<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	
	>
<channel>
	<title>
	Comments on: آخری غروب آفتاب (نجم الدین احمد)	</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/akhri-ghurob-e-aftab/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/akhri-ghurob-e-aftab/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Sat, 01 Jun 2024 03:52:51 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>
	<item>
		<title>
		By: Sarwat AJ		</title>
		<link>https://laaltain.pk/akhri-ghurob-e-aftab/#comment-11286</link>

		<dc:creator><![CDATA[Sarwat AJ]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 23 May 2020 05:52:31 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25177#comment-11286</guid>

					<description><![CDATA[انتہائی رواں اور شستہ الفاظ میں دل کو چھو جانے والا افسانہ]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>انتہائی رواں اور شستہ الفاظ میں دل کو چھو جانے والا افسانہ</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
		<item>
		<title>
		By: Danish		</title>
		<link>https://laaltain.pk/akhri-ghurob-e-aftab/#comment-11284</link>

		<dc:creator><![CDATA[Danish]]></dc:creator>
		<pubDate>Tue, 19 May 2020 00:29:44 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25177#comment-11284</guid>

					<description><![CDATA[حالیہ وبا پر جو خصوصی ادب تخلیق ہو رہا ہے، اس میں ایک اچھا اضافہ. افسانے پر صحافتی رنگ نمایاں دکھائی دے رہا ہے. لگ رہا ہے کہ جیسے حقیقی واقعات کو رقم کیا ہے. افسانہ نگار نے مریض پر بیماری کی تکالیف، دکھ، یا یوں کہیں کہ &#039;مر جانے کا خوف&#039; حاوی نہیں ہونے دیا، مریض کی اپنے زندگی کو مسحور کردینے اور دل لبھانے والے منظر کی دید کی خواہش نے غیر ارادی طور پر جینے کی امنگ کو زندہ رکھا. اور ایسے منظر کی دید کے انتظار نے اس کے اندر اپنی بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر دی. اور یہی اس کی حیاتِ نو کا باعث بنی. اور شاید اسی طرح کا عمل ہی اب تک اس بیماری کا علاج ہے.

افسانے کی یہ سطور بھی  قابلِ توجہ ہیں۔ 

’’ہُونہہ۔‘‘ ڈاکٹر ہنکارا بھر کر آفتاب سے مخاطب ہُوا۔ ’’تم غروبِ آفتاب دیکھنے کے اِتنے شائق کیوں ہو؟ کسی سے ملنا نہیں چاہتے؟‘‘ پھر یاد آنے پر بولا۔ ’’اوہ، تم تو پاکستانی ہو۔ ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی اَور سے سکائپ پر تمھاری بات کروا دیں تو کیسا رہے گا؟‘‘
’’ڈاکٹر، میں اُنھیں بہت یاد کرتا ہُوں۔ لیکن مجھے اِس حال میں دیکھ کر وہ بے حد دُکھی ہَوں گے۔ یہاں پھیلنے والی اِس وبا کی خبریں یقینا اُن تک پہنچ گئی ہَوں گی اور وہ میرے لیے خاصے پریشان ہَوں گے۔ میں اُنھیں مزید دُکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘
&quot;۔ ۔ ۔  ’’میں ڈاکٹر لیو سے کہاں مل سکتا ہُوں؟‘‘ ۔ ۔ ۔ &quot;’’تم اُن سے نہیں مل سکتے۔   COVID-19 کا نتیجہ مثبت آنے پر وہ پچھلے چند روز سے آئیسولیشن میں ہیں۔‘‘
&quot;۔ . . .  ہسپتال کے تمام عملے کو پیپلز لبریشن آرمی کا چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا تھا، جن میں یقینا ڈاکٹر لیو شامل نہیں تھا۔ اُس کے دُکھ میں اضافہ ہو گیا۔  &quot;

اپنے دکھ کو فراموش کرکے دوسروں کے مصائب پر دکھی ہونا  یقیناً ایک    عظیم  جذبہ ہے۔  مصنف نے  بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔

وبا سے متعلق  (خاص کر طبی )جذئیات حسن منظر نے اپنے ناول &quot;وبا&quot; میں بھی بیان کی ہیں۔   ناول ہونے کی وجہ سے قابل قبول ہوگئیں۔  لیکن اس نے اس افسانے کو طویل کرنے کے ساتھ قاری کے ذہن پر بوجھ بھی ڈالا ہے. اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حالیہ وبا کے آغاز سے اب تک اتنا کچھ خالص یا ناقص مواد پڑھنے ، سنے اور دیکھنے  کو ملا ہے کہ اب تو دل اس موضوع سے بیزار ہی ہوگیا ہے.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>حالیہ وبا پر جو خصوصی ادب تخلیق ہو رہا ہے، اس میں ایک اچھا اضافہ. افسانے پر صحافتی رنگ نمایاں دکھائی دے رہا ہے. لگ رہا ہے کہ جیسے حقیقی واقعات کو رقم کیا ہے. افسانہ نگار نے مریض پر بیماری کی تکالیف، دکھ، یا یوں کہیں کہ ‘مر جانے کا خوف’ حاوی نہیں ہونے دیا، مریض کی اپنے زندگی کو مسحور کردینے اور دل لبھانے والے منظر کی دید کی خواہش نے غیر ارادی طور پر جینے کی امنگ کو زندہ رکھا. اور ایسے منظر کی دید کے انتظار نے اس کے اندر اپنی بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر دی. اور یہی اس کی حیاتِ نو کا باعث بنی. اور شاید اسی طرح کا عمل ہی اب تک اس بیماری کا علاج ہے.</p>
<p>افسانے کی یہ سطور بھی  قابلِ توجہ ہیں۔ </p>
<p>’’ہُونہہ۔‘‘ ڈاکٹر ہنکارا بھر کر آفتاب سے مخاطب ہُوا۔ ’’تم غروبِ آفتاب دیکھنے کے اِتنے شائق کیوں ہو؟ کسی سے ملنا نہیں چاہتے؟‘‘ پھر یاد آنے پر بولا۔ ’’اوہ، تم تو پاکستانی ہو۔ ماں، باپ، بہن، بھائی یا کسی اَور سے سکائپ پر تمھاری بات کروا دیں تو کیسا رہے گا؟‘‘<br>
’’ڈاکٹر، میں اُنھیں بہت یاد کرتا ہُوں۔ لیکن مجھے اِس حال میں دیکھ کر وہ بے حد دُکھی ہَوں گے۔ یہاں پھیلنے والی اِس وبا کی خبریں یقینا اُن تک پہنچ گئی ہَوں گی اور وہ میرے لیے خاصے پریشان ہَوں گے۔ میں اُنھیں مزید دُکھ میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا۔‘‘<br>
“۔ ۔ ۔  ’’میں ڈاکٹر لیو سے کہاں مل سکتا ہُوں؟‘‘ ۔ ۔ ۔ “’’تم اُن سے نہیں مل سکتے۔   COVID-19 کا نتیجہ مثبت آنے پر وہ پچھلے چند روز سے آئیسولیشن میں ہیں۔‘‘<br>
“۔ …  ہسپتال کے تمام عملے کو پیپلز لبریشن آرمی کا چاک و چوبند دستہ سلامی دے رہا تھا، جن میں یقینا ڈاکٹر لیو شامل نہیں تھا۔ اُس کے دُکھ میں اضافہ ہو گیا۔  ”</p>
<p>اپنے دکھ کو فراموش کرکے دوسروں کے مصائب پر دکھی ہونا  یقیناً ایک    عظیم  جذبہ ہے۔  مصنف نے  بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔</p>
<p>وبا سے متعلق  (خاص کر طبی )جذئیات حسن منظر نے اپنے ناول “وبا” میں بھی بیان کی ہیں۔   ناول ہونے کی وجہ سے قابل قبول ہوگئیں۔  لیکن اس نے اس افسانے کو طویل کرنے کے ساتھ قاری کے ذہن پر بوجھ بھی ڈالا ہے. اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حالیہ وبا کے آغاز سے اب تک اتنا کچھ خالص یا ناقص مواد پڑھنے ، سنے اور دیکھنے  کو ملا ہے کہ اب تو دل اس موضوع سے بیزار ہی ہوگیا ہے.</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
		<item>
		<title>
		By: Danish		</title>
		<link>https://laaltain.pk/akhri-ghurob-e-aftab/#comment-11283</link>

		<dc:creator><![CDATA[Danish]]></dc:creator>
		<pubDate>Mon, 18 May 2020 23:26:42 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=25177#comment-11283</guid>

					<description><![CDATA[حالیہ وبا پر جو خصوصی ادب تخلیق ہو رہا ہے، اس میں ایک اچھا اضافہ. افسانے پر صحافتی رنگ نمایاں دکھائی دے رہا ہے. لگ رہا ہے کہ جیسے حقیقی واقعات کو رقم کیا ہے. افسانہ نگار نے مریض پر بیماری کی تکالیف، دکھ، یا یوں کہیں کہ &#039;مر جانے کا خوف&#039; حاوی نہیں ہونے دیا، مریض کی اپنے زندگی کو مسحور کردینے اور دل لبھانے والے منظر کی دید کی خواہش نے غیر ارادی طور پر جینے کی امنگ کو زندہ رکھا. اور ایسے منظر کی دید کے انتظار نے اس کے اندر اپنی بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر دی. اور یہی اس کی حیاتِ نو کا باعث بنی. اور شاید اسی طرح کا عمل ہی اب تک اس بیماری کا علاج ہے.
وبا سے متعلق جذئیات نے افسانے کو طویل کرنے کے ساتھ قاری کے ذہن پر بوجھ بھی ڈالا ہے. اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حالیہ وبا کے آغاز سے اب تک اتنا کچھ خالص یا ناقص مواد پڑھنے اور سنے کو ملا ہے کہ اب تو دل اس موضوع سے  بیزار ہی  ہوگیا ہے.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>حالیہ وبا پر جو خصوصی ادب تخلیق ہو رہا ہے، اس میں ایک اچھا اضافہ. افسانے پر صحافتی رنگ نمایاں دکھائی دے رہا ہے. لگ رہا ہے کہ جیسے حقیقی واقعات کو رقم کیا ہے. افسانہ نگار نے مریض پر بیماری کی تکالیف، دکھ، یا یوں کہیں کہ ‘مر جانے کا خوف’ حاوی نہیں ہونے دیا، مریض کی اپنے زندگی کو مسحور کردینے اور دل لبھانے والے منظر کی دید کی خواہش نے غیر ارادی طور پر جینے کی امنگ کو زندہ رکھا. اور ایسے منظر کی دید کے انتظار نے اس کے اندر اپنی بیماری کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کر دی. اور یہی اس کی حیاتِ نو کا باعث بنی. اور شاید اسی طرح کا عمل ہی اب تک اس بیماری کا علاج ہے.<br>
وبا سے متعلق جذئیات نے افسانے کو طویل کرنے کے ساتھ قاری کے ذہن پر بوجھ بھی ڈالا ہے. اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ حالیہ وبا کے آغاز سے اب تک اتنا کچھ خالص یا ناقص مواد پڑھنے اور سنے کو ملا ہے کہ اب تو دل اس موضوع سے  بیزار ہی  ہوگیا ہے.</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
	</channel>
</rss>
