یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تعلیم، خواتین کے حقوق اور انسانی آزادیوں کے لیے جدوجہد کرنے اور تبدیلی لانے کے لیے اپنی زندگی وقف کرنا اور نوبل انعام حاصل کرنا کافی نہیں۔ گزشتہ برس 10 نومبر کو آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے "میں ملالہ نہیں ہوں” دن منایا تھا۔ اس برس ایسوسی ایشن کی جانب سے "میں ملالہ نہیں ہوں” کتاب شائع کی گئی ہے۔ کتاب کی تقریب رونمائی اسلام آباد میں ہوئی جس میں کتاب کے مصنف اور آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن کے سربراہ کاشف عباسی نے اسے ملالہ یوسف زئی کی کتاب "میں ملالہ ہوں” کا جواب قرار دیا۔ ان کے خیال میں یہ کتاب ملالہ یوسف زئی کے ذریعے ‘مسلط کیے جانے والے مغربی ایجنڈے’ کی نقد ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن عطیہ رضوی کے مطابق یہ رویہ عورت مخالف بھی ہے اور رجعت پسند بھی۔ "ملالہ کو تسلیم نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہمارا معاشرہ عورت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی اپنے نظریاتی تضاد سے واقف ہے۔” ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہے کیوں کہ ہم "کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔

ملالہ کو رد کرنا ترقی پسند بیانیے کو رد کرنا ہے اور ہماری خود پسندی اور نرگسیت کو تقویت پہنچانے کے مترادف ہیں کیوں کہ ہم "کسی ایسی آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔
آزاد اور خود مختار عورت کو جو ہمارے قدامت پسند خول میں دراڑ ڈال سکتی ہو کے خلاف ہو تسلیم نہیں کرنا چاہتے”۔
ملالہ یوسف زئی کی یادداشتیں اکتوبر 2013 میںشائع کی گئی تھیں۔ کاشف عباسی کے مطابق "میں ملالہ نہیں ہوں” ان ‘بچوں کا بیانیہ ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ملالہ نہیں ہیں کیوں کہ وہ ایک پاکستانی اور ایک مسلمان ہیں’۔ کاشف عباسی کے مطابق ملالہ کی یادداشتوں میں ایسا مواد موجود ہے جو پاکستان اور پاکستان کی اسلامی پہچان کے خلاف ہے۔ ماہر تعلیم سلیم سرور اس نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "ملالہ ہونا یا ملالہ کے نقطہ نظر سے متفق ہونا کسی بھی طرح پاکستان یا اسلام مخالف ہونا نہیں۔” ان کے نزدیک "پاکستان یا اسلام مخالف” ہونے کا نقطہ نظر غیر منطقی ہے، "اصل بحث یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسی لڑکی ایک ایسی عورت یا ایک ایسے انسان کو قبول کرنے کو تیار ہیں جو ہماری حالت بدلنے کے لیے ہمیں ہماری خامیوں کا احساس دلا رہا ہے۔”

تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کے خلاف جذبات کیوں پائے جاتے ہیں، عطیہ رضوی کے مطابق اس کی وجوہ بے حد پیچیدہ ہیں لیکن یہ امر اسی قدر تشویش ناک ہے جس قدر طالبان فکر،”طالبان کی مذمت کی بجائے طالبان کے ظلم کا شکار ہونے والی ملالہ کی مخالفت یہ بتاتی ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی تک طالبان کو اپنے دشمن کے طور پر دیکھنے کو تیار نہیں، جو بے حد خطرناک ہے۔”بچیوں کی تعلیم کے لئے کام کرنے والی ملالہ یوسف زئی کو پاکستان میں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ملالہ کو گزشہ برس نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا تھا تاہم پاکستان میں سرکاری سطح پر ملالہ کے اعزاز میں کوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ اس سے قبل آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن نے اپنے عہدیداران کو ملالہ کی کتاب خریدنے سے روک دیا تھا۔

Leave a Reply