کہیں دو حرف ملنے کی صدا
اڑتی فضاؤں نے
چرالی تھی
مگر اب ساتھ اڑتی
تتلیوں سے اور پرندوں سے
نگاہیں چراتی ہیں
بہاروں میں بھی اب وہ
کتنا ہولے ہولے چلتی ہیں
انہیں اب اپنی ہیئت
اپنی حالت پر
بہت تشویش ہے کیونکہ
ہوائیں حاملہ ہیں
مرے کانوں میں
ان کے درد کی آواز گونجے جارہی ہے
وہ میرے درپہ دستک دے رہی ہیں
انہیں میری ضرورت ہے
مگر خاموش ہوں میں
اور میرے شہر کے سارے مسیحاؤں نے بھی
چپ سادھ رکھی ہے
مگر ہم سب اسی کی فکر میں ہیں
اور ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟
ہمارے شہر کو کیا کچھ ملے گا؟
 
Image: Yves Tanguy

 

Leave a Reply