو سمجھا بجھا کر نئے کام میں لگ گئے۔</p>
<p>’’نیتاجی پالکر‘‘ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے نیسریکر جی نے داملے، فتے لال اور بالاصاحب یَادَو کو بھی ایک فلم بنانے کی تیاری کرنے کے لیے کہا۔ فلم کے لیے مہا بھارت سے کرَن کی کہانی چنی گئی۔ فلم کا کام کافی زوروں سے شروع ہو گیا۔ کہانی کے پلاٹ کے مطابق سین، بھیس، میک اپ وغیرہ باتیں کافی سوچ وِچار کے بعد طے کی گئیں۔ کہانی کے سلسلے اور مکالموں کے ٹائیٹلز پر میں نے بھی کافی دھیان دیا۔ مہاراشٹر فلم کمپنی میں اُن دنوں اپنے پرائے کا احساس قطعی نہیں تھا۔ یہ کام اِس کا، وہ اُس کا، اِس طرح کوئی سوچا نہیں کرتا تھا۔ ہر ایک شخص سامنے والے شخص کی مشکلات کو جان لیتا اور انھیں دور کرنے کی من لگا کر کوشش کرتا تھا۔</p>
<p>’’مہارتھی کرَن‘‘ اُن دنوں بنی انتہائی خاص پورانیک فلم تھی۔ اُس میں کوروؤں پانڈوؤں کے بوڑھے گرو دروناچاریہ کا کام میں نے کیا تھا۔ اِس کے علاوہ شوٹنگ کے وقت دیگر کرداروں کو کہانی کے حوالوں کے مطابق اداکاری کی سمجھا کر بتانا، خود وہ اداکاری کر کے دکھانا وغیرہ، میں اپنی طرف سے آگے آ کر کرتا اور اُن تینوں کی ڈائریکشن میں مدد کرتا تھا۔</p>
<p>’مہارتھی کرَن‘‘ کی ایڈیٹنگ شروع ہو گئی۔ شروع شروع میں داملے، فتے لال اور یادو، تینوں ساتھ بیٹھ کر مختلف منظروں کو جوڑنے کا کام کرنے لگے۔ لیکن فلم کی لمبائی ٹھیک کرنا اُن کے بس کا کام نہیں تھا۔ آخر ایک دن بابوراؤ پینٹر نے ہی اُن سے کہا، ’’ارے، یہ کام تم لوگوں کے بس کا نہیں ہے، اُس شانتا رام سے کہو یہ کام کرنے کے لیے۔ وہ ایک دم صحیح کر دے گا۔ ‘‘ بابوراؤ کے کہنے کے مطابق میں نے ایڈیٹنگ کا کام فوراً شروع کر دیا۔ اس کام کے وقت بالا صاحب یادو میرے پاس بیٹھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی فلم کی کہانی کی نظر سے کوئی سین غیرضروری پاتا تو اُسے پورے کا پورا کاٹ دیتا۔ اِس کام کے وقت بالا صاحب یادو مجھے کولھاپور کی ٹھیٹھ گالیاں سناتے ضرور، لیکن ہاتھ ملتے رہ جاتے۔ میں اُن کی ایک نہ سنتا۔ آخر وہ بہت ہی جھلائے اور بولے، ’’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے۔ تم میری بات ذرا نہیں مانتے! بھاڑ میں جاؤ تم اور تمھاری یہ فلم۔ مجھے کیا لینا دینا!‘‘ اور انھوں نے اپنے صافے کا سرھانا بنایا اور جہاں بیٹھے تھے وہاں لیٹ گئے۔ کچھ ہی لمحوں میں وہ خراٹے بھرنے لگے۔۔۔</p>
<p>بمبئی میں فلم کی نمائش کی تاریخ کا فیصلہ ہو گیا۔ ایڈیٹنگ کا کام پورا نہیں ہو پایا تھا۔ آخر فلم کے سارے ڈبے لے کر میں بمبئی گیا۔ وہاں مہاراشٹر فلم کمپنی کے تقسیم کار شری دادا صاحب تورنے نے ایڈیٹنگ کے لیے مجھے ایک الگ کمرہ دیا۔ ’’مہارتھی کرَن‘‘ کی نمائش کے وقت داملے، فتے لال اور مَیں بمبئی میں موجود تھے۔ وہ فلم بھی بمبئی میں چار ہفتے تک بھاری بھیڑ کو مسحور کرتی رہی۔ ایک بہت ہی کامیاب فلم کی مبارک خبر لے کر ہم لوگ کولھاپور واپس آئے۔ ہمارا جوش ٹھا ٹھیں مار رہا تھا۔</p>
<p>لیکن کولھاپور میں ایک دم نرالی ہی خبر ہمارا انتطار کر رہی تھی۔ کولھاپور پہنچتے ہی اپنے اپنے گھر جانے سے پہلے ہم لوگ سیدھے کمپنی میں گئے۔ وہاں بابوراؤ پینٹر کے کمرے میں نیسریکر جی کے ساتھ ایک دوست بیٹھے تھے۔ اُن کا پہناوا ایک دم انگریزوں جیسا تھا۔ نیسریکر جی نے ہی ہم سب لوگوں سے اُن کا تعارف کروایا۔ یہ مہاشے تھے بی گِڈوانی۔ لندن میں رہ کر فلم ڈائریکشن کا کام خاص روپ سے سیکھ کر آئے تھے۔ انھیں کمپنی میں ڈائرکٹر مقرر کیا گیا تھا۔ سن کر ہمارے جوش پر پانی پڑ گیا۔ ہماری ڈائرکٹ کی گئی دونوں فلمیں بےانتہا کامیاب رہنے کے باوجود ایک نئے آدمی کو آخر مقرر کرنے کی ایسی کون سی ضرورت آ پڑی تھی، سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن اُسے مقرر کیا جا چکا تھا۔ کمپنی کی اِس کارروائی سے ہم لوگ ناامید ہو گئے۔ ’’مہارتھی کرَن‘‘ کو لوگوں نے کتنا زیادہ پسند کیا ہے، یہ خبر جیسے تیسے انھیں سُنا کر ہم لوگ اپنے اپنے گھر چلے گئے۔</p>
<p>دوسرے دن سویرے کمپنی میں ہمارے لیے ایک اور حیرت تیار تھی۔ فلم کی تکنیکی باتوں کو سنبھالنے کے لیے کسی گنے نامی دوست کو کمپنی میں تکنیکی ماہر مقرر کیا گیا تھا۔ یہ مہاشے بابوراؤ پینٹر کے دوست تھے۔ ویسے دیکھا جائے تو آج تک کیمیکل، کیمرا، سارے تکنیکی کام داملے اور فتے لال اچھی طرح کرتے آ رہے تھے۔ ایڈیٹنگ کا پورا کام میں کرتا تھا۔ پھر بھی ہمارے کاموں پر نگرانی رکھنے کے لیے کسی کو ہمارے اوپر لا کر بیٹھایا گیا ہے، اس بات سے ہم سبھی لوگ بہت ہی بےچین ہو اٹھے۔ گِڈوانی اور گُنے، دونوں تھے تو نئے لیکن انھیں ہم لوگوں سے کہیں زیادہ تنخواہ دی جا رہی تھی۔ آج تک کمپنی میں کام کرتے وقت لوگوں نے تنخواہ، پیسے وغیرہ کا کوئی خیال ہی نہیں کیا تھا۔ جو بھی کام آتا، کر لیتے تھے۔</p>
<p>مہاراشٹر فلم کمپنی ہمیں جان سے پیاری تھی۔ پھر بھی کمپنی کی طرف سے ہمارے احساسات کو بالاے طاق رکھ کر اِن نئے لوگوں کو زیادہ عزت دی گئی تھی، ہم میں سے ہر ایک اِس بات سے من ہی من میں ٹھیس محسوس کر رہا تھا۔</p>
<p>بات مالک کے کانوں تک پہنچی اور انھوں نے ہماری بھی تنخواہ بڑھا دی۔ میری تنخواہ پچاس روپے تھی، وہ ایک سو تیس روپے کر دی گئی۔ داملے اور فتے لال کی بھی تنخواہ میں بھی بڑھوتری کی گئی۔ پھر بھی ہم لوگوں کی تنخواہ اُن دو کے مقابلے میں کافی کم تھی۔ یہ ایک ایسی چبھن تھی جو دل اور دماغ کو ہمیشہ ستانے لگی۔</p>
<p>کافی دنوں سے داملے اور فتے لال فلم سازی کا اپنا آزاد کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ اُن کے وچار کو اب رفتار مل گئی۔ اُن دونوں نے کچھ پیسے جمع کر، ایک سادہ فلم کیمرا پہلے ہی خرید لیا تھا۔</p>
<p>لگ بھگ اُسی وقت بابوراؤ پینڈھارکر کمپنی چھوڑ کر چلے گئے۔ اچانک کمپنی سے ناتا توڑ کر اُن کے یوں چلے جانے کی وجہ کیا تھی، کچھ برس بعد مجھے معلوم ہوا۔ بابوراؤ پینڈھارکر پر جعلسازی کا الزام لگایا گیا تھا۔ الزام سیدھا سادا بےبنیاد اور جھوٹا ہے، یہ بات بابوراؤ پینڈھارکر نے مع ثبوت ثابت کر دی تھی اور بعد میں، بغیر کسی سے کوئی ذکر کیے، وہ کمپنی سے الگ ہو گئے تھے۔ مجھے بھی انھوں نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ شاید اُس بھلے مانس نے سوچا ہو گا کہ بابوراؤ پینٹر کے بارے میں میرے من میں جو عزت ہے، اُسے آنچ نہ آنے پائے، میری ترقی میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو!</p>
<p>’’نیتا جی پالکر‘‘ اور ’’مہارتھی کرَن‘‘ کا کام چل رہا تھا، تب بابوراؤ پینٹر اپنی آئندہ فلم کی کہانی کا کام تیزرفتاری سے کیے جا رہے تھے۔ دو ہفتے کے بعد کہانی میں تبدیلی کی جاتی۔ ایسے میں ایک سال بیت گیا۔ آخر میں جو کہانی تیار ہوئی وہ ایک سال پہلے سے سب شروع میں بنی کہانی کی طرح ہی تھی۔ بالکل شروع میں بنی کہانی کا خاکہ بتا کر میں نے یہ بات بابوراؤ پینٹر کے دھیان میں لائی، تب کافی دن بعد وہ دل کھول کر ہنسے۔ اُن کی فلم تھی، ’’باجی پربھو دیش پانڈے‘‘، ایک ایسے جنگجو کی کہانی، جس نے شِواجی مہاراج کو مغلوں کے گھیرے سے بچانے کے لیے اپنی جان کی قربانی دے دی تھی۔</p>
<p>فلم کا کام شروع ہوا تب تک تو بابوراؤ پینٹر کا جوش کافی ماند پڑ چکا تھا۔ کئی بار وہ مجھے سارا سین سمجھا کر شوٹنگ کا کام سونپ دیتے۔ خود اسٹوڈیو میں بھی نہیں آتے تھے۔ تب تک مجھے آزاد ڈائریکشن کا کافی تجربہ حاصل ہو گیا تھا۔ میں خود اعتمادی کے ساتھ شوٹنگ کر لیتا تھا۔</p>
<p>ایک دن کی بات ہے۔ میں کسی منظر کو فلمانے میں مست تھا۔ بھاگ دوڑ مچی ہوئی تھی۔ بابوراؤ پینٹر اور گڈوانی کب میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، پتا ہی نہ لگا۔ تبھی اچانک پینٹرجی کو کہتے سنا، ’’کیا کریں؟ مجھ اکیلے کو ہی سب کام کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کام کے لیے کوئی۔۔ اچھے لوگ نہیں ملتے۔۔۔‘‘</p>
<p>سن کر میرے سر پر بجلی گری۔ سمجھ نہیں سکا کہ انھی کے سامنے میں سمجھداری کے ساتھ سین فلما رہا تھا اور اُس کام میں تھوڑی بھی کوتاہی نہیں کر رہا تھا، تب گڈوانی سے وہ ایسی بات کیسے کہہ گئے؟</p>
<p>گڈوانی کو کمپنی میں مقرر کیا گیا، تب بھی میں نے اپنے آپ کو محض یوں سمجھایا تھا کہ ہو سکتا ہے انھیں مقرر کرنے میں بابوراؤ پینٹر کی مجبوری رہی ہو۔ وہ شاید نہ بھی چاہتے ہوں، لیکن نیسریکر جی کی بات رکھنے کے لیے انھیں گڈوانی جی کو لینا پڑا ہو۔ لیکن آج اسی گڈوانی کے سامنے میرے گروجی نے ’’کیا کریں؟ سب کام مجھ اکیلے کو ہی کرنا پڑتا ہے‘‘ کہہ دیا تھا۔ سن کر میں سُن رہ گیا، لیکن میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا۔ احساس پر قابو پایا۔ دن بھر کا مقررہ کام پورا کیا۔ یہی نہیں، آگے چل کر ’’باجی پَربھو دیش پانڈے‘‘ فلم کے سارے کام میں نے اور میرے ساتھیوں نے ہمیشہ کی طرح لگن اور ایمانداری سے پورے کیے۔</p>
<p>لیکن یہ سچ ہے کہ اُس واقعے کے بعد میں بھی پونجی حاصل کرنے کے لیے پوری مستعدی سے لگ گیا۔ ایک بیوپاری نے مہاراشٹر فلم کمپنی کی ’’مایا بازار‘‘ فلم مہاراشٹر بھر میں دکھانے کے لیے خرید لی تھی۔ اِس میں اُسے اچھی کمائی ہو گئی تھی۔ میرا اُس بیوپاری کے ساتھ تھوڑا تعارف تھا۔ اُس کا فائدہ اٹھا کر میں نے اسے پونجی لگانے کا مشورہ دیا۔ فلم کاروبار میں پیسہ لگانے کے لیے وہ بھی شوقین تھا۔</p>
<p>اِدھر کمپنی میں سنڈریلا پری کہانی پر مبنی’’مڈنائٹ گرل‘‘ نامی فلم کا کام شروع ہو گیا تھا۔ اُس کی ڈائریکشن گڈوانی کر رہے تھے۔ ’’مڈ نائٹ گرل‘‘ کے لیے سیٹ بنانے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ کئی بار میں فتے لال کے پاس جا کر اُن کے کام میں مدد کیا کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ وہ اور داملے دونوں مل کر ایک نئی فلم کمپنی قائم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، اس لیے ایک دن میں نے بھی اُن سے کہا، ’’میں اور کیشوراؤ مل کر ایک نئی فلم کمپنی چالو کرنے کی سوچ رہے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ دونوں یہ جاننے کے لیے باربار پوچھ گچھ کرتے تھے کہ بات کہاں تک پہنچی ہے۔ میں بھی انھیں بڑے رعب کے ساتھ بتاتا کہ سب کچھ ٹھیک طرح سے بڑھ رہا ہے اور لگ بھگ سبھی انتظام ہوتا جا رہا ہے۔ اس پر وہ کہتے، ’’بھئی واہ! ا مطلب تو یہ ہوا کہ آپ کی کمپنی ہم سے پہلے شروع ہونے جا رہی ہے۔ ‘‘لیکن اُن کی اِس بات میں رشک کی بجائے ہمارے لیے جلن ہی زیادہ محسوس ہوتی۔ وہ لوگ بھی گجری کے ایک صراف شری سیتارام پنت کُلکرنی سے پونجی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>
<p>’’مڈنائٹ گرل‘‘ کا کام ختم ہونے کو آیا تھا۔ اُس میں سنڈریلا کو مستقبل بتانے والے بوڑھے جیوتشی کا کردار میں نے کیا تھا۔ ایک طرف میں اور کیشوراؤ، دوسری طرف داملے اور فتے لال، سو ایسے گروپ بن گئے تھے جن میں کس کی فلم کمپنی پہلے شروع ہو جاتی ہے اس کی جیسے دوڑ لگ گئی تھی۔ حسد جاگ گیا تھا۔ لیکن ہمارا سرمایہ دار زمانے بھر کی شرطیں لگانے لگا تھا۔ ہمارا ارادہ ڈانوں ڈول ہونے لگا تھا۔</p>
<p>تبھی ایک دن فتے لال جی میرے پاس آئے۔ بولے، ’’شانتارام! الگ الگ دو کمپنیوں کے بجائے کیوں نہ تم اور ہم دونوں مل کر ایک ہی فلم کمپنی قائم کریں؟ آپ پونجی لائیے، ہم بھی لاتے ہیں۔‘‘</p>
<p>یہ مشورہ غیرمتوقع تھا۔ ویسے داملے اور فتے لال کے ساتھ میرے تعلق اتنے محبت بھرے تو کبھی نہیں رہے، پھر اچانک ذہنی تبدیلی کیسے؟ لیکن میں اُسے قبول کرنے میں ایک دقت محسوس کر رہا تھا۔ کیشوراؤ دھائبر اور میں، دونوں اب اتنے قریبی ہو گئے تھے کہ انھیں چھوڑ کر داملے اور فتے لال سے کہہ دیا کہ میں اکیلا آپ کے ساتھ نہیں آ سکتا، دھائبرجی کو بھی ساتھ لینا ہو گا۔ اُن دونوں نے قبول کر لیا۔ اِس طرح ہم چاروں نے مل کر نئی فلم کمپنی بنانا طے کیا۔ فتے لال کی اس تجویز کی وجہ سے ہم لوگوں کے درمیان چلی آ رہی دوڑ، حسد، سب بھلا دیا گیا۔</p>
<p>یکم اپریل ۱۹۲۹ء کے دن ہم چاروں بابوراؤ پینٹرکے کمرے میں گئے۔ اندر قدم رکھتے ہی داملے جی نے بولنا شروع کیا، ’’ہم چاروں نے مل کر نئی فلم کمپنی بنانا طے کیا ہے۔ ہم یہاں کے اپنے سارے کام پورے کرنے کے بعد مئی سے کمپنی میں کام پر نہیں آئیں گے۔‘‘</p>
<p>بابوراؤ پینٹر نے کوئی جواب نہیں دیا۔ تھوڑی دیر رُک کر ہم لوگ چلے آئے۔ نو سال کام کرنے کے بعد میں نے مہاراشٹر فلم کمپنی چھوڑ دی۔ اتنے سال جس احاطے میں فن کی تعلیم شروع کرنے میں بتائے، اُس ماحول سے، وہاں کے کام پر دوستوں سے الگ ہوتے وقت دل بھاری ہو گیا تھا۔ من میں یہ بھی ایک چبھن تھی کہ بابوراؤ پینٹر نے، جنھیں میں نے اپنا گرو مانا تھا، کبھی شاباشی کے احساس سے میری پیٹھ سہلائی نہیں تھی۔ صرف ایک ہی بار بابوراؤ پینٹر کو کسی سے کہتے سُنا تھا کہ کوئی بھی بات یا فن کی تعلیم کیسے حاصل کی جاتی ہے، کوئی شانتارام سے سیکھے۔ یہی ایک واقعہ کچھ سکون دے رہا تھا۔</p>
<p>میرا آگے کے سفر کا سہارا تھا اتنے سال کی محنت اور اُس سے حاصل تجربہ! شِواجی تھیٹر سے تھوڑی ہی دور مہادیو مستری کا کُشتی کا اکھاڑا تھا۔ اکھاڑے کے پاس ہی کچھ کمرے اور ایک مکان تھا۔ گھر کی بغل میں کچھ کھلی جگہ بھی تھی۔ ہم لوگوں نے اپنی فلم کمپنی کے لیے یہ ساری جگہ لے لی۔ سڑک کے کنارے ایک آٹھ بائی بارہ کا کمرہ تھا۔ اُس میں گھر سے لا کر ایک پُرانی میز اور کرسی رکھ دی اور اسی میں سج دھج سے ہمارا آفس چالو ہو گیا۔</p>
<p>آفس تو کھل گیا، لیکن کمپنی قائم کرنے کے لیے پیسہ ابھی نہیں آیا تھا۔ میرے سرمایہ دار نے ایسی ایسی نا قابل عمل شرطیں رکھیں جنھیں قبول کرنا ہمارے لیے قطعی ناممکن تھا۔ میں نے جا کر فتے لال اور داملے سے کہہ دیا کہ پونجی لگانے والا اب ہمارے ساتھ کوئی نہیں۔ وہ بھی سوچ میں پڑے۔ میں نے انھیں بلاجھجک بتا دیا، ’’دیکھیے، چونکہ ہم لوگ پیسہ لانے میں ناکام ہوئے ہیں، ہمارا آپ کے ساتھ ساجھے دار ہونے کا سوال ہی اب پیدا نہیں ہوتا۔ ہم دونوں آپ کی کمپنی میں نوکری کر لیں گے۔‘‘</p>
<p>انھوں نے چھوٹتے ہی کہا، ’’بھئی یہ نوکری کا خیال تو کبھی من میں بھی نہ لانا۔ ایک بار یہ طے ہو گیا نا، کہ ہم چاروں ساجھےداری میں ایک نئی فلم کمپنی کا قیام کریں گے۔ یہ فیصلہ پتھر کی لکیر سمجھو۔ فکر مت کرو، ضرورت ہوئی تو ہم اپنے سرمایہ دار سے زیادہ پیسہ لے لیں گے؟‘‘</p>
<p>سیتارام پنت کُلکرنی نے بھی ضرورت پڑنے پر زیادہ پیسے دینا قبول کر لیا۔ ہم لوگوں نے انھیں اپنی کمپنی کا پانچواں ساجھےدار بنا لیا۔ اِس طرح وشنو پنت داملے، شیخ فتے لال، کیشوراؤ دھائبر، سیتا رام پنت کُلکرنی اور میں، وی شانتارام، ہماری نئی فلم کمپنی کے پانچ ساجھےدار ہو گئے۔ سب سے چھوٹا میں تھا، میری عمر تب صر ف ستائیس برس تھی۔ داملے، فتے لال، دونوں مجھ سے لگ بھگ دس۔ بارہ سال اور کیشوراؤ دھائبر اور سیتا رام پنت کُلکرانی کوئی پندرہ بیس برس بڑے تھے۔</p>
<p>نئی کمپنی نے نام رکھنے کا سوچنا شروع کیا۔ کئی ناموں پر سوچا گیا، بحث ہوئی، لیکن کوئی نام سب کی پسند کا نہیں اُبھر رہا تھا۔ ایک رات بابوراؤ پینڈھارکر اپنے ایک دوست کے ساتھ ہمارے ہاں کھانے پر تشریف لائے۔ کمپنی کے لیے کوئی اچھا سا نام سوچنے کا میں نے اُن سے درخواست کی۔ تھوڑی دیر سوچ کر انھوں نے کہا، ’’ارے، آپ لوگ اپنی کمپنی کا نام ’پربھات‘ کیوں نہیں رکھتے؟‘‘</p>
<p>’’بربھات‘‘۔۔۔ ؟مجھے تو یہ نام بہت ہی پسند آیا۔ دوسرے دن ہمارے سبھی ساتھیوں کو میں نے یہ نام بتایا۔ انھیں بھی وہ ایک دم پسند آ گیا۔</p>
<p>سیتارام نے شروع میں تین ہزار روپے دیئے۔ اتنے پیسوں سے بمبئی جا کر میں بیل اینڈ ہاویل کمپنی کا ایک سکینڈہینڈ کیمرا خرید لایا۔ داملے اور فتے لال کے پاس جو کیمرا تھا، وہ صرف نیوز رِیل وغیرہ کے ہی کام آنے کے لائق تھا۔ یہ تو ہو گیا، لیکن فلمانے کے لیے کوری فلم خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آتا؟ ہمارے پاس تو وہ نہیں تھا۔ اس کا بہت ہی دکھ ہو رہا تھا۔ تبھی ایک بات سوجھی کہ کمپنی کی پہلی فلم پوری ہوتے ہی پیسے چُکا دینے کی شرط پر کوری فلم حاصل کی جاتی ہے۔ تو وہ بھی کمپنی کے لیے لائی پونجی ہی ہو گی۔</p>
<p>یہی بات میں من میں ٹھان کر بمبئی گیا۔ اُن دنوں کوڈک اور آگفا کوری فلمیں بیچنے والی دو ہی کمپنیاں تھیں۔ پہلے میں کوڈک میں گیا۔ اُس کمپنی کے افسران کو میں متاثر نہیں کر سکا۔ انھوں نے میری درخواست رد کر دی۔ نااُمید ہو کر دادا (کاشی ناتھ) کے گھر واپس لوٹا۔ بمبئی میں اُس کے یہاں ہی ٹھہرا تھا۔ اُس کے ایک دوست نے صلاح دی، ’’بھئی تمہارے اِس کولھاپوری یعنی ایک دیہاتی بھیس کی وجہ سے کوڈک والوں کو لگا ہی نہیں ہو گا کہ تم ایک فلم کمپنی کے مالک ہو۔ پھر تمھاری شکل صورت بھی کچھ بچگانہ ہی لگتی ہے۔‘‘</p>
<p>دادا کے دوست کی بات کچھ خاص جچی تو نہیں، لیکن چونکہ پکی ٹھان کر ہی آیا تھا کہ کسی بھی حالت میں فلم کا اسٹاک اُدھار حاصل کرنا ہے، یہ ایک ناٹک کھیلنے کی سمجھ داری دکھانے کو بھی میں راضی ہو گیا۔ دوسرے دن فورٹ کی ایک دکان میں گیا جہاں سِلے سلِائے ایک دم نئے فیشن کے کپڑے ملتے تھے۔ میں نے اپنے لیے ایک بڑھیا سوٹ خریدا۔ اُسے وہیں پہن لیا۔ اوپر سے ایک ایک دم پُرکشش بو ٹائی بھی چڑھا لی۔ اپنے گھنگھریالے بالوں میں اچھی طرح سے کنگھی کر لی۔ ایک اچھی سی ٹوپی خرید کر کچھ ترچھی سر پر جما لی۔ پیروں میں جرابیں اور جوتے پہن کر میں ایک دم ولایتی صاحب بن گیا۔ اِس طرح بن ٹھن کر میں آگفا کمپنی میں بڑے رُعب کے ساتھ پہنچا۔</p>
<p>اُس کمپنی کے منیجر نانا صاحب سے ملا اور کوری فلم کا اسٹاک اُدھار دینے کی اُن سے میں نے درخواست کی۔ شاید میری باتوں کا اُن پر چھا اثر پڑا۔ وہ مجھے آگفا کمپنی کے ہندوستان میں مقیم جرمن وحان لائیڈن کے پاس لے گئے۔ اُن کے ساتھ میں نے کھل کر بحث کی۔ اُن کے چہرے سے نظر آنے لگا کہ غالباً انھیں میری دیانت داری پر بھروسا ہونے لگا ہے۔ اِس موقع کو ہرگز ہاتھ سے جانے نہ دینے کا فیصلہ میں نے کر لیا۔ میرے اندر کا ’’اداکار‘‘ اپنے پورے جوہر کے ساتھ جاگ اٹھا۔ ایک منجھے ہوئے کاروباری کی ادا سے میں نے کہا، ’’آپ لوگوں نے آگفا کمپنی یہاں حال ہی میں شروع کی ہے۔ آپ ہمیں کوری فلم دیتے ہیں اور ہماری پہلی فلم کامیاب ہو جاتی ہے۔۔ وہ ضرور کامیاب ہو گی ایسا ہمارا یقین ہے۔۔ تو سوچیے، آپ کی کمپنی کی فلم بہت بڑھیا قسم کی ہوتی ہے، یہ پرچار اپنے آپ ہو جائے گا۔ کیا اُس کا فائدہ آپ کو نہیں ملے گا؟‘‘وہ میری باتیں سُن رہے تھے۔ میری باتوں کا اُن پر اچھا اثر ہوتا دِکھ رہا تھا۔ اور تب میں نے ایک جھوٹ ہانکا، ’’مجھے آج فلم اُدھار دینے میں آپ ناکام رہے، تو مجھے مجبورہو کر کوڈک کے پاس جانا پڑے گا!‘‘</p>
<p>میرا یہ ٹوٹکا برابر لاگو ہو گیا۔ انھوں نے فلم کا اسٹاک ہمیں ادھار دینا قبول کر لیا۔ ساجھے دار ہوتے ہوئے بھی پونجی لگانے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے میرے من پر جو ایک بھاری بوجھ سا تھا، دور ہو گیا۔</p>
<p>میں کولھاپور واپس آ گیا۔ سب کو یہ خوش خبری سنائی۔ سبھی ساتھیوں میں جوش امڈ آیا۔ چاروں ساتھی ہاتھوں میں پھاوڑا اور کُدالیں لیے کھلی جگہ میں اسٹوڈیو کے کھمبے گاڑنے کے لیے گڈھے کھودنے میں بِھڑ گئے۔ ہم لوگوں کے پاس پیسے کی کمی تھی، اس لیے ہم نے صرف دو چار لوگوں کو ہی اپنے ساتھ کام پر لگا لیا تھا۔ کولھاپور کے ایک لوہار سے ہم لوگ لوہے کے لمبے اور موٹے شہترادھار لے آئے۔ یہ شہتیر پچیس فٹ اونچے، کافی موٹے اور چوڑے بھی تھے۔ انھیں گاڑ کر ہم نے شوٹنگ کے لیے اسٹوڈیو کھڑا کیا۔ لوہے کے اونچے شہتیروں کا استعمال کرنے کی وجہ سے ہمارے منظروں کی اونچائی کافی بڑھائی جا سکی۔ اسی وجہ سے ’’پربھات‘‘ میں گرینڈ سین کا رواج پہلی فلم سے ہی شروع ہو گیا، جو بعد میں کئی برس تک بنا رہا۔ سیتا رام پنت نے ہمیں اور دو ہزار روپے دیے۔</p>
<p>اس طرح پانچ ہزار روپے کی نقد پونجی سے ہماری پربھات فلم کمپنی کی مبارک شروعات ہو گئی۔ اب کمپنی کے نام کی مناسبت سے ہی ٹریڈ مارک ہو، یہ سوال سامنے آیا۔ ٹریڈمارک کی کھوج میں ہم سبھی بے تاب ہوئے جا رہے تھے۔ مہاراشٹر فلم کمپنی کا ٹریڈ مارک والی دو تلواروں کا اب مقبول ہو چکا تھا۔ فلم ریل کے چکر میں دھاڑتا ہوا روبیلا شیر، میٹرو گولڈون میئر کا ٹریڈمارک ناظرین کو کافی بھا گیا تھا۔ اسی طرح امریکی کمپنی ’’یونیورسل‘‘ کا گول گھومتا گلوب، کمپنی کے نام کو بیان کرتا تھا۔ اسے بھی زیادہ فنکارانہ با معانی ٹریڈمارک اپنی ’’پربھات‘‘ کمپنی کے لیے ہم لوگ کھوج رہے تھے۔ سب لوگ اُسی کا سوچ رہے تھے۔ اسی سوچ میں دن شام کو میں اپنے گھر آیا۔ کھانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ بنا دھیان دیے جیسے تیسے کھانا کھا کر میں بستر پر لیٹ گیا۔ نیند نہیں آ رہی تھی۔ آنکھیں پھاڑ کر میں سوچ میں ڈوب گیا۔ ٹریڈ مارک۔۔ ’پربھات‘ کا ٹریڈمارک؟</p>
<p>سوچتے سوچتے کب آنکھیں جھپکیں، پتا نہیں۔ صبح ہوتے ہی مہالکشمی کے مندر میں شروع ہوا صبح آرتی کا گھنٹہ ناد سنائی دیا۔ میں ہڑ بڑاکر اٹھ بیٹھا۔ ویمل نے پوچھا، ’’بات کیا ہے؟ آج آپ اتنی جلدی جاگ گئے؟‘‘</p>
<p>میں نے مذاق میں کہا، ’’ہر روز تڑکے اٹھ کر تم آخر کام کیا کرتی ہو، آج دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ سن کر ویمل فوراً ہی گھر کے کام کا میں لگ گئی۔ میں جلدی جلدی منھ ہاتھ دھو کر باہر نکلنے کے لیے دروازہ کھول کر کھڑا ہو گیا۔ ویمل اور ماں میری ہرہل چل کو بڑی حیرانی اور تذبذب سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے انھیں بتایا، ’’آج تڑکے ہی گھومنے کے لیے جانے کی جھک مجھ پر سوار ہو گئی ہے۔ ‘‘میں باہر آ گیا اور تیزی سے قدم بڑھاتا ہوا کولھاپور کے پورب میں ایک چھوٹی سی پہاڑی پر جا پہنچا۔ اس چھوٹی پہاڑی پر تنبولی دیولی کا مندر ہے۔ مندر کے سامنے اونچی دیپ مالا بنی ہے۔ اپس کے چبوترے پر بیٹھ کر میں پورب کے افق کی طرف دیکھتا رہا۔</p>
<p>مہالکشمی مندر سے سنائی دینے والی صبح کی آرتھی کا گھنٹہ ناد اب دھیما سنائی دینے لگا تھا۔ آخر وہ بند ہو گیا۔ مشرق لال ہو گیا۔ یہی تھی پربھات کی منگل بیلا (مبارک گھڑی) یہ پربھات! دنیا کو نئے جیون کا وردان دینے والا، سوریہ نارائن کے طلوع ہونے پر بھی بھیری بجانے والا پربھات!</p>
<p>“پربھات کی منگل بیلا میں پراچی لال لال ہو رہی ہے، سامنے ایک نوجوان لڑکی بھیری بجا کر سورج کے طلوع ہونے کی سُوچنا دے رہی ہے، لڑکی ایسی ہو کہ دیکھنے والوں کو لگے کہ وہ اجنتا ایلورا کی کسی تصویر یا مجسمے کو ہی دیکھ رہے ہیں!” انھیں یہ تخیل سمجھاتے وقت میں بہت پُرجوش ہو گیا تھا، جیسے وہ تصویر میرے من کی کسی سہانے سپنے کی مانند تمثیل ہو گئی تھی۔ فتے لال بھی مگن ہو کر کھو گئے تھے۔ کہنے لگے، ’’رُکیے شانتا رام جی، آپ نے تخیل کی پینٹ برش کے ذریعے اُس نوجوان لڑکی کی جو تصویر من ہی من میں بنائی ہے، اُسے میں اپنے پینٹ برش سے کاغذ پر اتار کر دکھاتا ہوں!‘‘</p>
<p>انھوں نے کاغذ پنسل سنبھالی اور پھرتیلی لکیریں کھینچ کر اسکیچ بنانا شروع کیا۔ ایک قدم آگے اور ایک کچھ پیچھے ٹیک کر بڑی شان کے ساتھ کھڑی، کمر میں کچھ بل کھاتی، اعلیٰ درجے کا اُبھرا ہوا سینہ، ہندوستانی کپڑے زیورات سے سجی ہوئی ہے۔ اور بڑے فخر کے ساتھ بھیری بجا رہی ہے، ’پربھات‘ کا ٹریڈ مارک کاغذ پر شکل لینے لگا، تب تک داملے اور کیشوراؤ بھی آ گئے تھے۔ سبھی کو ٹریڈ مارک کی وہ تصویر بہت پسند آئی۔ کسی نے فوراً جا کر سیتا رام پنت کو بھی بُلا لیا۔ ہم لوگوں نے اُس سکیچ کی بڑی بھگت جذبے سے پوجا کی ’’پربھات‘‘ فلم کمپنی کے شبھ آرمبھ (آغاز) کا دیوتک ناریل پھوڑا۔<br>
وہ تاریخ تھی یکم جون ۱۹۲۹ء!</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-7/">وی شانتا راما — باب 7: پربھات (ترجمہ: فروا شفقت)</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/shanta-rama-ch-7/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
		<item>
		<title>باجے والی گلی — قسط 11</title>
		<link>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-11/</link>
					<comments>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-11/#respond</comments>
		
		<dc:creator><![CDATA[آج]]></dc:creator>
		<pubDate>Sun, 12 May 2019 19:56:43 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[فکشن]]></category>
		<category><![CDATA[aaj]]></category>
		<category><![CDATA[fiction]]></category>
		<category><![CDATA[novel]]></category>
		<category><![CDATA[raaj kumar keswani]]></category>
		<category><![CDATA[Urdu Fiction]]></category>
		<category><![CDATA[آج]]></category>
		<category><![CDATA[اجمل کمال]]></category>
		<category><![CDATA[راج کمار کیسوانی]]></category>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=24591</guid>

					<description><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”] راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-11/">باجے والی گلی — قسط 11</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p>[blockquote style=“3”]</p>
<div class="urdutext"><a href="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg"><img loading="lazy" decoding="async" class="alignleft size-full wp-image-24096" src="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg" alt width="200" height="200" srcset="https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain.jpg 200w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-150x150.jpg 150w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-100x100.jpg 100w, https://laaltain.pk/wp-content/uploads/2019/01/raj-kumar-keswani-laaltain-50x50.jpg 50w" sizes="(max-width: 200px) 100vw, 200px"></a>راجکمار کیسوانی تقسیم ہند کے بعد سندھ سے ہجرت کر کے بھوپال میں سکونت اختیار کرنے والے ایک خاندان میں 26 نومبر 1950 کو پیدا ہوے۔ ان کی بنیادی پہچان صحافی کی ہے۔ 1968 میں کالج پہنچتے ہی یہ سفر ’’سپورٹس ٹائمز‘‘ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کے طور پر شروع ہوا۔ ان کے لفظوں میں ’’پچھلے چالیس سال کے دوران اِدھر اُدھر بھاگنے کی کوششوں کے باوجود، جہاز کا یہ پنچھی دور دور تک اڑ کر صحیح جگہ لوٹتا رہا ہے۔‘‘ اس عرصے میں چھوٹے مقامی اخباروں سے لے کر بھارت کے قومی ہندی اور انگریزی اخباروں دِنمان، السٹریٹڈ ویکلی آف انڈیا، سنڈے، سنڈے آبزرور، انڈیا ٹوڈے، جَن ستّا، نوبھارت ٹائمز، ٹربیون، ایشین ایج وغیرہ اور پھر بین الاقوامی اخباروں (مثلاً نیویارک ٹائمز، انڈیپنڈنٹ) سے مختلف حیثیتوں میں وابستہ رہے۔<br>
2 اور 3 دسمبر 1984 کی درمیانی رات کو بھوپال میں دنیا کی تاریخ کا ہولناک ترین صنعتی حادثہ پیش آیا۔ کیڑےمار کیمیائی مادّے تیار کرنے والی یونین کاربائیڈ کمپنی کے پلانٹ سے لیک ہونے والی میتھائل آئسوسائنیٹ (MIC) نامی زہریلی گیس نے کم سے کم 3,787 افراد کو ہلاک اور اس سے کئی گنا بڑی تعداد میں لوگوں کو اندھا اور عمربھر کے لیے بیمار کر دیا۔ اس حادثے سے ڈھائی سال پہلے یہ گیس تھوڑی مقدار میں لیک ہوئی تھی جس میں دو افراد ہلاک ہوے تھے۔ راجکمار کیسوانی نے تب ہی تحقیق کر کے پتا لگایا کہ مذکورہ گیس نہایت زہریلی اور کمیت کے اعتبار سے ہوا سے بھاری ہے، اور کارخانے کے ناقص حفاظتی نظام کے پیش نظر اگر کبھی یہ گیس بڑی مقدار میں لیک ہوئی تو پورا بھوپال شہر بہت بڑی ابتلا کا شکار ہو جائے گا۔ انھوں نے اپنی اخباری رپورٹوں میں متواتر اس طرف توجہ دلانا جاری رکھا لیکن کمپنی کی سنگدلی اور حکام کی بےحسی کے نتیجے میں یہ بھیانک سانحہ ہو کر رہا۔ اس سے متاثر ہونے والوں کی طبی، قانونی اور انسانی امداد کے کام میں بھی کیسوانی نے سرگرم حصہ لیا جسے کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں کی رپورٹنگ اور دستاویزی فلموں میں بھی سراہا گیا۔ 1998 سے 2003 تک راجکمار کیسوانی این ڈی ٹی وی کے مدھیہ پردیش چھتیس گڑھ بیورو کے سربراہ رہے اور 2003 کے بعد سے دینِک (روزنامہ) بھاسکر سے متعلق رہے۔ اب وہ اس اخبار میں ایک نہایت مقبول کالم لکھتے ہیں۔ انھیں بھارت کے سب سے بڑے صحافتی اعزاز بی ڈی گوئنکا ایوارڈ سمیت بہت سے اعزاز مل چکے ہیں۔<br>
راجکمار کیسوانی ہندی کے ممتاز ادبی رسالے ’’پہل‘‘ کے ادارتی بورڈ میں شامل ہیں جو ہندی کے معروف ادیب گیان رنجن کی ادارت میں پچھلے چالیس برس سے زیادہ عرصے سے شائع ہو رہا ہے۔ 2006 میں کیسوانی کی نظموں کا پہلا مجموعہ ’’باقی بچے جو‘‘ اور اس کے اگلے سال دوسرا مجموعہ ’’ساتواں دروازہ‘‘ شائع ہوے۔ انھوں نے ’’جہانِ رومی‘‘ کے عنوان سے رومی کی منتخب شاعری کا ہندی ترجمہ بھی کیا ہے۔ کئی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ’’باجے والی گلی‘‘ ان کا پہلا ناول ہے جو ’’پہل‘‘ میں قسط وار شائع ہو رہا ہے۔<br>
اس ناول کو اردو میں مصنف کی اجازت سے ’’لالٹین‘‘ پر ہفتہ وار قسطوں میں پیش کیا جائے گا۔ اس کا اردو روپ تیار کرنے کےعمل کو ترجمہ کہنا میرے لیے دشوار ہے، اس لیے کہ کہیں کہیں اکّادکّا لفظ بدلنے کے سوا اسے اردو رسم الخط میں جوں کا توں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ بات آپ کی دلچسپی کا باعث ہو گی کہ اسے ہندی میں پڑھنے والوں میں سے بعض نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ دراصل ناگری رسم الخط میں اردو ہی کی تحریر ہے۔<br>
تعارف اور پیشکش: اجمل کمال</div>
<p>[/blockquote]</p>
<p>وقت اپنی پوری رفتار سے گزرتا جا رہا تھا، پر نہیں گزر رہا تھا تو سیاسی اُتھل پُتھل اور افرا تفری کا وہ دور جس کا آغاز بٹوارے کے اعلان کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ہندو آبادی کے پلائن کی وجہ سے وہاں کا سارا نظام چِھن بِھن ہونے لگا تھا۔ روزمرہ کی ضرورت کی کئی چیزوں تک کی قلت ہونے لگی تھی۔ دکانوں پر تالے لگے تھے جن کی چابیاں اور اپنی جان بچا کر ہندو بیوپاری بھاگ نکلے تھے۔ دھیرے دھیرے ان دکانوں کے تالے ایک کے بعد ایک ٹوٹتے چلے گئے۔ کچھ دکانوں کا مال لُٹ گیا تو کچھ پر وہاں پہنچے مہاجروں نے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ لیکن چار دن بعد مشکل اسی شکل میں سامنے آ کھڑی ہو جاتی که خالی ہوتی دکانوں میں بھرنے کے لیے نئی سپلائی کا بندوبست نہ تھا۔</p>
<p>اُدھر سڑکوں پر جھاڑو لگانے اور گھروں کے پاخانے صاف کرنے والے صفائی کرمچاری بھی ندارد تھے۔ نتیجے میں گھروں اور سڑکوں پر گندگی اور بدبو کا عالم پھیلنے لگا تھا۔ ایک پاک اور جنّت نشاں ملک کی آس میں اپنا شہر، اپنا گھربار چھوڑ کر پہنچے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے وہاں پھیلی بدحالی کا یہ عالم کسی صدمے سے کم نہ تھا۔ اور جو اتنا کافی نہ تھا تو وہاں کے مقامی مسلمانوں کے ایک بڑے طبقے کے رویے نے ان کا دل توڑ دیا۔</p>
<p>حالات ہندوستان میں بھی بہت بہتر نہ تھے۔ ایک صاف ستھری آبادکاری کی پالیسی کے برعکس تمام سرکاری کوششیں لچر ثابت ہو رہی تھیں۔ خاص کر دہلی میں سارا بندوبست چرمرانے لگا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل جیسے نیتاؤں کی تمام کوششوں کے باوجود مار کاٹ، خون خرابے جیسی باتیں روز کا معمول سی بننے لگی تھیں۔ اور جو کوئی کسر باقی تھی تو جب تب پھیلتی بھڑکاؤ افواہوں سے پوری ہوتی جاتی تھی۔ ان افواہوں کو پختگی دینے میں دونوں ملکوں کے اخبار پوری طرح آمادہ نظر آتے تھے۔ اس کے بعد کا کام دونوں طرف کی سیاسی جماعتوں نے مانو اپنے ذمے لے لیا تھا۔ ان مشکل سے مشکل تر ہوتے حالات کے لیے دونوں ملک، ہندوستان اور پاکستان، ایک دوسرے کو ذمےدار بتاتے ہوے، کھلم کھلا ایک دوسرے پر فوجی حملے کی باتیں کرنے لگے تھے۔</p>
<p>ہندو مہاسبھا کے سربراہ این بی کھرے جیسے نیتاؤں کے لیے تو پَوبارہ والے حالات بن گئے تھے۔ پاکستان پر حملہ کر کے اسے پھر سے ہندوستان کا حصہ بنا کر ’’اکھنڈ بھارت‘‘ قائم کرنے جیسی تقریریں آئے دن کی بات ہو گئی۔ ’’ایک دھکا اور دو/ پاکستان کو توڑ دو‘‘ جیسے نعروں کی گونج دھیرے دھیرے پورے دیش میں سنائی دینے لگی تھی۔ اُدھر پاکستان میں بھی مسلم لیگ اسی طرح کا ماحول بنائے ہوے تھی۔ آئے دن انگریزی اخباروں میں چھپنے والے فوٹوؤں اور خبروں سے معلوم ہو رہا تھا که وہاں مسلم لیگ کے رہبران بھی جنگ کا ماحول بنانے میں جٹے ہوے ہیں۔ جلسوں میں گونجنے والا نعرہ ’’ہنس کے لیا ہے پاکستان / لڑ کر لیں گے ہندوستان‘‘ ملک بھر کی دیواروں پر اتر آیا تھا۔ اسی ماحول کا فائدہ اٹھاکر این بی کھرے نے تو باقاعدہ یو این او میں پٹیشن بھی لگا دی تھی، جس میں انھوں نے پاکستان کو غیرقانونی طور پر قائم ہوا دیش بتاتے ہوے اس کی منظوری منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت میں پردھان منتری جواہر لال نہرو، لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور کچھ اور لوگوں کو وادی بنا کر تقسیم پر ریفرنڈم کی مانگ کی اپیل بھی کر دی تھی۔ ان کا الزام تھا که ”کچھ لوگوں نے کسی قانونی اختیار کے بغیر سازش کر کے دیش کے شہریوں کی رضامندی کے بنا بٹوارے کا فیصلہ لیا ہے، جس کا احتیار انھیں تھا ہی نہیں۔</p>
<p>کراچی اور دہلی کے بیچ چھڑی اس سیاسی جنگ کی آنچ سے بھوپال بھی پوری طرح بَری نہ تھا۔ حالانکہ یہاں بقایا ملک کے مقابلے میں حالات کافی بہتر تھے، پھر بھی غم اور غصے کی آنچ پوری طرح بجھی نہ تھی۔</p>
<p>اسی ماحول میں دادا نے ایک طرف رفیوجی پنچائت کی ذمےداری اور دوسری طرف ہندو مہاسبھا کی راج نیتی میں شامل ہوکر اپنی مصروفیت کو بےطرح بڑھا لیا تھا۔ نئی نئی شروع ہوئی وکالت کے لیے وقت نکالنا بھی مشکل ہو چکا تھا۔ نتیجے میں گھر کی مالی حالت بری طرح ڈانواڈول ہو رہی تھی۔ اسی بات کو لے کر گھر میں روز قلح مچتی۔ حالات کو قابو میں رکھنے کو دن رات کھٹتی ماں دادا کے زبانی حملوں اور تہمت طرازی کے نشانے پر رہتی۔</p>
<p>دادا اپنی گھریلو ذمےداریوں سے بھلے ہی بھاگ رہے ہوں لیکن سماجی ذمےداریوں کو نبھانے کے لیے انھوں نے خود کو پوری طرح کھپا رکھا تھا۔ اسی وجہ سے ان سے ملنے اور اپنے دکھ درد اور داد فریاد سنا کر مدد مانگنے والوں کی تعداد بھی لگاتار بڑھنے لگی تھی۔ صبح سویرے ہی حویلی کے بند دروازے پر سانکل کی چوٹ سے اٹھنے والی آواز باربار حویلی میں رہنے والوں کے معمول کے جیون میں خلل پیدا کرنے لگی تھی۔ اس دروازے سے ہی سٹا ہوا سب سے پہلا گھر داداجی کا تھا۔ اکثر وہی یا پھر چاچا، جو داداجی کے ساتھ ہی اوپر بنی برساتی میں رہتے تھے، جا کر دروازہ کھول دیتے تھے۔ بعض مرتبہ یوں بھی ہوتا که حویلی کا کوئی دوسرا باشندہ جا کر دروازہ کھولتا اور آنے والے کے منھ سے دادا کا نام سن کر نراشا بھری آواز میں اس کی خبر ہمیں دے جاتا۔ دھیرے دھیرے ان سارے لوگوں نے یہ مان کر که دروازہ بجانے والا دادا کے لیے ہی آیا ہو گا، دروازہ کھولنا چھوڑ دیا۔ سواے داداجی کے کوئی بھی دروازہ کھولنے نہ جاتا۔ اس بدلاؤ کے نتیجے میں کئی بار دروازے کا سانکل دیر تک پِٹتا رہتا اور ہر بار اس کی آواز آروہی سے اوروہی کی اور چڑھتی چلی جاتی۔ جب دروازہ کھلتا تو یوں بھی ہو جاتا که آیا ہوا انسان حویلی کے کسی اور گھر کا مہمان نکلتا۔ ایسے میں ان کی بات چیت اس اُلاہنے کے ساتھ شروع ہوتی: ”کلاک کھوں در پیا کھڑکایوں! گھر میں سب سمھیا پیا ہیو چھا؟’’ (ایک گھنٹے سے دروازہ پیٹ رہا ہوں۔ گھر میں سب سو رہے تھے کیا؟)</p>
<p>آئے دن بنتی اس حالت سے تنگ آ کر سب نے ایک اجتماعی فیصلہ لے لیا که دن کے وقت دروازہ کھلا رکھا جائے۔ یہ فیصلہ سہولت کے ساتھ ہی ساتھ حویلی کے سندھی اور گلی کے مسلم پریواروں کے بیچ ایک دوسرے کے لیے دھیرے دھیرے بڑھتی آپسی سمجھ اور بھروسے کی علامت بھی تھا۔ دھیرے دھیرے بدلتے اس رشتے پر گھر میں جب بھی بات نکلتی تو ماں کہتی، ’’امیری میں ہوڑ اور غریبی میں جوڑ۔۔۔ لالہ یاد رکھنا، غریبی کا رشتہ آستے آستے بنتا ہے۔ مگر بن جائے تو سب سے مضبوط رشتہ ہوتا ہے۔‘‘</p>
<p>گلی کے دو چار گھروں کو چھوڑ کر باقی ہر گھر سے ایک دم صبح سویرے لگ بھگ ایک ہی وقت ادھ کھلی آنکھیں اور بند مٹھی میں اکنی یا دونّی کے سکے لیے گھروں سے لوگ باہر نکلتے تو ایک دوسرے کا سامنا ہو ہی جاتا۔ ان سب کی راہ ایک ہی ہوتی: برجیسیہ مسجد کے نزدیک مشّو میاں اور پوکرداس کی پرچون کی دکانیں اور توس والی بیکری۔ روز روز ایک راہ چلتے، ایک دوسرے کو دیکھنے کی عادت سی پڑ گئی تو دھیرے دھیرے مسکراہٹ کی ادلابدلی کرنا بھی سیکھ گئے تھے۔ ساتھ ساتھ دکان کی طرف چلتے ہوے جب دکان پر پہنچ کر ان سب کی مٹھیاں کھلتیں تو سکّے بھی اکثر ایک ہی وزن کے نکلتے۔ اسی طرح آوازیں بھی ملتی جلتی سی ہی ہوتیں: ”چھوٹی پُڑیا، طوطا چھاپ اور ایک چھٹانک شکر۔‘‘ کسی کسی آواز میں یہ مانگ ایک آدھا پاؤ شکر اور دو پڑیاں بھی ہوتی، لیکن بروک بانڈ کی طوطا چھاپ چائے پتی کی مانگ لگ بھگ یکساں ہوتی تھی۔ لپٹن کی روبی ڈسٹ کی مانگ بھی سنائی دیتی، مگر ذرا کم۔</p>
<p>بدّو میاں اس چائے کے چسکے میں ڈوب رہے لوگوں سے بےحد خفا رہتے تھے۔ وہ بتاتے تھے که یہاں پہلے دودھ مکھن کا ہی چلن تھا۔ اسی وجہ سے سارا شہر اکھاڑوں اور پہلوانوں سے بھرا پڑا تھا۔ بعد کو انگریزوں نے اپنی کمپنیوں کے منافعے کے لیے یہ ’’گندی‘‘ عادت ڈالی۔ ’’‘شہر کے سارے ہاٹ بازاروں میں یہ لوگ ٹیبلیں لگا لگا کر مفت میں چا پلاتے تھے۔ آوازیں لگا لگا کے بلاتے، منتیں کر کر کے کیتے، چا پی لو میاں، چا پی لو۔ حرام کے جنے بُری تراں جھوم جاتے اور تب تلک پیچھا نی چھوڑتے جب تلک آپ چا پی نہ لو۔ سالے نہ جانے کاں کاں سے سات سات فٹے لوگ پکڑ لاتے که لوگ ان کو دیکھنے کھڑے ہو جائیں۔ آپ کھڑے ہوے نئیں که وِن نے فوراً آپ کو چا پلائی نئیں۔ ایسے ہی ایک بڑا لمب تڑنگ جوان آیا تھا جو جتّا لمبا تھا وِتنا ای چوڑا۔ اس کے پیچھے بچوں کی بھیڑ لگ جاتی تھی۔ وہ بھی باقی سب کی تراں غائب ہو گیا۔ اور بعد کو دیکھو تو سالا فلموں میں دِکھنے لگا۔ تبھی پتا چلا که اس کا نام شیخ مختار تھا۔ قسم خدا کی، اس کی فلم دیکھنے سارا شیر پونچ جاتا تھا ٹاکیز میں۔ وہ پردے پہ آتا تو آوازیں لگتیں: چائے گریم، چائے! اور پھر ٹھہاکے لگتے۔ پردے پہ تو وہ دس دس کو اکیلا پچھیٹ پچھیٹ کے مارتا ہے۔ اب تو اتّی ہل گداگد نئیں ہوتی جتّی پیلے ہوتی تھی۔ پیلے اس سالے نے چا کی عادت ڈالی، بعد کو فلم کی۔‘‘</p>
<p>بدّو میاں کی بات میں دم تھا۔ سچ مچ شہر بھر میں چائے کے اشتہار ہی سب سے زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ مشو میاں کی دکان پرانی اور ذرا چھوٹی تھی جبکہ پوکرداس کی دکان اس سے کچھ بڑی۔ چھوٹی دکان پر بروک بانڈ چائے کا اینامل پینٹ والا ٹین کا چھوٹا سا بورڈ لگا تھا تو اس نئی دکان نے بروک بانڈ، لپٹن اور اصفہانی چائے کی تختیاں ٹانگ رکھی تھیں۔ ایک تختی پر لکھا ہوتا: ’’اچھی چائے جب / دل خوش میرا تب‘‘۔ بروک بانڈ والے ٹین کے پترے پر ماں بچہ چھاپ چائے، جسے کچھ لوگ عورت چھاپ چائے بھی کہتے تھے، کا اشتہار ہوتا جس پر چائے کا ایک بڑا سا پُڑا ہاتھوں میں تھامے ایک ناچتے گاتے پریوار کی تصویر ہوتی۔ اس کے نیچے انگریزی، ہندی اور اردو میں لکھا ہوتا: ’’بروک بانڈ چائے — کورا ڈسٹ۔ سب کی دلچسپی کا مرکز۔‘‘</p>
<p>دوسرا اشتہار زیادہ صاف ستھرا اور سیدھی بات کرتا تھا: ’’کڑک اور بڑھیا چائے کی زیادہ پیالیاں – بروک بانڈ اے ون ڈسٹ ٹی۔‘‘ اس پر طوطے کی پیٹھ پر لدا ایک طوطا چھاپ چائے کے پیکیٹ کا چتر ہوتا۔ دلچسپ بات یہ ہے که ان دونوں بڑے پیکٹوں کے خریدار اس دکان پر کبھی کبھار ہی دِکھتے تھے۔</p>
<p>لپٹن کی جاکوجا اور روبی ڈسٹ چائے کا اشتہار اسے ’’ہندستان کی عمدہ اور تیز خوشبو، خوش رنگ اور کم قیمت چائے‘‘ بتاتا تھا۔ لیکن صبح کے اس وقت دکان پر آنے والوں میں سے کسی کے بھی پاس ان اشتہاروں کو پڑھ کر چائے خریدنے کا سمے نہیں ہوتا تھا۔ یہاں تو اکثر افراتفری کا ماحول بنا رہتا که سب کو جلدی گھر پہنچنا ہے۔ سب کے گھروں میں پانی کا پتیلا لگ بھگ چولھے پر چڑھنے کو تیار ہوتا یا پھر چڑھ ہی چکا ہوتا تھا۔ ایسے میں جلدی ہونا لازم تھا۔ اس پر بیچ میں شمیم بیکری والے، جسے سب شمّو بھائی بلاتے تھے، کے یہاں سے توس بھی لینے ہوتے تھے۔ خاص کر ٹائی لیور توس۔ واپسی کے وقت جواں مرد تیز چال سے اور بچے لگ بھگ دوڑتے ہوے جلدی سے گھر پہنچنے کو آتُر دکھائی دیتے۔ ہم لوگ تو باقاعدہ آپس میں ریس کرتے، کھلکھلاتے اپنے اپنے گھروں تک پہنچتے۔ کچھ دوستوں کے گھر بیچ میں ہی پڑتے اور کچھ کے آگے، ہماری حویلی گلی کے بیچوں بیچ تھی۔ ہر روز یہاں پہنچ کر مجھے داداجی کو، جنھیں میں بابا کہتا تھا، دروازہ کھولنے کو آواز دینی پڑتی تھی۔ لیکن اُس دن دروازہ پہلے ہی سے کھلا تھا۔ سو بس، سب اسی دوڑ والی رفتار میں سیدھے اندر گھس گئے۔</p>
<p>(جاری ہے)</p>
<p>۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<div class="urdutext">اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے <a href="https://laaltain.pk/category/literature/fiction/baaje-wali-gali/" target="_blank" rel="noopener noreferrer">کلک</a> کریں۔</div>
<p>The post <a href="https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-11/">باجے والی گلی — قسط 11</a> appeared first on <a href="https://laaltain.pk">Laaltain</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
					<wfw:commentRss>https://laaltain.pk/baje-wali-gali-ep-11/feed/</wfw:commentRss>
			<slash:comments>0</slash:comments>
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
