<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	
	>
<channel>
	<title>
	Comments on: آبادی اور وسائل میں عدم توازن	</title>
	<atom:link href="https://laaltain.pk/%D8%A2%D8%A8%D8%A7%D8%AF%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%88%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%84-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D8%B9%D8%AF%D9%85-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D8%B2%D9%86/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/</link>
	<description>Pakistan's First Bilingual Youth Magazine</description>
	<lastBuildDate>Thu, 30 May 2024 00:46:17 +0000</lastBuildDate>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=7.0</generator>
	<item>
		<title>
		By: Shahid Irshad		</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/#comment-8173</link>

		<dc:creator><![CDATA[Shahid Irshad]]></dc:creator>
		<pubDate>Thu, 11 Sep 2014 00:04:00 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7253#comment-8173</guid>

					<description><![CDATA[پاکستان میں آبادی کنڑول نا ہونے کی بڑی وجہہ چائلڈ لیبر کے خلاف موثر قوانین کا اطلاق نا ہونا ہے۔ غریب کے لئے نیا بچہ نئی ذمے داری نہیں بلکہ کمائی کا نیا ذریعہ بنتا ہے۔ چھوٹے دکاندار اور مکینک ٹائپ لوگ تو کم پڑھے لکھے ہونے اور کاروباری چالاکی کے باعث کم اُجرت پر بچوں کو رکھتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں امیر اور پڑھی لکھی فیملیز میں بھی چھوٹی عمر کے بچوں کو نوکر رکھا جاتا ہے صد افسوس یہ کہ اس بات کا احساس ہی ناپید ہے کہ یہ ایک غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل ہے۔ بچے اپنا بُرا بھلا سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور انہیں چند پیسوں کے لئے مزدوری پر لگانا انسانی غلامی (سلیوری) کی ایک قسم ہے۔ جب تک حکومت چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین کا اطلاق اور سخت سزاؤں پر عمل درآمد نہیں کرواتی یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ جب چائلڈ ڈیمانڈ ہوگی تو سپلائی تو وافر مقدار میں مل جائے گی۔ یہی وجہہ ہے کہ آپ کے گھر کا کُوڑا اُٹھانے والی کے بھی گیارہ بچے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت کا کام ہے کہ پیدائش کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور ہر بچے کی تعلیم کا مفت انتظام کیا جائے اور والدین کا پابند بنایا جائے کہ وہ بچوں کو سکولوں میں بھیجیں۔ 
والدین کو جب یہ پتہ چلے گا کہ ان بچوں سے کمائی نہیں کروائی جا سکتی بلکہ ان کو پڑھانا پڑے گا تو ان کے ہوش ٹھکانے آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے افراد کو اپنے گھروں، رشتے داروں اور حلقہ احباب میں اس کا شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس فعل کی حوصلہ شکنی کریں اور اس عمل کو ناپسندیدگی کا درجہ دینے کے لئے ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>پاکستان میں آبادی کنڑول نا ہونے کی بڑی وجہہ چائلڈ لیبر کے خلاف موثر قوانین کا اطلاق نا ہونا ہے۔ غریب کے لئے نیا بچہ نئی ذمے داری نہیں بلکہ کمائی کا نیا ذریعہ بنتا ہے۔ چھوٹے دکاندار اور مکینک ٹائپ لوگ تو کم پڑھے لکھے ہونے اور کاروباری چالاکی کے باعث کم اُجرت پر بچوں کو رکھتے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے یہاں امیر اور پڑھی لکھی فیملیز میں بھی چھوٹی عمر کے بچوں کو نوکر رکھا جاتا ہے صد افسوس یہ کہ اس بات کا احساس ہی ناپید ہے کہ یہ ایک غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی عمل ہے۔ بچے اپنا بُرا بھلا سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں اور انہیں چند پیسوں کے لئے مزدوری پر لگانا انسانی غلامی (سلیوری) کی ایک قسم ہے۔ جب تک حکومت چائلڈ لیبر کے خلاف قوانین کا اطلاق اور سخت سزاؤں پر عمل درآمد نہیں کرواتی یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا کیونکہ جب چائلڈ ڈیمانڈ ہوگی تو سپلائی تو وافر مقدار میں مل جائے گی۔ یہی وجہہ ہے کہ آپ کے گھر کا کُوڑا اُٹھانے والی کے بھی گیارہ بچے ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ حکومت کا کام ہے کہ پیدائش کا مکمل ریکارڈ رکھا جائے اور ہر بچے کی تعلیم کا مفت انتظام کیا جائے اور والدین کا پابند بنایا جائے کہ وہ بچوں کو سکولوں میں بھیجیں۔<br>
والدین کو جب یہ پتہ چلے گا کہ ان بچوں سے کمائی نہیں کروائی جا سکتی بلکہ ان کو پڑھانا پڑے گا تو ان کے ہوش ٹھکانے آئیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ پڑھے لکھے افراد کو اپنے گھروں، رشتے داروں اور حلقہ احباب میں اس کا شعور اُجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس فعل کی حوصلہ شکنی کریں اور اس عمل کو ناپسندیدگی کا درجہ دینے کے لئے ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
		<item>
		<title>
		By: Nawaz		</title>
		<link>https://laaltain.pk/%d8%a2%d8%a8%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d9%88%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b9%d8%af%d9%85-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86/#comment-8172</link>

		<dc:creator><![CDATA[Nawaz]]></dc:creator>
		<pubDate>Wed, 10 Sep 2014 22:18:40 +0000</pubDate>
		<guid isPermaLink="false">https://laaltain.pk/?p=7253#comment-8172</guid>

					<description><![CDATA[اس آرٹیکل کو پڑه کر اس آرٹیکل لکهنے والے کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کر رها هے.اس آرٹیکل کا لبِ لباب اسلام اور اسلام ماننے والوں اور بے چارے غریب لوگوں کی غربت کو گالی دینا مقصود هے اس کے علاوه اور کچه نهیں.
ایسے نامهاد قلم کار ایسے خیالات کو همارے معاشرے میں بیرونی آقاوں کے اشارے پر داخل کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفرکرنے کی انتهائی گهٹیا کوشش کرتے هیں.جیسا که اس نامنهاد قلم کار نے آبادی میں اضافه کو غریبوں اور جانوروں کے لیے نقصانده قرار دے کر گویا جانوروں اور غریبوں کو ایک درجه میں رکه دیا هے اور یه ان کے دل کی اندر کی کفیت هے.
درحقیقت آبادی میں اضافه همارے مسائل کا سبب نهیں هے.بلکه اپنے لوگوں کو جان بوجه کر بے علم اور جاهل رکهنا اور انکے حصے کے وسائل پر ناجائض قبضه کرنا اورملکی وسائل کو لوٹ کر بیرونے ملک منتقل کرنا.جان بوجه کر ملکی وسائل کو صحیح طورپر استعمال نه کرنا اورمعاملات کا نا اهل لوگوں هاتهوں میں چلے جانا  هی همارے مسائل کا سبب هے.
یه کیسے هو سکتا هے که الله تعالی یه اعلان فرمائے که جو ذی روح هے اس کا رزق بهی نازل کیا جاتا هے.یه الگ بحث هے که اس کے حصه کا رزق کوئی ظالم طاقتوراس سے چهین لے.
وه قومیں آج خوشحال هیں جن کے پاس تعلیم یافته افراد کی فراوانی هے.اور هم هیں که خود اپنی دشمنی پر تلے هوئے هیں.چاهیے تو یه که هم بے همتی چهوڑیں اپنا حق لینے کا حوصله پیدا کریں.اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے مزین کریں.پهر دیکهیں که یه قوم کهاں پنهچتی هے.
خدا را خدا سے ویر کو ترک کریں.راه پر پیچهے چلنے کی بجائے آگے کی طرف چلیں.تاکه اپنی منزل تک پهنچ سکیں.]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>اس آرٹیکل کو پڑه کر اس آرٹیکل لکهنے والے کی عقل پر ماتم کرنے کو دل کر رها هے.اس آرٹیکل کا لبِ لباب اسلام اور اسلام ماننے والوں اور بے چارے غریب لوگوں کی غربت کو گالی دینا مقصود هے اس کے علاوه اور کچه نهیں.<br>
ایسے نامهاد قلم کار ایسے خیالات کو همارے معاشرے میں بیرونی آقاوں کے اشارے پر داخل کرکے لوگوں کو اسلام سے متنفرکرنے کی انتهائی گهٹیا کوشش کرتے هیں.جیسا که اس نامنهاد قلم کار نے آبادی میں اضافه کو غریبوں اور جانوروں کے لیے نقصانده قرار دے کر گویا جانوروں اور غریبوں کو ایک درجه میں رکه دیا هے اور یه ان کے دل کی اندر کی کفیت هے.<br>
درحقیقت آبادی میں اضافه همارے مسائل کا سبب نهیں هے.بلکه اپنے لوگوں کو جان بوجه کر بے علم اور جاهل رکهنا اور انکے حصے کے وسائل پر ناجائض قبضه کرنا اورملکی وسائل کو لوٹ کر بیرونے ملک منتقل کرنا.جان بوجه کر ملکی وسائل کو صحیح طورپر استعمال نه کرنا اورمعاملات کا نا اهل لوگوں هاتهوں میں چلے جانا  هی همارے مسائل کا سبب هے.<br>
یه کیسے هو سکتا هے که الله تعالی یه اعلان فرمائے که جو ذی روح هے اس کا رزق بهی نازل کیا جاتا هے.یه الگ بحث هے که اس کے حصه کا رزق کوئی ظالم طاقتوراس سے چهین لے.<br>
وه قومیں آج خوشحال هیں جن کے پاس تعلیم یافته افراد کی فراوانی هے.اور هم هیں که خود اپنی دشمنی پر تلے هوئے هیں.چاهیے تو یه که هم بے همتی چهوڑیں اپنا حق لینے کا حوصله پیدا کریں.اپنے بچوں کو اعلی تعلیم سے مزین کریں.پهر دیکهیں که یه قوم کهاں پنهچتی هے.<br>
خدا را خدا سے ویر کو ترک کریں.راه پر پیچهے چلنے کی بجائے آگے کی طرف چلیں.تاکه اپنی منزل تک پهنچ سکیں.</p>
]]></content:encoded>
		
			</item>
	</channel>
</rss>
