<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	
	>
<channel>
	<title>
	Comments on: تعلیم یافتہ دہشت گرد نوجوان	</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/%D8%AA%D8%B9%D9%84%DB%8C%D9%85-%DB%8C%D8%A7%D9%81%D8%AA%DB%81-%D8%AF%DB%81%D8%B4%D8%AA-%DA%AF%D8%B1%D8%AF-%D9%86%D9%88%D8%AC%D9%88%D8%A7%D9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%db%8c%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 14:01:05 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>
	<item>
		<title>
		By: دوست		</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%aa%d8%b9%d9%84%db%8c%d9%85-%db%8c%d8%a7%d9%81%d8%aa%db%81-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af-%d9%86%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%a7%d9%86/#comment-10865</link>

		<dc:creator><![CDATA[دوست]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 22 Aug 2015 14:05:34 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=12226#comment-10865</guid>

					<description><![CDATA[جس تعلیم کی بات کی جا رہی ہے اس کا کام صرف پڑھے لکھے مزدور پیدا کرنا ہے۔ اس تعلیم میں اور کار مکینک کے شاگرد کی تعلیم میں بس اتنا فرق ہے کہ یہ صاف کپڑے پہن کر، صاف ستھرے ماحول میں کاغذ پنسل کے ساتھ &quot;تعلیم&quot; حاصل کرتے ہیں اور وہ گندے کپڑوں اور کالک کے ساتھ گالیوں کے ہمراہ &quot;تعلیم&quot; حاصل کرتا ہے۔ نوجوانوں کی ذہن سازی میں ان کا نصاب قطعاً مددگار نہیں ہے۔ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین یونیورسٹیوں میں مارے باندھے پڑھے جاتے ہیں (صرف پاس کرنے کے لیے)۔ چنانچہ دین کے لیے رہنمائی دینے والے وہی نیم حکیم عطائی ٹھیکیدار ہیں جو مدرسوں کے طلبہ کو بھی گمراہ کرنے پر مامور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ کو لیکچررز، سیمارز اور ورکشاپس کے ذریعے بتایا جائے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کیا ہے اور اس سے کیسے نپٹا/بچا جائے۔ صرف نصاب بدلنے کے پِٹ سیاپے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اور نہ ہی یونیورسٹیوں کے ماحول میں شدت پسندی کا بیج بوئے جانے کا راگ الاپنے سے کوئی بہتری آئے گی۔ یونیورسٹیوں میں ہر دو طرح کی شدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے، ایک طرف اگر مذہبی شدت پسندی ہے تو دوسری طرف مخلوط ماحول میں نوجوان ہر طرح سے کھل کھیلنے کی کی روش پر بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ شدت سے چل رہے ہیں۔ نوجوانوں کی نصاب سے ہٹ کر تربیت کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے محب وطن اسکالرز اور دانشوروں کو استعمال کرنا ضروری ہے جو شدت پسندی کا بیانیہ اُسی پر اُلٹ سکیں۔ اور آخری بات پیور سائنسز اور ٹیکنالوجی وغیرہ (انجینئرنگ) کے طلبہ دنیا کو &quot;ٹھیک&quot; کرنے کی طرف نفسیاتی طور پر زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کو سیاہ/سفید کی ثنائی صورت میں دیکھنے کے مغالطے کا شکار بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ سوشل سائنسز، آرٹس اور ہیومینیٹیز کے طلبہ میں یہ رجحان نسبتاً کم پایا جاتا ہے۔ یہ غالباً چند ماہ پہلے برطانیہ کی کسی یونیورسٹی کے محققین نے شدت پسندی پر ایک تحقیق میں ثابت کیا ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>جس تعلیم کی بات کی جا رہی ہے اس کا کام صرف پڑھے لکھے مزدور پیدا کرنا ہے۔ اس تعلیم میں اور کار مکینک کے شاگرد کی تعلیم میں بس اتنا فرق ہے کہ یہ صاف کپڑے پہن کر، صاف ستھرے ماحول میں کاغذ پنسل کے ساتھ “تعلیم” حاصل کرتے ہیں اور وہ گندے کپڑوں اور کالک کے ساتھ گالیوں کے ہمراہ “تعلیم” حاصل کرتا ہے۔ نوجوانوں کی ذہن سازی میں ان کا نصاب قطعاً مددگار نہیں ہے۔ اسلامیات اور مطالعہ پاکستان کے مضامین یونیورسٹیوں میں مارے باندھے پڑھے جاتے ہیں (صرف پاس کرنے کے لیے)۔ چنانچہ دین کے لیے رہنمائی دینے والے وہی نیم حکیم عطائی ٹھیکیدار ہیں جو مدرسوں کے طلبہ کو بھی گمراہ کرنے پر مامور ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طلبہ کو لیکچررز، سیمارز اور ورکشاپس کے ذریعے بتایا جائے کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کیا ہے اور اس سے کیسے نپٹا/بچا جائے۔ صرف نصاب بدلنے کے پِٹ سیاپے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اور نہ ہی یونیورسٹیوں کے ماحول میں شدت پسندی کا بیج بوئے جانے کا راگ الاپنے سے کوئی بہتری آئے گی۔ یونیورسٹیوں میں ہر دو طرح کی شدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے، ایک طرف اگر مذہبی شدت پسندی ہے تو دوسری طرف مخلوط ماحول میں نوجوان ہر طرح سے کھل کھیلنے کی کی روش پر بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ شدت سے چل رہے ہیں۔ نوجوانوں کی نصاب سے ہٹ کر تربیت کی ضرورت ہے۔ جس کے لیے محب وطن اسکالرز اور دانشوروں کو استعمال کرنا ضروری ہے جو شدت پسندی کا بیانیہ اُسی پر اُلٹ سکیں۔ اور آخری بات پیور سائنسز اور ٹیکنالوجی وغیرہ (انجینئرنگ) کے طلبہ دنیا کو “ٹھیک” کرنے کی طرف نفسیاتی طور پر زیادہ مائل ہوتے ہیں۔ وہ دنیا کو سیاہ/سفید کی ثنائی صورت میں دیکھنے کے مغالطے کا شکار بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ سوشل سائنسز، آرٹس اور ہیومینیٹیز کے طلبہ میں یہ رجحان نسبتاً کم پایا جاتا ہے۔ یہ غالباً چند ماہ پہلے برطانیہ کی کسی یونیورسٹی کے محققین نے شدت پسندی پر ایک تحقیق میں ثابت کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
	</channel>
</rss>
