مجھے دوستوں نے بالکل تنہا کر دیا ہے
وہ میرے لفظوں کو سانس بھی نہیں لینے دیتے
اور ان پر اپنی قبروں کی مٹی ڈال دیتے ہیں
اس کے باوجود ایک لفظ
کبھی کبھی اتنا پھیل جاتا ہے
کہ آنکھیں اُس کا نصف محیط بھی نہیں دیکھ سکتیں

دیکھو، میں ایک بار پھر تمھارے سامنے ہوں
ایک ازلی خواب نامہ رقم کرتے ہوئے
روشنی میرے ہاتھوں کی لکیروں میں
گرم گرم سیال لاوے کی طرح بہہ رہی ہے
اداسی ایک بار پھر میرے وجود سے گزر رہی ہے
اپنی لاکھوں سال پرانی گمبھیرتا کے ساتھ
لیکن اب میں کوئی نظم نہیں لکھوں گا

یہ جانتے ہوئے بھی
کہ ہر انتہا پر
ایک اور ابتدا جبڑے کھولے منتظر ہے
میں کسی کے نقشِ پا پر اپنی قبر نہیں بنا سکتا
کیا چلنے کے لیے راستہ بہت ضروری ہے؟
روشنی بل دار ہو کہ سیدھی
خلا کی بے لمس تاریکی تو دور نہیں کر سکتی!

دیکھو، میں یہاں لکیریں کھینچتے کھینچتے
دائروں کی ابدیت میں نابود ہو چکا ہوں
اور وہاں، تمھارے جسم کے ساحل پر
وقت کا بہاؤ
آہستہ آہستہ شانت ہوتا ہوا دم توڑ رہا ہے
قدموں کی رفتار تیز کرو
کائناتی کلاک سے باہر
ایک دائمی لمحے کی پکار
تمام بازگشتوں پر غالب آ رہی ہے
ابدی ترتیب سے بھٹکا ہوا وجود
اپنے خلیوں اور سالموں میں چھپا ہوا سچ تلاش کرتا ہے
کیا زندگی صرف اس لیے ہے
کہ ہم ایک بےمہلت رات کے انت پر
آنسوؤں کے چراغ روشن کریں
اور شہابِ ثاقب کی طرح جل بجھ کر
نامتناہی اندھیروں کے غبار میں گم ہو جائیں؟

ایک بےتھاہ کھائی ۔۔۔۔
اور سوالیہ ہُک سے لٹکی ہوئی کائنات
نادیدہ پانیوں پر تیرتی ہوئی
بہت سی لاکلامی، بہت سا کلام
الاپ ۔۔۔ اور معدوم ہو جانے کی اذیت
دُور ۔۔۔ کسی لامکاں کے بےجہت کبودی گوشے میں
کوئی اپنی غیر مرئی انگلیوں سے
پیانو کو چھیڑتا ہے
اور کہیں بہت قریب سے
ساکن اور بےآواز آسمانی گیت سنائی دے رہا ہے
تالمودی راستوں کے اطراف میں
صلیبی پھول کھل رہے ہیں

لفظوں اور خوابوں کی کلوننگ نہیں کی جا سکتی
روشنی، اجازت طلب کرنے کا وقت آ پہنچا ہے
الفراق! الفراق!!
اتنی بڑی عمارت سے
رخصت کرتے وقت
کیا تم مجھے گیٹ تک چھوڑنے بھی نہیں آؤ گی؟

Leave a Reply